Maqsoom Novel by Huma Waqas – Episode 20

0
مقسوم از ہما وقاص – قسط نمبر 20

–**–**–

” کیا “
توقیر حیرت سے کھڑا ہوا ۔ فراز کی طرح اب اس کے چہرے پر بھی حیرت کے ساتھ ساتھ پریشانی در آٸ تھی ۔ وہ اپنے کمرے میں چاۓ پینے میں مصروف تھا جب فراز بوکھلایا سا آیا ۔
” جی بلکل ایسا ہوا ہے یہ رپورٹ دیکھیں “
فراز نے آہستہ سے شرمندہ آواز میں کہتے ہوۓ ۔ ہاتھ میں پکڑا سفید کاغز توقیر کی طرف بڑھایا ۔ توقیر کی نظریں اب کاغز پر دوڑ رہی تھیں جہاں صاف صاف لکھا تھا کہ میسم مراد نے اپنا انرجی لیول بڑھانے کے لیے میڈیسن لی ہے ۔
” میسم کہاں ہے فوراً بلاٶ اسے “
نچلے لب کو بے دردری سے دانتوں میں لے کر کھینچا اور فراز کی طرف دیکھا ۔ فراز گردن ہلاتا ہوا ایک طرف بڑھ گیا۔
********
ٹی وی پر چلتی خبر پر وہ حیران سی ہوتی پاس پڑے صوفے پر ایک طرف بیٹھ گٸ تھی۔ اس کی آج ناٸٹ شفٹ تھی ابھی ہاسپٹل پہنچ کر وہ ڈاکٹر عابد کے ساتھ راٶنڈ پر ہی تھی جب ماہ رخ اسے زبردستی کھینچتی ہوٸ سٹاف روم میں لے آٸ تھی جہاں سامنے ٹی وی سکرین پر اینکر بریکنگ نیوز دینے میں مصروف تھی۔
”قومی ٹیم کے اوپنر بیٹسمنین میسم مراد کا ڈوپ ٹیسٹ مثبت آگیا ،پی سی بی کی ایک کمیٹی اس حوالے سے تحقیقات کر رہی ہے ۔“
اینکر کے ہر لفظ پر ادینہ کے ماتھے کے بل حیرت سے اور پریشانی سے بڑھ رہے تھے۔ ایسا کبھی ہو ہی نہیں سکتا تھا دل کو میسم پر اندھا اعتماد تھا ۔ ٹی وی سکرین پر بار بار پریشان سے میسم کو دکھا رہے تھے جو شاٸد ہاتھ اٹھا کر کسی شخص سے بات کر رہا تھا جس میں وہ بے حد پریشان لگ رہا تھا ۔ ادینہ کے دل کو جیسے کسی نے مٹھی میں لیا میسم کی پریشانی اس کا پریشان چہرہ دل کو تکلیف دے رہا تھا ۔
”میسم مراد کا ڈوپ ٹیسٹ مثبت آنے کے باعث انہیں پانچ ماہ یا اس سے زائد وقت کی پابندی کا سامنا کرنا پڑسکتا ہے۔خیال رہے کہ بورڈ تحقیقات کرے گا کہ انہوں نے کونسی ممنوعہ دوا کب اور کیوں استعمال کی تاہم میسم مراد کو بھی موقف پیش کرنے کا موقع دیا جائے گا پھر ان کی سزا کا تعین ہوگا۔“
اینکر بول رہی تھی ادینہ بے چینی سے ہونٹوں پر ہاتھ رکھے بیٹھی تھی پاس بیٹھی ماہ رخ کی پریشانی کا بھی کچھ یہی حال تھا ۔ بار بار سکرین پر نیوز کو دہرایا جا رہا تھا اور میسم کی پریشان صورت دکھاٸ جا رہی تھی۔
”واضح رہے کہ آئی سی سی نے نومبر 2015 میں پاکستانی لیگ اسپنر باسط گل کو ڈوپنگ پر معطل کر دیا تھا، انہیں 3 سال کی پابندی بھگتنا پڑی تھی جب کہ پاکستان کے ارشد علی ، عابد درید ، اختر علی اور وجاہت حسن کا بھی ماضی میں ڈوپ ٹیسٹ مثبت آ چکا ہے۔“
نیوز اینکر روانی سے بول رہی تھی ادینہ نے روہانسی سی صورت بنا کر پاس بیٹھی ماہ رخ کی طرف دیکھا جو خود حیرت زدہ سا پریشان چہرہ لیے بیٹھی تھی ۔
********
” سر میں نے کوٸ ڈرگز نہیں لی ہیں “
میسم نے بالوں میں ہاتھ پھیرا اور پریشان سے لہجے میں سامنے بیٹھے توقیر عامر کی طرف دیکھا جو اس سے بھی زیادہ پریشان صورت بناۓ بیٹھا تھا ۔ ہاتھ میں رپورٹ کا کاغز پکڑے وہ بار بار رپورٹ پر نظر ڈال رہا تھا ۔ انکواٸری روم میں اب صرف وہ دو لوگ موجود تھے ۔ انکواٸری ٹیم اب اٹھ کر جاچکی تھی ۔
” آپکا ٹیسٹ پوزیٹو ہے اب کیسے یقین دلاٸیں سب کو اوپر سے کل میچ میں صرف تمھاری وجہ سے جیت ممکن ہوٸ تھی تم نے اتنا سکور کیا یہ ضرور آسٹریلیا کی ٹیم نے آٸ سی سی پر تمھاری ڈوپنگ کا شبہ ظاہر کیا ہے “
توقیر نے کاغز کی طرف نظریں جماٸیں ۔ میسم نے بے یقینی سے توقیر کی طرف دیکھا کیا وہ بھی اس کا یقین نہیں کر رہے تھے وہ صبح سے صفاٸ دے دے کر تھک چکا تھا ۔
” سر مجھے معلوم نہیں یہ کیسے ہوا سب “
میسم نے ہاتھ کا اشارہ پیپر کی طرف کیا گلا بار بار خشک ہو رہا تھا پیشانی پر ذہن پر بار بار زور ڈالنے کی وجہ سے شکن پڑے ہوۓ تھے۔
” پر تم یہ ورلڈ کپ اب نہیں کھیل سکیں گے مجھے اس بات سے زیادہ پریشانی ہو رہی میں بہت خوش تھا کہ اس دفعہ تم ٹیم میں موجود ہو تو شاٸد ہم کپ جیت سکیں گے “
توقیر نے آہستہ سی آواز میں کہا اور پھر گہری سانس لیتے ہوۓ کرسی کی پشت سے سر ٹکایا ۔
” توقیر سر مجھے میرا موقف پیش کرنے دیں میں جھوٹ نہیں بول رہا مجھے ایسا لگتا ہے یہ ڈرگز مجھے دھوکے سے دی گٸ ہیں “
میسم نے پریشان سے لہجے میں الجھ کر کہا توقیر اب غور سے میسم کی طرف دیکھ رہا تھا ۔
” میسم ذہن پر زور ڈالو پچھلے کچھ دنوں میں بیمار ہوۓ ہو تو دواٸ باہر سی لی ہو“
توقیر نے پرسوچ انداز میں اسے ذہن پر زور ڈالنے کا کہا وہ پہلے سے ہی اپنے سر کو دونوں ہاتھوں میں جکڑے بیٹھا ہوا تھا ۔
” لیکن یہ ہوا کیسے میں تو بیمار بھی نہیں ہوا “
میسم نے پریشان سے لہجے میں کہتے ہوۓ ذہن پر زور ڈالا لیکن ایسا کچھ بھی یاد نہیں آ رہا تھا ۔ دل عجیب طرح گھٹن کا شکار تھا ۔ دماغ ساٸیں ساٸیں کر رہا تھا شرمندگی الگ سے تھی۔ توقیر اب کرسی پر سے اٹھ کر کھڑا ہو چکا تھا ۔
” اچھا پریشان نہ ہو اللہ بہتر کرے گا اگر یہ سب تمھارے خلاف سازش ہے تو بہت جلد بے نقاب ہو گی “
توقیر نے میسم کے کندھے پر ہاتھ رکھے کہا اور پھر کمرے سے باہر نکل گیا ۔ اور وہیں خالی انکواٸری روم میں سر جھکاۓ بیٹھا تھا۔
*********
مراد احمد ٹی وی سکرین پر تمام نیوز چینل بدلتے بدلتے ایک پر رک گۓ تھے ۔ سارے گھر والے اداس صورت بناۓ ٹی وی کے سامنے بیٹھے تھے ۔ رابعہ عزرا تو باقاعدہ رو رہی تھیں کوٸ صحافی سڑک چلتے مختلف لوگوں سے میسم کی ڈوپنگ پر اظہار راۓ لے رہا تھا ۔
” میں تو پہلے بھی سوچتا تھا کہ اتنی پاور اتنی انرجی دال میں کچھ تو کالا ہے “
کمر پر ہاتھ دھرے چالیس کے لگ بھگ شخص ماٸک میں کہہ رہا تھا ۔ سکرین بدلی ۔
” لڑکا دو دو سینچری مار رہا ہے کچھ تو سچ لگتا ہے ڈوپ ٹیسٹ میں “
سر کو زور زور سے ہلا کر ادھیڑ عمر شخص نے مسکراتے ہوۓ کہا ۔سکرین بدلی ۔
” دیکھیں یہ ہمارے پاکستانی کھلاڑیوں کا المیہ ہے جی بال ٹرمپنگ دوسرا بال تیسرا بال یہ سب ان کی ایجادات ہیں جناب باپ ہیں یہ سب اور پھر ڈوپنگ اور کبھی میچ فکسنگ بس یہی سب دیکھتے آ رہے ہیں “
باٸیس سالہ لڑکا جوش میں ماٸک پر جھکا بول رہا تھا ۔ سکرین بدلی
” نام ہی ڈوبو دیتے ہیں پاکستان کا اور کیا کہوں “
عورت نے ناگواری سے ناک چڑھاٸ ۔ سکرین بدلی
”شاٸد ہو سکتا ہے وہ پہلےبھی لیتا رہا ہو کیا کہا جا سکتا ہے جی “
پچاس سال کے لگ بھگ آدمی نے کندھے اچکاۓ ۔ سکرین بدلی
” اوہ بات سنیں سر پاکستانی دو نمبر کام میں ہے ہی آگے کس کس کو پکڑو پچھلے ورلڈ کپ میں باسط تھا اس میں یہ جس سے امید جوڑ لو سالا وہی ایسا نکل آتا “
پان کی پچکاری مار کر چبھیس سالہ لڑکے نے جوش سے کہتے ہوۓ ماتھے پر شکن ڈالے ۔
*********
خوبصورت سے لاونج میں لگی بہت بڑی فلیٹ پینل ٹی وی سکرین پر نظریں جماۓ وہ اداس سی بیٹھی تھی آنسو آنکھوں میں چمک رہے تھے ۔
” چھبیس سالہ میسم مراد کا ستارہ گردش میں ڈوپ ٹیسٹ مثبت ہونے کی وجہ سے اٸ سی سی اور پی سی بی نے ان پر فلحال پانچ ماہ تک کسی بھی طرح کی انٹرنیشنل اور ڈومیسٹک کرکٹ کھیلنے پر پابندی عاٸد کر دی ہے اور انھیں پاکستان واپس بھیجنے کا فیصلا کر دیا گیا ہے “
اینکر نے ہاتھ باندھ کر سامنے رکھے میز پر دھرے اور روانی سے خبر کو پڑھا ۔ میسم کو اٸیر پورٹ پر دکھایا جا رہا تھا وہ شرمندہ سا سر جھکاۓ ہوۓ تھا ۔
” میسم مراد سپرلیگ سے بہترین کارکردگی دیکھا کر قومی ٹیم کا حصہ بننے والے واحد کھلاڑی ہیں “
اینکر روانی سے بول رہا تھا ساتھ ساتھ میسم کی پچھلے میچز کی کاکردگی دکھاٸ جا رہی تھی ۔ اور کبھی ایک طرف پریشان حال میسم جو اٸیر پورٹ پر واپسی کے لیے کھڑا تھا ۔ ادینہ نے گال پر لڑھک آنے والے آنسو صاف کیے ۔ اور چینل بدلہ
” ابھی تک وہ پانچ ٹیسٹ دس ون ڈے اور بیس ٹی ٹوینٹی کھیل چکے ہیں جن میں وہ بہترین کارکردگی دکھاتے ہوۓ پورے پاکستان میں اپنا نام بنا چکے ہیں “
دوسرے چینل پر بھی میسم کے متعلق ہی خبر چل رہی تھی ۔ ادینہ کا دل جیسے کوٸ دبوچ رہا تھا ۔
” پانچ ماہ کی پابندی میں تحقیقات کے بعد ان کے حق میں فاٸنل فیصلہ اٸ سی سی دے گی “
اینکر نے سنجیدہ سی شکل میں کہا ۔ ادینہ نے جلدی سے ٹی بند کر دیا بس اب اور دیکھا نہیں جا رہا تھا ۔
********
” میسم دیکھ دل چھوٹا بلکل نہیں کرنا تحقیقات ہونے دے مجھے پتا ہے کہ کوٸ قصور نہیں تمھارا “
اسد نے میسم کے کندھے پر ہاتھ رکھ کر کہا اور پھر زور سے گلے لگایا ۔ وہ ہاتھ میں کیری بیگ کا ہینڈل تھامے اداس سی شکل بناۓ کھڑا تھا ۔ شیو ان تین دنوں میں زیادہ بڑھ گٸ تھی۔
” پر یہ میرا پہلا ورلڈ کپ تھا اسد بھاٸ “
گہری سانس لے کر اوپر آسمان کی طرف دیکھا ۔ دل میں ٹیس اٹھی تھی سب ختم تھا ۔ اناٶنسمنٹ ہونے لگی تھی ۔
” کوٸ بات نہیں سب سب کلیر ہو جاۓ گا ایسے بہت سے ورلڈ کپ اور آٸیں گے میری جان “
طلحہ نے زور سے گلے لگایا۔ میسم کے لبوں پر پھیکی سی مسکراہٹ ابھری ۔ خود کو طلحہ سے الگ کیا ۔
” ہاں پر سب کی نظروں میں اور دل میں میرا وہ مقام نہیں رہے گا “
بہت دور سے آتی ہوٸ آواز تھی ۔ ضبط کی وجہ سے چہرہ سرخ ہو رہا تھا ۔
” میسم پلیز ہمت کر “
اسد نے آگے بڑھ کر کندھے کو زور سے تھاما۔ اناٶنسمنٹ پھر سے ہونے لگی تھی ۔
*******
” ایکسکیوزمی میم ایکسکیوزمی بس دو منٹ “
ماٸک تھامے آدمی ادینہ کے بلکل سامنے آ گیا تھا وہ ابھی ہاسپٹل سے باہر ہی نکلی تھی جب سامنے سے دو لڑکے اس کی طرف لپکے ایک کے ہاتھ میں ماٸک تھا تو دوسرا کیمرہ کو کاندھے پر ٹکاۓ ہوۓ تھا وہ کسی چینل سے تھے شاٸد ۔
”میم پلیز آپ کیا کہتی ہیں اپنے ہیزبینڈ کے ڈوپنگ ایشو کے بارے میں “
صحافی نے ادینہ کے ساتھ قدم ملاتے ہوۓ تیزی سے کہا ۔ ادینہ نے سر جھکا کر قدموں کی رفتار اور تیز کر دی ۔ پیشانی پر شکن نمودار ہوۓ تھے
” میم آپ ڈاکٹر ہیں کیا وہ پہلے بھی اسطرح کی انرجی ڈرگز لیتے رہے ہیں کیا “
دوسی طرف سے اچانک ایک اور چینل کا صحافی نمودار ہو ا ادینہ ایک دم سے رکی ناگواری سے دونوں کی طرف دیکھا ۔
” I am absolutely convinced of my husband that my husband can never do this this is a conspiracy against him just conspiracy ”
” مجھے میرے شوہر پر پورا یقین ہے میرے شوہر کبھی ایسا نہیں کر سکتے ان کے خلاف سازش ہے یہ سراسر سازش “
ادینہ نے دانت پیستے ہوۓ کہا ۔
” ایکسکیوزمی “
ادینہ نے کندھے کو تھوڑا سا خم دے کر سر جھکایا اور قدم آگے بڑھاۓ پر صحافی ساتھ ساتھ چلنا شروع ہو چکے تھے ۔
” میم آپ یہ سب کیسے اتنی شٸور ہو کر کہہ سکتی ہیں “
صحافی نے تیزی سے کہتے ہوۓ ادینہ کے چہرے کے سامنے پھر سے ماٸک کیا۔ ادینہ کے چلتے قدم پھر سے تھم گۓ ۔ ہاسپٹل کے گارڈ اب ادینہ کی مدد کے لیے وہاں پہنچ چکے تھے ۔ آس پاس کے لوگ بھی متوجہ ہو چکے تھے اور صحافیو کے گرد اکھٹا ہونے لگے تھے ۔
” میں انہیں جانتی ہوں تب سے جب وہ یہ سب نہیں تھے کرکٹ ان کی پہلی محبت ہے اور محبت کے حصول کے لیے وہ کبھی غلط راستہ اختیار نہیں کرسکتے “
ادینہ نے پرسکون لہجے میں کیمرے کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر کہا ۔ اور دل جانتا تھا وہ سچ کہہ رہی ہے گھر کی تیسری منزل تک گیند صرف اسکا میسم ہی پہنچایا کرتا تھا ۔ اس نے چلنے سے پہلے بلے کو درست پوزیشن میں پکڑنا سیکھ لیا تھا ۔ پڑھاٸ کے وقت بھی جو کتابوں میں چھپا کر گیند سے کھیلتا رہتا تھا وہ اس کھیل سے غداری کیسے کر سکتا تھا ۔
” میرے شوہر نے سب کچھ اپنی ہمت محنت اور لگن کے بل بوتے پر حاصل کیا ہے “
ادینہ نے گردن کو تھوڑا اوپر کیا اس کی آواز میں اس کا عتماد اس کا پیار جھلک رہا تھا۔ آنکھوں میں میسم کی تکلیف اس کے دکھ کی وجہ سے نمی تھی ۔
” میم پھر ڈوپ ٹیسٹ کیوں پوزیٹو آیا اس کے بارے میں کیا کہیں گی آپ “
دوسرے چینل کے صحافی نے بھی اپنا سوال داغا ۔ ادینہ نے پیشانی پر ہلکے سے شکن ڈالے ۔ آنسوٶں کو چھلک جانے سے بمشکل روکا ۔
” جیسا کہ میرے شوہر نے کہا ان کے خلاف سازش ہے یہ سب انہوں نے کوٸ ڈرگز نہیں لی یہ ڈوپ ٹیسٹ جھوٹا ہے اور میں جانتی ہوں وہ کبھی جھوٹ نہیں بولتے “
ادینہ نے پر اعتماد اندز میں کہا ۔ اور تیزی سے قدم آگے بڑھا دیے گارڈ اب ادینہ کے ارد گرد چل رہے تھے اور صحافیوں کو دور کر رہے تھے ۔
” تو یہ تو آپ آٸ سی سی کو غلط کہہ رہی ہیں میم ؟“
صحافی نے ساتھ ساتھ قدم ملاتے ہوۓ تیزی سے کہا۔ ادینہ نے چلنا اور تیز کر دیا تھا گال تپنے لگے تھے ۔
” میم یہ تو آپ وہاں کی لیب کو غلط کہہ رہی ہیں ؟“
صحافی بار بار اسی سوال کو دہرا رہا تھا۔ اور ہاسپٹل کی گیٹ سے لے کر سڑک تک کی راہداری پر وہ تیز تیز قدم ادینہ کے ساتھ اٹھا رہے تھے ۔ ادینہ کیب کو پہلے سے ہی بلوا چکی تھی جو کب سے انتظار میں تھی ۔
” no more question please”
ادینہ نے ہاتھ ہوا میں اٹھاتے ہوۓ تیزی سے کہا کیب سامنے ہی کھڑی تھی جلدی سے اس میں بیٹھ کر ڈراٸیور کو چلنے کا اشارہ کیا اور سر سیٹ کی پشت سے ٹکا دیا ۔ آنسو اب بہنے سے اور زیادہ نہیں رک سکتے تھے ۔ اگر مجھے اتنا دکھ اتنی تکلیف ہو رہی ہے تو میسم کا کیا حال ہو گا دل کو کوٸ مٹھی میں بھر کر دبوچ رہا تھا ۔ گرم سیال آنکھ سے بہہ کر گال بھگو رہا تھا ۔
*******
وہ جیسے ہی اٸرپورٹ سے باہر نکلا تو بہت سے انتظار میں کھڑے صحافی لپک پڑے تھے اسی بات کے پیش نظر پی سی بی نے میسم کو اٸیر پورٹ پر سکیورٹی فراہم کی تھی تین گارڈ میسم کے آگے پیچھے اسے تحافظ دیے ہوۓ تھے اور اب آگے بڑھتے صحافیوں کو بھی میسم سے دور رکھنے کے لیے بازو حاٸل کر رہے تھے میسم سیاہ گلاسز لگاۓ سر جھکاۓ سامنے کھڑی گاڑی کی طرف بڑھ رہا تھا۔ جس نے اسے تحافظ سے گھر تک پہنچانا تھا ۔
” سر سر کچھ کہنا چاہیں گے آپ “
صحافی تیز تیز قدم ساتھ ملا رہے تھے ۔ میسم لب بھینچے خاموشی سے چل رہا تھا ۔ سکیورٹی گارڈز بازو آگے کرتے ہوۓ میسم کو گھیرے ہوۓ چل رہے تھے۔
” سر آپ کہہ رہے ہیں آپ کے خلاف سازش ہے لیکن اسے ثابت کریں “
دوسرا صحافی بول رہا تھا اور اس طرح کے ڈھیروں دل کو چھلنی کر دینے والے سوالات ارد گرد سے اس پر کیچڑ کی طرح اچھالے جا رہے تھے ۔ چہرہ تزلیل کے احساس سے سرخ پڑ رہا تھا اس نے کبھی سوچا بھی نہیں تھا اسے ایسے وقت کا بھی سامنا کرنے پڑے گا ۔
” سر کون لوگ ہیں آپکےخیال میں اس سب کے پیچھے اور آپکے ساتھ کوٸ کیوں ایسا کرے گا “
میسم کار تک پہنچ چکا تھا ۔ جلدی سے پچھلی سیٹ کا دروازہ کھولا ۔ اس کے کار میں بیٹھتے ہی اب گارڈ کار کے سامنے لگی بھیڑ کو ہٹا رہے تھے ۔
” سر سر بات سنیں “
صحافی اب کار کی کھڑکیوں سے جھانک رہے تھے ۔ شیشہ اوپر چڑھ رہ تھا اور صحافی دونوں اطراف سے ہاتھ رکھتے ہوۓ شیشوں کو اوپر ہونے سے روک رہے تھے ۔ کار آہستہ سے آگے بڑھنے لگی تھی ۔
” سر ایک منٹ “
صحافی اب کار کے پیچھے چل رہے تھے کار کی رفتار جیسے ہی تیز ہوٸ سارے مایوس سی شکل بناۓ اپنے اپنے کیمروں کے آگے کھڑے ہو چکے تھے ۔
*******
کب کس وقت یہ دواٸ مجھے کھلاٸ گٸ یا انجیکٹ کی گٸ ۔ وہ ٹی وی سکرین پر نظر جماۓ ذہن پر زور دے رہا تھا
لاٶنج میں لگے صوفے پر بیٹھا تھا ادینہ کھانے کے میز پر برتن رکھتے ہوۓ بار بار میسم کی طرف دیکھ رہی تھی ۔ وہ کچھ دیر پہلے ہی گھر پہنچا تھا ۔ نظریں چراتا سا شرمندہ سا تھکا سا وہ فقط سلام کرنے کے بعد کمرے میں چلا گیا تھا اور اب کپڑے تبدیل کرنے کے بعد وہ ایک گھنٹے سے ٹی وی کے سامنے بیٹھا تھا کھویا سا بکھرا سا جس کو دیکھ دیکھ کر ادینہ کے دل میں ٹیس اٹھ رہی تھی ۔
ہاں وہ پانی ذہن میں جیسے جھماکہ ہوا سڈنی سٹڈیم میں سینچری کے بعد اسے پانی پلانے آیا تھا کوٸ لڑکا ہاتھ میں بوتل تھی اور بازو پر ٹاول بوتل سیل بند تھی ہاں سیل بند تھی اس کا کیپ میں نے ہی کھولا تھا پر پانی کا ٹیسٹ عجیب تھا پر پیاس کی وجہ سے پی گیا تھا میں اوہ خدایا ۔
ذہن میں کچھ ٹھک ٹھک کرنے لگا تھا ۔
” میسم کھانا کھا لیں “
ادینہ کی آہستہ سی آواز پر وہ خیالوں سے باہر آیا ذہن میں جیسے ہتھوڑے چلنے لگے تھے مطلب جو کوٸ بھی تھا وہ پاکستانی ٹیم میں سے تھا ۔جھماکے سے فواد کا اور شازل کا چہرہ نظروں کے سامنے گھوم گیا ۔
” بھوک نہیں ہے تم کھا لو “
کھوٸ سی آواز میں ادینہ کی طرف دیکھے بنا اسے جواب دیا ۔ ادینہ نے اداس سی صورت بنا کر دیکھا ۔ ایک نظر سامنے چلتے ٹی وی پر ڈالی ٹی وی سکرین پر مختلف لوگ میسم کے خلاف بول رہے تھے ۔ کیوں دیکھ رہے ہیں یہ سب ادینہ نے بچارگی سے ٹی وی کی طرف دیکھا ۔
” میسم یہ مت دیکھیں نہ زیادہ پریشان ہوں گے آپ “
ادینہ نے آہستہ سی آواز میں کہتے ہوۓ تھوڑا ساآگے ہو کر میسم کے چہرے کی طرف دیکھا ۔ پر وہ تو ویسے ہی بیٹھا تھا ۔ چہرے پر بلا کی پریشانی تھی تو پیشانی پر شکن تھے ۔
” میسم بند کریں اسے “
ادینہ نے میسم کے ہاتھ سے ریموٹ کھینچا ۔ اور ٹی وی بند کر دیا ۔ وہ جو سوچوں میں الجھا بیٹھا تھا ایک دم سے جیسے دماغ پھٹنے پر آیا ۔
” کیا مسٸلہ ہے تمھارے ساتھ “
غصے سے دھاڑا ۔ وہ جو ٹی بند کرنے کے بعد مڑی ہی تھی میسم کی اتنی اونچی آواز پر لرز گٸ ۔ وہ آنکھوں میں خون سا بھرے ماتھے پر بل ڈالے اسے ناگواری سے گھور رہا تھا ۔
” جاٶ سو جاٶ جا کر میرا دماغ مت کھاٶ “
غصے سے ادینہ کے ہاتھ سے ٹی وی کا ریموٹ کھینچا اور پھر سے ٹی وی آن کیا ۔ ادینہ کا دل جیسے کسی نے آری سے کاٹ دیا تھا تکلیف اس کے اس رویے کی نہیں اس کے دکھ کی تھی ۔وہ بہت پریشان تھا اور اس کی پریشانی ادینہ کے لیے سوہان روح تھی ۔
ادینہ کچھ دیر کھڑی یوں ہی اُسے دیکھتی رہی پھر کھانے کے میز پر لگے برتن سمیٹ کر خاموشی سے کمرے کی طرف بڑھ گٸ ۔
انھوں نے سِیل بند بوتل میں میڈیسن کس طرح ڈالی ہو گی ۔ تھورڈی پر بے چینی سے ہاتھ پھیرا ۔ بے چینی سے لب کچلتے ٹی وی کے چینل تبدیل کیے اور ایک جگہ ہاتھ تھم گۓ ۔ ادینہ سکرین پر ماٸک کے آگے بول رہی تھی۔
” مجھے میرے شوہر پر پورا یقین ہے میرے شوہر کبھی ایسا نہیں کر سکتے ان کے خلاف سازش ہے یہ سراسر سازش “
کتنا اعتماد تھا اس کے لہجے میں ۔ کتنی محبت تھی اس کے انداز میں ۔
” میں انہیں جانتی ہوں تب سے جب وہ یہ سب نہیں تھے کرکٹ ان کی پہلی محبت ہے اور محبت کے حصول کے لیے وہ کبھی غلط راستہ اختیار نہیں کرسکتے “
میسم نے شرمندگی سے سر جھکا لیا ۔ ادینہ کی آنکھوں میں چمکتے آنسو اور ان میں تیرتی اس کے لیے محبت صاف نظر آ رہی تھی۔ آنکھیں نم ہونے لگی تھیں ۔
” میرے شوہر نے سب کچھ اپنی ہمت محنت اور لگن کے بل بوتے پر حاصل کیا ہے “
اس کے الفاظ تھے پر وہ جانتا تھا یہ صرف الفاظ نہیں تھے اس کے منہ سے نکلا ہر لفظ اس کے دل پر مرہم رکھ رہا تھا ہر اس زخم پر جو تین دن سے اس کے دل پر لگ رہے تھے۔
” جیسا کہ میرے شوہر نے کہا ان کے خلاف سازش ہے یہ سب انہوں نے کوٸ ڈرگز نہیں لی یہ ڈوپ ٹیسٹ جھوٹا ہے اور میں جانتی ہوں وہ کبھی جھوٹ نہیں بولتے “
میسم نے آسمان کی طرف دیکھا آنکھوں کو جھپکا اور ٹی وی بند کیا صوفے کی پشت سے سر ٹکایا ۔ گود میں پڑے کشن کو ایک ہاتھ سے اٹھا کر ایک طرف مارا اور کمرے کی طرف قدم بڑھاۓ ۔
وہ بیڈ پر لیٹی تھی میسم کو دیکھتے ہی اٹھ کر بیٹھ گٸ ۔ حیران سی ہو کر اس کے جھکے شرمندہ سے چہرے کو دیکھا میسم بوجھل قدم اٹھاتا بیڈ پر آیا اور کچھ بھی کہے بنا اس کے گود میں سر رکھ کر لیٹ گیا ۔ اس کے یوں اچانک لیٹنے پر وہ سٹپٹا سی گٸ حیرت سے اس کے گود میں دھرے سر کی طرف دیکھا وہ بچوں کی طرح ٹانگوں کو سمیٹ کر ایک ہاتھ سے ادینہ کے گھٹنے کو تھام کر آنکھیں بند کیے لیٹا ہوا تھا ۔
ادینہ نے ہاتھ کو میسم کے سر پر رکھا اور پھر دھیرے سے مخروطی انگلیوں کو بالوں میں پھیرا ۔ میسم نے سر کو اوپر کیا اور چہرے کا رخ اس کی طرف موڑ کر چہرے کو ساتھ لگاتے ہوۓ چھپا لیا ۔ ادینہ نے جھینپ کر نیچے دیکھا پر وہ کمر کے گرد بازو حاٸل کیے چہرے کو چھپاۓ ہوۓ تھا۔
اس کے مخملی گداز انگلیاں میسم کے بالوں میں چل رہی تھیں ۔ اور آغوش کی گرمی اتنی تسکین بخش تھی کہ تین راتوں سے آنکھوں سے روٹھی نیند پیار سے دستک دے چکی تھی ۔
میسم کے گہرے گہرے سانس لینے کی آواز پر احساس ہوا جیسے وہ سو گیا ہے ۔ جھک کر نیچے دیکھا وہ چہرہ پیٹ کے رخ چھپاۓ ہوۓ تھا پر سانسوں کے احساس سے صاف ظاہر تھا وہ سو گیا ہے۔ میٹھی سی مسکراہٹ تھی جو ادینہ کے لبوں پر پھیل گٸ تھی ۔
ادینہ نے دھیرے سے دوسرے ہاتھ کی مدد سے کمر کے نیچے تکیہ رکھا ۔ کمبل کو کھینچ کر میسم کے اوپر اچھالا ۔ اور پھر خبر نہیں ہوٸ کس لمحے وہ میسم کے بالوں میں یوں ہی ہاتھ پھیرتے پھیرتے خود بھی سو چکی تھی ۔
اچانک آنکھ کھلی تو عجیب سا احساس ہوا ادینہ کا ہاتھ بالوں میں پھنسا تھا اور اس کا اپنا سر اس کی گود میں تھا آنکھوں کو اوپر اٹھا کر دیکھا تو وہ سر کو ایک طرف ڈھلکاۓ سو رہی تھی ۔ سر اٹھا کر گھڑی کی طرف دیکھا رات کے دو بج رہے تھے افف وہ تین گھنٹے سے یوں بیٹھی تھی
دھیرے سے اٹھا اور اس کی ٹانگیں سیدھی کی وہ شاٸد بہت تھک چکی تھی اس لیے گہری نیند میں تھی ۔ میسم نے تکیے کو اس کی کمر کے نیچے سے نکال کر اس کے سر کو پیار سے تکیے پر رکھا اور خود ساتھ لیٹ کر کمبل اس پر بھی اوڑھا دیا ۔ کمرے کی لاٸٹ بند کرنے کا دل نہیں تھا ۔ اس کے چہرہ تسکین دے رہا تھا دل کو ۔ اور نیند پھر سے تھپکی دینے لگی تھی ۔
چہرے پر ہوا پڑنے کے احساس پر آنکھ کھلی تو ادینہ کے چہرے کو خود پر جھکا پایا ۔ وہ شاٸد کچھ پڑھ کر اس پر پھونک رہی تھی ۔ دوپٹہ نماز پڑھنے کے انداز میں سر پر اوڑھے ہوۓ نکھری نکھری سی وہ اس کے دل کی تسکین کا باعث بن رہی تھی ۔ تڑپتے دل کو قرار سا آ گیا تھا رات سے
میسم کے یوں دیکھنے پر وہ اب چہرے پر پلکیں لرزانے لگی تھی ۔ میسم نے اس کے گود میں دھرے ہاتھ کو تھاما ۔
” میں نے تمھاری محبت پر اتنا شک کیا تھا یہ اس کی سزا ہے ادینہ “
مدھم سی آواز نے کمرے کے سکوت کو توڑا ۔ادینہ نے تڑپ کر اوپر دیکھا
” نہیں “
جلدی سے دوسرے ہاتھ کو میسم کے لبوں پر رکھا ۔ اور گردن کو نفی میں ہلایا
” ہر پریشانی ہر دکھ سزا نہیں ہوتا میسم آزماٸش بھی تو ہو سکتا ہے نہ “
محبت سے کہا میسم اب دوسرے ہاتھ کو بھی تھام چکا تھا ۔
” یہ آزماٸش ہے شاٸد یا پھر خدا آپ کو احساس دلانا چاہتا ہے “
ادینہ نظریں جھکاۓ نرم سے لہجے میں بول رہی تھی اور وہ ہم تن گوش تھا ۔ ہاتھ ایک دوسرے کو محبت کی سچاٸ کا احساس دلا رہے تھے ۔
” آپ اپنی شہرت میں گم ہوۓ اس ذات کو بھول گۓ جس نے اپکی قسمت میں یہ سب اتنی آسانی سے ملنا لکھا “
میسم اب اس کی انگلیوں پر دھیرے سے اپنا انگوٹھا پھیر رہا تھا ۔ اس کا ہر لفظ اس کا سکون بن رہا تھا
” شاٸد کسی لمحے آپ نے خود کو سب کچھ مانا ہو کبھی غرور کیا ہو “
ادینہ نے آنکھیں اٹھا کر میسم کی آنکھوں میں دیکھا۔ میسم نے لب بھینچ کر سر کو اثبات میں ہلایا ۔
” ہاں تمھارے معمالے میں کیا تھا “
میسم نے کھوۓ سے شرمندہ سے لہجے میں کہا ۔
” تم مجھے معاف کر دو “
التجاٸ انداز میں ادینہ کی آنکھوں میں دیکھا۔ وہ نرمی سے مسکرا دی۔
” میسم میں نے کر دیا تھا جس دن آپ گۓ تھے اسی دن کر دیا تھا پر مجھ سے نہیں اس سے معافی مانگیں جس کو دل میں راٸ کے دانے کے برابر بھی غرور پسند نہیں “
ادینہ نے مسکرا کر کہا ۔ میسم نے اس کے چہرے پر محبت بھری نظر ڈالی۔
” تم نماز پڑھ کر آٸ ہو “
نرم سے لہجے میں کہتے ہوۓ گہری نظروں سے اس کے چہرے کو دیکھا ۔ ادینہ مسکرا دی ۔ سر کو اثبات میں ہلایا ۔
” جی “
نرم سی آواز ۔ میسم اب بازو کے سہارا سیدھا ہو رہا تھا۔
” ابھی وقت ہے “
اٹھر کر گھڑی پر نظر ڈالی۔ اور سوالیہ انداز میں ادینہ کی طرف دیکھا ۔
” جی ہے “
ادینہ نے مسکرا کر کہا ۔
” مجھے نماز پڑھنی ہے “
میسم نے کمبل کو ایک طرف کیا ادینہ نے خوش ہو کر ایک طرف ہو کر میسم کو اترنے کا راستہ دیا ۔ وہ وضو کے غرض سے واش روم جا چکا تھا ۔ اور وہ وہیں بیٹھی مسکرا رہی تھی۔

 

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: