Maqsoom Novel by Huma Waqas – Episode 2

0
مقسوم از ہما وقاص – قسط نمبر 2

–**–**–

” ماموں اُدھر دیکھیں ذرا “ ادینہ نے مراد کے کان میں سرگوشی کی آنکھیں شرارت سے چمک رہی تھیں اس کی ۔ نظریں سامنے گاٶ تکیے سے سہارا لیے ایک ٹانگ کھڑی کر کے پلنگ پر بیٹھے میسم پر ٹکی تھی ۔
مراد جو ادینہ کے ہاتھ سے اس کی کتاب پکڑ رہے تھے اس کی بات پر اس کی نظر کا تعاقب کیا ۔ سامنے میسم کتاب آگے کیے بیٹھا تھا جبکہ اس کے داٸیں ہاتھ میں گیند موجود تھی جسے وہ ہلکے ہلکے اچھال کر پکڑ رہا تھا ۔ اور جناب کی نظریں بھی کتاب پر نہیں گیند کی اوپر نیچے حرکت پر ٹکی تھیں ۔
موصوف نے اب آرٹس کے ساتھ انٹرمیڈیٹ کے امتحان ایک ساتھ دینے تھے اور پیپرز کو بس لگ بھگ دو ماہ کا عرصہ باقی تھا اور اسے پارٹ ون اور پارٹ ٹو دونوں کے مضامین تیار کرنے تھے ۔
مراد کی آنکھیں سکڑ گٸ تھیں اور ماتھے پر شکن آ چکے تھے ۔ گھور کر میسم کی طرف دیکھا ۔ پر وہ تو نظروں کی تپش تک محسوس نہیں کر سکا ۔ کرتا بھی کیسے وہ تو پتا نہیں کس میدان میں کیچ پکڑ رہا تھا وہ یہاں تھوڑی نہ موجود تھا ۔ ہاں جسمانی طور پر تھا پر جناب دماغی طور پر تو ۔۔۔۔۔
” میسم !!!!“
مراد نے گرج دار آواز میں چیختے ہوۓ کہا۔ میسم جو پڑھنے کی آڑ میں کھیل رہا تھا ایک دم سے گڑ بڑا گیا ۔ نظر اٹھا کر دیکھاتو پہلی نظر آنکھوں میں شرارت بھرے کھڑی ادینہ پر پڑی جو اب معنی خیز مسکراہٹ چہرے پر سجاۓ مزا لے رہی تھی اس ساری سچویشن کا جبکہ باقی بچے بھی اپنی اپنی کتابوں سے سر اٹھا چکے تھے ۔
اکیڈمی کا وقت تھا بہت سے بچے پڑھنے کے لے آۓ ہوۓ تھے ۔
” جی ابا ؟“
لڑ کھڑاتی آواز کے ساتھ کہتے ہوۓ وہ گیند کو کتاب کی آڑ میں چھپا چکا تھا ۔ تھوک نگل کر مراد کی طرف دیکھا جن کا چہرہ سرخ ہو رہا تھا۔
” بک پیچھے کرو“
مراد نے دانت پیستے ہوۓ کہا ۔ ادینہ نے کمر کے پیچھے ہاتھ باندھے اور لبوں کو منہ کے اندر کرتے ہوۓ مسکراہٹ دباٸ ۔ وہ مراد کے بلکل ساتھ کھڑی تھی۔ مخصوص انداز میں بھورے ریشمی بالوں کی اونچی سی پونی کیے ۔
” جی !!!!!“
میسم نے معصوم سی شکل بنا کر نا سمجھی ظاہر کی ۔ جیسے کہ اسے سمجھ ہی نہ آیا ہو کہ مراد نے اس وقت اس کو کہا کیا ہے ۔ اتنا وقت نہیں تھا اس کے پاس کہ وہ گیند کو کرتے کی جیب میں رکھ سکتا ۔
” میں نے کہا کتاب پیچھے کرو “ اب کی بار مراد کی آواز اتنی اونچی تھی کہ میسم کے ہاتھ سے کتاب خود بہ خود گر گٸ اور پیچھے سے جوہاتھ واضح ہوا اس میں وہ گیند تھامے ہوۓ تھا ۔
مراد ایک جھٹکے سے کرسی پر سے اٹھے اور پھر ایک ہی جست میں اس کے سر پر کھڑے تھے ۔
” کیا ہے یہ ایک تو اس خرافات نے زندگی حرام کر رکھی ہے ہماری “
مراد نے میسم کے ہاتھ سے گیند پکڑ کر کھڑکی سے باہر گلی میں اچھال دی ۔ میسم کی نظروں نے بال کے ساتھ کھڑکی تک کا سفر کیا ۔پر گیند ٹھہری بچاری بے جان چیز نظروں کی بازگشت نہ سمجھی سکی جو کہہ رہی تھیں
جانے والے رے۔ے۔ے۔ے۔ رک جا ذرا نہ جانا
” تم نے پڑھنا ہے یہ نہیں بتا دے مجھے آج سہی سے “
مراد نے دانت پیس کر ناک پھلاتے ہوۓ دیکھا ۔ وہ شرمندہ سا ہوا کر سر جھکا گیا ۔ کچھ بچے ڈرے سے بیٹھے تھے اور کچھ میسم کے انداز پر دبی دبی ہنسی ہنس رہے تھے ۔ اور سب سے زیادہ دانت نکال کر ہنسنے والی وہ تھی ادینہ شیراز ۔
” پڑھنا ہے ابا “
گھٹی سی آواز میں کہا اور سر جھکا کر کن اکھیوں سے اردگرد منہ پر ہاتھ رکھے ہنسی دباتے لڑکے اور لڑکیوں کہ طرف دیکھا ۔
” آج کے بعد جو دو گھنٹے کے لیے تو باہر جاتا بھی تھا وہ بھی بند تیرا سمجھا وہ بھی بند “
مراد نے انگلی اکڑا کر میسم کی آنکھوں کی سیدھ میں کی ۔
” دانیہ آج کے بعد یہ گھر سے باہر گیا تم مجھے بتاٶ گی سمجھی اس پر کڑی نظر رکھنا “
مراد ایک دم سے دانیہ کی طرف مڑے ۔ وہ جو دانت نکالے کھڑی تھی جلدی سے منہ بند کر کے معدب انداز میں سر ہلانے لگی ۔ میسم کے تن بدن میں آگ لگی گٸ ۔
” ارے کیسے اکٹھے پیپر دے گا اگر ایسے پڑھتا رہا میٹرک کا میٹرک رہ جاۓ گا “
مراد نے اپنے ہاتھ کی تین انگلیوں کو میسم کے سر پر رکھ کر پیچھے کی طرف دھکیلا اور وہ یوں ہی بیٹھا تھا منہ پھلا کر ۔ گردن جھکا کر ۔مراد جیسے ہی مڑے کرسی کی طرف ۔ میسم نے خونخوار نظر ادینہ پر ڈالی ۔
” تجھے تو اب تک بی اے کر لینا چاہیے تھا “
مراد ایک دم سے پھر سے پلٹے ۔ وہ جو ادینہ کو آنکھیں نکال رہا تھا گڑ بڑا کر نظریں جھکا گیا ۔ ادینہ سمیت بہت سے بچے کھی کھی کر اٹھے ۔
” بس میں نے فیصلہ کر لیا ہے آج سے پیپر ہونے تک تیرا گھر سے نکلنا بلکل بند “
مراد نے پھر سے غصے سے کہا ۔ اب کی بار تو میسم کی روح ہی فنا ہو گٸ ۔ بچارگی سے چہرہ اوپر اٹھا کر مراد کی طرف دیکھا ۔ کرکٹ کھیلے بنا اس کا گزارا کہاں تھا ۔ اور اب پورے دو ماہ جب تک پیپر نہیں ہو جاتے اس کا گھر سے جانا بند کر دیا گیا تھا اور چوکیداری کسے سونپی گٸ تھی اس کی جان کی دشمن کو ۔ وہ دل مسوس کر رہ گیا ۔
” ابا معاف کر دیں “
روہانسی آواز میں التجا کی ۔ کیونکہ اب تک اس لیے چپ بیٹھا تھا کہ جتنا وہ اس پر چیخ رہے تھے یہ تو تقریباً روز کا معمول تھا لیکن یوں گھر سے باہر جانے پر پابندی نے معافی مانگنے پر مجبور کر دیا ۔ پر مراد اس کی بات ان سنی کرتے شکن آلودہ ماتھا لیے آگے بڑھ گۓ ۔
” ابا !!!“
میسم کا ہاتھ ہوا میں ہی معلق رہ گیا ۔ ادینہ جو مراد کے پیچھے چلتی ہوٸ جا رہی تھی پیچھے مڑ کر زبان باہر نکالی ۔ اور ایک انگلی کو ناک کے نیچے سے اس انداز سے گزارا جیسے کہہ رہی ہو اچھا ہوا بچو تمھارے ساتھ ۔
میسم کو زہر لگی وہ اس وقت دل کیا اٹھ کر بال ہی نوچ ڈالے اس کے ۔ پر اس وقت وہ کچھ بھی تو نہیں کر سکتا تھا ۔ چارو نا چار سامنے پڑی کتاب کو سیدھا کیا ۔ اور بھاری سی آواز میں پڑھنا شروع کر دیا ۔ پر دل میں مختلف اعزاٸم ترتیب دے رہا تھا ۔
*********
” اللہ میری توبہ ہ۔ہ۔ہ۔ہ۔ہ۔۔۔۔۔۔ “
ادینہ نے ہولناک چیخ ماری اور اچھل کر ایک طرف ہوٸ ۔ آنکھیں خوف سے پھیل گٸ تھیں۔
دوپہر کے تین بج رہے تھے وہ مزے سے دوسرے پورشن میں اکیلی پڑھنے میں مصروف تھی جب اچانک اسے گردن کے پاس کچھ محسوس ہوا ۔ مصروف سے انداز میں گردن گھما کر دیکھا تو بے ساختہ چیخ نکل گٸ
میسم ہاتھ میں مرا ہوا چوہا پکڑے ہوۓ اس کے بلکل قریب جھکا ہوا تھا ۔ وہ دوپہر کو سو کر وقت ضاٸع نہیں کرتی تھی بلکہ اس خاموش سے پورشن میں آ جاتی تھی اور پڑھتی تھی ۔آج بھی وہ پڑھنے میں ہی مصروف تھی ۔ جب وہ چوہے سمیت آ دھمکا
بچپن میں ایک دفعہ اسے پاٶں سے چوہے نے کاٹ لیا تھا تب سے اسے زندہ کیا مردہ چوہے سے بھی بے انتہا خوف آتا تھا ۔ اور پورا گھر جانتا تھا کہ ادینہ کس قدر چوہے سے ڈرتی ہے ۔
” میسم دور کرو اسے “
خوفزدہ آواز میں کہتی ہوٸ وہ ایک طرف کمرے کی دیوار سے جا لگی۔ میسم دانت نکالتا ہوا ہاتھ میں دم سے چوہا پکڑے اس کی طرف بڑھ رہا تھا ۔ آنکھوں میں خوفناک عزاٸم لیے ۔
” کیوں ؟؟کیوں کروں اسے دور ؟ “
نچلے لب کو دانتوں میں دباۓ آنکھوں میں بدلے کی آگ لیے وہ تو اس کی کوٸ التجا ہی نہیں سن رہا تھا ۔ ذہن میں کھڑکی سے باہر جاتی گیند اور کھی کھی کرتی أکیڈمی کی خوبصورت لڑکیاں آ رہی تھیں ۔
راہ فرار کوٸ تھی ہی نہیں دروازے کی طرف وہ تھا وہ جس طرف کو بھی بھاگنے کی کوشش کرتی میسم اس طرف آ جاتا ۔ وہ زور زور سے ہنس رہا تھا اور وہ خوف کے مارے ممنا رہی تھی ۔ یہی سب تو چلتا آ رہا تھا بچپن سے دونوں ایک دوسرے ایسے ہی بدلے لیتے تھے پر آج تو حد ہی ہو گٸ ۔
” امی !!!!! امی ۔۔۔۔“
دیوار کے ساتھ لگ کر زور زور سے عزرا کو آوازیں دے ری تھی پر جو بے سود تھیں ۔ یہاں درمیان والے پورشن میں کون سننے کا اس کی آواز ۔ یہاں تو شام کو رونق لگتی تھی اور پھر رات گیارہ بجے تک بچے پڑھنے آتے تھے ۔
گھر میں سب لوگ تو دوپہر کو سوتے تھے ۔ مسواۓ مراد احمد کے جو اس وقت کسی نجی کالج میں لیکچر دینے جاتے تھے ۔
” گھن آ رہی ہے مجھے “
سینے پر ہاتھ رکھ کر ادینہ نے روہانسی آواز میں کہا ۔ وہ بار بار جھرجھری لے رہی تھی اور میسم قہقے لگاتا اس کی حالت سے محزوز ہو رہا تھا ۔ یہ سب کر کے اس کی روح کو تسکین مل رہی تھی ۔
” ارے کیوں بھٸ کیوں آ رہی اتنا پیارا تو ہے ابھی ابھی تازہ تازہ مارا ہے میں نے “
میسم نے مصنوعی حیرانگی ظاہر کی چوہے کی طرف دیکھا پھر بڑے انداز میں چوہے کو ہواٸ بوسہ دیا ۔ دانیہ نے فوراً منہ پر ہاتھ رکھا ۔ اور ابکاٸ روکی سیاہ رنگ کا بدشکل چوہا تھا جس کی مونچھیں کافی بڑی تھی ۔ اور وہ اسے بوسے دے رہا تھا ۔
” جاہل پاگل کہیں کا گندا کہیں کا “
میسم کے اس انداز پر وہ چلا اٹھی ابکاٸ آ رہی تھی بار بار اور وہ تو بڑے مزے سے اسے ہاتھ میں لیے اسے ڈرانے میں مصروف تھا ۔
” جو بھی کہو “
میسم نے بھنویں اچکا کر ناک پھلاٸ اسے اس وقت ادینہ پر کوٸ ترس نہیں آ رہا تھا ۔ وہ اور قریب سے قریب آ یا ۔ ادینہ کی جان پر بن گٸ ۔
” کیا چاہتے ہو خدارا بول دو اب “
ادینہ نے روہانسی آواز میں کہا وہ دیوار سے لگی آنکھیں بند کیے کھڑی تھی ۔ میسم اب بلکل سامنے آ چکا تھا ۔ اور اس کی حالت پر ہنسی آ رہی تھی ۔ نیلے رنگ کے جوڑے میں دمکتی سفید رنگت لیے اس وقت وہ اسے سفید چوہیا لگی۔ اب وہ چوہے کو اس کے چہرےکے قریب کیے دونوں کی شکل کا موازنہ کر رہا تھا
” چاہتا تو میں بہت کچھ ہوں تم سے “
میسم نے چوہے کو دھیرے سے ہلاتے ہوۓ ایک نظر اس پر ڈالی اور پھر دانت پیس کر ادینہ کی طرف دیکھا ۔ جو دھیرے دھیرے کانپ رہی تھی ۔
” سب کروں گی بولو سب کروں گی “
ادینہ نے ہاتھ جوڑ کر بے چارگی سے کہا ۔ میسم نے دانت نکالے اور جیب سے شاپر نکالا ۔
” ٹھیک ہے پھر رکھ دیتا ہوں یہ واپس “
2
بڑے پرسکون انداز میں کہتے ہوۓ وہ چوہے کو شاپر کے اندر ڈالتے ہوۓ بولا ۔ ادینہ نے سکھ کا سانس لیا ۔
” میں باہر جا رہا ہوں کھیلنے “
پورے دانت نکال کر ادینہ کی طرف دیکھا ۔ اور بھنوں کو شرارت سے اوپر نیچے کیا۔ جبکہ لبوں پر فاتحانہ مسکراہٹ تھی
“ تو ؟“
ادینہ نے ابرٶ چڑھاۓ اور اوپر والے ہونٹ کا کچھ حصہ بھی ناگواری سے اوپر کیا ۔ میسم سیاہ رنگ کی شرٹ پہن کر اور سانولہ لگ رہا تھا ۔ شام ہو دوپہر ہو بس کرکٹ کرکٹ کالا کوا لگتا تھا اسے وہ ۔ ادینہ نے ناگوار نظر ڈالی
” تو یہ کہ میری دشمن تم ہو اس پورے گھر میں ابا گۓ ہوۓ ہیں خبردار جو تم نے یہ بات ان تک پہنچاٸ “
میسم نے دانت پیس کر کہا اور خبردار کرنے کے انداز میں شاپر کو اوپر کیا ۔ ادینہ نے جھرجھری لی ۔ اس کا سر زور زور سے اثبات میں ہلنے لگا ۔
” اگر ایسا ہوا تو یاد رکھنا یہ چوہا تمھاری کتاب میں رکھ کر اوپر بیٹھ جاٶں گا “
میسم نے تیز تیز کہا وہ پوری آنکھیں کھولے ادینہ کے قریب ہوا تھا ۔ اور پھر آنکھیں سکیڑے خبردار کر دینے کے انداز میں کہہ رہا تھا ۔جبکہ ادینہ کی آنکھوں کے آگے اس کی کتاب میں مسلا ہوا چوہا گھوم گیا ۔
” اٶیۓ۔ے۔ے۔ے۔ے۔“
ابکاٸ کی آواز نکالتے ہوۓ منہ کے آگے ہاتھ رکھا ۔ اس کی حالت غیر ہو چکی تھی اور دل اس بری طرح متلایا کہ وہ بھاگتی ہوٸ قریبی بیت الخلا کی طرف بڑھی ۔ میسم بھی قہقہ لگاتا اب اس کے پیچھے ہی تھا ۔
” دفعہ ہو جاٶ میری بلا سے جو مرضی کرو “
ادینہ بری طرح ابکاٸ کرنے کے انداز میں جھکی آوازیں نکال رہی تھی بمشکل الفاظ ادا کیے ۔ دل کچھ ہلکا ہوا تو پھر غصے سے کلی کرتی باہر آٸ ۔
” گڈ گرل “
میسم نے مسکرا کر کہا ۔ جبکہ وہ تو اب کھاجانے والی نظروں سے اسے دیکھ رہی تھی ۔
” چلو میرے بلیک بے بی پیاری سی آنٹی کو باۓ بول دو “
میسم نے پھر سے شاپنگ بیگ ادینہ کے قریب کیا ۔ باز آ جانے والوں میں سے تو وہ بھی نہیں تھا ۔
” دفعہ ہو جاٶ۔و۔و۔و۔و۔“
ادینہ نے اب کی بار اسے دھکا دیا ۔ وہ ہنستے ہوۓ چند قدم پیچھے ہوا ۔
” جا رہا ہوں اتنا بھاٶ کیوں کھا رہی ہو “
میسم نے خود کو گرنے سے سنبھالتے ہوۓ کہا ۔ پھر سیٹی بجاتا ہوا مڑا ۔ ادینہ نے ابھی سکون کی سانس لیا ہی تھا کہ وہ پھر سے پلٹا ۔
” عجیب ہے ویسے ایک بات ہے ڈاکٹر کیسے بنو گی تم ؟“
مصنوعی حیرانگی ظاہر کرتے ہوۓ کہا ۔ ادینہ نے رونے جیسے شکل بنا لی تھی جان ہی نہیں چھوڑ رہا تھا ڈھیٹ تو وہ بچپن سے تھا ۔
” دفعہ ہو جاٶ یہاں سے “
ادینہ کی آواز اب پھٹ رہی تھی ۔ اپنی پوری قوت لگا کر وہ چیخی ۔
” اچھا اچھا جا رہا ہوں “
میسم نے ہاتھ کے اشارے سے تسلی دی ۔ مسکراہٹ دباٸ
” ایسا بھی کیا کر دیا میں نے مرا ہوا ہے بے چارا پتاہے جب زندہ تھا مجھے تو تب بھی خوف نہیں آیا “
معصوم سی شکل بنا کر کہا اور شاپر کھول کر پھر سے دیکھا ۔ اور ادینہ کی طرف شاپر اس انداز سے بڑھایا جیسے کہہ رہا ہو لو تم بھی دیکھو ۔
” امی!!!!!!!!!“
ادینہ دونوں ہاتھوں کی مٹھایاں بھینچ کر اس قدر زور سے چیخی کہ اب کی بار وہ واقعی گڑ بڑا گیا ۔ ڈر تھا کہ عزرا پھپھو کی جگہ احمد میاں ہی نہ اٹھ جاٸیں ۔
” اچھا ۔۔اچھا جا رہا ہوں“
جلدی سے تیز تیز قدم اٹھاتا وہ دوسرے پورشن کے زینے اتر رہا تھا ۔ اور ادینہ روہانسی ہاری ہوٸ صورت بناۓ گہرے گہرے سانس لے رہی تھی ۔ آنکھوں میں موٹے موٹے آنسو اور زبان پر میسم کے لیے تعریفی القابات تھے ۔
*******
” آٶٹ نہیں ہو رہا یہ یار “
لڑکے نے پیر پٹخ کر پاس کھڑے لڑکے سے کہا ۔اور پھر سامنے وکٹ کے آگے بلا جماۓ کھڑے میسم کی طرف دیکھا ۔
” اٶۓ بات سن اس کو چھوڑ یہ نہیں ہونے والا آٶٹ تو دوسرے والے کو اڑا “
ساتھ کھڑے لڑکے نے گیند ہاتھ میں لیے کھڑے لڑکے کے کان کے قریب ہو کر کہا ۔خیر پور کے متوسط طبقے کے علاقے کے گراٶنڈ میں کرکٹ کھیلنے وہ آج پہلی دفعہ اپنے دوست کے کہنے پر آیا تھا۔ لیکن یہاں سامنے کھڑے میسم نام کے لڑکے نے بیٹنگ میں ذلیل کر دیا تھا ۔
وہ اوپنر کھلاڑی کے طور پر آیا تھا اور تب سے جما کھڑا تھا ۔ چھ اور چار سکور سے تو کم بنانے کا نام نہیں لے رہا تھا بمشکل دو دوسرے کھلاڑی آٶٹ کر سکی تھی ان کی ٹیم پر سکور ہی میسم کی وجہ سے بہت زیاہ ہو رہا تھا ۔
” باقی ٹیم کا کیا بھٸ کھیل ہی وہ رہا اکیلا “
لڑکے نے غصے سے کہتے ہوۓ تھوک ایک طرف پھینکا اور ہاتھ میں پکڑی گیند کو انگلیوں کی گرفت میں سیٹ کیا ۔ اس کی گیند بازی کے لیے وہ بہت مشہور تھا اس کا دوست بڑے شوق سے اسے اپنی ٹیم کے لیے کھیلنے کے لایا تھا ۔ پر یہاں میسم کی وجہ سے وہ پریشان ہو کر رہ گیا تھا ۔
” یہ ایسا ہی ہے بس دوسرے جو ساتھ ہیں ان کو سکور ہی نا بنانے دے اگر یہ ادھر جاتا پھر ہلتا ہی نہیں “
لڑکے نے آنکھیں گھماتے ہوۓ اسے مشورہ دیا تھا ۔
” خاک کروں ایسا جب بھی یہ ادھر آتا چھکے چوکے سے کم پر آتا ہی نہیں “
لڑکے نے لب کاٹتے ہوۓ بال پیچھے کیے ۔ دوسرے لڑکے نے بھی پریشان صورت بناٸ ۔ ایسے جیسے اس کی بات کی تصدیق کر رہا ہو ۔ وہ پھر سے گیند ہاتھ میں پکڑے میسم کی طرف بڑھ رہا تھا ۔ اور اب کی بار پھر وہ چھ سکور کی اونچاٸ میں گیند کو اچھال چکا تھا۔ اور پھر وہ رکنے والوں میں سے نہیں تھا ۔ دیکھتے ہی دیکھتے وہ اپنی ٹیم کو جیتا چکا تھا ۔ اور یہ سب وہ آج پہلے دن نہیں کر رہا تھا وہ ہمیشہ سے کھیلتا ہی ایسا تھا ۔ بلے بازی اس قدر شاندار تھی کے اچھے اچھوں کے چھکے چھوٹ جاتے تھے ۔ سکول اور کالج کی طرف سے بھی وہ ہمیشہ مراد سے چھپ کر کھیلتا تھا ۔ اس کو اگر کوٸ بندہ سپورٹ کرتا تھا تو وہ تھے جود احمد ۔
**********
”آواز آہستہ کرو اس کی “
ادینہ نے سر پر کھڑے ہو کر غصے میں کہا ۔ میسم ان کے پورشن میں ٹی وی پر کرکٹ میچ اونچی آواز میں لگاۓ بیٹھا تھا ۔ وہ بہت دیر سے پڑھنے کی کوشش میں سر گرداں آخر تھک کر باہر آٸ تھی ۔ وہ پرسکون ماحول میں پڑھنے کی عادی تھی اور کرکٹ کا شور تو ویسے ہی ناقابل برداشت تھا اسے ۔ میسم کے ساتھ ساتھ کرکٹ سے بھی نفرت ہو چکی تھی اسے ۔
” کیوں ؟“
میسم نے گردن موڑ کر مصروف سے انداز میں ادینہ پر ایک نظر ڈالی اور پھر نظریں ٹی وی پر جما دیں۔ آج بہت اہم پاکستان کا میچ تھا اور نیچے تو کرکٹ دیکھنا سختی سے منع تھا ۔اس لیے جب بھی کرکٹ میچ دیکھنا ہوتا تو میسم اور جواد اوپر کا ہی رخ کرتے تھے ۔ کیونکہ اس پورشن میں بڑے یعنی احمد میاں اور مراد بہت کم آتے تھے ۔
” میرا پیپر ہے کل اور بات سنو تمھارا بھی تو ہے کل پیپر “
ادینہ نے یاد آ جانے پر کمر پر ہاتھ دھر کر آنکھیں سکیڑ کر میسم کی طرف دیکھا ۔ اس کامنہ بھی حیرت سے کھل گیا تھا۔ کتنا لاپرواہ تھا وہ ایک وہ تھی جس کی جان پر بنی تھی دن رات ایک کیے ہوۓ تھی ۔
دونوں کے سالانہ امتحانات شروع ہو چکے تھے ۔ پارٹ ون کے پیپر میسم دے چکا تھا اور اب ادینہ کے ساتھ ساتھ پارٹ ٹو کے پیپر بھی دے رہا تھا ۔
” کر لی ہے میں نے تیاری “
لاپرواہی سے جواب ملا۔ وہ بڑے غور سے میچ دیکھنے میں مصروف تھا۔ بلکہ اتنا کھویا ہوا تھا جیسے خود اس بلے باز کی جگہ کھیل رہا ہو۔ ادینہ کو تپ چڑھی تھی اس کے اس انداز پر ۔
” نیچے جا کر دیکھو ٹی وی “
دانیہ نے ٹی وی کے آگے آ کر کہا۔ وہ ایک دم اچھل ہی پڑا تھا ۔ گھور کر اس کی طرف دیکھا ۔ جو بالوں کا بے ترتیب سا جوڑا بناۓ سرخ چہرہ لیے کھڑی تھی ۔
” کیوں یہیں دیکھوں گا تمہیں کیا تکلیف ہے تم نیچے چلی جاٶ “
میسم نے دانت پیس کر اسی کے انداز میں کہا ۔ ایک تو بچ بچا کر وہ اوپر آیا تھا۔ اور اب یہ آ کر حکم چلانے لگی تھی ۔
” نیچے بچے آۓ ہوۓ ہیں
اکیڈمی کے اتنا شور ہے مجھ سے نہیں پڑھا جاۓ گا “
ادینہ نے دانت پیس کر غصے سے کہا ۔ دل تو کر رہا تھا کچھ اٹھا کر اس کے سر میں دے مارے خود تو پڑھتا تھا نہیں دوسروں کو بھی پڑھنے نہیں دیتا تھا ۔
” اور تم دیکھ نہیں رہی شاٸد کتنا اہم میچ ہے آج اور آواز آہستہ کروں تو مجھے مزا نہیں آتا تم ایک کام کرو ذرا “
میسم نے رخ موڑ کر بازو صوفے پر ٹکا کر رازدانہ انداز میں کہا ۔
” تم کانوں میں روٸ ٹھونس کر پڑھ لو “
ہاتھ کو ہوا میں مار کر بڑے انداز سے کہا ۔ اور اپنی طرف سے بات ختم کر دی اریبہ کی بے ساختہ ہنسی امڈ آٸ۔ وہ جو کچن سے چاۓ کے دو کپ لیے آٸ تھی اب ان دونوں کی بحث پر دانت نکالتی ہوٸ صوفے پر بیٹھ چکی تھی ۔
” تم کیوں کھی کھی کر رہی ہو جاٶ اور نیچے سے ماموں مراد کو بلا کر لاٶ “
ادینہ نے حکمانہ انداز میں اریبہ سے کہا ۔ اریبہ نے فوراً ہنسی کو دبایا ۔ اور ہڑ بڑا کر اٹھی ۔
”اے ۔۔۔ چھٹنکی خبردار جو نیچے گٸ “
میسم نے غصے سے انگلی کا اشارہ کر کے اریبہ کو رکنے کے لیے کہا ۔ اریبہ جو اٹھ کر کھڑی ہوٸ تھی پھر سے بیٹھ گٸ ۔ اور منہ بنا کر ادینہ کی طرف دیکھا جس کے ناک کے نتھنے پھول چکے تھے ۔
” اریبہ جاٶ میں کہہ رہی ہوں “
دانیہ نے گلا پھاڑ کر چیختے ہوۓ کہا ۔ اریبہ پھر سے ڈر کر اٹھی ۔ میسم نے گھور کر ادینہ کی طرف اور پھر اریبہ کی طرف دیکھا ۔
” گٸ تو ٹانگیں توڑ دوں گا “
میسم نے بھی اونچی آواز میں کہا ۔ اریبہ نے دونوں کی طرف چڑ کر دیکھا ۔ اب اس کے چہرے کی حالت بھی ان دونوں جیسی ہی ہو چکی تھی ۔
” کیا ہے تم دونوں کو بھٸ بھاڑ میں جاٶ میری طرف سے میں تو اندر جا رہی ہوں “
اریبہ پیر پٹختی ہوٸ کمرے کی طرف بڑھ گٸ ۔ جبکہ وہ دونوں اب آنکھیں سکیڑے ایک دوسرے کو کھا جانے کے انداز میں دیکھ رہے تھے ۔
” رکو ذرا تمہیں بتاتی ہوں میں ۔ “
دانیہ تیزی سے زینے کی طرف بڑھی ہی تھی کہ سامنے سے ہانپتے ہوۓ جواد احمد کو دیکھ کر رک گٸ ۔ وہ شاٸد اپنی عمر کے حساب سے زیادہ تیز سیڑھیاں چڑھ کر اوپر پہنچے تھے ۔ ادینہ کے پاس سے لاپرواہ سے انداز میں گزرتے ہوۓ میسم کی طرف بڑھے ۔
” ہاں بھٸ کیا بنا پھر “
دونوں ہاتھوں کی ہتھیلوں کو مسلتے ہوۓ وہ پر جوش انداز میں میسم سے پوچھ رہے تھے ۔ وہ اور میسم پاکستان کے میچ پر ایسے ہی پرجوش ہوتے تھے ۔
” چاچو پہلے اس چڑیل کو روکیں جا رہی ہٹلر کو بلانے “
میسم نے ہاتھ کا اشارہ ادینہ کی طرف کرتے ہوۓ کہا ۔ جواد نے اب جا کر ادینہ کی موجودگی کو محسوس کیا تھا ۔
” دانی کیا مسٸلہ ہے بھٸ “
جواد نے ادینہ کی طرف رخ کیا۔ وہ ادینہ کو پیار سے دانی ہی کہتے تھے ۔ ادینہ منہ بسور کر رہ گٸ پیر پٹختی دانت پیستی وہ جواد کے قریب آٸ ۔
” ماموں بھٸ آپ نیچے چلے جاٸیں نہ میرا پیپر ہے اتنی اونچی اس جاہل نے آواز کر رکھی ہے “
ادینہ چڑیل کہنے پر تپ گٸ تھی ۔ غصے سے میسم کی طرف دیکھ کر کہا ۔ لیکن وہ اس وقت مزید اس کے ساتھ لڑنے کا سارا موڈ ترک کیے میچ دیکھنے میں مصروف تھا ۔
” میری بات سنو گڑیا ۔ تم جاٶ نیچے ابا جی سو رہے ہیں کوٸ نہیں ہے نیچے بھابھی اور عزرا بازار گٸ ہوٸ میرے کمرے میں جا کر پڑھ شاباش “
جواد نے پچکارتے ہوۓ ادینہ سے کہا ۔ ادینہ نے خفگی بھرے انداز میں دیکھا تو جواد نے التجا کے انداز میں آنکھوں سے اسے جانے کا اشارہ کیا تھا ۔ہر دفعہ اس کے ساتھ ایسا ہی ہوتا تھا ۔ وہ جیت جاتا تھا ۔
” ماموں !!!!!“
ادنیہ نے بےچارگی سے جواد کی طرف دیکھا ۔ جواد نے پھر پچکارنے کے انداز میں اس کی طرف دیکھا ۔
” جاٶ شاباش “
وہ ہاتھ کے اشارے سے اسے جانے کے لیے کہہ رہے تھے ۔ اور وہ چارو نا چار کتاب اٹھا کر نیچے چل دی تھی جواد ماموں کی وجہ سے اب وہ مراد احمد کو شکاٸت نہیں لگا سکتی تھی ۔

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: