Maqsoom Novel by Huma Waqas – Episode 22

0
مقسوم از ہما وقاص – قسط نمبر 22

–**–**–

ادینہ بسام کے اوپر جھکی اسکا روٹین چیک اپ کر رہی تھی وہ اب بہت بہتر ہو چکا تھا بازو پر فریکچر تھا جس کی وجہ سے وہ ابھی ہاسپٹل میں ہی ایڈمٹ تھا ۔ وہ روز ہاسپٹل میں آتے ہی پہلے اسے دیکھنے کے لیے آتی تھی ۔
مسز میسم “
عقب سے فواد کی آواز پر ادینہ نے پیچھے مڑ کر دیکھا فواد نرم سی مسکراہٹ لبوں پر سجاۓ کھڑا تھا ۔ جب وہ بسام کا چیک اپ کرنے آٸ تھی اس وقت وہ یہاں موجود نہیں تھا صرف آفرین تھی ۔
” بہت بہت شکریہ میری آنکھیں کھولنے کے لیے “
فواد نے شرمندہ سے لہجے میں کہا اور محبت سے بسام کی طرف دیکھا آفرین نے بھی سر نیچے جھکا لیا فواد اسے بھی سب بتا چکا تھا ادینہ نے پیارے سے مسکرا کر بسام کے گال پر ہاتھ رکھا ۔اور پھر گہری سانس لیتی فواد کی طرف مڑی۔
”اٹس اوکے فواد بھاٸ اللہ نے آپ کے بیٹے کو زندگی دی اور اگر آپ میسم سے معافی مانگ کر اس کی مدد کے لیے تیار نہ بھی ہوتے میں پھر بھی بسام کی ٹریٹ منٹ اسی طرح ہی کرتی “
ادینہ نے بھرپور مسکراہٹ چہرے پر سجا کر کہا اور پھر سے بسام کے سر پر محبت سے ہاتھ پھیرا ۔ وہ ان کچھ دنوں میں ادینہ اور میسم سے بہت زیادہ مانوس ہو چکا تھا میسم ہر شام اس سے ملنے آتا تھا ۔
” میسم انکل آج نہیں آۓ “
بسام نے آہستہ سی آواز میں پوچھا ادینہ ہنستی ہوٸ تھوڑا سا اس کے اوپر جھکی ۔ آفرین اور فواد بھی مسکرا کر بسام کی طرف دیکھ رہے تھے وہ کتنا خوش تھا کہ وہ جس کھلاڑی کا پرستار تھا وہ اسے روز ملنے آتا تھا ۔
” وہ کہہ رہے تھے میں رات کو آٶں گا اپنے بسام سے ملنے “
ادینہ نے بسام کے ناک کو محبت سے چھوا فواد کے چہرے پر بھی گہری مسکراہٹ ابھری ۔ ادینہ ہنستی ہوٸ سیدھی ہوٸ
” بابا میں کرکٹ کھیلوں گا ان کے ساتھ “
بسام نے فواد کی طرف دیکھ کر جوش سے کہا ۔ جس پر فواد بھرپور طریقے سے مسکراتا ہوا آگے بڑھا اور اس کے پاس بیٹھا ۔
” بلکل جان ضرور کھیلنا ابھی میرا بیٹا کچھ دن تک بلکل ٹھیک ہو جاۓ گا پھر کھیلیں گے ان کے ساتھ “
فواد نے مسکراتے ہوۓ کہا ۔ فواد اب اپنے بیٹے پر جھکا اسے پیار کر رہا تھا ادینہ کچھ دور بیٹھی آفرین کی طرف اجازت طلب نظروں سے دیکھتی ہوٸ آگے بڑھ گٸ ۔
******
ٹی وی سکرین پر چلتی ویڈیو پورا پاکستان دیکھ رہا تھا ۔ فواد لاٸیو پریس کانفرنس کر رہا تھا جس میں وہ اب ثبوت کے طور پر پروجیکٹر کے ذریعے بہت بڑی سکرین پر ویڈیو دیکھا رہا تھا جو اس نے کل شام شازل سے مل کر خفیا طور پر بناٸ تھی۔ شازل ہوٹل کی کرسی پر بیٹھا قہقہ لگا رہا تھا جب فواد کی آواز ابھری ۔
” اچھا مجھے ابھی تک یہ بات نہیں سمجھ آٸ کہ تو نے ڈرگز اسے دی کیسے تھیں “
فواد نے تجسس کے انداز میں سوال پوچھا ۔ یہ سارا طریقہ کار میسم نے فواد کو سمجھایا تھا وہ ثبوت کے بنا کسی طور پر اپنی سچاٸ دنیا کے سامنے نہیں لانا چاہتا تھا ۔
فواد کے سوال پر شازل نے کمینی سی مسکراہٹ کو لبوں پر سجایا اور میز پر ہاتھ دھرتا ہوا تھوڑا سا آگے جھکا ۔
” بتا نا ہنسی جا رہا ہے “
فواد نے پھر سے پرسکون لہجے میں پوچھا جس پر شازل اب قہقہ لگا گیا ۔اور پھر بمشکل قہقہ روک کر سیدھا ہوا ۔ اس کے فرشتوں کے بھی علم نہیں تھا کہ فواد اس وقت اس کی ریکارڈنگ کر رہا ہے ۔
” آسٹریلیا کے میچ میں جب اسے پانی دیا گیا سینچری کے بعد اس سیل بند بوتل کے ڈھکن کے بلکل نیچے سے میں نے انجکیشن کے ذریعے میڈیسن کا محلول داخل کر دیا تھا “
شازل نے کمینگی سے آنکھ کے کونے کو دبایا ۔ اور پھر پیچھے ہوتے ہوۓ کرسی سے ٹیک لگاٸ ۔ ان گنت ٹی وی چینل اس ویڈیو کو براہ راست اس وقت اپنے چینلز کے ذریعے دنیا تک پہنچا رہے تھے ۔
” بس پھر گیا وہ بے چارا پوری دنیا کے ہیرو سب کی نظروں میں زیرو بنا دیا میں نے بیوقوف عوام “
شازل اب قہقہ لگا رہا تھا۔ فواد نے تھوڑا سا رخ پروجیکٹر کی طرف موڑ کر ویڈیو کو بند کیا اور سیدھا ہوا ۔ تمام صحافی پوری دنیا کی طرح منہ کھو لے بیٹھے تھے ۔ پورے پنڈال میں سرگوشیاں ابھرنے لگی تھیں ۔ فواد نے تھوڑا سا آگے ہوتے ہوۓ اپنے سامنے لگے ڈھیروں ماٸک میں بولنا شروع کیا ۔
” یہ ویڈیو میں نے اٸ سی سی ، تحقیقاتی ٹیم اور پی بی سی سب کو بھجوا دی ہے “
فواد نے اعتماد سے کہا۔ صحافیوں کے قلم چلنے لگے تھے تو نیوز چینل والے براہ راست پوری دنیا میں اس کی پریس کانفرنس چلا رہے تھے ۔
” میسم مراد انوسینٹ ہے وہ بہترین کھلاڑی ہے جسے کو کوٸ ڈفیٹ نہیں کر سکتا “
فواد نے سنجیدہ سے لہجے میں کہا ۔ اور پھر اپنے دونوں ہاتھوں کو ملا کر سر کو تھوڑا سا جھکایا ۔ اللہ تعالی نے اس کے بیٹے کو دوسری زندگی دی تھی اور اس نے دل سے توبہ کی تھی ہر اس گناہ سے جو وہ کرتا رہا ۔
” مجھ سے بہت بڑی غلطی ہوٸ میں شاذل کی باتوں میں آیا دو دوفعہ اور میسم کو دھوکا دیا “
بات مکمل کرنے کے بعد فواد نے سر اوپر اٹھایا ۔ اور پورے پنڈال کی طرف نظر دوڑاٸ ۔
” پر اب اور نہیں “
گہری سانس خارج کی ۔ نظریں اپنے ہاتھوں پر گاڑیں اسے کتنا سکون ملا تھا یہ سب کر کے دل پر سے بوجھ اتر گیا تھا ۔
” میری اپیل ہے میسم کو پھر سے ٹیم میں اور دلوں میں وہی مقام دیا جاۓ جو اس کا پہلے تھا “
فواد نے پرسکون لہجے میں کہا ۔ اور سر کو تھوڑا سا جھکایا ۔
” اور مجھے بھی شاذل کے ساتھ ساتھ جو بھی سزا دی جاۓ گی مجھے قبول ہے “
سانس کو اندر کی طرف کھینچ کر پر اعتماد انداز میں کہا ۔ پورے پنڈال میں اس کے لیے تالیاں گونج گٸ تھیں ۔ سب کی آنکھیں کھل گٸ تھیں ۔
*****
ایگل سپورٹس چینل کے سیٹ پر سامنے لگی کرسیوں پر پنجاب کرکٹ بورڈ کے چیرمین توقیر اور میسم بیٹھے تھے۔
” نہیں نہیں یوں سمجھیں بہت بڑی غلطی ہوٸ ہم سے “
پنجاب کرکٹ بورڈ کے چیرمین نے زور زور سے سر نفی میں ہلاتے ہوۓ ٹی وی اینکر کی طرف دیکھا ۔ جو شاٸد پنجاب کرکٹ بورڈ کے ناقص انتظام پر چیر مین کو سنا رہا تھا ۔
” دیکھیں نا سر اس پر بھی آپ لوگوں کا چیک اینڈ بیلنس ہو نا چاہیے اس طرح تو کوٸ بھی سنٸیر کھلاڑی کسی اچھے کھلاڑی کو آگے نہیں بڑھنے دے گا“
اینکر نے کوٹ کو درست کرتے ہوۓ ماتھے پر بل ڈالے کر کرکٹ بورڈ کے چیرمین کی طرف دیکھا ۔ میسم اور توقیر نے بھی دھیرے سے نظروں کا رخ اب چیر مین کی طرف موڑا۔
” جی دیکھیں بات یہ ہے کہ پہلے کبھی ایسا ہوا نہیں اس دفعہ کی ہے ہم نے ترمیم شازل کو نہ صرف معطل کیا گیا ہے بلکہ بھاری جرمانہ بھی عاٸد کیا گیا ہے اور آگے مزید اقدامات کریں گے “
چیر مین نے اعتماد کے ساتھ کیمرے میں دیکھتے ہوۓ کہا۔میسم اور توقیر نے بھی سر جھکا کر اثبات میں سر ہلایا ۔ اینکر نے اثبات میں سر ہلایا اور رخ میسم کی طرف موڑا ۔
” میسم آپ کو مبارک ہو آٸ سی سی نے آپ پر سے بین کو کھول دیا “
ٹی وی اینکر نے مسکرا کر میسم کی طرف دیکھا جو اب گہری ہوتی ہوٸ مسکراہٹ کے ساتھ سیدھا ہوا۔ ہلکے نیلے رنگ کی ڈریس شرٹ کے اوپر سیاہ کوٹ پہنے ہلکی سی بڑھی ہوٸ شیو کے ساتھ وہ پرسکون انداز میں بیٹھا ہوا تھا آزماٸش ختم ہو چکی تھی اللہ نے اسے پھر سے اس کی وہی عزت اور شہرت لٹا دی تھی لیکن اس دفعہ اس کی آنکھوں میں غرور کی جگہ عاجزی نے لے لی تھی ۔
” جی الحَمْدُ ِلله “
پرسکون لہجے میں کہا آنکھیں چمک رہی تھیں چہرے پر سکون تھا لیکن انداز عاجزی بھرا تھا۔
” تو اب کم بیک کیسا ہو گا وہی دھواں دھار میسم مراد چاہیے ہمیں “
ٹی وی اینکر نے بھرپور مسکراہٹ کے ساتھ کہا جس پر میسم کھلکھلا کر ہنس پڑا ۔ ہنسی کو قابو پا کر تھوڑا سا سیدھا ہوا ۔
” جی ان شا اللہ کیوں نہیں دراصل میرا خود پر کوٸ کنٹرول نہیں میں کھیل ہی ویسے سکتا ہوں “
میسم نے مسکراتے ہوۓ تھوڑا سا شرماۓ سے لہجے میں کہا گال پر خوبصورت گڑھے ابھرے چیرمین اور توقیر اس بات پر بھرپور انداز میں مسکرا دیے ۔
******
” چاۓ پٸیں گے ؟ “
میسم نے تھوڑا سا جھک کر عبدالطیف کے کان میں کہا ۔ وہ رکشے پر جھکا شاٸد کچھ کر رہا تھا ۔ میسم کی آواز پر حیرت سے پلٹا ۔اپنے سامنے میسم کو کھڑا دیکھا کر ایک لمحے کے لیے ساکن سا ہوا ۔ وہ کیسے میسم کو بھول سکتا تھا ڈیڑھ سال سے وہ اس انتظار میں تھا کہ کب میسم اسے ملنے آۓ گا کبھی تو مایوس ہو جاتا تھا کہ شاٸد وہ اسے بھول گیا ہے لیکن پھر بھی ایک یقین تھا کہ ایک دن وہ ضرور آۓ گا ۔
” ارے تم “
حیرت اور جوش کے ساتھ ساتھ اس کی باچھیں کھل اٹھی تھیں ۔ ایک دم جیسے وہ خوشی سے پاگل ہو گیا ۔
” اوۓ منظور ، اوۓ اجمل “
چیختا ہوا میسم کو وہاں چھوڑ کر ساتھ بنے چاۓ کے ڈھابے کی طرف بھاگا۔ انداز ایسا تھا جیسے پتا نہیں اس نے کیا جیت لیا ہو ۔
” اوۓ بیشر دیکھ وہ آ گیا مجھ سے ملنے کہا تھا نہ میں نے وہ آۓ گا دیکھ وہ آ یا ہے “
عبدالطیف کی آواز خوشی اور جوش سے کانپ رہی تھی ۔ بہت سے لوگ اب ڈھابے میں سے اور اردگرد سے اکٹھے ہو گۓ تھے سب کی آنکھوں میں حیرت تھی ۔ عبدالطیف اب مسکراتا ہوا جوش سے میسم کی طرف بڑھا ۔
” کیساہے بیٹا سب مجھ پر ہنستے تھے کہتے تھے وہ نہیں آۓ گا “
بوکھلاۓ سے انداز میں پیار سے میسم کی طرف دیکھ کر کہا کتنے ہی لوگ پرشوق نگاہیں لیے اب میسم کے گرد جمع ہو چکے تھے سب کے دانت باہر تھے اور سب خوشی سے پاگل ہو رہے تھے ان کے درمیان میسم مراد موجود تھا ۔
” میں نے کہا وہ آۓ گا چاۓ پینے ایک دن “
عبد الطیف نے فخر سے گردن کو اکڑا کر ارد گرد دیکھا ۔ سب لوگ حیرت میں ڈوبے تھے ۔
” صرف چاۓ پینے نہیں آیا ہوں آپکو ایک نوکری کی آفر دینے بھی آیا ہوں “
میسم نے گہری ہوتی مسکراہٹ کے ساتھ عبدالطیف کے کندھے پر ہاتھ دھرا ۔عبدالطیف نے حیرت سے میسم کی طرف دیکھا ۔ وہ جس دن سے نماز پڑھنا شروع ہوا تھا عبدالطیف کا خیال اس دن سے ہی دل میں تھا اور آج صبح مارننگ واک کے بجاۓ وہ یہاں اچکا تھا ۔
” میری بیوی کو میں نے ایک کار لے کر دی ہے وہ ڈراٸیونگ سے بہت ڈرتی ہے آپ ڈراٸیونگ کریں گے کیا؟ “
میسم نے عبدالطیف کی آنکھوں میں اترتی نمی کو دیکھ کر پیار سے کہا ۔وہ گنگ کھڑا تھا ۔ حیران سا
” آپکو بیس ہزار کے ساتھ گھر کے اندر بنے کوارٹر میں رہاٸش بھی ملے گی بولیں کیا آپ کریں گے “
میسم نے پھر سے کہتے ہوۓ اس کی حیرت کو ختم کیا ۔ عبدالطیف اب باقاعدہ رو پڑا تھا ۔ اور اپنے کندھے پر موجود سرخ ڈبیوں والے صافے کے ساتھ اپنی بوڑھی آنکھیں رگڑ ڈالیں ۔
” رو کیوں رہے ہیں “
میسم نے جلدی سے آگے بڑھ کر ااسے سینے سے لگایا۔ اب وہ پھوٹ پھوٹ کر رو دیا تھا اردگرد کھڑے لوگ پاگلوں کی طرح اپنے اپنے موباٸلوں میں ریکارڈنگ کر رہے تھے ۔
کچھ دیر کے بعد میسم نے عبدالطیف کو خود سے الگ کیا اور نرمی سے اس کے کندھے پر ہاتھ رکھا ۔
” اچھا چاۓ تو منگواٸیں اور آج تو پیسے مجھے دینے ہیں نہ “
گہری مسکراہٹ کے ساتھ جھک کر کہا ۔جس پر عبدالطیف زور زور سے سر کو اثبات میں ہلا گیا ۔
ادینہ چاۓ کا کپ اٹھا کر کرسی کو پیچھے دھکیلتی ہوٸ کھانے کے میز پر سے اٹھی ۔ ایک چور سی نظر میسم پر ڈالی وہ اب موباٸل پر جھکا مصروف سا کچھ دیکھ رہا تھا سامنے خالی چاۓ کا کپ پڑا تھا ۔ شام کی چاۓ کے بہانے وہ آج اکٹھے بیٹھے تھے میسم چاۓ ختم کر چکا تھا اور اس نے جان بوجھ کر آدھا کپ پیا تھا بس ۔ ادینہ نے انگلی کی پور ڈال کر چاۓ کو چیک کیا ٹھنڈی ہو چکی تھی ۔
کرسی سے آگے ہوتے ہوۓ مسکراہٹ دبا کر ساری چاۓ میسم کے کندھے پر انڈیل دی ۔ وہ جو مصروف سا بیٹھا تھا یوں اچانک چاۓ گرنے پر ایک دم اچھل کر سیدھا ہوا۔
” اوہ یار “
جلدی سے اٹھ کر موباٸل کھانے کے میز پر رکھ کر کھڑا ہوا ۔ ادینہ نے بمشکل ہنسی چھپا کر چہرے پر سنجیدگی طاری کی ۔
” سوری سوری پتہ ہی نہ چلا “
جلدی سے چاۓ کا کپ ایک طرف رکھا ۔ میسم اب شرٹ اتار رہا تھا ۔
” رکیں میں شرٹ لے کر آتی ہوں آپکی “
ادینہ نے پریشان سی صورت بنا کر دو انگلیوں کو جوڑے ہوۓ میسم کے آگے کیا ۔ جس پر میسم سر ہلاتا ہوا شرٹ کو ایک طرف رکھ کر پھر سے کرسی پر براجمان ہوا ۔ ادینہ شرارت بھری ایک نظر اس پر ڈالتی کمرے کی طرف بڑھی ۔
” ٹی شرٹ چلے گا ہزبینڈ “
ادینہ نے کمرے کے دروازے پر ہاتھ رکھ کر آواز کو تھوڑا اونچا کیا جبکہ چہرے پر انوکھی سی شرارت تھی ۔
” بیگم جو لے آٶ گی وہ دوڑے گا “
میسم نے موباٸل پر نظریں جماۓ جواب دیا ۔ ادینہ نے مسکرا کر میسم کی طرف دیکھا اور قدم الماری کی طرف بڑھاۓ الماری میں سے پیک کیا ایک گفٹ نکالا محبت سے اسے دیکھا اور پھر مسکراہٹ دباتی باہر کی طرف آٸ میسم ہنوز اسی انداز میں بیٹھا تھا ۔ بلیو جینز زیب تن کیے کھانے کے میز پر کہنیوں کے بل ہاتھ میں موباٸل پکڑے ۔
” یہ لیں “
ادینہ نے مسکراہٹ کو چھپا کر نیلے رنگ کے خوبصورت سے گفٹ ریپ میں لپٹا ڈبہ میسم کی طرف بڑھایا ۔ میسم نے موباٸل سے نظر اٹھا کر ادینہ کے ہاتھوں میں پکڑے ڈبے کی طرف دیکھا
” ہیں گفٹ “
بھنویں حیرت سے اوپر اچکاٸیں ۔ ادینہ نے شاٸستگی سے مسکرا کر سر ہلایا ۔
” ارے واہ میری بیگم کی طرف سے مجھے ملا پہلا گفٹ “
میسم نے موباٸل ایک طرف رکھ کر کرسی پر سے خود کو مکمل طور پر ادینہ کی طرف گھمایا ۔ اور لبوں کو داد دینے کے انداز میں باہر نکال کر ادینہ کے بلش ہوتے چہرے کی طرف دیکھا۔
” یس اور آپکے سب گفٹ ماند ہیں اس کے آگے “
ادینہ نے شرارت سے گردن اکڑا کر چھوٹی سی ناک اوپر چڑھاٸ پیلے رنگ کے جوڑے میں وہ سادہ سے دھلے چہرے کے ساتھ کھل رہی تھی ۔ میسم نے حیرت سے آنکھیں سکیڑ کر دیکھا ۔ ایک انوکھی سی چمک اور شرارت لیے آنکھوں کے ساتھ وہ میسم کو دیکھ رہی تھی ۔
” اوہ ایسا کیا؟ مطلب ڈاٸمنڈ رنگ یہ گھر اور باہر کھڑی کار سب “
میسم نے آبرٶ چڑھاۓ ۔ ادینہ نے شان بے نیازی سے کندھے اچکاۓ ۔ وہ مسلسل مسکرا رہی تھی ۔
” جی سب سب بے کار ہے “
ادینہ نے مسکراہٹ دباٸ اور آنکھوں میں شرارت بھر کر دیکھا ۔
” ہیں ایسا کیا لے آٸ میری بیگم “
میسم نے حیرت سے پیک کی طرف دیکھا اور گفٹ ریپ اتارنے کے لیے ہاتھ بڑھاۓ ۔ پیشانی پر تجسس کے ہلکے سے بل نمودار ہوۓ ۔
” رکیں رکیں ایک شرط ہے پہلے “
ادینہ نے عجلت میں میسم کے گفٹ کی طرف بڑھتے ہاتھ روک دیے جلدی سے اپنے گلے میں لپٹا سکارف نما چھوٹا سا دوپٹہ اتارا۔
” آنکھیں بند کرنی ہیں اور جب میں کہوں پھر کھولنی ہیں اوکے “
آگے بڑھ کر میسم کی آنکھوں کے گرد دوپٹے کو باندھ دیا وہ ادینہ کی ایسی بچگانہ حرکت پر قہقہ لگانے میں مصروف تھا حیرت ہنوز برقرار تھی ۔ آنکھوں کے اوپر دوپٹہ باندھنے کے بعد ادینہ تھوڑا سا پیچھے ہوٸ ۔ اور میسم کے ہاتھ کو اٹھا کر گفٹ پر رکھا ۔ جو اب بھرپور مسکراہٹ لبوں پر سجاۓ ریپر اتارنے میں مصروف تھا ۔
” اٹس فیل لاٸک اے ٹی شرٹ واٸف؟ “
ٹی شرٹ کے کے اوپر ہاتھ پھیرتے ہوۓ سوالیہ انداز میں ادینہ کی طرف دیکھا جو بھرپور طریقے سے مسکرا رہی تھی۔ گال گلابی ہو رہے تھے ۔
” یے ہیزبینڈ سہی گیس کیا “
ادینہ نے میسم کے بالوں میں ہاتھ کو پھیر کر اس کے بال بکھراۓ۔ میسم نے مسکرا کر سر پر سے ادینہ کے ہاتھ کو پکڑا ۔
” تو ایسا ہے بیگم کہ میں جب آنکھیں بند کر لوں پھر کچھ بھی نہیں کر سکتا پہناٶ مجھے شرٹ “
میسم نے شرارت سے مسکراتے ہوۓ رخ ادینہ کی طرف کیا اور بازو اوپر کیے ۔ ادینہ نے قہقہ لگا کر مصنوعی خفگی کے ساتھ کندھے پر چپت لگاٸ ۔
” اٸیں اب ایسی بھی بات نہیں رکیں میں سیدھی کر دوں “
ادینہ نے شرٹ کی تہہ کو ختم کرتے ہوۓ سیدھا کیا اور میسم کے سامنے میز پر بچھایا۔
” پہنیں اب “
میسم کے ہاتھ اٹھا کر شرٹ کے اوپر رکھے ۔ جو اب پہلے شرٹ پر ہاتھ پھیر رہا تھا ۔آخر کو یہ کر کیا رہی ہے ذہن میں سوال امڈ رہے تھے ۔
” ہممم کیا یہ سونے کے تاروں سے بناٸ گٸ شرٹ ہے ناظرین مجھے بہت تجسس ہو رہا ہے ایسا کیا ہے اس شرٹ میں “
میسم نے ہنستے ہوۓ نیوز پڑھنے کے انداز میں کہا اور شرٹ پہنی جب کہ ادینہ مسلسل بلش ہوتے چہرے کے ساتھ منہ پر ہاتھ رکھے ہنسی کو چھپا رہی تھی ۔
” ہممم تو اب کیا کرنا ہے جانِم ؟“
کھڑے ہو کر پیٹ سے پکڑ کر شرٹ کو نیچے کیا اور شرارتی انداز میں ادینہ سے پوچھا۔
” اب چلیں میرے ساتھ ایسے ہی روم میں “
ادینہ نے بازو سے پکڑ کر سیدھا کیا اور خود پیچھے ہوتے ہوۓ پشت سے دھکا دینے کے انداز میں میسم کو آگے بڑھایا ۔
” اس میں تو ہیلپ کر دو ظالم ترین بیگم “
میسم نے دونوں بازو سامنے کی طرف کھول کر ہوا میں چلاتے ہوۓ اندھوں کی طرح کہا ۔
” چلیں چلیں “
ادینہ نے آگے ہو کر ایک بازو کو پکڑا میسم نے بازو اوپر کرتے ہوۓ اسے بغل گیر کیا ۔ ادینہ نے مسکراہٹ دباتے ہوۓ سنگہار میز کی طرف قدم بڑھاۓ ۔
” بہت تجسس ہو رہا قسم سے کیا اس پر ڈاٸمنڈ لگے ہیں “
میسم نے تجسس بھری آواز میں کہتے ہوۓ شرٹ پر ہاتھ پھیرا ۔
” یہاں کھڑۓ ہو جاٸیں “
ادینہ نے بلکل آٸینے کے سامنے میسم کو کھڑے کرتے ہوۓ کہا ۔
” اب اتاریں آنکھوں سے پٹی “
ادینہ نے گہری ہوتی مسکراہٹ کے ساتھ کہا ۔ اور تھوڑا سا پیچھے ہوتے ہوۓ میسم کی طرف دیکھا ۔
” اوہ تھنک گاڈ فاٸینلی “
میسم نے گہری سانس لی اور دوپٹے کو جلدی سے کھولا سامنے پڑتی نظر اور سکڑتی آنکھیں پھیل گٸ تھیں ۔ سفید رنگ کی ٹی شرٹ پر سرخ حروف میں لکھا تھا ۔
” Congratulations!!!!!!!!!! you are now going to be a dadYyy”
” مبارک ہو آپ اب بابا بننے جا رہے ہیں “
میسم کا منہ حیرت سے کھلا تھا وہ بار بار کبھی سامنے اور کبھی گردن جھکا کر شرٹ پر لکھے الفاظ کو دیکھ رہا تھا ۔ ادینہ نے بلش ہوتے چہرے کے ساتھ مسکراہٹ کو گہرا کیا۔ میسم کی خوشی نے اندر تک سکون اتار دیا تھا ۔ حیرت میں ڈوبا وہ ادینہ کی طرف مڑا ۔
” سیریسلی ؟ “
خوشگوار حیرت سے سوالیہ انداز میں ادینہ کی طرف دیکھا ۔ادینہ نے لب بھینچ کر چمکتی آنکھوں کے ساتھ سر کو زور زور سے اثبات میں ہلایا ۔
” کب پتا چلا مطلب کہاں ہے وہ ؟“
میسم کی زبان لڑکھڑا گٸ تھی وہ خوشی میں بوکھلا سا گیا تھا ۔ایک عجیب انوکھی سی خوشی تھی جس سے پہلی بار آشناٸ تھی ۔ یقین نہیں آ رہا تھا ۔
” میسم کیا ہو گیا آپکو “
ادینہ نے میسم کے عجیب سے سوال پر قہقہ لگاتے ہوۓ کہا ۔ میسم نے جھینپ کر کمر پر ہاتھ دھرے ۔
” اوہ خوشی میں کچھ سمجھ ہی نہیں آ رہا “
قہقہ لگا کر گردن کھجاتا ادینہ کے پاس ہوا۔ جو اب محبت پاش نم آنکھوں سے میسم کی طرف دیکھ رہی تھی ۔
” آج صبح ہی کنفرم ہوا“
ادینہ نے شرماۓ سے انداز میں شرٹ پر ہاتھ پھیرا ۔ جبکہ میسم اب شاٸستگی سے مسکراتا اس کے چہرے کی طرف دیکھ رہا تھا وہ دنیا کی خوبصورت ترین عورت ہونے کے ساتھ ساتھ ایک خوبصورت دل کی مالک تھی وہ سہی کہہ رہی تھی اس کا ہر مہنگے سے مہنگا گفٹ ادینہ کے اس گفٹ کے آگے ماند تھا بے کار تھا اولاد کی دولت سے بڑھ کر کوٸ دولت نہیں ہوتی ۔
” آٸ لو یو بیگم “
میسم نے سر کو جھکا کر ادینہ کے دونوں ہاتھوں کو عقیدت سے اپنے ہاتھوں میں لیا ۔ ادینہ نے محبت سے مسکراتے ہوۓ میسم کی طرف دیکھا۔
” آٸ ایم سو سو سو ہیپی “
لفظوں پر زور دیا اور ہاتھوں پر گرفت مضبوط کی ۔ ادینہ نے پیار سے ناک چڑھاٸ ۔ کتنا سکون تھا سامنے کھڑے شخص کی محبت میں جس نے مکمل کر دیا تھا اسے ایک پیارا سا احساس گدگدا گیا تھا۔
” می ٹو “
آنکھوں میں دنیا جہان کا پیار سموۓ میسم کی طرف دیکھا ۔ میسم نے ہاتھ چھوڑ کر باہیں پھیلاٸیں ۔
********
” جی ڈاکٹر کیسی ہے میری ڈاکٹر “
میسم نے سامنے سے آتی ڈاکٹر اور ادینہ کی طرف دیکھتے ہوۓ کہا ۔ جو مسکراتی ہوٸ چیک اپ روم سے باہر آ رہی تھیں وہ دونوں ہفتے بعد ہی ڈاکٹر سے مکمل چیک اپ کے لیے آۓ تھے ۔ ادینہ کی تسلی میسم کے کسی کام نہیں آ رہی تھی وہ لاہور کی بیسٹ ڈاکٹر سے چیک اپ کے لیے اسے آج ہفتے بعد ہی لے آیا تھا ڈاکٹر سبینہ ایک بہت ہی تجربہ کار عمر ریسدہ اور مشہور ڈاکٹر تھیں ۔ جس کے بارے میں انہیں ثنا نے آگاہی دی تھی۔
” یہاں بھی شاٹ مارنے سے باز نہیں آۓ آپ “
ڈاکٹر سبینہ نے شرارت سے مسکراتے ہوۓ چشمے کی اوٹ سے میسم کی طرف دیکھا ۔میسم نے حیرت سے ادینہ کی طرف کی طرف رخ کیا جو گلابی ہوتے چہرے کے ساتھ اب لبوں پر ہاتھ رکھے بلش ہو رہی تھی ۔
” مطلب ؟“
میسم نے گردن گھما کر سوالیہ انداز میں ڈاکٹر کی طرف دیکھا جو ہنوز شرارت بھری مسکراہٹ چہرے پر سجاۓ بیٹھی تھیں ۔
” آپکی ڈاکٹر ٹوینز ایکسپیکٹ کر رہی ہیں “
ڈاکٹر نے بھرپور مسکراہٹ کے ساتھ کہا اور ادینہ کی طرف دیکھا جبکہ میسم کا منہ حیرت سے تھوڑا سا کھلا تھا ۔
” جی ما شا اللہ “
ڈاکٹر نے حیران سے میسم کی طرف دیکھ کر کہا ۔میسم اب بار بار ادینہ کی طرف دیکھ رہا تھا ۔ ڈاکٹر اب چشمے کو ناک پر تھوڑا سا آگے کیے کاغز پر کچھ لکھ رہی تھی۔
” ایکسٹرا کیٸر ماٸ بواۓ “
کاغز میسم کی طرف بڑھایا ۔
” آپ فکر نہ کریں “
میسم نے مسکرا کر کاغز کو تھاما ۔ اب ڈاکٹر مختلف احتیاط بتانے میں مصروف تھی ۔ جن سے ادینہ بھی باخوبی واقف تھی ۔ لیکن میسم کو اس معاملے میں ادینہ پر کوٸ اعتبار نہیں تھا وہ زور زور سے سر ہلاتا ہوا ڈاکٹر سے تمام ہداٸیات سننے میں مصروف تھا ۔
********
” ارے بھٸ اور منگوا لو چاۓ “
میسم نے ہاتھ کو ہوا میں چلاتے ہوۓ کہا ۔ سب لوگ قہقہ لگا کر ہنسنے لگے سیاہ رنگ کی شیراوانی میں ملبوس فہد نے حیرت سے ماتھے پر بل ڈال کر میسم کی طرف دیکھا اور اس کے قریب ہوا۔
” میسم گھڑی دیکھ کمینے ساڑھے بارہ بج گۓ “
فہد نے دانت پیستے ہوۓ میسم کے کان میں سرگوشی کی جو باقی سب دوستوں کے ساتھ باتوں میں مصروف تھا ۔ سارے فہد کے گھر کے ڈراٸنگ روم میں بیٹھے آڑے ترچھے صوفوں پر ڈھیر تھے کوٸ بھی ابھی فہد کو چھوڑنے پر رضامند نہیں تھا ۔
” تو ؟ “
میسم نے پرسکون لہجے میں کہتے ہوۓ آنکھ کے ایک آبرٶ کو چڑھایا ۔ فہد نے ماتھے پر بل ڈال کر گھورا ۔
” کیا ہلڑ بازی مچا رکھی یار اریبہ انتظار کر رہی “
بچارگی سے التجاٸ لہجے میں کہا ۔ جبکہ میسم نے کمینگی سے دیکھا ۔
“ تو ؟ “
پرسکون لہجے میں کہہ کر آبرٶ پھر سے چڑھاۓ ۔
” میسم خبیث انسان تو ساتھ دے دے باقی تو کسی سے کوٸ امید نہیں “
فہد نے دانت پیس کر غصے سے کہا اور اٹھ کر کھڑا ہوا ۔
” بیٹھ ابھی ادھر تیری ایسی کی تیسی “
میسم نے بازو سے کھینچ کر فہد کو پھر سے صوفے پر گرایا ۔ جس پرسب لوگ اب قہقہ لگارہے تھے فہد نے بچارگی سے سب کی طرف دیکھا سب ایک دوسرے کے ساتھ ملے ہوۓ تھے ۔کمینے ۔
” یہ اپنا ریمبو سنا بہت اچھا گانا گاتا ہے “
میسم نے گلا صاف کرتے ہوۓ دانت نکالتے بے سرے ریمبو کی طرف اشارہ کیا ۔
” ریمبو چل شروع ہو جا بھٸ “
آصف نے بھی میسم کی تاٸید کی ریمبو اب دانت نکالتا کھڑا ہو چکا تھا ۔
”افف کیا رات آٸ ہے ۔۔۔ “
راشد عرف ریمبو اب اپنی بے سری آواز میں اونچی اونچی گانا گانے میں مصروف ہو چکا تھا فہد نے روہانسی صورت بنا کر میسم کی طرف دیکھا ۔
موباٸل پر اریبہ کا مسیج بلنک ہوتے ہی فہد نے جلدی سے مسیج کھولا۔
”ان ایف فہد میں جا رہی ہوں اپنے گھر “
غصے والی شکل کے ساتھ مسیج دیکھ کر فہد نے غصے سے مسیم کی طرف گھور کر دیکھا جو سامنے کھڑے ریمبو کے بے سرے گانے کو بھرپور طریقے سے انجواۓ کر رہا تھا ۔
” اریبہ پاگل ہو گٸ ہو کیا “
اریبہ کو مسیج بھیجا ۔ جس پر کچھ دیر میں ہی جوابی میسیج آیا
” ہاں ہو گٸ ہوں ایک بج رہا ہے تھکاوٹ سے مر رہی ہوں میں “
اریبہ نے غصے والی بے شمار شکلیں بناٸییں

 

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: