Maqsoom Novel by Huma Waqas – Episode 7

0
مقسوم از ہما وقاص – قسط نمبر 7

–**–**–

” یہ سب تمھارے لیے “
میسم مسکراتا ہوا آگے بڑھا ۔ ادینہ نے خوف سے تھوک نگلا ۔اس کی نظریں سب ڈر سچ ثابت کر رہی تھیں ۔
”مم مگر کیوں “
زبان لڑ کھڑا سی گٸ۔ میسم اب بلکل سامنے آ چکا تھا ۔ گہری محبت بھری نظریں اس پر ڈالے ۔ مسکراہٹ دباۓ۔
” کیوں امممم!!!“
تھورڈی پر انگلی پھیرتے ہوۓ شریر سے انداز میں مسکرایا ۔ اور چند قدم اور آگے بڑھاۓ ۔ وہی تو ادینہ تھی جسے ہوش سنبھالتے ہی ہمیشہ ساتھ دیکھا تھا ۔ پھر آج دل کی دھڑکنوں کا یوں بے ترتیب ہونا زبان کا دل کے جزبات کا ساتھ نہ دینا ہر طرح کی بکواس کر جانے والی لڑکی کے سامنے آج محبت کا اظہار اتنا مشکل ہو رہا تھا
” سوال تو اچھا ہے “
میسم ہلکا سا قہقہ لگاتا اور قریب ہوا ۔ ادینہ نے لبوں کا زاویہ تبدیل کرتے ہوۓ قدم پیچھے کیے ۔ وہ اب شرماتے ہوۓ کان کھجا رہا تھا ۔ اور بار بار لبوں کو منہ کے اندر لے کر گہرے سانس لے رہا تھا ایسے جیسے زندگی کے سب سے مشکل الفاظ ادا کرنے والا ہو ۔
اوہ میرے خدا ۔ ۔۔۔۔ اوہ میرے خدا ۔۔۔۔ کیا بولنے والا ہے یہ ادینہ نے نچلے لب کے کونے کو بے چینی سے دانتوں میں دبایا ۔
” ادینہ میں تم سے “
میسم نے بمشکل لفظوں کو ادا کیا اس سے پہلے کہ وہ اظہار مکمل کرتا ادینہ نے داٸیں ہاتھ کو اس کے سینے کی سیدھ میں کھڑا کیا ۔
” میسم پلیز “
لب بھینچ کر سختی سے کہا ۔ میسم ایک دم سے چپ ہوا ۔
” دیکھو تم سب کے ساتھ اس بات کو لے کر کے بہت سریس ہو گۓ ہو پر میرا دل ابھی بھی اس رشتے کے لیے “
ادینہ نے فقرہ ادھورا چھوڑا اس کا چہرہ سرخ ہو گیا ۔ ماتھے پر شکن نمودار تھے اور چہرے پر وہی بے زاری ۔ مسیم خاموش ہی رہا ۔
” مطلب پلیز میں تم سے شادی نہیں کر سکتی کسی بھی صورت اور مسٸلہ یہ ہے انکار بھی نہیں کر سکتی “
ادینہ نے نچلے لب کو بے چینی سے کچلا ۔ اور نظریں چراٸیں ۔
” وجہ جان سکتا ہوں “
میسم نے گہری سانس لی اور پرسکون لہجے میں کہتے ہوۓ سینے پر ہاتھ باندھے۔ ادینہ نے ایک نظر ڈالی اور پھر فوراً رخ موڑ لیا۔ دوسری طرف خاموشی چھا گٸ ۔ مسیم انتظار میں کھڑا تھا ۔پھر وہ بولی ۔
” کوٸ ایک وجہ ہو تو بتاٶں میں “
ادینہ نے ناک چڑھاٸ ۔ اس کی اس ادا پر میسم کا قہقہ گونجا۔ وہ جو اسے بہت سنیجیدہ اور رنجیدہ تصور کیے کھڑی تھی ۔ چونک کر غصے سے آنکھیں سکیڑیں ۔ وہ ہنس رہا تھا بری طرح۔ ادینہ نے نخوت سے دانت پیسے ۔
” کیا !!!! بتاٶ تو مجھے “
میسم نے بمشکل قہقےپر قابو پا کر مسکراہٹ دباٸ ۔ اور سانس پیچھے کو کھینچتے ہوۓ شریر سی نظروں سے دیکھا ۔
” ہاں کبھی نہیں سوچا تمھارے بارے میں ایسے میں نے “
ادینہ نے ہاتھ کو اس کے سامنے کرتے ہوۓ کندھے اچکاۓ ۔ نظریں ابھی اس سے ملانے سے کترا رہی تھی ۔ ملاتی بھی کیسے میسم کی آنکھیں اتنی گہراٸ لیے ہوٸ تھیں کہ ان میں دیکھ کر بات کرنا مشکل ہو رہا تھا۔
” وہ تو میں نے بھی نہیں سوچا تھا لیکن یقین جانو جب سوچا “
میسم نے بے ساختہ دل پر ہاتھ رکھا ۔ آواز ایک دم سے خماری میں ڈوب گٸ ۔ اففف اسے تو ہو گٸ سچ میں محبت ادینہ کا دل لرز کر رہ گیا ۔ میسم کا لہجہ اس کے اندر کے جزبات کی عکاسی کر رہا تھا ۔
” تم ایک دفعہ سوچ کر تو دیکھو “
سرگوشی نما آواز تھی ۔ جو ادینہ کے کان کے قریب ابھری ۔
” کیوں بھٸ میں چاہتی ہی نہیں سوچنا تو کیوں سوچوں “
ادینہ گڑبڑا کر سیدھی ہوٸ ۔ اور لہجے میں سختی کا عنصر لاٸ ۔
”تم کیا چاہتی ہو؟“
میسم نے گہری سانس لی تھوڑا سا آگے ہو کر اس کے سر پر سے گلاب کی پتی کو اٹھایا ۔ پھر تھوڑا سا آگے بڑھ کر دیوار پر لگے سوٸچ بٹن کو دبا کر چھت پر لگے بلب کو جلایا تو ایک دم سے اندھیرے میں ڈوبی چھت سفید روشنی سے نہا گٸ اور گلاب اور دیے فسوں خیز منظر پیش کرنے لگے ۔
ادینہ اس کے واپس اپنی جگہ پر آنے تک خاموش رہی چھت کا منظر آنکھوں کو خیرہ کر رہا تھا جسیے ہی وہ پھر سے اس کے سامنے آ کر کھڑا ہوا تب تک وہ لفظوں کو ترتیب دے چکی تھی ۔
” تم انکار کرو اس شادی سے کہو سب سے کہ تمہیں مجھ سے شادی نہیں کرنی ہے “
ادینہ نے دو ٹوک لہجہ اپنایا ۔ جس پر میسم پرسکون انداز میں مسکرایا اور اس کی طرف ایسے دیکھا جیسے وہ کوٸ نا سمجھ بچہ ہو اور کچھ ایسا مانگ رہا ہو جو ممکن نہیں۔
” پر مجھے تو کرنی ہے اور صرف تمہی سے کرنی ہے “
میسم نے سر کو تھوڑا آگے کرتے ہوۓ اس کے ناک کو دھیرے سے چھوا جس پر فوراً ادینہ نے ناگواری سے لبوں کو باہر نکال کر ناک چڑھاٸ ۔
” عجیب دھونس ہے تمھاری “
منہ کھول کر ہاتھوں کو کندھوں تک لا کر ناگواری سے کہتی اب وہ بھر پور طریقے سے سرخ ہو چکی تھی۔
” دھونس نہیں محبت ہے “
ہنوز وہی پرسکون لہجہ وہی مسکراہٹ وہی گہری محبت کے سمندر کو سمیٹے نظریں ۔
” پر میرے لیے دھونس ہی ہے کیونکہ میں تھوڑی نہ کرتی ہوں تم سے محبت “
ہنوز وہی ناگواری وہی بے زاری وہی چڑاچڑا پن ۔ میسم نے دھیرے سے ہاتھ تھاما تو وہ کرنٹ کھا کر پیچھے ہوٸ ۔ فوراً سے پہلے ہاتھ پیچھے کھینچنے کی کوشش کی پر گرفت مضبوط تھی۔
” ہاتھ چھوڑو میرا اور انکار کرو“
دوسرے ہاتھ کا زور بھی لگا ڈالا پر ناکامی ۔ میسم نے ایک دم سے ہاتھ پر سے گرفت کو ختم کیا اور چند قدم پیچھے لیے ۔
” جاٶ جو کرنا ہے کرو انکار تو نہیں کروں گا میں “
وہ پھر سے اپنی ازلی ڈھٹاٸ میں واپس آ کر بولا ادینہ نے ناک پھلا کر گہرے سانس لیے پھرپیر پٹخ کر تیزی سے زینے کی طرف بھاگی ۔اور وہ اپنی سجاٸ ہو چھت پر کمر پر ہاتھ دھرے اب چاند کو دیکھ رہا تھا ۔
************
” میسم کیا مسٸلہ ہے “
ادنیہ نے جھنجلا کر سر اوپر اٹھایا وہ اب اس کے ہاتھ سے چھینی ہوٸ قلم لیے شرارت سے مسکرا رہا تھا ۔ وہ نوٹس میں سر دیے پڑھنے میں مصروف تھی اور ہاتھ میں پکڑے قلم کو دھیرے دھیرے گھما رہی تھی جب اچانک کسی نے قلم چھینا سر اوپر اٹھایا تو میسم سر پر کھڑا تھا ۔
اس کا اب یہی کام تھا تین دن سے چھت والے واقع کے بعد سے اور ادینہ کی چڑ ہنوز قاٸم تھی ۔ اب بھی اریبہ اور عزرا نیچے تھیں تو وہ اوپر آ گیا ۔
” کچھ نہیں “
اچھل کر بیڈ پر ڈھیر ہوا اور سر تکیے پر رکھا ۔ ادینہ دانت پیستے ہوۓ پیچھے ہوٸ اور اپنی کتاب اس کے نیچے سے کھینچی ۔ جس پر وہ بڑے مزے سے ڈھیر ہوا تھا ۔
” جاٶ یہاں سے ابھی اور اسی وقت “
ادینہ نے بازو کو لمبا کرتے ہوۓ دروازے کی طرف اشارہ کیا ۔ جبکہ ناک کے نتھنے غصے سے پھول رہے تھے ۔ ڈھیٹ کہیں کا ۔ کھا جانے والی نظر اس پر ڈالی وہ بڑے مزے سے تکیے پر سر رکھے اسے محبت سے دیکھنے میں مصروف تھا ۔ جب سے اپنی محبت کا اظہار کیا تھا شیر ہی ہو گیا تھا ۔ وہ تین دن سے بچ رہی تھی جہاں وہ ہوتا کترا کر وہاں سے نکل جاتی تھی ۔
” کیوں پہلے ریزن دو “
وہی سوال جو وہ اس دن سے اس کا دماغ کھا گیا تھا ۔ ادینہ نے دانت پیس کر بے زاری سے دیکھا ۔
” کس چیز کی “
لہجے میں اس دن کی ہی سختی تھی اور میسم کی آنکھوں میں ہنوز وہی نرمی ۔
” مجھ سے شادی نہ کرنے کی ریزن “
پر سکون لہجے میں کہا ۔ اور کہنی کے بل سر کو ہاتھ پر ٹکایا ۔ گہری آنکھوں کی تپش وہ اپنے چہرے پر با آسانی محسوس کر سکتی تھی ۔
” بہت سی ہیں “
ادینہ نے دانت پیسے ۔ نظریں چراٸیں ۔ دل کر رہا تھا یہاں سے بھاگ جاۓ وہ دیکھتا ہی ایسے تھا ۔
” مثلاً “
اگلا سوال ۔ وہی مخصوص مسکراہٹ چہرے پر سجاۓ ۔ ادینہ نے ضبط کرتے ہوۓ گہری سانس لی اور پھر گھور کر دیکھا ۔
” تم جاٶ یہاں سے “
چیخنے کے سے انداز میں کہا ۔ لیکن وہاں کوٸ اثر نہیں تھا اس کے ہر ردعمل کا جواب یا تو مسکراہٹ ہوتی تھی یا پھر قہقہ
” نہیں بولو کیا میری صورت“
وہ ایک دم سے سیدھا ہو کر بیٹھا ۔ ہاتھ گالوں پر رکھے ہلکی سی شیو بڑھی ہوٸ تھی ۔ رنگ اب کالا تو نہیں رہا تھا ہاں البتہ رنگت گندمی ہی تھی۔
” اچھی خاصی تو ہے بس رنگ تمھاری طرح اوور واٸٹ نہیں ہے “
اپنے چہرے پر ہاتھ پھیرتا اب وہ اٹھ کر سنگہار میز کے سامنے کھڑا تھا ۔
” آنکھیں تم سے بڑی ہیں “
تھوڑا سا آگے ہو کر آٸینے میں اپنی آنکھوں کا جاٸزہ لیا ۔ ادینہ نے بےزاری سے اس کی اٶٹ پٹانگ حرکتوں کو دیکھا ۔ مجھے ہی جانا پڑے گا یہاں سے دل میں تہیہ کرتی اب وہ کتابیں سمیٹ رہی تھی ۔
” اور ناک دیکھو کتنی تیکھی تمھاری طرح پھینی سی نہیں “
اب وہ اپنی ناک کو پکڑے شرارت سے کہہ رہا تھا ۔ ادینہ نے پھینی کے لفظ پر آنکھیں سکوڑی ۔
” اور یہ ڈمپل دیکھو دیکھو ان کو کیسے اگنور کر سکتی تم “
میسم ایک دم سے مڑا تھا لبوں کو بھینچے جن کی وجہ سے گالوں میں گڑھے نمودار ہوۓ تھے ۔ ادینہ کے قریب چہرہ کیا ۔انداز اسے تنگ کرنے والا تھا ۔
” ہٹو میسم “
ادینہ نے چڑ کر کندھے سے پیچھے کیا اور وہ اب ہنس رہا تھا ۔ اس طرح چڑتی ہی تو اسے پیاری لگتی تھی وہ ۔ چھوٹی سی ناک کو اوپر چڑھاۓ آنکھوں کو سکوڑے منہ کو پھلاۓ ۔ اسے پیار سے دیکھتے ہوۓ مسکرا دیا اور شرارت کی رگ پھر سے بھڑک اٹھی ۔
” نہیں بھٸ بتاٶ نہ اچھا پڑھاٸ ہی پھر کیا ریزن تو اتنے اچھے تو نمبر آۓ ہیں بی اے میں “
اب وہ تھورڈی پر انگلی رکھے مصنوعی حیرانگی سے کہہ رہا تھا ۔ مقصد صرف ادینہ کو تنگ کرنا تھا اور کچھ نہیں ۔
” ہن۔ن۔ن۔ تو کیا انجنیٸر بن گۓ یا ڈاکٹر “
ادینہ نے طنز سے سرکو ہوا میں مارا ۔ اور لبوں کو نخوت سے اوپر چڑھایا ۔
” امممم سنو سیکالوجی میں ماسٹرز کرتا ہوں اور پھر پاگلوں کا ڈاکٹر بن جاتا ہوں “
ادینہ کے قریب ہو کر بڑی سنجیدہ شکل بناٸ ۔ جس پر ادینہ کا پارہ اور چڑھ گیا ۔ وہ اب کتابوں کو سمیٹ کر کھڑی ہو چکی تھی اور میسم گھوم کر شرارت سے سامنے آ گیا ۔
” کیسا ؟“
شرارت سے بھنوں کو اوپر نیچے نچایا ۔ جب کے نچلا لب دانتوں نے جکڑا ہوا تھا ۔
” بکواس وہ ڈاکٹر نہیں ہوتے وہ ماہر نفسیات ہوتے ہیں “
ادینہ نے پھر سے دھکا دیا ۔ اور منہ چڑاتے ہو جواب دیا ۔
” علاج تو کرتے ہیں نہ “
میسم نے قہقہ لگایا ۔ جس پر ادینہ اب منہ میں بڑ بڑاتی کمرے سے باہر جا رہی تھی اور وہ پیچھے پیچھے آ رہا تھا
” یہ اور بات ہے مجھے سٹارٹ اپنے گھر سے لینا پڑے گا“
اپنی بات پوری کیے وہ کھڑا شرارت سے مسکرا رہا تھا ۔ ادینہ ناک پھلا کر مڑی اور پھر تیزی سے واپس کمرے میں جا کر دروازہ بند کر لیا ۔
**********
” اریبہ اٹھو ادینہ ادینہ ۔۔“
عزرا کی پریشان سی آواز پر ادینہ نے دھیرے سے آنکھیں کھولی تھیں ۔ عزرا پریشان سا چہرہ لیے ان دنوں پر جھکی ہوٸ تھیں ۔ اور ادینہ کے کندھے کو ہلا رہی تھیں ادینہ ایک جھٹکے سے اٹھ کر بیٹھی ۔
” امی کیا ہوا “
ایک نظر عزرا کے پریشان چہرے پر ڈالی اور دوسری سامنے لگی گھڑی پر جو رات کے دو بجا رہی تھی ۔
” ابا جی کی طبیعت بہت خراب ہو گٸ ہے میں جواد اور مراد کے ساتھ ہسپتال جا رہی ہوں “
عزرا نے پریشان سے لہجے میں کہا اریبہ بھی آنکھوں کو ملتی اٹھ بیٹھی تھی۔ اب عزرا کے چہرے والی پریشانی ان دونوں کے چہرے پر بھی موجود تھی۔
” کیا ہوا امی نانا ابو کو میں ساتھ چلتی ہوں “
ادینہ اچھل کر بستر سے نیچے اتری اور تیزی سے سلیپر پاٶں میں اڑاۓ جبکہ ہاتھ دوپٹہ درست کر رہے تھے ۔
” ہاں چلو ٹھیک ہے نیچے آٶ “
عزرا اس کو کہتی ہوں تیزی سے مڑی ۔ ان کے ہاتھ پاٶں پھولے ہوۓ تھے ۔ مراد نے نیچے سے فون کر کے اسے احمد میاں کی طبیعت اچانک ناساز ہونے کا بتایا تھا ۔
” اریبہ تم چلو نیچے ممانی کے پاس وہ اکیلی ہیں “
چادر کو سر پر درست کرتی وہ بنا پیچھے دیکھے اریبہ کو ہدایت کرتی عجلت سے زینے کی طرف بڑھ گٸیں ۔
” جی امی “
اریبہ پریشان سی صورت بناۓ تیزی سے اٹھی ۔ ادینہ بھی اب نیچے کی طرف جا رہی تھی ۔
************
” امی یہ کیا بات ہوٸ “
ادینہ نے بچارگی سے عزرا کی طرف دیکھا جن کی بات نے اس کے سر پر بمب پھوڑ ڈالا تھا ۔ احمد میاں کو دل کی تکلیف ہوٸ تھی اور اب باٸ پاس کے بعد وہ ادینہ اور میسم کے نکاح کرنے کی ضد لگا بیٹھے تھے ۔ چند دن میں ہی نکاح کرنے کا کہہ رہے تھے ۔
” کیا مطلب کیا بات ہوٸ تمھارے نانا ابو چاہتے ہیں یہ “
عزرا نے مصروف سے انداز میں کپڑے استری کرتے ہوۓ بنا دیکھے کہا ۔ وہ ہونک بنی ان کے پاس کھڑی تھی ۔
” لیکن کیوں امی ابھی تو میرا پورا ایک سال پڑا ہے “
ادینہ نے روہانسی صورت بناٸ ۔
” پریشان ہیں اپنی طبیعت کو لے کر کہتے ہیں یہ خوشی دیکھنا چاہتے ہیں جلد از جلد “
عزرا نے گھور کر ادینہ کی طرف دیکھا اور ہاتھ میں پکڑی شرٹ کو ایک طرف رکھا ۔
” امی “
ادینہ نے بے چینی سے لفظ کا لمبا کھینچا لیکن وہ تو جیسے سن ہی نہیں رہی تھیں ۔ استری کا پلگ کھینچتی وہ اب کمرے کی طرف بڑ ھ رہی تھیں جبکہ ادینہ بے چینی سے ان کے پیچھے چل رہی تھی ۔
” تمھاری خالہ بھی آٸ ہوٸ ہیں وہ کون سا روز روز آ سکتی ہیں “
وہ بنا اس کی طرف دیکھے مصروف سے انداز میں گویا ہوٸیں ۔ ادینہ سکتے میں آ گٸ ۔ عابدہ بھی اپنے بچوں سمیت آٸ ہوٸ تھی اور اب نکاح کی وجہ سے واپسی روک دی تھی ۔
” نکاح ہی کر رہے ہیں نہ رخصتی بعد میں کریں گے “
عزرا نے پیچھے مڑ کر ادینہ کے کندھے پر ہاتھ رکھا اور پھر اریبہ کی طرف مڑیں۔
” اریبہ اٹھو تم بازار جانا ہے “
عجلت میں اریبہ کو کہتی وہ واش روم کی طرف بڑھ گٸ تھیں ۔ اور اریبہ دانت نکالتی اب شرارتی نظروں سے اس کی طرف دیکھ رہی تھی جو بے حال سی کھڑی ہاتھوں کی انگلیاں مڑوڑ رہی تھی ۔
********
” ویسے کل سے سٹاک کر رہی فیس بک پر میسم کو سن اچھا خاصا ہینڈسم چاکلیٹ بواۓ ہے مسٸلہ کیا ہے تمہیں “
ماہ رخ نے قریب ہو کر کہا جس پر تپ کر ادینہ نے اس کی طرف دیکھا ۔ وہ دونوں لان میں بیٹھی تھیں جہاں ادینہ اسے اپنی دکھ بھری داستان سنا رہی تھی گھر میں نکاح کی تیاری جوش و خروش سے جاری تھی ۔
” بکواس بند مجھے اس کی صورت اس کے کردار سے نہیں مسٸلہ مجھے بس اس کے ساتھ یہ رشتہ قبول نہیں ہے دل نہیں مان رہا ہے بھٸ بس “
ادینہ نے ماتھے پر بل ڈال کر غصے سے گھورا اور سر نیچے جھکا کر گھاس کو نوچا ۔
” چلو جی نکاح کو چند دن باقی ہیں وہ محترم بری طرح تمھارے عشق میں مبتلا ہیں اور تم ابھی بھی ایک ہی لکیر پیٹ رہی ہو “
ماہ رخ نے گہری سانس لی ۔ اور افسوس بھری نظروں سے ادینہ کی طرف دیکھا جو رو دینے کو تھی ۔
” کیا کروں کل پھر گٸ تھی میں اس کے پاس “
ادینہ نے لب کچلا ۔ ماہ رخ نے تجسس سے اس کی طرف دیکھا ۔
” پھر ؟“
ادینہ کو کندھے سے پکڑ کر سوال کیا ۔
” پھر کیا کوٸ بات ہی نہیں سنتا میری مزاق مزاق بس اور اب تو دیکھتا ایسے ہے کہ “
ادینہ نے لبوں کو باہر نکال کر روہانسی صورت بناٸ جس پر ماہ رخ کا قہقہ امڈ آیا ۔
” ہاۓ۔ے۔ے۔ے۔“
دل پر ہاتھ رکھ کر ماہ رخ نے آنکھ کے کونے کو دبایا ۔ اور شرارت سے اپنے سامنے بے بس سی بیٹھی ادینہ کی طرف دیکھا ۔
” تم بھی کم نہیں ہو میں پریشان ہوں یہاں اور تم ہو کہ مزے لے رہی قصے سن سن کر “
ادینہ نے جھنجلا کر دیکھا ۔ گھاس پر پھر سے تشدد کیا ۔
” سنو میری بات گہری سانس لو اور یہ دیکھو اس کی یہ والی پک اور سوچو اسے “
ماہ رخ نے موباٸل سکرین آگے بڑھاٸ ۔ جس میں وہ سیاہ شرٹ میں مسکرا رہا تھا ۔ لمبی پلکیں اور گہری کالی آنکھیں سانولی رنگت پر جچ رہی تھیں ۔
” کیا ہے اس میں زہر لگ رہا “
ادینہ نے ہاتھ سے موباٸل پیچھے کیا ۔ چہرے پر وہی بے زاری تھی ۔ ماہ رخ نے منہ کھول کر غصے سے دیکھا
” پاگل کہیں کی بچپن کی نفرت کو ایک طرف رکھو “
ماہ رخ نے پھر سے موباٸل آگے کیا ۔ اور پیار سے کہا ۔ ادینہ نے پھر سے سکرین پر نظر ڈالی ۔
” رکھ دیا “
ادینہ نے گہری سانس لے کر گود میں ہاتھ دھرے جبکہ نظریں سکرین پر تھیں جہاں میسم مسکرا رہا تھا ۔
” اب دیکھو اسے “
ماہ رخ نے آبرٶ نچاۓ ۔ لبوں کو دانتوں میں دبایا ۔
” ہمممممم کیسا محسوس ہوا “
ادینہ کے چہرے کا بغور جاٸزہ لیا ۔
” کچھ بھی نہیں “
ادینہ نے کندھے اچکاۓ ۔ لبوں کو بچوں کی طرح باہر نکالا
” دفعہ ہو پھر تم مجھے ایسا لگتا ہے مجھے ہو جاۓ گی اس سے محبت دیکھ دیکھ کر “
ماہ رخ نے اس کے کندھے کو دھکا دیا اور پھر سے میسم کی تصویر کو دیکھا ۔ جبکہ وہ اب اٹھ کر کھڑی ہو چکی تھی ۔
” کر لو تم میری طرف سے اجازت ہے “
ادینہ نے کپڑے جھاڑتے ہوۓ قدم آگے بڑھا دیے ۔
************
” چاکلیٹ “
میسم نے ہاتھ میں پکڑی چاکلیٹ اس کی آنکھوں کے آگے کی تھی۔ وہ جو گھٹنے پر تھورڈی اٹکاۓ اداس سی بیٹھی تھی چونک کر دیکھا ۔ وہ ہاتھ میں چاکلیٹ پکڑے آنکھوں میں محبت بھرے کھڑا مسکرا رہا تھا ۔
”نہیں چاہیے “
ادینہ نے بے زاری سے چہرے کا رخ موڑا ۔ نکاح کو دو دن باقی تھے عزرا نے یونیورسٹی جانا بند کر دیا تھا اسکا ۔
” دیکھو سب کے لیے لے کر آیا ہوں جلدی سے لے لو کوٸ آ نا جاۓ “
میسم نے سرگوشی کے انداز میں کان کے قریب ہو کر کہا جس پر وہ اور جھنجلا گٸ ۔
” مجھے یہ پسند نہیں ہے “
چاکلیٹ پر ایک نظر ڈال کر نخوت سے جواب دیا ۔ اور خفا سا چہرہ پھر موڑ لیا جس پر وہ دل و جان سے ڈھیر ہوا ۔ ہلکے سے شہد رنگ کے جوڑے میں اداس سی وہ اس کے دل میں اتر رہی تھی ۔
” جھوٹ یہ تمھاری فیورٹ ہے پتہ ہے مجھے “
میسم نے مسکرا کر چاکلیٹ کو آگے کیا پھر سے ۔ اس کے لاڈ اٹھانے میں سکون آتا تھا اب اسے ادینہ ہنوز سپاٹ چہرہ لیے بیٹھی تھی ۔
” صرف دو دن رہ گۓ ہیں اب تو چھوڑ دو یہ ضد “
گہری سانس لے کر سنجیدہ سے لہجے میں کہتا اب وہ اس کے قریب بیڈ پر بیٹھ چکا تھا۔
” اگر یہی میں تم سے کہوں “
ادینہ نے گھور کر گردن کا رخ موڑ کر اس کی طرف دیکھا ۔
” تم سے بہت محبت کرنے لگا ہوں اور ان سب سے بھی کرتا ہوں جو سب خوش ہیں “
میسم نے مدھم سے لہجے میں کہا لبوں پر نرم سی مسکراہٹ تھی۔
” تم خوش سب خوش لیکن میری خوشی “
ادینہ نے سنجیدگی سے ماتھے پر بل ڈال کر دیکھا ۔
” تم واقعی میں خوش نہیں ہو “
آہستہ سا دکھ بھرا لہجہ ۔ ادینہ نے چونک کر دیکھا وہ آج سے پہلے یوں سمجھدار سا نہیں لگا تھا ۔
” تم کیا چاہتی ہو بولو “
پیار سے پوچھا ۔ چاکلیٹ کو ایک طرف رکھ کر ادینہ پر نظریں گاڑیں ۔ ادینہ نے کوٸ جواب نہیں دیا ۔ وہ تو اس کے انداز میں الجھ گٸ
” شادی نہیں کرنا چاہتی مجھ سے “
اگلا سوال۔ اور وہاں ہنوز وہی خاموشی تھی ۔ اچانک سے میسم کا یہ نرم سا روپ یہ سنجیدہ سا رویہ عجیب سا لگا ۔
” نہیں “
ادینہ نے دو ٹوک انداز میں کہا ۔ جبکہ ذہن عجیب کشمکش کا شکار تھا ۔
” تو کوٸ سولیڈ ریزن دو کیونکہ ایسے تو اتنے سارے لوگوں کا دل نہیں دکھا سکتا نہ “
میسم نے گہری سانس لی ۔ مسکرا کر کہا ۔ میٹھی سی مدھم آواز تھی جس میں آج سے پہلے وہ اس سے مخاطب نہیں ہوا تھا ۔
” اور میرا جو دکھ رہا وہ “
ادینہ نے نظریں ایک لمحے کے لیے اس کی نظروں سے ملاٸیں ۔ اور پھر کچھ تھا ایسا اس لمحے میں کہ وہ ساکن سی ہو گٸ میسم کی آنکھوں میں ہلکی سی نمی تھی ۔ ادینہ کو ایسا لگا جیسے دل ڈوب گیا ہوا نیچے کو ۔
” تمھارے دل کے ہر ہر زخم پر مرہم رکھوں گا وعدہ ہے میرا تمھاری پریشانی نہیں ہے مجھے تمہیں سنبھال لوں گا “
نرم سی مسکراہٹ کے ساتھ بے خود سی آواز میں کہا ۔ ادینہ نے حیران سا ہو کر اس کے چہرے کی طرف دیکھا ۔کیا یہ اتنی محبت کرتا ہے مجھ سے اس کی آنکھوں میں موجود نمی ادینہ کے دل کو میٹھا سا سرور دینے لگی ۔
” بس تم کوٸ وجہ تو ایسی بتاٶ جو اتنی پاورفل ہو کہ میں “
خماری سےبھری آواز میں کہتا ابھی وہ فقرہ مکمل نہیں کر پایا تھا جب عقب سے ابھرتی آواز پر دونوں چونک گۓ ۔
” میسم بھاٸ “
ندا نے کمر پر ہاتھ دھر کر غصے سے دیکھا ۔ وہ اور اریبہ شرارت سے کھڑی مسکرا رہی تھیں ۔ ندا عابدہ کی بیٹی تھی۔ اور وہ اور اریبہ ان دونوں کی پوری نگرانی میں تھیں آجکل ۔
” نکلیں باہر نکلیں “
ندا نے آگے بڑھ کر میسم کو بازو سے پکڑ کر اٹھا دیا ۔ اریبہ بھی ہنس رہی تھی اب میسم بھی قہقہ لگا رہا تھا ادینہ ساکن سی بیٹھی بس میسم کے چہرے کو دیکھ رہی تھی ۔
” کیا ہے تم لوگوں کو “
وہ ہنستے ہوۓ اب ان کے دھکے کھا رہا تھا ۔ اور باہر کی طرف جا رہا تھا ۔ وہ پیارا لگ رہا تھا ۔
سوچ رہیں ہوں گے آپ لوگ کس کو پیارا لگ رہا تھا ۔
ارے بھٸ وہی جو سامنے تھوڑی دیر پہلے اداس سی صورت بناۓ بیٹھی تھی اس کو بابا اس کو پیارا لگ رہا تھا اس وقت
” شرم کر لیں تھوڑی سی وہ بھی “
ندا نے آنکھیں سکیڑ کر ہاتھ لی انگلیوں کو ملا کر شرارت سے کہا اریبہ اور ندا قہقے لگاتیں اسے باہر لے گٸ تھیں ۔ ادینہ نے آہستہ سے پاس پڑا موباٸل اٹھایا فیس بک کھولی اور پھر میسم کی وہی تصویر سکرین پر زوم کیے وہ دیکھ رہی تھی ۔ لیکن یہ کیا لب مسکرا رہے تھے ۔
” امی مجھے چٹکی کاٹیں ادینہ مسکرا رہی ہے اللہ یہ لڑکی مسکرا رہی ہے “
اریبہ نے حیرت سے آنکھیں پھیلا کر عزرا کی طرف دیکھا ۔ ادینہ نکاح کاجوڑا پہنے مسکرا رہی تھی ۔
جوڑا کچھ دیر پہلے ہی بوتیک سے آیا تھا جس کو ادینہ پہن کر چیک کر رہی تھی ۔ وہ آج اتنے دن بعد مسکراٸ تھی ۔ عزرا اور اریبہ سامنے پلنگ پر بیٹھی تھیں اور وہ اب سامنے سنگہار میز کے آٸینے میں خود کو دیکھ رہی تھی عزرا نے ایک خفگی بھری نظر اریبہ پر ڈالی اور پھر سرشار سی محبت بھری نظر ادینہ پر ڈالی جو نکاح کے خوبصورت جوڑے میں دمک رہی تھی ۔ اور اس کے گلابی گال اور دلکش مسکراہٹ اسے اور حسین بنا رہی تھی۔
اس کی یہ مسکراہٹ کل رات سے اس کے چہرے پر سجی تھی لیکن اریبہ اور عزرا نے اب دیکھی تھی۔
” ارے ہٹ شرارتی کہیں کی میری بیٹی خوش رہے یوں ہی ہمیشہ “
اریبہ کو ڈپٹنےکےانداز میں ایک چپت لگا کر گھورتی اب وہ اٹھ کر ادینہ کو اپنے ساتھ لگا چکی تھیں ۔ ادینہ ان کے گرد باہوں کا گھیرا مضبوط کیے بھر پور طریقے سے مسکرا دی ۔ ساری رات وہ میسم کو اور اس کی باتوں کو سوچتی رہی اور پھر وہ جیت گیا اور تاج پہن کر تخت پر براجمان ہوا
” میسم بہت اچھا ہے “
عزرا نے دھیرے سے کان میں سرگوشی کی تو وہ مسکرا دی ۔ عزرا نے نرمی سے اسے خود سے الگ کیا اپنی آنکھوں میں آٸ نمی کو انگلی کے پور سے صاف کیا ۔ ادینہ کے ماتھے پر بوسہ لیا ۔
” ایسے ہی مسکراتی رہو ہمیشہ “
ادینہ کے گال کو آہستہ سا تھپکا اریبہ بھاگ کر ان دونوں کے درمیان میں آ گٸ تھی اب تینوں نے پھر سے ایک دوسرے کو ساتھ لگا لیا
********
” سر ابرار کا مسیج تھا پہنچا دیا میں نے تمہیں آگے تمھاری مرضی “
فہد نے باٸیک سے اتر کر ہوا میں ہاتھ اٹھاۓ اور کندھے اچکاۓ ۔ مسیم نے خفگی بھری نظر ڈالی ۔ اور ایسے فہد کی طرف دیکھا جیسے اس کی ذہنی حالت پر شبہ ہو۔
” عجیب بات کر رہا یار میرا نکاح ہے اس دن اور شام تک سلیکشن “
میسم نے ہتھیلی کا اشارہ اس کی طرف کرتے ہوۓ سر کو ہوا میں مارا ۔
” تو یار نکاح کے فوراً بعد نکل جاٸیں گے تو کہہ کر نکاح جلدی کا رکھوا لے آج شام کا “
فہد نے جوش میں آ کر اسے مفید مشورے سے نوازہ
لاہور میں مشہور کرکٹر زبیر اکبر نے پاکستان لیگ کے لیے لاہور ٹیم میں تین نۓ لڑکے لینےکے لیے آڈیشن رکھا تھا ۔ سر ابرار میسم کو بچپن سے جانتے تھے انہیں جب اس آڈیشن کی خبر ہوٸ تو انہوں نے پہلے خود میسم سے رابطہ کیا پر جب میسم کی طرف سے کوٸ پیش رفت نہیں ہوٸ تو انہوں نے پھر سے فہد کے ہاتھ پیغام بھیجا کہ میسم کو یہ موقع ہر گز نہیں گنوانا چاہیے ۔
” اور ویسے بھی کہاں مانیں گے گھر والے جواد چاچو کے علاوہ ابا کا پتا ہے کتنی نفرت ہے انہیں کرکٹ سے “
میسم نے کمر پر ہاتھ دھر کر ماتھے پر بل ڈالے۔ وہ یہ پیش کش تین دن پہلے رد کر چکا تھا۔ جواد کے نقش قدم پر چلتے ہوۓ وہ بھی کرکٹ کو ایک شوق کی حد تک رکھنے پر گھٹنے ٹیک چکا تھا ۔
” مطلب تم یہ موقع گنوا رہے ہو “
فہد نے گہری سانس لی اور باٸیک کے ساتھ ٹیک لگاٸ ۔ افسوس بھری نظر میسم پر ڈالی ۔وہ ان چند لوگوں میں سے ایک تھا جو میسم کے اندر موجود ایک بہترین کھلاڑی کو دیکھ سکتے تھے۔
” کیا موقع بھٸ “
میسم نے طنزیہ مسکراہٹ کے ساتھ دیکھتے ہوۓ سر کو ہوا میں مارا اور سامنے موجود پلازے کو کھوجتی نظروں سے دیکھا ۔
” انڈر اسٹیمیٹ مت کر خود کو “
فہد نے گھور کر خفگی سے دیکھا ۔ میسم بےساختہ قہقہ لگا گیا ۔ جانتا تھا یہ خفگی اور غصہ فہد کی محبت ہے اس کے لیے ۔
” اچھا چل چھوڑ اب شاپنگ کروا دے گا میرے ساتھ یا نہیں اچھا دوست ہے تو دولہے کا “
میسم نے اس کے گرد بازو کا گھیرا تنگ کیا ۔ نکاح میں ایک دن رہ گیا تھا اور اس کی جوتے کی خریداری ابھی باقی تھی جس کے لیے وہ فہد کو ساتھ لایا تھا ۔
” ویسے بھی میں نے سوچ لیا ہے میں ڈاکٹر بنوں گا “
فہد کے ساتھ قدم سے قدم ملاتے ہوۓ بڑے سنجیدہ لہجے میں گویا ہوا ۔ جس پر چونک کر فہد نے اس کی طرف دیکھا
” آٸیں “
فہد کی آنکھیں حیرت سے ابل پڑی تھیں ۔ جس پر وہ بڑے عزم سے مسکرا دیا ۔
” آٸیں کیا ساٸیکاٹرسٹ بنوں گا پھر میں اور ادینہ کلینک بناٸیں گے “
لبوں کو منہ کے اندر کیے آبرو کو اوپر نیچے کرتا ہوا وہ تاٸیدی نظروں سے سامنے کھڑے فہد کی طرف دیکھ رہا تھا اور اس کے کندھے پر ہاتھ رکھا ۔ فہد اب ناک پھلاۓ آنکھیں سکیڑے گھور رہا تھا ۔ اور وہ مسلسل مسکراہٹ دبا رہا تھا جو فہد کی اس حالت کو دیکھ کر بے قابو ہو رہی تھی ۔
” ہاں تو اُدھر بیٹھ کر لوگوں کے چھکے چھڑاۓ گا بس کر دے بھاٸ “
فہد نے کندھا جھٹک کر میسم کے ہاتھ کو گرایا اور معافی کے انداز میں اس کے آگے ہاتھ جوڑے ۔
” ادینہ ادینہ ادینہ ارے او بھاٸ کوٸ بات نہیں ضروری نہیں ڈاکٹر بن گٸ لڑکی تو ڈاکٹر سے ہی ہو شادی “
فہد نے ساتھ ساتھ چلتے ہوۓ ماتھے پر شکن لا کر کہا ۔
” وہ تو یہی چاہتی ہے نہ “
میسم نے گہری سانس لے کر راہ میں پڑے پتھر کو تھوڑا سا اچھل کر پاٶں سے ایک طرف کیا وہ دونوں ہاتھ پینٹ کی جیبوں میں ڈالے ہوۓ تھا ۔
” او میرے بھاٸ وہ ڈاکٹر چاہتی ہے نارمل ڈاکٹر پاگلوں کا ڈاکٹر نہیں “
فہد نے قہقہ لگاتے ہوۓ ہاتھ کا اشارہ میسم کے چہرے کی طرف کیا ۔ جس پر میسم نے ساختہ اس کی گردن پر چپت لگاٸ ۔
” آج کل لوگ جسمانی سے زیادہ زہنی مریض ہیں بیوقوف ادینہ سے اچھا کماٶں گا میں “
میسم نے بڑی شان سے شرٹ کے کالر پکڑ کر آبرٶ چڑھاۓ ۔ وہ دوکان کا دروازہ کھول کر اندر داخل ہو چکے تھے ۔
**************
” میسم میسم بات سن “
جواد احمد کے جھنجوڑنے پر کسمسا کر وہ سیدھا ہوا ۔ وہ اس کے اوپر جھکے ہوۓ تھے ۔ میسم نے نیند سے بوجھل آنکھیں بمشکل کھولیں ۔
” جی چاچو “
انگڑاٸ لیتا ہوا وہ نیند سے بوجھل آواز میں کہتا ہوا تکیے کے سہارے تھوڑا سا اوپر ہوا ۔
” ادینہ کو یونیورسٹی سے لانا ہے اور مجھے کالج ڈراپ کر دے “
جواد احمد نے عجلت میں شرٹ کے کف بند کرتے ہوۓ کہا ۔ میسم نے فوراً گردن گھما کر گھڑی طرف دیکھا دوپہر کے دو بج رہے تھے ۔
” ادینہ یونیورسٹی گٸ ہے ؟ “
حیرت سے پوچھتا اب وہ کمبل کو خود پر سے اٹھاتا سلیپر کو پاٶں میں آڑا رہا تھا ۔ کل نکاح تھا اور عزرا نے تو چار دن سے اسے گھر بیٹھا رکھا تھا ۔
” ہاں پوچھ کر گٸ ہے ابا سے کوٸ ضروری کام تھا اس کو یونیورسٹی میں “
جواد نے اسے جلدی کرنے کا اشارہ کرتے ہوۓ مصروف سے انداز میں کہا ۔
” مجھے کام ہے کالج میں ضروری تو اسے لے کر گھر آ جانا “
وہ واش روم کی طرف ٹریوزر تبدیل کرنے کی غرض سے بڑھ رہا تھا جب اسے عقب سے جواد کی آواز سناٸ دی بنا دیکھے سر ہلاتا وہ واش روم میں گھس گیا تھا
***********
” واہ واہ میسنی آنکھوں میں نمی دیکھی اور بس ہو گٸ کلین بولڈ “
ماہ رخ نے ادینہ کے کندھے پر چپت لگاٸ ۔ ادینہ نے شرارت سے آنکھیں نکالیں ۔ اور مسکراتے ہوۓ قدم آگے بڑھاۓ ۔ یہ یونیورسٹی کی لمبی سی راہداری تھی جس کے ارد گرد کمرہ جماعت تھے۔ ماہ رخ نے بھی ادینہ کے ساتھ ساتھ قدم بڑھا دیے ۔ وہ آفس سے باہر کام نمٹانے کے بعد نکلی تو ماہ رخ کو اپنے اور میسم کے بارے میں بتا رہی تھی ۔ جس پر ماہ رخ حیرانگی اور خوشی کے ملے جلے اثرات میں اس کی طرف دیکھ رہی تھی۔
” نہیں اور بھی تھا کچھ “
ادینہ نے مسکراہٹ کو چھپاتے ہوۓ نچلے لب کو دانتوں میں دبایا جب کہ آنکھیں عجیب سی چمک لیے ہوۓ تھیں ۔ چہرہ ایک انوکھے سے احساس کے زیر اثر گلابی رنگت میں تبدیل ہو رہا تھا ۔
” اچھا جی۔ی۔ی۔ی۔ اور کیا “
ماہ رخ نے اس کے چہرے کا بغور جاٸزہ لیتے ہوۓ شرارت سے پوچھا ۔ ادینہ نے شرمانے کے سے انداز میں کانوں کے پیچھے بالوں کی آوارہ لٹ کو قابو کیا ۔
” اتنا میچور کبھی نہیں لگا تھا مجھے جتنا اس دن “
ادینہ مسکراتے ہوۓ کھوۓ کھوۓ سے انداز میں گویا ہوٸ آنکھوں کے آگے وہی منظر گھوم گیا جب اس نے میسم کی آنکھوں میں جھانکا تھا
” میں تو یہ سمجھ رہی تھی بس ایسے ہی لا پرواہ سا ہے اور مجھ سے محبت کا دعویٰ بھی بچپنا ہے اس کا پر اس کے الفاظ “
ادینہ نے چمکتی آنکھوں کے ساتھ مسکرا کر ماہ رخ کی طرف دیکھا ماہ رخ مسکراتے ہوۓ دلچسپی سے بھنوں کو جنبش دی جیسے اس سے اب صبر نہیں ہو رہا تھا ۔
” کہتا تمھارے دل کے ہر زخم پر مرہم رکھوں گا سنبھال لوں گا تمہیں “
ادینہ نے گلابی ہوتے گالوں کے ساتھ سرشار سے انداز میں کہا ۔ وہ اتنے دن بعد اتنی پرسکون ہوٸ تھی ۔ بے چین سی روح کو جیسے سکون آیا تھا ۔
” آۓ۔ے۔ے۔ے۔ ہاۓ کیا بات ہے “
ماہ رخ نے اپنےکندھے کو ادینہ کے کندھے سے ٹکرایا ۔ وہ کھلکھلا کر ہنس دی۔
” تو ہو ہی گٸ جی اچانک والی محبت کہتی تھی نہ میں “
ماہ رخ نے پر جوش انداز میں باہوں کا گھیرہ ادینہ کے گرد کیا ۔ جس نے کچھ پر سوچ سے انداز میں آنکھوں کو سکوڑ کر ماہ رخ کی طرف دیکھا ۔
” پتہ نہیں کیا ہے محبت ہے یا کچھ اور پر اچھا لگ رہا کل سے سب “
ادینہ نے پر سکون انداز میں سانس لیا ۔ سر کو جھکا کر راہداری کے فرش پر اٹھتے اپنے قدموں کی طرف دیکھا ۔
” چلو تھوڑا سا پیار ہوا ہے تھوڑا ہے باقی “
ماہ رخ نے لہک لہک کر گانا شروع کیا ۔ جس ہر بے ساختہ دونوں کا قہقہ گونجا ۔
” اچھا مجھے زیادہ دیر انتظار نہیں کرانا جلدی آ جانا کل ہاں “
ادینہ نے آنکھیں نکال کر خبرادر کرنے کے انداز سے ماہ رخ کی طرف دیکھا۔ جو پرجوش انداز میں زور زور سے اثبات میں سر ہلانے لگی تھی۔
” جی جی بلکل جناب وقت پر آٶں گی “
ماہ رخ نے سینے پر ہاتھ رکھ کر تھوڑا سا جھکتے ہوۓ کہا ۔ ادینہ کے چہرے پر سے مسکراہٹ ایک دم سے غاٸب ہوٸ ۔ نظریں حیرت سے سامنے گھٹنوں میں سر دیے نفوس پر تھیں ۔
” ایک منٹ “
ادینہ نے چلتے چلتے ایک دم سے ماہ رخ کا ہاتھ پکڑ کر اسے روکا۔ یہ لابریری کے قریب اوپری منزل کا زینہ تھا جو کچھ خاموش جگہ تھی یہاں طلبہ بہت کم دکھاٸ دیتے تھے ۔ وسیع زینے کے جنگلے کے قریب روشان حمدانی گھٹنوں میں سر دیے بیٹھا تھا۔ وہ آج بہت دن بعد یونیورسٹی میں نظر آیا تھا ۔
” یہ روشان حمدانی ہے “
ادینہ نے انگلی کا اشارہ لابریری کے قریب سیڑھیوں کی طرف کیا ۔ ماہ رخ نے انگلی کے اشارے کی طرف گردن گھماٸ ۔ اب اس کے چہرے پر بھی مسکراہٹ کی جگہ حیرت اور سنجیدگی نے لے لی تھی ۔ وہ روشان حمدانی ہی تھا۔
” ہاں وہی لگ رہا ہے رک اسے کیا ہوا “
ماہ رخ نے آگے قدم بڑھاۓ ادینہ بھی اس کے پیچھے چل دی تھی ۔ دونوں اب روشان کے بلکل سامنے کھڑی تھیں وہ گھٹنوں میں سر دیے ہنوز ان کی آمد سے بے خبر تھا ۔
” روشان ایوری تھنگ از اوکے “
ماہ رخ نے تھوڑا سا نیچے جھک کر نرم سے لہجے میں پوچھا روشان نے چونک کر سر اوپر اٹھایا ۔ چہرہ آنسوٶں سے تر تھا ۔ وہ شرمندہ سا ہو کر فوراً گالوں پر موجود آنسو صاف کرنے لگا ۔
” روشان آپ آپ رو کیوں رہے ہیں؟ “
ماہ رخ نے گھبرا کر پوچھا ۔ ادینہ بھی حیران سی اور پریشان سا چہرہ لیے اس کی طرف دیکھ رہی تھی روشان کا چہرہ اور آنکھیں بری طرح سوجی ہوٸ تھیں ۔
” نہ نہیں تو “
آنسوٶں میں بھیگی آواز میں روشان نے جلدی سے گال دوبارہ صاف کیے ۔ ادینہ اور ماہ رخ نے ایک دوسرے کی طرف دیکھا ۔
” روشان سب ٹھیک ہے آپ کچھ دن سے یونیورسٹی بھی نہیں آ رہے تھے “
ادینہ نے بھی پریشان سے لہجے میں نرمی سے پوچھا ۔ روشان کچھ دیر خاموش رہا اس کی نظر فرش پر ٹکی تھی ۔
” آٸ لوسٹ ماٸ مدر لاسٹ سنڈے “
روشان نے منہ کھول کر تکلیف سے سانس خارج کیا ۔ آنکھوں میں موجود آنسو جو وہ روکے ہوۓ تھا پھر سے بہنے لگے ۔
” اوہ إِنَّا لِلّهِ وَإِنَّـا إِلَيْهِ رَاجِعونَ”
ادینہ اور ماہ رخ نے یک لخت ایک ساتھ الفاظ ادا کیے ۔ روشان کے اندر کی تکلیف اس کی حالت سے واضح تھی مرد چاہے جتنا بھی مضبوط ہو ممتا ایک ایسی نعمت ہے جس کا چھن جانا اندر کاٹ دیتا ہے ۔
” روشان ہمت کریں پلیز “
ادینہ فاٸل کو گود میں رکھتی کچھ فاصلے پر اسی زینے پر بیٹھ چکی تھی ۔ جہاں روشان بیٹھا تھا ۔ دونوں جانتی تھیں روشان کا کوٸ دوست نہیں ہے۔ اور اس لمحے اسے دلاسہ دینا ان کا فرض تھا ۔ روشان کے آنسو لگاتار بہہ رہے تھے ۔
” ادینہ میں پانی لے کر آتی ہوں رکو “
ماہ رخ نے پریشان سے لہجے میں کہتے ہوۓ ایک نظر روشان پر ڈالی اور تیز تیز قدم راہداری کی طرف بڑھا دیے ۔ وہ تیز تیز قدم اٹھاتی کنٹین کی طرف جارہی تھی جب سامنے سے آتے میسم پر نظر پڑی ۔ ماہ رخ مسکراتی ہوٸ میسم کی طرف بڑھی
” ہے میسم آپ میسم مراد ہو ادینہ کے کزن؟ “
ماہ رخ نے انگلی کا اشارہ کر کے روکا تھا ۔ میسم حیران سا رکا اور پھر مسکرا کر اثبات میں سر ہلایا ۔ گو کہ وہ ادینہ کی بیسٹ فرینڈ تھی لیکن دونوں کا ایک دوسرے کے گھر آنا جانا اتنا زیادہ نہیں تھا جس کے باعث میسم کی اور اس کی باقاعدہ ملاقات کبھی نہیں ہوٸ تھی ۔
” میں ماہ رخ ادینہ کی دوست “
ماہ رخ نے پر جوش انداز میں مسکراتے ہوۓ کہا ۔میسم جو حیران سا رکا تھا اور ذہن پر زور دے رہا تھا کہ اس نے کہاں دیکھا ہے اسے ایک دم سے لب بھینچ کر دھیرے سے مسکرا دیا ۔
” اسلام علیکم ادینہ کہاں ہے؟ “
میسم نے سلام کے بعد ارد گرد نظر دوڑاتے ہوۓ پوچھا ۔ وہ اسے لینے کے لیے تو آ گیا تھا عجلت میں پر یہاں آ کر یاد آیا کہ وہ اپنا فون گھر بھول آیا ہے اب باہر بیٹھ کر انتظار کرنے کے بجاۓ وہ یونیورسٹی کے اندر آ چکا تھا ۔
” وہ سامنے لاٸبریری کے پاس آپ چلیں میں آتی ہوں “
ماہ رخ نے ہاتھ کے اشارے سے اسے راستہ بتایا اور خود مسکراتی ہوٸ کنٹین کی طرف بڑھ گٸ ۔ میسم نے مسکراہٹ کے جواب میں مسکرا کر دیکھا اور قدم اسی طرف بڑھا دیے جس طرف ماہ رخ نے اشارہ کیا تھا ۔ وہ پینٹ کی جیب میں ہاتھ ڈالے راہداری سے گزرتا ہوا تھوڑا سا آگے ہی آیا تھا جب اس کے قدم ایک طرف کے منظر نے جکڑ لیے ۔ باٸیں طرف زینے پر موجود لڑکا بری طرح رو رہا تھا اور ادینہ اس کے کندھے پر ہاتھ رکھے بیٹھی تھی چہرے پر کرب تھا تکلیف تھی ۔
قدم تو جیسے زمین میں پیوست ہو گۓ تھے۔ دل میں عجیب سی گھٹن کا احساس بڑھنے لگا تھا ۔
(” کوٸ سولیڈ ریزن تو دو “
” بس مجھے تم سے شادی نہیں کرنی ہے “
” اور میرا جو دکھ رہا وہ “ )
مختلف فقروں کی بازگشت ذہن کی دیواروں سے ٹکرانے لگی تھی ۔

 

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: