Maqsoom Novel by Huma Waqas – Episode 3

0
مقسوم از ہما وقاص – قسط نمبر 3

–**–**–

”سنو ایک کام کر دو میرا “
میسم کی آواز پر ادینہ نے سر اٹھا کر اوپر دیکھا ۔ وہ چاۓ کا بڑا سا مگ ہاتھ میں تھامے اس کے سر پر کھڑا تھا ۔ چاۓ کا بے حد شوقین تھا وہ اور ہمیشہ یوں ہی بڑے سے مگ میں چاۓ پیتا تھا ۔ وہ آج ناشتے کے فوراً بعد دوسرے پورشن میں آ گٸ تھی حیاتیات کے پریکٹیکل کو بس دو ہی دن باقی تھے اور تجرباتی کاپی کی بہت سی آریھ ابھی اس کی رہتی تھیں اس نے سوچا تھا کہ آج بنا کر کے ہی دم لے گٸ اور اپنے اس عزم میں وہ صبح سات بجے کی بیٹھی دس بجے تک کافی حد تک کامیاب ہو چکی تھی ابھی بھی وہ اسی میں مصروف تھی جب وہ آ دھمکا ۔
امتحانات کے دوران تو وہ اسے اُس دن کے بعد آج دکھاٸ دے رہا تھا ۔اس کی وجہ میسم نہیں وہ خود تھی وہ پیپرز میں یوں ہی سات پردوں میں چھپ جاتی تھی ۔
ادینہ نے ایک نظر اس پر ڈالی اور پھر آرام سے کاپی پر جھک گٸ ۔
”میرے پاس وقت نہیں ہے تمہیں نظر نہیں آ رہا کیا ؟ کاپی بنا رہی ہوں اپنی“
اس کی طرف دیکھے بنا وہ مصروف سے انداز میں کہہ رہی تھی۔ وہ تو ازل سے ڈھیٹ تھا ہنوز ویسے ہی کھڑا تھا ۔
”وہ تو دیکھ ہی رہا ہوں “
میسم نے بھنویں اچکا کر اچٹتی سی نظر اس کی کاپی پر ڈالی ۔ وہ بڑے انہماک سے سفید کاغز پر حیاتیات کی آریھ بنانے میں مگن تھی ۔ دودھیا مناسب تراش کے ناخن والے خوبصورت ہاتھ بڑی مہارت سے کاپی پر اِدھر اُدھر پنسل کو گھما رہے تھے ۔ بالوں کی مخصوص انداز میں پونی ٹیل بناۓ دھلے سے چہرے کے ساتھ وہ ہر زی روح سے بے نیاز اپنے کام میں مگن تھی ۔ ایک دم سے ہاتھ رکے تھے اسے کوفت ہوٸ تھی میسم کے یوں سر پر کھڑے ہونے سے لب بھینچ کر پھر سے سر اوپر اٹھایا ۔
” تو جاٶ یہاں سے اب “
اوپری لب کو ناگواری سے اوپر چڑھا کر کہا ۔ میسم نے فوراً جوابی ردعمل میں دانتوں کی نماٸش کی ۔
” میری بھی فزیکل ایجوکیشن کی کاپی بنا دو گی“
بڑا دوستانہ انداز تھا ۔ ایسے جیسے وہ اس طرح کہنے سے مان جاۓ گی ۔ادینہ نے اچھنبے سے دیکھا۔ زبان دانتوں کے بیچ میں گھماتے ہوۓ آنکھوں کو سکیڑے اس نے اس انداز سے میسم کو دیکھا جیسے اس کی دماغی حالت پر شاکی ہو ۔
” دماغ ٹھیک ہے تمھارا کاپی تمھاری ہے میں کیسے بنا سکتی ہوں “
تنک کر کہا ۔ اور ماتھے پر بل ڈال کر اسے دیکھا ۔ جو بڑے آرام سے اسے کہہ رہا تھا جیسے سب بھولے کھڑا ہو کہ ان کی ایک پل کے لیے بھی نہیں بنتی تھی ۔
” خود بناٶ جا کر “
ادینہ نے ناک چڑھا کر ناگواری دکھاٸ ۔ وہ پھر سے دانت نکال گیا تھا ۔
” دیکھ لو تمہیں بھی کام پڑ سکتا ہے “
بڑے رعب سے کہا گیا ۔ جبکہ وہ جانتا تھا وہ کبھی بھی کوٸ کام اسے نہیں کہتی تھی اسے جو بھی کام ہوتا تھا وہ یاتو حزیفہ سے کہتی تھی یا پھر جواد احمد سے ۔
” مجھے اور تم سے کام “
ادینہ نے پھر سے جھکا ہوا سر جھٹکے سے اٹھایا ۔ اب کی بار طنز بھرا لہجہ تھا اور حیرت سے قلم لبوں میں دباۓ اب وہ اسے دیکھ رہی تھی جو بڑے انداز سے گردن اکڑاۓ کھڑا تھا ۔
” کیا ہو گیا ہے تمہیں “
ادینہ نے تمسخرانہ انداز میں ہاتھ کو نچایا ۔
” چلو چلو راستہ ناپو “
ادینہ نے ہاتھ کا اشارہ کمرے کے دروازے کی طرف کیا ۔وہ جو جوابی کارواٸ کے طور پر اس کے سر پر چپت لگانے کوآگے بڑھا اپنے ہاتھ اور چاۓ کے کپ کا توازن برقرار نہیں رکھ سکا اور چاۓ بڑے پریم سے کپ سمیت ادینہ کی کُھلی ہوٸ کاپی پر ڈھیر تھی ۔ ایک ساتھ ہی دونوں کے منہ کھلے ۔
” جاہل یہ کیا کیا “
ادینہ کی ہولناک چیخ ابھری ۔ جلدی سے اپنی کاپی پر سے کپ کو اٹھایا ۔ اور دانت پیستے ہوۓ کھا جانے والی نظر اپنے سامنے کھڑے میسم پر ڈالی۔ جس نے فوراً کھلا منہ بندکیا اور تھوک نگلا ۔ اس کے اندر کی کالی ماتا کو جاگنے کی وہ خود دعوت دے چکا تھا ۔ تو جناب ادینہ کا چڑیل کا روپ دھارنے کا وقت آن پہنچا تھا ۔
” جان بوجھ کر نہیں کیا یہ میں نے “
میسم نے گڑ بڑا کر کہا جبکہ وہ اس کے خیالات کے بلکل برعکس صدمے کی حالت میں روہانسی صورت بناۓ ڈبڈاٸ آنکھوں سے اپنی کاپی کو دیکھ رہی تھی جس کی بیرونی جلد تک خراب ہو چکی تھی ۔
” میری اتنی محنت “
ادینہ کی بھیگی سی آواز نکلی اور ساتھ ہی اس کی آنکھوں سے آنسو رواں تھے ۔ وہ اس کے سامنے یوں پہلی دفعہ رٶٸ تھی۔ وہ جو اس کے اعتاب کا شکار ہونے کے لیے بلکل تیار کھڑا تھا اچانک اس کے یوں زاروقطار رو دینے پر گڑ بڑا ساگیا ۔
” ادینہ دیکھو انجانے میں ہوا یہ سب “
ہڑ بڑاہٹ میں اس کی زبان لڑ کھڑا کر لفظ ادا کر رہی تھی ۔ اور ادینہ تو یوں رو رہی تھی جیسے کسی نے اس کی عمر بھر کی جمع پونچی اس سے چھین لی ہو ۔
” تمہیں کیا پتہ محنت کیا ہوتی ہے تمھارا کیا گیا ہاں “
ہچکیوں میں روتے ہوۓ بھاری سی آواز میں کہا ۔ اور چہرہ اوپر اٹھایا۔ پہلی دفعہ وہ اسے یوں بے بسی سے روتے دیکھ رہا تھا ۔ پل بھر میں ہی سفید ناک سرخ ہو چکی تھی اور سبزی ماٸل بھوری سی آنکھیں نمکین پانی چھلکا رہی تھیں ۔
” ادینہ ۔۔ دیکھو تم رو کیوں رہی ہو “
میسم کی آواز میں اچانک اس کی حالت کی وجہ سے نرمی در آٸ ۔اس کی حالت اس وقت واقعی قابل رحم تھی ۔
” میں میں نٸ لے آتا ہوں نوٹ بک “
دونوں ہاتھوں کو اپنے سینے پر رکھتے ہوۓ وہ تھوڑا سا نیچے جھکا۔ اور وہ جو تب سے صدمے کی حالت میں بس ٹسوۓ ہی بہاۓ جا رہی تھی ۔ بپھر کے کھڑی ہوٸ ۔
” بکواس بند کرو اپنی پرسوں میرا پریکٹیکل ہے کیسے بناٶں گی میں “
اس کے بلکل سامنے بھیگے گال لیے وہ ایسے کھڑی تھی جیسے ابھی اس کا منہ نوچ ڈالے گی ۔ میسم نے التجاٸ انداز میں کچھ کہنے کے لیے ابھی ہاتھ اٹھایا ہی تھا کہ وہ پھن پھیلاۓ پھر سے پھنکاری ۔
” تم جاٶ یہاں سے بس جاٶ مجھے اپنی شکل مت دکھاٶ “
پاگلوں کی طرح چیخ کر کہا اور پھر سے بچوں کی طرح لب باہر نکال کر رونے لگی ۔ میسم پریشان حال تیزی سے وہاں سے نکلا ۔ ادینہ کو آج پہلی دفعہ یوں روتا دیکھا اسے واقعی میں خود پر ملال ہوا تھا ۔ بوجھل دل سے وہ زینے اتر رہا تھا ۔
*******
” تو سمجھ نہیں رہا وہ رو پڑی ہے آج سے پہلے کبھی یوں روٸ نہیں وہ “
میسم نچلے لب کو دانتوں سے کچلتے ہوۓ بے چین سے کھڑا تھا ۔ وہ پریشان حال سا سیدھا فہد کے پاس آیا تھا ۔ بار بار آنکھوں کے آگے ادینہ کا آنسوٶں سے تر چہرہ آ رہا تھا۔ آج پہلی دفعہ اس کی پریشانی خود کی پریشانی لگ رہی تھی اسے ۔
فہد جو اس کے ادینہ کے لیے ایسے پریشان ہونے پر حیران کھڑا تھا اس کے رونے کا سن کر چپ سا ہو گیا ۔ کیونکہ آج تک جتنے قصے وہ میسم سے سن چکا تھا اور جتنا خود اپنی آنکھوں سے دیکھ چکا تھا ان دونوں کی لڑاٸ میں وہ ہمیشہ میسم کے شانہ بشانہ کھڑی ہوتی تھی اور آج تک کبھی رو کر کمزور نہیں پڑی تھی ۔
” کتنے پیسے ہیں تیرے پاس “
میسم نے سوالیہ انداز میں دیکھا ۔ فہد نے فوراً جیب میں ہاتھ ڈالا۔اور بھونیں اچکاتے ہوۓ سوال داغا
”کیوں کیا ہوا اب ؟“
” یار اس کی پریکٹیکل کاپی اسے لے کر دینی ہے “
میسم کا لہجہ اور صورت دونوں پریشان حال تھیں ۔
” دو سو ہیں میرے پاس “
فہد نے جیب میں جتنے پیسے تھے نکال کر ایک نظر ڈالی اور پھر میسم کی طرف بڑھاۓ جو اب اپنی جیب میں ہاتھ ڈالے کھڑا تھا ۔ فہد نے آج سے پہلے اسے کبھی ادینہ کے لیے یوں پریشان ہوتے نہیں دیکھا تھا ۔ بلکہ وہ تو ایسا تھا کہ کرکٹ کے علاوہ کبھی کسی چیز کی پریشانی لیتا ہی نہیں تھا ۔
” بہت ہیں مجھے دے میں پھر چاچو سے لے کر تمہیں دے دوں گا “
میسم نے عجلت میں کہا وہ جلد از جلد ادینہ کا مسٸلہ حل کر دینا چاہتا تھا ۔ باٸک کو کک لگا اسے سٹارٹ کیا ۔
” خیر ہے یار پریشان کیوں ہوتا ہے رکھ لے “
فہد نے اس کے کندھے پر تھپکی دی ۔ اور اس کے ساتھ ہی باٸک پر سوار ہو گیا ۔
********
” یہ کیا ہے “
ادینہ نے ہاتھ کی پشت سے گال صاف کۓ اور میسم کے ہاتھ میں پکڑے لفافے پر نظر ڈالی ۔ وہ ابھی تک وہیں بیٹھی رو ہی رہی تھی اور اپنی کاپی کو کھول چکی تھی تمام صفحات کو الگ الگ کر چکی تھی۔
” کاپی ہے نٸ لے لو روٶ مت “
میسم نے نرم سے لہجے میں کہا ۔ اب تک رو رو کر ادینہ کی ناک اور آنکھوں پر سوزش آ چکی تھی ۔ اب وہ خونخوار نظروں سے مسیم کو گھور رہی تھی ۔
” کاپی میں خود بھی خرید سکتی تھی میں اس محنت کے لیے رو رہی ہوں جو میں نے اس پر کی تھی “
ادینہ نے دانت پیس کر کہا ۔ اور سر کو ایک جھٹکا دے کر چہرے کا رخ دوسری طرف موڑا ۔ اس وقت وہ اسے زہر لگ رہا تھا ۔ میسم نے گہری سانس لی اور فوراً نٸ کاپی کے باٸینڈر کے ربن کو کھولا وہ اس کے سامنے رکھی کرسی پر بیٹھ چکا تھا ۔
” ایک کام کرتے ہیں جتنے پیجز سہی ہیں وہ اس نٸ والی کاپی میں لگا دیتے ہیں “
وہ تیزی سے کاپی میں سے صفحات کو الگ کر کے نکال رہا تھا ۔انداز بڑا مصروف تھا ۔ ادینہ نے روٹھا سا چہرہ ایک پل کے لیے اس کی طرف موڑا اور پھر کچھ سوچتے ہوۓ وہ اس کے ہاتھ سے کاپی لے رہی تھی ۔ میسم کے اس انداز نے ایک لمحے کے لیے حیرت میں مبتلا کیا تھا ۔
ڈر گیا ہو گا کہ اب میں مراد ماموں سے اس کی درگت نہ بنوا دوں ۔کالا کوا کہیں کا ۔ وہ دل ہی دل میں ابھی بھی اسے کوس رہی تھی پر اس وقت منہ سے اسے کچھ کہنا اپنے پاٶں پر خود کلہاڑی مارنے کے مترادف تھا۔
” رکو میں میں کر کے دیتا ہوں “
میسم نے ہاتھ کے اشارے سے اسے روکا ۔ وہ اب صفحات کاپی میں ترتیب دے رہا تھا ان آریھ کی جن کو وہ بنا چکی تھی ۔
” بس اب تمہیں صرف جو چاۓ سے خراب پیجز تھے وہ بنانے پڑیں گے پھر سے بلکہ میں ہیلپ کرتا ہوں فیل ہوا ہوں دو دفعہ ایف ایس سی میں پر اتنا تو کر ہی سکتا ہوں “
ادینہ نے بس ناک پھلا کر اسے جھکے سر کو دیکھنے پر ہی اکتفا کیا ۔ اس کے ماتھے کے بل ہنوز قاٸم تھے ۔
” آ نسو تو پونچھ لو “
میسم نے مسکرا کر اس کی طرف دیکھا ۔ لیکن وہاں اس مسکراہٹ کا کوٸ اثر نہیں تھا ۔ چہرے ابھی بھی شکوہ کنعاں تھا ۔
” شکاٸت تمھاری اب بھی لگے گی “
ادینہ نے بھیگی سی آواز میں کہا اور غصے سے بھر پور انداز میں مسکراتے میسم کی طرف دیکھا ۔
” کیسے “
میسم نے بھنویں اچکاٸیں ۔ جب کے چہرے پر کوٸ خوف نہیں تھا ۔وہ چاۓ سے خراب ہوۓ صفحات کو لفافے میں ڈال رہا تھا ۔
”میں بتاٶں گی مراد ماموں کو کہ اس نے میری محنت برباد کی تھی “
ادینہ نے جتلانے جیسے انداز میں کہا ۔ لیکن یہ کیا اس کے چہرہ تو پر سکون تھا وہاں نہ تو ہواٸیاں اڑی تھیں اور نہ ہی جوابی کوٸ غصے سے بھرا فقرہ آیا تھا ۔ وہ ہنوز اسی طرح مسکرا رہا تھا ۔
” کیسے بتاٶ گی “
میسم نے پر سکون لہجے میں کہا۔ اور کرسی سے اٹھا ۔
” میں یہ کاپی دکھاٶں گی انھیں “
ادینہ نے دانت پیسے اور جیسے ہی چاۓ کے ساتھ خراب ہوۓ صفحات کو دیکھنے کے لیے سامنے نظر دوڑاٸ وہ وہاں موجود نہیں تھے ۔ صفحات میسم مسکراتے ہوۓ لفافے میں ڈال رہا تھا ۔
” کاپی دو واپس “
ادینہ نے ناک پھلا کر ہاتھ آگے کیا۔ جس کو قہقہ لگا کر میسم نے اپنے ہاتھ سے ایک طرف کیا۔ ادینہ جو تھوڑی دیر پہلے اس کی ہمدردی پر حیرت کے سمندر میں غوطے لگا رہی تھی اب بیک وقت آنکھیں اور منہ دونوں کھول چکی تھی ۔
” کام کرو اپنا میں نے ایسا کچھ بھی نہیں کیا اور نہ کسی نے دیکھا ابھی “
میسم نے اپنے مخصوص انداز میں ابرو چڑھا کر لب ملاۓ لبوں کے قریب مسکراہٹ چھپانے کے سبب چھوٹے سے گڑھے واضح ہوۓ تھے ۔ ادینہ نے کھلا منہ بند کیا اور آنکھیں سکیڑ کر غصے سے دیکھا۔
” تم جیسا چال باز میں نے آج تک نہیں دیکھا “
وہ اپنے لب و لہجے پر واپس آچکی تھی اب اس پر چیخ رہی تھی ۔ جو مسلسل قہقے پر قہقہ لگا رہا تھا ۔ تھوڑی دیر پہلے والی ہمدری ہوا چکی ہو تھی ۔
” تم دیکھنا میں کیا حال کرواتی ماموں سے تمھارا“
ادینہ نے خطرناک عزاٸم سے آگاہ کرتے ہوۓ اپنے منہ پر ہاتھ پھیرا ۔
” کیسے ثبوت تو میرے ہاتھ میں ہے “
میسم نے لفافہ اوپر کیا ۔ اور فتحانہ انداز میں مسکرا کر دیکھا ۔ وہ چڑ کر پیر پٹخ گٸ تھی ۔
********
کرتے کے کف کے بٹن بند کرتا وہ تیز تیز قدم اٹھاتا مراد احمد کے کمرے کی طرف بڑھ رہا تھا ۔کیٹرنگ والوں کا فون آیا تھا وہ وقت پوچھ رہے تھے ۔ یہی بتانے کے لیے وہ مراد کے کمرے تک پہنچا تھا جب اندر سے آتی مختلف آوازٶں کی بازگشت نے قدم جما دیے تھے ۔
” مراد بھاٸ کیوں پریشان ہوتے ہیں اتنا ادینہ نے ڈاکٹر بن کر یہیں تو رہنا “
عزرا نے مراد کے کندھے پر ہاتھ رکھا تھا ۔ وہ سر جھکاۓ بیٹھے تھے ۔ رزلٹ آ چکا تھا ادینہ نے ایف ایس سی میں شاندار نمبر لیے تھے جس کی خوشی میں گھر میں آج چھوٹی سی تقریب کا اہتمام کیا گیا تھا ۔ آخر کار اب ڈاکٹری کی ڈگری کے لیے سب کی نظریں ادینہ شیراز پر ٹکی تھیں ۔ جبکہ میسم معمولی نمبروں سے صرف پاس ہی ہو سکا تھا ۔ مراد کو بڑے بیٹے کو لے کر بہت پریشانی تھی کم از کم اچھے نمبروں میں پاس ہی ہو جاتا ۔ وہ تو جواد سے بھی چار ہاتھ آگے نکلا تھا جواد نے کم از کم میڈیکل اچھے نمبروں میں پاس تو کیا تھا ۔
” میسم اگر چھوٹی موٹی نوکری بھی کرتا ہوا تو کیا ہے “
عزرا نے مسکراتے ہوۓ ایک نظر پریشان کھڑی رابعہ پر ڈالی اور پھر مراد کی طرف دیکھا ۔ رابعہ شوہر کے غصے سے پریشان حال کھڑی تھیں۔
” خواہش تو یہ تھی دونوں ڈاکٹر بنتے ایک ساتھ دونوں کو کلینک بنا دیتے “
مراد نے گہری سانس لی ۔ چہرے پر مایوسی تھی ۔ باہر کھڑے میسم پر حیرت کے پہاڑ ٹوٹ رہے تھے۔ لیکن یہ کیا یہ حیرت عجیب سی حیرت تھی ۔ جسے سمجھنے سے وہ قاصر تھا ۔
یہ رشتہ بہت بچپن میں احمد میاں کی خواہش پر طے کیا گیا تھا ۔ وہ چاہتے تھے گھر کی بیٹی گھر میں ہی رہے ۔ اور عزرا کو کبھی یہ نہ لگے کہ بھاٸ اس کی بیٹی کو پڑھا کر اس پر احسان کر رہا ہے ۔
” کوٸ بات نہیں بیٹا نہ سہی بہو ڈاکٹر سہی “
عزرا نے پھر سے تسلی دینے کے انداز میں کہا ۔ عزرا کو میسم بہت عزیز تھا اور سب سے بڑا سکون یہ تھا کہ بیٹی آنکھوں کے آگے ہی رہے گی ۔رابعہ نے آگے بڑھ کر عزرا کو گلے لگا لیا تھا ۔
وہ جن قدموں پر آیا تھا انہی قدموں سے کھویا کھویا سا واپس لوٹ رہا تھا ۔ جب نظر سامنے پڑی ۔ وہ پیرٹ گرین بنارسی سے جوڑے میں مسکراتی ہوٸ اوپری زینہ نیچے اترتی ہوٸ آ رہی تھی ۔ آج وہ اسے کسی اور ہی نظر سے دیکھ رہا تھا جس نظر سے آج سے پہلے اس نے کبھی اسے نہیں دیکھا تھا ۔
سفید رنگت گلابی گال بھری سبز ملی جلی بڑی سی آنکھیں بیضوی چہرہ کھڑی چھوٹی سی ناک پنکھڑی سے ہونٹ مغرور سا انداز لمبا قد سڈول سا بدن ریشمی بھورے کندھوں تک آتے بال ۔ وہ واقعی میں اتنی دلکش تھی یا آج اسے لگ رہی تھی آج سے پہلے اس کی یہ خوبصورتی اس کی نظر کیوں نہیں دیکھ سکی تھی ۔ وہ تو کبھی اسے سفید چوہیا لگتی تھی ۔ کبھی چٹی ماتا کبھی برفانی چڑیل پر آج تو وہ دل کے ساز ہی چھیڑ گٸ تھی ۔
” جلن ہو رہی ہے نہ “
ہاتھ پیچھے باندھ کر دھیرے دھیرے ہلتے ہوۓ وہ شوخ سے انداز میں اس کے بلکل سامنے آ کر کھڑی تھی ۔ اس کے دل میں بجنے والے ساز سے یکسر انجان ۔ وہ جو انجانے سے سحر میں جکڑا کھڑا تھا اس کے ایسے مغرور سے انداز پر مسکراہٹ دبا گیا وہ انداز جس پر اس کے دماغ کی گھنٹیاں بجنے لگتی تھیں آج دل کی گھنٹی بج رہی تھی ۔ آج اس کی کوٸ بات بھی بری نہیں لگ رہی تھی ۔ دلچسپی سے اسے دیکھا جو اپنی طرف سے تیر چلا کر اب اس کی طرف سے آنے والے تیر کا انتظار کر رہی تھی۔ میسم کچھ دیر ےو یونہی دیکھتا رہا پھر شرارت کی رگ بھڑک ہی اٹھی اور وہ اپنے پرانے انداز کو اپنا گیا تھا ۔
” تم سے اور میں جلوں جوتا دیکھو میرا “
میسم نے قریب ہو کر کہا ۔ آج اس سے لڑنے میں دل عجیب ہی طرز سے گدگدا رہا تھا ۔ اس کی ہر ادا دل کو بھلی لگ رہی تھی ۔ ادینہ کی نظر بے ساختہ اس کی چپل پر پڑی ۔ اور پھر ہاتھ وہ لبوں پر رکھ چکی تھی ۔
” کیا ہے گندی سی ہواٸ چپل “
ہلکا سا قہقہ لگاتے ہوۓ کہا ۔ وہ ہنس رہی تھی اور میسم اس کے دانت دیکھ رہا تھا ۔ ترتیب سے موتیوں کی لڑی سے دانت ۔ افف یہ سفید چوہیا اس قدر حسین ہے میں نے تو آج سے پہلے کبھی محسوس ہی نہیں کیا ۔ شرارت سے بھنویں اٹھا کر اپنی مسکراہٹ چھپاٸ ۔
” میرا مطلب تھا میرے جوتے کو بھی نہیں پرواہ “
مسیم نے کالر کھڑے کیے تھے ۔ اور اس نے اپنے مخصوص انداز میں انگلی کو ناک کے نیچے سے گزارتے ہوۓ ناک کو سکیڑا تھا ۔ آج تو وہ ہواٶں میں اڑ رہی تھی۔
” اور بات سنو ابھی تو ایف ایس سی کی ہے ڈاکٹر تھوڑی نہ بن گٸ ہو جو اتنی اکڑ دکھا رہی “
اس کی اس ادا سے ناک چڑھانے پر میسم بے ساختہ اس کی ناک پکڑ کر کھینچ چکا تھا ۔
” افف بد تمیز “
زور سے اس کا ہاتھ جھٹکتی خفگی سے اسے دیکھتی اس کی مسکراہٹ سے بے خبر منہ میں بڑ بڑاتی ہوٸ آگے بڑھ رہی تھی ۔ جبکہ وہ ایک انوکھے سے حصار میں جکڑا وہیں کھڑا تھا۔

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: