Maqsoom Novel by Huma Waqas – Episode 18

0
مقسوم از ہما وقاص – قسط نمبر 18

–**–**–

” جی“
میسم نے ناسمجھی کے انداز میں ماہ رخ کی طرف دیکھا ۔ ماہ رخ کا چہرہ سپاٹ تھا اور انداز طنز سے بھرا تھا ۔
” جی اُس دن ہوٹل میں جب آپ نے دونوں کو دیکھا تھا تو میں وہاں ان کے ساتھ تھی اور میں جان بوجھ کر واش روم میں گٸ تھی “
ماہ رخ نے سخت لہجے اور سپاٹ چہرے کے ساتھ میسم کی طرف دیکھا ۔ میسم کے چہرے پر فوراً سنجیدگی طاری ہوٸ ۔ لبوں کو بھینچے ماتھے پر شکن ڈال کر ارد گرد دیکھا ۔
” تو اس ساری بات کو دھرانے کا مقصد پوچھ سکتا ہوں آپ سے“
میسم نے ناک کے نتھنے پھلاتے ہوۓ کھردرے سے لہجے میں کہا ۔ اور بےزاری سے سامنے بیٹھی ماہ رخ کی طرف دیکھا جس کے لبوں پر اب افسوس کرنے جیسی مسکراہٹ تھی ۔
” جی بلکل مقصد ہے کیونکہ آپ جو کچھ بھی آج تک سمجھتے آۓ ہیں روشان اور ادینہ کے بارے میں وہ سب غلط سمجھتے آۓ ہیں “
ماہ رخ نے طنز بھرے انداز میں سخت چہرے کے ساتھ بات کی وضاحت دی جس پر مسیم نے ضبط کرنے کے انداز میں ایک نظر سامنے ماہ رخ کی طرف دیکھا اور پھر ارد گرد نظر دوڑاٸ ۔ ایسا محسوس ہو رہا تھا وہ بمشکل وہاں بیٹھا ہے ۔
” آپ کو کیا لگتا ہے میں ادینہ کی بات پر یقین نہیں کرتا تو کیا آپ کی بات پر کروں گا “
سپاٹ چہرے کے ساتھ بے زار لہجہ اپنایا ۔ ماہ رخ نے طنزیہ ہنسی کے ساتھ افسوس سے سر کو ہوا میں مارا ۔
” مت کریں لیکن میں سچ بات بتا کر رہی ہوں اور آپ کو سننا ہو گی “
ماہ رخ نے ماتھے پر شکن ڈالے میسم سے بھی زیادہ سخت لہجے میں کہا ۔ میسم نے کچھ بولنے کے لیے لب کھولے جسے ماہ رخ نے ہاتھ کے اشارے سے روکا ۔
” اس دن جب آپ یونیورسٹی آۓ تھے اور میں نے آپکو ادینہ کا بتایا تھا تو میں ان دونوں کے پاس سے اٹھ کر گٸ تھی روشان کے لیے پانی لینے کے لیے “
ماہ رخ نے دانت پیستے ہوۓ میسم سے کہا جو اب چہرے کا رخ موڑے ضبط کرنے کے سے انداز میں بیٹھا ہوا تھا ۔ چہرہ صاف بتا رہا تھا وہ ماہ رخ کی بھی کسی بات پر یقین نہیں کر رہا ہے ۔
” کیونکہ روشان رو رہا تھا “
میسم نے طنز بھری مسکراہٹ سجا کر سر کو ہوا میں مارا ۔
” جی ہاں وہ رو رہا تھا لیکن اس کی وجہ ادینہ نہیں اس کی مدر تھیں جن کی ریسنٹلی ڈیتھ ہوٸ تھی “
ماہ رخ نے تیزی سے اپنی بات مکمل کی وہ اتنے جوش میں تھی کے بات مکمل ہونے پر اس نے میز پر زور سے اپنی ہتھیلی کو مارا ۔ میسم اب چونک کر ماہ رخ کی طرف دیکھ رہا تھا ۔
” اور ادینہ اور میں صرف اسے تسلی دے رہے تھے اور ادینہ اس دن میرے کہنے پر یونیورسٹی آٸ تھی نہ کہ روشان کے کہنے پر “
ماہ رخ اب اونچی آواز میں بول رہی تھی اور میسم اب بلکل خاموشی سے سن رہا تھا ۔ چہرے کی سختی قدرے کم ہوٸ۔
” ادینہ نے اسی دن مجھے بتایا کہ وہ میسم کو چاہنے لگی ہے “
ماہ رخ نے بے چارگی سے کہا آواز سے سختی تھوڑی سی کم ہوٸ ۔ وہ میسم کو سمجھاتے سمجھاتے روہانسی ہو چلی تھی ادینہ کی حالت دماغ میں گھوم رہی تھی ۔میسم نے غور سے ماہ رخ کی طرف دیکھا اور گہری سانس لی ۔
” واہ اچھی کہانی بناٸ ہے دونوں دوستوں نے مل کر “
ارد گرد دیکھتے ہوۓ کہا۔ جس پر سامنے بیٹھی ماہ رخ کے دماغ کی رگیں تن سی گٸیں ۔ عجیب بد دماغ انسان ہے ۔ ویٹر اب میز پر ناشتہ سجا رہا تھا ماہ رخ کچھ دیر کے لیے خاموش ہوٸ جیسے ہی ویٹر مڑا ماہ رخ پھر سے آگے ہوٸ ۔
” یہ کہانی نہیں ہے میسم بھاٸ آپ اچانک محبت ہو جانے پہ یقین رکھتے ہوں یا نہیں لیکن میں رکھتی ہوں اور ادینہ کو آپ سے محبت ایسے ہی نکاح سے دو دن پہلے ہو چکی تھی “
ماہ رخ نے سختی سے سپاٹ چہرے کے ساتھ کہا وہ ضبط سے تیز تیز سانس لے رہی تھی۔ میسم نے آبرو چڑھا کر دیکھا ۔ ماہ رخ اب اپنے بیگ سے موباٸل نکال رہی تھی ۔
” اور اب بھی آپکو میری کسی بات کا یقین نہیں ہے تو یہ دیکھیں میری اور روشان کی چیٹ “
اہنے موباٸل کو غصے سے میسم کے آگے کیا ۔ میسم نے فون ہاتھ میں پکڑا اور اب میسم کا انگوٹھا اس کے فون کی سکرین کو اوپر کی طرف اچھال رہا تھا ۔ آنکھیں پھیل رہی تھیں ۔
” اس میں میں نے اسے بتایا ہے سب کہ ادینہ نے اُس کا پرپوزل کیوں ایکسیپٹ نہیں کیا تھا کیونکہ وہ اپنے کزن میسم سے محبت کرتی ہے آپ ساری چیٹ پڑھ سکتے ہیں وقت اور دن بھی نوٹ کریں ادینہ کو پرپوزل کا بھی نہیں پتہ تھا سب اس چیٹ سے واضح ہو جاۓ گا آپکو “
جیسے جیسے میسم چیٹ پڑھ رہا تھا ویسے سر نیچے کی طرچ جھکتا جا رہا تھا گردن کی اکڑاہٹ ختم ہو رہی تھی پلکیں شرمندگی کے زیر اثر جھکتی جا رہی تھیں۔ دل میں دھواں سا بھرا تھا اور ذہن ساٸیں ساٸیں کرنے لگے تھا ۔
ادینہ کی التجاٸیں منتیں صفاٸیاں سب یاد آنے لگی تھیں اس کی ہر ہر بات سچ تھی ۔ روشان اور ماہ رخ کی ساری چیٹ سے صاف ظاہر تھا کہ ادینہ کو روشان کی محبت کا علم تک نہیں تھا ۔
” میسم بھاٸ جو بھی آپ سمجھتے رہے سب کچھ غلط تھا سب سب “
ماہ رخ کے لہجے میں اب میسم کے چہرے کے زاویے دیکھ کر سختی ختم ہو چکی تھی ۔ میسم کے چہرے پر اب شرمندگی اور دکھ کے آثار تھے ۔نظریں اوپر نہیں اٹھ رہی تھیں۔
” ادینہ ہر بات مجھ سے کرتی ہے اور اگر اس دن وہ روشان سے ملنے کے لیے آتی تو کیا میں آپکو وہاں بھیج دیتی بتاٸیں مجھے “
ماہ رخ نے سر کو تھوڑا نیچے کرتے ہوۓ میسم کے جھکے چہرے کی طرف دیکھا ۔ پر وہاں تو چہرہ سفید پڑا ہوا تھا ۔
” آپ نے ادینہ سے پوچھا بھی نہیں ایک بار بھی اور خود سے ازیوم کیا اور چل دیے “
ماہ رخ نے افسوس سے میسم کی طرف دیکھا ۔ میسم اب موباٸل ایک طرف رکھے سر کے بالوں کو ہاتھوں سے جکڑے بیٹھا تھا ۔ افف کیا کر بیٹھا تھا وہ خود پر غصہ آنے لگا تھا ۔ اور ادینہ پر بے تحاشہ پیار
” آپ کے جانے کے بعد مجھے پتہ ہے میں نے کیسے سنبھالہ تھا ادینہ کو “
ماہ رخ کا آواز مدھم ہو گٸ تھی ۔ میسم نے چہرے کو اپنے ہاتھوں سے ڈھک لیا گالوں سے تپش نکلنے جیسا احساس ہو رہا تھا ۔ اور عصاب کھچ رہے تھے ۔ وقت اب واپس نہیں آ سکتا تھا ۔
” آپ نے اسے بہت اذیت دی ہے بہت بہت زیادہ “
ماہ رخ نے گہری سانس لی آواز میں افسوس تھا دکھ تھا ۔ وہ کرسی کو پیچھے دھکیلتی ہوٸ اٹھی ۔
” میں اسے لے کر آتی ہوں ناشتہ کرے “
ماہ رخ نے آہستگی سے کہا اور باہر نکل گٸ ۔ میسم شرمندہ سا چہرہ لیے ساکن بیٹھا تھا ۔جس سے اتنی محبت کی اسے ہی اتنی تکلیف دی انجانے میں ۔ دل کوٸ دوبوچ رہا تھا ۔اور دل دماغ کی بیوقوفیوں پر ماتم کنعاں تھا ۔
ہوٹل کے دروازے سے باہر نکل کر ماہ رخ نے ارد گرد نظر دوڑاٸ تو سامنے لان میں لگی کرسیوں پر ادینہ بیٹھی نظر آٸ ۔ سر سبز لان میں ایک طرچ بچوں کے لیے جھولے لگے تھے جہاں تین بچے جھولے لینے میں مصروف تھے ۔ صبح کے آٹھ بج رہے تھے اور ہلکی ہلکی ہوا چل رہی تھی ۔
ماہ رخ مسکراتی ہوٸ لان میں اترتے زینے اتر کر اس تک آٸ وہ سامنے بچوں کو جھولا لیتے دیکھ کر مسکرا رہی تھی۔ آنکھیں مسکراہٹ کا ساتھ نہیں دے رہی تھیں ۔
ماہ رخ نے اس کی نظروں کا تعاقب کیا اور گہری سانس لیتے ہوۓ کمر پر ہاتھ دھرے ۔
” اٹھو اندر چلو “
ماہ رخ کی آواز پرسکون تھی ادینہ نے ہوا سے اڑتے بالوں کو سمیٹتے ہوۓ گردن گھما کر ماہ رخ کی طرف دیکھا جو بھرپور انداز میں مسکرا رہی تھی ۔ اور کب اس کے پاس آ کر کھڑی ہوٸ پتہ ہی نا چلا ۔
” تم کرو ناشتہ مجھے بھوک نہیں ہے “
سپاٹ لہجے میں کہتے ہوۓ ادینہ نے نظریں پھر سے بچوں پر جماٸیں ۔ اندر وہ بیٹھا تھا جزباتوں کا قاتل ۔ دل میں ٹیس اٹھی ۔
” اٹھو ایسا دماغ ٹھکانے لگایا ہے تمھارے میاں صاحب کا جا کر حالت چیک کرو ہیرو کی “
ماہ رخ نے آگے بڑھ کر ادینہ کا ہاتھ تھاما اور اٹھانے کے لیے بازو کو کھینچا ۔ انداز اور لہجہ ہر جوش تھا وہ اپنی جیت پر چہک رہی تھی ۔
” تو میں کیا کروں میرے آنسو میرے دن رات ہر اذیت ہر تکلیف کا ازالہ تو نہیں ہو سکتا نہ اور سب سے بڑی بات مجھ پر تو نہیں یقین کیا نہ دوسروں کے ثبوت دینے پر کیا “
ادینہ نے بے رخی سے بازٶ کھینچا اور چہرہ موڑا ۔ معصوم سے چہرے پر ناگواری کے سوا اور کچھ نہیں تھا ۔
” تم جا کر دیکھو تو شرمندگی سے نظریں تک نہیں اٹھا رہے “
ماہ رخ اب گھوم کر اس کے سامنے آٸ اور پھر سے پرجوش انداز میں گویا ہوٸ ۔
” رہے شرمندگی میرے دل سے تو مقام اتر چکا ہے نہ اس گھٹیا بات کے بعد سے مجھے اب کوٸ پرواہ نہیں اکڑ دکھاٸیں یا شرمندہ ہوں “
ادینہ نے آنکھوں کو سکوڑے ماہ رخ کی طرف دیکھا ادینہ کے چہرے پر خوشی کی کوٸ رمق موجود نہیں تھی۔ دماغ میں بار بار انگلینڈ کی اذیت بھری رات آ رہی تھی ۔
” اچھا کرتی رہو غصہ جتنا کرنا ہے بلکہ میں تو خود یہ چاہتی ہوں اچھی سزا دو جناب کو “
ماہ رخ پیار سے کہتی ہوٸ ادینہ کے گھٹنے پکڑ کر گھاس پر بیٹھی ۔
”میرا دل نہیں “
ادینہ نے روہانسی صورت بناٸ آنسو پھر سے امڈ آنے کو تیار تھے۔ جنہیں بمشکل روکے ہوۓ تھی ۔
” اٹھو نا بہت بھوک لگی ہے ناشتہ ٹھنڈا ہو رہا ہے “
ماہ رخ نے اس کا بازو پکڑ کر کھینچتے ہوۓ اٹھایا اور زبردستی ہوٹل میں داخل ہوٸ میسم جو ہنوز اسی انداز میں سوچ میں ڈوبا شرمندہ سا وہاں بیٹھا تھا چونک کر ادینہ کی طرف دیکھا ۔ سپاٹ چہرہ اور جھکیں نظریں لیے وہ اس کے دل و دماغ کو اور شرمندگی میں گاڑ گٸ ۔
خود پر میسم کی نظریں محسوس کرتے ہوۓ ادینہ نے بے رخی سے نظریں گھماٸیں ۔ ماہ رخ اب ادینہ کے لیے کرسی پیچھے کر رہی تھی ۔
اس کی بے رخی ناراضگی سب بجا تھی نظریں تو وہ اس سے ملانے کے قابل نہیں رہا تھا ۔ وہ اب بیٹھ چکی تھی ۔میسم ایک جھٹکے سے اپنی جگہ سے اٹھا ۔
” میسم بھاٸ کہاں جا رہے ہیں ناشتہ کریں “
ماہ رخ نے میسم کی شرمندگی دور کرنے کے لیے نارمل سے انداز میں کہا ۔
” میں آتا ہوں آپ لوگ کرو ناشتہ “
گھٹی سی آواز میں کہا ۔ اور لمبے لمبے ڈگ بھرتا باہر نکل گیا ۔ خیر پور تک کا سارا سفر گہری خاموشی میں کٹا ۔ دل دماغ کو لتاڑ رہا تھا اور وہ جس پر بے وجہ ظلم ڈھاتا رہا بے رخی سے چہرہ موڑے کھڑکی سے باہر دیکھتی رہی ۔
اتنا ازیت بھرا سفر کبھی زندگی میں نہ کیا تھا ۔ دل شرمندہ تھا نالاں تھا اور جو اپنی محبت پر غرور کرتا تھا آج خود پر تف بھیجنے کو دل کیا۔
********
احمد میاں کے کمرے سے اٹھ کر آۓ ہوۓ اسے گھنٹہ بھر ہو چلا تھا ۔ وہ لوگ مغرب کے بعد گھر پہنچے تھے ۔ اور اب رات کے گیارہ بج رہے تھے ادینہ کھانے کے بعد رابعہ کے کمرے میں چلی گٸ تھی اور وہ احمد میاں کے کمرے سے اٹھ کر اپنے کمرے میں آیا تھا ۔
دل نے دماغ کو عمر قید کی سزا سنا کر حکومت خود سنبھال لی تھی اور اب وہ ایک گھنٹے میں خود پر لعنت ملامت کرتا یہ فیصلہ کر چکا تھا کہ اپنی ساری زیاتیوں ساری باتوں کا ازالہ کرنا ہے ۔ پر ادینہ کمرے میں آ ہی نہیں رہی تھی ۔
کبھی جلے پیر کی بلی کی طرح کمرے میں چکر لگا رہا تھا تو کبھی بیٹھ کر ٹانگ ہلا رہا تھا۔ آ کیوں نہیں رہی ۔ اسی طرح ایک گھنٹہ اور بیت گیا تھک کر وہ کمرے سے باہر نکلا ابھی بھی سفر والے ہی کپڑے ٹی شرٹ اور جینز زیب تن کیے ہوۓ تھا حتی کہ جوگرز بھی نہیں اتارے تھے کچھ بھی کرنے کا دل ہی نہیں تھا دل و دماغ پر اگرسوار تھی تو ادینہ اور اس کی ناراضگی
سب لوگ اپنے اپنے کمروں میں گھس چکے تھے اور لاونج کی لاٸٹ بھی بند ہو چکی تھی ۔ کمرے سے باہر نکل کر کمر پر ہاتھ رکھے ارد گرد دیکھا ۔
رابعہ کے کمرے کا دروازہ بھی بند تھا ۔ جب وہ اپنے کمرے میں جارہا تھا تب اس کی نظر سامنے پڑی تھی اس وقت ادینہ رابعہ کی گود میں سر رکھے لیٹی ہوٸ تھی۔ اسی سوچ کے زیر اثر وہ رابعہ کے کمرے کی طرف بڑھ چکا تھا ۔
رابعہ کے کمرے کے دروازے کو دھیرے سے دھکیلتا وہ اندر داخل ہوا ۔
” امی ادینہ یہاں ہے ؟“
مدھم سی آواز میں پوچھا کمرے میں زیرو بلب کی ملگجی سی روشنی تھی اور اے سی کی ٹھنڈک نے کمرے کا ماحول پرسکون بنایا ہوا تھا ۔
ادینہ رابعہ کے بیڈ پر سر تک چادر اوڑھے سمٹی سی لیٹی تھی اور رابعہ ساتھ لیٹی تھیں میسم کی آواز پر وہ ہاتھ کے سہارے سے فوراً اوپر ہوٸیں ۔
” شششش سو گٸ ہے “
رابعہ نے ہونٹوں پر انگلی دھر کر میسم کو بولنے سے روکا اور ادینہ کی طرف اشارہ کیا ۔ میسم اب کمرے کے درمیان میں پہنچ کر بیڈ کے بلکل پاس ادینہ کے سر پر کھڑا تھا ۔ نازک سا سراپا چادر میں لیپٹا اس کے سارے منصوبوں کو منہ چڑا رہا تھا ۔
” تھکی ہوٸ تھی شاٸد بہت یہیں پر سو گٸ تو بھی سو جا جا کر میرے ساتھ سو جاۓ گی آج “
رابعہ نے خمار آلودہ آواز میں کہا وہ بھی شادی نیند میں جانے ہی والی تھیں جب وہ کمرے میں داخل ہوا ۔ میسم نے بے چارگی سے ادینہ کی طرف دیکھا ۔ جو بے خبر سو رہی تھی ۔
دل نے اچانک تخیل میں ادینہ کی کمر کے نیچے ہاتھ دھرے اور بازوٶں میں اٹھایا اور کمرے سے باہر نکل گیا ۔
” کوٸ بات نہیں آپ اٹھا دیں چلیں میں خود اٹھا دیتا ہوں “
میسم الجھے سے انداز میں کہتا تھوڑا سا نیچے جھکا ۔
” کیا ہو گیا ہے آنکھ لگی ہوٸ ہے پھر سے نیند آۓ نہ آۓ میڈیسن لے کر سوٸ ہے کہہ رہی تھی سر میں درد ہے بہت “
رابعہ نے میسم کو ڈپٹنے کے انداز میں کہا اور گھور کر دیکھا ۔
” ہمممم “
کمر ہر ہاتھ دھر کر سیدھا ہوا ۔اور پر سوچ انداز میں ادینہ کی طرف دیکھا ۔
” جاٶ اب “
رابعہ نے آواز کو آہستہ رکھتے ہوۓ غصے سے میسم کو گھورا ۔ جو کان کھجا کر رہ گیا ۔
” وہ میرے کپڑے نکال دیتی یہ “
بے ساختہ کوٸ ڈھنگ کا بہانہ بھی نہ گڑھ سکا ۔ رابعہ نے افسوس سے گھور کر دیکھا ۔
” وہ لاہور میں ساتھ تھی تمھارے کیا وہاں بھی تو خود ہی کرتے تھے نہ سارے کام “
رابعہ نے دانت پیسے میسم اپنا سا منہ لے کر رہ گیا ۔ مایوسی سے جانے کے لیے قدم بڑھاۓ ۔
” جاٶ اور دروازہ اچھے سے لگا جانا “
عقب سے رابعہ کی آواز آٸ ۔ مریل سے قدم اٹھاتا اپنے کمرے میں آیا ۔ شدت سے ان لمحوں کا احساس ہوا جب ادینہ اس کا انتظار کرتی تھی اور وہ جان بوجھ کر دو تین بجے کمرے میں آتا تھا ۔
بیڈ پر آ کر ڈھنے کے سے انداز میں لیٹا اور چھت کو گھورا ۔ دل بے چین تھا ۔ شرمندہ تھا۔
میسم تب نہیں تھی محبت ۔۔۔ادینہ کی گھٹی سی آواز کمرے میں گونجی
بس مسٹر میسم مراد اب میں اپنی اور اپنی محبت کی سچاٸ کی کوٸ صفاٸ نہیں دوں گی دماغ میں ادینہ کے مختلف فقروں کی بازگشت تھی اور آنکھوں کے آگے اس کا چہرہ۔
ادینہ کو سوچتے سوچتے کب آنکھ لگی پتہ ہی نہ چلا ۔
***********
فون کی بل مسلسل بجنے پر آنکھ کھلی تھی ۔وہ رات جوگرز اتارے جینز کی پینٹ میں ہی ترچھے رخ بیڈ پر لیٹا تھا اور اب بھی ہنوز اسی انداز میں تھا۔
بوجھل سی آنکھوں کو بمشکل کھولا اور پینٹ کی جیب سے موباٸل نکالا ۔ فہد کا نام جگمگا رہا تھا۔ فون کو آن کیے کان سے لگایا ۔
” ہیلو “
بھاری سی نیند کی خمار میں بھری آواز سے کہا اور بمشکل ہاتھ کا سہارا لے کر اٹھا ۔ جسم درد کر رہا تھا ۔
” عجیب یار ہے تو بھٸ “
دوسری طرف سے فہد کی ناراض سی آواز ابھری ۔
” کیوں کیا ہوا رو کیوں رہا ہے“
میسم نے اٹھ کر ٹانگوں کو سمیٹا ۔
” کل سے آیا ہوا ہے شام کو میرا نکاح ہے ابھی تک ملنے نہیں آیا مجھ سے “
فہد نے خفگی بھرے لہجے میں شکوہ کیا ۔
” کیوں تو نے رخصت ہو کر آٶٹ آف کنٹری جانا ہے “
میسم نے گردن کو داٸیں باٸیں جھٹکے دیے جس سے رگوں کے چٹخنے کی آواز ابھری ۔
” وقت دیکھ بیغیرت انسان بازار جانا تیرے ساتھ کچھ بھی نہیں لیا سوچا تھا تمھارے ساتھ جاٶں گا“
فہد نے اس کے طنز پر غصے سے کہا ۔ میسم نے ایک ہاتھ سے انگڑاٸ لیتے ہوۓ سامنے لگے کلاک پر وقت دیکھا گیارہ تیس بج رہے تھے ۔
” اوۓ نا کر یار تجھے پتا نہ پینٹ آلٹر کروا کر چھوٹی کروانی ہوتی تجھے بیوقوف “
میسم نے مزاق اڑانے کے انداز میں کہا اور قہقہ لگایا ۔
” بکواس نہ کر وہ میں لے چکا ہوں اس کے ساتھ ٹاٸ اور شوز لینے ہیں “
فہد نے غصے سے کہا ۔ میسم اب قہقہ لگا رہا تھا ۔
” اچھا آتا ہوں ناشتہ کر لوں “
فہد کو ناشتے کا کہہ کر فون بند کیا اور واش روم کا رخ کیا ۔ فریش ہو کر باہر آیا تو ٹی وی چل رہا تھا اور ادینہ عزرا اور اریبہ سے باتیں کرتی ہوٸ ہنس رہی تھی جیسے ہی میسم پر نظر پڑی ہنسی ایک دم سے غاٸب ہوٸ ۔
شاکنگ پنک رنگ کے جوڑے میں ہلکا سا میک اپ کیے وہ خوبصورتی کی انتہا کو چھو رہی تھی ۔ میسم گہری نظروں سے دیکھتا اب بلکل سامنے آ گیا تھا ۔
” ادینہ ناشتہ بنا دو “
میٹھے سے لہجے میں ادینہ کے سر پر کھڑے ہو کر کہا۔ ادینہ نے سپاٹ چہرہ بنایا جبکہ عزرا نے ادینہ کے بازو کو ہلا کر اٹھنے کا کہا ۔ ادینہ ہنوز اسی انداز میں کھڑی ہوٸ ۔ میسم اب عزرا کے برابر بیٹھ چکا تھا ۔
” پراٹھا کھانا ہے یا ٹوسٹ “
ادینہ نے سرد سے لہجے میں ایسے پوچھا جیسے کہہ رہی ہو زہر کھانا ہے یا گولی میسم نے مسکرا کر دیکھا ۔
” پراٹھا “
محبت سے کہا جبکہ دوسری طرف ادینہ کے چہرے پر ناگواری در آٸ تھی ۔
” ممانی پھر پراٹھا آپ بنا دیں مجھ سے سہی نہیں بنے گا “
ادینہ نے التجاٸ انداز میں رابعہ کی طرف دیکھا۔ رابعہ نے مسکراتے ہوۓ اثبات میں سر ہلایا اور اٹھی ہی تھی جب میسم نے پہلو بدلتے ہوۓ کہا ۔
” رکیں رکیں امی میں ٹوسٹ کھا لوں “
ادینہ نے گھور کر دیکھا ۔ اور کچن کی طرف بڑھ گٸ ۔ کچن میں ابھی وہ آملیٹ ہی پھینٹ رہی تھی جب میسم کچن میں داخل ہوا ۔ ادینہ نے لاپرواہی سے آگے ہو کر چولہے کے نیچے آگ جلاٸ ۔ جبکہ وہ اب پریشان سی صورت بناۓ اب بلکل سامنے شیلف سے کمر ٹکاۓ کھڑا تھا ۔
ادینہ کے ماتھے پر بل نمودار ہوۓ ۔میسم کی نظروں سے الجھن ہوٸ رہی تھی ۔ فراٸ پین میں آٸل ڈال کر وہ پھر سے انڈا پھینٹ رہی تھی ۔ بالوں کی لٹ اب چہرے پر آ رہی تھی ۔
میسم نے ہاتھ بڑھا کر لٹ کو ادینہ کے کان کے پیچھے آڑیا ۔
Bht Bz hoo sorry

 

ادینہ نے ایک جھٹکے سے اپنے چہرے کے قریب آۓ ہوۓ میسم کے ہاتھ کو پیچھے کیا اور آنکھوں کو سکوڑے سپاٹ چہرے کے ساتھ دیکھا ۔ میسم نے دنیا جہان کی معصومیت چہرے پر طاری کی ۔ جو اس وقت ادینہ کے دل پر ذرہ برابر بھی اثر نہ کر سکی ۔
” فیس پر آ رہے تھے بال “
آہستہ سی آواز میں کہا ۔ ادینہ نے بے رخی سے چہرہ موڑا اور باٶل میں پھینٹے گۓ املیٹ کو فراٸ پین میں انڈیلا ۔ ملکیت ہوں نہ نواب کی جب چاہ دھتکار دیا جب چاہا چاہتیں لٹانے آ گۓ ۔ ادینہ نے دانتوں کو بے دردی سے ایک دوسرے کے ساتھ پیوست کیا ۔
” میرے ہاتھ ہیں ٹوٹے ہوۓ نہیں ہیں خود کر سکتی ہوں میں “
ادینہ نے کھردرے سے تلخ لہجے میں کہا ۔ پر میسم پر نظر ڈالنا گوارا نہیں کیا ۔میسم نے دھیرے سے اثبات میں سر ہلایا ۔ میسم مراد غلطی اتنی چھوٹی نہیں ہے بہت رولایا ہے اپنی محبت کو انجانے میں دل نے دماغ کو سناٸ ۔جس پر دماغ خود کو خطا کار مان کر سر جھکا گیا اب وہ کبھی اس کے ہاتھوں کی طرف اور کبھی اس کے چہرے کی طرف دیکھ رہا تھا۔ امیلٹ بنا کر پلیٹ میں رکھنے کے بعداس نے ٹوسٹر کی بل کی آواز پر ٹوسٹ باہر نکالے۔ اور پلیٹ میں رکھے ۔ ہلکے سے بھورے رنگ کے ٹوسٹ کو ترتیب سے پلیٹ میں رکھ کر اب وہ املیٹ پلیٹ میں نکال رہی تھی ۔ سفید نازک سے ہاتھ جن کی انگلیوں کی پوریں گلابی تھیں ہلکے سے بڑھے شفاف ناخن خوبصورت تراش لیے ہوۓ تھے ۔ بے ساختہ دل نے ان نازک اندام گداز ہاتھوں کو چھونے کی خواہش کر ڈالی ۔
” اپنے لیے نہیں گرم کیے ٹوسٹ “
میسم نے ایک نظر ٹوسٹوں کی تعداد پر ڈال کر گہری نظروں سے ادینہ کی طرف دیکھا اس نے صرف چار ٹوسٹ گرم کیے تھے ۔
” میں کر چکی ہوں ناشتہ “
لہجہ بے انتہا سختی اور بے مروتی لیے ہوۓ تھا ۔ اور اس دوران اس نے ایک دفعہ بھی میسم کی طرف نہیں دیکھا ۔ ادینہ کی اتنی بے رخی برداشت سے باہر تھی اب احساس ہو رہا تھا کہ اس کی بے رخی ادینہ کے نازک سے دل پر کتنا اثر کرتی ہو گی ۔ دل آج اس کی ہر تکلیف محسوس کر رہا تھا بے اختیار سا ہو کر آگے بڑھا اور اس کا ہاتھ تھاما جس پر گھنی پلکوں کی جھالر اٹھاۓ اب وہ پر شکوہ نگاہوں سے میسم کو کھا جانے کا انداز لیے گھور رہی تھی ۔
” میرے بنا کر لیا آج ناشتہ “
میسم نے بلکل سیدھا ہو کر ادینہ کے سر کے ساتھ اپنا سر جوڑا ۔ ادینہ نے فوراً کمر شلف کے ساتھ ٹکا کر خود کو گرنے سے روکا چہرے کے رخ کو ناگواری سے موڑا ۔
”میسم ہاتھ چھوڑیں میرا “
لہجے میں بیتے دنوں کی اذیتوں کی تلخی صاف واضح تھی ۔پر ہاتھ کی گرفت اور قربت دونوں اس کے بس سے باہر تھیں ۔ آج جب میسم کے دل میں موجود سب شک و شبہات ختم ہوۓ تھے تو جزبات پر باندھے بندھ بھی ختم ہو رہے تھے۔
” سوری ادینہ “
کان کی لو کو جلاتی سرگوشی تھی جس پر دل میں درد کی ایک ٹیس اٹھی سوری کتنا آسان تھا یہ کہہ دینا اس شخص کے لیے ۔ ادینہ کے آنکھوں میں جلن ہوٸ ۔
” ہاتھ چھوڑ دیں میرا پلیز “
ادینہ نےایک ہاتھ سے دھکا دیا اور کلاٸ کو پوری قوت سے میسم کے ہاتھ سے چھڑوانے کے لیے مڑوڑا ۔ پر وہ تو معصوم روہانسی خطا کار سی صورت بناۓ اسے دیکھ رہا تھا ۔ بھاری سا وجود اس کے ہاتھ کے نازک دھکے سے تھوڑا سا دور ہوا۔
” پہلے معاف کرو “
دھکے کا اثر کچھ پل کے لیے ہوا تھا قربت پھر سے فاصلے ختم کیے ہوۓ تھی۔ آج میسم کی قربت دل میں بھرے غصے کی دیوار کو پار نہیں کر پا رہی تھی ۔ تزلیل اور ذلت کے احساس نے تین ہفتوں میں مل کر محبت کے سمندر کے آگے سیسہ پلاٸ دیوار بنا ڈالی تھی جو اس قربت سے دل کے تاروں کو بجنے نہیں دے رہی تھی ۔ ماربل کے کنارے لیے ہوٸ کچن شیلف کمر میں چبھنے لگی تھی ۔ ادینہ نے بمشکل نظر گھماٸ تو فراٸ پین میں پڑا چمچ نظر آیا ۔
” پٕچھے ہٹیں اور ہاتھ چھوڑیں ورنہ یہ گرم چمچ لگا دوں گی “
ادینہ نے پاس پڑے چمچ کو دوسرے ہاتھ سے اٹھایا اور دانت پیستے ہوۓ میسم کے ہاتھ کی طرف اشارہ کیا جو کلاٸ کو ابھی تک تھامے ہوۓ تھا۔
” اتنا پیار کرتی ہو تو کیا اتنا ظلم کرو پاٶ گی ؟“
ادینہ کی غصے سے بھری آنکھوں میں جھانکتے ہوۓ مسکراہٹ دباٸ پر یہ مسکراہٹ ابھی غصے کے غبار کو ختم کرنے کے لیے ناکافی تھی میسم کی نظروں میں التجا تھی وہی پھولوں میں بھری چھت پر کھڑے میسم جیسی آنکھیں تھیں پر آج دل تزلیل کے دھویں سے بھرا تھا صرف ۔
” یہ ظلم ابھی کم ہے “
آہستہ سی آواز میں کہا اور گرم چمچ میسم کے ہاتھ پر دھر دیا جس پر فوراً ھاتھ کی گرفت ختم ہوٸ ۔ میسم کے ماتھے پر جلن کی وجہ سے شکن نمودار ہوۓ ۔ بھاری وجود کا وزن ختم ہوتے ہی شیلف کی چبھن کم ہوٸ
” اففففف“
وہ ناگواری سے میسم کے سینے پر ہاتھ رکھتی اسے دور کرتی کچن سے باہر جا چکی تھی اور وہ ہاتھ کی جلن کی پرواہ کیے بنا بس مجسم بنا کھڑا تھا ۔ کیسے ازالہ کروں ساری ذلتوں کو نازک وجود کا لمس میٹھے سے ارتھ کی طرح دل میں رقص کرنے لگا ۔
**********
” کیا ہے یار میرا نکاح ہے رات کو “
فہد نے برا سا منہ بنا کر میسم کی طرف دیکھا جو ہونٹوں پر انگلی دھرے کب سے نیچے رکھی دو انگوٹھیوں پر نظر جماۓ بیٹھا تھا دونوں ڈاٸمنڈ رنگ تھیں ایک میں صرف ایک ہیرا لگا تھا جو تھوڑا اوپر کو ابھرا ہوا تھا اور دوسرے میں پھول کی شکل میں پانچ ہیرے جڑے تھے ۔
اب محترم سے فیصلہ کرنا مشکل ہو رہا تھا کہ ان کی زوجہ محترمہ کے نازک اندام گداز مخملی ہاتھوں میں کونسی انگوٹھی زیادہ جچے گی ۔ فہد اس کے ساتھ بے زار سی صورت بناۓ بیٹھا تھا یہ غالباً چوتھی جولیر شاپ تھی جہاں وہ لوگ بیٹھے تھے۔ میسم ایک بجے اس کی طرف آیا تھا اور اب تب سے وہ فہد کو ساتھ لیے پہلے ادینہ کی منہ دکھاٸ کے لیے ڈاٸمنڈ رنگ ڈھونڈ رہا تھا جو جناب کے ناک کے نیچے نہیں آ رہی تھی ۔
“ اور میری بھی سپیشل رات ہے چپ کر جا “
میسم نے فہد کی طرف بنا دیکھے ڈپٹنے کے انداز میں کہا ۔جس پر فہد نے بےزار صورت بنا کر اس کی طرف گھور کر دیکھا ۔
” یار کیسی رنگ چاہیے تجھے اُس کے لیے “
کچھ دیر اور انتظار کرنے کے بعد بھی جب میسم کو اسی حالت میں بیٹھے دیکھا تو تھک کر پھر سے گھڑی کی طرف دیکھا جو اب چار بجا رہی تھی۔ میسم نے کہنی کے بل ہاتھ کو فولڈ کرکے اپنے سر کے نیچےرکھا اور غیر مرٸ نقطے کو گھورتے ہوۓ کھوۓ سے انداز میں کہا ۔
” نازک سی اُس کے ہاتھوں جیسی “
صبح میں محسوس کیا ہوا اس کے ہاتھوں کا لمس یاد آ یا جو روٸ کے گالے جیسا محسوس ہوا تھا ۔ فہد نے رونے جیسی شکل بناٸ ۔
” وہاں سے جو لی تھی بہت خوبصورت تھی یار “
میسم نے افسوس سے بالوں میں ہاتھ پھیرا ۔ اس رنگ کو وہ اسی رات واپس بیچ آیا تھا اور فہد ناک چڑھاۓ بیٹھا تھا ۔
” تو عقل کے ناخن لیتا نہ “
فہد نے ناگواری اور بے زاری سے کہا ۔ میرے سپیشل دن پر بھی بیغیرت کو اپنی بی لیٹیڈ سہاگ رات کی پڑی ہے فہد نے خفگی سے منہ پھلایا ۔
” کیا کرتا تو خود بتا جو نظر آ رہا تھا وہی سمجھنا تھا نہ سچ“
میسم نے ٹھنڈی آہ بھری اور ایک نظر ہاتھ کے اوپر سرخ نشان پر گٸ ۔ کم ہے یہ ظلم بھی ادینہ کی آواز گونجی تو لبوں پر مسکراہٹ بکھر گٸ ۔
” بھاٸ صاحب بات کر کے کلیر کرنے کا بھی ایک آپشن ہوتا ہے جو بھول گۓ تھے شاٸد آپ “
فہد نے دانت پیسے اور یہ بات بھول گیا کہ وہ خود بھی اس آپشن کا مشورہ اسے دیر سے ہی دے رہا ہے ۔
” ہاں یہ ضرور غلط کیا اگر پہلی دفعہ میں ہی پوچھ لیتا تو ایسا کچھ ہوتا ہی نہیں “
میسم نے کان کھجایا اور بچارگی سے کہا ۔ فہد نے منہ چڑایا ۔
” اچھا اب جلدی پسند کر لے ان میں سے “
فہد نے رونے جیسی شکل بناٸ بے چینی سے گھڑی کی طرف دیکھا۔ اور پھر کچھ دور پڑی ایک ڈاٸمنڈ رنگ اٹھا کر میسم کے سامنے کی جس پر ایک دل کے نشان میں ہیرا جڑا تھا ۔
” یہ کیسی ہے “
انداز چہکنے والا تھا اپنی طرف سے اس نے ایک ایسی رنگ اٹھاٸ تھی جو شاٸد میسم کی نظروں سے اوجھل رہی تھی ۔
” اوں ہوں “
میسم نے برا سا منہ بنا کر رنگ کو ایک طرف کیا ۔
” ڈھکن اپنی چواٸس چیک کر سہی عزرا پھپھو تجھے پینڈو کہتی ہیں “
میسم نے ناک چڑھا کر انگوٹھی ایک طرف کی ۔ فہد برا سا منہ بنا کر رہ گیا ۔ میسم پھر سے فیصلہ کرنے میں جتا تھا ۔
” او بھاٸ میرے انگلینڈ والی نہیں ملنی یہاں پر کیا ایک گھنٹے سے آنکھیں پھاڑے بیٹھا ہے “
فہد نے ماتھے پر شکن ڈالے اس کا صبر کا پیمانہ اب لبریز ہوا جا رہا تھا ۔
” اگر رات کو نکاح پر وقت پر نہ پہنچا تو تیرے گھر والوں نے سمجھنا ہے یہ بھی نکلا دوست جیسا ہی بھاگ گیا نکاح چھوڑ کر “
فہد نے خفگی بھرے لہجے میں کہا اور سر کا ہوا میں مارا ۔ میسم نے گھور کر اس کی طرف دیکھا ۔
” میرے نکاح والے دن کی اپنی بیغیرتیاں یاد ہیں گن گن کر چن چن کر بدلے لوں گا “
میسم نے منہ پر ہاتھ پھر کر آبرٶ چڑھاۓ ۔ اور فہد کی آنکھیں اور پھیل گٸیں ۔
” یہ کر دیں “
میسم نے پانچ نازک سے ہیروں والی انگوٹھی اٹھا کر جولیر کی طرف بڑھاٸ۔ فہد نے ہاتھ دعا کے انداز میں اوپر اٹھاۓ ۔
” شکر ہے “
اور ہاتھوں کو منہ پر پھیرا ۔ میسم نے قہقہ لگایا اور ایک چپت اس کی گردن پر دھری ۔
*******
میسم نے شرٹ کا آخری بٹن لگا کر ٹاٸ کو میز پر سے اٹھایا اچانک ہاتھ پرسوچ انداز میں رکے ۔ وہ جب گھر واپس آیا تھا تو ادینہ شاٸد اریبہ کے ساتھ پارلر گٸ ہوٸ تھی ابھی اس کے قہقے کی آواز پر اس کے آنے کی خبر ملی وہ باہر لاونج میں کسی کی بات پر ہنس رہی تھی ۔ دل بے ساختہ اسے دیکھنے کو مچلنے لگا ۔ دل کی اس جاٸز خواہش پر اس نے مسکراتے ہوۓ ٹاٸ کو پینٹ کی جیب میں رکھا اور باہر نکلا تو لڑ کھڑا سا گیا وہ دل سخن سامنے گہرے جامنی رنگ کے اتلس کے کلیوں والے فراک کو زیب تن کیے کانوں میں بڑے سے جھمکے پہنے قتل کر دینے کی حد تک حسین لگ رہی تھی ۔ بالوں کو جوڑے کی شکل دے رکھی تھی سلیقے سے کیا ہوا میک اپ چہرے کو بے حد حسین بنا رہا تھا ۔
میسم پر نظر پڑتے ہی قہقہ کہیں غاٸب ہوا اور چہرہ پھر سے سپاٹ ہوا ۔ پر شکوہ نگاہ ڈال کر گردن کو خم دیا ۔ میسم نے ارد گرد نظر دوڑاٸ اور عزرا کو سامنے دیکھتے ہی مسکراہٹ دباٸ ۔
” ادینہ میری گرے ٹاٸ نہیں مل رہی دیکھ کے دینا ذرا “
تھوڑی سی اونچی آواز میں کہا اور ادینہ کے خفا سے چہرے کی طرف دیکھا۔ جس پر اب غصے کے آثار نظر آ رہے تھے ۔
” مجھے کیا پتہ کہاں ہو گی “
ادینہ نے دانت پیسے میسم کی آنکھوں میں بھری شرارت صاف نظر آ رہی تھی ۔ شروع ہیں جناب اب محبتیں لٹانے کے مشن پر کیا سمجھتا ہے خود کو جب چاہے گا میں اسیر ہو جاٶں گی اس کی ۔ ادینہ نے دل کو سرزنش کیا جو اسے نیلی شرٹ اور ڈریس پینٹ میں دیکھ کر ڈھیر ہو رہا تھا ۔
” کیا مطلب کیا پتہ جا کر دیکھ دو اس کو “
عزرا نے ڈپٹنے کے انداز میں ادینہ کی طرف دیکھا ادینہ نے بے چارہ سا منہ بنا کر عزرا کی طرف دیکھا جس پر عزرا نے آنکھیں نکالیں ۔
” جی “
مصنوعی احترام چہرے پر سجا کر وہ کمرے کی طرف چل دی کمرے میں جا کر وہ الماری کی طرف بڑھی ہی تھی جب پیچھے سے دروازہ بند ہونے کی آواز پر مڑی جناب جیب سے ٹاٸ نکال کر ایک طرف رکھ رہے تھے لبوں پر شیریر مسکراہٹ تھی ۔
ادینہ نے ناک پھلا کر پیشانی پر بل ڈالے اور کمرے کے دروازے کی طرف قدم بڑھاۓ جب میسم کے بازو نے یک لخت آگے آتے ہوۓ راستہ روکا اور ہاتھ پھر صبح کی طرح مضبوط ہاتھ کی گرفت میں تھا۔
” جانے دیں “
ادینہ نے پوری قوت سے بازو کو جھٹکا دیا ۔ دانت پیسے اور نظریں دوسری طرف پھیریں ۔ کلون کی مہک پورے کمرے میں پھیلی ہوٸ تھی ۔ اور اب اس کے وجود میں اتر رہی تھی ۔
” اچھا سنو سنو تو “
بازو کو بس ایک جھٹکا ہی تو لگا تھا اور سارا فاصلہ ختم تھا مضبوط بازو کمر کے گرد حاٸل تھے دل کے دھڑکنے کی رفتار دونوں طرف ہی بڑھ چکی تھی ۔ شادی کی بعد یہ پہلی بے باک قربت تھی ۔
” نہیں سننا مجھے کچھ “
ادینہ نے کسمسا کر آزادی چاہی ۔ پلکیں چہرے پر لرز رہی تھیں پر لہجے میں سختی تھی ۔ میسم نے مسکراہٹ دباٸ اور چہرے کو بغور دیکھا ہر نقش دل میں اتر رہا تھا ۔
” اچھا پلیز ایک منٹ“
سرگوشی میں التجا تھی لمس میں پیار ۔ ادینہ نے ناگواری سے چہرے کا رخ موڑا ۔ گرفت سے آزاد ہونے کی کوشش مسلسل جاری تھی جسے مسلسل ناکام بنایا جا رہا تھا ۔
” بات سنو ادینہ پلیز “
محبت بھرے لہجے میں التجا کی ادینہ نے کوشش روکی اور آنکھوں میں جھانکا ۔ اس کا میسم لوٹ چکا تھا وہی بے پناہ محبت لیے ۔ پر دل میں کتنے ہی شکوے تھے دکھ تھا ذلت تھی اس کی سوچ پر افسوس تھا ۔
” نا سننا آپ سے ہی سیکھا ہے میں نے “
لہجہ سخت تھا تو چہرہ سپاٹ ۔ میسم کی مسکراہٹ پھیکی پڑی سہی ہی تو کہہ رہی تھی جتنی تکلیف دی تھی اسے اس کا یہ رویہ بجا تھا ۔ ٹھنڈی آہ بھری ۔ نظر اس کے کان میں لٹکتے جھمکے پر رکی ۔
” ہمممم جانتا ہوں جانتا ہوں “
جھمکے کو دھیرے سے ایک بازو اٹھا کر انگلی کی پور سے ہلایا اففف ریڑھ کی ہڈی میں کرنٹ دوڑا ادینہ نے بے ترتیب دھڑکنوں کو سنبھالہ دل کو لتاڑا اور نخوت سے ناک چڑھاٸ اور آزادی کے لیے پھر سے قوت لگانی شروع کی ۔
” پھر چھوڑیں مجھے “
ادینہ نے زور سے میسم کے ہاتھ کو پکڑ کر الگ کرنا چاہا ہاتھ شاٸد وہی تھا بے ساختہ میسم کے منہ سے آہ نکلی ۔ ادینہ نے تڑپ کر ہاتھ اٹھایا جلے کے نشان اب تھوڑا کالا ہو رہا تھا ۔
”اس پر لگاٸیں کچھ “
خفگی اور بے رخی سے کہا دل میں اس کے زخم کو دیکھ کر تکلیف ہوٸ اور خود پر غصہ آیا کیا ضرورت تھی اتنا درد دینے کی ۔
” نہیں ایسے ہی رہنے دو سزا ہے یہ سزا پرمرہم کیسا “
میسم نے پھر سے فاصلا ختم کیا ۔ ادینہ جو لمحے بھر کے لیے نرم پڑی تھی سزا کے لفظ پر پھر سے ماتھے پر شکن ابھرے ۔
” اوکے فاٸن “
زور سے ہاتھ پر پھر سے ہاتھ رکھ کر دبایا اب کی بار تو میسم تڑپ گیا فوراً گرفت ڈھیلی ہوٸ ادینہ بازو کے داٸرے سے نکلتی بھاگ کر دروازے کی طرف لپکی۔ اسے ایسے ہی تڑپتا چھوڑ کر وہ باہر نکل گٸ ۔
ہاتھ پر ایک نظر پڑی تو ادینہ کا ناخن شاٸد جلے کی جگہ پر ہی پیوست ہوا تھا جس کی وجہ سے نرم سی ہوٸ جلد ایک جگہ سے ہٹ کر اب نیچے سے خون واضح ہو رہا تھا اب تو جلے کی تکلیف اور بڑھ گٸ تھی ۔
ڈریسنگ میز سے ٹاٸ اٹھا کر لگاٸ اور باہر آ گیا ۔لاونج میں صوفے لگا کر سامنے میز رکھی گٸ تھی فہد آ چکا تھا اور اب نکھرا نکھرا سا سامنے صوفے پر بیٹھا متلاشی نظروں سے میسم کو ہی کھوج رہا تھا ۔ میسم جا کر اس کے بغل میں بیٹھا ۔ ٹاٸ کو درست کیا اور ایک نظر فہد پر ڈالی ۔ فہد نے بھنویں اچکاٸیں ۔ میسم نے سوالیہ انداز سے ایسے دیکھا ۔ جیسے پوچھا ہو کیا تکلیف ہے
” کیسا لگ رہا ہوں ؟ “
فہد نے اس کے ناسمجھنے پر تھوڑا سا قریب ہو کر پوچھا ۔ میسم نے ایک نظر اسے سر سے پاٶں تک دیکھا اور گہری سانس لی ۔
” ایک دم بکواس“
سنجیدہ سے لہجے میں کہا جس پر فہد کی آنکھیں اپنے حجم سے چھوٹی ہوٸیں وہ پہلو بدل کر رہ گیا۔
” کمینے بس کر دے اب بدلے لینے “
فہد نے کان کے قریب سرگوشی جس پر میسم نے بھنویں چڑھا کر شیطانی انداز میں ایسے دیکھا جیسے کہہ رہا ہو دیکھتا جا بچو ۔ فہد کے موباٸل پر پیغام کی رنگ بجی وہ اب موباٸل دیکھ رہا تھا ۔
” تمھاری رخصتی کیوں فوراً کر دی تھی تمھارے دادا ابو نے “
فہد نے کان میں پھر سے سرگوشی کی شاٸد اریبہ نے فون پر اپنی تصویر بھیج دی تھی جس کی وجہ سے جناب رخصتی کے لیے بے تاب ہو چلے تھے ۔
” بےاعتباری ہو گٸ تھی نکاح چھوڑ کر بھاگ گیا تھا پہلی دفعہ تو بھی بھاگ جا آج “
میسم نے اسی کے انداز میں قریب ہو کر سرگوشی کی فہد ایک دم سے سٹپٹا کر سیدھا ہوا۔
” اوہ “
سر کو زور زور سے نفی میں ہلایا جس پر میسم نے مصنوعی مسکراہٹ سجا کر اس کی طرف دیکھا اور پھر ارد گرد نظر دوڑا کر ادینہ کو تلاش کیا کہاں ہیں اب اچٹتی سی نظر پورے لاونج میں ڈالی اور اچانک ایک جگہ تھمی جہاں وہ عزرا سے بات کر رہی تھی ایک ہاتھ میں موباٸل پکڑا تھا میسم نے ٹھنڈی آہ بھری اور پھر فہد کی طرف دیکھا ۔
” سکون کر لے شادی کے بعد منتیں ہی ہیں “
میسم نے اس کے قریب ہو کر کہا اور موباٸل نکال کر ادینہ کو مسیج ٹاٸپ کیا ۔
” بیگم ایسے نہیں ماننا پھر “
مسیج سینڈ کرتے ہی ادینہ کی طرف دیکھا ادینہ نے فون کی سکرین پر دیکھا اور پھر بے ساختہ میسم پر نظر پڑی کوٸ جواب دینا مناسب نا سمجھتے ہوۓ موباٸل والے ہاتھ کو پھر سے نیچے کیا ۔ میسم نے گہری نظر ڈالی دلکش سراپا پوری طرح بے اعتناٸ برت رہا تھا جو اب جزبات کو گراں گزر رہا تھا اگلا پیغام لکھا۔
” ناراض ہی رہنا ہے میری سفید چوہیا نے “
میسج بھیج کر پھر سے ادینہ کی طرف دیکھا وہاں ہنوز وہی انداز تھا سپاٹ بے ضرر چہرہ کوٸ جواب نہیں میسم نے پھر سے پیغام لکھا ۔
” ٹھیک ہے مت بات کرو“
ساتھ غصے والی شکل بھیجی ۔ کوٸ جواب نہیں آیا اور نہ ہی ادینہ کے چہرے پر کوٸ ردعمل تھا ۔ میسم نے معصوم سی صورت بنا کر دیکھا اور پھر سے پیغام لکھا ۔
” نہ کرو بیگم میں ہی کرتا رہوں گا بات کوٸ بات نہیں “
پیغام کے ساتھ اداس سی شکل بنا کر بھیجی اور موباٸل پھر سے جیب میں رکھ لیا ۔ فہد نکاح پڑھ چکا تھا ۔ میسم نے مبارک باد دیتے ہوۓ گلے لگایا ۔ ادینہ نے گہری نظر چوڑی پشت پر ڈالی۔ اتنا آسان ہے کیا میسم مراد اتنی راتوں کا حساب چکتا کرنا ۔ گہری سانس لی ۔
تھوڑی ہی دیر میں ادینہ ہلکے سے مسٹرڈ گولڈن رنگ کے جوڑے میں دلہن بنی اریبہ کو لے کر آٸ جسے فہد کے ساتھ صوفے پر بیٹھا دیا ۔ سب لوگ اب تصاویر بنانے میں مصروف تھے ۔ ادینہ کو مسلسل خود پر نظریں محسوس ہو رہی تھیں ۔ کیا ہے ایسے دیکھتے رہیں گے تو ۔ ادینہ نے خود کو عزرا کے پیچھے چھپایا۔ موباٸل پر پھر سے ہیزبینڈ کے نام کا مسیج جگمگایا۔ پیغام کھولا ۔ اور دل تھم گیا
میری نگاہ شوق بھی کچھ کم نہیں مگر
پھر بھی ترا شباب ترا ہی شباب ہے
ادینہ نے جلدی سے سکرین آف کی اور دھڑکن کو کھینچ کر زینجیروں میں جکڑا ۔ کمبخت دل دماغ سے دغا کرنے پر تل بھی گیا تھا ۔
**********
وہ عزرا کی گود میں سر رکھے لیٹی تھی ۔ اریبہ پاس سنگہار میز کے سامنے بیٹھی زیور اتار رہی تھی ۔ اور ساتھ ساتھ عزرا کی اور اریبہ کی فہد کے گھر والوں کو لے کر نوک جھونک جاری تھی۔ رابعہ بس عزرا کو سمجھانے میں لگی تھیں وہ کمرے میں لگے صوفے پر بیٹھی تھیں وہ سب کو دیکھ کر مسکرا رہی تھی جب اس کے موباٸل پر پھر سے پیغام کی رنگ ٹون بجی فون اٹھایا ہیزبینڈ کا نام جگمگا رہا تھا ۔ مسیج کھولا ۔
” کیا ہے ؟ ادینہ کل میری امی آج تمھاری امی کیا ہے یار یہ سب “
ادینہ نے گہری سانس لی اور موباٸل بند کیا ۔ ابھی موباٸل رکھے کچھ دیر ہی ہوٸ تھی جناب اب کمرے میں آ کر رابعہ کے برابر صوفے پر بیٹھ چکے تھے ادینہ نے چہرے پر سنجیدگی طاری کی ۔ اگلا پیغام آیا ۔ ادینہ نے خفگی سے موباٸل کی سکرین کو آنکھوں کے سامنے کیا۔
” اٹھو ننید آ رہی تمہیں کمرے میں چلتے ہیں “
ادینہ نے سر کو عزرا کی گود میں گھسایا اور آنکھیں بند کیں ۔ میسم نے کرسی پر پہلو بدلہ باقی تینوں خواتین زور و شور سے آج کی تقریب پر باتیں کر رہی تھیں۔ میسم نے اگلا مسیج لکھا ۔
” ادینہ کل صرف سوچا تھا آج سچ میں اٹھا کر لے جاٶں گا کمرے میں “
ادینہ نے میسج پڑھا دل نے زینجروں سمیت ہی نیچے غوطہ لگایا اور پھر سے اپنی جگہ پر آیا ۔ جلدی سے پیغام لکھا ۔
” ہاتھ بھی لگا کر دکھاٸیں ذرا مجھے کاٹ لوں گی ہاتھ پر “
پیغام بھیج کر پھر سے لاپرواہی سے نظریں پھیریں ۔ میسم کے لبوں پر جاندار مسکراہٹ ابھری شکر ہے جواب دینے پر تو آٸ ۔ پھر سے مسیج لکھا ۔
” جو دل چاہے میری بیگم کا صبح جلانے پر افف نکلا تھا اب تو افف بھی نہ کریں گے “
ادینہ نے بمشکل بلش ہوتے گالوں کو چھپانے کے لیے رخ موڑا ۔ کیا ہے کیا ہے کیا ہے مجھے ؟ وہی اکڑو ہے جو پورے ایک سال سے تڑپا رہا دل کو سرزنش کیا ۔ پیغام کی بل ٹون پر پھر سے پیغام کھولا ۔
” ٹھیک ہے شرافت سے کام نہیں چلے گا تو پھر یوں ہی سہی “
ابھی ادینہ نے مسیج پڑھا ہی تھا جب عقب سے میسم کی آواز ابھری ۔
” بیگم میرا ٹرایوزر شرٹ نکال دو بھٸ نیند آ رہی ہے “
ادینہ نے زور سے آنکھیں بند کیں ۔ عزرا اب اس کا چہرہ دیکھ رہی تھی ۔
” ادینہ اٹھو ادینہ “
عزرا نے میسم کی بات پر کندھا ہلایا ۔ وہ ٹس سے مس نہ ہوٸ ۔
” سو گٸ ہے شاٸد پھپھو چلیں میں خود ہی “
میسم نے مصعومیت سے کہا اور گھٹنوں پر ہاتھ دھرے اٹھا ۔
” ارے بھٸ کیوں خود ہی اسے بھی تو تبدیل کرنے کپڑے ادینہ اٹھو اب جاٶ اپنے کمرے میں میسم انتظار کر رہا ہے “
وہ کمرے سے نکل رہا تھا جب عقب سے عزرا کی آواز سناٸ دی ۔ کمرے میں آ کر پینٹ کی جیبوں میں ہاتھ ڈالے کمرے کے کتنے چکر لگا ڈالے کپڑے تبدیل کیے پر وہ نہیں آٸ باہر نکل کر پھر سے عزرا کے کمرے میں جھانکا وہاں تو اب رابعہ بھی نہیں تھی ۔ تیز تیز قدم اٹھاتا رابعہ کے کمرے میں گیا وہاں حزیفہ اور رابعہ سو رہے تھے پھر احمد میاں کے کمرے میں گیا جہاں وہ سو رہے تھے ۔ او ر ایک طرف جواد اور مراد لیٹے تھے ۔کہاں جا سکتی ہے بھٸ ۔ اچانک خیال آتے ہی آنکھیں اوپر اٹھیں اور پھر سیڑھیاں پھلانگتا وہ اوپر تھا ۔
اندازہ درست تھا محترمہ اپنے کمرے میں تھیں ۔ ڈھیلے سے قمیض شلوار میں ملبوس بیڈ پر لیٹی تھیں ۔میسم دبے پاٶں اب بیڈ کے پاس کھڑا تھا ۔
” اچھا تو یہاں ہو “
میسم نے سینے پر ہاتھ باندھے اگست کے دن تھے گرمی اور حبس ابھی برقرار تھا ۔ اور اوپر زیادہ گھٹن تھی۔
” ادینہ اکیلی یہاں گرمی ہے چلو نیچے “
بیڈ پر اس کے پاس بیٹھ کر کہا جو اب اٹھ کر بیٹھ چکی تھی ۔
” نہیں اتنی بھی نہیں اب مجھے یہیں سونا ہے آپ جاٸیں نیچیں “
سخت لہجے میں کہا ۔ میسم نے کچھ دیر اس کی طرف دیکھا جو تکیہ درست کر رہی تھی ۔
” ٹھیک ہے میں بھی یہیں سو جاتا ہوں “
میسم نے تیزی سے کہا اور تکیہ دوسری طرف پھینکا ۔ ادینہ سٹپٹا گٸی اچھل کر بیڈ سے نیچے اتری ۔
” نہیں آپ نیچے جا کر سوٸیں اپنے کمرے میں “
ادینہ نے چہرے کا رخ موڑا ۔ اور سینے پر ہاتھ باندھے ۔ دل کی آواز کان پھاڑنے لگی تھی۔
” یہیں سونا ہے مجھے “
میسم نے تکیے پر زور سے سر مارا ۔ مسکراہٹ دباٸ ۔ ایک چور سی نگاہ اس پر ڈالی شرارت کی رگ بڑھکی
” ویسے یہاں ٹھیک ہے پاس آٶں گا زبردستی مناٶں گا تم مارو گی چیخو گی کوٸ سنے گا بھی نہیں گڈ ہے بھٸ “
میسم نے پرسکون لہجے میں کہا ادینہ نے چونک کر دیکھا اور تیزی سے داخلی دروازے کی طرف قدم بڑھاۓ ۔
” مم میں نیچے ہی جا رہی ہوں کمرے میں “

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: