Maqsoom Novel by Huma Waqas – Episode 4

0
مقسوم از ہما وقاص – قسط نمبر 4

–**–**–

” دادا جی کو بتاتا ہوں جا کر میچ دیکھ رہا ہے میسم “
تیرہ سالہ حزیفہ نے منہ پر ہاتھ پھیرتے ہوۓ قدم کمرے سے باہر کی طرف بڑھاۓ ۔
جی تو یہ ہیں جناب حزیفہ مراد آج ان کا تعارف بھی ہو ہی جاۓ میسم کے آٹھ سال بعد جب مراد احمد اور رابعہ مایوس ہو چلے تھے تو جناب موصوف کی آمد ہوٸ میسم سے بلکل برعکس جناب اچھی خاصی صحت رکھنے والے گول مٹول سے مرد نما بچے ہیں۔ ادینہ کا لاڈلا اور میسم کا دشمن ہونے کا شرف جناب کو بھی حاصل ہے ۔
میسم جو ٹانگیں پسارے صوفے پر لیٹا کرکٹ میچ دیکھنے میں مصروف تھا حزیفہ کی دھمکی پر اچھل کر بیٹھا ۔
” اوۓ رک رک فٹ بال کہیں کے نہیں تو ایک کک ایسی پڑے گی لڑھکتا ہوا جاۓ گا “
میسم نے نچلے لب کو دانتوں میں جکڑ کر کہا ۔ حزیفہ کمر پر ہاتھ رکھ کر ناک پھلا کر مڑا ۔ اس کا کوٸ پسندیدہ شو آنے والا تھا اور میسم اسے ٹی وی نہیں دے رہا تھا ۔ اوپر رابعہ اور عزرا کے ڈرامے کا وقت تھا اس لیے وہ میسم سے ہی لڑنے پہنچ چکا تھا ۔
” ریموٹ دو مجھے پھر “
ماتھے پر بل ڈال کر رعب سے کہا ۔ دونوں کے درمیان عمر کا بہت فرق تھا پر لڑاٸ کے دوران دونوں ہم عمر ہی ہو جاتے تھے ۔ میسم بھی اسی کے انداز میں کمر پر ہاتھ دھر کر بلکل اس کے سامنے آ گیا ۔
” تمہیں تمیز نہیں ہے کیا بھاٸ بول “
اس کے داٸیں گال پر چپت لگاٸ ۔ حزیفہ نے بے ساختہ اپنے پھولے ہوۓ گال پر خفگی سے ہاتھ رکھا ۔ اور گھور کر میسم کو دیکھا ۔
” بھاٸ بول پہلے “
میسم نے اب اس کے باٸیں گال پر چپت لگاٸ ۔ وہ لال ہو گیا اور بھینسے کی طرح ناک سے آوازیں نکالیں ۔ جبکہ میسم سینے پر ہاتھ باندھے اس کے انداز سے محفوظ ہو رہا تھا
” امی!!!!!!!“
حزیفہ نے مٹھیاں بھینچ کر پوری قوت سے چلا کر کہا۔ یہ ہواٸ فاٸر تھا کیونکہ دونوں جانتے تھے رابعہ اس وقت ڈرامہ دیکھنے اوپر جاتی ہے ۔
” یہ دیکھیں مار رہا مجھے لمبو کہیں کا “
حزیفہ نے پھر چیخ کر دیواروں سے کہا ۔ کیونکہ یہ وہ دو جملے تھے جو گھر میں ہر آدھے گھنٹے بعد گونجتے تھے ۔
” چل جا نہیں ملے گا ریموٹ “
میسم نے ہاتھ سے اسے باہر کی طرف جانے کا اشارہ کیا اور خود پھر سے صوفے پر ڈھیر ہوا۔ اسی لمحے وہ میسم کے دل کی سلطنت پر حکومت کی جنگ لڑنے والی ہاتھ میں کاغز تھامے کمرے میں داخل ہوٸ ۔
” حزیفہ بات سنو “
بڑے مصروف سے انداز میں مدھر سی آواز کے ساتھ حزیفہ کو پکارتی وہ اب دنوں گال کو سہلاتے حزیفہ کے بلکل سامنے کھڑی تھی ۔ اس کی آواز کانوں میں پڑتے ہی میسم نے ٹرانس میں گردن گھماٸ ۔ محترمہ آجکل میڈیکل کالج میں داخلہ ٹیسٹ کی بھرپور طریقے سے تیاری کر رہی تھیں بہت کم نظر آتی تھیں ۔
ہلکے سے زرد رنگ کے جوڑے میں کندھے پر جھولتے دوپٹے اور بالوں کی پونی ٹیل میں وہ سادہ سی بھی آج میسم کے دل کو اچھی لگ رہی تھی ۔ کمبخت نظر جو ایک پل کو کرکٹ کے میچ سے ہٹتی نہیں تھی آج میچ پر واپس نہیں جا رہی تھی ۔
” کیا ہوا بھٸ رو کیوں رہا میرا بھاٸ “
نظر جو کاغز سے اوپر اٹھی تھی آنکھوں میں آنسو لیے کھڑے حزیفہ پر پڑی ادینہ نے محبت سے حزیفہ کی تھورڈی سے پکڑ کر اس کے چہرے کو اوپر کیا ۔
” ادی دیکھیں یہ نہیں دے رہا ریموٹ میرا ڈرامہ گزرا جا رہا ہے “
وہ بچپن سے ادینہ کہنے میں ناکام ہوا آج تک ادینہ کو ادی ہی کہتا تھا ۔ ادینہ نے آنکھیں سکیڑ کر میسم کی طرف دیکھا جو پہلے سے ہی دلچسپی سے ادینہ کو دیکھ رہا تھا ۔ اور پھر پریم سے حزیفہ کے کندھے پر ہاتھ رکھا ۔
” تم بھاگ کر جاٶ ذرا مجھے شاپ سے یہ سامان لا کر دو آٶ گے تو ریموٹ تمہیں ملے گا “ بڑے پر یقین لہجے میں تسلی دی حزیفہ نے بے یقینی سے ادینہ کی طرف دیکھا ۔
” کس خوش فہمی میں بھٸ “
میسم نے آبرو چڑھاتے ہوۓ ۔ ادینہ کی بات پر تنک کر کہا ۔ ادینہ نے بے نیازی برتی اور پھر سے حزیفہ کو پچکارہ
” تم جاٶ حزیفہ بھروسہ ہے نہ اپنی ادی پر “
حزیفہ کو تسلی دیتے ہوۓ وہ اس کے گال تھپک کر اب میسم کی طرف پلٹی ۔ بڑے آرام سے اب وہ اپنے موباٸل کے کیمرہ کو میسم پر سیٹ کر رہی تھی ۔
” کیا کر رہی ہو یہ “
میسم نے آنکھیں سکیڑیں ۔ لبوں کو بھینچ کر اس کے پر سکون انداز سے اٹھنے والی خطرناک عزاٸم کی بو کو سونگھا ۔
” ویڈیو بنا رہی ہوں “
بڑے انداز سے اپنی آگے آٸ ہوٸ پونی کے بالوں کو انگلی میں رول کیا ۔ لب بھی مختلف زاویے بدل رہے تھے ۔
” کیوں ؟“
میسم اپنی جگہ سے اٹھ اور صوفے کی پشت سے پھلانگ کر اب ادینہ کے سامنے تھا ۔
” تمھارا کل ان ٹی ایس ٹیسٹ ہے نہ اور تمھاری تیاری کا ثبوت تو دینا ہو گا نہ ماموں کو “
پلکوں کو مصنوعی انداز میں بار بار جھپکتے ہوۓ وہ پرسکون انداز میں کہہ رہی تھی ۔
” خبردار جو یہ کیا تم نے “
میسم نے آگے بڑھ کر موباٸل اس کے ہاتھ سے لینا چاہا جو وہ جلدی سے اپنے پیچھے کر چکی تھی ۔
” کروں گی ایسا ہی نہیں تو ریموٹ دو “
ادینہ نے ایک ہاتھ آگے بڑھاتے ہوۓ اپنے خطرناک عزاٸم سے اسے آگاہ کیا ۔ جو قدم قدم اس کی طرف بڑھ رہا تھا ۔
” دو نہیں تو ابھی آ جانے دو ان کو ذرا “
ادینہ نے دانت پیس کر پھر سے دھمکی دی ۔ میسم نے ناک پھلا کر ریموٹ آگے کیا ۔
” پکڑو “
وہ پوری بتیسی کی نماٸش کر گٸ تھی ۔ موتیوں جیسے دانت گلابی لبوں کے اندر سے واضح ہوۓ تھے ۔
ھاۓ۔ے۔ے۔ے۔
اس کی ادا میسم کے دل پر میٹھی سی ضرب ثابت ہوٸ تھی ۔ کمبخت زخم پر زخم کھا رہا تھا خطرہ تھا کچھ ہی عرصے میں چھلنی چھلنی ہو جاۓ گا ۔ وہ ریموٹ کو تھامے اس کو زبان نکال کر چڑاتی باہر جا رہی تھی اور میسم کا ہاتھ انجانے میں ہی دل پر آ چکا تھا ۔
********
” کون ہے “
اریبہ نے دروازے کے قریب سے آواز دی ۔ وہ اور عزرا دوپہر کو نیچے آٸ ہوٸ تھیں ۔ جب دراوزے پر گھنٹی بجنے پر وہ گیٹ پر گٸ تھی ۔ باہر کچھ دیر کی خاموشی کے بعد کوٸ دروازے کے اور قریب ہوا تھا ۔
” جی میں فہد “
گلا صاف کرنے کے بعد معدب انداز میں کہا قسمت نے آج ساتھ دیا تھا اور وہ دروازے پر تھی ۔ گو کےمیسم کا اور فہد کا گھر آمنے سامنے تھا اور وہ میسم کا واحد جگری دوست تھا پر پھر بھی ان کے گھر بلا تکلف آنا جانا نہیں تھا ۔ اریبہ کے ساتھ فہد بچپن میں ایک ہی سکول میں پڑھتا تھا ۔ اور بچپن میں تو کھیلا بھی ساتھ کرتے تھے پر بڑے ہوتے ہی نہ صرف کھیلنا چھوٹ گیا تھا بلکہ کالجز بھی الگ الگ ہو گۓ تھے ۔ لیکن فہد اریبہ کے لیے اپنی محسوسات نہ بدل سکا تھا ۔ لیکن سلسلہ صرف اسے دیکھنے کی حد تک ہی تھا ۔ اور وہ بھی صرف فہد کی طرف سے یک طرفہ ہی تھا ۔
” جی؟ “
اریبہ نے بیرونی دروازے کی اٶٹ سے ہی سوالیہ لہجہ اپناتے ہوۓ کہا ۔
” یہ جی بریانی امی نے بھجواٸ ہے “
فہد نے تھوڑا سا آگے ہوتے ہوۓ کہا ۔ اریبہ نے سر پر دوپٹہ درست کرتے ہوۓ دروازہ کھولا ۔ وہ سامنے بریانی کی پیلٹ تھامے کھڑا تھا ۔ شکل پر وہی شرافت طاری کیے جو وہ ہمیشہ اریبہ کو دیکھ کر کرتا تھا ۔
” وہ میسم گھر پر ہے “
اس سے پہلے کہ اریبہ دروازہ بند کرتی اگلا سوال داغ دیا ۔
” جی وہ گیا ہے بڑے ماموں کے ساتھ “
اریبہ نے سر پر دوپٹہ درست کرتے ہوۓ کہا ۔ اور پھر سے دروازہ بند کرنا چاہا ۔
” کہاں ؟ میرا مطلب ہے کچھ دن سے نظر ہی نہیں آ رہا“
کان کھجاتے ہوۓ اگلا سوال کر ڈالا ۔ کالج یونیفارم کے علاوہ کبھی کبھی تو وہ دوسرے حلیے میں نظر آتی تھی ۔ فیرزوی رنگ کے جوڑے میں نکھری نکھری سی ہمیشہ کی طرح دل میں اتر رہی تھی ۔
” ایڈمیشن کے سلسے میں خوار ہو رہا ہے کسی یونیورسٹی میں میرٹ لسٹ میں نام ہی نہیں آ رہا “
اریبہ بے ساختہ اپنے انداز میں کہہ گٸ۔
آج پھر کالج گیا ہے سمپل بی اے ہی کرے گا آثار تو یہی ہیں “
اریبہ نے گہری سانس لی ۔
” جی ۔۔۔“
فہد نے بھر پور نظر ڈالتے ہوۓ معدب انداز میں کہا ۔ اریبہ نے لب بھینچ کر سر ہلایا اور دروازہ بند کرنے کے لیے ہاتھ آگے بڑھایا جب عزرا اوپر جانے کے غرض سے وہاں آٸیں۔ اور اریبہ کو دروازے پر دیکھ کر رکیں ۔
” اریبہ کون ہے بھٸ “
تھوڑا سا آگے ہو کر پوچھا ۔ عزرا سے وہ شروع سے ہی گھبراتا تھا فوراً واپسی کے لیے قدم پیچھے کیے ۔
” فہد ہے میسم کا پوچھا رہا “
اریبہ نے کہتے ہوۓ گردن موڑ کر ایک نظر اس پر ڈالی جو اب باٸک سٹارٹ کر رہا تھا ۔
” ارے یہی تو جڑ ہے میسم کی بگاڑ کی “
فہد کا نام سنتے ہی عزرا کے ماتھے پر شکن تھے ۔ آواز اتنی اونچی تھی کہ با آسانی فہد تک جا سکتی تھی۔ اریبہ نے عزرا کو آنکھیں نکالیں اور چور سی نظر فہد پر ڈالی جو اب جلدی جلدی باٸک کو کک لگا رہا تھا ۔ اور باٸک تھا کہ سٹارٹ نہیں ہو رہا تھا ۔
” نہ خود کچھ پڑھتا ہے اور نہ ہی اسے پڑھنے دیتا ہے“
عزرا کو تو فہد شروع سے ہی پسند نہیں تھا ۔ دانت پیستے ہوۓ کہا ۔ ادینہ کا میڈیکل کالج میں ایڈمیشن ہو گیا تھا پر میسم کے نمبر اتنے کم تھے کہ کسی بھی کالج میں میرٹ اچھے مضمون کے لیے نہیں بن رہا تھا ۔ جبکہ مراد تو یہی چاہتے تھے وہ اب کسی اچھے مضمون میں بی ایس کر لے ۔
” خود کے تو باپ دادا کا بزنس ہے کوٸ فکر ہی نہیں اسے “
اریبہ نے جلدی سے دروازہ بند کیا ۔
فہد کے دادا کے زمانے سے ان کا شہر میں ایک چھوٹا ہوٹل تھا ۔ اور اب وہ ہوٹل فہد کے والد چلاتے تھے ۔
” امی بس بھی کیا کریں وہ سن رہا تھا “
اریبہ نے خفگی سے عزرا کی طرف دیکھا ۔ جو بے نیازی سے سر کو جھٹک چکی تھیں۔ اریبہ پلیٹ کو پکڑے کچن کی طرف بڑھ گٸ ۔
” تو سننے دے “
عزرا ہاتھ کو ہوا میں مارتی بڑ بڑاتی ہوٸ اوپر جا رہی تھیں ۔
***********
” تیز بھی چلا سکتے ہو باٸک تم “
ادینہ نے دانت پیستے ہوۓ میسم کے کان کے قریب ہو کر کہا۔ جو جان بوجھ کر آہستہ سی رفتار میں باٸک چلا رہا تھا۔
وہ بے زار سی شکل بناۓ میسم کے پیچھے بیٹھی تھی ۔ ویسے تو اسے چھوڑنے اور لے جانے کا کام جواد احمد کا تھا لیکن آج جواد کو کسی کام کے سلسلے میں شہر سے باہر جانا پڑ گیا جس کی وجہ سے ادینہ کو کالج چھوڑنے کی زمہ داری میسم کے کندھوں پر ٹرانسفر ہو گٸ تھی ۔ جسے وہ اپنی طرف سے تو با خوبی نبھا رہا تھا لیکن ادینہ اس سے متفق نہیں تھی اسے لگ رہا تھا وہ جان بوجھ کر باٸک آہستہ چلا رہا ہے ۔
” کیوں کیا گرا دوں تمہیں میں “
میسم نےہلکی سی گردن موڑ کر کہا ۔ جس پر وہ اور سرخ ہو چلی تھی ۔ منہ بنا کر کلاٸ پر بندھی گھڑی پر ایک نظر ڈالی ۔ اس کا پہلا لیکچر گزر رہا تھا ۔
” یقیناً تمھارا کالج لیٹ لگتا ہو گا “
پھر سے ناک پھلا کر اس کے کان کے قریب ہو کر غراٸ ۔ وہ بے ساختہ مسکرا دیا ۔ وہ کسی پراٸویٹ کالج سے بی اے کر رہا تھا ۔ یونیورسٹی ایڈمیشن نہیں ہو سکا تھا ۔ چارو ناچار مراد احمد کو اسے بی اے ہی کروانا پڑا۔
” ہاں ایسا تو ہے “
لب تھوڑے سے باہر نکال کر کندھے اچکاۓ ۔ ادینہ تپ گٸ ۔
” تو اسی لیے لیٹ کروا رہے ہو مجھے جان بوجھ کر باٸک رکو اسی وقت “
غصے میں بھر کر کہا۔ دل کیا اپنے بیگ کو ہی گھما کر اس کے منہ پر دے مارے ۔
”تمھاری وجہ سے آہستہ چلا رہا تھا “
میسم نے پر سکون لہجے میں صفاٸ دی۔ اب اسے ادینہ کے غصے پر غصہ نہیں آتا تھا ۔ دل کمبخت بے ایمانی کر گیا تھا ۔ اور قلعے کے دروازے ادینہ کی فوج کے لیے کھول چکا تھا ۔اور اب بھی واقعی ہی اس کے خیال سے اپنی رفتار کو قابو کیے ہوۓ تھا ۔
” کیوں میں کوٸ مریض ہوں جو تم اتنا آہستہ چلا رہے ہو “
ادینہ نے چڑ کر دانت ایک دوسرے کے ساتھ کچکچاۓ ۔ ایک تو اس کے بات بہ بات دانت نکالنے سے وہ اور چڑ رہی تھی ۔ ادینہ کی بات پر وہ بے ساختہ قہقہ لگا گیا ۔ اور پھر شرارت سے تھوڑا سا چہرے کو خم دیا ۔
” اوہ نہیں سچ ۔۔۔ میں تو بھول گیا تھا تم تو ڈاکٹر ہو “
مصنوعی حیرت طاری کرتے ہوۓ لبوں کو باہر نکالا ۔ ادینہ نے غرور سے ناک پھلاٸ ۔ جل کُکڑا کہیں کا ۔
” یس “
بڑی ادا سے سر کو جھٹکا۔ میسم کی شرارت کی رگ بھڑکانے کے لیے یہ ادا کافی تھی۔
” تو ٹھیک ہے “
میسم نے کندھے اچکاۓ اور پھر ایک دم سے باٸک آسمان سے باتیں کرنے لگی ۔ ادینہ کی جان ایک دم سے حلق میں آٸ ۔ آنکھیں پھٹنے کو تھیں ۔ جلدی سے میسم کے کندھے پر ہاتھ رکھا ۔ اور خود کو گرنے سے سنبھالا۔
” میسم !!!!“
حلق سے گھٹی سی چیخ نما آواز نکلی باٸک کہ رفتار ہی اتنی تیز تھی ۔ اس کا سانس خشک ہو گیا تھا ۔ وہ تو کچھ سن ہی نہیں رہا تھا بس دانت نکالے باٸک کی رفتار تیز سے تیز کر رہا تھا ۔
” کیسا لگ رہا ہے ڈاکٹر صاحبہ “
میسم نے قہقہ لگایا ۔ اور آواز کو اونچا کیا ۔ ادینہ کبھی دوپٹہ سنبھالتی کبھی خود کو سنبھالتی پاگل ہو چلی تھی ۔ جلدی سے میسم کی کمر کے گرد بازو حاٸل کیے اور سر اس کی پیٹھ سے ٹکا دیا ۔
اففف ! ایک اور ضرب جناب پہلی دفعہ وہ اس کے لمس سے آشانہ ہوا تو پتہ چلا کہ انسان میں بھی ارتھ ہوا کرتا ہے میٹھا سا کرنٹ تھا جس کا ارتھ سیدھا دل پر گدگدی کر رہا تھا ۔ وہ پشت کے ساتھ چہرہ چپکاۓ کمر کے گرد بازو حاٸل کیے اس کی شرٹ کو مضبوطی سے پکڑے ہوۓ تھی تھوڑی دیر پہلے والا غرور ہوا ہو گیا تھا میسم کے لب خود بہ خود مسکرا دیے ۔
” پلیز۔ز۔ز۔ز۔ز سپیڈ آہستہ کرو میسم “
چہرہ اوپر اٹھا کر التجا کے انداز میں اس کے کان میں پھر سے کہا ۔ جاہل کا لفظ حزف کیا تھا کیونکہ اس وقت وہ اُس کے کے رحم و کرم پر تھی ۔
” اب کون کمبخت آہستہ کرے سپیڈ ۔ڈ۔ڈ۔ڈ “
میسم نے شرارت سے خود ساختہ سرگوشی کی جو وہ نہیں سن سکتی تھی ۔ اور باٸک کی رفتار اور بڑھا دی ۔ بال ہوا میں پھڑ پھڑا رہے تھے اور دل سینے میں ۔
********
” امی رابعہ ممانی میرے لیے یہ سب سمجھی نہیں میں “
ادینہ نے جوڑا اٹھا کر حیرت سے کہا۔ بہت ہی پیارا سا سبز رنگ کا جوڑا تھا پلنگ پر چوڑیاں دو عدد اور جوڑے ۔ میک اپ کا سامان بکھرا ہوا تھا جو ابھی ابھی رابعہ اس کی عید کے نام پر دے کر گٸ تھیں ۔ عید الفطر کو کچھ دن رہتے تھے ۔ پر وہ تو حیرت میں ڈوبی کھڑی تھی آج سے پہلے تو رابعہ کبھی اس کے لیے یوں عید نہیں لاٸ تھیں ۔
” عید ہے تمھاری “
عزرا نے مسکرا کر کہا اور پھر سے پر شوق نگاہوں سے چیزیں دیکھنا شروع کی ۔ ادینہ جوڑا ایک طرف رکھا اور الجھ کر عزرا کی طرف دیکھا
”وہ تو پتا ہے پر آج سے پہلے تو ایسے نہیں آتی تھی عید میری “
عجیب ہی تھا جو اس کی سمجھ سے باہر تھا ۔عزرا مسکرا دی ۔
” بدھو کہیں کی بڑی جو ہو گٸ ہے اب عید ایسے ہی آیا کرے گی تمھاری “
عزرا نے اس کے سر پر ہلکی سی چپت لگاٸ ۔ اور وہ زیادہ الجھ کر رہ گٸ ۔
” مطلب ؟“
انداز نا سمجھی والا تھا ایک نظر مسکراتی عزرا پر ڈالی اور دوسری مسینی ہنسی ہنستی اریبہ پر ۔۔
” لو جی مطلب سمجھاٶ اب ان محترمہ کو جانے نہ جانے گل ہی نہ جانے باغ تو سارا جانے ہے “
اریبہ نے امرود کو ہاتھ میں گھماتے ہوۓ معنی خیز انداز میں کہا ۔ آنکھوں میں شرارت بھری تھی۔ ادینہ نے ماتھے پر بل ڈالے اور رخ سارا اریبہ کی طرف موڑا ۔
” کیا اٶل فول بکے جا رہی ہو سیدھی سیدھی بات کرو“
ادینہ نے بے زار سی شکل بناٸ ۔
” ارے بھٸ ہونے والی ساس اپنی بہو کے لیے شادی سے پہلے بہت چاٶ سے عید لاتی ہیں تو جی وہی آٸ ہے اس دفعہ تمھاری ماشااللہ سے میڈیکل کالج میں ایڈمیشن جو ہو گیا ہے “
اریبہ نے کھل کر وضاحت کیا کی اس کے تو چودہ طبق روشن ہوۓ تھے ۔
دم سادھے بس بیٹھی ہی رہ گٸ ۔

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: