Maqsoom Novel by Huma Waqas – Episode 6

0
مقسوم از ہما وقاص – قسط نمبر 6

–**–**–

فہد نے موباٸل فون میسم کے سامنے کرتے ہوۓ حیرت سے سوال کیا۔ آنکھیں حیرت زدہ تھیں تو منہ وا تھا۔ وہ کرکٹ کھیلنے کے لیے گراٶنڈ میں بیٹھے تھے جب فہد نے کال کرنے کی غرض سےمیسم کا موباٸل لیا گو کہ وہ پہلے بھی اکثر اس کے موباٸل کی چھان بین کرتا رہتا تھا اس لیے آج بھی بلا تکلف اس کے موباٸل فون کی تصاویر گیلری کو اس کی بنا اجازت کھول چکا تھا ۔
گیلری کھلتے ہی جس صنف نازک کی تصاویر کھل کر سامنے آٸ تھیں اس پر فہد کی آنکھوں کا حیرت سے پھٹ جانا اور منہ کا یوں کھل جانا اچھنبے کی بات نہیں تھی ۔ ادینہ کی تصاویر سے موباٸل کی گیلری بھری پڑی تھی۔ میسم کی نظر فون پر پڑتے ہی وہ اچھل کر سیدھا ہوا ۔ چہرہ فق ہوا ۔
یہ تو وہ ساری تصاویر تھیں جو آجکل اس کے بے سکون قلب کی راحت کا سماں تھی ۔ نک چڑھی حسینہ کو جب سے رشتے کا علم ہوا تھا ۔ کان کترانے لگی تھی محترمہ وہ دل کے ہاتھوں مجبور ہو کر اوپر جاتا بھی تو وہ دھماکے کی آواز سے دروازے کے پٹ کو مارتی کمرے میں قید ہو جاتی اور وہ دل مسوس کر رہ جاتا ۔
” اوۓ تو نے کیوں کھولی میرے موباٸل کی گیلری بنا اجازت“
جھپٹ کر خجل سا ہوتے ہوۓ اس نے فہد سے موباٸل چھینا ۔جبکہ فہد کا ہاتھ ابھی بھی ہوا میں اسی طرز سے معلق تھا جیسے تھوڑی دیر پہلے وہ فون اس کی طرف بڑھاۓ ہوۓ تھا ۔
میسم نے اس کو یوں حیرت زدہ ساکن سا بیٹھا دیکھا تو پوری قوت سے اسکے کندھے پر مکا جڑ دیا ۔ فہد چونک کر اپنی اس حالت سے واپس آیا۔
” مار کیوں رہا ہے پہلے بھی تو کھول لیتا تھا پر یہ چل کیا رہا ہے ہاں کچھ پتہ تو چلے “
فہد نے کندھے کو سہلاتے ہوۓ بھنویں اوپر نیچے نچاٸیں ۔ میسم نظریں چرا گیا ۔
” کیا مطلب کیا چل رہا ہے “
میسم نے کان کھجاتے ہوۓ ارد گرد ایسے دیکھا جیسے اس کا سوال جواب نہیں رکھتا ۔ فہد نے دال میں کچھ کالے والے انداز میں دانتوں کو پیسا اور تھوڑا سا اور قریب ہوا ۔
” تو اور ادینہ؟ ۔۔۔“
فہد نے انگلی داٸیں باٸیں ہوا میں چلاتے ہوۓ فقرے کو ادھورا چھوڑا۔ اور پھر سے کھوجتی نظروں سے میسم کے چہرے کا جاٸزہ لیا جو مسلسل فہد سے نظریں چرا رہا تھا ۔
” کہیں وہی تو نہیں جو میں سمجھ رہا ہوں “
فہد نے لب بھینچ کر آنکھیں سکیڑی تھیں ۔ اور اب کی بار منہ پھر سے حیرت سے کھل گیا ۔
” کیا وہی؟“
میسم نے ماتھے پر بل ڈال کر مصنوعی لا پرواہی اپناٸ ۔ لیکن فہد ہنوز اسی انداز میں گھور رہا تھا ۔ جس میں بے یقینی تھی اور حقیقت جان لینے کی تڑپ تھی ۔
” خبیث جان نہیں چھوڑے گا ایسے “
میسم نے دانت پیس کر خود ساختہ سرگوشی کی پھر کچھ سوچ کر گہری سانس لی ۔کیونکہ پتا تھا کہ یہ بنا جانے جان بخشی نہیں کرے گا ۔ لیکن ادینہ کے لیے اپنے جزبات اس پر کھول دینا اپنی شامت لانے کے مترادف تھا ۔ اٹھتے بیٹھتے چھیڑ چھیڑ کر جینا محال کر دے گا جانتا تھا وہ ۔
” ارے غلط مت سوچ دادا ابو نے بچپن سے رشتہ کیا ہوا ہمارا “
میسم نے فہد کے کندھے کو پکڑ کر پر سکون لہجے میں کہا ۔ جس پر وہ ایک دم سے جھٹکا کھا گیا ۔
” ہیں ۔ں۔ں۔ں ؟“
منہ پھر کھل گیا جسے اب کی بار میسم نے تھورڈی کے نیچے ھاتھ دھر کر بند کیا ۔
” آہو “
میسم نے کندھے اچکا کر چہرے پر ادینہ کے لیے دل کے جزبات کے آثار کو آنے سے بمشکل روکا ۔
” اور تو خوشی خوشی مان بھی گیا اس رشتے کے لیے اور اس کی پکس سیو کرنی شروع کر دیں واہ واہ “
فہد نے طنزیہ انداز میں اس کی بات پر یقین نہ کرتے ہوۓ ہاتھ کو ہوا میں نچایا ۔
” تو کیوں نہیں مانتا مشرقی لڑکا جو ٹھہرا“
میسم نے گڑ بڑا کر بات سنبھالی ۔ جس پر فہد کے ماتھے کے شکن اور بڑھ گۓ ۔
” ہاں ہاں پتا ہے تو کتنا مشرقی ہے “
فہد نے میسم کے چہرے کو تھورڈی سے پکڑ کر اپنی طرف گھمایا ۔ یہ نظریں کیوں نہیں ملا رہا فہد نے کمینگی سے ایک آبرٶ چڑھا کر سوچا ۔ میسم نے پوری بتیسی نکالی لیکن اس کا بھی فہد پر کوٸ اثر نہیں ہوا ۔
” شرافت سے اندر کی بات بتا “
ایک جھٹکے سے میسم کے چہرے کو داٸیں طرف گھمایا ۔ اور پھر میسم جو بچپن سے لے کر آج تک اس سے کوٸ بات نہیں چھپا سکا تھا ادینہ کے لیے دل میں امڈنے والے محبت کے سیلاب کو بھی فہد سے نہ چھپا سکا تھا۔
***********
عزرا اور اریبہ کی مدھم سی آوازوں اور ہلکے ہککے قہقوں سے اس کی آنکھ کھلی تھی ۔ یونیورسٹی سے آ کر اتنا تھک جاتی تھی کہ آتے ہی بستر پر سونے کی غرض سے ڈھیر ہو جاتی تھی اب بھی شام کے چار بجے آنکھ کھلی تھی آج جب وہ یونیورسٹی سے آٸ تو عزرا اور اریبہ دونوں گھر میں نظر نہیں آٸ تھیں ۔ اب ان کے قہقوں پر آنکھ کھلی ۔
بالوں کا بے ترتیب سا جوڑا بناتی وہ برآمدہ نما لاونج میں آٸ تو عزرا اور اریبہ تخت پر بیٹھی تھیں ۔غالباً وہ بازار سے آٸ تھیں ۔ سامنے کا منظر دیکھتے ہی اسے اندازہ ہو گیا تھا ۔
” یہ کیا ہے سب اب “
ادینہ نے بھنویں اچکا کر چھوٹی سی ناک پھلاٸ اور ناگواری سے پلنگ نما تخت پر بکھری چیزوں کی طرف دیکھا ۔ تخت پر مختلف مردانہ چیزیں بکھری ہوٸ تھیں۔ کڑھاٸ کیا ہوا مردانہ کرتا ۔ مردانہ پرفیوم واٸلٹ جنہیں عزرا بیگم بڑے پر شوق انداز میں اٹھا کر پاس بیٹھی اریبہ کو دکھا رہی تھیں ۔
” کیوں بھٸ اب میسم کو بھی تو عید جاۓ گا نہ ہماری طرف سے “
عزرا نے خفگی سے اس کی ناگواری کو دیکھتے ہوۓ کہا ۔ اور اپنی بات کی تاٸید کے لیے ایک نظر اریبہ کی طرف ڈالی جو فوراً اثبات میں سر مارنے لگی تھی ۔
” چلو جی “
ادینہ نے گہری سانس لے کر کمر پر ہاتھ دھرے ۔ معاملا کچھ زیادہ ہی سنجیدگی اختیار کرتا جا رہا تھا ۔ اور اس کے لیے ہر گزرتا دن سوہان روح بنتا جا رہا تھا ۔
” یہ دیکھو کتنا پیارا ہے یہ رنگ اچھا لگے گا نہ میسم پر “
عزرا نے ہلکے نیلے رنگ کے کرتے کے ڈبے کو اٹھا کر ادینہ کے آگے کیا جس پر ایک اچٹتی سی نظر ڈال کر وہ نظریں پھیر چکی تھی ۔ خاک اچھا لگے گا اس کالے کوے پر جل کر دل میں سوچتی وہ کمر سے ہاتھ اٹھا کر سینے پر باندھ چکی تھی ۔
عزرا نے نظر اٹھاکر اس کے جواب کا انتظار کیا پر اُسے گہری سوچ میں ڈوبا دیکھ کر پھر سے ڈبے کو ایک طرف رکھ دیا ۔
بچپنا نہیں جاۓ گا اس لڑکی کا ۔ وہ ادینہ کے اس کھوۓ کھوۓ انداز کو اس کی ازلی بیوقوفی سمجھ کر سر جھٹک چکی تھیں ۔ جبکہ وہ لفظوں کو ترتیب دے رہی تھی کہ کس طرح وہ عزرا بیگم کو سمجھاۓ کو وہ میسم کو ہر گز اس رشتے میں قبول نہیں کر سکتی ہے ۔ پر عزرا کے چہرے پر چھاٸ پر سکون خوشی اس سے ڈھکی چھپی نہیں تھی ۔ اسے آج بھی یاد تھا جب اس کے چچا اور دادی نے مل کر اس کی ماں کو گھر سے نکال دیا تھا اور وہ دو بیٹیوں کے ہمراہ باپ اور بھاٸیوں کی دہلیز پر آ گٸ تھیں تب سب سے پہلے آگے بڑھ کر فرط محبت سے ان کو بغل میں دبانے والے مراد احمد ہی تھے ۔
” امی “
ادینہ کی کھوٸ کھوٸ سی آواز ابھری ۔ اور عزرا کے چیزیں سمیٹتے ہاتھ لمحہ بھر کے لیے تھم گۓ ۔ سر اٹھا کر ادینہ کی طرف سوالیہ انداز میں دیکھا ۔ لیکن وہ پھر سے چپ کھڑی تھی ۔
” ہممممم بولو“
عزرا نے کچھ دیر اس کے بولنے کا انتظار کیا ۔ اور پھر ہاتھ چیزوں کو شاپنگ بیگ میں ڈال رہے تھے ۔
” کچھ نہیں “
ادینہ نے کچھ بھی کہنے کا اردہ ترک کر دیا ۔ اور خاموشی سے وہاں سے چل دی ۔ قدم اور دل دنوں ہی بوجھل تھے ۔
*************
”اریبہ چاۓ کا ایک کپ بنا دو “
میسم نے اریبہ کے سر پر چپت لگاٸ اور صوفے پر ڈھنے کے سے انداز میں بیٹھا ۔ افطار کے بعد تقریباً روز ہی ادینہ کی ایک جھلک سے دل کو سِیر کرنے وہ اوپر آجاتا تھا ۔ اور آج تو اسے سامنے پا کر دل کھل سا گیا ۔ دونوں صوفے پر بیٹھی تھیں اریبہ کا دھیان ٹی وی پر تھا جبکہ وہ قلم منہ میں دباۓ اپنی موٹی سی کتاب پر نظریں جماۓ بیٹھی تھی ۔
ادینہ نے نخوت سے میسم کی طرف دیکھا ۔ جو اچھل کر اس کے برابر میں بیٹھ چکا تھا ۔
بیٹھنے تک کی تمیز نہیں جاہل کو ادینہ نے دانت پیس کر دل میں سوچا۔ اور تیزی سے اپنی کتابوں کو سمیٹنا شروع کیا ۔ آجکل اس کی نظروں میں آنے میں بھی الجھن ہوتی تھی اسے ۔
” میں؟؟ “
اریبہ نے سینے پر ہاتھ رکھ کر کوفت بھرے انداز میں میسم کی طرف دیکھا جو اس کے بلکل ٹی وی سریل کے وقت آن دھمکا تھا اور پھر ایک دم سے اس کی آنکھیں شرارت سے چمکیں ۔لبوں پر شریر سی مسکراہٹ لا کر ادینہ کی طرف دیکھا
” اسے کہیں نہ اپنی ہونے والی۔۔۔“
اریبہ نے شرارت سے مسکراتے ہوۓ ذومعنی جملہ اچھالہ ۔جس پر بے ساختہ میسم نے ادینہ کی طرف دیکھا ۔ اریبہ کے اس جملے پر ادینہ کے کتابیں سمیٹتے ہاتھ لمحہ بھر کے لیے رکے جبکہ میسم اس کی اس حالت سے محزوز ہوتا ہوا مسکراہٹ دبا گیا ۔ ادینہ اب کھا جانے کے انداز سے اریبہ کو دیکھ رہی تھی جو بے ساختہ زبان دانتوں میں دبا چکی تھی۔
” اس کے ہاتھ کی چاۓ پینے سے اچھا میں نہ ہی پیوں “
میسم نے شرارت سے اریبہ کی طرف مسکراہٹ دباتے ہوۓ دیکھا ۔ اور پھر نظر بھر کر ادینہ کو دیکھا جو سرخ ہوتے چہرے کے ساتھ ضبط کی آخری سیڑھی پر تھی ۔ اور پھر وہ پھٹی ۔۔۔
” اور تمہیں کیا لگتا ہے کہ میں بنا دوں گی تمھارے لیے چاۓ ماٸ فٹ “
ادینہ نے دانت پیستے ہوۓ کھا جانے والی نظر میسم پر ڈالی۔
” فٹ سے کون چاۓ بناتا پگلی “
میسم کا جاندار قہقہ جلتی پر تیل کا کام کر گیا ۔ ادینہ نے آنکھیں سکیڑ کر دیکھا اس سے پہلے کہ وہ کچھ اور بولتی اریبہ جلدی سے اپنی جگہ سے اٹھی ۔
” ارے ارے تم دونوں اب اس بات پر مہا بھارت نہ شروع کر دینا جا رہی ہوں میں بنانے ادینہ تم یہ بتا دو تم پیو گی کیا چاۓ “
اریبہ نے ہاتھ کے اشارے سے دونوں کو رام کرتے ہوۓ کہا ۔ اور سلیپر پاٶں میں اڑاۓ۔
” نہیں رنگ کالا ہوتا ہے چاۓ سے “
ادینہ نے زہریلی سی مسکراہٹ لبوں پر سجاۓ اریبہ کی طرف دیکھ کر فقرہ اچھالہ جبکہ اشارہ میسم کی طرف تھا۔ جو بے ساختہ مسکرا دیا ۔ اب تو اس ظالم کی ہر ادا دل کو بھاتی تھی ۔ یہ نخوت بھری آنکھیں ۔ یہ بے زاری سے گول ہوتے لب ۔ یہ حقارت سے پھولی ناک اور زہر اگلتی زبان کچھ بھی تو برا نہیں لگتا تھا اب اس کمبخت دل کو جناب وہ کیا کہتے ہیں پنجابی میں گوڈے گوڈے ڈوب چکا تھا دل اس کی محبت میں ۔
اس سے پہلے کہ ادینہ اٹھتی میسم نے تھوڑا سا آگے جھک کر راستہ روک دیا سر بمشکل ٹکراتے ٹکراتے بچا ۔
” اجی کالے ہیں تو کیا ہوا دل والے ہیں “
میسم نے ہاتھ کو سینے پر دھر کر تھوڑا سا سر کو جنبش دی ۔ اریبہ ہنستے ہو کچن کی طرف بڑھ گٸ جس کے جاتے ہی ادینہ دانت پیستی ہوٸ میسم کی طرف پلٹی ۔ اور دونوں ہاتھوں سے اسکا خود پر جھکا وجود پیچھے کو دھکیلا
” میسم دیکھو میری بات سنو ہم دونوں کا کوٸ جوڑ ہی نہیں کسی طرح بھی “
لفظوں پر زور دیتی وہ پھر سے میسم کو انکار کے لیے قاٸل کرنے پر آ گٸ تھی ۔ تھوڑی دیر پہلے والی ناگواری کو ایک طرف رکھتے ہوۓ اب التجاٸ انداز اپناۓ ہوٸ تھی ۔
” مطلب؟“
میسم نے اس کے چہرے پر بھرپور نظر ڈالی ۔ سفید شفاف چہرہ ملاٸم سی چمکتی جلد اور پٹر پٹر بولتی زبان ۔
” مطلب تم ۔۔تم۔۔۔ بس میرا ذہن تمہیں قبول نہیں کر رہا ہے “
ادینہ نے جھنجلا کر ہاتھ ہوا میں اٹھاۓ اور پھر گراۓ ۔ میسم کے دیکھنے کا انداز عجیب سا لگا ۔
” اور دل ؟“
بھاری سی خماری میں ڈوبی آواز تھی ۔ ادینہ نے چونک کر اس کی طرف دیکھا اور ایک انجان سا خوف ریڑھ کی ہڈی میں سراٸیت کر گیا ۔ کیا ہو گیا اس کو ؟ اس کی نظریں عجب ہی رنگ ڈھنگ لیے ہوۓ ہیں ۔ ادینہ نے ایک آبرٶۓ چڑھاۓ سوچا ۔ پھر فوراً سر جھٹکا جو خطرے کا ساٸرن بجا رہا تھا ۔
” جب ذہن نہیں کر رہا تو دل کیا خاک کرے گا “
تھوڑا سا پیچھے ہوتے ہوۓ مدھم سی آواز میں کہا ۔جبکہ ہاتھ بے ساختہ گلے میں لیا دوپٹہ درست کر رہے تھے ۔ آج سے پہلے میسم کی نظروں میں ایسا نہیں تھا جو آج تھا ۔ دماغ بار بار اسے غلط اندازہ تسلیم کر کے جھٹک رہا تھا ۔
” دیکھو چاہتے ہم دونوں ہی نہیں ایک دوسرے سے شادی کرنا پر پلیز میں بہت مجبور ہوں تم انکار کر دو “
ادینہ نے نظریں چراتے ہوۓ کہا انداز ابھی بھی التجا بھرا ہی تھا ۔ پر میسم کا انداز الجھن کا شکار کر رہا تھا ۔
” میں بھی مجبور ہوں “
بے خود سے لہجے میں بے ساختہ وہ اپنے دل کی مجبوری زبان پر لے آیا۔ادینہ نے تپ کر دیکھا لیکن اگلے ہی لمحے پھر سے منت بھرے انداز میں کہا ۔
” تم ایسا کرو تم جواد ماموں سے بات کرو پلیز “
کچھ سوچ کر وہ اسے مفید مشورے سے نواز رہی تھی ۔
” میں کسی سے بات نہیں کر رہا “
میسم ایک دم سے سیدھا ہوا اور رعب سے کہتے ہوۓ ریموٹ سے ٹی وی آن کیا ۔ تھوڑی دیر پہلے والی محبت ایک دم پھر سے میسم کے کٹھور پن میں تبدیل ہوٸ تھی جس پر جہاں ایک طرف ادینہ کے ڈرتے دل نے شکر ادا کیا وہاں دوسری طرف ناک ایک دم سے پھولا ۔ اور چہرہ سرخ ہو گیا۔
” مجھے پتہ تھا پتہ تھا تم انتہاٸ خود غرض انسان ہو“
روہانسی آواز میں غصہ ضبط کرتی وہ انگلی کو اکڑاۓ اٹھی میسم لبوں پر انگلیاں ٹکاۓ مسکراہٹ دبا رہا تھا ۔ ماٸ ڈیر چوہیا یہ خود غرض انسان تو اب ساری عمر تمہیں برداشت کرنا ہے ۔ وہ دل ہی دل میں سوچ کر سرشار ہو گیا ۔
” شکل ہے نہ عقل نہ تعلیم “
زور زور سے کتاب پر کتاب مارتی وہ اونچی آواز میں اسے سنا رہی تھی ۔ اور اس جملے پر واقعی میسم کے لبوں پر موجود مسکراہٹ غاٸب ہوٸ ۔ جسے بنا نوٹس کیے وہ بولے جارہی تھی ۔
” بھاڑ میں جاٶ میری طرف سے میں خود کچھ کر لوں گی “
وہ پیر پٹختی کمرے کی طرف جا رہی تھی اس بات سے بلکل انجان کے جن قدموں کو وہ ابھی زمین پر پٹختی ہوٸ گٸ ہے دراصل یہ قدم میسم کے دل پر پڑے ہیں ۔
***********
گھر کا دروازہ کھلتے ہی سفید رنگ کے قمیض شلوار میں نفیس سا ادھیڑ عمر شخص گھر میں داخل ہوا جن کے پیچھے پیچھے مراد احمد جواد احمد اور ایک طرف میسم چلتے ہوۓ گھر میں داخل ہو رہے تھے ۔
جی تو آج ہو جاۓ گھر کے سب سے بڑے سربراہ کا تعارف احمد میاں ۔ تو یہ سب سے آگے جو بارعب شخصیت آ رہی ہے سفیدی کی زیادہ جھلک لیے گرے سے بال ہلکی سی بھری داڑھی جھری دار پر پور نور چہرہ آنکھوں پر ٹکا چشمہ
یہ ہیں میسم کے دادا حضور اور ادینہ کے نانا ابو ان کی شخصیت ہی بارعب نہیں ان کا گھر بھر میں بہت رعب اور دبدبا ہے ۔
” عید مبارک نانا جی “
ادینہ مسکراتی ہوٸ آگے بڑھی میرون رنگ کے چوڑی دار بازو والے پیروں تک آتے گھیرے دار فراک کو زیب تن کیے وہ مسیم کی دل پر بجلی گراتی آگے بڑھ رہی تھی خلاف معمول ہلکا سا میک اپ چہرے کو اور جازب نظر بنا رہا تھا اور وہ ادینہ کے حسن کی تاب نہ لاتے ہوۓ وہیں کھڑ ا کہ کھڑا رہ گیا ۔ ادینہ احمد میاں سے بغل گیر ہوٸ جو اسے دیکھتے ہی باہیں پھیلا چکے تھے ۔
” ارے جیتی رہو میری بچی ما شااللہ ماشا اللہ “
ادینہ کے سر کو تھپکتے ہوۓ وہ محبت سے سرشار لہجے میں بولے ۔ ادینہ ویسے بھی آجکل ان کی خاص محبت کے زیر اثر تھی آخر کو دوسری پیڑھی میں وہی تو تھی جو ڈاکٹری پڑھ کر ان کا خواب پورا کر رہی تھی ۔ اور سونے پر سہاگا میسم کی دلہن بن کر اسی گھر میں رہنا تھا ۔ یہ بات احمد میاں کو پر سکون کیے ہوۓ تھی
” عید مبارک ماموں “
ادینہ اب مراد کی طرف بڑھی اور پاس کھڑی اریبہ احمد میاں کے گلے لگ گٸ ۔ مراد سے بغل گیر ہونے کے بعد وہ تھوڑا پٕچھے ہوٸ۔ تو کانوں سے سرگوشی ٹکراٸ ۔
” عید مبارک “
میسم کان کے قریب ہو کر دھیمے سے محبت بھرے لہجے میں کہتا ہوا آگے ہوا ۔ لمحہ بھر کے لیے کچھ دن پہلے والا خوف پھر سے امڈ آیا ۔ ادینہ نے چونک کر میسم کی طرف دیکھا جو اب کان کھجاتا ایک طرف چل دیا ۔
” عیدی نانا ابو “
ادینہ نے کندھے اچکاۓ اور مسکراتی ہوٸ احمد میاں کی طرف پلٹی ۔ جو بڑی خوش دلی سے اب سب کو عید دے رہے تھے ۔ عزرا اور رابعہ کچن میں مصروف تھیں اور باہر اب عید لینے کا شور برپا تھا سب سے عید لے کر بڑے ایک طرف بیٹھ چکے تھے اور وہ سب لاونج میں موجود ٹی وی کے آگے برجمان ہو چکے تھے ۔
” عیدی “
اچانک پانچ سو کے نوٹ کو ہاتھ میں تھامے میسم اس کے کندھے کے قریب جھکا ۔ ادینہ نے چونک کر دیکھا وہ پانچ سو کا نوٹ آگے کیے مسکرا رہا تھا۔ خلاف معمول آج نکھرا نکھرا سا لگ رہا تھا اور وہی ہلکے نیلے رنگ کا کرتا زیب تن کیا تھا جو عزرا ادینہ کو اس دن دکھا رہی تھیں ۔ سیاہ بال بکھر کر تھوڑا سا ماتھا ڈھکے ہوۓ تھے ۔
” پہلے کبھی لی تم سے میں نے “
ادینہ نے نخوت سے ناک چڑھاٸ اور بڑی شان سے چہرہ دوسری طرف گھمایا ۔ آیا بڑا مجھے عیدی دینے والا یہ چکر کیا ہے کیوں حق جتا رہا اتنا ادینہ کا ماتھا ٹھنکا ۔
” غور سے دیکھو تمہیں دے کون رہا ہے “
میسم نے اس کے کان کے قریب ہو کر سرگوشی کی جس پر اس نے گردن موڑ کر دیکھا تو وہ ہاتھ اس کے برابر بیٹھی اریبہ کی طرف کیے ہوۓ تھا جو پوری بتیسی کی نماٸش کرتی ہوٸ اب پیسے پکڑ رہی تھی۔ ادینہ کا ناک ایک دم سے پھولا اور آنکھیں سکڑ گٸ تھیں۔
” بدتمیز “
ادینہ نے جھٹکے سے چہرے کا رخ پھر سے ٹی وی کی طرف موڑ دیا ۔
” ازل سے “
میسم نے ہنستے ہوۓ کہا اور گھوم کے آگے آیا ۔
” میری عید“
ابھی وہ ادینہ کے ساتھ موجود صوفے پر بیٹھا ہی تھا جب خفگی سے منہ پھلاۓ حزیفہ اس کے آگے ہاتھ کیے آ کر کھڑا ہوا ۔ میسم نے مخصوص انداز میں ایک آنکھ کے آبرٶ چڑھاۓ
” اٶۓ فٹ بال ہٹ یہاں سے “
مسیم نے ہاتھ سے اس کو ایک طرف کرنے کی ناکام کوشش کی جو ٹس مس نہ ہوا ۔
” میں بھی تو چھوٹا ہوں تم سے “
حزیفہ نے بڑے لاڈ سے کہا ۔ جس پر میسم نے منہ کھول کر ایسے حیرانی ظاہر کی جیسے اس نے کوٸ انوکھی ہی بات کر دی ہو ۔
” ساٸز چیک کر اپنا پہلے چھوٹا ہوں“
میسم نے ہاتھ کا اشارہ حزیفہ کی طرف کرتے ہوۓ اوپر سے نیچے کی طرف کیا اور اوپری لب کو طنزیہ گول کیا ۔ جس پر حزیفہ اپنے مخصوص انداز میں مٹھی بھینچ کر گہرے گہرے سانس لینے لگا ۔
”اریبہ میرے کام کرتی ہے وہ واحد میری عیدی کی حقدار ہے “ میسم نے شہنشاہی انداز میں ہاتھ ہوا میں کھڑا کرتے ہوۓ کہا ۔ اور کن اکھیوں سے ادینہ کی طرف دیکھا جو پہلے سے ہی اس کی نقل اتارنے میں مصروف تھی ۔
” باٸ دے وے شوخے تو ایسے ہو رہے ہو جیسے اپنی کماٸ سے عید دے رہے ہو “
ادینہ نے منہ چڑاتے ہوۓ کہا ۔ اور بالوں کو ہاتھ سے جھٹکا ۔
” اوۓ واٸٹ ماٸس دل ہونا چاہیے تمہیں کیا جہاں سے بھی دوں “
میسم جو صوفے کی پشت سے سر ٹکاۓ بیٹھا تھا ایک دم سے سیدھا ہوا ۔
” تم ویسے تو اس بھینسے کو اپنے کاموں کے لیے آگے لگاۓ رکھتی ہو اب عید بھی دو نہ “
میسم نے آبرو چڑھا کر طنز کیا ۔ ادینہ نے گھور کر پہلے میسم کی طرف اور پھر پاس کھڑے حزیفہ کی طرف دیکھا جو اب اور تیز تیز سانس لینے لگا تھا ۔
” خبردار بھینسا کسے بولا “
حزیفہ تنک کر آگے ہوا اس کی سانسیں مزید تیز ہو چکی تھیں ۔ پر اس کے اس انداز کا سامنے بیٹھے میسم پر رتی بھر اثر نہ ہوا ۔
” تجھے فٹ بال “
مسیم نے مسکرا کر پر سکون لہجے میں کہا اور ایک ہاتھ سے پھر سے اسے اپنے سامنے سے ہٹایا ۔
” حزیفہ اس جاہل کے منہ مت لگو یہ لو اپنی عید “
ادینہ نے بڑی شان سے گردن اکڑاۓ ہزار کا نوٹ حزیفہ کی طرف بڑھایا ۔
” ہاۓ۔ے۔ے۔ے ارے واہ “
مسیم نے داد دینےکے انداز میں لبوں کو باہر کی طرف نکالا ۔ اور سینے پر ہاتھ رکھا ۔
” جلو تم اب “
ادینہ نے گردن کو داٸیں باٸیں جنبش دی اور چھوٹی سی ناک اوپر چڑھاٸ جس پر جلنے کے بجاۓ وہ قہقہ لگا رہا تھا ۔
” میری عید “
اریبہ نے بھی چہکتے ہوۓ ادینہ کے آگے ہتھیلی پھیلاٸ ۔
” یہ لو تم بھی “
ادینہ نے میسم کی طرف دیکھتے ہوۓ مغرور انداز میں اس کے ہاتھ پر بھی ہزار کا نوٹ دھر دیا اور اب کی بار میسم کا منہ کھلا تھا ۔
” اوہ واہ واہ لاٶ پھر میری عیدی بھی “
وہ ایک دم سے اٹھ کر سامنے آ گیا ۔ اور ہتھیلی ادینہ کے آگے کی۔ آنکھوں میں بلا کی شرارت لیے وہ گہری نظریں اس کے دلکش سراپے پر گاڑے کھڑا تھا۔ ادینہ کی چھٹی حس آلارم دے رہی تھی کچھ تو عجیب تھا میسم کے انداز میں ۔
” منہ دھو رکھو ہٹو میرے سامنے سے “
اسے ایک طرف دھکیلتی وہ ناگواری سے اٹھی ۔ اور تیز تیز قدم اٹھاتی لاونج سے نکلی جب کے پشت پر میسم کی نظروں کی گرمی محسوس ہو رہی تھی ۔
*************
” آہم۔۔۔آہم۔ “
فہد نے منہ کے آگے ہاتھ دھر کر گلا صاف کرنے کی آواز نکالی وہ میسم کے کمرے کے دروازے کے درمیان میں ذومعنی مسکراہٹ لبوں پر سجاۓ کھڑا تھا ۔ میسم پڑھنے میں اتنا مگن تھا کہ فہد کی آمد کا احساس ہی نہیں ہوا ۔ اب اس کی آواز پر سر اٹھا کر دیکھا ۔
” تو “
فہد کو دیکھتے ہی جلدی سے کتاب بند کی ۔ اس دن ادینہ کی شکل عقل اور تعلیم والی بات ایسی دل پر لگی کہ دل نے یہ تہیہ کر لیا کہ اب تو بی اے اچھے نمبروں میں ہی پاس کرنا ہے ۔ تین دن سے وہ مسلسل پڑھنے میں مصروف تھا ۔ حتی کہ باہر جانے کا بھی ہوش نہ رہا ۔
” جی میں ہوں آپ کا دوست فہد خیریت تین دن ہو گۓ آیا نہیں کھیلنے “
فہد معنی خیز انداز میں کہتا ہوا اب میسم کے سامنے بیڈ پر بیٹھ چکا تھا ۔ اور حیرت سے بیڈ پر بکھری کتابوں کو دیکھ رہا تھا۔
” وہ کالج میں ٹیسٹ ہو رہے ہیں تو سوچا “
میسم نے کان کھجایا ۔ اور چور سی نظر فہد پر ڈالی جسے غش پڑنے والا ہی تھا ۔
” کیا ہے “
فہد نے عجیب سے انداز میں دیکھا اور پھر آگے بڑھ کر میسم کے ماتھے پر ہاتھ رکھا ۔
” طبیعت ٹھیک ہے نہ تیری “
فہد کی حیرت ہنوز قاٸم تھی ۔ اور اسے اب میسم کی ذہنی حالت پر شک گزر رہا تھا ۔
” ہاں ٹھیک ہے “
میسم نے اس کے ہاتھ کو اپنے ماتھے پر سے ہٹایا ۔اور گہری سانس لی۔ کچھ دن سے ادینہ کی آنکھوں میں اپنے لیے محبت دیھکنے کی طلب ہونے لگی تھی ۔ بس اسی طلب نے اس کے قابل بننے کی پیاس جگا دی تھی ۔
” ہوا کیا ہے “
فہد وجہ جانے بنا جان چھوڑنے والوں میں سے تھا ہی نہیں۔ میسم نے مسکرا کر سر جھٹکا پر جواب نہیں دیا ۔ فہد نے آنکھیں سکوڑ کر دیکھا۔
” ادینہ ؟ راٸٹ “
فہد ایک دم سے سیدھا ہوا اور سوالیہ انداز میں میسم کی طرف دیکھا ۔ میسم نے ماتھے پر بل ڈالے ۔
” تو جا یار کل سے آٶں گا “
میسم نے خجل سا ہو کر پھر سے کتاب کھولی ۔ فہد نے لب بھینچے
” اچھا جاتا ہوں “
فہد نے اٹھتے ہو ۓ گھور کر دیکھا اور پھر کمر پر ہاتھ رکھ کر افسوس سے میسم کی طرف دیکھا ۔ میسم نے سوالیہ انداز میں نظر اٹھاٸ
” تو گیا کام سے یار “
فہد نے ہاتھ کو ہوا میں مارا ۔ میسم نے کتاب اٹھا کر اس کی طرف پھینکی جس کا نشانہ سیدھا فہد کے منہ کی طرف تھا جسے اس نے بازو آگے کر کے بروقت روکا ۔ اور کتاب کو کیچ کیا اور پھر واپس میسم کی طرف اچھالا جس نے بڑی مہارت سے اسے کیچ کیا ۔
” کمینے یاد رکھیو یہ لڑکیاں دوستی ختم کروا دیتی ہیں “
انگشت انگلی ہوا میں چلاتے ہوۓ فہد نے خبردار کرنے کے انداز میں کہا ۔
” ارے نہیں ہوتی دوستی ختم چل کام کر اپنا “
میسم نے جھنجلا کر کہا ۔ اور پھر سختی سے دروازے کی طرف اشارہ کیا ۔
فہد سر مارتا ہوا کمرے سے باہر نکل آیا بڑ بڑاتا ہوا جھکے ہوۓ سر کے ساتھ بیرونی دروازے کی طرف بڑھ رہا تھا جب زینے کے پاس سے وہ بری طرح کسی سے ٹکرایا کوٸ بہت تیزی سے زینے اتر رہا تھا اس لیے اس کو سامنے سے گزرتا نہیں دیکھ سکا ۔ فہد نے بمشکل گرنے والے نازک سے سراپے کو سنبھالا اریبہ ایک دم سے سیدھی ہوٸ ۔
” اوہ سوری “
اریبہ کو دیکھتے ہی دل کی دھڑکن بے ترتیب ہو گٸ تھی ۔ وہ جو اندر میسم کو ابھی بھاشن دے کر آیا تھا ابھی اس لمحے ان ساری باتوں کو روندتے ہوۓ اریبہ کو بھرپور انداز میں دیکھنے میں مصروف تھا ۔
” اٹس اوکے “
اریبہ نے مسکراتے ہوۓ کہا ۔ اور جانے کے لیے قدم آگے بڑھاۓ پر بلکل۔سامنے فہد راستہ بند کیے کھویا کھویا سا کھڑا تھا ۔
” آپ کو لگی کیا “
فہد نے پریشان سی صورت بنا کر پوچھا۔
” نہیں نہیں کوٸ بات نہیں “
اریبہ نے زبردستی مسکراہٹ چہرے پر سجاٸ ۔
” راستہ دے دیں پلیز “
اریبہ نے مدھر سی آواز میں کہا ۔
” اوہ ہاں جی جی “
فہد ایک دم سے ایک طرف ہوا۔ اور وہ تیزی سے اسے یوں ہی کھڑا چھوڑ کر ایک طرف سے نکل گٸ ۔
” بہت بہت شکریہ “
ادینہ نے مسکرا کر فاٸل پکڑی ۔ سامنے کھڑے روشان نے مسکراہٹ کا تبادلہ کیا ۔ پاس کھڑی حیرانگی سے کبھی فاٸل کی طرف اور کبھی سامنے کھڑے روشان کی طرف دیکھ رہی تھی ۔ کیا وہ سچ میں انہیں نوٹس دے رہا تھا ۔
تینوں نفوس یونیورسٹی کے وسیع لان میں کھڑے تھے ۔
رکیں رکیں
آپ لوگ سوچ رہے ہوں گے یہ کون آ گیا سفید رنگت والا خوبرو سا لڑکا جو ادینہ کو فاٸل پکڑا رہا ہے وہ بھی مسکرا کر تو جناب یہ ادینہ کا کلاس فیلو ہے روشان حمدانی ۔ ذہین خوش شکل ۔ اس کی بہت سی خصوصیات اسے پوری جماعت میں نمایاں کرتی تھیں ۔
” ارے شکریہ کس بات کا آپ کو کسی بھی ہیلپ کی ضرورت ہو اینی ٹاٸم “
روشان نے لب بھینچے اور پینٹ کی جیب میں ہاتھ ڈالے ماہ رخ اور ادینہ نے شکر گزار نظروں سے کم حیران کن نظروں سے زیادہ دیکھا ۔ مختصر سی بات کے بعد اب روشان وہاں سے ان کو حیرت زدہ چھوڑ کر آگے بڑھ گیا ۔
روشان حمدانی نے آج ان سے بات کی تھی وہ بھی اس انداز میں ان دونوں کا حیران ہونا تو بنتا تھا ۔ وہ بہت اکڑو مشہور تھا وجہ اس کی خاموش طبیعت اور ہر وقت پڑھاٸ میں ڈوبے رہنا تھا ۔ اس کا نہ تو کوٸ دوست تھا اور نہ وہ عام و خاص کسی سے بات کرتا پایا جاتا تھا ۔ ادینہ پر یہ مہربانی بھی دو سال بعد اچانک ہوٸ جب وہ اور ماہ رخ ایک اساٸنمنٹ کو لے کر پریشان ہو رہی تھیں اور وہ قریب ہی بیٹھا تھا ۔ اور خود آ کر اس نے وہ اساٸنمنٹ کی فاٸل ادینہ کی طرف بڑھا دی ۔
” اچھا ہے یار “
ماہ رخ نے ادینہ کے ساتھ روشان کو دور تک جاتے دیکھا ۔ وہ اسی طرح جیبوں میں ہاتھ ڈالے لمبے لمبے ڈگ بھرتا جا رہا تھا ۔
” محنتی بھی بہت ہے “
ادینہ اب اس کے نوٹس دیکھ رہی تھی ۔ جیسے جیسے وہ صحفے پلٹ رہی تھی ویسے ویسے ستاٸش سے آنکھیں پھیلتی جا رہی تھیں۔ اس کے نوٹس اس کی ذہانت کا منہ بولتا ثبوت تھے ۔
” میں تو سمجھتی تھی اکڑو سا ہو گا پر آج دیکھا تم نے کیسے پولاٸٹ وے میں بات کر رہا تھا “
ادینہ نے متاثر کن لہجے میں کہا اور تاٸیدی نظر ماہ رخ پر ڈالی۔ جو ابھی بھی بار بار دور جاتے روشان کو دیکھ رہی تھی ۔
” ہاں صورت سے مغرور سا لگتا ہے “
ماہ رخ نے تاٸید کی ۔ روشان کی سنجیدہ شخصیت اس کے مغرور ہونے کی عکاسی کرتی تھی جبکہ فطرتً وہ ایسا بلکل نہیں نکلا تھا۔
” چلو نوٹس تو ملے “
ادینہ نے گہری سانس لی اور مسکرا کر قدم آگے بڑھاۓ ۔ ماہ رخ بھی سر کو ہلاتی اس کے ساتھ ہی تھی ۔
*******
” پاگل ہے تو بلکل پاگل “
فہد نے کمر پر ہاتھ دھر کر ڈپٹنے کے انداز میں کہا ۔ وہ میسم کے سر پر کھڑا سرخ چہرہ لیے اسے ڈانٹ رہا تھا اور وہ مسکرا کر سر اوپر اٹھاۓ اسے دیکھ رہا تھا جس پر فہد کو مزید کوفت ہو رہی تھی ۔ وہ گھر کے پاس ہی واقع پارک میں موجود تھے جہاں فہد کے آنے سے تھوڑی دیر پہلے میسم کتاب گود میں رکھے پڑھنے میں مصروف تھا ۔
” چل اگر تیرے کہنے پر مان بھی لیتا ہوں تو مجھے پتا ہے کیا ہوگا پھر وہی سارا دن پریکٹس “
میسم نے کتاب کو بند کر کے ایک طرف رکھا اور ہاتھوں کے سہارے پیچھے ہوتے ہوۓ گھاس پر ٹانگیں سیدھی کی ۔ سر کو اوپر اٹھا کر ناراض سے کھڑے فہد کی طرف دیکھا ۔ جو کچھ وہ اس سے کہہ رہا تھا صبح سے وہ یہ ساری باتیں بہت سے لوگوں سے سن چکا تھا
” یہ موقع تمہیں کم از کم نہیں چھوڑنا چاہیے میرا یہ خیال ہے ۔ ارے یہ تو دیکھ پرنسپل تک تمھاری منتیں کر رہا ہے “
فہد اس کو اس کی غلطی کا احساس دلانے پر بضد تھا ۔ یہ جانتے ہوۓ بھی کہ وہ ضد میں سب کا باپ ہے
ان کا کالج تحصیل سطح پر کرکٹ کھیلنے جا رہا تھا اور میسم مراد راحت ایلمنٹری کالج کی کرکٹ ٹیم کی جان تھا۔ لیکن وہ اس سال کھیلنے سے صاف انکار کر چکا تھا۔ جس پر پرنسپل سے لے کر ہر شخص اس کی منت سماجت کر چکا تھا ۔اور اب باری فہد کی تھی ۔
” فہد پھر وہی بات بار بار تمہیں پتا ہے امتحان سر پر آنے والے اور مجھے اس دفعہ اچھے نمبر لینے ہیں “
میسم نے اپنے موقف پر اڑ کر پھر سے وہی بات دہراٸ جو وہ کب سے فہد کو سمجھا رہا تھا ۔ وہ اس دفعہ بہت اچھے نمبروں میں اور پہلی کوشش میں ہی بی اے پاس کرنا چاہتا تھا ۔ جس کے لیے اب اس کے پاس چند ماہ کا ہی عرصہ تھا ۔
” تو مطلب تو اپنے کالج کے لیے نہیں کھیلے گا پاگل تحصیل لیول کا میچ ہے پچھلی دفعہ کی طرح شان سے جیت کر آٸیں گے “
فہد نے افسوس کے انداز میں ہاتھ ہوا میں اوپر کیے اور پھر لب بھینچتے ہوۓ نیچے گراۓ ۔ کیونکہ مسیم ایسا ہی تھا جب کچھ ٹھان لیتا تھا پھر اس موقف سے اسے ہٹانا ناممکن ہو جاتا تھا ۔اور اب کی بار بھی اس کی نظروں سے کچھ ایسا ہی واضح تھا ۔
” ارے بھاڑ میں جاۓ شان اور جیت یار پتا ہے نہ سکول میں کیا کرتے رہے ہیں سپورٹس کے نام پر میرے ساتھ ٹیچرز آٹھویں جماعت میں مجھے معلوم ہے سر ارشد نے صرف ٹیم کے لیے جان بوجھ کر فیل کر ڈالا کہ ایک سال اور سکول کی طرف سے جاۓ گا یہ “
میسم نے ماتھے پر بل ڈال کر اس سالوں پرانی بات یاد دلاٸ ۔
” بس کر یار پتا ہے مجھے کیسے پیپر ہوۓ تھے اور تیرا مقصد تو بھول گیا ہے شاٸد کرکٹ تیری جان تیری پہچان ہے جب سے ادینہ کو امپریس کرنے کے چکر میں پڑا ہے “
فہد نے بھی برابر ماتھے پر شکن ڈالے ۔ اور ہوا میں ہاتھ ناگواری سے چلاتے ہوۓ اس کی بات کو رد کیا ۔اور وہ تھا کہ ادینہ کا نام سن کر بھرپور طریقے سے مسکرا گیا ۔
” کرکٹ ابھی بھی میری جان ہے پر کیا ہے نہ میرا اس میں کوٸ فیوچر نہیں ابا اور دادا کبھی مجھے اس فیلڈ میں جانے نہیں دیں گے تو کیوں نہ دوسری جان کے لیے کچھ کر لیا جاۓ “
میسم نے آنکھ کا کونا دبایا اور پھر قہقہ لگایا ۔ پر سامنے کھڑے فہد کو اس کی بات نے ذرا مزہ نہیں دیا تھا ۔ اس کی خفگی ہنوز قاٸم تھی۔
” ارے میرے بھاٸ یہ لڑکیاں کہاں خوش ہوتی ہیں تارے تک توڑ لانے کی بات کرتی ہیں “
فہد اب پینٹ کے پانچے اوپر کرتا ہوا اس کے برابر بیٹھ چکا تھا ۔ اس کا مسکرانا فہد کو اب زہر لگ رہا تھا ۔
” میں ایک سال پورا ضاٸع کر چکا ہوں اب ایک سال کیا کچھ ماہ ہیں مجھے پڑھنا ہے“
میسم نے دو ٹوک لہجے میں کہا ۔مطلب وہ ہر گز بھی آمادہ نہیں ہونے والا تھا ۔ فہد نے گھور کر دیکھا ۔
” تو عشق میں نکما ہو گیا ہے “
فہد نے گہری سانس لی اور ہاتھ سے گھاس کو نوچ ڈالا ۔ چہرے پر اب غصے کی جگہ خفگی نے لے لی تھی۔ پر اس خفگی کا بھی اس عاشق پر کوٸ اثر نہیں ہوا تھا۔
” پھر تو غلط ہے دیکھ عشق میں نکما نہیں ہوا میں بلکہ پڑھ رہا ہوں“
میسم نے دانت نکالے اور کتاب کو اوپر کیا جبکہ فہد ویسی ہی صورت بناۓ اسے دیکھ رہا تھا۔
***********
” نہیں نہیں ایسا ہو ہی نہیں سکتا بھٸ بہت نفرت کرتا ہے مجھ سے “
ادینہ نے آنکھیں پھیلا کر سامنے بیٹھی ماہ رخ کی طرف دیکھا ۔ اس کی بات سن کر گڑ بڑا ہی تو گٸ تھی وہ ۔ ماہ رخ اس کی باتیں سن کر یہ نتیجہ اخز لر چکی تھی کہ میسم اس سے محبت کر بیٹھا ہے ۔ جس کو سنتے ہی وہ گڑ بڑا گٸ تھی ۔
” او میڈیم محبت ایسے ہی ہوتی اچانک سے “
ماہ رخ نے چیونگم منہ میں رکھی ۔ اور آنکھوں کی پتلیوں کو نچایا ۔ وہ یونیورسٹی کے لان میں گھاس پر براجمان تھیں ۔
” ارے نہیں بابا ڈراٶ مت مجھے کوٸ محبت کرے تو کیا ایسے ہر بات پر انسلٹ کرتا کیا اس کی “
ادینہ نے زور زور سے سر نفی میں ہلایا ۔ ایسے جیسے وہ ماہ رخ کے ساتھ ساتھ خود کو بھی باور کروا رہی ہو کہ میسم اس سے محبت نہیں کرتا ہے ۔
” وہ تو ایسے مجھے انسلٹ کرتا ہے ہر وقت ہر بات پر “
ہاتھ کو ہوا میں اٹھا کر آنکھیں پھیلا کر ماہ رخ کی طرف دیکھا ۔ جو مسلسل مسکراہٹ دبا رہی تھی ۔ مطلب وہ یقین نہیں کر رہی تھی ۔
” مجھے نہیں لگتا میسم کرتا مجھ سے محبت انفیکٹ کر ہی نہیں سکتا “
ادینہ نے آخری بات پر زور دیتے ہوۓ روہانسی صورت بناٸ ۔ اوپر سے ماہ رخ کی مسکراہٹ اس کا خون خشک کر رہی تھی ۔
” ہممممم تو انکار کیوں نہیں کر رہا پھر “
ماہ رخ نہ بھنویں اوپر نیچے کرتے ہوۓ چیونگم کو منہ میں گھمایا ۔
” پتا مجھے کیا لگتا ہے وہ کر دے گا انکار بس مناسب وقت تلاش کر رہا ہے “
ادینہ نے پرسوچ انداز میں ماہ رخ کی طرف دیکھا ۔ ماہ رخ نے قہقہ لگایا ۔ وہ پھر سے پریشان سی ہو کر لب کچلنے لگی ۔ کہیں ماہ رخ سچ ہی تو نہیں کہہ رہی ۔ نہیں نہیں ابھی کچھ دن پہلے تو کتوں کی طرح لڑ رہا تھا مجھ سے ادینہ خود سے ہی سوال کرنے کے بعد خود ہی جواب دے رہی تھی ۔
” پاس ہو گیا کیا وہ “
ماہ رخ نے اسے ہلا کر سوال کیا ۔ وہ ایک دم سے خیالات سے باہر آٸ ۔ کچھ دن پہلے ہی بی اے میں وہ بہت اچھے نمبروں کے ساتھ پاس ہوا تھا ۔ ادینہ کے ساتھ ساتھ سب گھر والے حیران ہوۓ تھے ۔
” ہاں ہو گیا ہے اب ماسٹرز کا سوچ رہا ہے “
ادینہ نے گہری سانس لی ۔ اور کتابوں کو بے دلی سے سمیٹا ۔ پاس سے گزرتے روشان نے ہاتھ ہلا کر مسکراہٹ کا تبادلہ کیا ۔ جس کا جواب ان دونوں نے ہاتھ ہلا کر دیا ۔وہ اب ان سے کچھ فاصلے پر بیٹھا اپنی کتابیں کھول چکا تھا ۔ ماہ رخ نے کن اکھیوں سے پریشان صورت بناۓ بیٹھی ادینہ کی طرف دیکھا ۔
” یہ روشان کا کیا چکر ہے “
ماہ رخ نے سرگوشی کے سے انداز میں ادینہ کے پاس ہوتے ہوۓ کہا ۔ ادینہ نے ناسمجھی کے انداز میں گردن کو خم دے کر ماہ رخ کی طرف دیکھا ۔
” کیا مطلب کیا چکر ہے روشان کا “
ادینہ نے چونک کر تھوڑا پیچھے ہو کر آنکھیں نکالیں ۔ ماہ رخ بے ساختہ قہقہ لگا گٸ ۔ آنکھوں میں شرارت تھی تو لبوں پر بھی شریر سی مسکراہٹ تھی ۔
” بڑا آجکل اساٸنمنٹ کا تبادلہ ہوتا مسکرا کر دیکھا جاتا “
ماہ رخ نے شرارت بھرے انداز میں آنکھوں کو نچایا ۔ چیونگم کو منہ میں گھمایا جبکہ لب مسکراہٹ کو معنی خیز انداز میں دبا رہے تھے ۔
” ایکسکیوزمی !!!“
ادینہ نے لفظ کو لمبا کھینچا ۔ اور حیرانگی سے شکن آلودہ ماتھے سے سامنے بیٹھی ماہ رخ کو دیکھا ۔
” تم جانتی ہو مجھے ایسا کچھ بھی نہیں ہے “
ادینہ نے خفگی سے دیکھتے ہوۓ ناک پھلاٸ ۔ جس کا ماہ رخ پر کوٸ اثر نہیں ہوا ۔ وہ ہنوز اسی انداز میں قہقے پر قہقہ لگا رہا تھی ۔
” تو حرج کیا ہے پاگل بلکہ میں تو کہتی ہوں اگر اس کا پرپوزل جاۓ گا گھر تمھارے تو شاٸد گھر والے کچھ سوچ ہی لیں “
ماہ رخ نے اس کے ہاتھ پر ہاتھ دھر کر رازدار انداز اپنایا۔ ادینہ نے مصنوعی بتیسی نکالی اور پھر غصے سے اس کے ہاتھ کو اٹھا کر اس کی گود میں پھینکا ۔
” نہیں ایسا کچھ بھی نہیں ہونے والا میرے گھر میں بلکہ ان سب کو یہ نظر آ رہا ہے کہ میسم سے شادی کے بعد ایک عدد ڈاکٹر ان کے گھر میں ہو گی “
ادینہ نے بیگ کی زپ زور سے بند کی ۔ ماہ رخ اب پر سوچ انداز میں سر کو ہلا رہی تھی جبکہ وہ پریشان حال بیٹھی ہوٸ تھی ۔
**********
”بی اے پاس کیا ہے کوٸ ڈاکٹر نہیں بن گۓ ہو جو یوں اکڑ رہے ہو “
ادینہ نے زینے کے جنگلے سے میسم کے ہاتھ کو ہٹایا ۔ وہ تیسرے پورشن سے نیچے جا رہی تھی جب درمیان والے پورشن کے زینے پر میسم راستہ روک کر کھڑا ہو گیا ۔ اور اس کی نظریں ادینہ کو گھبراہٹ کا شکار کر گٸ ۔ وہ بلا جواز اس کا راستہ روکے مسکراۓ جا رہا تھا ۔ جس سے ادینہ کو چڑ ہو رہی تھی ۔ گھر میں ٹکے رہنے کی وجہ سے کافی حد تک نکھر گیا تھا ۔گہرے نیلے رنگ کی لاٸنگ شرٹ کے نیچے ٹرایوزر پہنے وہ عام سے حلیے میں تھا ۔ ہاں البتہ آنکھوں کی چمک آج معمول کے خلاف تھی ۔
” کیا دنیا میں صرف ڈاکٹر ہی اچھا کماتے ہیں “
میسم نے پھر سے ہاتھ جنگلے پر دھر لیا۔ ادینہ نے گھبرا کر دیکھا۔میسم کے لبوں پر میٹھی سی مسکان سجی تھی ۔ وہ شاٸد حزیفہ سے کوٸ کام کہنے جا رہی تھی ہاتھ میں پیسے پکڑ رکھے تھے اور گلے میں بے نیازی سے دوپٹہ جھول رہا تھا ۔ ہونٹوں کے بلکل نیچے تھورڈی پر سرخ رنگ کا چھوٹا سا مھاسہ بنا ہوا تھا میسم کو وہ مھاسہ بھی اس کے سفید چہرے پر حسین لگ رہا تھا ۔ بے ساختہ اپنے دل کی اس حالت پر ہنسی آ گٸ اسے ادینہ کے چہرے پر بنا پمپل بھی پیارا لگ رہا تھا ۔
” نہیں “
ادینہ نے سینے پر ہاتھ باندھ کر چہرے کا رخ موڑا۔ کیا ہے اس کو یوں کیوں دیکھے جا رہا ہے ۔ ادینہ نے چور نظر پھر سے میسم پر ڈالی جو مسکراہٹ دباۓ کھڑا تھا ۔
” تو “
میسم نے سرگوشی نما ہلکی سی آواز میں اگلا سوال داغا ۔ جس پر ادینہ جھنجلا ہی تو گٸ ۔
” کچھ نہیں راستہ تو چھوڑ دو “
پھر سے میسم کے بازو کو جھٹکا۔ اور پیشانی پر اب شکن اور بڑھ گۓ تھے ۔ دل عجیب طرح کے خیالات بننے لگا تھا ماہ رخ کی باتیں ذہن میں گونجنے لگی تھیں ۔
” تم سے بات کرنی ہے “
ازل سے وہی ڈھیٹ پن ۔ ادینہ نے کھوجتی سی نظر اس کے چہرے پر ڈالی ۔ اور عجیب سے احساس نے گھیرا ۔ وہ نرم سی مسکراہٹ لیے کھڑا تھا
” کرو “
ادینہ نے لہجے کو جان بوجھ کر سخت رکھا۔ تھوک نگلا ۔ سر پھاڑ دوں گی اس کا اگر اس نے کوٸ ایسی ویسی بات کی ۔ دل میں تہیہ کرتی وہ خود کو تیار کر چکی تھی ۔
” ایسے کیسے “
میسم نے ہلکا سا قہقہ لگایا ۔ ادینہ جو آنکھیں پھیرے کھڑی تھی چونک کر میسم کی طرف دیکھا ۔ فضول میں تنگ کر رہا ہے ۔ کوٸ ایسی بات نہیں شکر ہے ۔ یہ کر ہی نہیں سکتا محبت مجھ سے اپنے دل کو تسلی دے کر وہ کافی حد تک نارمل ہو چکی تھی ۔
” مطلب ؟ تو اور کیسے “
ادینہ نے ناک اوپر چڑھاٸ ۔ اور بے زار سا لہجہ اپنایا۔ راستہ بھی نہیں دے رہا تھا نہ اوپر جانے دے رہا تھا اور نہ نیچے ۔
” اممممم سنو چھت پر آٶ شام کو “
میسم نے کچھ سوچنے کے سے انداز میں کہا اور سینے پر ہاتھ باندھے
” بات کیا ہے میسم “
ادینہ نے بھنویں اچکا کر دیکھا ۔ لب اتنی سختی سے پیوست کر رکھے تھے کہ ابھی اگر اس نے کچھ ایسا ویسا کہا تو پھٹ پڑے گی ۔
” خاص بات “
میسم نے مختصر کہا آنکھوں اور لہجے میں بلا کی نرمی تھی ۔
” شام سات بجے چھت پر اوکے “
میسم نے تھوڑا سا قریب ہو کر کہا اور پھر تیزی سے زینہ پھلانگتا ہوا اوپر چلا گیا اور وہ جز بز سی وہیں کھڑی رہ گٸ ۔
**********
” میسم اوپر ہو کیا “
ادینہ نے چھت کے بند دروازے پر ہلکی سی دستک دی تجسس میں ڈوبی وہ سات بج کے پندرہ منٹ پر چھت پر آ چکی تھی ۔ مغرب کے بعد کا وقت تھا ہلکی ہلکی سی روشنی تھی ابھی تیسرے پورشن کے بعد چھت تھی جہاں وہ لوگ بہت کم آتے تھے ۔ بڑے تو بلکل نہیں آتے تھے البتہ بچے کبھی پڑھنے اور کبھی کھیلنے آ جاتے تھے ۔ چھت پر دو کمرے تھے جہاں کاٹھ کباڑ پڑا تھا ایک جھولا چھت کے درمیان میں تھا جس کا حال بارشوں نے برا کر رکھا تھا ۔
میسم کی کوٸ آواز نہیں آٸ تھی۔ ادینہ نے دھیرے سے دروازے کو چھت کی طرف دھیکلا ۔ اور وہ ہلکی سی چرچراہٹ سے کھلا تھا ۔ لوہے کا دروازہ بہت بارشوں کی وجہ سے زنگ آلودہ ہو چکا تھا ۔ جیسے ہی دروازہ کھول کر وہ آگے ہوٸ تو حیرت سے آنکھیں پھٹنے کو تھیں ۔ منہ ایک دم کھل گیا پوری چھت گلاب کی پتیوں سے ڈھکی ہوٸ تھی جہاں جگہ جگہ دیے جل رہے تھے پوری چھت انتہاٸ خوبصورت طریقے سے سجاٸ ہوٸ تھی گلاب کی پتیاں اتنی مقدار میں تھیں کہ ان کی مہک ناک کے نتھنوں میں گھس رہی تھی ۔اس کے اوپر کچھ نرم نرم سا گر رہا تھا ہاتھ سے پکڑا تو گلاب کی پتیوں کی بوچھاڑ تھی جو اس پر ہو رہی تھی ۔
اور ان سب میں وہ سامنے سفید قمیض شلوار زیب تن کیے سینے پر ہاتھ باندھے کھڑا مسکرا رہا تھا ۔
” یہ ۔۔ یہ سب “
ادینہ کو اپنی آواز کہیں دور سے آتی ہوٸ محسوس ہوٸ ۔

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: