Maqsoom Novel by Huma Waqas – Episode 17

0
مقسوم از ہما وقاص – قسط نمبر 17

–**–**–

” میسم “
ادینہ کی آواز کہیں دور سے آتی ہوٸ محسوس ہوٸ ۔ وہ کس دن کی بات کر رہا تھا دماغ ساٸیں ساٸیں کرنے لگا وہ الزام ہی تو لگا رہا تھا ۔ اس نے کس دن کب اور کہاں روشان کے آنسو صاف کیے تھے۔
” ہاں میں نے دیکھ لیا تھا اس دن تمہیں اور اُسے “
میسم کا چہرہ تنا ہوا تھا ۔ لب اس قدر زور سے بھینچے ہوۓ تھے کہ وہ اس کے ضبط کا پتہ دے رہے تھے ۔ ادینہ حیرت کے سمندر میں غوطہ زن ساکن مجسم بنی کھڑی تھی ۔
کیا ہوا تھا نکاح سے ایک دن پہلے ذہن پر زور دیا ۔ وہ یونیورسٹی گٸ تھی اور روشان اوہ روشان سیڑھیوں میں تھا ۔ سارا منظر نظروں کے آگے گھوم گیا تو کیا اس دن میسم یہ سمجھا کہ روشان میرے نکاح کی وجہ سے رو رہا ہے اور میں جو اسے تسلی دے رہی تھی اوہ میرے خدا ادینہ کا ہاتھ بے ساختہ اس کے ماتھے پر گیا۔ گلے میں کانٹے سے چبھ گۓ ۔ ماتھے پر ہاتھ دھرے ہی وہ پھر سے آگے ہوٸ ۔
” میسم تم نے جو دیکھا وہ سب غلط تھا “
ادینہ نے میسم کے بازو پر ہاتھ رکھا ۔ اور افسوس سے سر ہلاتے ہوۓ کہا۔ وہ تو دیکھ بھی نہیں رہا تھا آنکھوں کو سامنے دیوار پر گاڑے تنے ہوۓ چہرے کے ساتھ ایسے لاتعلق کھڑا تھا جیسے سامنے کھڑی اس لڑکی سے اسکا کوٸ تعلق ہی نہ ہو ۔
” بس کرو ادینہ بس کرو “
میسم نے ایک جھٹکے سے اپنے بازو پر سے اس کے ہاتھ کو دور کیا ۔ ادینہ نے تڑپ کر اس کی طرف دیکھا ۔ اتفاق ایسا ہوا تھا ہر دفعہ کہ اس کے دل میں موجود شک یقین میں بدل گیا تھا ۔
” میسم میں کیسے یقین دلاٶں تم میری بات سنو پوری “
ادینہ نے پیار سے اس کے سامنے آ کر کہا دل کے سارے خدشات دھل گۓ تھے ۔ وہ اسے نکاح کے روز صرف اسی وجہ سے چھوڑ گیا تھا کہ وہ شاٸد روشان سے محبت کرتی ہے اور پھر اس کے اظہار کو اسی لیے سمجھ نہیں سکا تھا ۔
پر میسم اس وقت کسی بھی بات کو سمجھنے کے لیے تیار نہیں تھا۔ اس کی آنکھیں سرخ ہو رہی تھیں ۔
” اوہ میڈیم بس کرو سب پتا مجھے تم پہلے اس کے ساتھ تھی کیونکہ تمہیں نظر آ رہا تھا کہ وہ ایک ڈاکٹر بنے گا اور میں تب تمھارے لیے کچھ بھی نہیں تھا “
میسم نے دور ہوتے ہوۓ نفرت آمیز لہجے میں زہر اگلا ادینہ نے ناسمجھی کے سے انداز میں پیشانی پر شکن ڈالے کیا کیا کہہ رہا تھا یہ وہ۔
” تم خود کہا کرتی تھی نہ شکل نہ عقل اور نہ تعلیم جبکہ وہ روشان ان سب چیزوں میں مجھ سے بہتر ہے پر جب میں راتوں رات مشہور ہوا تو تم نے اسے اس کے پرپوزل پر ڈمپ کیا “
میسم نے کمر پر ہاتھ دھر کر طنز بھری مسکراہٹ لبوں پر سجاٸ ادینہ کے ارد گرد کی ساری چیزیں گھومنے لگی تھیں صرف وہ خود ہی وہیں کھڑی تھی۔ وہ تو زہر اگل کر آرام سے کھڑا تھا اپنی گھٹیا سوچ لے کر اس کی محبت کو اس نے اپنے ذہن میں اس قدر گھٹیا مقام دے رکھا تھا ۔ ادینہ کو ایسا لگا جیسے کسی نے زمین میں گاڑ دیا ہو اسے ۔
کچھ پل کے لیے دونوں طرف قبرستان جیسی خاموشی تھی ۔ ادینہ کو اپنے کانوں پر یقین نہیں آ رہا تھا دماغ پھٹ رہا تھا آخر کو اس نے سمجھ کیا لیا تھا مجھے جتنا بھی کچڑ اچھالتا رہے گا میں چپ رہوں گی خاموش رہوں گی اب بس بات اب صرف محبت پر کۓ گۓ شک کی نہیں تھی بات عزت نفس کی تھی ۔ ادینہ نے خاموشی کو توڑا ۔
” مسٹر میسم مراد اب اس کے بعد میں تمہیں کبھی کوٸ وضاحت نہیں دوں گی نہ اپنی محبت کی نہ اپنی سچاٸ کی یہ میری اور تمھاری آخری بات چیت تھی “
سرد لہجے اور سپاٹ چہرے کے ساتھ کہا ۔ میسم نے چہرے کا رخ ناگواری سے موڑا ۔ دل میں اس کی بے رخی کی اس دفعہ کوٸ تکلیف نہیں ہوٸ ۔ ادینہ ناک چڑھا کر تن کر آگے ہوۓ ۔
” تمہیں اپنے ذہن میں بھرے اس خناس کے ساتھ جینا ہے جیتے رہو میں اب اس کو صاف نہیں کروں گی “
ادینہ نے آنسوٶں کو رگڑ کر گال سے صاف کیا اور گلے میں اٹکے گولے کو نیچے کیا ۔ اب بس محبت کی بھیک مانگنا گڑگڑانا ختم میسم اس بری طرح اس کی نظروں سے گرا تھا کہ ۔ خود اپنے آپ سے نفرت ہونے لگی تھی کہ اس شخص سے ٹوٹ کر پیار کیا اس نے ۔
” مجھے چاہیے بھی نہیں میں بھی تھک چکا ہوں اور میرے ذہن میں جو بھرا ہے وہ سچ ہے خناس نہیں ہے “
میسم نے سرد لہجے میں کہا اور تیز تیز قدم اٹھاتا کمرے سے باہر جا چکا تھا ۔ اور وہ یونہی کھڑی تھی ۔ میسم صرف شک کی بات ہوتی تو میں انگاروں پر چل کر بھی تمھاری محبت کی خاطر اس کو ختم کرنے کی کوشش کرتی پر تم نے میرے بارے میں اتنا گھٹیا امیج بنا رکھا تھا کہ میں اب صرف تم سے تمھاری کامیابی تمھاری دولت اور شہرت کی وجہ سے جڑی ہوں ۔ میسم مراد تم نے تو مجھے میری ہی نظروں میں گرا دیا آج ۔
ساری رات میسم کمرے میں نہیں آیا تھا ۔ اور وہ ساری رات یوں ہی سرد کمرے میں سلگتی رہی مگر اب کی دفعہ کا سلگنا راکھ نہ کر سکا تھا اسے ۔
**********
آسمان کی اس اونچاٸ میں بیٹھ کر بھی یوں لگ رہا تھا وہ بہت نیچے ہے زمین میں دھنسی ہوٸ ذلت اور پستی میں
میسم بلکل ساتھ بیٹھا تھا آنکھیں موندے سیٹ کی پشت سے سر ٹکاۓ پر وہ اس سے کوسوں دور تھا ۔ اس کا سب کچھ ہو کر بھی اس کا کچھ بھی نہیں تھا وہ ۔
رات کے بعد دونوں میں کوٸ بات نہیں ہوٸ تھی اور صبح آ کر میسم نے اسے پاکستان واپسی کا حکم صادر کر دیا تھا ۔ باقی ساری ٹیم کا ابھی دو دن اور رکنے کا منصوبہ تھا جبکہ میسم کسی کا کام کا بہانہ بنا چکا تھا ۔
ادینہ نے خاموشی سے بیگ پیک کیا تھا ۔ میسم نے نیچے سے ناشتہ آرڈر کیا تھا جسے کھانے سے اس نے صاف انکار کر دیا تھا ۔ کچھ دیر وہ کھڑا اسے کھانے کا کہتا رہا لیکن ادینہ نے ایک نظر اٹھا کر بھی دیکھنا گوارا نہیں کیا تھا ۔ اور اب اس لمحے جہاز میں بیٹھے دل عجیب طریقے سے متلی کا شکار ہو رہا تھا اور سر چکرا رہا تھا ۔
اٸیر ہوسٹس کو بل ساٸن دے کر ادینہ نے ضبط سے سر سیٹ کی پشت سے ٹکا دیا ۔ طبیعت بوجھل ہو رہی تھی رات سے کچھ بھی نہیں کھایا تھا ۔
” جی میم “
اٸیر ہوسٹس نے قریب آ کر جھکتے ہوۓ مہدب انداز میں کہا ۔ ادینہ نے تھکی سی نظر اٸیر ہوسٹس پر ڈالی جو لبوں پر میزبان مسکراہٹ سجاۓ کھڑی تھی ۔
” مجھے گھٹن محسوس ہو رہی ہے ایسے لگ رہا ہے جیسے وٶمٹ ہو جاۓ گی “
ادینہ نے گھبراٸ سی آواز میں کہا میسم نے چونک کر گردن موڑ کر ادینہ کی طرف دیکھا چہرے پر ایک دم سے پریشانی در آٸ ۔
” ادینہ از ایوری تھنگ اوکے؟ “
میسم نے تھوڑا سا سیدھے ہوتے ہوۓ پریشان سے لہجے میں پوچھا ۔ ادینہ نے لا تعلقی برتی ایسے جیسے اس نے سنا ہی نہیں کہ میسم نے کچھ پوچھا ہے اس سے۔
” سسٹر مجھے کوٸ میڈیسن ملے گی ؟“
ادینہ نے گھبراٸ سی صورت بنا کر سامنے کھڑی اٸیر ہوسٹس سے کہا جو اب مسکراتے ہوۓ سرہلا رہا تھی میسم نے لب بھینچ کر غصے سے ادینہ کی طرف دیکھا بیوقوف نے کچھ بھی نہیں کھایا کل رات سے اچانک یاد آنے پر میسم نے افسوس سے سر کو ہوا میں مارا ۔
” ادینہ کیا ہوا تمہیں ؟“
پھر سے سپاٹ لہجے میں ادینہ سے سوال پوچھا اب وہ مکمل طور پر اس کی طرف رخ موڑ چکا تھا ۔ لیکن ادینہ نے کوٸ بھی جواب نہیں دیا۔ اٸیر ہوسٹس سیدھی ہوٸ اور جانے کے لیے قدم بڑھاۓ۔
” سسٹر ویٹ انہوں نے کچھ بھی نہیں کھایا ہے صبح سے کچھ کھانے کے لیے لا دیں پہلے “
میسم نے ہاتھ کے اشارے سے اٸیر ہوسٹس کو روکا اس نے ایک نظر ادینہ کے زرد چہرے پر ڈالی اور پھر میسم کی طرف دیکھ کر سر ہلایا۔
” سسٹر مجھے کچھ بھی نہیں کھانا پلیز میڈیسن لا دیں “
ادینہ نے ماتھے پر شکن ڈال کر سختی سے کہا ۔ میسم کے ماتھے پر بھی بل نمودار ہو چکے تھے ۔
” ادینہ دماغ ٹھیک ہے کیا تمھارا خالی پیٹ میڈیسن لو گی “
ادینہ کی طرف رخ کیے ڈپٹنے کے سے انداز میں کہا ۔
” مجھے بھوک نہیں ہے “
ادینہ نے سرد لہجے اور سپاٹ چہرے کے ساتھ جواب دیا ۔
” میم سر ٹھیک کہہ رہے ہیں میں آپ کے لیے جوس لاتی ہوں آپ وہ پی لیں اس کے بعد میڈیسن لیجیۓ گا “
اٸیر ہوسٹس نے ادینہ کے کندھے پر ہاتھ دھر کر نرمی سے کہا ۔اس سے پہلے کہ ادینہ کچھ بولتی میسم نے فورا بول کر اس کی بات کاٹی ۔
” جی بلکل آپ جوس لا دیں بلکہ ساتھ ایک عدد سینڈوچ بھی “
میسم نے التجاٸ مسکراہٹ کے ساتھ کہا اٸیر ہوسٹس نے سر کو اثبات میں ہلایا اور چل دی ۔
” مجھے آپکی کسی توجہ اور فکر کی ضرورت نہیں ہے آپ میرے معاملات میں پلیز دخل مت دیں “
ادینہ نے سامنے سیٹ کی پشت کو گھورتے ہوۓ سخت لہجے میں کہا ۔
” میری ذمہ داری پر میرے ساتھ آٸ تھی تمہیں باحفاظت پاکستان لے کر جانا فرض ہے میرا اس سے زیادہ اور کچھ بھی نہیں “
میسم نے دانت پیستے ہوۓ اس سے بھی زیادہ سخت لہجہ اپنایا ۔ اٸیر ہوسٹس جوس اور سینڈوچ لا چکی تھی ۔
” میم پلیز کچھ کھا لیں “
اٸیر ہوسٹس نے نرم سے لہجے میں کہا ۔ ادینہ اسی طرح ساکن بیٹھی تھی ۔
” سسٹر آپ جاٸیں “
میسم نے ٹرے ادینہ کے سامنے کرتے ہوۓ مصنوعی مسکراہٹ چہرے پر سجا کر کہا ۔ اٸیر ہوسٹس مسکراتی ہوٸ وہاں سے چل دی
” شرافت سے کھاٶ کچھ مجھے کوٸ نخرے نہیں دیکھنے تمھارے سمجھی تم “
میسم نے دانت پیستے ہوۓ آواز کو مدھم رکھتے ہوۓ کہا ۔
” میں نخرے کر بھی نہیں رہی “
ادینہ نے جھپٹ کر ٹرے اپنی طرف کی اور سینڈوچ کے اوپر چڑھے ریپر کو اتارا ۔ میسم نے سر کو طنزیہ انداز میں جنبش دی اور پھر سے چہرے کا رخ موڑ لیا ۔ سینڈوچ کے ٹکڑے زہر لگ رہے تھے ۔ جوس کے سپ کے ساتھ گلے میں پھنسے آنسوٶں میں اٹکتے ہوۓ نیچے جا رہے تھے۔
مجھے شاخ شاخ سے توڑنا !
پھر بیچ بیچ سے جوڑنا !
یہ ادا ادا بھی کمال ہے !!
یہ سزا سزا بھی کمال ہے !!
یہ شام شام کے دُھندلکے،،،،
اور قطرہ قطرہ سی بارِشیں،،،
مجھے پیاس پیاس میں ڈال کے۔
پھر دشت دشت میں چھوڑنا !!
یہ اُداس اُداس اُداسیاں !
اور دُور دُور کی دُوریاں،،،
مجھے اشک اشک بکھیر کے
پھر ہنس ہنس کر سمیٹنا !!
یہ آگ آگ کا کھیل ہے
اسے روز روز نہیں کھیلنا !
مجھے ورق ورق کھولنا ،،،
پھر حرف حرف پہ سوچنا،،،
یہ جفا جفا کے راستے ،،،،
اور وفا وفا کی منزلیں
مجھے ڈھونڈ ڈھونڈ کے ڈھونڈنا !!
پھر ۔ چھوڑ چھوڑ کے چھوڑنا !
وہ چہرہ چہرہ حِجاب ہے !!
میرے درد درد کا علاج ہے !!
مجھے دُور دُور سے دیکھنا
مجھے مرض مرض کا بھولنا !!!!!
یہ ادا ادا بھی کمال ہے !!
یہ سزا سزا بھی کمال ہے !!
************
اریبہ نے دھیرے سے قریب ہوتے ہوۓ دروازے کے ساتھ کان چپکاۓ ۔ وہ دیوار کے ساتھ لگ کر کھڑی تھی جیسے ہی کان قریب کیا اندر ہونے والی گفتگو صاف سناٸ دینے لگی ۔
” عزرا لڑکا اتنا بھی برا نہیں دیکھا بھالا ہے بچپن سے سامنے پلا بڑھا ہے “
مراد احمد نے دھیرے سے سر اوپر اٹھایا اور سامنے بیٹھی عزرا کی طرف دیکھا جو بے زار سی صورت بناۓ بیٹھی تھی۔احمد میاں کے کمرے میں لگی کرسیوں پر سب گھر کے بڑے براجمان تھے۔
” بھاٸ پر ہے تو لا پرواہ نا اور کوٸ نوکری نہیں تعلیم بھی مکمل نہیں “
عزرا نے ناگواری سے ناک چڑھاٸ فہد کے والدین اریبہ کا رشتہ لے کر آۓ تھے جن کے جانے کے بعد اب سب بڑے بیٹھے اس پر غور و فکر کر رہے تھے ۔ اور عزرا سرے سے ہی انکار کر چکی تھی کہ اسے فہد کے ساتھ اریبہ کا رشتہ منظور نہیں ہے ۔ لیکن مراد احمد اس کے فیصلے کی تردید کرتے ہوۓ اسے قاٸل کر رہے تھے ۔
” عزرا یہ سب باتیں تو اب بلاجواز ہیں تمھاری اکلوتا لڑکا ہے اپنے ماں باپ کا اور اتنا بڑا کاروبار ہے “
مراد نے افسوس سے سامنے بیٹھی عزرا کی طرف دیکھا ۔ عزرا نے خفگی بھری نظروں سے دیکھا پر بولی کچھ نہیں۔
” میں تو کہتا ہوں کوٸ براٸ نہیں رشتے میں اور پاس ہو گی ہمارے نظروں کے سامنے بلکل ادینہ کی طرح “
مراد احمد نے پھر سے سب کی طرف نظر دوڑاٸ احمد میاں جو تکیے کے سہارے بیڈ سے ٹیک لگاۓ بیٹھے تھے دھیرے سے سر کو اثبات میں جنبش دیتے ہوۓ مراد احمد کی بات کی تاٸید کرنے لگے ۔
” ابا جی آپ کیا کہتے ہیں اس بارے میں “
مراد احمد نے تھوڑا سا رخ موڑا اور پوری توجہ احمد میاں کی طرف مرکوز کی ۔ احمد میاں نے گہری سانس لی بوڑھے ہاتھوں سے پیشانی کو پرسوچ انداز میں رگڑا ۔
” رشتہ اچھا ہے آجکل کہیں بھی باہر رشتہ کریں گے تو چھان بین کے باوجود لڑکے کا پتا نہیں ہو گا وہ کیسا ہے “
احمد نے کپکپاتے سے لہجے میں کہتے ہوۓ عینک کی اٶٹ سے بغور عزرا کا جاٸزہ لیا جو پہلو بدل کر رہ گٸ۔ چہرے پر ابھی بھی وہی بے زاری تھی فہد انھیں بچپن سے ہی ناپسند تھا اس کی وجہ شاٸد میسم کا بہت زیادہ ڈانٹ کھانا تھا میسم ان کا لاڈلا تھا اور فہد میسم کا واحد دوست تھا اور جب بھی میسم کو گھر میں ڈانٹ پڑتی تھی عزرا سارا الزام فہد پر دھر دیتی تھیں کہ میرا بھتیجا تو معصوم ہے موۓ فہد کا قصور ہو گا سب ۔ اور اب اسی موۓ فہد کو وہ کیسے اپنے داماد کے روپ میں دیکھ سکتی تھیں ۔
” عزرا اللہ کا نام لو اور ہاں کر دو “
احمد میاں نے عزرا کی طرف دیکھتے ہوۓ کہا جو اب گہری سوچ میں ڈوب چکی تھی۔ سب لوگ اب عزرا کی طرف ہی متوجہ تھے ۔ کچھ دیر خاموشی رہی پھر عزرا نے مراد احمد کی طرف دیکھا۔
” بھاٸ صاحب آپ نے مجھ سے زیادہ دنیا دیکھ رکھی ہے آپ کی ذمہ داری ہیں میری دونوں بیٹایاں اگر آپکو مناسب لگتا ہے تو میں راضی ہوں “
مراد احمد نے مسکراتے ہوۓ سر کو ہلایا اور پھر سب لوگ مسکرا دیے ۔
*********
میسم نے فاٸل پر سے سر کو اٹھایا اور سامنے بیٹھے شخص کی طرف دیکھتے ہوۓ اثبات میں سر ہلایا ۔
” گڈ تھنکیو سر آپ کو ابھی ایک سال کا کنٹریکٹ ساٸن کرنا ہے “
سامنے بیٹھے شخص نے مسکرا کر پرجوش انداز میں اپنی گود میں دھری فاٸل کو اٹھایا اور کھول کر میسم کے سامنے کیا ۔ میسم نے فاٸل کو سامنے میز پر رکھا ۔ اس شخص نے جلدی سے قلم میسم کی طرف بڑھایا ۔ وہ انٹرنیشنل پرفیوم ایڈونچر کے لیے میسم کو برینڈ امبیسڈرز بنانے کی پیشکش لے کر آیا تھا ۔ انگلینڈ کی سیریز جیت کر آۓ ہوۓ ابھی اسے ایک ہفتہ ہوا تھا جب اسے مختلف اشتہارات کے پیشکش آنے لگی تھیں وہ پورے پاکستان کا دل بن کر دھڑکنے لگا تھا ۔
باہر نکلتا تو لوگوں کی بھیڑ اکٹھی ہو جاتی ۔ اس سب سے بچنے کے لیے پاکستان آتے ہی اس نے سب سے پہلا کام کار لینے کا کیا تھا ۔ کرکٹ کی جان تھا تو پاکستانی لڑکیوں کے تکیوں کے نیچے اس کی تصاویر تھیں۔ جوان کرکٹ کا جنون رکھنے والے لڑکوں کی متاثر کن شخصیت تھا تو کرکٹ کے شیداٸیوں کی محبت بن گیا تھا ۔ خبروں سے لے کر گلی میں کرکٹ کھیلتے لڑکوں تک سب کی زبانوں پر میسم مراد کی تعریف تھی ۔ وہ نہ صرف دھواں دار بلے باز تھا بلکہ اس کی شخصیت اس کی پرسنالٹی کی وجہ سے بڑے بڑے برینڈز کی طرف سے اسے اشتہارات کی پیشکش ہونے لگی تھی جو اُسے منہ مانگی قیمت دینے کے لیے تیار تھے۔
” ہممم پر مجھے زیادہ ایکٹنگ نہیں کرنی آتی “
میسم نے کانٹریکٹ پر دستخط کیے اور ہنستے ہوۓ سر اوپر اٹھایا ۔سامنے بیٹھا شخص قہقہ لگا گیا ۔
” آپ فکر نہ کریں بس تھوڑی سی کرنی پڑے گی باقی آپکی کوسٹار سنبھال لے گی “
سامنے بیٹھے شخص نے مسکراتے ہوۓ کہا اور میسم کے ہاتھ سے فاٸل کو لیا ۔
” ہممم پھر ٹھیک ہے “
میسم نے مسکراتے ہوۓ سر ہلایا ۔ وہ ابھی طلحہ کے ساتھ ہی رہاٸیش پزیر تھا ۔ اور اس وقت وہ اسی اپارٸٹمنٹ کے لاونج میں آمنے سامنے بیٹھے تھے ۔
” تھنکیو سو مچھ سر “
آدمی نے مشکور نظروں سے میسم کی طرف دیکھا اور بیگ میں سے چیک بک نکالی ۔ چیک کو چیک بک سے علیحدہ کیا ۔
” یہ ایڈوانس چیک آپکا “
میسم کی طرف چیک بڑھایا ۔ میسم نے لب بھینچے سر کو اثبات میں ہلایا ۔ اور چیک کو پکڑا ۔
” چلیں پھر کل شام کو ملاقات ہوتی ہے “
وہ آدمی فاٸلز کو بیگ میں رکھ کر اٹھا . میسم سے مصافحہ کیا ۔ اور دروازے کی طرف بڑھ گیا جبکہ میسم دو لاکھ کے چیک کی طرف دیکھ رہاتھا ۔ لبوں پر عجیب سی مسکراہٹ تھی ۔
جھکا دوں گا
گرا دوں گا
میں ہوں بخت
میں ہوں نوشتہ تقدیر
میں ہوں مقسوممممممم
********
” ایک ہفتہ ہو گیا چھپ چھپ کر رو رہی ہو اور مجھے اب بتا رہی ہو اتنی بڑی بات “
ماہ رخ نے حیرت اور افسوس سے آنکھیں پھیلا کر ادینہ کی طرف دیکھا ۔ جو اب ساکن بیٹھی تھی اور سپاٹ چہرہ لیے سامنے دیوار کو گھور رہی تھی ۔
” کیا بتاتی کہ جس کے لیے تمھارے سامنے ہر پل سسکی ہوں وہ اپنے ذہن میں میرا یہ مقام رکھتا ہے “
ادینہ نے سرد لہجے میں کہا آواز بھاری ہو رہی تھی ۔آنکھیں سرخ تھیں ۔ اس کی اور ماہ رخ کی ڈیوٹیز کا وقت ایک ساتھ نہ ہونے کی وجہ سے دونوں کی بات چیت کم تھی اور آج ایک ہفتے بعد ادینہ اسے سب بتا رہی تھی ۔
” میسم کا تو دماغ میں درست کرتی ہوں ایڈریس دو اس کا “
ماہ رخ نے ماتھے پر بل ڈالے غصے سے کہا ۔ ادینہ نے طنزیہ مسکراہٹ لبوں پر سجاٸ ۔
” نہیں ہے میرے پاس اور مجھے اُسے کوٸ صفاٸ نہیں دینی اب تم کچھ بھی نہیں کہو گی “
” بکواس بند کرو نمبر دو اس کا میں کوٸ صفاٸ نہیں دوں گی اس کا دماغ ٹھکانے لگاٶں گی سمجھتا کیا ہے خود کو بہت ذہین ہے یا غیب کا علم رکھتا ہے “
ماہ رخ نے دانت پیستے ہوۓ کہا اور ادینہ کے پاس پڑا موباٸل اٹھایا ۔
میسم کا نمبر نکالا اور سکرین ادینہ کے سامنے کی ۔ ادینہ نے گھٹنوں پر سے سر اٹھایا اور اثبات میں دھیرے سے سر ہلایا ۔ سکرین پر میسم کا نمبر تھا ۔ جو شادی کے بعد اس نے ہیزبینڈ کے نام سے موباٸل میں محفوظ کیا تھا ۔
ماہ رخ نے اپنے موباٸل سے نبمر ڈاٸل کرتے ہی موباٸل کو کان سے لگایا ۔ ادینہ نے سر جھکایا پر دوسری طرف خاموشی ہی تھی ماہ رخ ابھی تک فون کان کو ہی لگاۓ کھڑی تھی ۔
ماہ رخ نے ادینہ کی طرف دیکھا ۔ اور آنکھوں کو سکوڑ کر نفی میں سر ہلایا ۔
” یہ تو بند ہے اور کوٸ نمبر ہے کیا اس کا “
ماہ رخ نے پھر سے ادینہ کے موباٸل کو اٹھا کر اس کی طرف سوالیہ نظر ڈالی ۔
” نہیں تو نمبر تو یہی ہے میرے پاس اس کا “
ادینہ نے آہستہ سی آواز میں جواب دیا اور نمبر بند ہونے کا سن کر پریشان سا چہرہ بنایا ۔ ماہ رخ نے گہری سانس لی اور بیڈ پر ادینہ کے ساتھ ڈھنے کے سے انداز میں بیٹھی ۔ جیسے سارا جوش ٹھنڈا پڑ گیا ہو ۔
” ماہ رخ تم رہنے دو چھوڑو“
ادینہ نے بکھرے بالوں کو جوڑا بنایا اور خود کو نارمل ظاہر کیا ۔ ماہ رخ نے ماتھے پر شکن ڈالے اور غصے سے اسے گھور کر دیکھا بکھرے سے بال روکھا سا چہرہ وہ ایک ہفتے میں ہی ایسی پژمردگی کی شکار ہوٸ تھی کہ لگ ہی نہیں رہا تھا وہ نٸ نویلی شادی شدہ ہے ۔
” چپ سے بیٹھو تم میں کرتی رہوں گی ٹراٸ “
ماہ رخ نے ڈپٹنے کے انداز میں کہا ۔ ادینہ نے بے یقینی سے دیکھا کچھ بھی نہیں ہونے والا شک میسم کے دماغ میں جڑیں پکڑ چکا تھا ۔ ادینہ نے پھیکی سی مسکراہٹ کو لبوں پر سجا کر سوچا ۔
” چلو اٹھو اب کچھ کھا لو حالت دیکھو اپنی “
ماہ رخ نے آگے بڑھ کر بازو سے پکڑ کر اسے اٹھایا ۔ جو بے زار سے صورت بناۓ اٹھی تھی۔
***********
ایڈوینچر کلون کے شاندار سیٹ پر وہ ان کے دیے گۓ کوسٹیم کو زیب تن کۓ کھڑا تھا ڈاٸریکٹر اسے اشتہار کا منظر سمجھانے میں مصروف تھا جب ایک طرف سے ابھرتی پر جوش آواز نے دونوں کو نظر اٹھانے پر مجبور کیا ۔
” ہاۓ۔ے۔ے۔ے۔ میسم مراد “
برہنہ کندھوں والی ٹی شرٹ کے نیچے تنگ جینز پہنے میک اپ سے لیس چہرہ لیے ناز عالم پورے دانت باہر نکالے پر جوش انداز میں کھڑی تھی ۔ میسم نے گردن کو تھوڑا سا خم دیا وہ لمبے قد اور سانولی رنگت کی پرکشش لڑکی پاکستان کی مشہور ماڈل تھی جو بڑی بے باکی سے اب بلکل میسم کے قریب آ کر پرجوش انداز میں اس کے گلے لگ کر اس کے گال سے اپنا گال جوڑ چکی تھی ۔ میسم اس بے باکی پر گڑبڑا سا گیا ۔ وہ اب مسکراتے ہوۓ پیچھے ہوٸ ۔ آنکھیں خوشی سے چمک رہی تھیں ۔
” میسم یہ ہے ناز پاکستانی ٹاپ ماڈل “
ڈاٸریکٹر نے مسکرا کر میسم سے ناز کا تعارف کروایا ۔ وہ کچھ دیر پہلے ہی دبٸ میں شوٹ کے لیے پہنچا تھا۔ ناز عالم ایڈوینچر کلون کی لیڈی برینڈ امبیسڈر تھی ۔
” جی جانتا ہوں “
میسم نے مسکرا کر سر کو اثبات میں ہلایا ۔ ناز کو کون نہیں جانتا تھا وہ نہ صرف ٹاپ ماڈل تھی بلکہ بہت سے سیریلز میں ادکاری کے جوہر بھی دکھا چکی تھی ۔
” اور آپ کو بھی جانتی ہوں میں بہت اچھے سے “
ناز نے پرجوش انداز اپنایا اس کی آنکھوں سے ہی میسم کے لیے بے پناہ پسندیدگی نظر آ رہی تھی۔
“ you know you are the reason of my heartbeaing thease days ”
” آپ جانتے ہیں آجکل آپ میرے دل کے دھڑکنےکی وجہ ہیں “
ناز بے ساختہ چہکتے ہوۓ کہہ گٸ میسم خجل سا ہوتے ہوۓ مسکرا کر رہ گیا جبکہ پاس کھڑے ڈاٸریکٹر کا فلک شگاف قہقہ گونجا۔ جس پر اب ناز بھی انداز دلرباٸ سے ہنس رہی تھی ۔
” چلیں اب پھر ٹیک لیتے ہیں کچھ “
ڈاٸریکٹر نے ہاتھ کا اشارہ سیٹ کی طرف کرتے ہوۓ دونوں سے درخواست کی۔
” رکیں ایک شرط پر میسم اس کے بعد میرے ساتھ کافی پر چلیں گے کیوں میسم“
ناز نے چہکتے ہوۓ ہاتھ کے اشارے سے ڈاٸریکٹر کو روکا اور میسم کی طرف دیکھا ۔ اب میسم کے سامنے کھڑے دونوں نفوس میسم کی طرف متوجہ تھے ۔ میسم نے مسکراتے ہوۓ سر کو اثبات میں جنبش دی
” ہمممم اور آپ دبٸ گھماٸیں گی “
خوشگوار انداز میں ناز کی طرف دیکھا ۔ ناز نے کھلکھلا کر اثبات میں زور زور سے سر ہلایا۔
” بلکل بلکل مجھے خوشی ہو گی “
وہ خوشی سے کہتے ہوٸ میسم کے ساتھ قدم سے قدم ملاتی سیٹ کی طرف چل دی ۔
**********
اسٹیتھ سکوپ کو گلے کے گرد سے اتارتی وہ تھکی سے سٹاف روم میں ابھی داخل ہی ہوٸ تھی جب سامنے بیٹھی ڈاکٹر روشبہ کی آواز پر ٹھٹھکی ۔
” ادینہ نیو ایڈ دیکھا ایڈونچر والوں کا“
وہ اپنے موباٸل پر نظریں جماۓ ذومعنی انداز میں بولی ادینہ نے ناسمجھی کے انداز میں دیکھا ۔
” نہیں کیا ہوا“
تھکے سے لہجے میں کہتی وہ اب روشبہ کے قریب آ چکی تھی۔ جو بڑی دلچسپی سے موباٸل پر کچھ دیکھ رہی تھی اس کو پاس کھڑے دیکھا تو مسکرا کر ہاتھ آگے بڑھایا
” see your husband ”
” دیکھو تمھارا شوہر “
روشبہ نے موباٸل سکرین کا رخ ادینہ کی طرف کیا ادینہ اس کے ساتھ صوفے پر بیٹھتی چلی گٸ ۔ میسم سے کوٸ بھی رابطہ ہوۓ آج دو ہفتے ہو چلے تھے ۔ وہ شاٸد پاکستان میں نہیس تھا اس لیے کوٸ رابطہ نہیں تھا ۔
روشبہ کے موباٸل پر ایڈوینچر کلون کا اشتہار چل رہا تھا جس میں ناز عالم میسم کے بلکل قریب کھڑی میسم کی گردن پر انگلی پھیر رہی تھی ۔ تن بدن میں جیسے آگ لگی ۔ دل میں دھواں سا بھرنے لگا میسم اس کی آنکھوں میں محبت بھری نظروں سے دیکھ رہا تھا ناز عالم گہرے گلے والی میکسی زیب تن کۓ ہوۓ تھی اس کا انداز دلکشی کی آخری حدوں کو چھو رہا تھا ۔
میسم کے لبوں پر انوکھی سی مسکرا ہٹ تھی جو ادینہ کو اس وقت زہر لگ رہی تھی۔ دل میں بھرتے دھویں کی چبھن اب آنکھوں تک آنے لگی تھی۔
” لکی ہو تم ادینہ سچ میں ماڈل کی آنکھوں کی حسرت دیکھو ذرا “
روشبہ نے قہقہ لگاتے ہوۓ توجہ دلاٸ جس میں اشتہار کے آخر میں ناز عالم میسم کے بلکل سامنے کھڑے ہو کر اس کی آنکھوں میں دیکھ رہی تھی۔ اور وہ ادکاری سے زیادہ حقیقت لگ رہی تھی۔
ادینہ نے پھیکی سی مسکراہٹ چہرے پر سجا کر روشبہ کا فون اس کے ہاتھ میں دیا ۔ اپنا فون ہوتا تو شاٸد وہ اب تک دیورا میں مار چکی ہوتی ۔ آنکھوں کے کونے نم ہونے لگے تھے ۔
” ادینہ ایک ملاقات ہم سب سے بنتی ہے بھٸ “
روشبہ کے ساتھ بیٹھی سحر نے بچوں کی طرح منہ بناتے ہوۓ ادینہ سے التجا کی ۔ ادینہ نے اپنے لاوے کی طرح ابلتے جزبات پر قابو پایا ۔
” ہاں ادینہ آٹو گراف پکس بھٸ ہم بھی تو دکھاٸیں سب کو ہماری کولیگ کا ہیزبینڈ ہے ہم کلوزلی جانتے ہیں اس کو “
روشبہ نے بھی چہکتے ہوۓ سحر کا ساتھ دیا ۔ ادینہ نے زبردستی کی مسکراہٹ چہرے پر سجاۓ دونوں کی طرف دیکھا ۔ ماہ رخ جو کچھ دور چاۓ کے ٹی بیگ کو کپ میں بار بار ڈبکیاں دلا رہی تھی غور سے سنتے ہوۓ اب ساری بات سمجھ چکی تھی۔
” تم بات کرو نہ میسم بھاٸ سے “
روشبہ اب زیادہ ہی پرجوش ہو چکی تھی ۔ادینہ نے نظر اٹھا کر ماہ رخ کی طرف دیکھا ۔ ماہ رخ اپنی جگہ سے اٹھی اور قریب آٸ ۔
” کیوں نہیں رکھیں گے ضرور رکھیں گے “
ماہ رخ نے ادینہ کے کندھے پر ہاتھ رکھے اس کے ساتھ بیٹھتے ہوۓ مسکرا کر پہلے دونوں کی طرف دیکھا اور پھر پیار سے ادینہ کی طرف ۔
” ہاۓ کتنا مزہ آۓ گا میں اپنے چھوٹے بھاٸ کو بھی ساتھ لاٶں گی مرتا ہے وہ میسم پر “
روشبہ پرجوش انداز میں چہکی ادینہ نے خفگی بھری نظر ساتھ بیٹھی ماہ رخ پر ڈالی جس نے لبوں کو بھینچے سر کو آہستگی سے ہلایا ۔
*********
” امی یہ والی کڑھاٸ بہت زیادہ ہے لڑکوں کو اتنی اچھی نہیں لگتی کڑھاٸ “
اریبہ نے ڈبے میں بند نسواری رنگ کے کُرتے کو ناگواری سے اٹھا کر ایک طرف کیا ۔ وہ مردانہ کپڑوں کی دوکان میں لگی کرسیوں پر بیٹھی کڑھاٸ والے کُرتے دیکھنے میں مصروف تھیں ۔
” آۓ ہاۓ کچھ بھی لے لو اس لنگور سے کو کونسا کچھ جچنا ہے “
عزرا نے بے زار سی شکل بناٸ اریبہ کے ڈبوں کو اٹھا کر جانچتے ہاتھ رکے افسوس سے اپنے ساتھ بیٹھی عزرا کی طرف دیکھا ۔ دو دن بعد اس کی اور فہد کی نکاح کی تقریب تھی اور عزرا کی نفرت ہنوز قاٸم تھی ۔ فہد کے والدین نے تو منگنی کی رسم ادا کرنے کے کہا تھا جس پر احمد میاں بلکل رضامند نہیں ہوۓ تھے ان کے مطابق منگنی کوٸ جاٸز رشتہ نہیں تھا اور فہد کو وہ بچپن سے جانتے تھے اس لیے انھوں نے نکاح کرنے کا فیصلہ کر لیا تھا ۔
” امی۔ی۔ی۔ی۔ بس کریں اب تو میرا نکاح ہونے والا آپ کو اب بھی لنگور لگتا“
اریبہ نے خفگی سے کہتے ہوۓ روہانسی صورت بنا کر عزرا کی طرف دیکھا عزرا نے بے چینی سے پہلو بدلہ ۔
” اچھا چل جو تجھے پسند ہے وہ کر لے میں تو ان لوگوں کی وجہ سے کہہ رہی تھی پینڈو سے ہیں زیادہ کڑھاٸ پسند کریں گے “
عزرا نے پھر ناگواری سے ناک چڑھاٸ ۔ اریبہ نے ماتھے پر زور سے ہاتھ رکھا اور سر کو نفی میں ہلاتی اب وہ عزرا کی طرف دیکھ رہی تھی۔
” امی کوٸ پینڈو وینڈو نہیں ہیں وہ لوگ اچھے خاصے ہم سے زیادہ پیسے والے ہیں اور آپکو اتنے ہی ناپسند تھے تو رشتہ کیوں کیا “
بے زاری سے ہاتھوں کو گود میں دھرا جس دن سے بات طے ہوٸ تھی وہ عزرا کی اس طرح کی باتیں سن رہی تھی ۔ عزرا اریبہ کی اتنی ناراضگی پر سٹپٹا سی گٸیں ۔
” اچھا چل سوری کر پسند“
اریبہ کے چہرے پر غصہ دیکھ کر عزرا نے منہ کا زاویہ بگاڑتے ہوۓ کہا ۔ اریبہ نے پھر سے توجہ ڈبوں میں بند کاٹن کے کرُتوں کی طرف مبزول کی ۔
” ہلکا رنگ کرنا میسم تھوڑی ہے جو پہنے گا وہ جچ جاۓ گا “
اریبہ کے ہاتھ میں گہرے گرے رنگ کے کُرتے کو دیکھ کر عزرا بیگم پھر سے خود کو کچھ کہنے سے نہیں روک سکی تھیں ۔ اریبہ نے دانت پیستے ہوۓ گردن موڑ کر عزرا کی طرف دیکھا ۔
” اچھا اچھا کر پسند “
عزرا نے اریبہ کے کندھے کو زور سے ہلایا انداز ایسا تھا جیسے کہہ رہی ہوں اب میں کچھ نہیں بولوں گی ۔
” بھاٸ جس کے گلے پر کم کڑھاٸ وہ دکھاٸیں پلیز “
اریبہ نے ایک غصیلی نظر عزرا پر ڈالی اور پھر سامنے کھڑے آدمی سے کہا جو اب ڈبے نکال نکال کر اریبہ کے سامنے رکھ رہا تھا ۔
**********
گلابی گداز لبوں کو کچلتی ادینہ بجتے موباٸل پر نظریں گاڑے بیٹھی تھی ۔ سکرین پر ”ہیزبینڈ “ کے الفاظ جگمگا رہے تھے اور موباٸل کا تھرکنا دل میں ہتھوڑے کی طرح ضرب لگا رہا تھا آج پورے تین ہفتے بعد جناب کو اس کی یاد آٸ تھی پر کس لیے ادینہ کا دل پھٹنے کو تھا اور اب فون بند ہو کر تیسری دفعہ بجنے لگا تھا ۔ فون بج رہا تھا اور وہ اسے فقط گھور رہی تھی۔ میسم کے زہر جیسے لفظوں کی بازگشت ذہن کی دیواروں سے سر پٹخ رہی تھی ۔
جیسے جیسے فون کی بل جارہی تھی میسم کا غصہ بڑھ رہا تھا ۔ الٹا غصہ دکھانے لگی تھیں محترمہ غصے سے سوچا اور فون بند کیا ۔ اور اب لب بھینچے انگلیاں پیغام لکھ رہی تھیں جانتا تھا کہ وہ جان بوجھ کر فون نہیں اٹھا رہی ہے ۔
فون کی تیسری دفعہ کی بل بھی بند ہو چکی تھی ۔ ادینہ اب بھی ماتھے پر بل ڈالے موباٸل کو گھور رہی تھی ۔ میسیج ٹون کے ساتھ ہی ہیزبینڈ کے نام کے ساتھ پیغام کا اشارہ واضح ہوا ۔ادینہ نے چہرے پر ناگواری سجاۓ موباٸل اٹھایا اور پیغام کو کھولا ۔
” فون کیوں نہیں اٹھا رہی میرا “
پیغام ادینہ کی سوچ کے بلکل مطابق تھا ۔ ادینہ نے کوٸ جواب نہیں دیا ۔ فون اب پھر سے بج رہا تھا اور ادینہ ویسے ہی بیٹھی تھی مجسم بن کر ۔
میسم نے زور سے موباٸل ایک طرف پٹخا الٹا چور کوتوال کو ڈانٹے ۔ پھر کچھ سوچتے ہوۓ موباٸل اٹھایا اور پیغام لکھا ۔
پیغام کی رنگ پھر سے بجنے پر ادینہ نے پیغام کھولا ۔
” ادینہ فون اٹھاٶ میرا مجھے معلوم ہے تم جان بوجھ کر نہیں اٹھا رہی “
وہ پیغام پڑھ رہی تھی جب فون پھر سے بج اٹھا ادینہ نے فون ایک طرف رکھ دیا ۔ اور گھٹنے میں چہرہ دیا مسیج ٹون پر سر اٹھایا اور ساتھ ہی موباٸل بھی اٹھایا ۔
” ادینہ کیا بدتمیزی ہے یہ فون اٹھاٶ “
پھر سے پیغام آیا ادینہ ابھی اس کو پڑھ ہی رہی تھی جب ایک اور پیغام آیا ۔
” اوکے فاٸن کل صبح تیار رہنا پانچ بجے نکلیں گے خیر پور کے لیے “
پیغام پڑھتے ہی ادینہ کی پیشانی شکن آلودہ ہوٸ ۔ اریبہ کے نکاح کے لیے اسے اور ماہ رخ کو کل کوچ سے جانا تھا اور جناب آج اپنے ساتھ جانے کا حکم صادر کر رہے تھے ۔ فون پھر سے بج رہا تھا ادینہ نے فون اٹھا کر کان کو لگایا اور سپاٹ لہجے میں گویا ہوٸ ۔
” میں خود جا سکتی ہوں مجھے نہیں جانا آپ کے ساتھ “
چہرہ سختی لیے ہوۓ تھا دانت ایک دوسرے میں پیوست تھے ۔ اس سے پہلے کے وہ کچھ بولتا ادینہ نے اپنی بابت کی ۔
ادینہ کے اس انداز پر میسم کی رگیں ایک ہی پل میں تنی ۔
” دماغ ٹھیک رکھو اپنا دادا ابو نے کہا ہے اپنے شوق سے نہیں لے جا رہا میں “
غصے سے بھاری آواز میں کہا اورفوراً فون بند کیا۔
میسم کی رعب دار آواز اس سے بھی زیادہ سختی لیے ہوۓ تھے ۔ ادینہ کے چہرے پر تزلیل کا عکس واضح ہوا وہ فون بند کر چکا تھا ۔ ادینہ نے غصے سے ایک طرف موباٸل پٹخا۔ ماہ رخ جو ابھی ابھی واش روم سے باہر آٸ تھی اس کا انداز پرکھتے ہوۓ آگے ہوٸ ۔
” ادینہ فون چل پڑا کیا اس کا “
ماہ رخ نے کھوجتی سی نظر موباٸل پر ڈالتے ہوۓ سوالیہ نظر ادینہ پر ڈالی جو ضبط سے گزرتے ہوۓ سرخ ہو رہی تھی ۔ ادینہ کچھ دیر چپ رہی پھر ماہ رخ کی طرف دیکھا۔
” کہہ رہا ہے کل صبح میرے ساتھ جانا خیر پور حکم صادر کر رہا تھا “
ادینہ نے ناک پھلاتے ہوۓ گھور کر موباٸل کی طرف دیکھا ۔ جیسے موباٸل کو ہی کچا چبا جاۓ گی ۔
” ہاں تو ٹھیک ہے نہ اُسی کے ساتھ جاٸیں گے “
ماہ رخ نے جلدی سے کہا اور پرسوچ انداز میں آنکھیں سکیڑے اس کے ساتھ بیڈ پر براجمان ہوٸ ۔
**********
”اسلام علیکم “
سیاہ رنگ کی کرولا کی پچھلی سیٹ کا دروازہ کھول کر ماہ رخ نے سر اندر کیا اور سپاٹ لہجے میں ڈراٸیونگ سیٹ پر بیٹھے میسم کو سلام کیا ۔ وہ پانچ بجے کا کہہ کر پورے چھ بجے ان کے ہاسٹل کے سامنے کھڑا تھا ادینہ فرنٹ سیٹ پر بیٹھ چکی تھی ۔ ماہ رخ نے ساری رات لگا کر اسے سمجھایا تھا کہ وہ کچھ بھی نہیں کرے گی بس خاموشی سے تماشہ دیکھے گی ۔ میسم کا دماغ وہ خود اپنے طریقے سے درست کرے گی ۔
” وعلیکم سلام “
میسم نے مہدب انداز میں ماہ رخ کے سلام کا جواب دیا اور ایک اچٹتی سی نظر ادینہ پر ڈالی جو سپاٹ چہرہ لیے ساتھ بیٹھی تھی ۔ سیاہ رنگ کے جوڑے میں شفاف سے چہرے کے ساتھ وہ اس صبح کے ملگجے اندھیرے میں بھی دمک رہی تھی ۔
” میسم بھاٸ “
وہ چور نظر سے ادینہ کا جاٸزہ لیتے ہوۓ سیٹ بیلٹ باندھ رہا تھا جب عقب سے ماہ رخ کی آواز کانوں میں پڑی ۔
” جی “
گردن کو تھوڑا خم دیے معدب انداز اپنایا ۔ ماہ رخ نے سیٹ کی پشت کو پکڑے تھوڑا سا آگے ہوتے ہوۓ کہا ۔
” ہم دونوں نے ناشتہ نہیں کیا ہوا تو کہیں ناشتہ کرنا ہے ہمیں پہلے “
ماہ رخ کا انداز بڑا حق جتاتا ہوا پر سپاٹ سا تھا ۔ وہ پوری طرح سالی ہونے کا کردار نبھا رہی تھی ۔ میسم نے پھر سے ایک نظر ادینہ پر ڈالی جو بے رخی سے گردن موڑے بیٹھی تھی ۔
” اوکے کسی طعام قیام پر رک جاتے ہیں “
میسم نے کار کو ریورس کرتے ہوۓ بیک ویو سکرین پر نظر جماٸ ۔
” اوکے “
ماہ رخ نے رعب سے کہا اور پیچھے ہوتے ہوۓ سیٹ کے ساتھ سر ٹکایا ۔ ادینہ نے چہرے کا رخ موڑ کر ماہ رخ کی طرف دیکھا اور پھر ماتھے پر شکن ڈالے ۔
”مجھے تو نہیں کرنا ناشتہ “
بے رخی سے کہا ۔ میسم نے چونک کر دیکھا ۔ کار اب موٹر وے کے رستے کی طرف رواں دواں تھی۔
” کیوں تم ناشتہ رات کو ایڈوانس میں کر کے سوتی ہو “
میسم نے لب بھینچے بھنویں اچکا کر کہا اور سوالیہ نظر ادینہ پر ڈالی ۔ جو اب منہ میں کچھ بُڑ بُڑا رہی تھی ۔
کار میں تین نفوس کے ہوتے ہوۓ بھی قیام و طعام تک کا سفر انتہاٸ خاموشی سے طے پایا تھا ۔
گاڑی قیام طعام کے وسیع پارکنگ میں رکی ۔ اور میسم نے سیٹ بیلٹ اتاری وہ اب سن گلاسز لگاۓ ہوۓ تھا۔ ہڈ کی ٹوپی کو کھینچ کر منہ کو ڈھکا
چلیں پھر “
گاڑی سے اترتے ہوۓ گہری سانس لے کر پیچھے بیٹھی ماہ رخ سے کہا اور پھر ایک نظر غصے میں بھری ادینہ کی طرف دیکھا ۔ ماہ رخ نکلنے کے بعد اب زبردستی ادینہ کو اتار چکی تھی ۔
ہوٹل میں ناشتہ کے آرڈر کے بعد میسم اور ماہ رخ جیسے ہی نشستوں پر براجمان ہوۓ ادینہ اٹھ کر ریسٹ روم کی طرف بڑھ گٸ ۔
” اس دن میں بھی اَس کو اور روشان کو یوں ہی اکیلا چھوڑ کر واش روم گٸ تھی “
وہ ادینہ کو جاتا دیکھنے میں مصروف تھا جب ماہ رخ کی سرد سی آواز پر چونک کر اُس کی طرف دیکھا ۔

 

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: