Maqsoom Novel by Huma Waqas – Episode 9

0
مقسوم از ہما وقاص – قسط نمبر 9

–**–**–

” لو چاۓ پیو دونوں پہلے “
ادھیڑ عمر شخص چاۓ کے دو کپ تھامے پاس آیا ۔ وہ دونوں فٹ پاتھ کے قریب ہی بنے چاۓ کے ڈھابے میں بیٹھے تھے۔ ابھی دونوں ناشتے سے فارغ ہوۓ تھے جب رات والا ادھیڑ عمر شخص چاۓ کے دو کپ ٹرے میں سجاۓ ان کے قریب آیا وہی نرم سی مسکراہٹ چہرے پر سجاۓ ۔ آنکھوں میں شفقت لیے
” ارے آپ “
میسم نے فوراً آگے بڑھ کر ان کے ہاتھ سے ٹرے کو پکڑا۔ وہ ان کے پاس پڑی کرسی کو کھینچ کر اب دونوں کے ساتھ بیٹھ چکا تھا تشکر بھری نظروں سے دونوں نے باری باری سامنے بیٹھے شخص کو دیکھا اور گرم گرم چاۓ کے کپ کو اٹھایا ۔
اکتوبر کی ہلکی سی خنکی لیے اس صبح میں بھاپ اُڑاتے چاۓ کے کپوں کا یوں مل جانا غنیمت تھا ۔ چاۓ ختم کرنے کے بعد میسم نے پیسے دینے کی غرض سے جیب میں ہاتھ ڈالا تو سامنے بیٹھے شخص نے ہاتھ سے میسم کے بازو کو پکڑ کر روک دیا ۔
” کچھ نہیں بیٹا یوں سمجھو کہ میرے مہمان ہو تم دونوں “
بوڑھے شخص نے مسکرا کر میسم کی طرف دیکھا ۔میسم نے تشکر آمیز نظر ڈالی یقیناً وہ ان کے یوں فٹ پاتھ پر رات بسر کرنے پر سمجھ چکا تھا کہ دونوں کے پاس پیسوں کی قلت ہے ۔
فہد کے امیر رشتہ داروں نے گھر میں رکھنے سے انکار کر دیا تھا لیکن ایک بےگھر رکشہ چلانے والے نے ان کی ایسی مہمان نوازی کی دونوں متاثر ہوۓ بنا نہیں رہ سکے سچ کہتے ہیں مہمان نوازی کے لیے دل کے بڑے پن کی ضرورت ہوتی ہے دل میں جگہ ہو تو گھروں میں خود بخود بن جایا کرتی ہے ۔
” اور ایک دن جب تم بہت بڑے کرکٹر بن جاٶ گے تو پھر مجھے خوشی ہو گی یہ میرا مہمان تھا “
وہ ہلکے سے قہقہ لگاتا ہوا بولا ۔ میسم اور فہد بے ساختہ اس کی بات پر مسکرا دیے ۔ فہد نے میسم کی بلے بازی کی اتنی تعریف کی کہ سامنے بیٹھا شخص پر یقین ہو گیا کہ ایک دن وہ قومی ٹیم کا بہترین کرکٹر ہو گا ۔
” ان شا اللہ اور میرا وعدہ ہے میں ملنے آٶں گا آپ سے “
مسیم نے لب بھینچ کر مسکراتے ہوۓ اس کی طرف دیکھا جس پر وہ پھر سے قہقہ لگا گیا ۔ اور گہری سانس لے کر میسم کی طرف دیکھتے ہوۓ دھیرے سے سر ہلایا
” بڑا مشکل وعدہ کر رہے ہو بیٹا شہرت کا نشہ بہت عجیب ہوتا ہے “
میسم کے کندھے پر ہاتھ رکھ کر محبت سے گہری بات کہہ گیا تھا وہ شخص ۔ میسم نے کندھے پر رکھے اس کے ہاتھ کو اپنے ہاتھ میں تھاما
” آپ بس دعا کرتے رہیں نیشنل کرکٹ اکیڈمی چلیں گے کیا “
مایسم نے گہری سانس لیتے ہوۓ اس شخص کے رکشے کی طرف دیکھا۔ جس پر وہ جوش سے سر ہلا گیا ۔ پھر اچانک انگشت انگلی اپنے سر کے پاس کرتے ہوۓ رکا ۔
” ایک شرط پر “
بوڑھے شخص نے پر سوچ انداز میں ایک آبرٶ چڑھایا ۔ وہ دونوں کندھوں پر اپنے بیگ لٹکا رہے تھے ۔
” جی بولیں “
میسم نے مسکراہٹ کا تبادلہ کیا۔ اب وہ شخص آگے جا رہا تھا اور میسم اور فہد اس کے پیچھے چلتے ہوۓ رکشے تک پہنچے۔
” کرایہ نہیں لوں گا میں تم جب کرکٹر بن جاٶ تو آ کر ایسے ہی ایک چاۓ کا کپ پلا دینا “
بوڑھے نے گردن کو تھوڑا ساخم دیا اور پھر رکشہ سٹارٹ کیا ۔
” منظور ہے “
فہد اور میسم نے مسکرا کر ایک دوسرے کی طرف دیکھا ۔ رکشے میں بیٹھے اور رکشہ نیشنل کرکٹ اکیڈمی کی طرف رواں دواں تھا ۔
کچھ دیر میں ہی رکشہ نیشنل کرکٹ اکیڈمی لاہور کے سامنے کھڑا تھا میسم عمارت پر نظریں جماۓ سر باہر نکلاتا ہوا رکشے سے اترا ۔ ایک گہری سانس لی اور آسمان کی طرف دیکھا ۔ پنجاب کرکٹ بورڈ نے پاکستان سپر لیگ میں لاہور قلندر کی ٹیم کے لیے ایک اور ملتان کی ٹیم کے لیے دو نۓ کھلاڑی سلیکٹ کرنے تھے جس کے لیے آج آڈیشن کا دوسرا دن تھا ۔
اور وہ اسی آڈیشن میں اپنی قسمت آزمانے آیا تھا کل ٹرین میں بیٹھتے ہی انہوں نے سر ابرار کو بتا دیا تھا کہ وہ پہلے آڈیشن کے وقت تک لاہور نہیں پہنچ پاٸیں گے انہوں نے اپنے اثرو روسوخ کے ذریعے میسم کا نام لسٹ میں داخل کروا دیا تھا گو کہ وہ اب ملتان ہوتے تھے لیکن پنجاب کرکٹ بورڈ میں موجود ایک کوچ کے ساتھ ان کی گہری سلام دعا تھی ۔
” آپکا نام تو پوچھا ہی نہیں “
میسم عمارت کو گھور رہا تھا جب عقب سے فہد کی آواز سناٸ دی جو اس ادھیڑ عمر شخص سے اس کا نام پوچھ رہا تھا ۔ اچانک اسے بھی عجیب سا لگا کہ وہ کل سے اس کے ساتھ تھے اور دونوں انھیں بس بابا جی کہہ کر مخاطب کرتے رہے نام پوچھنا دونوں کو یاد نہیں رہا تھا ۔
” عبدالطیف “
عبدالطیف نے مسکرا کر محبت سے میسم کی طرف دیکھتے ہوۓ اپنا نام بتایا میسم بے اختیار آگے بڑھا اور ان سے بغل گیر ہو گیا ۔
” بابا جی وعدہ ہے آپ سے اگر قومی ٹیم میں سلیکٹ ہوا تو ملنے آٶں گا ایک دن “
میسم نے الگ ہو کر جزب کے عالم لب بھنچتے آنکھوں میں سامنے کھڑے شخص کے لیے بے پناہ عزت تھی عبدالطیف نے سر کو اثبات میں جنبش دی اور مسکرا دیا ۔
” چاۓ کا کپ پلانے “
ہلکا سا قہقہ لگا کر وہ پھر سے رکشے کی طرف مڑا ۔
” جی جی بلکل چاۓ کا کپ اچھا چلتے ہیں بہت بہت شکریہ “
میسم نے ہاتھ کو سر تک لے جا کر شکریہ ادا کیا اور دونوں نے اکیڈمی کی طرف قدم بڑھا دیے ۔
لمبی داخلی راہداری سے آگے آ کر مختلف سبز گھاس میں ڈھکے میدان تھے جن میں سے سرخ اینٹوں کی راہداری گزر کر سامنے بڑی سی سرخ اینٹوں کی بنی عمارت تھی ۔ جس پر بڑے سے ستارے پر پاکستان اور نیچے کرکٹ بورڈ سنہری حروف میں ابھرا ہوا تھا جیسے ہی وہ بیرونی دروازے سے اندر داخل ہوۓ تو وہاں کی گہما گہمی آڈیشن کا پتہ دے رہی تھی ۔ میدان راہداریاں لڑکوں سے بھری پڑی تھیں ایسا لگ رہا تھا ان تین نۓ کرکٹ کھلاڑی کی سلیکشن کے لیے پورا پاکستان امڈ آیا ہو ۔
وہ جو رکشے سے اترنے تک بہت پر امید تھا یہاں اتنے لوگوں کو دیکھ کر اپنا اعتماد کھو گیا ۔ بچارگی سے فہد کی طرف دیکھ کر گردن نفی میں ہلا دی ۔ فہد نے زور سے کندھے پر تھپکی دی اور لب بھینچ کر مسکراتے ہوۓ گردن کو اثبات میں جنش دی ۔
سب سے پہلے انہیں مین بورڈ پر لگی لسٹ میں سے اپنا نام اور آڈیشن نمبر دیکھنا تھا بورڈ پر سلیکشن کے تمام اصول و ضوابط بھی تحریر تھے ۔
ہر فرنچااٸز جو پاکستان لیگ کی مختلف ٹیمز کو سپانسر کر رہی تھیں ہر ایک کو ٹوٹل پانچ سو ایک کھلاڑیوں میں سے سولہ کھلاڑی اٹھانے تھے ۔ جن میں صرف پاکستان کے کھلاڑی شامل نہیں تھے بلکہ انٹرنیشنل کھلاڑی بھی تھی ۔ جن کو مختلف اقسام میں تقسیم کیا گیا تھا ۔ گولڈ سلور پلاٹنیم ایمرجنگ اور سپلیمنٹری ۔
اب لاہور قلندر ٹیم میں ایک اور ملتان ٹیم کے لیے دو سپلمنٹری نیو کھلاڑی کی سلیکشن تھی جس کے لیے تین خوش قسمت مختلف اصولوں پر پورے اترتے ہوۓ منتخب کیے جانے تھے ۔
جن میں عمر، اوسط، سٹراٸیک ریٹ، اور آل رونڈر جیسے کچھ کٹگیری پر پورا اترتے ہوۓ کھلاڑی کو منتخب کیا جانا تھا ۔ میسم کا نام لسٹ میں موجود تھا ۔ اس سارے عرصے میں پہلی دفعہ میسم کے لبوں پر بھرپور مسکراہٹ ابھری ۔ ساتھ کھڑا فہد بھی چہک اٹھا اور اچھل کر میسم کو گلے لگایا ۔
اپنے کاغزات جمع کروانے کے بعد وہ ھال میں پہنچ چکے تھے جہاں باری باری تمام کھلاڑیوں کو ٹیسٹ کیا جانا تھا ۔ پانچ گھنٹے کے انتظار کے بعد میسم کی باری آٸ تھی ۔
اپنی کرسی سے اٹھتے ہی ایک لمحے کے لیے تو میسم کی ٹانگوں میں ہلکی سی لرزش آٸ ۔ لیکن اگلے ہی لمحے وہ گہری سانس خارج کرتا اپنے اندر کا تمام خوف باہر نکال چکا تھا ۔
فٹنس ٹیسٹ پاس کر نے کے بعد اسے ایک کٹ دی گٸ جس میں موجود تمام چیزیں زیب تن کرنے کے بعد اسے ایک میدان میں بلا پکڑا کر بھیج دیا گیا ابرار نے اس کے فارم میں بلے باز کے آپشن پر درستگی کا نشان لگایا تھا۔
پنجاب کرکٹ بورڈ چیرمین عادل عزیز بہت سے سنیٸر اور راٸٹایرڈ کھلاڑی بیٹھے ہوۓ تھے ۔ جن میں پاکستان سپر لیگ کے ملتان اور لاہور کے چنے ہوۓ کپتان بھی شامل تھے ۔
دھڑکتے دل کے ساتھ گہری گہری سانس لیتا ہیلمٹ کو سر پر درست کرتا ہاتھوں کے دستانوں کو کھینچ کر اوپر کرتا اب وہ وکٹوں کےبلکل سامنے بلے کو زمین پر رکھ کر پوزیشن لے چکا تھا ۔
اسے صرف تین گیند کھیلنے تھے جس میں اس کے اوسط سٹراٸیک ریٹ کو گنا جانا تھا ۔ سامنے گیند بازی کے لیے کوٸ غیر ملکی کھلاڑی موجود تھا جو گیند کو اپنی ٹانگ پر رکھ دھیرے دھیرے اوپر نیچے جنبش دے رہا تھا ۔ اس لمحے وقت سست رفتار سا ہو گیا اس کے کانوں میں ساٸرن جیسی آواز گونجی تھی ۔
میسم نے دھیرے سے آنکھیں بند کی ادینہ ہنس رہی تھی آبشار کی آواز جیسا پرنم قہقہ اس کے دانت موتیوں کی لڑی جیسے مراد احمد ماتھے پر بل ڈالے کھڑے تھے سرخ چہرہ لیے احمد میاں نے دھیرے سے بوڑھی آنکھیں پھیر لیں رابعہ نے خفگی سے دوپٹہ منہ پر رکھا اور آخری دیکھنے والا چہرہ جواد احمد انھوں نے انگوٹھے کا نشان بنایا میسم کے ناک کے نتھنے سے ہلکی سی ہوا نکلی لبوں نے بے اختیار ﷽ پڑھا اور بلے پر ہاتھوں کی گرفت مضبوط ہوٸ ۔
گیند باز اب دوڑتا ہوا اس کی طرف آ رہا تھا ۔ ماتھے پر پسینے کے نمودار ہونے کا احساس ہوا گیند باز کا ہاتھ گھوم رہا تھا پر میسم کی نظر اس کی انگلیوں کی جنبش پر تھی جن میں وہ گیند کو تھامے ہوۓ تھا اگلے ہی لمحے گیند گیند باز کے ہاتھ سے نکل کر گولی کی سی رفتار سے اس کی طرف آ رہی تھی ۔
میسم نے آنکھوں کو سکوڑ کر گھومتی گیند کو دیکھا گیند کے پاس پہنچنے تک وہ بلے کو درست پوزیشن پر لا کر بلا گھما چکا تھا ۔ ٹھک کی آواز تھی مطلب گیند بلے سے ٹکرا چکی تھی میسم کا گھومتا جسم رکا بازو بلے سمیت نیچے کی طرف آۓ نظریں گیند پر جمی تھیں سارے کیمرے گیند کی طرف گھوم گۓ تھے گیند اڑتی ہوٸ گیند باز کے سر کو پھلانگتی باٶنڈری لاٸن سے آگے جا کر گری تھی ۔
سلیکشن ٹیم کی گردنیں ایک دوسرے کی طرف مڑنے لگی تھیں ۔میسم نے گہری سانس لی اور آسمان کی طرف دیکھا ۔وقت اور قسمت اس کا ساتھ دے چکی تھی ۔
**********
یونیورسٹی کیوں نہیں جا رہی تم “
احمد میاں نے غور سے نظریں جھکاۓ بیٹھی ادینہ کی طرف دیکھا جو بیڈ کے اطراف میں لگی لکڑی کی کرسی پر خاموش بیٹھی اپنے ہاتھوں کو گھور رہی تھی ۔آج تیسرا دن تھا میسم کو گۓ وہ یونیورسٹی نہیں جا رہی تھی سارا دن کمرے میں لیٹی رہتی تھی۔ عزرا آج اس کی ساری حالت احمد میاں سے بیان کر گٸ تھیں جس پر انہوں نے ادینہ کو اکیلے میں اپنے کمرے میں بلا لیا تھا ۔
” نانا ابو طبیعت کچھ ٹھیک نہیں تھی “
دونوں ہاتھوں کو انگلیوں کو ایک دوسرے میں پیوست کرتے وہ نظریں چرا کر گویا ہوٸ۔ احمد میاں نے تھوڑا سا اوپر اٹھتے ہوۓ اس کے جھکے سر کو دیکھا ۔
” ہممم میرے پاس آٶ ادھر “
اپنے بستر پر اپنے سامنے جگہ پر ہاتھ مارتے ہوۓ وہ نرمی سے اسے دیکھ رہے تھے ۔ ادینہ سر پر دوپٹہ درست کرتی ربوٹ کی طرح چل کر اب ان کے بلکل سامنے بیٹھی چکی تھی ۔ سفید رنگ کے جوڑے میں گلابی چہرہ تین دن میں ہی زردی ماٸل ہو چلا تھا پلکوں کے بلکل پیچھے پپوٹے سوجے ہوۓ سرخ ہو رہے تھے ہر دم پنکھڑی کی نمی لیے لبوں پر پپڑی کی تہہ صاف واضح تھی ادینہ کی نظریں اب سفید چادر پر جمی تھیں ۔
” وہ بیغیرت تمھارے لاٸق نہیں تھا “
نقاہت سے کانپتی آواز کانوں میں پڑی اور بوڑھے ہاتھ کی نرماہٹ سر پر محسوس ہوٸ ادینہ نے جلتی آنکھیں بند کیں ایک سکون سا ان کے ہاتھ کے لمس سے سر میں سراٸیت کر رہا تھا۔ وہ سرخ گلاب کی پتیوں سے لدی چھت کے بیچ میں کھڑا مسکرا رہا تھا سفید قمیض شلوار پہنے آنکھوں میں بے پناہ محبت سموۓ گہری دل میں اترتی نظروں سے دیکھتا ہوا دل میں پھر سے ٹیس اٹھی ادینہ نے نم آنکھیں کھولیں جلتی آنکھیں اب ٹھنڈی سی ہو گٸ تھیں کونوں میں پانی آ جانے کا احساس تھا ۔
” میں شرمندہ ہوں تم سے “
کانپتی سی مدھم آواز پھر سے کانوں کے پردوں سے ٹکراٸ ادینہ نے تڑپ کر سر اوپر اٹھایا احمد میاں کی آواز ہی نہیں سر لب ہاتھ سب کچھ لرز رہا تھا دھیرے دھیرے ۔ باٸ پاس کے بعد سے وہ کپکپاہٹ کا شکار ہو چکے تھے ۔
” نانا ابو آ پ کیوں ہو رہے ہیں شرمندہ ایسا مت کہیں پلیز “
جلدی سے سر پر رکھے ان کے ہاتھ کو اٹھا کر اپنی دونوں ہتھیلوں کے درمیان میں دبایا ۔ بوڑھے سے جھری دار ہاتھوں کی جلد ہڈیوں کو چھوڑے ہوۓ تھی ۔
” سوچا تھا تم نے میرا خواب پورا کیا ہے اور یہیں تمہیں اپنے پاس رکھوں گا ہمیشہ اپنی نظروں کے سامنے “
احمد میاں کی بوڑھی جھری دار آنکھوں میں نمی جھلکنے لگی تھی ۔ عینک کے پیچھے سے آنکھیں سفیدی میں سرخ دھاریں واضح کر رہی تھیں ۔ جن کے اوپر نمی چمک رہی تھی
” نانا ابو میں آپ کے پاس ہی ہوں اس کے لیے آپ کو میسم کو ذریع بنانے کی ضرورت بلکل نہیں “
ادینہ نے جھک کر ان کے ہاتھ پر بوسہ دیا اور اپنے گال سے لگا لیا ۔ جبکہ وہ لبوں کو باہر نکالے بچوں کی طرح روہانسی شکل بنا کردیکھ رہے تھے ۔
” میں بلکل ٹھیک ہوں آپ سب نے رشتہ کیا ہوا تھا میں مان گٸ تھی اب وہ توڑ گیا ہے تو اس میں میرا اور آپ کا کیا قصور “
ادینہ نے ان کے گال پر بہتے آنسو اپنی انگلی کی پوروں سے صاف کیے ۔ وہ پلکوں کو جھپکاتے آنسوٶں کو ضبط کر گۓ
” شاباش ایسے ہی بہادر رہنا ہے اور آخری سال ہے میری بیٹی کا یونیورسٹی جاٶ کل سے “
اب وہ اپنے ہاتھوں سے بھی اپنے گال صاف کر رہے تھے جبکہ ادینہ لب بھینچے زبردستی کی مسکراہٹ چہرے پر سجاۓ زور زور سے بچوں کی طرح اثبات میں سر ہلا رہی تھی ۔
” جی نانا ابو“
مدھم سی آواز میں کہتی وہ احمد میاں کے سینے پر سر رکھ چکی تھی ۔ اونی سویٹر سے ان کے گرم سینے کی بھاپ نے جیسے گال جلا دیا ۔وہ ادینہ کے سر پر ہاتھ پھیر رہے تھے اور سامنے لگی کرسی پر بیٹھے میسم نے دھیرے سے آنکھ کا کونا دبایا ۔
ادینہ نے زور سے آنکھیں بند کیں پر منظر غاٸب نہ ہوا وہ ظالم اب مسکراہٹ دبا رہا تھا ۔۔۔
************
نیشنل کرکٹ اکیڈمی کی سرخ اینٹوں والی عمارت کے اندر داخلی دروازے سے ہو کر ریسپیشن کی ایک طرف سبز رنگ کے وسیع نوٹس بورڈ کے گرد جھمگٹا ڈالے بہت سے لڑکوں کے سروں میں سے ایک سر ماتھے پر بال بکھیرے میسم کا سر تھا نچلا لب دانتوں میں دبا تھا اور لمبی پلکوں سے ڈھکی آنکھیں اپنے حجم سے زیادہ بڑی ہورہی تھیں بار بار کندھے کو دھکا ملنے پر وہ پیچھے کو ہوتا اور پھر خود کو اس دھکم پیل میں آگے کرتا پر نظریں ہنوز سامنے سفید رنگ کی کمپوٹراٸز لسٹ پر جمی تھیں ۔
پچاس کھلاڑی چنے گۓ تھے جن کا اب آخری ایک مقابلہ ہونا تھا ۔ اکیڈمی کی گراٶنڈ میں ہی ساری رات بسر کرنے کے بعد اب وہ صبح دس بجے لگنے والی لسٹ کے آگے کھڑے تھے ۔ میسم کی نظریں تیزی سے لسٹ پر موجود ناموں پر سے گزر رہی تھیں اور لب آہستہ آہستہ نام دھرا رہے تھے ۔ آج تین دن بعد لسٹ لگی تھی
ارسلان اسلم
احمد شکور
امجد بٹ
مہب سلمان
شہزاد وحید
افففف کوٸ تیسری دفعہ وہ آنکھیں پھاڑے لسٹ پر لمباٸ کے رخ ٹاٸپ کیے ہوۓ نام دیکھ رہا تھا ۔ سر پھٹنے کو تھا ۔ کل رات سے کچھ نہیں کھایا تھا خشک لبوں پر بے چینی سے انگلی پھیری ۔ دل کی ڈب ڈب کی آواز کے شور نے کانوں کی لو تک گرم کر رکھی تھی ۔
” رک میں دیکھتا ہوں پیچھے ہو “
فہد نے میسم کے کندھے پر ہاتھ رکھ کر اسے پیچھے کیا۔ وہ جو کافی دیر سے میسم کے پیچھے کھڑا تھا تھوڑی دور ہونے کی وجہ سے لسٹ پر موجود نام پڑھ نہیں پا رہا تھا میسم نے مایوسی سے گردن کو جھکایا ۔
” مجھے لگتا نہیں ہے نام “
دھیرے سے فہد کے کان میں سرگوشی کی آواز ایسے تھی جیسے کسی کنویں سے برآمد ہوٸ ہو ۔
” پیچھے تو ہو نہ یار ایسے ہی نہیں ہے یہ کیا بات ہوٸ تین کی تین بال باٶنڈری سے باہر گٸ تھیں “
فہد نے آگے ہو کر اسے تھوڑا پیچھے کیا اور اب وہ خود بلکل اسی پوزیشن میں کھڑا لسٹ پر نظریں دوڑا رہا تھا جس میں تھوڑی دیر پہلے میسم تھا ۔
” دیکھ چکا ہوں تین دفعہ“
میسم کی گھٹی سی آواز پھر سے فہد کے کانوں سے ٹکراٸ تھی ۔ وہ بری طرح مایوس ہو چکا تھا سر چکرانے لگا تھا ایسا لگ رہا تھا ابھی قے آ جاۓ گی کچھ دیر کے بعد فہد نے بھی گردن مایوسی سے موڑی تھی ۔ چہرہ زرد ہو رہا تھا اور اب وہ میسم سے نظریں چرا رہا تھا ۔
” نہیں ہے “
گہری دکھ بھری آہ بھرتے ہوۓ وہ پیچھے ہوا میسم اب بھیڑ میں سے نکل کر ایک طرف کھڑا تھا ۔ کمر پر ہاتھے دھرے اس مسافر کی طرح جس کی آخری ٹرین بھی چھوٹ گٸ ہو اور اس کے بعد کوٸ ٹرین نہ آنی ہو ۔
” یہ کیسی نا انصافی ہوٸ یار “
فہد نے ماتھے پر بل ڈال کر دانتوں کو پیسا ۔
پاس پڑے بینچ پر خود کو سنبھالتے ہوۓ وہ گرنے کے سے انداز میں بیٹھا ۔ چہرے کو دونوں ہاتھوں سے ڈھانپ کر سر کو نیچے جھکا دیا ۔ پاس کھڑے فہد نے دھیرے سے کندھے پر ہاتھ رکھا ۔بے چینی سے لب چباتا وہ اردگرد دیکھ رہا تھا بہت سے لڑکے میسم کی طرح ہی مایوس سے کھڑے تھے لیکن کسی کی بھی حالت میسم جیسی نہیں تھی کیونکہ ان میں سے کوٸ گھر سے بھاگ کر نہیں آیا تھا کوٸ بھی اپنی محبت کو پانے کی منزل کو بلکل آخری قدم پر چھوڑ کر نہیں آیا تھا ۔کیونکہ ان میں سے کوٸ بھی دس لوگوں کی محبت کو روند کر نہیں آیا تھا اور کچھ ایسے تھے جو چہک رہے تھے ۔ اپنوں کے گلے لگ رہے تھے ۔ فہد نے گہری سانس لی ۔ میسم کی تکلیف اسے خود بھی محسوس ہو رہی تھی بنا پیسوں بنا کھانے کے تین راتوں کی بے سکونی وہ بھی ساتھ ہی جھیل چکا تھا ۔ اسے مسکراتے ہوۓ سارے لوگ دشمن لگ رہے تھے اور بینچ پر دنوں ہتھیلوں میں چہرہ دیے بیٹھا اپنا یار تکلیف دے رہا تھا ۔ دل کر رہا تھا تحس نحس کر دے سب ۔ وہ الجھا سا کھڑا ارد گرد دیکھ رہا تھا سب ختم تھا اور اب میسم کو سنبھالنا بہت مشکل لگ رہا تھا ۔
ریسپشن سے آگے مختلف آفس کمروں کی راہداری تھی تین سیاہ تھری پیس سوٹ میں ملبوس آدمی اس راہداری سے ہوتے ہوۓ نوٹس بورڈ کی طرف بڑھ رہے تھے تینوں آپس میں گفتگو کرتے ہوۓ ہاتھ میں پکڑے سفید کاغز کو دیکھتے ہوۓ آگے بڑھ رہے تھے ۔ نوٹس بورڈ کے قریب آ کر اب وہ لڑکوں کو پیچھے ہونے کا کہہ رہے تھے وہ شاٸد اس لسٹ کو بھی نوٹس بورڈ پر لگانے آۓ تھے ۔
” میسم ایک اور لسٹ لگ رہی ہے “
فہد نے اچانک اس کے کندھے پر ہاتھ رکھا میسم نے سراوپر اٹھایا ۔ پر مایوسی سے صرف اس طرف دیکھا ہی اپنی جگہ سے نہیں اٹھا فہد بھاگتا ہوا تب تک بھیڑ کی طرف بڑھ چکا تھا ۔ باقی لڑکوں کو پیچھے کرتے ہوۓ وہ تھری پیس سوٹ میں ملبوس تین آدمی اب نوٹس بورڈ کو اوپن کر رہے تھے ۔ ایک کے ہاتھ میں لسٹ تھی ۔
” یہ یہ کونسی لسٹ ہے اب “
فہد نے ساتھ کھڑے لڑکے سے پوچھا اس نے لبوں کو باہر نکال کر کندھے اچکاۓ مطلب وہ بھی نہیں جانتا تھا جبکہ داٸیں طرف سے آواز ابھری ۔
” او بھاٸ پہلے ملتان کی لگی تھی اب لاہور کی لگ رہی ہے “
ایک لڑکے نے انگلی کا اشارہ نوٹس بورڈ کی طرف کیا ۔ اوہ فہد نے اب پہلے والی لسٹ کی سرخیوں پر دھیان دیا جس پر پہلے ایک دفعہ بھی دونوں میں سے کسی نے دھیان نہیں دیا تھا ۔ جہاں تھوڑے سے بڑے حروف میں لکھا تھا کہ اب ملتان کے دو کھلاڑی ان پچاس لوگوں میں سے چنے جاٸیں گے مطلب یہ سارے لوگ اب صرف ملتان کے لیے الگ سے مقابلے میں جاٸیں گے ۔اور لاہور کے ایک سپلیمنٹری کھلاڑی کے لیے پچیس لڑکے چنے گۓ تھے جن کا الگ سے مقابلہ تھا ۔ تینوں آدمی لسٹ کو نوٹس بورڈ پر لگا چکے تھے ۔ ان کے نکلتے ہی پھر سے لڑکے مکھیوں کی طرح نوٹس بورڈ سے چپکنے لگے تھے جن میں سے ایک اب فہد بھی تھا ۔ لاہور کے چنے گۓ پچیس لڑکوں کی لسٹ میں سب سے اوپر میسم مراد کا نام تھا ۔ فہد کا منہ اور آنکھیں کھل گٸ تھیں ۔ خوشی سے آواز نہیں نکل رہی تھی ۔
” کیا ہے بھٸ پیچھے ہو “
ساتھ کھڑے لڑکے کےکندھے کو پرجوش انداز میں پیچھے کرتا ہوا وہ تھوڑا سا آگے ہوا اور ہاتھ کا اشارہ میسم کی طرف کیا جو سر جھکاۓ مایوس بیٹھا تھا ۔فہد نے لب بھینچ کر ہاتھ کو نیچے کیا اور منہ کے گرد ہاتھ کو گھوما کر آواز دینے کے انداز میں رکھا ۔
” میسم میسم تیرا نام میسم “
وہ چیخا میسم کا جھکا سر ایک جھٹکے سے اوپر ہوا حیرت سے فہد کی طرف دیکھا جس نے پرجوش انداز میں زور زور سے سر کو اثبات میں ہلایا ۔ فہد کی آنکھوں کی چمک ہی بتا رہی تھی کہ وہ سچ بول رہا ھے میسم بھاگنے کے سے انداز میں بینچ سے اٹھ کر آیا ۔ اور پاگلوں کی طرح لڑکوں کی بھیڑ میں سے گزرتا ہوا نوٹس بورڈ پر نظریں دوڑاتا فہد تک پہنچا ۔
” ارے یار ادھر “
فہد نے میسم کے چہرے کو پکڑ کر گھمایا اور رخ لاہور قلندر کے چنے گۓ پچیس کھلاڑیوں والی لسٹ کی طرف کیا۔ فہد کی باچھیں کھلی ہوٸ تھیں ۔
” پیچھے ہو تھوڑا “
میسم نے پھنسے ہوۓ کندھے کو پیچھے دھکیلتے ہوۓ آگے بڑھ کر لسٹ پر نظر ڈالی ۔اور پھر ساکن ہو گیا ۔ دل تیزی سے دھڑکنے لگا تھا اس کا نام لسٹ کی ٹاپ پر تھا ۔ دل اتنی رفتار سے دھڑک رہا تھا کہ اس کا چہرہ اسکے گال گرم ہو گۓ تھے ۔
میسم مراد اس کا نام لاہور قلندر کی فاٸنل کمپیٹیشن کی لسٹ میں سب سے اوپر چمک رہا تھا ۔ آنکھیں کیوں پرنم سی ہونے لگی تھیں ۔ سر آٹھا کر آسمان کی طرف دیکھا ۔
” ابے یار “
فہد اچھل کر پیچھے سے اوپر چڑھا تو جیسے اسے ہوش آیا ۔ فہد پاگلوں کی طرح اس کی پشت پر چڑھا پیچھے سے اس کی گردن کو موڑ کر اسے بوسے دے رہا تھا ۔ میسم کے دانت باہر تھے پر آنکھوں میں نمی تھی ۔
پھر دونوں پاگلوں کی طرح ایک دوسرے کے گلے لگے قہقے لگا رہے تھے۔
***********
” اچھا چلو کچھ کلاس فیلوز نے روشان کے گھر جانے کا پروگرام بنایا ہے چلو گی “
ماہ رخ نے کتابیں سمیٹتے ہوۓ اس کے جھکے سر کو دیکھا جو کب سے کتاب پر سر جھکاۓ ایک ہی صفحے پر نظریں جماۓ بیٹھی تھی ۔ ماہ رخ کی بات پر سپاٹ سا چہرہ اوپر اٹھایا اور آنکھوں کے حجم کو چھوٹا کرتے ہوۓ ماہ رخ کی طرف ایسے دیکھا کہ وہ اس کے بنا بولے ہی سمجھ جاۓ کے اس کا کہیں بھی جانے میں بلکل دل نہیں ہے ۔ پر ماہ رخ کی پھولتی ناک کو دیکھ کر اندازہ ہو گیا کہ وہ جواب کو اس کے چہرے پر پڑھنے میں کوٸ دلچسپی نہیں رکھتی ہے۔
” تم لوگ جاٶ “
ادینہ نے سنجیدہ سے لہجے میں کہہ کر سر جلدی سے کتاب پر پھر سے جھکا لیا مبادہ وہ اس سے زبردستی کرے ۔ آخری لیکچر فارغ تھا تو جماعت کے کچھ دوستوں نے مل کر روشان کے گھر جانے کا منصوبہ بنایا اس کی والدہ کی تعزیت کے لیے ۔ سب لوگ کمرہ جماعت سے باہر نکل چکے تھے لیکن ادینہ ابھی بھی اپنی نشست پر ہی براجمان تھی ۔
” ادینہ !!!!“
ماہ رخ چیخنے کے سے انداز میں کہتے ہوۓ اس کے برابر رکھی کرسی پر بیٹھی ۔ کتابوں کو زور سے کرسی کے بازو پر مارا پر ادینہ پھر بھی متوجہ نہیں ہوٸ ادینہ نے خود کو بھرپور طریقے سے مصروف ظاہر کرنے کے لیے اب قلم اٹھا لی تھی ۔ ماہ رخ نے ناک پھلایا اور دانت پیس کر دیکھا
” تم کیا اب روگ لگا لو گی “
ماہ رخ نے جھٹکے سے اس کے ہاتھ سے قلم چھینا ۔ ادینہ نے خفگی سے چہرہ اوپر اٹھا کر اس کی طرف دیکھا ۔
” کیوں نہیں تو ایسا کچھ بھی نہیں “
زبردستی کی مسکراہٹ چہرے پر سجا کر ماہ رخ کے ہاتھ سے قلم چھینا۔
” چپ ہو جاٶ شکل دیکھو اپنی اور نہ ہنستی ہو پہلے کی طرح نہ بولتی ہو “
ماہ رخ نے ماتھے پر بل ڈالے ڈپٹنے کے انداز میں کہا اور اپنے گردن تک آتے بالوں کو کانوں کے پیچھے کرتے ہوۓ خفگی سے چہرہ موڑ کر سینے پر ہاتھ باندھے پر ادینہ پر اس کی خفگی کا بھی کوٸ اثر نہیں ہوا وہ سنجیدگی سے اب کچھ لکھنے میں مصروف تھی ۔ماہ رخ نے نظریں پھیر کر اس کی طرف دیکھا پھر گہری سانس خارج کی ۔ اور سیدھی ہوٸ
” تم دنیا کی پہلی لڑکی تو نہیں بہت ساری لڑکیوں کے رشتے ٹوٹ جاتے ہیں لڑکے دھوکا دے کر جاتے ہیں شادیاں اور منگنیاں ختم ہو جاتی ہیں “
ماہ رخ ہاتھوں کو ہوا میں گھماتی اسے سمجھا رہی تھی ۔ لہجے میں بلا کی سختی تھی ۔
” اور جن کا دل ٹوٹ جاتا ہے “
ادینہ نے ایک دم سے چہرہ اوپر اٹھایا اور ماہ رخ کی آنکھوں میں جھانکا ۔ماہ رخ کا کھلا منہ ایک دم سے بند ہوا ۔
” تمہیں کیا لگتا ہے میں اسے بھلانے کی کوشش نہیں کرتی میں نارمل ہونے کی کوشش نہیں کرتی “
ادینہ نے بچارگی سے ماہ رخ کی طرف دیکھا جو اب دم سادھے اسے سن رہی تھی یہی تو وہ چاہتی تھی وہ زیادہ سے زیادہ اندر کے غبار کو باہر نکالے ۔ چپ نہ رہے گم صم سی اندر ہی اندر گھلتی ہوٸ ۔
” جب نہیں تھی محبت اس سے بلکل نہیں تھی اور اب جب ہے تو بہت ہے کچھ بھی میرے بس میں نہیں “
وہ چپ تھی تو چپ تھی اور اب جب بولنے پر آٸ تھی تو بولے جا رہی تھی ۔
” وہ میرے حواسوں پر سوار رہتا ہے پتا نہیں کیوں “
کندھے اچکا کر روہانسی سی صورت بناٸ ۔ ایسے جیسے وہ خود بھی خود سے بےزار ہو چکی ہو ۔
” میرے کمرے میں بیڈ پر لیٹا سیڑھیوں میں راستہ روکے ہوۓ ۔ ٹی وی لاونج میں ریموٹ پکڑے بیٹھا گلی میں کرکٹ کھیلتا ہوا رابعہ ممانی کی آنکھوں میں تیرتے پانی میں مراد ماموں کے اداس چہرے میں میری امی کی آہوں میں یونیورسٹی کے باہر کھڑا ہوا ہر ہر جگہ ہر ۔۔۔ہر۔۔۔ جگہ “
ادینہ نے ایک ہی سانس میں چیخنے کے سے انداز میں کہا پھٹ ہی تو پڑی تھی وہ ہر کوٸ ایک ہفتے سے اسے سمجھانے پر تلا تھا پر اس کے جزبات کوٸ کیوں نہیں سمجھ پا رہا تھا اس کے بس میں کچھ بھی نہیں تھا وہ جان بوجھ کر لیلیٰ نہیں بنی تھی ۔ دل نے جس رات میسم کے سر پر تاج سجا کر اسے دل کے تخت پر اپنا مالک بنا کر بیٹھایا تھا تب سے ہی سارے اختیارات کھو دیے تھے میسم کے جزبات کی فوج اتنی مضبوط تھی کہ اس کی سالوں کی نفرت کو ایک رات کی جنگ میں ہی ڈھیر کرنے کے بعد اس پر قابض ہو چکی تھی اسے تو ہاتھوں میں زنجیریں پہنا کر قید کر دیا گیا تھا وہ تو اسی دن اس کی کنیز بن چکی تھی ۔آنکھوں میں پھر سے نمی تیرنے لگی ۔ جلدی سے ماہ رخ سے نظریں چراٸیں جو اب مسکرا رہی تھی ۔
” اس کی وجہ یہ ہے تم سوچتی ہو اسے بہت “
ماہ رخ نے اس کے کندھے پر دھیرے سے ہاتھ رکھا ۔ ادینہ نے ناک پھلا کر دیکھا ۔
” اس کی وجہ وہ وجہ ہے جس کے لیے اس نے میرے ساتھ ایسا کیا “
دانت پیستے ہوۓ کہا۔ چھلک ہی پڑی آنکھیں آج پھر سے زور سے گال رگڑے ۔
“کیوں کیا اس نے ایسا سوچ سوچ کر دماغ پھٹتا ہے میرا “
سر کو دونوں ہاتھوں میں جکڑا ۔ آواز پھٹ رہی تھی ۔
” ادینہ ایک بات بولوں “
ماہ رخ نے نرمی سے کہا ادینہ نے رخ اس کی طرف موڑا ۔ تھوک نگل کر آنسوٶں کو اٹکے گولے کو نگلا ۔
” سب لوگ تمھاری وجہ سے تمھاری اداسی کی وجہ سے ایسے ہیں تمہیں دیکھ دیکھ کر ان کا دل دکھتا ہے پلیز خود کو نارمل کرو “
ماہ رخ نے لب بھینچ کر سنجیدہ سے لہجے میں کہا جس پر وہ کچھ پر سوچ سے انداز میں ماہ رخ کو یکھتی رہی پھر دھیرے سے سر اثبات میں ہلا دیا ۔
***********
حزیفہ کی سانس پھولی ہوٸ تھی دھپ دھپ کرتا سیڑھیاں پھلانگتا اوپر چڑھ رہا تھا موٹے موٹے گال اور ٹی شرٹ میں پھنسا پیٹ ہل رہا تھا تیسری منزل پر پہنچتے ہی وہ تیزی سے لاونج میں پڑے ٹی وی کی طرف بڑھا ۔ اریبہ شاٸد مغرب کی نماز کے بعد فارغ ہو کر کمرے سے باہر آ رہی تھی دوپٹہ ابھی بھی سر کے گرد لپٹا ہوا تھا اور ادینہ استری سٹینڈ پر جھکی کپڑے استری کر رہی تھی حزیفہ کی حالت ایسی تھی کہ دونوں اس کی طرف متوجہ ہونے پر مجبور ہو گٸ تھیں ۔
” اریبہ آپی اریبہ آپی ٹی وی آن کریں جلدی “
وہ گردن ارد گرد گھماتا ہوا ٹی وی کے ریموٹ کو تلاش کر رہا تھا انداز میں ایسی عجلت تھی کے اریبہ بے ساختہ آگے بڑھی اور صوفے پر پڑے کشن کے نیچے سے ٹی وی کا ریموٹ نکال کر ٹی وی آن کیا حزیفہ نے جھپٹ کر ریموٹ چھینا اور تیزی سے چینل بدلنے لگا اور پھر ایک جگہ رکا ۔
” پاکستان لیگ لاہور قلندر ٹیم “
ٹی وی میں نیچے تحریر نظر آ رہی تھی اور سامنے قطار میں کھڑے بہت سے کھلاڑیوں میں میسم کھڑا تھا ۔
”ایڈیشن کا آغاز 12 دسمبر کو متحدہ عرب امارات (یو اے ای) میں ہوگا جبکہ ایونٹ کے آخری 8 میچ پاکستان میں کھیلے جائیں گے۔“
پیچھے اینکر کی آواز کی بازگشت تھی اور آگے ٹیلیویژن کی سکرین پر پاکستان سپر لیگ کی مختلف ٹیمیں دکھاٸ جارہی تھیں۔ تینوں نفوس کی آنکھیں اب ٹی وی پر جمی تھیں ادینہ کا چہرہ سفید پڑ رہا تھا جبکہ حزیفہ کے چہرے پر خوشی جھلک رہی تھی اریبہ کبھی ٹی وی سکرین کی طرف دیکھ رہی تھی اور کبھی ادینہ کے چہرے کی طرف۔
”پی ایس ایل کی نئی ڈرافٹنگ میں ہر ٹیم کو اپنے 10 کھلاڑیوں کو برقرار رکھنے کی اجازت ہوگی لیکن ان میں سے صرف 2 کھلاڑی غیر ملکی ہوں گے۔“
سکرین پر اب پھر سے لاہور ٹیم کے کھلاڑی دکھاۓ جا رہے تھے وہ بھی کھڑا تھا سنجیدہ سا چہرہ بڑھی سی شیو اداس سی آنکھیں جیسے ہی کیمرہ اس پر ٹھہرا ادینہ کی دھڑکن کی رفتار بے قابو ہوٸ ۔ لمبی پلکوں والی آنکھیں سکیڑے اس نے کیمرے کی طرف ایسے دیکھا کہ ادینہ کو لگا اس کو دیکھ رہا ہے
”لیگ کی تمام ٹیمیں ڈرافٹ کے عمل کو عام ترتیب سے کرنے پر متفق ہیں جس کا مطلب ہے کہ سب سے پہلے کھلاڑی کا انتخاب کا فیصلہ کسی خاص ترتیب سے نہیں ہوگا جبکہ ٹیموں میں مقامی کھلاڑیوں کی شرح کا فیصلہ ابھی نہیں ہوا۔“
اینکر اپنے مخصوص انداز میں روانی میں بول رہی تھی ۔ میسم کے ساتھ کھڑے لڑکے نے شاٸد اس کے کان میں کچھ کہا میسم بے ساختہ مسکرایا۔
” بند کرو حزیفہ “
ادینہ نے ناک پھلا کر تیز تیز سانس لیتے ہوۓ اونچی آواز سے کہا ۔ اس کی مسکراہٹ پر دل میں ٹیس اٹھی خزیفہ جو پرجوش سا کھڑا تھا ایک دم سے مڑا ۔ ریموٹ صوفے پر پھینکا ۔
” جواد چاچو کو بتا کر آتا ہوں “
وہ سر کے پاس چٹکی بجاتا تیزی سے زینے کی طرف بھاگا ۔ اریبہ نے آگے بڑھ کر جلدی سے ٹی وی کو بند کیا ۔ چور سی نظر ادینہ پر ڈالی ادینہ ہاتھ میں استری شدہ قمیض پکڑے وہیں کھڑی تھی ۔
ظالم مسکرا دیا کیسے مسکرا دیا دل کو جیسے کوٸ مٹھی میں دبوچ رہا تھا ۔جیسے جیسے گرفت بڑھ رہی تھی آنکھوں کا منظر دھندلہ ہو رہا تھا ۔
” تم چاۓ پیو گی بنانے جا رہی ہوں “
اریبہ نے پاس آ کر اس کے کندھے پر ہاتھ رکھا تو وہ جیسے ہوش میں آٸ گڑ بڑا کر ارد گرد بلاجواز نظریں گھماٸیں بمشکل آنکھوں سے چھلک جانے والے آنسوٶں کو روکا
” نہیں “
مدھم سی آواز میں کہتی تیزی سے اپنے کمرے کی طرف بڑھی۔ دھماکے سے دروازہ بند ہوا اور اریبہ نے زور سے آنکھیں بند کیں
ہم جان فدا کرتے ، گر وعدہ وفا ہوتا
مرنا ہی مقدر تھا ، وہ آتے تو کیا ہوتا
ایک ایک ادا سو سو، دیتی ہے جواب اسکے
کیونکر لبِ قاصد سے، پیغام ادا ہوتا
اچھی ہے وفا مجھ سے، جلتے ہیں جلیں دشمن
تم آج ہُوا سمجھو، جو روزِ جزا ہوتا
جنّت کی ہوس واعظ ، بے جا ہے کہ عاشق ہوں
ہاں سیر میں جی لگتا، گر دل نہ لگا ہوتا
اس تلخیِ حسرت پر، کیا چاشنیِ الفت
کب ہم کو فلک دیتا، گر غم میں مزا ہوتا
تھے کوسنے یا گالی، طعنوں کا جواب آخر
لب تک غمِ غیر آتا، گر دل میں بھرا ہوتا
ہے صلح عدو بے خط، تھی جنگ غلط فہمی
جیتا ہے تو آفت ہے، مرتا تو بلا ہوتا
ہونا تھا وصال اک شب، قسمت میں بلا سے گر
تُو مجھ سے خفا ہوتا، میں تجھ سے خفا ہوتا
ہے بے خودی دایم، کیا شکوہ تغافل کا
جب میں نہ ہوا اپنا، کیونکر وہ مرا ہوتا
اس بخت پہ کوشش سے، تھکنے کے سوا حاصل
گر چارۂ غم کرتا، رنج اور سوا ہوتا
اچھی مری بدنامی تھی یا تری رُسوائی
گر چھوڑ نہ دیتا، میں پامالِ جفا ہوتا
دیوانے کے ہاتھ آیا کب بندِ قبا اُس کا
ناخن جو نہ بڑھ جاتے، تو عقدہ یہ وا ہوتا
ہم بندگئ بت سے ہوتے نہ کبھی کافر
ہر جاے گر اے مومن موجود خدا ہوتا
آج دو ہفتے کے بعد تو دل کچھ کچھ سنبھلا تھا ۔ اور اب اس کی جھلک اسے زنجیروں میں جکڑے گھسیٹتے ہوۓ پھر سے اسی بند کوٹھڑی میں لے آٸ تھی جس کی ہر دیوار پر وہ نقش تھا کہیں مسکراتا کہیں قہقے لگاتا کہیں گہری نظروں کو اس پر گاڑتا ۔ دھڑ دھڑ دھڑا دھڑ دروازہ پیٹ ڈالا آہ و بکا بھی نہیں سن رہا تھا کوٸ دربان۔
آج پھر ساری رات تکیہ بھیگا تھا۔ اور اس کی وہی جھلک بڑے بڑے پوسٹروں کی شکل میں ہر طرف معلق ہوۓ نظر آ رہی تھی ۔ وہ مسکرا رہا تھا ۔
آہ۔۔۔ کیسے مسکرا رہا تھا
*********
میسم فہد سے چمٹا کھڑا تھا ۔ اداس سا پریشان سا چہرہ لیے
” مجھے جانا ہو گا اب “
فہد نے اس سے الگ ہو کر مسکراتے ہوۓ لب بھینچے پر جواب میں اس کے چہرے پر کوٸ مسکراہٹ نہیں تھی وہی اداسی بھری آنکھیں گلے کی گلٹی ابھری ہوٸ تھی جو اس کے ضبط کا پتہ دے رہی تھی ۔ تین ہفتے ہو گۓ تھے گھر سے دور فہد کا کچھ آسرا تھا اور اب وہ بھی جارہا تھا ۔
آہ وہ تو جا رہا تھا اپنوں کے پاس ۔ دل میں عجیب سی تڑپ اٹھی سب یاد آ رہے تھے اور سب سے زیادہ تو وہ یاد آتی تھی جسے روز بہانے سے دیکھنے اوپر جاتا تھا۔ بے قرار دل کو سکون آ جاتا تھا اس کی مدھر سی آواز کانوں میں پڑتی تو دل گدگدا جاتا تھا نرم سا سفید چہرہ جسے گہری نظریں دیکھ کر سیر کرتی تھیں خود کو اور پھر نیچے کمرے میں آ کر تکیہ اس میں ڈھل جاتا تھا جسے ساتھ لگا کر بھینچ ڈالتا تھا وہ ۔ رابعہ کی محبت ان کے ھاتھ کے بنے کھانے حزیفہ سے لڑاٸ اریبہ سے شرارتیں جواد چاچو کے ساتھ گپ شپ دادا ابو کی ڈانٹ ان کی محبت پلکوں کو جھپکا کر نمی کو چھلکنے سے روکا اور فہد کی طرف دیکھا جو اس کے چہرے پر جھلکتے دکھ کو دیکھ کر اداس سا کھڑا تھا ۔
” مشکل میں پھنس جاۓ گا یار “
میسم نے فہد کےچہرے کو اپنے دونوں ہاتھوں میں لے کر محبت سے کہا۔ وہ فاٸنل مقابلہ بڑے شاندار انداز میں جیت کر لاہور قلندر کی ٹیم کا سپلیمٹری کھلاڑی بن چکا تھا ۔فہد کو یہاں آۓ تین ہفتے سے زیادہ کا عرصہ ہو چلا تھا اس دوران وہ اپنے گھر والوں سے رابطہ کر کے ان سے معافی مانگ چکا تھا اور واپس آنے کا وعدہ کر چکا تھا ۔ وہ اپنے والدین کا اکلوتا سپوت تھا ان کو تو معاف کرنا ہی تھا ۔ اصل مسٸلہ تو میسم کے گھر والوں کا تھا۔
” کچھ نہیں ہوتا پریشان نہ ہو “
فہد نے پیار سے میسم کے گال تھپتھپاۓ ۔
” ہممم “
میسم کی اداسی ہنوز تھی ۔ چہرہ پژمردہ سا تھا راتوں کو نہ سونے کی وجہ سے آنکھوں کے حلقے واضح تھے ۔
” دیکھ تم کہنا سارا قصور اسکا تھا میرا کوٸ قصور نہیں مجھے زبردستی اپنے ساتھ گھسیٹ لیا تھا اس نے “
میسم نے فہد کو دونوں کندھوں سے تھام کر جوش سے کہا فہد کا جاندار قہقہ گونجا ۔
” نہیں میں ڈرتا نہیں کسی سے بھی اور اب تو بلکل نہیں جب تو سلیکٹ ہو گیا “
فہد نے بھرپور انداز میں مسکراتے ہوۓ کہا ۔ اور میسم اسے پھر سے گلے لگا چکا تھا ۔
*********
” آپ کے بیٹے کی وجہ سے ہوا ہے یہ سب اسی نے پٹیاں پڑھاٸ ہوں گی میرے بھتیجے کو “
عزرا نے ماتھے پر بل ڈال کر آگے ہوتے ہوۓ کہا۔ فہد نے کچھ بولنے کے لیے منہ کھولا تھا کہ فہد کے والد آگے ہوۓ
”دیکھیں دونوں کا قصور تھا “
بڑے تحمل سے کہتے ہوۓ وہ عزرا کے غصے کو ٹھنڈا کر رہے تھے ۔ پر وہ تو جیسے بپھری کھڑی تھیں ۔ خونخوار نظروں سے فہد کو گھور رہی تھیں ۔
اریبہ ہانپتی ہوٸ دروازے پر آٸ ۔ حزیفہ نے آ کر اسے بتایا تھا کہ کل رات فہد گھر آ گیا ہے اور عزرا پھپھو ان کے گھر پہنچ چکی ہیں ۔
” امی امی چلیں گھر پلیز ماموں کو پتہ چلا تو وہ ناراض ہوں گے “
اریبہ نے زبردستی بازو کھینچتے ہوۓ عزرا کو دروازے کی طرف لے جانے کی ناکام کوشش کی ۔

 

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: