Maqsoom Novel by Huma Waqas – Episode 5

0
مقسوم از ہما وقاص – قسط نمبر 5

–**–**–

” امی یہ کیا ہے سب “ ادینہ نے بے زار سی صورت بنا کر عزرا کی طرف دیکھا ۔ وہ جو بار بار جوڑے کو ہاتھ میں لے کر خوش ہو رہی تھیں ۔ مصروف سے انداز میں نظر سامنے بے زار سی شکل بناٸ ادینہ کی طرف دیکھا۔
” کیا ہے سب کیا ؟۔۔تمھارے نانا ابو نے بچپن سے ہی کیا ہوا یہ رشتہ“
عزرا نے ڈپٹنے کے انداز میں کہا ۔ ماتھے پر ہلکے سے شکن ڈالے اب وہ اس کےبے زار سے انداز پر اپنی خفگی کا اظہار کر رہی تھیں ۔
” امی!!!!“
ادینہ کی روہانسی آواز نکلی تھی ۔ اور پھر وہ تو جیسے ساکن سی ہو گٸ ۔ ایک نظر مزے سے امرود کھاتی اریبہ پر ڈالی جو اس کے دیکھتے ہی پوری باچھیں پھیلاۓ مسکرا دی تھی ۔ مطلب مسیم ۔۔۔۔
ایک دم سے میسم پورے کا پورا اس کی نظروں کے سامنے آ گیا تھا ۔ دل کو عجیب سی الجھن ہوٸ ۔ سارے بچپن سے لے کر اب تک کے جھگڑے آنکھوں کے آگے سے گزنے لگے ۔
کوٸ اسے پکاررہا تھا جس کی بازگشت سماعتوں سے ٹکرا رہی تھی ۔ لیکن وہ تو کچھ بھی نہیں سن پا رہی تھی ۔
” اریبہ اٹھو بیٹا تم سمیٹو یہ سب اس کو تو پتہ نہیں کونسا سانپ سونگھ گیا “
عزرا نے دو تین دفعہ ادینہ کو پکارا پر وہ تو صدمے کی حالت میں بیٹھی تھی ۔ پھر جھٹکے سے اٹھی اور تیز تیز قدم اٹھاتی زینے کی طرف بڑھی ۔
” کہاں جا رہی ہو اب “
عزرا پیچھے سے آوازیں دیتے رہ گٸ تھیں لیکن وہ کہاں کچھ سن رہی تھی ۔ قدم تیز تیز میسم کے کمرے کی طرف بڑھ رہے تھے اور پھر بلا تکلف وہ اس کے کمرے کا دروازہ کھولتی اس کے سامنے کھڑی تھی ۔
وہ بنیان پہنے ٹاول بالوں میں چلاتا سیٹی بجاتا ایک دم سے اسے یوں سامنے دیکھ کر چونک گیا۔ بالوں میں ٹاول سمیت چلتا ہاتھ لمحہ بھر کے لیے تھم گیا ۔ وہ سرخ ہونق چہرہ لیے اس کے سامنے کھڑی تھی جو بہت دن سے اس کی راتوں کی نیندیں حرام کیے ہوۓ تھی ۔
” میسم “
پھولی سانس کے ساتھ اسے پکارتی اب بلکل اس کے مقابل کھڑی تھی ۔ آنکھوں میں آنکھیں ڈالے ۔
” کیا ہوا بھٸ “
میسم اس کے چہرے کی اڑی ہوٸ ہواٸیاں دیکھ کر پریشان سا ہوا ۔ ٹاول کو گلے میں ڈالتے ہوۓ اچھنبے سے سوال کیا ۔
” تمہیں پتا ہے ہمارا رشتہ کیا ہوا ہے بڑوں نے “
اپنی طرف سے وہ یہ خبر میسم کو بتا کر اس کے سر پر بمب پھوڑ رہی تھی ۔ اب نظریں گھما گھما کر اس کے چہرے پر وہی حیرت اور صدمہ تلاش کر رہی تھی جس میں وہ خود مبتلا تھی آگاہی کے بعد ۔
” ہاں پتہ ہے “
میسم نے نارمل سے انداز میں لبوں کو تھوڑا سا باہرنکال کر کہا۔ دل ہی دل میں تو وہ ادینہ کی حالت پر ہنسی دبا رہا تھا ۔
” مطلب تم۔۔ تمہیں کوٸ اعتراض نہیں “
ادینہ کی آواز حیرت میں ڈوبی ہوٸ تھی ۔ آنکھیں پھٹنے کو تھیں ۔
” مجبوری ہے بھٸ دادا جی کے آگے کون بول سکتا “
میسم نے مصنوعی سنجیدگی طاری کی ۔ چہرے پر بلا کہ مصومیت لا کر وہ اب ادینہ کی حالت سے محزوز ہو رہا تھا ۔
”کیا تو تم مجھ سے کر لو گے شادی مجھ سے “
ادینہ نے پیشانی پر شکن ڈالے اپنے سینے پر ہاتھ رکھے لفظ چبا چبا کر ادا کیے ۔
” کڑوا گھونٹ ہے پر بھر لوں گا “
میسم نے گہری سانس لے کر ایسے کہا جیسے اس جیسا مظلوم اور فرمابرادر انسان کوٸ نہیں دنیا میں ۔
” دیکھو تم جا کر کہو نانا ابو سے تم مجھے بلکل پسند نہیں کرتے “
ادینہ نے ناک پھلا کر دانت پیستے ہوۓ اس کے چہرے کو حیرت سے دیکھا ۔ میسم کا ردعمل اس کی سوچ کے بلکل برعکس تھا ۔ وہ تو سمجھی تھی وہ چیخ اٹھے گا پورے گھر میں واویلا مچا دے گا پر وہاں تو چہرے پر بھر پورسکون موجود تھا ۔
” آۓ ۔ہے۔ہے ۔ہے “
میسم نے ہاتھ نچا کر منہ چڑانے کے انداز میں کہا۔ ادینہ نے ماتھے پر بل ڈال کر حیرت سے دیکھا ۔
” بڑی چالاک نہیں ہو تم واٸٹ ماٸس خود جا کر کہہ دو “
میسم نے کندھے اچکاۓ اور گیلا ٹاول اس کے سر پر رکھ دیا ۔ ادینہ نے جھنجلا کر ٹاول ایک طرف اچھالا۔ گیلا ٹاول اب بیڈ پر ڈھیر تھا۔
” دیکھو پاگل مت بنو یہ لوگ سچ میں سیریس ہیں ہم دونوں کی شادی کر دیں گے “
ادینہ نے بے چین سے انداز میں اسے باور کروایا تھا ۔ وہ پھر سے سیٹی بجاتا اب کرسی پر استری شدہ شرٹ کو پہن رہا تھا ۔ اس کی بات پر شرٹ کے بٹن لگاتے ہاتھ ایک لمحے کے لیے رُکے ساتھ ہی سیٹی بجاتے لب بھی رک گۓ تھے ۔
” تو کر دیں “
میسم کی لاپرواہی عروج پر تھی ۔ ہاتھ اب پھر سے شرٹ کے بٹن بند کر رہے تھے اور لب پھر سے گول شکل اختیار کیے سریلے سے انداز میں سیٹی بجا رہے تھے ۔ وہ سیٹی بھارت کے مشہور سنگیت
”ارے رے ارے یہ کیا ہوا “ کی دھن بجا رہا تھا۔ جو اسے آجکل اپنی کفیت کے بلکل مناسب لگتا تھا۔
” ہا۔ہ۔ہ۔ہ۔ہ۔ہ۔ہ۔ہ مجھ سے مجھ سے کہہ رہے شادی کرنے کا پاگل انسان جسے تم ایک پل کے لیے بھی برداشت نہیں کرتے ساری عمر کیسے کرو گے مجھے برداشت “
ادینہ نے حیران سی صورت بنا کر سینے پر ہاتھ دھرے۔ سامنے کھڑے شخص کی دل کی حالت سے یکسر انجان ۔
” بات سنو یہ تمھارا مسٸلہ نہیں ہے میرا مسٸلہ ہے میں ٹھہرا مرد ذات دوسری شادی کر لوں گا “
میسم نے کندھے اچکا کر کہا اور تیز تیز بالوں میں کنگھی چلاٸ ۔ جبکہ لب بے ساختہ امڈ آنے والی مسکراہٹ کو بمشکل روک پاۓ تھے ۔
” کیا۔ا۔ا۔اا۔!!!!!“
ادینہ کی آنکھیں پھٹ کر باہر آنے کو تھیں۔ منہ کھل گیا تھا تو آنکھیں سکڑ گٸ تھیں۔ میسم اس حد تک کٹھور ہو سکتا ہے اس نے کبھی سوچا بھی نہ تھا ۔
” ہاں ایک ایسی جو مجھے پسند ہوگی “
میسم نے شرٹ کے کالر بڑے انداز سے کھڑے کیے ۔ سینٹ کی بارش کی اور ایک نظر آٸینے میں نظر آتے اس کے عکس پر ڈالی۔ وہی سادہ سا حلیہ اونچی پونی دھلا سفید چہرہ وہ کیوں اس کے دل کو یوں دھڑکانے کا سبب بننے لگی تھی ۔
ضرب ۔۔۔
بہت زور کی ضرب میسم دھیرے سے اس کی طرف پلٹا جو اب پھن پھلاۓ کھڑی تھی ۔
” میں خون پی جاٶں گی تمھارا “
ادینہ نے دونوں ہاتھوں کی ہتھیلوں کو اس کے گلے کے قریب لا کر خونخوار لہجے میں کہا ۔ اور پاٶں کو بے بسی سے پٹخا ۔ جبکہ وہ تو اس انداز پر بے ساختہ قہقہ لگا گیا تھا ۔
” ارے ارے شادی کرنا نہیں چاہتی بیوی ابھی سے بن رہی ہو “
میسم نے دونوں ہاتھوں کو گرفت میں لے کر معنی خیز انداز میں دیکھا ۔ پر وہ ابھی کہاں ان نظروں میں چھپی نٸ نویلی محبت کو پرکھنے کی حالت میں تھی ۔
” شٹ اپ کوٸ بیوی ویوی نہیں بنوں گی کبھی میں تمھاری جاٶ اور جا کر بتاٶ سب کو کہ ہم دونوں کبھی خوش نہیں رہ سکیں گے “
ادنیہ نے جھنجلا کر اپنے ہاتھ جھٹکے اور فوراً سینے پر ہاتھ ایسے باندھے مبادا وہ پھر سے ہاتھ تھام لے گا ۔
” او۔۔۔۔ہیلو ۔۔۔۔ میرے کندھے پر بندوق رکھ کر کیوں چلانا چاہتی ہو محترمہ خود جا کر کہو مجھے کوٸ فرق نہیں پڑتا شادی کسی سے بھی ہو ماٸ فرسٹ اینڈ لاسٹ لو از کرکٹ یونو ؟“
میسم نے باٸیں آنکھ کا کونا دبا کر کہا۔ جس پر وہ جل کر ہی تو رہ گٸ ۔ کھا جانے والی نظروں سے اسے دیکھا ۔
” راستہ ناپو“
اس کو ہاتھ کے اشارے سے کہتا ہوا وہ پاس سے گزر کر باہر کی طرف بڑھ گیا ۔ ادینہ کا منہ اس کے ایسے مغرور پن پر کھلے کا کھلا رہ گیا ۔
” ٹھیک ہے “
روہانسی آواز میں منہ پر ہاتھ پھیرتی وہ باہر کی طرف بڑھی تھی ۔
********
” یار مطلب کچھ تو ہو ۔۔ کچھ تو “
ادینہ نے روہانسے لہجے میں کہتے ہوۓ کتاب پر ہاتھ دھرے ۔ وہ کالج کے لان میں ماہ رخ کے سامنے بیٹھے اپنے اوپر آشکار ہوٸ کل کی بھیانک حقیقت سے اسے آشانہ کر رہی تھی ۔ ماہ رخ کو بھی ویسا ہی جھٹکا لگا تھا جیسا اسے لگا تھا ۔ ماہ رخ اس کی سکول کے زمانے سے دوست تھی جو اس کے اور میسم کے ہر قصے ہر جنگ سے واقف تھی ۔
” نہ عقل نہ شکل نہ تعلیم “
ادینہ نے لب کچلے اور کتاب کو زور سے بیگ پر پٹخا ۔ کل سے سارا سکون غارت ہوا پڑا تھا ۔ رات بھی کروٹ بدلتے گزر گٸ تھی ۔
” ادینہ آنٹی سے بات کرو نہ ایسے پریشان ہونے سے کیا فاٸدہ “
ماہ رخ نے اس کے کتاب پر دھرے ہاتھ پر ہاتھ رکھتے ہوۓ اسے مشورہ دیا۔ جسے سن کر ادینہ نے اور بیزار شکل بناٸ ۔
” ان سے اس لیے نہیں کی جانتی ہوں وہ کیا کہیں گی “
ادینہ نے گہری سانس لی ۔
” تمھارے ماموں کے بہت احسان ہیں مت بھولو تمہیں ڈاکٹر بنا رہے یہ ہے وہ ہے “
ادینہ نے عزرا کے تمام الفاظ دھرا دیے جو وہ بنا پوچھے ہی جانتی تھی ۔
” اور نانا ابو افف ان کے آگے بولے کون “
ادینہ نے کانوں کو ہاتھ لگایا ۔
” تو اب کیا کرو گی یار “
ماہ رخ بھی اس کے ساتھ اب پریشان ہو رہی تھی ۔
” یہ تو پتہ ہے مجھے شادی تو چپ چاپ میں اس سے ہرگز نہیں کروں گی ۔ تم دیکھنا اتنا تنگ کروں گی اسے خود چھوڑے گا مجھے “
ادینہ نے لب بھینچ کر پر سوچ انداز میں سر کو گھمایا۔

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: