Maqsoom Novel by Huma Waqas – Episode 8

0
مقسوم از ہما وقاص – قسط نمبر 8

–**–**–

قدم پیچھے پلٹنے لگے تھے ۔ دھیرے دھیر ے رخ پلٹا نہیں تھا پر قدم پیچھے جانے لگے تھے ۔ پینٹ کی جیبوں سے ہاتھ باہر نکل رہے تھے ۔
” اور میری خوشی “ ادینہ کے الفاظ کی بازگشت ذہن کی دیواروں پر ہتھوڑے چلا رہی تھی ۔ وہ جو لڑکا اس کے سامنے بیٹھا اس کی محبت میں آنسو بہا رہا تھا اس سے لاکھ درجے بہتر تھا ۔
دل میں ٹیس اٹھی ۔ آہ ۔۔۔
ایک چبھن سی مرچیں جیسے آنکھوں میں ڈال دے کوٸ آنکھیں جل گٸ تھیں۔ میٹھیاں بھینچ لی تھیں کہ شاٸد اس سے دل کی تکلیف کم ہو گی ۔
سفید رنگت بھرا جسم براٶن بال اور ڈاکٹر لبوں کو بھینچے وہ تزلیل سے لرزتے وجود کو لیے یونیورسٹی کے مین گیٹ کی طرف بڑھ رہا تھا ۔ آنکھوں کے آگے وہ منظر منجمند ہو گیا تھا ادینہ کا سفید ہاتھ اس لڑکے کندھے پر تھا ۔
” چھوڑو میرا ہاتھ میسم اور انکار کرو “
آنکھوں کے آگے ادینہ اس سے بے زاری سے ہاتھ چھڑاتی گھوم گٸ ۔ بس پھر قدم رکے نہیں تھے رکے تو گاڑی کے قریب جا کر ۔
” روشان پانی پٸیں پلیز “
ماہ رخ نے روشان کی طرف پانی کی باٹل بڑھاٸ ۔ روشان نے بھیگی پلکیں اوپر اٹھاٸیں اور پانی کی باٹل پکڑی ۔
” ادینہ میسم آیا ہے باہر لینے تمہیں “
ادینہ کی طرف دیکھتے ہوۓ ماہ رخ نے ارد گرد میسم کی تلاش میں نظریں دوڑاٸ ۔ ادینہ نے تاٸید کے لیے مسکرا کر ماہ رخ کی طرف دیکھا جس پر اس نے جوش سے سر ہلایا ۔
” اچھا!!!! اوہ چلیں میں چلتی ہوں “
خوشگوار سی حیرت چہرے پر سجاۓ وہ اٹھی تھی ۔ اب اس کی جگہ ماہ رخ بیٹھ چکی تھی اور ادینہ مسکراتی ہوٸ باہر کی طرف بڑھ گٸ ۔ ارد گرد گردن گھماتی میسم کو تلاش کرتی وہ بیرونی گیٹ تک پہنچ گٸ تھی اور جناب واقعی سامنے کار کی پشت سے ٹیک لگاۓ سر جھکاۓ کھڑے تھے ۔
جو لوگ سمندر میں بھی رہ کر رہے پیاسے
اک ابر کا ٹکڑا انہیں کیا دے گا دلاسے
مانا کہ ضروری ہے نگہبانی خودی کی
بڑھ جائے نہ انسان مگر اپنی قبا سے
برسوں کی مسافت میں وہ طے ہو نہیں سکتے
جو فاصلے ہوتے ہیں نگاہوں میں ذرا سے
تو خون کا طالب تھا تری پیاس بجھی ہے؟
میں پاتا رہا نشوونما آب و ہوا سے
مجھ کو تو مرے اپنے ہی دل سے ہے شکایت
دنیا سے گلہ کوئی نہ شکوہ ہے خدا سے
ڈر ہے کہ مجھے آپ بھی گمراہ کریں گے
آتے ہیں نظر آپ بھی کچھ راہنما سے
دم بھر میں وہ زمیں بوس ہو جاتی ہے
تعمیر نکل جاتی ہے جو اپنی بِنا سے
میسم مراد تو یہ ہے وہ سولیڈ ریزن جس کو بتانے کے لیے وہ جھجکتی رہی وہ کسی اور سے محبت کرتی ہے اور وہ کوٸ اور اس سے اتنی محبت کرتا ہے کہ اس کے سامنے آنسو بہا رہا تھا ۔ اور اس کی آنکھ سے گرنے والے ہر آنسو کی تکلیف ادینہ شیراز کے چہرے پر موجود کرب سے جھلک رہی تھی ۔
” چلیں “
میسم کے کانوں سے مدھم سی بازگشت ٹکراٸ چونک کر دیکھا تو وہ ظالم چہرے پر زبردستی کی مسکراہٹ سجاۓ اپنے اندر کے کرب کو چھپاۓ کھڑی تھی ۔
میسم نے خاموشی سے گہری سانس اندر کھینچی اور سر ہلاتا اب وہ گاڑی کا دروازہ کھول رہا تھا اور وہ گھوم کر گاڑی کے دوسرے دروازے تک آ چکی تھی ۔
دروازہ کھول کر سٹیرنگ کو مضبوطی سے پکڑے سیٹ کے پشت سے سر ٹکاۓ وہ ضبط کے عالم میں تھا جب وہ برابر کی سیٹ پر بیٹھی ۔
خاموش کیوں ہے اتنا ادینہ نے گردن کو ہلکا سا خم دے کر چور سی نظر ڈالی جو انتہا کی سنجیدہ شکل بناۓ اب گاڑی سٹارٹ کر رہا تھا ۔
اس کے اس سنجیدہ سے انداز کو لے کر دل میں گدگدی سی ہوٸ ۔ تو کل میرے ساتھ بیٹھا یہ شخص میری زندگی کا ایک اہم رکن ہو گا ۔ ایسا رکن جس سے روح وجود دل ہر چیز کا رشتہ ہو گا ۔ ادینہ نے ایک چور نظر پھر سے ڈالی
گاڑی کو چلاتا سنجیدہ سی شکل بناۓ وہ اسے آج اتنا مختلف کیوں لگ رہا تھا اس کے ماتھے پر آۓ تھوڑے سے بال اس کی آنکھوں پر جھکی لمبی پلکیں بڑھی ہوٸ شیو سانولی رنگت ۔ بھرے سے خوبصورت تراش کے لب ان کے کونوں کے قریب اور گالوں کے ہلکے سے گڑھے ۔ سٹیرنگ پر جمے مضبوط ہاتھ تھوڑے کف فولڈ کیے ہوۓ بازو ان پر موجود بال گردن سے ابھرتی چھوٹی سی گلٹی ۔ تیکھا سا ناک ۔
کیا ہوا گیا ہے مجھے ادینہ نے گہری سانس لیتے ہوۓ دل کو سرزنش کیا ۔ فورا اس پر سے نظریں ہٹاٸیں آج سے پہلے یوں کبھی نہیں دیکھا تھا میسم کو ۔ اور آج جب دیکھا تو دل چاہ دیکھتی رہے۔
” میسم “
مدھر سی آواز کی بازگشت نے گاڑی میں موجود دونوں نفوس کے درمیان کی خاموشی کو توڑا ۔ میسم جو خیالات کے لاوے میں جلتا ہوا بہہ رہا تھا چونک کر دیکھا ۔ وہ سر جھکاۓ اپنے ہاتھوں پر نظریں ٹکاۓ بیٹھی تھی ۔ بالوں کی آوارہ لٹیں چہرے کے اطراف کو ڈھکے ہوۓ تھیں ۔
تو میسم مراد آ گٸ وہ گھڑی کر لو خود لو مضبوط وہ آج تمہیں بتا دے گی کہ وہ کیا ریزن ہے جیت گیا وہ خوبصورت کامیاب ڈاکٹر اور ہار گۓ تم تم بے کار کم شکل شخص میسم کے دل میں عجیب سی چبھن ہوٸ ۔
” ہممم بولو “
گلے میں کوٸ گولا سا اٹک رہا تھا جسے نگلتے ہوۓ اس نے بمشکل مختصر لفظ ادا کیے ۔ گلے کی گلٹی نے اوپر نیچے سفر طے کیا ضبط کے احساس کو بچاری ہی تو قابو کیے ہوۓ تھی دل تو عنقریب جیسے پھٹنے کو تھا ۔
” میسم میں نکاح کے لیے راضی ہوں “
ادینہ نے دھڑکتے دل کے ساتھ مسکراہٹ دبا کر کہا ۔ دل اس تیزی سے دھڑکا تھا کہ گردن سر کا بوجھ نہیں اٹھا پا رہی تھی ۔ اب وہ بے تابی سے میسم کی طرف سے کوٸ جواب سننے کی منتظر تھی ۔
اس کی الفاظ پر چونکا اوہ ادینہ کیوں دے رہی ہو یہ قربانی میسم نے سٹیرنگ پر گرفت اور مضبوط کی گاڑی کی رفتار ایک جھٹکے سے بڑھی ۔
افف اتنی خوشی ادینہ نے ڈیش بورڈ سے ہاتھ ٹکا کر خود کو سنبھالہ میسم کے گاڑی کی رفتار بڑھا دینے پر بے ساختہ ادینہ نے ایک ہاتھ اپنے منہ پر رکھا جبکہ دوسرا ہاتھ ابھی بھی ڈیش بورڈ کو تھامے ہوۓ تھا ۔ شرم سے چہرہ گلابی ہو رہا تھا جسے وہ اپنے ہاتھوں سے ڈھک چکی تھی ۔ میسم کے گاڑی کی رفتار بڑھا دینے پر ادینہ کو اس دن اس کے باٸیک کی رفتار بڑھا دینے کا واقع یاد آیا ۔ لب بے ساختہ اس دن کی قربت پر مسکرا دیے ۔
افف اس دن کس طرح قریب تھی میں ۔ شرم سے پانی پانی ہو گٸ ۔
تمہیں ضرورت نہیں ادینہ بلکل نہیں اپنی محبت قربان کرنے کی ضرورت نہیں میں میں توڑ دوں گا سب کے دل میں دے دوں گا سب کو دکھ میں بن جاٶں گا سب کی نظروں میں برا پر تمہیں وہ شخص ضرور ملے گا تم اس سے سچی محبت کرتی ہو میں کیوں زبردستی کا رشتہ قاٸم کروں میں میسم مراد بے شک تم سے بے انتہا محبت کرتا ہوں اتنی محبت کے ان تین سالوں میں تمھارے لیے سب بھول گیا لیکن میں خود غرض نہیں ہر گز نہیں ۔
گاڑی کے تیزی سے گھومتے پہیوں کے ساتھ ساتھ اس کے دماغ میں سوچیں گھوم رہی تھیں ۔ ایک نظر ادینہ پر ڈالی تو وہ دونوں ہاتھوں سے چہرہ ڈھکے رو رہی تھی ۔
افف زور سے گاڑی کی پشت پر سر دے مارا ۔ کیوں دے رہا ہوں اسے اتنا دکھ میں ۔
گاڑی ایک چرچراہٹ سے رکی تھی ۔ ادینہ تیزی سے گاڑی سے نیچے اتری تھی اور تیز تیز قدم اٹھاتی گھر کے بیرونی گیٹ سے اندر چل دی ۔
دل کی دھڑکنوں کی یہ بے ترتیبی سنبھالے نہیں سنبھل رہی تھی ۔ بھاگتی ہوٸ مسکراہٹ دباتی وہ گھر میں داخل ہوٸ ۔ ایک سکون تھا آج بے شک نانا ابو کا فیصلہ غلط نہیں تھا ۔ لب کے کونے کو دانتوں میں دباۓ مسکراتی اوپر کے زینے چڑھ رہی تھی ۔ افف کتنی پاگل تھی میں ہنستے ہوۓ لبوں کو باہر نکال کر اپنے ہی سر پر چپت لگا ڈالی ۔
*******
” میسم میسم لاہور آ گیا ہے “
فہد نے کندھا ہلایا تو وہ چونک کر سیدھا ہوا ۔ گردن گھما کر ارد گرد دیکھا کب سے آنکھیں موندے بیٹھا تھا اب آنکھیں کچھ چندھیا سی رہی تھیں گہری سانس لی ہونٹ بے تحاشہ خشک ہو رہے تھے ۔ اور آنکھیں جل رہی تھیں ۔ رات کے بارہ بج رہے تھے سب لوگوں نے بتیاں جلا دی تھیں اور سامان سمیٹ رہے تھے ۔ لاہور ٹرین کا آخری سٹیشن تھا اس لیے لوگ تسلی سے آنکھیں ملتے جماٸیاں لیتے ٹرین سے اتر رہے تھے۔
” ہاں چل “
میسم نے لبوں کو بھینچ کر سانس اندر کھینچی اٹھ کر چھوٹے سے بیگ کو کندھے پر ڈالا ۔ فہد اس کے چہرے کو بغور دیکھ رہا تھا ۔
” جانا کہاں ہے پہلے یہاں ہے کوٸ جاننے والا رات کیسے گزارنی ہے آڈیشن تو گزر چکا اب صبح دیکھیں گے کیا کرنا ہے “
فہد نے کمر پر ہاتھ دھر کر سڑک کے داٸیں اور باٸیں ٹریفک پر نظر دوڑاٸیں سٹیشن سے باہر نکل کر وہ اب سڑک پر کھڑے تھے ۔ سڑک گزرتی ٹریفک کی جلتی بتیوں سے روشن تھی ۔
” نہیں ایسا کوٸ خاص نہیں دور کے رشتہ دار جن کی طرف جا نہیں سکتا اور ایک دوست کا کزن پڑھتا یہاں پر ابھی موباٸل بند ہی رکھنا ہے “
میسم نے آبرٶ پر انگلی پھیرتے ہوۓ اداسی سے کہا ۔ پھر گردن گھما کر فہد کی طرف دیکھا جو اب پر سوچ انداز میں لب کچل رہا تھا ۔
” تمھارا ہے کوٸ جاننے والا “
لبوں کو منہ کے اندر لے جا کر ماتھے پر شکن نمودار کرتے ہوۓ پوچھا مسٸلہ اب سارا رات کا تھا چار ہزار میں کھانا پینا رہاٸش آنے جانے کے کراۓ ۔
” ہیں پر سیم پرابلم چل کوٸ نہیں کرتے ہیں کچھ انتظام پہلے کچھ کھا لیتے ہیں “
فہد نے پھیکی سی مسکراہٹ کے ساتھ اس کی پیٹھ پر ہاتھ رکھا۔ اگر میں بھی اسی کی طرح پریشان ہوتا رہوں گا تو یہ ہمت ہارے گا ۔ فہد نے دل میں سوچ کر لبوں پر مسکراہٹ کو اور بڑھایا
” کسی سستی جگہ پر چلنا ہے کل صبح کو اکیڈمی پہنچنا ہے “
میسم نے نظریں چراتے ہوۓ گہری سانس باہر خارج کی ۔ اور مریل سے قدم فہد کے ساتھ ملاۓ ۔ جو اب شاٸد سواری کی تلاش میں ارد گرد نظریں دوڑا رہا تھا۔
” ہممم چل پھر فوڈ سٹریٹ “
فہد نے پرسوچ انداز میں کہا۔ اور کچھ دور کھڑے رکشے کو ہاتھ کا اشارہ دیا ۔
************
” بس یہی دیکھنے کو زندہ تھا میں “
احمد میاں نے مراد کے ہاتھ کو پھر سے اپنے ہاتھ سے دور کرتے ہوۓ نقاہت سے لرزتی آواز میں دکھ سے کہا ۔ مراد نے گہری سانس لی اور میڈیسن کی ٹرے ایک طرف بیڈ کے ساٸیڈ میز پر رکھی ۔ نظریں اٹھا کر سامنے بیٹھے جواد اور عابدہ کی طرف دیکھا سب کے چہرے ایک جیسے ہی اترے ہوۓ تھے ایک جیسا ہی تو دکھ تھا سب کا ۔
” ابا جی آپ طبیعت خراب کر لیں گے اپنی “
مراد نے پھر سے احمد میاں کی طرف دیکھتے ہوۓ کہا جو سر نیچے گراۓ اپنی عمر سے کہیں زیادہ ضعیف لگ رہے تھے ۔ پتہ نہیں کیا سوچے جا رہے تھے دوپہر سے سر جھکاۓ مراد کچھ دیر ان کو ایسے ہی دیکھتے رہے پھر اٹھ کر گھٹنے پر ہاتھ رکھتے کھڑے ہوۓ ۔
ایسے جیسے ہمت جواب دے گٸ ہو۔ قدم کمرے کے بیرونی دروازے کی طرف بڑھاۓ پھر رک کر کرسی پر بیٹھے جواد احمد کے کندھے پر ہاتھ رکھا ۔
” جواد میڈیسن نہیں لے رہے ہیں تم اور عابدہ زبردستی کرو مجھ میں ہمت نہیں ہے “
تھکے سے لہجے میں کہتے ہوۓ باہر نکلے برآمدہ اندھیرے میں ڈوبا ہوا تھا کسی نے آج بتیاں ہی نہیں روشن کی تھیں برآمدے کی بتیاں جلاتے مریل قدموں سے اپنے کمرے کی طرف بڑھے جہاں موجود دو نفوس اسی اداسی کا شکار تھے جس میں گھر کا ہر فرد مبتلا تھا ۔
” رابعہ رابعہ خدا کا واسطہ ہے اب بس کر دو رونا بیمار پڑ جاٶ گی کیسے سنبھالو گا میں “
مراد احمد نے بے زار سے لہجے میں کہتے ہوۓ سامنے بیٹھی رابعہ کی طرف دیکھا جو مسلسل سامنے پڑے کھانے سے بے نیاز روۓ جا رہی تھی ۔ آنکھیں اور لب سوج رہے تھے ناک سرخ ہو رہی تھی ۔ عزرا بار بار اپنے آنسو پونچھتی اس کے کندھے پر ہاتھ رکھ رہی تھی ۔
” آپ پتہ کریں اس کا جاٸیں لے کر آٸیں اسے “
رابعہ نے بھاری سی آواز میں کہتے ہوۓ بازو لمبا کیا اور خفگی بھری نظر مراد پر ڈالی جو اب غصے سے گھور رہے تھے ۔
” چھوٹا دودھ پیتا بچہ نہیں ہے وہ جاٸیں لے کر آٸیں اسے بیغیرت نے فون صبح سے بند کر رکھا ہے مجھے کیا پتہ کہاں ہے “
مراد احمد پھٹ ہی تو پڑے تھے ۔ چہرہ سرخ ہو رہا تھا ۔ ضبط سے لب بھینچے ہوۓ تھے ۔ ناک نتھنے پھول رہے تھے
” سارا کیا دھرا اس فہد کا ہے وہ بھی ساتھ ہے “
عزرا نے خفگی سے دانت پیسے ۔ ماتھے پر بل پڑ گۓ تھے ۔
” بس کرو عزرا دوسروں کو کیا الزام دیں جب اپنا ہی خون سفید ہو “
مراد نے ہاتھ کو سیدھا کرتے ہوۓ عزرا پر غصیلی نظر ڈالی اور پھر باہر نکل گۓ قدم ڈراٸنگ روم کی طرف تھے ۔
*******
” ادینہ دروزا کھولو پلیز اب “
اریبہ کی باہر سے آتی آواز پر اس نے گھٹنوں میں دیا سر اوپر اٹھایا ۔

 

وہ صبح سے کمرے میں خود کو بند کیے ہوۓ تھی۔ زیور اتار چکی تھی کپڑے تبدیل کر چکی تھی ہر چیز مٹا دی منہ بھی رگڑ رگڑ کر دھو ڈالا تھا پھر بھی سب کچھ ٹھیک نہیں ہو رہا تھا ۔ ایک پھانس سی تھی ایک خلش بے یقینی حیرانی صبح سے اب تک آنسو تو نہیں نکلا تھا بس ماتھے پر شکن ڈالے وہ حیران سی بیٹھی تھی۔ آخر وہ کیوں گیا کل جب اس نے کار میں اظہار کیا وہ خوش تھا بار بار اسی لمحے کو یاد کر کر کے دماغ شل ہونے لگا تھا ۔
اور اب رات کے بارہ بجے اریبہ نے دروازہ بجایا تھا ۔
” ادینہ تم تو پریشان مت کرو “
اریبہ مسلسل دروازہ بجا رہی تھی ۔ اس کی آواز اس کی ادینہ کے لیے پریشانی ظاہر کر رہی تھی ۔ادینہ دھیرے سے بال سمیٹتی اٹھی اور پھر دروازے کی کنڈی کھولتی فوراً واپس پلٹی اریبہ اور ادینہ تیزی سے کمرے میں داخل ہوٸ تھیں ۔ اریبہ کے ہاتھ میں ٹرے تھی ۔ دونوں کھوجتی سی نظروں سے ادینہ کو دیکھ رہی تھیں گھر میں ہر شخص کا چہرہ اترا ہوا تھا ۔
” کچھ کھا لو “
اریبہ نے ٹرے بیڈ ساٸیڈ ٹیبل پر رکھی اور پلٹی ۔ ندا خاموش پریشان سا چہرہ لیے لب کچلتی ادینہ کو دیکھ رہی تھی۔ادینہ نے نظریں چراٸیں ۔ اور زبردستی خود کو نارمل ظاہر کیا ۔
” نہیں بھوک نہیں “
گھٹی سی آواز تھی ۔ وہ بیڈ کی چادر پر دھیرے سے ہاتھ پھیر رہی تھی ایسے جیسے سب نارمل ہے اریبہ اب اس کے پاس بیڈ پر بیٹھ چکی تھی ۔
” ادینہ تم سے کوٸ بات ہوٸ تھی اس ۔۔۔“
اریبہ نے ابھی بات مکمل نہیں کی تھی جب وہ غصے سے کھڑی ہوٸ ۔ ماتھے کے شکن بڑھ گۓ تھے۔ وہ برسوں کی تھکی لگ رہی تھی۔
” نہیں نہیں ہوٸ “
چڑ چڑے سے انداز میں جواب دیتی اب سینے پر ہاتھ باندھ چکی تھی اریبہ نے بیڈ پر پڑے اس کے فون کو اٹھایا ۔
” فون بند ہے اس کا رہنے دو “
ادینہ نے سپاٹ چہرے کے ساتھ گھورتے ہوۓ کہا ۔ وہ صبح سے ہزار بار اس کا فون ٹراٸ کر چکی تھی ۔ دل کر رہا تھا بس وہ ایک دفعہ فون اٹھاۓ اور وہ پھٹ پڑے اس پر گالیوں کی بوچھاڑ کر دے
” تم ٹھیک ہو “
ادینہ نے کھڑے ہو کر محبت سے اس کے کندھے پر ہاتھ رکھا ۔ اور ادینہ کی تھورڈی کے نیچے ہاتھ رکھ کر نرمی سے اس کے چہرے کا رخ اپنی طرف موڑا ۔
” کیا ہے تم لوگوں کو ٹھیک ہوں میں کچھ نہیں ہوا مجھے “
ادینہ نے کندھے کو جھٹکا اور ماتھے پر بل ڈالے ۔ چہرے پر ناگواری بے زاری تھکاوٹ تھی ۔
” مجھے سونا ہے تم اور ندا جاٶ یہاں سے پلیز “
ادینہ نے بیڈ کی چادر درست کرتے ہوۓ خود کو مصروف ظاہر کیا ۔ وہ دونوں ایک دوسرے کو دیکھتیں کمرے کے دروازے کی طرف بڑھیں ۔
” رکو اریبہ ٹرے لے جاٶ یہ پلیز “
سپاٹ لہجے میں کہتے ہوۓ ٹرے کی طرف اشارہ کیا ۔ اور ان کے جاتے ہی دھماکے سے دروازہ بند کرتی وہ بیڈ پر ڈھے گٸ تھی۔ گرم سا سیال تھا جو گال کو بھگوتا ہوا تکیہ بھگو رہا تھا ۔ ادینہ نے حیران ہو کر گال پر ہاتھ رکھا وہ رو رہی تھی ۔
************
”میسم یار وہ “
فہد نے فون کان سے نیچے کرتے ہوۓ شرمندہ سے انداز میں لب کو کچلا ۔مطلب وہ جہاں فون کر رہا تھا وہاں ان کے سونے کا انتظام نہیں ہو سکا تھا ۔ کھانا کھانے پر پانچ سو لگ چکا تھا ۔ اور فوڈ سٹریٹ تک دو سو کرایہ مطلب سات سو لگ چکا تھا اور ابھی لاہور آۓ ان کو چند گھنٹے ہی گزرے تھے ۔
” چھوڑ بات سن “
میسم نے اس کے کندھے پر ہاتھ رکھ کر کہا ۔ اور لبوں کو بھینچ کر سامنے فٹ پاتھ کی طرف اشارہ کیا جہاں قطار میں بہت سے آدمی بے سدھ سو رہے تھے ۔چادر سروس تک تانے دنیا مافیا سے بے خبر
” رات ہی گزرانی ہے تو “
میسم نے قدم فٹ پاتھ کی طرف بڑھا دیے ۔ فہد کا منہ کھلے کا کھلا رہ گیا تھا ۔
” کیا ادھر ادھر فٹ پاتھ پر دماغ ٹھیک ہے تمھارا “
فہد تیزی سے اس کی طرف لپکا چہرے پر حیرانگی اور حقارت تھی ۔ جبکہ وہ پرسکون انداز میں اب جگہ تلاش کر رہا تھا ۔
” اتنےلوگ سو رہے ہیں دیکھ ویسے بھی دو بج رہے ہیں وقت ہی کتنا باقی اب ایسے بیگ سر کے نیچے رکھ کر “
میسم اب فٹ پاتھ پر بیٹھ کر بیگ کو سر کی طرف نیچے یوں سیٹ کر رہا تھا جیسے وہ تکیہ ہو ۔
” بیٹا کہاں سے ہو “
ساتھ لیٹے شخص نے سر سے چادر اتاری میسم نے گڑ بڑا کر دیکھا اس شخص کا انداز ہی ایسا تھا اچانک سے چادر اتار کر ان سے سوال کر رہا تھا وہ پچاس سال کے لگ بھگ شخص تھا سر اور داڑھی کے بہت سے بال سفیدی لیے ہوۓ تھے ۔ وہ چہرے سے کوٸ بھنگی یا نشے کر کے لیٹا ہوا شخص ہر گز نہیں لگ رہا تھا ۔
” خیر پور سے جی “
میسم نے بیگ کے اپر سر کو ٹکاتے ہوۓ مسکرا کر جواب دیا ۔ اس بوڑھے شخص کا حلیہ اس کی شرافت کا گواہ تھا ۔ میسم نے ایک نظر فہد کی طرف دیکھا جو منہ پھلاۓ اب اس کے ساتھ بیگ رکھ رہا تھا ۔
” بڑی دور سے آۓ ہو “
بابا جی نے محبت بھرے لہجے میں کہا اور اٹھ کر بیٹھ گۓ ۔ اکتوبر کی بیس تاریخ تھی ۔ جب وہ خیر پور سے چلے تھے تو اندازہ ہی نہیں تھا پنجاب میں رات اتنی ٹھنڈی ہو سکتی ہے ۔
” جی “
میسم نے مختصر جواب دیا ۔ اور بازو پر ہاتھ کو مسلا اس سے گرمی کا احساس تھوڑا بڑھ گیا تھا ۔ اوپر سے فٹ پاتھ کر فرش بھی ٹھنڈا تھا۔
” اچھے گھر کے لگتے ہو دونوں کیسے آنا ہوا اور وہ بھی یہاں “
بابا جی کے لہجے میں حیرت اور تجسس تھا ۔ میسم کے بازو کو رگڑتے ہاتھ رک گۓ تھے ۔ فہد اپنے بیگ سے ایک اور شرٹ نکال کر پہن رہا تھا ۔
” کرکٹ کھیلنے بابا جی “
فہد نے شرٹ میں بازو ڈالتے ہوۓ میسم کے جواب دینے سے پہلے جواب دیا ۔ اور پھر بیگ پر سر رکھ کر چت لیٹ گیا ۔
” واہ “
بوڑھا شخص بے ساختہ ہنس دیا اس کے کندھے دھیرے دھیرھ ہل رہے تھے ۔ میسم اور فہد بھی مسکرا دیے ۔
” بہت اچھی کھیلتا ہے بابا جی دعا کریں چانس لگ جاۓ لاہور ٹیم کے لیے “
فہد نے کہنی کے بل ہاتھ پر سر ٹکا کر اوپر ہوتے ہوۓ دلچسپی سے کہا ۔ بوڑھا شخص بھرپور طریقے سے مسکرا دیا ۔
” دعاٸیں ہیں بیٹا تمھارے لیے “
مسکرا کر کہتا ہوا اب وہ گھٹنوں پر ہاتھ رکھے اٹھا تھا
” رکو چادر لو گے دونوں سردی ہے “
وہ مصروف سے انداز میں کہتے ہوۓ پاس کھڑے رکشے کی طرف بڑھا اور سر اندر ڈال کر تھوڑی دیر بعد دو چیک دار موٹی چادروں کے ساتھ باہر نکلا ۔
” یہ لو موٹی ہے اوڑھ لو اور یہ بورے نیچے بچھا لو گرمی ملے گی “
ایک چادر میسم کو دے کر دوسری چادر انہوں نے فہد کی طرف اچھالی ۔ اور اپنے نیچے بچھے پتلے سے گدے کے نیچے سے بوریاں نکال کر اب ان دونوں کی طرف بڑھاٸیں ۔ فہد کی تو باچھیں کھل گٸ تھیں ۔
”شکریہ بابا جی بہت احسان ہے یہ آپکا “
خنکی واقعی بڑھ رہی تھی جس میں نمی بھی شامل تھی۔ دونوں اب بوریوں کو بچھا رہے تھے ۔
” ارے بیٹا کیسا احسان رکشہ چلاتا ہوں گھر اب بیٹوں کا اور ان کے بچوں کا ہے جگہ نہیں ہوتی میرے لیے وہاں سارا دن رکشہ چلاتا ہوں اور شام کو یہیں سو جاتا ہوں “
میسم نے نظر اٹھا کر رکشے کی طرف دیکھا خستہ حال سا اور پھر سامنے بیٹھے ادھیڑ عمر شخص کی طرف دیکھا جو اب پھر سے لیٹ رہا تھا ۔
میسم نے چادر کو اپنے گرد لپیٹا تھکاوٹ اتنی ہو چکی تھی کہ چادر خود پر تانتے ہی کب نیند نے اپنی آغوش میں لیا خبر نہیں ہوٸ ۔
***************
” تمہیں پتا ہے مجھے تو اب اس سے نفرت بھی نہیں ہو رہی “
ادینہ نے گال رگڑ کر سامنے بیٹھی ماہ رخ کی طرف دیکھا ۔ اس کا ناک اور گال سرخ ہو رہے تھے ۔ ماہ رخ صبح صبح ہی گھر آ گٸ تھی اور اب ادینہ کے سامنے بیڈ پر بیٹھی تھی کل جب وہ پہنچی تو گھر میں سب اتنے پریشان تھے کہ وہ چپ چاپ ادینہ سے ملے بنا واپس چلی گٸ تھی۔ ماہ رخ کو دیکھتے ہی جیسے ادینہ کے صبر کا پیمانہ لبریز ہو چکا تھا وہ بری طرح رو دی تھی ۔
” کیا کر گیا میرے ساتھ وہ اتنی نفرت تھی کیا اس کو مجھ سے “
پھر سے گال کو رگڑا آواز بھاری ہو رہی تھی ۔ ماہ رخ بلکل خاموش تھی ۔ پر چہرے پر ادینہ کی تکلیف کا احساس موجود تھا ۔
” اس کو اتنا کہتی رہی میں تین سال سے جاٶ انکار کر دو کر دو انکار تم نہیں کرتے مجھ سے محبت پر وہ تو “
وہ رکی تھی ۔ ماتھے پر ناگوار سے بل پڑے ۔ ماہ رخ نے لب بھینچ کر اس کے ہاتھ پر ہاتھ رکھا ۔
” وہ تو کھیل رہا تھا ایک گیم ایک گندا گیم “
ادینہ کا ناک پھول رہا تھا چہرہ سرخ ہو رہا تھا ۔ پھر وہ کچھ دیر خاموش رہی سر جھکاۓ پھر سر اوپر اٹھایا ۔
” کل میں نے اس سے اپنی محبت کا اظہار بھی کر ڈالا “
آواز مدھم سی تھی ۔ پر دکھ بھری تھی ۔ ماہ رخ نے حیرت سے دیکھا ۔
” میں نے کہا اسے ماہ رخ میں نے کہا اسے میں نکاح کے لیے راضی ہوں وہ اس وقت بھی خوش ہوا “
ادینہ بچوں کی طرح بار بار ایک ہی فقرہ دہراتے ہوۓ بتا رہی تھی ۔ ماہ رخ کے چہرے پر بھی الجھن بڑھ گٸ ۔
” پھر کیا وجہ بنی کیا ہوا کیوں کیا اس نے ایسا مجھے سکون نہیں مل رہا مجھے “
ادینہ نے بچوں کی طرح بازو جھٹکے اور پھر گھٹنوں کو سمیٹ کر ان پر چہرہ رکھ لیا ۔ ماہ رخ نے اب ہاتھ محبت سے اس کے گھٹنے پر رکھ دیا ۔
” ادینہ سنبھالو خود کو دیکھو کچھ دن پہلے تک تو تم بھی نہیں چاہتی تھی نہ اس سے شادی تو یہی سوچو تمھاری وہ خواہش پوری ہوٸ “
ماہ رخ نے نرم سے لہجے میں دلاسہ دیا ۔ ادینہ نے عجیب سی نظروں سے دیکھتے ہوۓ گھٹنوں پر سے چہرے کو اٹھایا ۔
” ماہ رخ یہ تم کہہ رہی ہو جو اچانک ہو جانے والی محبت پر یقین رکھتی ہو “
چہرے پر حیرت تھی عجیب سی ۔ ماہ رخ نے گہری سانس لی ۔
” تمہیں پتہ ہے صرف ان دو راتوں میں میں نے اسے کتنا سوچا اتنا سوچا کہ اس کے ساتھ اپنی ساری زندگی سوچ ڈالی “
ادینہ کی آنکھوں میں پھر سے آنسو امڈ آۓ۔
”پلیز ادینہ سنبھالو خود کو دیکھو کوٸ محبت نہیں ہوٸ تمہیں اس سے سمجھی تم تمہیں سنبھلنا ہے سنا تم نے “
ماہ رخ نے اسے کندھوں سے پکڑ کر جھنجوڑ ڈالا ۔
” ماہ رخ میرے دل نے پہلی دفعہ کسی لڑکے کے بارے محسوس کیا تھا اور شدت سے کیا “
ادینہ نے سپاٹ سے لہجے میں غیر مرٸ نقطے پر نظر جماتے ہوۓ کہا ۔ ماہ رخ چپ ہو گٸ ۔ اور پھر آگے ہو کر جھٹکے سے اسے ادینہ کے بے جان سے وجود کو اپنے ساتھ لگا لیا جیسے ہی اس کی پشت پر ہاتھ رکھا ادینہ پھوٹ پھوٹ کر رو دی ۔
” آج رو لو جتنا رونا ہے بس نکال دو غبار شاباش “
ماہ رخ دھیرے دھیرے اس کی کمر کو اپنی ہتھیلی سے سہلا رہی تھی ۔

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: