Maqsoom Novel by Huma Waqas – Episode 21

0
مقسوم از ہما وقاص – قسط نمبر 21

–**–**–

” بکواس ہے سب میرا پوتا ایسا کر ہی نہیں سکتا “
احمد میاں نے کیمرے میں آنکھیں ڈال کر رعب سے کہا ۔ سر ہلکا ہلکا کپکپا رہا تھا پر وہ وہ اس وقت اپنے پورے وقار کے ساتھ صوفے پر براجمان تھے ۔ اگیل چینل کی ٹیم اس وقت خیر پور میں احمد ہاوٸس میں موجود تھی جہاں وہ میسم کے ڈوپنگ کیس سے متعلق ان کے اہل خانہ کی راۓ لے رہے تھے ۔ محلے کے تمام لوگ میسم کے تمام ہم جماعت استاد سب جمع تھے سب میسم کے حق میں بیان دے رہے تھے ۔
” مجھے میری تربیت پر بھروسہ ہے میرے پوتا بلکل ٹھیک کہہ رہا ہے اسے پھنسایا جا رہا ہے ڈرگز کا بے بنیاد الزام لگایا جا رہا ہے “
احمد میاں نے اعتماد کے ساتھ گردن اوپر کرتے ہوۓ پر یقین لہجے میں کہا ۔ صحافی اب مراد احمد کی طرف مڑ گۓ تھے کیمرے وغیرہ بھی ان کی طرف سیٹ کر دیے گۓ تھے ۔
” یہ سازش ہے میرے بیٹے کے خلاف میں نے اسے بچپن سے کھیلتا دیکھا ہے کرکٹ اس کا جنون ہی نہیں اس کی چاہت ہے اور کوٸ اپنی چاہت سے دو نمبری نہیں کرتا “
مراد احمد نے پرسکون لہجے میں کیمرے کی طرف دیکھتے ہوۓ کہا ۔ اس کے بعد جواد احمد ماٸک کو تھامے ہوۓ تھے ۔
” جب سے وہ ٹیم میں سلیکٹ ہوا ہے کچھ لوگوں کو ویسے ہی کٹھک رہا ہے میری ای سی سی سے اپیل ہے وہ تحقیقات کریں میرا بھتیجا اس طرح کا ایلیگل کام نہیں کر سکتا ہے “
جواد احمد کا انداز پر یقین تھا ۔
اب کیمرہ مین اور صحافی فہد کی طرف بڑھ گۓ تھے جو پہلے سے ہی سب سے زیادہ دل برداشتہ بیٹھا ہوا تھا ۔
” دو سینچری اس کے لیے کچھ بھی نہیں ہے وہ تین بھی مار سکتا ہے اس میں دم ہے اور یہ دم برقرار رکھنے کے لیے میسم کو کسی ڈرگز کا سہارا لینے کی ضرورت نہیں “
فہد نے لب بھینچ کر ماتھے پر بل ڈالے ۔ اس کے بعد میسم کے مختلف استاٸذہ اور محلے کے تمام لوگوں نے ڈوپنگ ٹیسٹ کو بے بیناد قرار دیا۔ان سب کے یقین نے میسم کے دل کے کتنے ہی گھاٶ بھر دیے تھے ۔ لیکن ثبوت نہ ہونے کی وجہ سے اس کا کیس بے بنیاد تھا
************
کمرے کی لاٸٹ جلتے دیکھ وہ کمرے میں آٸ تو مسکرا کر رہ گٸ میسم اوپر والے بیڈ روم میں نماز عشا ٕ ادا کر رہا تھا ۔ آہستہ سے کمرے کا دروازہ بند کرتے ہوۓ باہر آٸ ۔ آج شاٸد اِدھر ہی سونا ہو گا میسم کو ۔ ذہن میں فوراً خیال آیا
کیسے کہوں ان کو کہ آپکی وہ سزا ختم ہے اب میں ناراض نہیں آپ سے بچارگی سے کمرے کے بند دروازے کی طرف دیکھا اور پھر مریل سے قدم کے ساتھ زینے اترنے لگی ۔
” اے اللہ مجھے معاف کر دے تیری بار گاہ رحمت میں ہاتھ اٹھاۓ ہوۓ تجھ سے معافی کا طلبگار ہوں “
میسم نے ہاتھوں کی لکیروں پر نظریں گاڑے دعا مانگنی شروع کی ۔ آج بہت عرصے بعد اتنے خوش و خضوع سے وہ دعا مانگ رہا تھا ۔ نماز تو وہ پڑھ ہی لیتا تھا اکثر پر دعا کے لیے ہاتھ اٹھا کر کبھی اتنی لگن سے اور خوش و خضوع سے دعا نہیں مانگتا تھا ۔
” بے شک تو ہی ہے ہر ذی روح کو پیدا کرنے والا رزق دینے والا عزت دینے والا اور شہرت دینے والا “
دل رنجور تھا غم سے پھٹ رہا تھا ۔ آنسوٶں کا گولہ گلے میں اٹک رہا تھا ۔ وہ پہلے جب باہر نکلتا تھا تو لوگ کیسے اس پر محبتیں لٹاتے تھے اس کی تعریفیں کرتے تھے اور آج کیسے لوگ اس پر جملے کس رہے تھے ۔
” میرے مالک میرے دل میں اگر کبھی بھی انجانے میں یا جان بوجھ کر میری شہرت کو لے کر تکبر آیا ہو تو مجھے اس پر معاف فرما دے میرے پروردگار “
اسے سب مل جانے پر لگتا تھا کہ وہ بلند بخت ہے قومی ٹیم میں اتنی جلدی منتخب ہوا اوپنر بلے باز بنا شہرت ملی محبت ملی دولت ملی عزت ملی ۔ انجانے میں ہی وہ خود کو مقسوم سمجھنے لگا تھا ۔ پر یہ بھول گیا تھا یہ قسمت دینے والا اللہ ہے وہ جسے چاہتا ہے عزت دیتا ہے اور جسے چاہتا ہے ذلت ۔
” اے بخش دینے والے رحم کرنے والے میری آزماٸش ختم کر دے “
پر دل ابھی بھی اپنے اس زوال کو اللہ کی آزماٸش مان رہا تھا ۔ وہ فرش سے عرش پر لایا تو احساس ہوا وہ تو خدا کو فراموش کیے ہوۓ تھا ادینہ کے سمجھانے کے بعد آج پانچ وقت نماز پڑھنے کے بعد دل بہت حد تک پرسکون ہو چکا تھا ۔ دل پر رکھے من من بھر کے پتھر خدا کے آگے جھکنے سے ہی سرک کر گر چکےتھے ۔ کیونکہ وہ جانتا تھا کہ وہ گناہ گار نہیں ہے ہاں صرف خطا کار ہے کہ خود کی قسمت پر تکبر بھرے الفاظ استعمال کیے کہ وہ مقسوم ہے بخت ہے
” مجھے معاف فرما میرے تکبر کرنے پر خود کو مقسوم کہنے پر بےشک میرا مقسوم ہونا یا نہ ہونا تیرے کن کا محتاج ہے “
جیسے جیسے وہ خدا سے بات کرتا جا رہا تھا دل کے زخم بھرتے جا رہے تھے ۔ جب وہ جاۓ نماز سے اٹھا وہ مکمل طور پر پرسکون ہو چکا تھا ۔ سب خدا پر چھوڑ چکا تھا ۔
جاۓ نماز کو سمیٹ کو ایک طرف رکھا اور سر سے ٹوپی اتارتے ہی ادینہ کا خیال آیا آج سارا دن وہ انٹرنیٹ پر ڈوپنگ کے متعلق مختلف حقاٸق تلاش کرتا رہا تھا اور دونوں کے درمیان کوٸ خاص گفتگو نہیں ہوٸ تھی اب رات ہوٸ تو کل کی رات یاد آٸ اس کی گود اس کا پیار سے بالوں میں ہاتھ پھیرنا ایک میٹھی سی مسکان لبوں پر در آٸ تھی تو دل کے دھڑکنے کی رفتار میں بھی اضافہ ہوا تھا ۔ ادینہ سے سارا دن لاپرواہی برتتا رہا تھا اور اب ذہن میں خیال آ رہے تھے کہ اس کا دل بھی تو دکھایا تھا نہ اس کو بھی بلاجواز اسکے حق سے محروم رکھا یہ بھی تو گناہ ہی کرتا رہا اس سے بھی تو اللہ کی ناراضگی مول لی اپنی پاک باز بیوی پر شک کرتا رہا ۔ بس اب اور نہیں انہی سوچوں میں گم وہ کمرے میں آیا تو ادینہ بیڈ پر بیٹھی تھی میسم کو کمرے میں دیکھ کر جلدی سے سیدھی ہوٸ تکیے سے ٹیک ختم کی۔ وہ تو یہی سوچے بیٹھی تھی کہ میسم آج اوپر سوٸیں گے اسے کمرے میں دیکھ کر جلدی سے ٹانگیں جو وہ لاپرواہی سے پھیلاۓ ہوٸ تھی سے سمیٹیں ۔
میسم الماری سے ٹرایوزر شرٹ نکال کر واش روم میں گھس گیا ۔ افف کیا یہاں سوٸیں گے آج جلدی سے اٹھ کر سنگہار میز کے سامنے آٸ اپنا جاٸزہ لیا دوپٹے اور بالوں کو درست کیا واش روم کے لاک کھلنے کی آواز پر دل زور زور سے دھڑکنے لگا تھا جلدی سے سنگہار میز پر پڑی ٹوکری میں بلاجواز کچھ تلاش کرنے کی غرض سے ہاتھ پھیرنے شروع کر دیے
میسم باہر نکلا تو وہ سنگہار میز کے اوپر جھکی مصروف سے انداز میں کچھ تلاش کر رہی تھی ۔ کچھ دیر یونہی اس پر نظریں جماۓ کھڑا رہا پر وہ تو نجانے کیا تلاش کر رہی تھی جو تلاش ختم ہونے پر ہی نہیں آ رہی تھی ۔ تھک کر بلکل اس کے پیچھے جا کھڑا ہوا
” چلو بیٹھو “
بلکل عقب سے کان کے قریب میسم کی آواز پر اس کے باسکٹ میں چلتے ہاتھ تھم گۓ۔ ریڑھ کہ ہڈی میں سنسناتی سی ایک لہر نے تیزی سے اوپر سے نیچے کا سفر کیا
” کیا ؟“
گھٹی سی آوز میں سوال کیا وہ بکلل پیچھے تھا پلکیں اٹھاۓ نہیں اٹھ رہی تھیں ۔ ہلکے سے تربوزی رنگ کے جوڑے میں وہ موم کی گڑیا لگ رہی تھی جو اس کے یوں پیچھے آ کر کھڑے ہونے پر پگھلنے جیسے انداز میں چھوٸ موٸ ہو کر سمٹتی جا رہی تھی ۔نظر اٹھا کر سامنے آٸینے میں اس کا لجایا سا سراپا دیکھا وہ گلابی ہوتے گالوں اور لرزتی پلکوں میں دنیا کی حسین ترین مورت لگ رہی تھی۔ ایسی مورت جس پر ساری محبتیں لٹانے کو دل چاہے میسم نے دل میں ہوتی گدگدی کے زیر اثر اس کے کان کے قریب جھکا
” چلو بیٹھو کل کی طرح تمھاری گود میں سر رکھ کر سونا ہے مجھے “
میٹھی سی سرگوشی نما آواز کان کے قریب ہوٸ ۔ دل تو جیسے پسلیوں کی دیواریں توڑ کر باہر آنے لگا ادینہ نے زور سے آنکھیں بند کیں ۔
وہ یوں گھبراٸ سی شرماٸ سی اس کے دل کی بے تابی کو بڑھا رہی تھی آج نہ چہرے پر غصہ تھا اور نہ آنکھوں میں کوٸ شکوہ حوصلہ بڑھا تو میسم اب گھوم کر سامنے ہوتے ہوۓ سنگہار میز کے ساتھ کمر ٹکا چکا تھا ۔
افف پورا وجود دل بن کر دھڑکنے لگا تھا ادینہ نے آنکھوں کو اور زور سے بند کیا ہاتھ سامنے جو سنگہار میز پر ٹکے تھے میز کو ایسے مضبوطی سے تھام چکے تھے جیسے وہ ابھی ڈھے جاۓ گی اگر اس کو چھوڑا تو ۔ ادینہ کے یوں بھیگی بلی کی طرح آنکھیں بند کرنے پر میسم کی شرارتی رگ اور پھڑکنے لگی تھی۔
” گود میں سر رکھ کر سونا ہے انفیکٹ روز ایسے ہی سونا ہے اب مجھے “
میسم نے ہاتھوں کو سنگہار میز کے ساتھ ٹکا کر تھوڑا سا آگے ہوتے ہوۓ اس کے چہرے پر نظروں کو گھمایا نظروں نے ہر ہر نقش کو دل میں سمویا لمبی گھنی لرزتی پلکیں چھوٹا ساک ناک بھرے سے گلابی ہونٹ دمکتی چندن رنگت
میسم کی بات پر ادینہ نے بے ساختہ امڈ آنے والی مسکراہٹ کو دبایا ۔ میز پر ہاتھوں کی مضبوطی اور قاٸم کی جن پر ہلکا ہلکا سا پسینہ آنے لگا تھا ۔ گو کہ آنکھیں بند تھیں پر میسم کی نظروں کی تپش وہ با خوبی اپنے چہرے پر محسوس کر سکتی تھی
” ہنسے جا رہی ہو مزاق نہیں کر رہا میں اتنی میٹھی نیند آج سے پہلے مجھے کبھی نہیں آٸ “
ہاتھ سے ادینہ کی تھورڈی کے نیچے ہاتھ رکھتے ہوۓ پیار سے اس کے جھکے چہرے کو اوپر کیا ادینہ کی پلکیں اب بری طرح گالوں پر لرزنے لگی تھیں پر لب اب بھی مسکرا رہے تھے ۔
” اتنا سکون آج سے پہلے مجھے کبھی نہیں ملا“
میسم نے تھورڈی کے نیچے رکھے ہاتھ کے انگوٹھے سے اس کے ملاٸم سے گال کو چھوا ۔ جتنی وہ آنکھوں سے دیکھنے پر ٹھنڈک دیتی تھی اتنا ہی چھونے پر دل کو سکون دے رہی تھی ۔
” چلو بیٹھو نہ جا کر “
اس کی بند آنکھوں اور غیر ہوتی حالت سے محزوز ہوتے ہو ضد کے انداز میں بچوں کی طرح کہا ۔ جبکہ انگوٹھا ابھی بھی اس کے گال کا طواف کر رہا تھا ۔ پر ادینہ کو تو جیسے چھو کر کسی نے مجسم بنا دیا ہو میسم نے اس کی حالت کو سمجھتے ہوۓ ہاتھ کو پیچھے کیا ۔
” سنا نہیں بیٹھو جا کر نیند آ رہی مجھے “
گھمبیر سی آواز میں سرگوشی کی ۔ ادینہ نے سنگہار میز کے کناروں پر رکھے ہاتھوں کو مضبوط کیا جیسے کہ خود کو ڈھے جانے سے بچایا ہو
” تو تھک جاٶں گی ایسے تو بیٹھے بیٹھے “
گھٹی لجاٸ سی آواز میں میسم کی طرف دیکھے بنا جواب دیا جو اس بات پر بے ساختہ ہلکا سا قہقہ لگا گیا ۔
” اتنی سی تکلیف بھی برداشت نہیں کر سکتی میرے لیے کیسی محبت ہوٸ بیگم “
گہری نظروں اور گہری ہوتی مسکراہٹ سے کہا ۔ ادینہ نے چونک کر پلکیں اٹھاٸیں نظروں کا تصادم ہوا دونوں طرف آنکھوں میں محبت کا سمندر موجزن تھا
” سب برداشت ہے “
نرم سی آواز میں کہا ۔ ہاں سامنے کھڑے اس شخص سے بے پناہ محبت تھی اسے وہ سفید رنگ کی ٹی شرٹ کے نیچے چیک والا ڈھیلا سا ٹرایوزر زیب تن کیے ہوۓ تھا شیو معمول سے زیادہ بڑھی ہوٸ تھی لیکن چہرہ کل کی طرح اترا ہوا نہیں تھا سکون تھا چہرے پر اس کے چہرے کا یہ سکون ادینہ کے اندر تک سکون اتار گیا تھا اس کا پریشان چہرہ دل کو تکلیف دیتا تھا اور آج تو میسم کی آنکھوں میں پیار تھا شرارت تھی خماری تھی پتا نہیں کیا کیا تھا ۔
” سوچ لو کیا کہہ رہی ہو ؟ “
میسم نے مسکراہٹ دباتے ہوۓ پوچھا ادینہ نے پھر سے پلکیں اٹھاٸیں شرارت بھری نظروں کا تصادم ہوا ادینہ نے بچوں کی طرح لب باہر نکال کر کندھے اچکاۓ ۔
” کیوں ایسا کیا ہے ؟“
سوالیہ سے انداز میں میسم کی طرف دیکھا ۔ چہرے پر ناسمجھی کے آثار تھے ۔
”ایسا ہی کچھ ہے “
میسم نے قہقہ لگایا ۔ شرارت آنکھوں سے پوری طرح عیاں تھی وہ اس وقت کتنی معصوم لگ رہی تھی
” آپ مجھے تکلیف دے ہی نہیں سکتے “
ادینہ نے محبت سے آنکھوں میں جھانکتے ہوۓ لاڈ سے جسم کو جھلایا گردن کو اکڑیا کتنا ناز تھا اسے آج میسم کی بے پناہ محبت پر
” اتنا بھی اعتماد کرنا اچھا نہیں بیگم“
میسم نے شرارت سے اس کی ناک کو چھوا ۔ ادینہ نے حیرت سے منہ کھولا
” مطلب میں سمجھیں نہیں ؟“
ہنوز ایسے ہی منہ کھولے پوچھا ۔ میسم نے شرارتی انداز میں اُس کی طرف دیکھا سنگہار میز سے ٹیک ختم کی اور آگے بڑھا ادینہ کے ہاتھ کو تھاما ۔ ادینہ نے مسکرا کر اوپر دیکھا
” سمجھاتا ہوں سب آٶ “
میسم نے شرارت سے آنکھ کا کونا دبایا ۔
تیری قربت کے ان لمحوں میں
ہم نے صدیاں گزار لیں جیسے
تیری آنکھوں کی
گہری جھیلوں میں
ہم نے آنکھیں
اتار دیں جیسے
تیرے لبوں کے نرم گوشوں میں
زندگی کا سراغ ملتا ہے
تیری باتوں میں ہے مسیحائی
نیم جاں ___ سانس لینے لگتا ہے
تیرے پہلومیں نیند جیسا سکوں
اپنے پہلو میں باندھ لے مجھ کو
تیری آغوش لگے مجھے جنتوں جیسی
سن اپنے دامن سے __
گانٹھ دے مجھ کو ___
***********
ادینہ نے چولہے کی آنچ آہستہ کی اور فون کو پکڑا ہاتھ تبدیل کیا ۔ اور دوسرے ہاتھ سے فون کو پکڑ کر کان سے لگایا ۔
” اسکو لے کر آ جا یہاں بیٹا گھر آ جا “
احمد میاں کی پریشان سی آواز فون میں سے ابھری تھی ۔ ادینہ نے مسکراتے ہوۓ دھیرے سے گردن کو ہلایا وہ چاہے جتنی بھی سختی برتتے رہیں میسم سے وہ بے پناہ محبت کرتے تھے ۔ ایک نظر سامنے بیٹھے میسم پر ڈالی جو سامنے لاٶنج میں لگے صوفے پر بیٹھے فہد کے ساتھ باتوں میں مصروف تھے ۔میسم کو آۓ ہوۓ ہفتہ بھر ہو چلا تھا اور گھر سے روز کسی نہ کسی کا فون آجاتا تھا جوان کو خیر پور آنے کا کہہ رہے تھے
” نہیں ابھی تو نہیں مان رہے نانا ابو میں نے کہا تھا آج بھی ان سے “
ادینہ نے تسلی دینے کے انداز میں کہا۔ ایک ہاتھ سے سامنے پکتے سالن میں چمچ چلایا ۔
” آپ لوگ پریشان نہ ہوں میں ہوں ان کے پاس ہر وقت ساتھ ہوں “
ادینہ نے پرسکون لہجے میں کہا۔ اور کچن کی شلیف کو پکڑ کر اس کے ساتھ ٹیک لگاٸ ۔ میسم بہت حد تک سنبھل چکا تھا نماز اب وہ گھر کے بجاۓ مسجد میں پڑھنے جانے لگا تھا ۔ روز شام کو وہ باہر واک کی غرض سے جاتے تھے ادینہ ہاسپٹل سے آتی تو ایک پل کے لیے بھی اسے اکیلا نہیں چھوڑتی تھی ادینہ کی شرارتیں اور باتیں ہی تھیں جس سے وہ آدھا دن سٹریس سے باہر رہتا تھا ۔
” اس کا بہت خیال رکھنا بیٹا بہت زیادہ اور فہد بھی اسی لیے آیا ہے یہاں اسے اکیلا نہیں چھوڑنا کسی بھی لمحے “
احمد میاں کے لہجے سے ان کی میسم کے لیے بے پناہ محبت اور فکر جھلک رہی تھی ۔ فہد اپنے پیپرز سے فارغ ہوتے ہی لاہور آ گیا تھا ۔
” جی فہد پہنچ گیا ہے صبح آیا ہے “
ادینہ نے چولہا بند کیا ۔ اور ایپرین کو ایک ہاتھ سے کمر کے پیچھے سے کھولا ۔
” ابھی اسی کے ساتھ ہیں سامنے بیٹھے ہیں “
ایپرن اتار کر ایک طرف رکھا ۔ کچن کی شیلف پر کپڑا پھیرا ۔
” اچھا چلو اللہ کی امان میں تم دونوں “
احمد میاں نے دعا دی جس پر ادینہ نے امین کہا اور پھر مسکراتے ہوۓ فون بند کیا ۔ ہاتھ صاف کرتی ہوٸ کچن سے باہر آٸ
” ہیزبینڈ کھانا لگاٶں ؟ “
مسکراتے ہوۓ لاٶنج میں آ کر میسم کی طرف دیکھ کر پوچھا ۔ میسم نے شرارت سے فہد کہ طرف اشارہ کیا ۔
” ہم سے کیا پوچھتی ہو بیگم ہمیں تو بھوکا بھی سلا دیں گی تو افف نہ کریں گے اپنے بہنوٸ سے پوچھو پروٹوکول دو بھٸ پہلی دفعہ آۓ ہیں ہمارے گھر وہاں تو پھپھو کوٸ عزت نہیں دیتی تو چلو ہم ہی سہی “
فہد نے قہقہ لگایا ۔ جس پر میسم بھی مسکرا دیا۔ ادینہ نے مصنوعی خفگی سے گھورا دونوں کو جو اپنی مشترکہ ساس کی باتیں کر کے اسے چھڑتے رہے تھے آج سارا دن
” چلیں پھر بہنوٸ جی آ جاٸیں کھانے کے میز پر “
ادینہ نے مصروف سے انداز میں کہا اور پھر سے کچن کی طرف بڑھ گٸ ۔
***********
پتنگ کی ڈور کی طرف بڑھتا ننھا سا ہاتھ دس سالہ بچے کا تھا جو اس بات سے یکسر انجان تھا کہ اس کا آدھے سے زیادہ وجود بالکونی سے باہر ہے ۔ جیسے ہی پتنگ کی ڈور کو ننھے سے ہاتھ نے تھاما توازن ایسا بگڑا کہ وہ تیسری منزل سے گرتا سیدھا نیچے لان میں آ گرا سر بری طرح کیاری سے ٹکرایا ۔
چھت سے جھانکتے سارے بچوں کی دل خراش چیخیں سن کر گیٹ پر بیٹھے گارڈ نے گردن کا رخ پہلے چھت کی طرف کاٹھایا اور پھر بچوں کی نظروں کے تعاقب میں نیچے زمین پر نظر پڑتے ہی آنکھیں باہر کو ابل پڑیں۔پاگلوں کی طرح بھاگتا وہ لان تک پہنچا ننھے سے وجود کو باہوں میں بھرا اور پورچ سے اندر جانے والے داخلی دروازے کی طرف بڑھا ۔
” بیگم صاب ۔ بیگم صاب بیگم صاب بابا ۔۔۔“
ہولناک انداز میں چیختا باہوں میں بچے کو اٹھاۓ اس کے بہتے خون سے لت پت وہ اندر داخل ہوا ۔ لاونج میں بیٹھی بہت سی خواتین کی گردنیں ایک ساتھ آواز کے تعاقب میں گھومی تھیں ۔اور پھر ان میں سے ایک عورت پاگلوں کی طرح بھاگتی گارڈ کی طرف لپکی تھی ۔
” بسام۔م۔م۔م۔م۔م۔م۔“
ممتا کی تڑپتی آواز نے محل نما گھر کی درو دیوار ہلا کر رکھ دی تھیں ۔
*********
” کہاں ہے بسام ؟“
وہ پاگلوں کی طرح بوکھلایا سا اب سامنے کھڑی عورت کے کندھوں کو پکڑ کر جھنجوڑ رہا تھا ۔ جو اسے دیکھتے ہی آپریشن تھیٹر کے باہر لگے بنچ پر سے اٹھ کر اس کی طرف بھاگی تھی ۔
” میرا بچہ “
عورت تڑپ کر اس کے سینے سے جا لگی ۔ اور اونچی اونچی رو دی ۔
” ہوا کیا تھا بتاٶ مجھے آفرین بتاٶ مجھے ہوا کیا تھا بسام کو “
اس نے اپنے ساتھ لگی عورت کو خود سے علیحدہ کیا اور پھر سے کندھوں سے پکڑ کر پوچھا ۔ وہ تو جیسے ہوش و حواس میں نہیں تھی
” کچھ نہیں پتا چلا چھت پر تھا بسنت منا رہا تھا سب بچوں کے ساتھ پتنگ پکڑنے ٹیرس کی طرف بھاگا ہے اور “
آفرین چہرے پر ہاتھ رکھے پھر سے پھوٹ پھوٹ کر رو دی ۔
” ڈاکٹر کیا کہتے ہیں “
اس نے آفرین کے کندھے زور سے پکڑ کر ہلاۓ ۔ وہ روتے روتے پھر بمشکل چپ ہوٸ
” کچھ نہیں بتا رہے کچھ بھی نہیں “
آفرین نے پاگلوں کی طرح روتے ہوۓ کہا ۔ ادینہ نے آپریشن تھیٹر کا دروازہ کھولا اور قدم باہر نکالے ۔
ادینہ کو سامنے دیکھ کر لمحہ بھر کو وہ شخص وہیں ٹھٹھک کر رک گیا ۔ انداز ایسا تھا جیسے وہ ذہن پر زور ڈال رہا ہو پہچان کے لیے اس نے ادینہ کو اس سے پہلے کہاں دیکھا ہے دوسری طرف ادینہ کا بھی کچھ ایسا حال ہی تھا ادینہ کے بھی ان دونوں میاں بیوی کی طرف آتے قدم آہستہ سے آہستہ ہوۓ ۔ ہاٶس جاب پوری ہونے کے بعد ڈاکٹر عابد نے ادینہ کو اسی ہسپتال میں ڈاکٹر کے طور پر اپاٸنٹ کر لیا تھا ۔ اور آج اس کی ڈیوٹی ایمرجنسی میں تھی جہاں کل یہ خون میں لت پت بچہ پہنچا تھا ۔ آفرین تقریباً بھاگتی ہوٸ ادینہ تک پہنچی
” ڈاکٹر پلیز ڈاکٹر کچھ بتاٸیں کہاں ہے میرا بچہ “
آفرین نے تڑپ کر ادینہ سے پوچھا جو اس وقت سامنے کھڑے شخص کو گھور کر دیکھنے میں مصروف تھی ۔ وہ بھی اب بوجھل سے حیران سے قدم اٹھاتا اپنی بیوی کے ساتھ آ کر کھڑا تھا ۔ وہ ادینہ کو پہچان چکا تھا انگلینڈ سیریز کھیلتے ہوۓ ادینہ سٹڈیم میں سب کی نظروں میں آٸ تھی اسے کون نہیں پہچانتا تھا ۔ کہ وہ مشہور بلے باز میسم مراد کی بیوی ہے ۔
” فواد سر دیکھیں ابھی سر پر چوٹ ہے بہت کرٹیکل کنڈیشن ہے خون بہت بہہ چکا ہے ہماری کوشش ہے خون سر کے اندر جمع نہ ہو کچھ کہنا مشکل ہے پر آپ پریشان نہ ہوں پلیز اللہ سے دعا کریں “
ادینہ نے سپاٹ چہرے کا رخ فواد عظیم کی طرف موڑتے ہوۓ پرسکون لہجے میں کہا۔ دو ہفتوں سے وہ میسم کے منہ سے بار بار فواد اور شازل کا ذکر سن چکی تھی میسم اسے سارے قصے سنا چکا تھا کہ کس کس طرح دونوں شروع سے میسم سے خار کھاتے رہے ہیں اور اب بھی اس سب سازش کے پیچھے میسم کو ان دونوں پر شک ہے ۔ ادینہ کے منہ سے اپنا نام سن کر فواد چونک گیا ۔ انگلی سے ادینہ کی طرف اشارہ کیا
” آپ مسز میسم مراد ہیں نہ ؟“
فواد نے آہستہ سی آواز میں پوچھا وہ ایک آبرٶ چڑھاۓ کھڑا تھا ۔ ادینہ نے بغور اسے دیکھا
” جی میں ادینہ میسم ہوں میسم مراد کی واٸف “
ادینہ نے طنز بھری مسکراہٹ چہرے پر سجاۓ اور گہری سانس لیتے ہوۓ سینے پر ہاتھ باندھے ۔ فواد نے سٹپٹا کر ارد گرد دیکھا ۔ پتہ نہیں ادینہ کی آنکھوں میں کیا تھا کہ لمحہ بھر کو ایسا لگا جیسے وہ سب جانتی ہو کہ اس نے اور شازل نے سازش کے ساتھ میسم کو ڈوپنگ میں پھنسایا ہے ۔
” اللہ سے دعا کریں اور ہو سکے تو اپنے گناہوں کی معافی مانگیں “
ادینہ نے طنز بھری مسکراہٹ سجاۓ بظاہر پر سکون لہجے میں کہا ۔ فواد کی گھبراہٹ اور نظریں چرانا سب واضح کر چکا تھا کہ میسم ان پر سہی شک کر رہا ہے ۔ فواد نے چونک کر ادینہ کی طرف دیکھا ۔
” خدا کی لاٹھی بے آواز ہے فواد جی کہیں ایسا نہ ہو آپ کے معصوم بچے کو آپ کے کسی گناہ کی سزا مل رہی ہو “
ادینہ کا سرد لہجہ سامنے کھڑے فواد کو بوکھلاہٹ شکار کر چکا تھا ۔ وہ اب ہونق بنا ادینہ کے چہرے کی طرف دیکھ رہا تھا اور آفرین نا سمجھی کے انداز میں کبھی ادینہ کے چہرے کو دیکھ رہی تھی اور کبھی فواد کی طرف دیکھ رہی تھی ۔
” ہم کسی پر ظلم ڈھانے کسی بے گناہ کو پھسانے سے پہلے یہ کیوں بھول جاتے ہیں کہ اوپر بھی ایک ذات بیٹھی ہے جو ہماری بھی اس رگ پر ہاتھ رکھ سکتی ہے جس سے ہماری سانس بند ہو جاٸیں“
ادینہ کے الفاظ تھے یا زہریلے تیر جو سامنے کھڑے فواد کے سیدھا دل میں پیوست ہو رہے تھے اور اس کی گردن جھکتی جا رہی تھی ۔ اوہ تو میسم کو ہم پر شک ہو گیا ہے ۔ فواد کے ذہن میں ساٸیں ساٸیں ہونے لگی تھی ادینہ نے ایک نظر فواد پر ڈالی اور حیرت میں ڈوبی کھڑی اُس کی بیوی کے کندھے پر تھپکی دی اور اپنے سفید کوٹ کو درست کرتی آگے بڑھ گٸ ۔
” کیا ہوا فواد یہ ایسی باتیں کیوں کر رہی تھی یہ کیا میسم کی واٸف ہے وہی کھلاڑی جس پر دو ہفتے پہلے ڈوپنگ کا کیس پڑا ہے “
آفرین نے فواد کے بلکل سامنے کھڑے ہوتے ہوۓ حیرت سے پوچھا ۔ فواد کے چہرے کی ہواٸیاں اڑی ہوٸ تھیں ۔ وہ ساکن کھڑا تھا چہرہ زرد تھا دل خدا کے خوف سے کانپ گیا ۔ بسام اس کا اکلوتا بیٹا تھا ۔ دل جیسے کوٸ آری سے کاٹ رہا تھا قدم بے جان ہو رہے تھے ۔
” اپنا اور بسام کا خیال رکھو مجھے جانا ہے ابھی کہیں میں آتا ہوں “
آفرین کے کے کندھے پر ہاتھ رکھ کر کہتا وہ فوارً پلٹا اور تیز تیز قدم اٹھاتا راہداری سے اب ہاسپٹل کے بیرونی دروازے کی طرف رواں دواں تھا ۔
***********
وہ لاونج میں ٹی وی دیکھنے میں مصروف تھا جب باہر ڈور بل کی آواز پر وہ اٹھا گیٹ کھولتے ہی سر پر حیرت کا پہاڑ ٹوٹا سامنے بوکھلایا سا فواد کھڑا تھا ۔ یہ یہاں کیسے ابھی تو ورلڈ کپ ٹورنامنٹ چل رہا تھا ۔ میسم نے حیرت سے دیکھتے ہوۓ فواد کو اندر آنے کی جگہ دی ۔
” مجھے معاف کر دو میسم میں شازل کی باتوں میں آ گیا تھا پلیز مجھے معاف کر دو “
فواد اندر داخل ہوا جیسے ہی میسم گیٹ کا دروازہ لگا کر پلٹا اس نے روتے ہوۓ میسم کے آگے ہاتھ جوڑے اورسر جھکا لیا ۔ میسم حیرت سے فواد کو دیکھ رہا تھا اس کے الفاظ سن کر ساکن ہو گیا ۔ کیا خدا یوں بھی دعاٸیں قبول کرتا ہے ۔
” میرا بیٹا زندگی اور موت کی کشمکش میں ہے میسم وہ تمھاری بیوی والے ہاسپٹل میں ایمرجنسی میں ہے “
فواد اب اپنے جڑے ہاتھوں پر ہونٹ رکھے بری طرح روتے ہوۓ التجا کر رہا تھا ۔ اس کے بیٹے کی حالت سنجیدہ ہونے کی وجہ سے وہ کچھ دیر پہلے ہی واپس پاکستان آیا تھا ۔
میسم کو ہر چیز ہر بات حیران کر رہی تھی اسے کچھ بھی سمجھ نہیں آ رہا تھا یہ سب ہو کیا رہا ہے پر فواد کے منہ سے اس کے بیٹے کا اور ادینہ کا ذکر سن کر وہ چونک کر خیالات سے باہر آیا اور سر جھٹک کر آگے بڑھتے ہوۓ فواد کے ہاتھوں کو اپنے ہاتھوں میں تھاما ۔
” فواد بھاٸ پلیز اللہ نہ کرے آپ کے بیٹے کو کچھ ہو پریشان نہ ہوں وہ بلکل ٹھیک ہو جاۓ گا ان شا اللہ “
میسم نے فواد کے معافی کے انداز میں جڑے دونوں ہاتھوں کو کھول دیا ۔ فواد نے بچوں کی طرح آنسوٶں کو نگل کر میسم کی آنکھوں میں دیکھا ۔
” میں میں پریس کانفرنس بلواٶں گا میں بیان دوں گا سب بتاٶں گا تمھاری بے گناہی ثابت کروں گا “
فواد نے پر عزم انداز میں کہا ۔ میسم نے زور زور سے نفی میں سر ہلا کر فواد کی بات کی تردید کی۔
” رکیں رکیں جلد بازی نہیں ثبوت کے بنا کچھ بھی نہیں فواد بھاٸ “
میسم نے پر سوچ انداز میں ماتھے پر تین انگلیاں چلاٸیں ۔ وہ بڑھی شیو کے ساتھ رات والے ہی ٹرایوزر شرٹ میں ملبوس تھا گردن کو سوچ میں ڈوبے ہوۓ انداز میں ارد گرد گھمایا ۔ اور پھر فواد کی طرف دیکھا
” بات سنیں شازل کو پاکستان آ لینے دیں پھر میں جو کہوں گا وہ کریں گے آپ “
میسم نے فواد کے کندھے پر ہاتھ رکھے تسلی دینے کے انداز میں کہا ۔ فواد نے زور زور سے تاٸید میں سر کو ہلایا ۔
” میسم مجھے معاف کر دو پلیز “
فواد نے پھر سے روہانسی آواز میں التجا کی ۔جس پر میسم نے لبوں پر دوستانہ مسکراہٹ سجا کر سر کو اثبات میں ہلایا ۔
” فلحال تو ہم ہاسپٹل چلتے ہیں چلیں میرے ساتھ “
میسم نے فواد کے کندھے پر تسلی آمیز تھپکی دی ۔ فواد نے اثبات میں زور سے سر ہلایا ۔
********
” میسم آ جاٸیں اب گھر “
ادینہ نے کوفت سے ناک چڑھاٸ وہ بیڈ پر فون کان کو لگاۓ بیٹھی تھی ۔ فواد کے بیٹے کے آپریشن کامیاب ہونے کے اور فواد کے مدد کرنے کے اعتراف کے بعد میسم بہت پر سکون ہوا تھا اور اسی لیے وہ اس ویکینڈ پر خیر پور آۓ تھے ۔ تاکہ سب گھر والوں سے مل لیں ان کا یہاں تین دن رکنے کا پروگرام تھا ۔
میسم صبح سے ناشتے کے بعد باہر نکلا تھا اور اب رات کے گیارہ بج چکے تھے انتظار کرتے کرتے ادینہ کی اب ہمت جواب دے چکی تھی اور اسی لیے وہ اب میسم کو فون کر رہی تھی بار بار اور گھر آنے کا کہہ رہی تھی۔
” بیگم دراصل سارے پرانے دوست بیٹھے ہیں ایک گھنٹہ مزید لگے گا“
میسم نے نرم سے لہجے میں درخواست کی ۔ ادینہ کا چہرہ غصے سے لال ہوا ۔ لاہور میں کیونکہ دو ہفتے سے میسم کی پوری توجہ کا مرکز وہ تھی اس لیے یہ بے اعتناٸ زیادہ ہی کھل رہی تھی ۔
”میسم آپ صبح سے باہر ہیں اور یہ وقت میرا ہے “
ادینہ نے خفگی بھرے لہجے میں کہا پیشانی پر بل تھے ۔ دل بری طرح کوفت میں مبتلا ہوا اب تو نیند بھی نہیں آتی تھی دوسری طرف سے جناب نے گہری سانس لی جیسے بہت تنگ ہوں ۔ یہاں آیا تو دوستوں نے ملنے کا پروگرام رکھ دیا اور اب بھی وہ رات کا کھانا کھا رہے تھے باہر کسی ہوٹل میں جہاں ادینہ بار بار فون کر رہی تھی۔
” اچھا بس کچھ دیر اب مسیج نہ کرنا نہ ہی فون کرنا اوکے آتا ہوں بس بلکہ سو جاٶ جان آ کر جگا دوں گا “
بڑے میٹھے سے لہجے میں کہا ادینہ کے تن بدن میں اور آگ لگی آنکھوں کو سکیڑ کر فون کو دور کیے گھورا اور غصے سے بنا کچھ کہے فون بند کر دیا ۔ فون کو زور سے بیڈ پر پٹخا۔ گلابی رنگ کے جوڑے میں چہرہ سرخ ہو رہا تھا ۔
اتنی لاپرواہی یہ پیار ہے کیا صبح سے رات ہو گٸ جناب کو ابھی تک میری یاد نہیں آٸ اور پر سکون دیکھو کیسے ہیں محترم( تم شو جاٶ جان) ادینہ نے منہ بناتے ہوۓ میسم کے الفاظ دہراۓ اور پاس پڑا کشن اٹھا کر زور سے فرش پر پھینکا ۔ کچھ دیر یونہی ماتھے پر بل ڈالے بیٹھی رہی پھر
غصے میں اٹھی زور زور سے ننگے پاٶں فرش پر مارتی کمرے کے داخلی دروازے تک پہنچی اور دروازہ لاک کر دیا اور خود آ کر غصے سے بیڈ پر لیٹ گٸ ۔ اس غصے میں نیند تو خاک آنی تھی ۔ فون اٹھاکر جان بوجھ کر پھر سے میسم کو کال کی دوسری طرف سے کال کٹ ہوٸ۔
چہرہ تپنے لگا پھر سے کال کی پھر سے کال کٹ کی منہ پھلا کر پھر سے نمبر ملایا۔ میسم پر غصہ آنے لگا تھا ۔ کہاں گۓ وہ لاڈ سارے آنکھوں میں آنسو آنے لگے
” آپ کا مطلوبہ نمبر فلحال بند ہے براۓ مہربانی کچھ دیر تک کوشش کریں “
فون سے ابھرتی آواز پر خون کھول گیا ۔ زور سے فون کو ایک طرف اچھالا ۔ میسم نے بار بار فون آنے سے تنگ آ کر فون کو سوٸچ آف کر دیا تھا ۔
ابھی اسی طرح الجھتے گھنٹہ ہی گزرا تھا جب دروازے پر میسم کی آواز کے ساتھ دستک ہوٸ ۔ جناب مین گیٹ کی چابی ساتھ لے کر گۓتھے لیکن اب آگے ادینہ نے کمرے کا دروازہ لاک کیا ہوا تھا ۔
تھوڑی دیر دستک دی پر دوسری طرف سے کو ردعمل نا ظاہر ہونے پر ادینہ کے نمبر پر فون کیا وہ فون نہیں اٹھا رہی تھی ۔ کرتے رہیں کال ادینہ نے دانت پیس کر بجتے فون کو دیکھا سکون اتر گیا سینے میں فون کو بجتے دیکھ کر
میسم نے گہری سانس لی فون کو کان سے ہٹایا سب پتا تھا وہ جاگ رہی ہوگی اس لیے فون بند کیا اور مسیج لکھا ۔
” ادینہ دروازہ کھولو بھٸ روم کا کب سے بجا رہا ہوں “
وٹس ایپ مسیج بھیجتے ہی ٹھک سے سین ہوا تو اس کا مطلب یہ تھا کہ محترمہ موباٸل ہاتھ میں تھامے بیٹھی ہیں ۔ادینہ نے غصے سے سکرین کو گھورا نہیں کھولوں گی دل میں عزم کیا
کوٸ جواب نہیں آیا مطلب دروازہ نہیں کھولے گی ۔ میسم نے بھنویں اچکاٸیں ۔
” ادینہ میں توڑ کر اندر آ جاٶں گا پھر دینا سب کو صفاٸیاں “
میسم نے مسکراتے ہوۓ اگلا مسیج بھیجا ۔ سین ہوا پر ہنوز وہی ردعمل ۔ میسم نے لب بھینچے کچھ دیر سوچا اور پھر ذہن میں آنے والے خیال سے آنکھیں شرارت سے چمک اٹھیں ۔
چلو ٹھیک ہے باہر لاٶنج میں لیٹ جاتا ہوں ناز عالم کو ویڈو کال کرتا ہوں بہت مس کر رہی ہے وہ اتنے عرصے سے رات بھی کٹ ہی جاۓ گی اس سے باتیں کرتے ہوۓ “
میسم نے شرارت سے مسکراہٹ دباتے ہوۓ مسیج ٹاٸپ کیا بھجیتے ہی سین ہوا کیونکہ محترمہ آن لاٸن ہی تھیں تب سے ۔
اففف ناز عالم کا نام دیکھ کر تو منہ کھل گیا جلدی سے بیڈ پر سے اٹھی ۔
فوراً سے کمرے کا دروازہ کھولا میسم پینٹ کی جیب میں ہاتھ ڈالے مسکراتا ہوا اندر داخل ہوا ۔ادینہ اسے بنا دیکھے اب تیز تیز قدم اٹھاتی بیڈ کی طرف جا رہی تھی۔
” کیا ہوا ہے میری بیگم کو “
محبت سے پوچھا جو پیشانی پر ڈھیروں بل ڈالے اب مصروف سے انداز میں بیڈ پر کمبل کو درست کر رہی تھی ۔
سر پھاڑ کر بتاٶں کیا ہوا ہے ادینہ نے خود سے سرگوشی کی ۔
” افف اتنا غصہ “
میسم نے شرارت سے مسکراہٹ دبا کر کہا اور سامنے صوفے پر بیٹھ کر جاگرز اتارنے شروع کیے ۔
” کپڑے نکال دو بیگم “
جھکے سر کے ساتھ محبت بھرے لہجے میں کہا۔ ادینہ نے غصے سے ناک پھلایا اور کمبل منہ تک تان کر لیٹ گٸ ۔ کپڑے نکلاتی ہے میری جوتی دانت پیسے
میسم نے سر اٹھایا وہ کپڑے نکالنے کے بجاۓ آرام سے لیٹ چکی تھی ۔ کان کھجایا بہت ناراض ہے ۔
” ادینہ گندی بیگم بن رہی ہو دیکھ لو “
گہری ہوتی مسکراہٹ کے ساتھ کہا ڈریس شرٹ کے کف بٹن کھولتا الماری کی طرف بڑھا ٹرایوزر شرٹ نکال کر واپس پلٹا ۔
” ہممم رکو بتاتا ہوں تمہیں کپڑے بدل لوں “
شرارت سے اس پر ایک نظر ڈالی جو گٹھڑی بنی لیٹی تھی اور واش روم میں گھس گیا ۔وہ جو غصے کی انتہا پر تھی اس کے اس فقرے پر دل زور سے دھڑکا۔
کچھ دیر بعد باہر نکلا تو محترمہ اسی حالت میں تھیں ۔ اچھل کر بیڈ پر کہنی کے بل لیٹا اور اس کے چہرے سے کمبل کو کھینچا ۔ آج شیو بناۓ وہ بہت دنوں کے مقابلے میں بہت نکھرا سا اور تازہ دم تھا ۔
” اچھا بتاٶ اب کیا مسٸلہ ہے میری واٸٹ ماٸس کو “
ادینہ جو دانت پیستے ہوۓ کمبل کو کھینچ رہی تھی واٸٹ ماٸس کہنے پر اور تپ گٸ ۔ یہاں آ کر تو رنگ ڈھنگ ہی بدل گۓ تھے جناب کے ۔
” اُدھر ہی سو جاتے دوستوں کے ساتھ یہ چند گھنٹوں کے لیے گھر آنے کی کیا ضرورت تھی “
غصے سے بپھر کر طنز بھرے لہجے میں کہا اور کمبل کو پھر سے کھینچا جو میسم اپنی گرفت میں لیے اب شرارت بھری نظروں سے مسکراہٹ دباۓ اسے گھور رہا تھا ۔
” اتنے دن سے وہاں لاہور میں تمھارے ساتھ ہی تھا نہ دن رات “
گہری سانس لیتے ہوۓ کہا اور کمبل کھینچ کر خود پر لیا ۔ اور سیدھا لیٹ گیا ۔
” اچھا تو وہ احسان تھا کیا “
ادینہ نے آنکھوں کو سکوڑ کر گھور کر دیکھا اور خفگی سے تکیے پر سر کو مارا ۔ وہ سیدھا لیٹا تھا ادینہ کے لیٹتے ہی جھٹ سے کہنی کے بل چہرہ اوپر کیا ۔
” نہیں بلکل نہیں پیار تھا جناب اور ابھی بھی اتنا ہے اتناہے کہ مت پوچھو “
پیار سے ادینہ کے غصے سے بھرے چہرے کو دیکھتے ہوۓ ہاتھ آگے بڑھایا ادینہ نے جھٹکے سے بازو دور کیا ۔
” ہاں نہیں پوچھتی مجھے نیند آ رہی ہے “
ادینہ نے خفگی بھرے انداز میں کہا اور رخ دوسری طرف موڑا ۔ میسم بے ساختہ قہقہ لگا کر اب کان کے قریب ہوا ۔
” تمھاری۔ی۔ی۔ی۔ نیند کی ایسی۔ی۔ی۔ی۔ی۔ی کی تیسی۔ی۔ی۔ی۔“
ایک جھٹکے سے ادینہ کے اوپر سے سارا کمبل کھینچا ۔
” میسم۔م۔م۔م۔م۔م۔“
غصے میں بھری یہ آخری چیخ ابھری ۔

 

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: