Maqsoom Novel by Huma Waqas – Episode 19

0
مقسوم از ہما وقاص – قسط نمبر 19

–**–**–

ادینہ تقریباً بھاگتی ہوٸ نیچے اترنے والے زینے کی طرف بڑھی جب پیچھے سے میسم گہری ہوتی مسکراہٹ کے ساتھ اٹھا ۔ اب اور کوٸ چارہ نہیں تھا کمرے میں آتے ہی بیڈ پر پڑے کمبل کو سر تک تان کر لیٹ گٸ ۔ دل پوری رفتار سے دھڑک رہا تھا ۔ کمرے میں اے سی پہلے سے چل رہا تھا مین لاٸٹ آف ہونے کے بعد اب ایک چھوٹی لاٸٹ کی ملگجی سی روشنی پورے کمرے کو گھیرے ہوۓ تھی ۔ میسم کی آنکھیں میسم کی باتیں دماغ کو مفلوج کر رہی تھیں اور دل پورے وجود میں دھڑک رہا تھا جیسے
میسم کمرے میں آیا تو وہ لاٸٹ بند کیے گٹھڑی سی بنی بیڈ پر لیٹی تھی ۔ مسکراتا ہوا بیڈ کے قریب آیا کچھ دیر یونہی گہری ہوتی مسکراہٹ کے ساتھ کمبل میں خود کو چھپاۓ ادینہ کو دیکھنے کے بعد اچھل کر بیڈ پر لیٹا پر ادھر کوٸ ردعمل نہیں تھا ۔
افف ادینہ نے زور سے آنکھیں بند کیں ۔ کمبل سے کچھ نظر بھی نہیں آ رہا تھا ۔ کیا چھلانگیں لگا رہے ہیں بیڈ پر آنکھوں کو کمبل کے اندھیرے میں گھماتے ہوۓ سوچا ۔
میسم نے مسکراہٹ دبا کر کمبل کے ایک کونے کو پکڑ کر آہستہ سے اپنی طرف کھینچا ۔ کمبل سرک رہا تھا ادینہ نے غصے سے سر باہر نکالا آنکھوں میں خفگی تھی ۔ گھور کر دیکھا میسم شرارت سے بھری آنکھوں کے ساتھ لبوں کو ایک دوسرے کے ساتھ ملاۓ کہنی کے ایک بل بیڈ پر لیٹا تھا ۔ ادینہ کے سر باہر نکالتے ہی دھیرے سے آنکھ کا کونا دبایا ۔ اور یہی وہ لمحہ تھا جب ادینہ کو اپنی پہلی رات میں کی گٸ تمام شرارتیں یاد آٸیں اور میسم کی بے اعتناٸیاں دل جو دھڑک رہا تھا آہستہ آہستہ پھر سے رفتار میں کمی آٸ ۔ مجھے کیسے دھتکارتے رہے تھے اتنے سنگدل بنے تھے اور اب خود یہ سارے وار کر کے مجھے یقین دلا رہے ہیں کہ نواب کہیں پر غلط نہیں تھے بس انجانے میں ہوا سب ۔
” کیا ہے “
ادینہ نے سخت لہجے میں کہتے ہوۓ کمبل کو زور سے اپنی طرف کھینچا ۔ پر میسم کی مضبوط گرفت سے کمبل کھینچنا اتنا آسان نہیں تھا ۔ وہ اسی طرح گہری نظروں سے ادینہ کے چہرے کو دیکھنے میں مصروف تھا ۔
گھنے بال کندھوں پر بکھیرے ہوۓ تھے دھلا سا شفاف چہرہ کمرے کے ملگجے سے اندھیرے میں بھی دمک رہا تھا اس کا روپ ہوش و خرد سے مفلوج کر رہا تھا۔
” سردی لگ رہی ہے “
میسم نے معصوم سی صورت بنا کر خمار سے بھاری ہوتی ہوٸ آواز میں سرگوشی کی گہری نظریں اس کے چہرے پر گاڑے وہ کتنی آسانی سے اس سے معافی اور سب کچھ بھول جانے کا طلب گار بنا بیٹھا تھا ۔
” چادر ہے آپکی کمبل چھوڑیں میرا “
ناگواری سے کمبل کو زور سے کھینچا ۔ میسم نے مسکراہٹ دباٸ ۔ اور کمبل پر گرفت مضبوط کی اس کے چہرے کی سختی اس کی ناگواری سب کچھ گورا تھا آج ساری اذیتوں کا ہر تکلیف کا ازالہ کرنا تھا۔
” نہیں ہے “ میسم نے سرگوشی کے انداز میں کہا جس پر ادینہ نے ارد گرد نظریں گھماٸیں چادر واقعی نہیں تھی ۔ میسم کی آنکھوں میں دیکھنا محال ہو رہا تھا ۔
” تو میں کیا کروں پھر؟ “
ادینہ نے پھر سے کمبل کا کونا اپنی طرف کھینچا ۔ جس پر اب وہ تقریباً کمبل کے اوپر ہی آ چکا تھا ۔
” تو کچھ نہ کرو کس نے کہا تم کچھ کرو“ میسم نے گہری نظروں سے دیکھا ۔ ہاتھ اس کے بال سنوارنے کے غرض سے آگے بڑھایا جسے ادینہ نے ایک جھٹکے سے دور کیا ۔ ایک پل میں ہی آنکھیں دماغ کی ڈگر پر چل کر جلنے لگیں تھیں ۔
” پیچھے ہٹیں یہاں سے “
ادینہ نے آنسوٶں میں ڈوبی بھاری سی آواز میں کہا ۔ انگلینڈ کی رات کی ساری تلخ باتیں میسم کا رویہ سب یاد آنے لگا تھا ۔ میسم وہیں تھم گیا ۔ چہرہ ایک دم سے پریشان ہوا وہ اب رو رہی تھی ۔ آج اس کا ہر آنسو دل پر گر رہا تھا ۔ ادینہ کا ایسے رو دینا تڑپا گیا تھا خود پر غصہ آنے لگا تھا کہ کیوں اتنا غلط سوچتا رہا ۔
” اچھا اچھا رونا نہیں بلکل بھی میں جا رہا ہوں صوفے پر “
میسم نے مدھم سی آواز میں کہا اور تکیہ اٹھا کر صوفے کی طرف بڑھ گیا ادینہ نے زور سے تکیے پر سر مارا اور رخ موڑا ۔ آنسو اب تھمنے کا نام نہیں لے رہے تھے جناب نے اتنا رولایا تو کیا ایک لمحے کی دلجوٸ سے سب دھو دوں میں ۔ نہ کچھ پوچھا نہ بتایا بس مجھے معاف کردو مجھے معاف کر دو
میسم مراد اتنا آسان ہے کیا ۔ بے دردی سے گال رگڑ ڈالے ۔
***********
شازل نے سگریٹ کا کش لگا کر دھواں ہوا میں چھوڑا ۔ اور پھر دھویں کے بنتے چھلوں پر نظریں مرکوز کیں کیفے کی مدھم سی روشنی میں ہلکی سی موسیقی بج رہی تھی ۔ سامنے بیٹھا فواد موباٸل پر نظریں جماۓ سگریٹ پی رہا تھا ۔
جبکہ شازل طنز بھری مسکراہٹ لبوں پر سجا کر میز پر ہاتھ دھرتا تھوڑا سا آگے ہوا ۔
” تم نے توقیر کی باتیں سنی تھیں میسم سے شروع میسم پر ختم “
شازل نے طنزیہ انداز میں سر کو ہوا میں ناگواری سے مارا ۔ فواد نے موباٸل پر سے نظر اٹھا کر شازل کی طرف دیکھا ۔ ٹی ٹوینٹی ورلڈ کپ شروع ہونے والے تھا جس کے لیے آج وہ لوگ ایک ٹاک شو میں اکٹھے ہوۓ تھے جہاں توقیر نے میسم کی بے تحاشہ تعریف کی تھی ۔جو شازل کو ہضم نہیں ہو رہی تھی ۔
” توقیر کا ہی نہیں چیرمین کا پورے پاکستان کا چہیتا ہے جدھر بھی جاٶ میسم میسم ہو رہا کس کس کا منہ بند کرے گا “
فواد نے شازل کی حالت پر افسوس کرتےہوۓ کہا اور پھر سے موباٸل پر نظر جماٸ ۔
” سب کا سب کا منہ بند کروں گا “
شازل نے گہری سوچ میں ڈوب کر کہا اس کی آنکھیں سکڑی ہوٸ کسی غیر مرٸ نقطے پر جمی تھیں ۔
” کل میرا بیٹا مجھے کہتا بابا آپ اچھا نہیں کھیلتے ہیں میسم مراد جیسا کھیلا کریں۔ یقین جانو روح تک جل گٸ میری “
فواد نے مصروف انداز میں موباٸل سکرین کی طرف دیکھتے ہوۓ کہا اور قہقہ لگایا ۔ جبکہ شازل ہنوز اسی حالت میں بیٹھا تھا ۔
” اس کے آنے سے تیرا کچھ نہیں گیا یار میرا کیریر ٹھپ ہے “
شازل نے گہری نظروں سے فواد کی طرف دیکھا اور پھر کرسی کی پشت کے ساتھ سر ٹکا کر چھت کو گھورا ۔
” مجھے کوٸ شدید نفرت ہوتی ہے اس سے “
گھٹی سی آواز میں کہا ۔ فواد اس کی بات پر اب اس کی طرف دیکھنے پر مجبور ہو گیا تھا ۔
” ریلکیس کر ورلڈکپ آ رہا ہے نا ٹی ٹوینٹی اس میں کارکردگی دیکھاٸیں گے جم کے “
فواد نے تسلی دینے کے انداز میں کہا۔ میسم سے پچھلی سیریز سے اسے بھی بہت چڑ ہو گٸ تھی ۔ لیکن وہ شازل کی طرح جزباتی نہیں تھا ۔
” مجھے اپنی کارکردگی دکھانے سے زیادہ اس کی کارکردگی ختم کرنے میں انٹرسٹ ہے “
شازل نے ایک دم سیدھے ہو کر میز پر ہاتھ رکھا ۔ فواد نے سگریٹ کا دھواں ہوا میں چھوڑا ۔ اور ناسمجھی کے انداز میں شازل کی طرف دیکھا۔
” کیا مطلب وہ کیسے “
سر کو ہاتھ کی مٹھی پر رکھ کر کہنی کو میز پر ٹکایا ۔ شازل اب اپنی جیب سے کچھ نکال رہا تھا ۔
” وہ ایسے “ سفید رنگ کی گولیوں کا پتہ میز پر دھرا فواد نے حیرت میں ڈوبے انداز میں میڈیسن کو اٹھا کر آنکھوں کے سامنے کیا ۔
” یہ یہ “
نام پڑھتے ہی فواد کی آواز گھٹ سی گٸ تھی حیرت سے شازل کی طرف دیکھا۔ جو اب کمینی سی ہنسی ہنستا ہوا مسکرا رہا تھا ۔
” سب کے ہیرو کو سب کی نظروں میں زیرو کرنا ہے “
شازل نے آنکھ کا ایک کونا دبایا ۔ فواد ابھی بھی ساکن بیٹھا تھا۔
” ڈوب ٹیسٹ ماٸ بواۓ “
شازل کی سرگوشی نما آواز پر فواد نے حیرت سے پھر ہاتھ میں پکڑی میڈیسن کی طرف دیکھا ۔ جبکہ وہ اب پاگلوں کی طرح قہقے لگا رہا تھا ۔
***********
” میسم بھاٸ اس سے ملاقات کروا دیں بس ایک دفعہ “
حزیفہ نے ٹی وی پر سے نظر ہٹا کر میسم کی طرف دیکھا انداز التجاٸ تھا ۔ ٹی وی پر میسم اور ناز عالم ایڈوینچر کلون کے اشتہار میں نظر آ رہے تھے ۔ اور سامنے بیٹھے حزیفہ کے دل میں موجود حسرت اس کے زبان پر آٸ تھی ۔ ساتھ بیٹھے جواد احمد اور اریبہ نے حزیفہ کی بات پر قہقہ لگایا ۔
” پوچھنا پڑے گا اس سے دراصل صرف انسانوں سے ملتی ہے وہ “
میسم نے حزیفہ کی طرف دیکھ کر سنجیدہ سے انداز میں کہا جس پر سب کا قہقہ پھر سے گونجا تھا پر حزیفہ اپنی بے عزتی کے پرواہ نا کرتے ہوۓ اب اور پرجوش ہو چکا تھا ۔
” کیا بھٸ آپ کے ساتھ کام کیا اور آپ خود ہی تو بتا رہے تھے کہ آپکی فین نکلی یہ بھی مجھے ایک تصویر بنوانی اس کے ساتھ “
حزیفہ نے خفا سے انداز میں ریموٹ پکڑے ہاتھ کو ہوا میں مارتے ہوۓ میسم سے ضد کی میسم نے مسکراتے ہوۓ نظر سامنے اٹھاٸ تو تھم گٸ ادینہ بالوں کا جوڑا بناتی لاونج میں داخل ہو رہی تھی بازو اوپر اٹھا رکھے تھے رات کے ظلم کے بعد اب نظر آ رہی تھیں محترمہ جب آنکھ کھلی تو کمرے میں موجود نہیں تھیں ادینہ کی ٹی وی سکرین پر نظر پڑتے ہی پیشانی پر بل پڑے اشتہار کا اختتام چل رہا تھا اور ناز عالم اب میسم کے سامنے کھڑی آنکھوں میں آنکھیں ڈالے دیکھ رہی تھی ۔ میسم نے ایک نظر ادینہ کے چہرے پر در آنے والی ناگواری کی طرف دیکھا اور پھر تھوڑی سی آواز کو اونچا کرتے ہوۓ حزیفہ کے سوال کا جواب دیا ۔
” کوٸ ایسی ویسی فین ہے میری پورا دبٸ گھمایا اس نے مجھے “
میسم نے چور سی نظر ادینہ پر ڈالی جو اب سپاٹ چہرے کے ساتھ ٹی وی پر نظریں جماۓ ہوٸ تھی ۔ میسم کی مسکراہٹ گہری ہوٸ ۔ میسم کی بات پر پورے بدن میں آگ لگی تھی دل پر کوٸ ہتھوڑے چلانے لگا تھا ۔ کتنی قریب ہو گی اور اوپر سے یہ لگ بھی اتنے پیارے رہے ہیں ۔ ادینہ کا دل گھبراہٹ کا شکار ہوا ۔
” ادینہ آپی ناز عالم کا بتا رہے بھاٸ “
حزیفہ نے پرجوش ہو کر ادینہ کی طرف دیکھا ادینہ نے ناگوار سی شکل بناٸ ۔ ناز عالم حزیفہ کی پسندیدہ اداکارہ تھی اسی لیے وہ کچھ زیادہ ہی پرجوش تھا ۔
” کون وہ کالی سی بندریا قصور ڈرامہ والی “
ادینہ ناک چڑھا کر کہا اور اپنے موباٸل پر نظر جماٸ ۔ میسم نے شریر سی نظر اس کے سراپے پر ڈالی ۔ جو اب جلن کے مارے ناک پھلا کر موباٸل کی سکرین پر غصہ اتار رہی تھی ۔
” ادینہ اتنی تو خوبصورت ہے بھٸ “
اریبہ نے نمکو منہ میں رکھ کر حیرت سے ادینہ کی طرف دیکھا۔ ادینہ نے موباٸل پر نظریں جماۓ بھر پور لا پرواہی کا مظاہرہ کیا۔ ایسے جیسے سنا ہی نہ ہو ۔
” ایڈ آ گیا پھر سے ایڈ آ گیا چپ چپ سب “
حزیفہ نے اچھل کر سب کو چپ کروایا اور پھر سے مسواۓ ادینہ کے سارے پرشوق نظریں اب اشتہار پر جماۓ بیٹھے تھے ۔
” کیا لگ رہی ہے ناز عالم اور میسم تم واہ ہیرو لگ رہے ہو “
جواد احمد نے ہاتھ کو ہوا میں اٹھاتے ہوۓ داد دینے کے انداز میں کہا ۔ ادینہ نے جل کر پہلو بدلہ میسم نے ہنسی دباٸ اور آنکھیں اب مخصوص انداز میں چمکنے لگی تھیں ۔ جو بار بار ادینہ پر جا رہی تھیں کیسے سمجھاتا اس واٸٹ ماٸس کو جس تخت پر وہ براجمان ہے دل پر وہاں تا حیات اب کوٸ جگہ نہیں لے سکتی ۔
” اچھا مزے کی بات سنو سب “
میسم نے تالی بجا کر سب کو متوجہ کیا اور چور سی نظر ادینہ پر ڈالی جو منہ پھلاۓ ایسے بیٹھی تھی جیسے اس نے سنا ہی نہ ہو اسے مزید تنگ کرنے پر دل بار بار اکساتا تھا اور ناز عالم کے لیے جلن میں اس کا پیار ہی تو جھلک رہا تھا ۔
” جب یہ اُدھر دبٸ میں سٹوڈیو آٸ اور آ کر ویسے ہی گلے لگ گٸ میرے جیسے یہ شوبز کے لوگ ملتے آپس میں “
میسم نے سب کو بتایا جس پر سب اب ہنس رہے تھے جب کہ ادینہ کا چہرہ غصے سے لال ہوتا میسم کے دل کو سکون بخش رہا تھا ۔ موباٸل کو پینٹ کی جیب میں سے نکال کر پیغام لکھا۔
” جب میرے پاس آٸ ناز اور گال سے گال جوڑے مجھے تو ہوش نہ رہا قسم سے “
مسکراہٹ دباتے ہوۓ پیغام بھیج کر اب ادینہ کے چہرے کی طرف دیکھا جس پر ضبط کی لکیریں صاف واضح تھیں۔
” مجھے ایک بات نہیں سمجھ آتی لوگ آخر اس کے دیوانے ہیں کیوں بس قد ہی تو ہے نہ رنگ نہ شکل “
ادینہ نے نخوت سے ناک چڑھا کر کہا ۔ سب اب ادینہ کی طرف دیکھ رہے تھے میسم نے پھر سے پیغام لکھا ۔
” اس کی جان لیوا ادا بھول رہی ہو بیگم “
ادینہ نے پیغام پڑھ کر ناک پھلا کر سامنے دیکھا ۔ دل کو جیسے کسی نہ گھونسہ مارا ہو پتہ نہیں کیا کیا اداٸیں دکھاتی رہی ہو گی کمینی ان کو ۔ ذہن میں ناز عالم کا بے باک لباس گھوم گیا ۔
” ادینہ اب یہ بات تو تم غلط کہہ گٸ ہو خوبصورت ہے بہت “
اریبہ نے اس کی بات کی نفی کرتے ہوۓ کہا ۔ ادینہ نے جھٹکے سے اریبہ کی طرف گردن گھماٸ ۔
” کیا خوبصورت ہے مجھے تو نہیں لگتی “
ناک چڑھا کر منہ کا زاویہ بدلہ ۔ میسم نے بمشکل قہقہ روکا ۔ غصے سے لال ہوتی اس کے دل کو بے تاب کر رہی تھی وہ ۔
” ارے نہیں بھٸ رٸیل میں دیکھی ہے میں نے بہت کمال لگتی ہے اور اتنی فرینڈلی ہے کہ پوچھو مت “
میسم نے مسکراہٹ چھپا کر سنجیدگی سے سب کی طرف دیکھتے ہوۓ کہا ۔ مسواۓ ادینہ کے سب لوگ اب اشتیاق سے میسم کی طرف دیکھ رہے تھے ۔ میسم نے گود میں دھرے موباٸل پر پھر سے مسیج ٹاٸپ کیا ۔
” بہت پاس سے دیکھا ہے میں نے اسے دھکا بھی نہیں مارتی “
مسیج پڑھ کر ادینہ کا چہرہ ضبط سے زرد پڑا جھٹکے سے اپنی جگہ سے اٹھی اور بنا پیچھے دیکھے باہر نکل گٸ ۔ میسم نے بے اختیار امڈ آنے والے قہقے پر بمشکل قابو پایا اور سب پر نظر ڈالتا کان کھجاتا باہر آیا ۔ وہ کہیں بھی نہیں تھی کمرے میں آیا تو وہ روٹھے سے انداز میں بیڈ پر لیٹی موباٸل کی سکرین پر ناز عالم کی تصویر کو دیکھ رہی تھی ۔
کیا تھا اس ناز عالم ایسا ناز کی تصویر کو زوم کیے وہ خود سے موازنہ کر رہی تھی ۔
” کیا ہوا کمرے میں چلی آٸ “
میسم نے سکرین پر ایک نظر ڈال کر مسکراہٹ دباٸ ۔ ادینہ جو کھوٸ سی بیٹھی تھی میسم کی آمد کا پتا ہی نہ چلا جلدی سے موباٸل سکرین آف کی ۔
” کچھ نہیں سونا ہے مجھے “
ادینہ نے سر اوپر اٹھایا اور رخ موڑ کر تکیے پر سر کو زور سے مارا ۔ میسم کہنی کے بل قریب ہوا سفید گردن پر گہرے بھورے بال بکھرے تھے ۔ جن سے گداز سے سفید جلد جھلک رہی تھی گردن سے نظر پھسل کر اب کان پر پڑی تھی جس میں چھوٹے سے سنہری بندے جگمگا رہے تھے میسم نے اس کے کان کے قریب جھک کر سرگوشی کی۔
” آج جا رہا ہوں بیگم “
لب کان کے اتنے قریب تھے کے بمشکل کان کی لو کو چھونے سے بچے تھے ۔ گرم سرگوشی نے دل کی رفتار بڑھاٸ تھی ایک لمحے کو ادینہ نے سمٹ کر ٹانگوں کو موڑا ۔ دل کو قابو میں کیا اور دماغ کو حاضر کیا ۔
” تو جاٸیں روکا کس نے “
بے رخی سے سرد سے لہجے میں کہا ۔ میسم نے بے اختیار گردن پر بکھرے بال ہٹاۓ ۔
” تو اگر معافی مل جاتی اس خطا کار کو “
میسم نے التجاٸ انداز میں کہا ادینہ تنک کر اٹھ کر بیٹھی۔
” کیا معافی معافی رٹ لگا رکھی ہے آپ نے اتنے زخم دیے ہیں دل پر کیا وہ دو دن میں بھر جاٸیں بولیں “
ادینہ نے روہانسی شکل بنا کر دیکھا وہ جو ہوش کی دنیا سے باہر تھا ایک پل میں واپس آیا اور اب سنجیدہ سے انداز میں سیدھا ہوا ۔
” ادینہ مانتا ہوں بہت بہت غلط کرتا رہا پر سب انجانے میں ہوا تم شروع سے انکار کرتی رہی “
میسم نے شرمندگی میں ڈوبی آواز میں کہتے ہوۓ بچارگی سے دیکھا۔
” وہ ساری باتیں ایک طرف میسم اگر صرف وہی سب ہوتا تو وہ تو میں کب کا معاف کر چکی تھی کیونکہ اس میں میری غلطی شامل تھی “
ادینہ نے کی آنکھیں پھر سے نم ہونے لگی تھیں اور یہی میسم کی کمزوری تھیں اب ۔ وہ کیسے بھول جاتی اتنی جلدی وہ تزلیل بھرے الفاظ جو انگلینڈ میں میسم نے کہے تھے ۔
” لیکن آپ نے میرے بارے میں اتنا گھٹیا سوچا کیا آپ مجھے نہیں جانتے تھے ہم نے ایک ساتھ بچپن گزارا آپ کو کیا میں اتنی گھٹیا لگتی تھی کہ پیسے کی خاطر کسی کے بھی پیچھے لگ جاتی “
ادینہ کی آواز پھٹ رہی تھی۔ ہاں آج اس کا وقت تھا اور سامنے بیٹھا شخص آج نالاں تھا اپنے کیے پر
” ادینہ میں بہت شرمندہ ہوں “
گھٹی سی آواز میں کہا ۔ اور سر کو جھکایا یہ بات واقعی میں کیا وہ اتنی جلدی بھول جاتی یہ اس کی کردار کشی تھی ۔
” آپ کی شرمندگی میرے دل میں پھر سے وہ مقام نہیں لا سکتی آپکا “
ادینہ نے تلخ لہجے میں کہا اور ناگواری سے چہرے کا رخ موڑا ۔
” پھر میں کیا کروں بولو جو کہو گی وہ کروں گا بس اب رونا نہیں “
میسم نے جلدی سے آگے ہو کر التجاٸ انداز اپنایا ۔ اور اس کے گود میں دھرے ہاتھوں پر ہاتھ رکھا۔
” فلحال مجھے اکیلا چھوڑ دیں “
ادینہ نے سپاٹ لہجے میں کہا اور پھر سے رخ موڑے لیٹ گٸ ۔

 

میسم نے کچھ دیر یوں ہی اسے دیکھتے رہنے کے بعد داخلی دروازے کی طرف قدم بڑھاۓ ۔
میسم کے جانے کے بعد وہ دھیرے سے اٹھ کر بیٹھی تھی اور پھر گھٹنوں کو سمیٹ کر ان پر سر دھرا ۔ گردن پر ابھی انگلیوں کا لمس ٹھہر گیا تھا اور کان کی لو بھی گرم سانسوں کی تپش کو بار بار محسوس کر رہی تھی ۔ٹھیک کر رہی ہوں یا غلط دل میں ایک پھانس تھی ۔
پر دماغ تھا کا کسی بھی صورت معاف کرنے پر راضی نہیں ہو رہا تھا ۔ ہر بار وہی تزلیل بھری بازگشت ذہن میں گونجنے لگتی تھی ۔اور پھر میسم کوٸ بھی بات کیے بنا صبح چار بجے لاہور کی طرف روانہ ہو گیا تھا ۔ اسے ٹی ٹوینٹی ورلڈ کپ کے لیے کسی میٹنگ میں شرکت کرنی تھی اور ادینہ کو ماہ رخ کے ساتھ جانا تھا دو دن بعد۔
*******
” چلو بھٸ چلتے ہیں “
ماہ رخ نے پاس آکر کوٹ کو بازو پر ڈالا ۔ادینہ نے حیرت سے مسکراتے ہوۓ اُس کی طرف دیکھا ۔ وہ ڈیوٹی ختم ہونے کے بعد ہاسٹل کے لیے نکل رہی تھی جب ماہ رخ پاس آٸ اور اکٹھے چلنے کے لیے کہا۔ اس کی تو شاٸد آج ناٸٹ شفٹ تھی لیکن وہ اب اس کے پاس آ کر اسے چلنے کا کہہ رہی تھی ۔
” ارے واہ تم آج میرے ساتھ ہی فری ہو گٸ کیا ؟ “
ادینہ نے حیرت سے دیکھتے ہوۓ پاس پڑے بیگ کو کندھے پر لٹکایا ماہ رخ دھیرے سے مسکراٸ اور جواب دینے کے بجاۓ سر کو اثبات میں ہلایا ۔ وہ بھی اپنا بیگ اٹھا رہی تھی۔ انہیں لاہور واپس آۓ ہوۓ آج تیسرا دن تھا ۔
” جی بلکل “
ماہ رخ نے گہری سانس لیتے ہوۓ کہا اور بیگ کو کندھے پر ڈال کر سیدھی ہوٸ ۔ ادینہ نے ناسمجھی کے انداز میں کندھے اچکاۓ اور مسکرا دی ۔
” حیرانگی کی بات ہے ابھی کچھ دیر پہلے تو آٸ تھی تم “
ادینہ نے ساتھ چلتے ہوۓ حیرت سے پوچھا ۔ جس پر وہ بس مسکرا کر رہ گٸ وہ لوگ ابھی ہاسپٹل کے گیٹ پر ہی پہنچی تھیں جہاں موجود بہت سی گاڑیوں میں سے اچانک بلکل پاس آ کر سیاہ کرولا رکی اور اس میں سے میسم دروازہ کھول کر باہر نکلا۔ ماہ رخ کے ساتھ ساتھ ادینہ کے قدم بھی تھم گۓ تھے جناب آج پورے پانچ دن بعد نظر آۓ تھے لاہور آتے ہی پھر سے وہی حال تھا نہ کوٸ مسیج نہ کوٸ کال ادینہ بار بار فون اٹھا کر مسیج کا انتظار کرتی رہتی تھی ۔ ناراضگی اور بے اعتناٸ اپنی جگہ پر دل میں موجود بے پناہ محبت پر بند باندھنا اتنا آسان نہیں تھا ۔
ااپنے مخصوص انداز میں ہڈ اور سن گلاسز لگاۓ پینٹ کی جیبوں میں ہاتھ ڈالے نکھرا نکھرا سا وہ اب ان کے پاس پہنچ چکا تھا ۔ لبوں پر جان لیوا مسکراہٹ سجاۓ ادینہ کے بلکل سامنے کھڑا تھا
” اسلام علیکم “
مسکرا کر سلام کیا ادینہ نے فوراً ماہ رخ کی طرف دیکھا جو اب میسم کو دیکھ کر بھرپور طریقے سے مسکرا رہی تھی ۔ ادینہ نے بے رخی سے چہرہ دوسری طرف موڑا ۔
” وعلیکم سلام میسم بھاٸ کیسے ہیں آپ ؟“
ماہ رخ نے خوشدلی سے سلام کا جواب دیا میسم اب لبوں پر گہری ہوتی مسکراہٹ کے ساتھ ادینہ کی طرف دیکھ رہا تھا ۔ جو موتیا رنگ کے جوڑے میں کھل رہی تھی ۔ اور خفگی اس قدر تھی کہ سلام کا جواب بھی نہ دیا ۔
” بلکل ٹھیک تم کیسی ہو ؟“
میسم نے نظر ادینہ پر سے ہٹاٸ اور ماہ رخ کی طرف دیکھ کر خوشگوار لہجے میں جواب دیا ۔ ادینہ ایسے ظاہر کر رہی تھی جیسے اس کے لیے یہاں کھڑے ہونا اب بہت دشوار تھا ۔
” میں بھی ٹھیک “
ماہ رخ نے چہکنے جیسے انداز میں نچلے لب کو دانتوں میں لیا ۔ اور چور سی نظر خفا سی کھڑی ادینہ پر ڈالی جو پوری طرح بے اعتناٸ برت رہی تھی ۔
” ادینہ چلو کہیں جانا ہے “
میسم نے ہڈ کو کھینچ کر درست کرتے ہوۓ ارد گرد نظر دوڑاٸ مبادہ کوٸ اسے پہچان کر لپک پڑے ۔ ادینہ نے آنکھوں کو سکوڑ کر میسم کی طرف دیکھا
” نہیں میں بہت تھکی ہوٸ ہوں تو آرام کرنا مجھے ہاسٹل جا کر میں کہیں نہیں جا سکتی “
ادینہ نے سپاٹ سے لہجے میں کہا اور پھر ماہ رخ کی طرف گھور کر دیکھا انداز ایسا تھا جیسے کہہ رہی ہو چلو اب یہاں کھڑی کیوں ہو ۔
” اوکے تو چلو ہاسٹل چھوڑ دیتا ہوں تم دونوں کو “
میسم نے بھنویں اچکا کر تاٸیدی نظر ماہ رخ پر ڈالی جبکہ ادینہ بھرپور طریقے سے اب سر کو نفی میں ہلا رہی تھی ۔
” ہاں ہاں ٹھیک ہے “
ماہ رخ نے چہکتے ہوۓ جواب دیا اور آگے بڑھ کر کار کی پچھلی سیٹ کا دروازہ کھولا ۔ ادینہ نے منہ کھول کر ماہ رخ کو گھورا ۔ پر اس پر کوٸ اثر نہیں تھا ۔
” کیا ٹھیک ہے؟ ہم چلے جاٸیں گے آپ جاٸیں “
ادینہ نے ماہ رخ کے بازو کو پکڑ کر زور کا جھٹکا دیا اور آنکھوں کو سکوڑ کر ایسے گھورا جیسے کہہ رہی ہو تمہیں تو میں پوچھتی ہوں
” پاگل مت بنو چلیں آپ میسم بھاٸ “
ماہ رخ نے واپسی اُسی طرح گھورا اپنا بازو چھڑوایا اور پچھلی سیٹ کا دروازہ کھولتی ہوٸ بیٹھ گٸ ۔ میسم اب ادینہ کے لیے دروازہ کھولے کھڑا مسکرا رہا تھا ۔ ادینہ نے ایک خفا سی نظر میسم پر ڈالی اور بےزاری سے سیٹ پر بیٹھی میسم اب گھوم کر آتا ڈراٸیونگ سیٹ پر بیٹھ چکا تھا جیسے ہی میسم ڈراٸیونگ سیٹ پر بیٹھا ماہ رخ نے پچھلی سیٹ کا دروازہ کھولا اور باہر نکل گٸ وہ اب باہر نکل کر کھڑی مسکرا رہی تھی اور میسم شرارت سے ادینہ کی طرف دیکھ رہا تھا ادینہ نے حیرت اور ناسمجھی میں منہ کھول کر دونوں کو دیکھا اور جلدی سے کار کا دروازہ کھولنے کی کوشش کی پر میسم دروازے لاک کر چکا تھا ۔
” لاک کھولیں یہ کیا بات ہوٸ “
ادینہ نے جھنجلا کر میسم کی طرف دیکھا ۔ میسم نے اس کی بات سنی ان سنی کی اور گاڑی کا تھوڑا سا شیشہ نیچے کرتے ہوۓ ماہ رخ کی طرف دیکھا ۔
” تھنکیو ماہ رخ “
بھرپور مسکراہٹ چہرے پر سجا کر کہا ماہ رخ مسکرا کر سر ہلا رہی تھی ادینہ نے کھا جانے والی نظروں سے ماہ رخ کو گھورا جس پر اب وہ کانوں کو ہاتھ لگا کر معافی مانگ رہی تھی میسم نے قہقہ لگاتے ہوۓ کار سٹارٹ کی
” میسم مجھے نہیں جانا آپ کے ساتھ کہیں بھی روکیں اسی وقت کار“
ادینہ نے اب سختی سے کہتے ہوۓ میسم کی طرف چہرے کا رخ موڑا۔میسم نے جواب دینے کے بجاۓ مسکراتے ہوۓ کار کی رفتار کو بڑھایا ۔
” میسم آہستہ چلاٸیں “
ادینہ نے سامنے ڈیش بورڈ پر ہاتھ رکھے اور شکن آلودہ پیشانی کے ساتھ میسم پر پرشکوہ نگاہ ڈالی
” جتنا بولو گی اتنی رفتار بڑھے گی “
میسم نے آنکھ دبا کر شرارت سےکہا ۔ ادینہ کے ماتھے پر بل مزید گہرے ہوۓ ۔ پر جناب تو آج کسی اور ہی جون میں تھے۔
” آپ دھونس جما رہے ہیں“
ادینہ نے غصے سے آواز کو اونچا کرتے ہوۓ کہا ۔ میسم نے مسکراتے ہوۓ رفتار اور بڑھاٸ مضبوط ہاتھ سٹیرینگ پر جمے تھے لب مسکرا رہے تھے گالوں پر ڈمپل گہرے ہو رہے تھے آنکھیں شرارت سے چمک رہی تھیں ۔
” اففف میسم “
ادینہ نے بمشکل خود کو سنبھالنے کے لیے سامنے بورڈ کو تھاما پر جناب تو درختوں کے درمیان موجود سڑک پر گاڑی کو بھاگا رہے تھے ۔
” کہا نہ جتنا بولو گی رفتار بڑھاتا جاٶں گا “
میسم نے قہقہ لگاتے ہوۓ کہا ادینہ اس کے بعد کچھ بھی نہیں بول پاٸ ۔ کار اب کسی رہاٸیشی سوساٸٹی کے گیٹ سے اندر داخل ہوٸ تھی ۔ اور شفاف تارکول میں لپٹی سڑکوں پر گھومتی گاڑی ایک جگہ خوبصورت سے دو منزلہ گھر کے سامنے رکی تھی ۔ میسم اب کار سے اتر کے اس کی طرف کا دروازہ کھول کر کھڑا تھا ۔
” اترو “
دروازہ کھول کر نرم سے لہجے میں حکمانہ انداز میں کہا۔ ادینہ نے چہرے کا رخ دوسری طرف موڑا ۔ ذہن الجھ رہا تھا کر کیا رہے ہیں آخر یہ ۔
” اترو نہ “
میسم نے بازو سے پکڑ کر باہر نکالا ۔ اور ایک ہاتھ سے کار کے داروازے کو بند کیا ۔ گرے رنگ کا گیٹ تھا اور میسم اب اسے بازو سے تھامے زبردستی گیٹ کے پاس لے آیا تھا ۔
” یہ کیا کر رہے ہیں میسم “
ادینہ نے بازو کو گرفت سے چھڑوانے کی کوشش کی جو بے سود تھی ۔ وہ اب گھر کا گیٹ کھول رہا تھا ۔ مسٹرڈ رنگ کی ٹاٸلوں والے پورچ سے اندر جانے کے بعد میسم نے پورچ سے اندر کی طرف کھلنے والے دروازے کو ایک ہاتھ سے کھولا وہ مسلسل ادینہ کی خفگی سے لاپرواہی برتے ہوۓ تھا
سفید ٹاٸلز کے فرش والا فرنیشڈ گھر تھا جہاں دروازہ کُھلتے ہی سامنے خوبصورت فرنیچر سے مزین لاٶنج تھا اور ایک طرف ڈراٸنگ روم تھا دونوں کے بیچ میں سے خوبصورت زینہ اوپری منزل کی طرف جا رہا تھا ڈراٸنگ روم میں بیش قیمت نفیس سے صوفے پڑے تھے ہلکے نیلے اور سفید رنگ کے ملاپ سے سجا ڈراٸنگ روم آنکھوں کو ایک نظر میں ہی تسکین بخش رہا تھا لاونج کی ایک دیوار کے ساتھ چھوٹا سا چار کرسیوں پر مشتمل شیشے کے گول میز والا ڈاٸنگ ٹیبل تھا ۔ لاونج کے ایک طرف ایک بیڈ روم کا دروازہ تھا اور ساتھ ہی سفید کیبنز والا اوپن کچن تھا گھر میں ضرورت کی ہر چیز موجود تھی ۔ ادینہ کی نظریں بے ساختہ گھوم کر سارے گھر کا جاٸزہ لے چکی تھیں ۔
” یہ ہے میرا اور تمھارا گھر “
میسم کی آواز اسے اپنے عقب سے سناٸ دی ۔ ادینہ کچھ دیر خاموشی سے کھڑی رہی افف کتنا خوبصورت گھر تھا دل نے بے اختیار چاہ کہ پلٹے اور اس کے چوڑے سینے سے جا لگے ایسے چھوٹے سے خوبصورت گھر کی خواہش تو اسے بچپن سے تھی جو اس کا اپنا ہو اپنی ماں کو ساری زندگی بے گھر دیکھا تھا اس لیے آج دل خوشی میں پاگل ہو گیا تھا ۔
پر میسم پر اپنی خوشی کا یوں اظہار کر دینا اس کی اس بات کی تصدیق کر دینے جیسا لگا جو اس نے انگلینڈ میں کی تھی اسی سوچ کے زیر اثر سپاٹ چہرے کے ساتھ رخ میسم کی طرف موڑا ۔
” آپ کو کیا لگتا ہے یہ سب کریں گے تو میں معاف کر دوں گی آپ کو اُس ساری بات کے لیے “
سرد لہجہ اپنایا ۔ میسم جو اس کے جواب کا منتظر کھڑا تھا اس کی ناراضگی برقرار دیکھ کر ہوا میں ہاتھ اٹھا کر گہری سانس لیتے ہوۓ نیچے کیۓ
” میں نے کب کہا ایسا کچھ بھی یہ سب تو میری خوشی ہے “
محبت بھرے لہجے میں اردگرد دیکھتے ہوۓ کہا اور پھر خفا سی ادینہ کی طرف دیکھا ۔
” ہاسٹل چھوڑ کر آٸیں مجھے فوراً “
ادینہ نے غصے سے کہا اور قدم آگ بڑھاۓ ۔ میسم نے بازو آگے کیا اور راستہ روکا ۔
” تمھارا سامان سارا لے آیا تھا ہمارے بیڈ روم میں پڑا ہے “
میسم نے پرسکون لہجے میں کہا جس پر اب وہ منہ کھولے حیرت سے دیکھ رہی تھی ۔ یہ سب ماہ رخ کا کام تھا اسی لیے اُس نے اسے ناٸٹ ڈیوٹی کا کہا اور خود میسم کے ساتھ مل کر اس کی پیکنگ کرتی رہی ۔
” فریش ہو جاٶ میں کھانا لگا رہا ہوں “
میسم نے ایک ہاتھ سے کمرے کی طرف اشارہ کیا پھر پیار سے ادینہ کے گال تھپتھپا کر وہ آگے بڑھا ۔
ادینہ نے گھور کر ایک نظر میسم پر ڈالی اور مطلوبہ کمرے کی طرف بڑھی جیسے ہی کمرے کا دروازہ کھولا سامنے کا منظر سکوت طاری کر دینے والا تھا کمرے میں مختلف جگہوں پر سفید سرخ گلاب اور روم ڈیکور کینڈل تھیں سنگہار میز کے پاس پڑے شیشے کے میز پر ایک بڑے سے شیشے کے تھال میں پھول کی پتیاں اور کینڈل تیر رہی تھیں کینڈل کے جلنے سے ان کے اندر موجود خوشبو پورے کمرے میں پھیلی ہوٸ تھی جو ایک خوشگوار احساس پیدا کر رہی تھی کمرہ اتنے خوبصورت انداز میں سجایا گیا تھا کہ پل بھر کے لیے وہ نظریں ہٹانا بھول چکی تھی ۔ تو جناب آج پوری تیاری کیے ہوۓ ہیں ۔ اتنی جلدی نہیں جناب ادینہ نے نچلے لب کو دانتوں میں دباۓ نظروں کو پر اشتیاق انداز میں ارد گرد گھومایا ۔
آہستہ سے چلتی ہوٸ اندر داخل ہوٸ بیڈ کے ساتھ ملحقہ ٹیبلز پر بھی دیدہ زیب کینڈل جل رہی تھیں بیڈ روم کا کمبینشین آف واٸٹ اور ہلکے بھورے رنگ کا تھا آف واٸٹ رنگ کے نیٹ کے پردے اور لکڑی کا دیدہ زیب فرنیچر کمرے کے ماحول کو فسوں خیز بنا رہا تھا کمرے سے ملحقہ ڈریسنگ روم میں پوری دیوار میں لکڑی کی الماری نسب تھی ۔ ارد گرد کمرے کی خوبصورتی کو جانچتی وہ اب الماری کھولے ہوۓ تھی جس میں اس کے کپڑے سلیقے سے ہینگ تھے ۔
” کھانا لگ گیا ہے بیگم “
میسم کی عقب سے آتی آواز پر وہ الماری کے دروازے کو تھامے مڑی وہ داخلی دروازے سے ٹیک لگاۓ سینے پر ہاتھ باندھے گہری محبت سے لبریز آنکھیں لیے مسکراتا ہوا اسے دیکھ رہا تھا ۔
” مجھے بھوک نہیں “
ادینہ نے آہستہ سی آواز میں کہا اور چہرہ پھر سے الماری کی طرف موڑا ۔ دل کی حالت میسم سے چھپانا لازم تھا ۔
” اچھا “
میسم نے سر کو پیچھے سے گردن جھکا کر کھجایا جب کے لب مسکراہٹ دبانے میں لگے تھے ۔ محترمہ کو کچھ بھی امپریس نہیں کر پایا تھا کیا کروں شرارت سے سوچتا آگے بڑھا اور ایک جھٹکے میں وہ ادینہ کو اپنے بازوٶں میں اٹھا چکا تھا وہ جو اس رودادِ حادثہ کے لیے تیار نہیں تھی بوکھلا سی گٸ
” میسم !!!!!!!“
گلے سے چیخ نما آواز برآمد ہوٸ گرنے کے ڈرے سے جلدی سے میسم کی شرٹ کو ہاتھوں سے پکڑا ۔ اور آنکھوں کو خوف سے بند کیا ایسا لگ رہا تھا ابھی گر جاۓ گی دل کمبخت ویسے ہی غوطے لگانے کا شغل فرمانے لگا تھا وہ اب مسکراتا ہوا کمرے سے باہر آ چکا تھا ۔ جہاں ڈاٸنگ ٹیبل کی کرسی پر لا کر اس نے ادینہ کو نرمی سے بیٹھایا ۔ وہ بلش ہوتے چہرے کے ساتھ سانس بحال کرتی اس کی بے تابی کو ہوا دے رہی تھی ۔ میز پر ہاتھ دھر کر تھوڑا جھک کر چہرہ اس کے کان کے قریب کیا۔
” یہاں یہی سب ہو گا بیگم کیونکہ یہاں نہ تمھاری امی ہیں نہ میری امی ہیں “
کان کے قریب سرگوشی کرنے کے بعد وہ شرارت سے مسکراتا ہوا سیدھا ہوا
” اور یہاں تمہیں بچانے والا کوٸ نہیں “
لبوں کو بھینچ کر بھنوں کو شرارت سے اوپر نیچے نچایا ادینہ کے ساتھ کی کرسی کو کھینچا اور بیٹھ گیا ۔
” اچھا تو پھر آپ اس طرح زبردستی کریں گے ہر معاملے میں “
ادینہ نے پیشانی پر بل ڈال کر پوچھا۔ میسم نے نپکن کو جھاڑتے ہوۓ قہقہ لگایا ۔
” آف کورس “
ہاتھ کو ہوا میں اٹھا کر شرارت سے آبرٶ چڑھایا اور سر کو جھکایا ۔ اچھا تو یہ بات ہے ادینہ نے دانت پیستے ہوۓ سوچا ۔
” میسم “
بلانے کا انداز خفگی لیے ہوۓ تھا ۔ میسم جو اس کے سامنے پلیٹ رکھ رہا تھا مصروف سے انداز میں نظریں اٹھاٸیں ۔
” جی بیگم “
فوراً پیار سے کہا اور ڈش کو ادینہ کی طرف بڑھایا ۔ ادینہ نے غصے سے سامنے رکھی پلیٹ کو اپنی طرف کھینچا ۔ کچھ بھی کہنے کا اردہ ترک کرتی اب وہ کھانا کھانے پر مجبور ہو چکی تھی کھانا شاٸد کہیں سے آرڈر کیا تھا جس کی خوشبو ادینہ کی بھوک کو بڑھا چکی تھی اور ناراضگی کے مقابلے میں پلڑا بھاری کر چکی تھی
کھانے کے بعد جب وہ کپڑے تبدیل کرنے کے بعد باہر آٸ میسم پہلے سے کمرے میں موجود تھا ۔ مسکراہٹ دباتا پیچھے ہاتھ باندھے ادینہ کی طرف بڑھا وہ وہیں رک گٸ ۔ راہ فرار کے آگے وہ حاٸل تھا
” ہاتھ آگے کرو “
آہستہ سی آواز میں کہتا وہ اب بلکل سامنے کھڑا تھا ۔ ادینہ کے ہاتھ آگے نا کرنے پر وہ اب جھک کر اس کےہاتھ کو تھام چکا تھا ۔ بازو گھما کر دوسرے ہاتھ سے رنگ کو آگے کیا وہ طلسم پھونک چکا تھا جس کے سحر میں جکڑی وہ اس لمحے ہاتھ پیچھے نہیں کھینچ سکی تھی ڈاٸمنڈ رنگ کو ادینہ کے ہاتھ میں پہنا کر محبت سے اس کی حیرت سے کھلی آنکھوں میں دیکھا ۔
” یہ منہ دکھاٸ “
آہستہ سی جزبات میں ڈوبی آواز تھی ادینہ نے انگوٹھی کی طرف دیکھا دل نے اس کے انتخاب کی داد دی ۔ اور شادی کے پہلی رات ذہن میں گھوم گٸ عورت کا یہی المیہ ہے ہر لمحے کا موازنہ بیتے لمحات سے ضرور کرتی ہے اور وہ بھی اس وقت ذہن میں یہی کر رہی تھی ۔
” ادینہ مانا بہت غلط سوچتا رہا بہت دکھ دیتا رہا پر تم سے پیار بہت کرتا ہوں اور پتا نہیں کب سے کرتا ہوں “
مضبوط ہتھیلی نے ادینہ کی گال کو چھوا ۔ لمس میں بے پناہ چاہت تھی اور میسم کے چہرے پر التجا ۔
” اتنا پیار کرتا تھا کہ تمھاری خوشی کی خاطر صرف تمہیں چھوڑ کر گیا “
تھوڑا سا جھک کر اس کی آنکھوں میں جھانکا شفاف سا چہرہ دل کو ٹھنڈک بخش رہا تھا ۔
” اور شک بھی کیا “
ادینہ نے مدھم سی آواز میں کہتے ہوۓ شکوہ کیا ۔ آنکھوں میں ذہن کے اندر ہونے والی کشمکش کی لکیریں تھیں ۔
” ادینہ ذہن نے سب کچھ خود سے ہی گڑھ لیا اور حالات ایسے بنتے چلے گۓ کہ “
بچارگی سے کہتے ہوۓ رکا اب وہ دوسری ہتھیلی کو اس کے دوسرے گال پر رکھ چکا تھا ۔ محبت سے چہرہ تھام کر سر جھکایا۔ میسم کے چہرے کو قریب آتا دیکھ کر ریڑھ کی ہڈی میں سنسناہٹ ہوٸ ۔ بوکھلا کر میسم کے دونوں ہاتھ اپنے گال پر سے ہٹاۓ
” اور جو مجھے ایک لالچی لڑکی سمجھا جو آپ کی شہرت سے متاثر ہو کر بس آٸ آپ کے پاس وہ “
لہجے کو ذہن کے مطابق ڈھالا وہ اب بچارگی سے ادینہ کے چہرے کی طرف دیکھ رہا تھا ۔ ہمت نہیں ہارنی میسم مراد دل کی دستک پر پھر سے آگے بڑھا
” وہ کہانی بھی خود سے ہی گڑھ لی ذہن نے پتا نہیں کیوں “
ادینہ کے سر سے اپنا سر جوڑے روہانسی سی آواز میں کہا ۔ ادینہ نے دنوں ہاتھوں کو میسم کے سینے پر رکھ کر آہستگی سے اپنے سے دور کیا ۔
” ادینہ کیا ہے یار “
التجاٸ انداز میں کہتے ہوۓ اب وہ کندھے گراۓ کھڑا تھا ۔ کیا ہے اور کتنی سزا باقی تھی اب اس کی بے رخی برداشت سے باہر ہو رہی تھی ۔
” مجھے وقت چاہیے “
ادینہ نے رخ دوسری طرف موڑا ۔ ابھی سہی وقت نہیں ہے معاف کرنے کا ابھی اگر معاف کیا تو میسم کو لگے گا ان سب چیزوں کے لیے کیا آنکھوں کو زور سے بند کیے دل کو سمجھایا ۔
” کتنا؟ “
عقب سے تھکی سی آواز ابھری ۔ ادینہ نے سانس اندر کھینچا ۔
” معلوم نہیں “
آہستہ سی مدھر آواز میں سختی نہیں تھی اب ۔
” ٹھیک ہے جتنا بھی وقت چاہیے دوں گا پر تمہیں ادھر رہنا میرے پاس ہاسٹل میں نہیں “
میسم نے گزارش کے انداز میں کہا نظریں اس کے پشت پر بکھرے بالوں پر تھیں ۔
” ٹھیک ہے “
ادینہ نے آہستہ سے انداز میں جواب دیا ۔
” سو یہاں سکتا ہوں “
بہت قریب سے آواز آٸ ۔
” نہیں “
ادینہ نے دل پر ہاتھ دھرے اُسی لہجے میں جواب دیا ۔
” ”ٹھیک ہے “
پھیکی سی مسکراہٹ چہرے پر سجاٸ لب بھینچ کر کمرے پر نظر گھماٸ اور پھر آہستہ الٹے پاٶں چلتا ہوا باہر نکل گیا ۔ ادینہ نے آہستہ سے رخ موڑا ۔
” سوری میسم “
لبوں کو بچوں کی طرح باہر نکالے خود ساختہ سرگوشی کی دل اس کو یوں بار بار دھتکار کر اب نرم پڑ چکا تھا غصے کا طوفان سیسہ پلاٸ دیوار کو ہلا چکا تھا ۔
******
” تو ادینہ یہ تو لانگ ٹرپ تھا نہ اتنا مزہ آتا کیوں نہیں جا رہی تم بھٸ “
ثنا نے شکوہ کرتے ہوۓ ادینہ کے کندھے پر ہاتھ رکھا ۔ وہ لوگ لاہور اٸیر پورٹ پر کھڑے تھے جہاں وہ میسم کو الوداع کرنے آٸ تھی اس کی طرح اور بھی بہت سی قومی کرکٹ ٹیم کے کھلاڑیوں کی بیگمات اپنے شوہر حضرات کو الوداع کرنے آٸ تھیں اور بہت سی ساتھ جا رہی تھیں۔
” جی پر مجبوری ہے ہاٶس جاب کے لاسٹ منتھ چل رہے ہیں تو چھٹی نہیں مل سکی “
ادینہ نے مسکرا کر ثنا کی بات کا جواب دیا اور پھر سے ایک نظر کچھ فاصلے پر کھڑے میسم پر ڈالی جو اسد اور طلحہ کے ساتھ باتوں میں مشغول تھا ۔
دو دن میسم بری طرح پریکٹیس میں مصروف رہا تھک کر گھر آتا تھا اور اوپر موجود دوسرے بیڈ روم میں سو جاتا تھا اب تیسرے دن ان کی آسٹریلیا کے لیے فلاٸیٹ تھی جہاں سڈنی میں ان کا پہلا ٹی ٹوینٹی میچ آسٹریلیا کے ساتھ تھا۔
” ہممم اٸ کین اینڈرسٹینڈ “
ثنا کی آواز پر ادینہ نے جھینپ کر میسم پر سے نظر ہٹاٸ جو بار بار اس پر اٹھ رہی تھی ۔
” یہ تو ہمارے جیسی ہاوٸس واٸف ہیں ہر دفعہ ساتھ چل پڑتیں “
ثنا اب ہلکا سا قہقہ لگاتے ہوۓ کہہ رہی تھی ۔ ادینہ نے دھیرے سے سر ہلایا ۔ میسم اب اس کی طرف آ رہا تھا دل زور زور سے دھڑکنے لگا اداسی دھواں بن کر پورے وجود میں بھرنے لگی تھی آنکھوں میں جلن سی ہوٸ اور سامنے سے آتا میسم دھندلہ سا پڑا پورے پچیس دن تھے جو اسے میسم کے بنا گزارنے تھے ۔ ثنا میسم کو آتا دیکھ کر ایک طرف چل دی تھی اب وہ بلکل سامنے آ کر کھڑا تھا چہرے پر وہاں بھی اداسی تھی ۔
” اپنا خیال رکھنا “
آہستہ سی آواز میں کہا سانس کو ضبط کرنے کے انداز میں اندر کھینچا اور پھر جیب میں سے کریڈٹ کارڈ نکال کر ادینہ کی طرف بڑھایا ۔ ادینہ نے اداسی سے کارڈ کو دیکھا
” نہیں چاہیے “
آہستہ سی آواز میں کہتے ہوۓ آنسوٶں کو چھپایا۔ جو بری طرح چھلکنے کو تیار تھے ۔
” پھر بھی رکھو ضرورت پڑ سکتی ہے “
میسم نے رعب سے ڈپٹنے کے انداز میں کہا ۔ اور کارڈ والے ہاتھ کو زور سے ہلایا ۔
” ہممم “
ادینہ نے آہستہ سی آواز میں کہتے ہوۓ کارڈ کو تھاما ۔ وہ سیاہ رنگ کے شفون جوڑے میں اداس سی اس کے دل کو بے قرار کر گٸ تھی دل کے ہاتھوں مجبور ہو کر بے ساختہ آگے بڑھ کر اسے ایک طرف سے بغل میں لیا اور لبوں کو اس کے سر پر رکھ دیا ادینہ نے زور سے آنکھیں بند کی تو آنکھوں کے کناروں پر موجود آنسوٶں لڑھک گۓ جلدی سے اس کے سینے میں منہ چھپا کر آنسو صاف کیے ۔ میسم کے دل کے دھڑکنے کی آواز کان صاف سن سکتے تھے ۔ اٸیر پورٹ پر ان کی فلاٸٹ کی اناونٸسمینٹ گونج رہی تھی ۔
” اچھا چلتا ہوں “
میسم نے آہستہ سے اسے خود سے الگ کیا ۔اور پھر تیز تیز قدم اٹھاتا آگے بڑھ گیا سر کی مانگ ابھی بھی اس کے لمس سے آشناٸ لیے ہوۓ تھی جیسے وہ خود تو چلا گیا پر اپنا سارا اثر سر کی مانگ پر چھوڑ گیا ادینہ خود کو سنبھالتی اس وقت تک وہیں کھڑی رہی جب تک وہ نظروں سے اوجھل نہیں ہوا ۔ میسم اب اور ناراض نہیں رہ سکتی میں آپ سے خود سے سرگوشی کرتی بوجھل سے قدم اٹھاتی آگے بڑھ گٸ ۔
********
” ڈوپ ٹیسٹ کی سامپلنگ میں چند کھلاڑی چنے ہیں صرف “
توقیر نے کاغز پر سے نظر اٹھا کر سب کی طرف دیکھا ۔ وہ لوگ آسٹریلیا سے میچ جیت چکے تھے اور میسم کی شاندار پرفارمنس ہی میچ کی جیت کو یقینی بنا سکی تھی لیکن میچ کے فوراً بعد اٸ ۔سی۔سی نے ڈوپ ٹیسٹ کرنے کا فیصلہ کیا تھا ۔
” میسم ہے ابراہیم ہے اور صفدر ہے “
توقیر نے باری باری سب کے نام لیے ۔ جس پر سب سر ہلا رہے تھے ۔
” اوکے تو آپ لوگ چلیں پھر لیب میں “
توقیر نے کاغز کو بند کرتے ہوۓ کہا ۔ میسم سر ہلاتا ہوا اب ابراہیم اور صفدر کے ساتھ آگے بڑھا کچھ فاصلے پر ہی اٸ ۔سی۔سی کی لیب میں ان کے یورین سامپل لینے کے بعد انھیں واپس بھیج دیا گیا ۔ “
******
” توقیر بھاٸ بات سنیں “
فراز نے پھولی سانس کے ساتھ توقیر کو مخاطب کیا ۔ توقیر نے گردن گھما کر فراز کی طرف دیکھا جس کا چہرہ پریشانی لیے ہوۓ تھا ۔
” میسم کا ڈوب ٹیسٹ پوزٹیو ہے “

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: