Maqsoom Novel by Huma Waqas – Last Episode 23

0
مقسوم از ہما وقاص – آخری قسط نمبر 23

–**–**–

فہد نے بے چارگی سے سب دوستوں کی طرف دیکھا جو موج مستی میں لگے قہقے لگا رہے تھے اور پھر اریبہ کو جوابی مسیج ٹاٸپ کیا
” یہ تمھارا بہنوٸ عرف کزن ہی سب سے زیادہ کمینہ بنا ہوا ہے “
گھور کر ساتھ بیٹھے دانت نکالتے میسم کی طرف دیکھا جو اب ہونٹوں کو بوسے کی انداز میں باہر نکالے فہد کو تنگ کر رہا تھا اریبہ کا جوابی مسیج آیا تو نظریں موباٸل کی طرف جھکاٸیں ۔
” عرف تمھارا دوست سب سے بڑھ کر رکو اس کا حل ہے میرے پاس “
اریبہ کا میسج پڑھ کر فہد نے موباٸل نیچے کیا میسم اور باقی سب اب لہک لہک کر بے سُرے ریمبو کا گانا سن رہے تھے۔
” میں نے تمھاری گاگر سے کبھی پانی پیا تھا پیاسا تھا گوری یاد کرو تم شرما کر تھوڑا سا بل کھاٸیں تھیں وہ دن یاد کرو“
ریمبو لہک لہک کر بازو آگے پیچھے کرتا ہوا گانا گا رہا تھا۔
میسم کے فون پر ادینہ کی کال آنے پر وہ فون کان کو لگاۓ ایک طرف ہوا ۔
” ہیلو بیگم “
گردن کھجاتے ہوۓ پیار سے کہا ۔ ایسے جیسے اسی کے فون کے انتظار میں بیٹھا ہوا تھا ۔
” میسم آ جاٸیں اب کہاں ہیں اتنی دیر ہو گٸ ہے “
ادینہ نے خفگی سے غصے والا لہجہ اپنایا ۔ میسم نے جلدی سے گھڑی کی طرف دیکھا ۔ رات کا ایک بج رہا تھا۔ جان پر بن گٸ اس کا چھٹا ماہ چلنے کی وجہ سے وہ اس کا خیال بھی بہت رکھ رہا تھا پر اب یہاں آ کر فہد اور اریبہ کی شادی کی وجہ سے تھوڑی لاپرواہی برت گیا تھا ۔
” اوکے اوکے آتا ہوں زیادہ غصہ نہیں کرنا بی پی ہاٸ ہو گا اس سے “
جلدی سے کہا اور موباٸل بند کیا ۔ ادینہ آجکل چھوٹی چھوٹی بات کو بہت محسوس کرتی تھی ۔
” چلو بھٸ اب چھوڑ دیتے ہیں دلہے کی جان “
میسم نے تالی بجا کر سب کو اٹھنے کا اشارہ کیا ۔ فہد دانت پیستے ہوۓ اٹھا ۔
” نہیں نہیں کچھ دیر اور بیٹھ جاتے ہیں“
فہد نے میسم کے کندھے پر ہاتھ رکھا ۔ میسم نے مسکرا کر دیکھا اور فہد کے منہ کو اپنے ہاتھوں میں لیا ۔
” ارے نہیں بخشی تیری جان جا جی لے اپنی زندگی “
فہد کا چہرہ ایک طرف کرتے ہوۓ قہقہ لگایا ۔ فہد نے اچھل کر میسم کی گردن کو دبوچا ۔
” کمینہ انسان اب اپنی والی کا فون آیا تو کیسے لاٸن ہی بدل گیا “
فہد نے زور سے میسم کی پشت پر مکا جڑا۔ جس پر اب وہ ایک ہی دفعہ میں اس کے بازو کو گھما کر سیدھا ہو چکا تھا ۔
” سمجھا کر یار تیرے والی کا پتہ نہیں میرے والی تو کمرے کا دروازہ ہی نہیں کھولتی پھر “
میسم نے مصنوعی معصومیت چہرے پر طاری کی ۔
” میری والی سن اس کی شادی کی پہلی رات چھوڑ کر میکے جانے کی دھمکی دے رہی “
فہد نے بچارگی سے کہا اور پھر دونوں جلدی جلدی سب کو نکالنے میں مصروف ہو گۓ ۔
**********
” تو ایسے بات بات پر مجھے دھمکی ملا کرے گی “
فہد نے گہری نظروں سے دیکھتے ہوۓ اریبہ کے ہاتھ میں ابھی ابھی پہناۓ گۓ برسیلٹ کی طرف دیکھا۔ سرخ رنگ کے بھاری بھرکم جوڑے میں وہ زیور اور میک اپ سے لیس بیٹھی دل کو بے تاب کر رہی تھی۔
” کونسی دھمکی “
اریبہ نے انجان بنتے ہوۓ پلکیں اٹھا کر فہد کی آنکھوں میں جھانکا ۔ سیاہ شیروانی میں گہری نظروں سے دیکھتا ہوا دل کے تار چھیڑ گیا تھا ۔
” یہی کہ میں جا رہی ہوں اپنی امی کے گھر “
فہد نے شرارت سے سیدھے ہوتے ہوۓ کہا ۔ شیروانی کے اوپر والے حصے کو کھول کر پاس پڑے صوفے پر رکھا ۔ اریبہ نےبمشکل مسکراہٹ کو چھپایا ۔
” ہاں آپ آ ہی نہیں رہے تھے تو کیا کہتی پھر اور صرف کہک ہی نہیں رہی تھی سچ میں چلی جاتی “
اریبہ نے مسکراہٹ چھپا کر خفگی ظاہر کی ۔ وہ اب واپس بیڈ کی طرف آ رہا تھا ۔
” تو پھر اس کا تو کوٸ حل تلاش کرنا پڑے گا “
فہد نے کان کھجایا اور بلکل سامنے آ کر بیٹھا۔ اریبہ نے کچھ دیر نظروں میں دیکھا اور پھر اس کی آنکھوں میں موجود بے پناہ جزبات کی تاب نا لاتے ہوۓ فوراً نظریں جھکاٸیں۔
” ہے نہ حل آپ ایسا کچھ کریں نہ جو مجھے ناراض کرے “
لاڈ سے کہا ۔ جبکہ نظریں ہنوز نیچے جھکی تھیں۔ فہد کا یوں دیکھنا حالت کو غیر کر رہا تھا ۔
” یہ تو مشکل ہے تھوڑا “
فہد نے کان کھجایا اریبہ نے چونک کر دیکھا ۔ آنکھوں کو سکوڑ کر گھورا۔ یہ کیا کہ کیا یہ ایسے ہی تنگ کرتے رہیں گے مجھے یہ
” کیا مطلب “
انداز پھر سے غصے والا تھا ۔ فہد نے مسکراہٹ کو گہرا کیا۔
” مطلب تم تو ایسے ہی ناراض ہو جاتی ہو چھوٹی چھوٹی بات پر تو ہر بات پر بھاگ جایا کرو گی سامنے میکے میں “
فہد نے مسکراہٹ دباٸ ۔ اریبہ کا منہ اور خفگی سے پھول گیا تھا ۔
” کیا مطلب آپکا بس ایسے ہی ہر بات پر ناراض ہو جاتی ہوں میں “
اریبہ نے پھولے منہ سے غصے سے کہا۔ فہد اب اس کے انداز سے محزوز ہو رہا تھا ۔
” ابھی دیکھ لو شکل دیکھو سامنے “
فہد نے اریبہ کے چہرے کو تھورڈی سے پکڑ کر سامنے سنگہار میز کی طرف موڑا ۔
” ہاں تو ایسے ہی منہ پھولے گا نہ کوٸ تعریف کی نہ کچھ گیا بھاڑ میں پچاس ہزار “
اریبہ نے گردن کو افسوس کے انداز میں جھلایا ۔ فہد نے حیرت سے منہ کھولا ۔
” اوہ تیری پچاس ہزار میں تیار ہوٸ “
فہد نے اچھلنے کے انداز میں کہا۔ اریبہ نے گھور کر کھاجانے والی نظر سے دیکھا
” کیوں سب سے اچھے پارلر سے ہوٸ ہوں ریڈی آپکو اچھی نہیں لگی کیا “
اریبہ ایک دم سے روہانسی ہو چلی تھی ۔
” مطلب میں اچھی نہیں لگ رہی “
روہانسی سی آواز میں کہا ۔
” نہیں ایسا کب کہا میں نے “
فہد گڑ بڑا گیا ۔ اریبہ جلدی سے لہنگا سنبھالتی بیڈ سے نیچے اترنے کے انداز میں آگے ہوٸ ۔
” کیا ہوا اب کہاں جا رہی ہو “
فہد نے حیران ہوتے ہوۓ کہا جو اب بیڈ سے نیچے اتر کھڑی ہو چکی تھی
” اپنے گھر اور کہاں “
اریبہ نے خفگی سے کہا چہرے کا رخ موڑ کر ہنسی دباٸ ۔ فہد نے اس کی مسکراہٹ کو دیکھ کر جھٹ سے اس کا ہاتھ تھام کر کھڑا ہوا ۔
” ارے ارے “
نرمی سے بازو پکڑ کر فاصلہ ختم کیا ۔ اریبہ جھینپ گٸ ساری اکڑ اتنی سی قربت میں ہوا ہو گٸ تھی ۔
” میرے مطلب تھا تمہیں اس سب بناٶ سنگھار کی ضرورت ہی نہیں مجھے اس سب کے بنا دیکھنا “
پیار سے اریبہ کے چہرے کے قریب جھکتے ہوۓ کہا جس پر وہ بری طرح شرما چکی تھی ۔
*******
” چلو کمی تھی تو ان کی “
احمد میاں نے جواد احمد کی طرف اشارہ کرتے ہوۓ کہا جو اب مزید سر جھکا گۓ تھے ۔ سب بڑے احمد میاں کے کمرے میں جمع تھے ارٕیبہ کے ویلیمے کی تقریب کے بعد ابھی وہ گھر پہنچے ہی تھے جب سب سر جھکاۓ احمد میاں کے کمرے میں آ گۓ تھے ۔
” ابا جی شازیہ کی بیٹی تھی ایک کہہ رہی تھی پہلے بیٹی کی شادی کروں گی پھر اپنے نکاح کے بارے میں سوچوں گی اس لیے پہلے ذکر نہیں کیا کبھی میں نے “
جواد احمد نے نظریں جھکا کر ڈری ڈری سی آواز میں کہا ۔
وہ جس نجی کالج میں شام کو پڑھانے جاتے تھے وہاں ایک بیوہ پروفیسر خاتون آتی تھیں جواد احمد ان سے نکاح کرنا چاہتے تھے جس کے لے وہ اب احمد میاں کے سامنے بیٹھے اجازت مانگ رہے تھے ۔
” ابا جی اس میں کیا معیوب بات ہے سادگی میں نکاح کر کے لے آتے ہیں گھر “
رابعہ نے جھجکتے ہوۓ جواد کی تاٸید جس پر عزرا اور مراد نے بھی سر ہلا دیا
” مطلب یہ تم سب کو راضی کر چکا ہے یہ “
احمد میاں نے گھور کر جواد احمد کی طرف دیکھا ۔ جو اب مزید سر جھکا گۓ تھے ۔
” تو جب تم سب نے فیصلہ کر ہی لیا تو پھر میں کون ہوتا ہوں “
احمد میاں نے خفگی سے کہا اور آنکھیں اٹھا کر سب کی طرف دیکھا ۔ سب جو سر جھکاۓ بیٹھے تھے چونک کر ایک دوسرے کی طرف دیکھنے لگے ۔
” نہیں نہیں ابا جی کوٸ فیصلہ آپکے حکم کے بنا کیسے کر سکتے ہیں کوٸ فیصلہ نہیں ہوا بس راۓ دے رہے ہیں “
مراد احمد نے جلدی سے نفی میں سر ہلایا اب سب کی گردنیں نفی میں ہل رہی تھیں ۔ احمد میاں بلکل خاموش بیٹھے تھے ۔ میسم کی اتنی شہرت کے بعد دل میں کتنی دفعہ یہ خیال آتا رہا کاش جواد احمد کو بھی انہوں نے اس کی مرضی پر چلنے دیا ہوتا تو آج وہ بھی ایک کامیاب اور پرسکون انسان ہوتا ۔ اس کی شادی بھی اس کی مرضی کے خلاف کرواٸ جو زیادہ عرصہ چل نہیں سکی اب جب وہ بہت بیمار رہنے لگے تھے ہر وقت جواد کی فکر کھاتی تھی کہ وہ اکیلا ہے پر آج سکون ہو گیا تھا ۔ عزرا تو بیٹیوں میں خوشی تلاش کر لیتی تھی پر وہ اکیلا تھا اس کا یہ اکیلا پن احمد میاں کو کھل جاتا تھا ۔ انہوں نے پرسکون سانس لی سب کی طرف دیکھا
” اچھا ٹھیک ہے اگلے جمعہ کو چلتے ہیں نکاح کے لیے “
احمد میاں نے مسکرا کر جواد احمد کی طرف دیکھا جو اب بھاگتا ہوا ان کے گلے لگ چکا تھا ۔ سب کے چہروں پر مسکراہٹ بکھر گٸ تھی ۔
**********
” ڈاکٹر میری مسز ٹھیک ہیں “
ڈاکٹر کی مبارک باد ابھی مکمل نہیں ہوٸ تھی جب میسم نے بے چین ہو کر سوال کیا ۔ عزرا اور رابعہ بھی جلدی سے ڈیلیوری روم کے باہر لگی نشستوں پر سے اٹھ کر پاس آ چکی تھیں اور اب ایک بیٹا اور ایک بیٹی کی پیداٸش کی خبر پر خوشی سے ایک دوسرے کے گلے لگ چکی تھیں ۔
” جی جی شی از ابسلوٹیلی آل راٸٹ ما شا اللہ “
ڈاکٹر سبینہ نے مسکرا کر میسم سے کہا ۔ جو اب گہری سانس لیتے ہوۓ آسمان کی طرف دیکھ رہا تھا ۔ احمد میاں کے اچانک انتقال کی وجہ سے ادینہ بہت زیادہ پریشان رہی تھی اسکا آخری ماہ چل رہا تھا اسی وجہ سے وہ بہت کمزور ہو گٸ تھی ۔ اور اس ایک گھنٹے میں میسم کی جان سولی پر لٹکی ہوٸ تھی ۔
” کیا میں جا سکتا ہوں اندر ڈاکٹر “
ادینہ ابھی ڈیلیوری روم میں ہی تھی میسم نے بے چینی سے پوچھا ڈاکٹر نے جیسے ہی مسکرا کر اثبات میں سر ہلایا میسم بھاگ کر اندر داخل ہوا ۔
وہ ڈیلیوری روم میں سامنے بیڈ پر زرد چہرہ لیے نیم دراز تھی آنکھیں میسم کے آنے پر آہستگی سے کھلیں ۔ کاٹ میں لیٹی دو ننھی جانوں سے بے نیازی برتتا وہ تیزی سے آ کر ادینہ پر جھکا ۔ ہلکے نیلے رنگ کے ہاسپٹل گاٶن میں وہ بیڈ پر تھکی سی لیٹی تھی ۔ آنکھوں کے نیچے گہرے حلقے واضح تھے ۔
” ہے میری واٸٹ ماٸس بہت ہمت والی ہو “
اپنے چہرے کو ادینہ کے چہرے کے بلکل قریب لا کر اس کی چھوٹی سی ناک کو اپنی ناک سے چھوا وہ دھیرے سے مسکرا دی ۔ میسم کا یوں سیدھا اس کے پاس آنا اس کے لیے یوں فکر مند ہونا آنکھوں میں تیرتی نمی سب سکون دے گیا تھا ۔ تکلیف اب میٹھا سا درد لگنے لگی تھی ۔ گہری نظروں سے اپنے دل کے بادشاہ کو دیکھا شیو بڑھا رکھی تھی بال بکھرے ہوۓ تھے ہڈ پہنے اس پر جھکا وہ اسے دوسری دفعہ اپنا دیوانہ بنا گیا تھا ۔
” میسم مراد کی بیگم ہوں “
میسم کے کان میں سرگوشی ہونے پر چہرہ مسکراتے ہوۓ اوپر کیا اور ادینہ کے ہاتھ کو نرمی سے اپنے ہاتھ میں لیا ۔ ہاتھ کے اشارے سے لب بھینچ کر پوچھا ٹھیک ہو نا کوٸ تکلیف تو نہیں دی ان دو چھٹکوں نے ادینہ نے ہنستے ہوۓ اثبات میں سر ہلایا ۔ تو گہری سانس لے کر دل پر ہاتھ رکھا اور اوپر دیکھا ۔ میسم کے یوں اشاروں میں بات کرنے پر وہ بھرپور طریقے سے مسکرا دی ۔
” لو یو بیگم اور اب میسم مراد کے دو انمول رتن کیسے ہیں “
میسم اب سیدھا ہوا اور کاٹ کی طرف بڑھا جہاں دو چھوٹے سے گلابی اور سفید رنگت والے خوبصورت بچہ اور بچی لیٹے ہوۓ تھے ۔ ان کو دیکھتے ہی بے ساختہ میسم کی آنکھیں نم ہوٸیں ۔ وہ روٸ کے گالے لگ رہے تھے آنکھیں موندے سکون سے لیٹے تھے بچی نے گلابی اور بچے نے ہلکے نیلے رنگ کا گاٶن پہنا ہوا تھا ۔ ایسے گہری نیند سو رہے تھے جیسے بہت لمبے سفر سے لوٹے ہوں
” ادینہ کتنے پیارے ہیں یہ دونوں “
گردن موڑ کر روہانسی آواز میں ادینہ سے کہا جو ہونٹوں کو باہر نکالے رونے کے انداز میں مسکرا دی ۔ اور گردن کو اثبات میں ہلایا ۔
” جی ایک نانا ابو کا دُمیر اور دوسری ان کی ارما “
ادینہ نے بھیگی سی آواز میں کہا ادینہ کو شدت سے وہ رات یاد آ ٸ جب وہ احمد میاں کو بچوں کے نام بتا رہی تھی اور انہوں نے یہ دو نام پسند کیے تھے بیٹے کا نام دمیر میسم اور بیٹی کا نام ارما میسم
” وہ بہت خوش ہوں گے نہ میسم “
ادینہ کی روہانسی آواز پر میسم نے سر اوپر اٹھایا ۔ اور مسکراتا ہوا اس کے پاس آیا ۔
” ہممم بہت خوش ہوں گے “
پیار سے ادینہ کے گال کو تھپتھپایا نرس اور ڈاکٹر اب اندر داخل ہو چکی تھیں ادینہ کو اور بچوں کو کمرے میں شفٹ کرنا تھا۔
*********
انگلینڈ کا ایجیز باٶل کرکٹ سٹیڈیم لوگوں سے کھچاکھچ بھرا ہوا تھا ۔ ایسا لگ رہا تھا جیسے پوری دنیا یہاں امڈ آٸ ہو ۔ لوگوں کے شور میں کمنٹری گونجی ۔
“Steve India and Pakistan match is treated like a war. Look at people’s faces”
” سٹیو انڈیا اور پاکستان کا میچ تو ایک جنگ کی طرح مانا جاتا ہے لوگوں کے چہرے دیکھو “
ایک کمنٹیٹر نے دوسرے سے کہا ۔ پتا نہیں کہاں کہاں سے لوگ میچ دیکھنے آ پہنچے تھے بہت سے پاکستانی اور انڈیا کے لوگ قریبی ممالک سے آ پہنچے تھے ۔ اور اب سب ایسے بیٹھے تھے جیسے زندگی موت کا معاملہ ہو ۔ اور یہ حال یہاں سٹڈیم تک محدود نہیں تھا ۔ پوری دنیا میں تھا اس وقت
“Yes, yes and that is the last match of the World Cup. The people are very excited.”
” جی جی اور وہ بھی ورلڈ کپ کا آخری میچ ہو بہت پر جوش ہے عوام دونوں طرف “
کمنٹری کی آواز چاروں اطراف میں گونج رہی تھی ۔ میسم نے ہیلمٹ کو درست کو اور ہاتھوں پر دستانے چڑھاۓ ۔ سبز رنگ کی وردی میں ملبوس وہ ابھی پیولین میں موجود تھا ۔
“India is considered the most favored team and India has ensured its victory by giving the best target of 370.”
” زیادہ پسندید ٹیم انڈیا کو مانا جا رہا ہے اور انڈیا نے تین سو ستر کا بہترین حدف دے کر اپنی جیت کو یقینی بھی بنا لیا ہے “
کمنٹری کی بازگشت پر میسم نے گردن کو داٸیں باٸیں جھٹکا دیا ۔ اور بلے کو دنوں ہاتھوں میں پکڑ کے کہنیوں کو باہر کی طرف نکال کر داٸیں باٸیں حرکت دی۔
“But you are forgetting one thing jo jo that this time the captain of the Pakistan team is masaum murad. I agree that the Pakistan batting is not so good than india but not trusted on masam”
” پر ایک بات بھول رہے ہیں آپ جوجو اس دفعہ پاکستانی ٹیم کا کپتان کوٸ اور نہیں میسم مراد ہے میں مانتا ہوں پاکستان کی بلے بازی بھارت کے مقابلے میں خاص نہیں پر میسم کا کوٸ بھروسہ نہیں “
کمنٹری گونج رہی تھی اور میسم بلا ہاتھ میں پکڑے سٹڈیم کے میدان کی طرف بڑھ رہا تھا۔ انڈیا نے تین سو ستر کا حدف دیا تھا اور آج میسم کو اپنا بہترین کھیل پیش کرنا تھا ۔ پر یہ سب اللہ کی مدد کے بنا ممکن نہیں تھا ۔ اور اسے خدا پر مکمل بھروسہ تھا ۔
“This is also becareful to India. Let’s see India has given Pakistan the best target of three hundard seventy after the first bating in the World Cup final.”
” یہ بات انڈیا کو بھی چوکنا کیے ہوۓ ہے چلیں دیکھتے ہیں ہو گا کیا جی تو ورلڈ کپ فاٸنل میچ میں انڈیا پہلے بلے بازی کرنے کے بعد پاکستان کو تین سو ستر کا بہترین حدف دے چکی ہے “
کمنٹری گونج اور لوگوں کے شور میں سے گزرتے وہ اور بلے باز سمیع اب پچ کی طرف بڑھ رہے تھے ۔
“Mesum Murad and Sami Akram coming from Pavilion to field for opener Batsman “
” اوپنر میں میسم مراد اور سمیع اکرم بلے بازی کے لیے پیولین سے میدان کی طرف آتے ہوۓ “
میسم نے ہاتھ کے اشارے سے سمیع کو پاس آنے کا کہا وہ نیا بلے باز تھا جو بہت اچھا کھیلتا تھا اور میسم ہی اسے آگے لے کر آیا تھا ۔
” دیکھو جم کے کھیلنا ہے گھبرانا بلکل نہیں ہار جیت سب اللہ کے ہاتھ میں ہے “
بھارت کے ساتھ کھیلنے پر ویسے ہی ساری ٹیم بہت زیادہ دباٶ کا شکار ہو رہی تھی وجہ قوم کے جزبات تھے جو اس کھیل سے جڑے تھے۔ پاکستانی عوام اس کو کھیل سے زیادہ جنگ سمجھ لیتی ہے انہیں وہاں کھیلنے والی کھلاڑی فوجی لگنے لگتے ہیں ۔
” جی میسم بھاٸ ان شا اللہ جیتیں گے “
سمیع نے لب بھینچ کر پر یقین انداز میں سر کو اثبات میں ہلایا۔
” ان شا اللہ بس پارٹنر شپ کو برقرار رکھنا ہے چل شاباش “
میسم نے اس کے کندھے پر تھپکی دی اور خود پاٶں کو گھٹنوں تک اٹھاتا بھاگتا ہوا اب وکٹوں کے سامنے کھڑا تھا ۔
“Misam Murad is the best batsman and captain of Pakistan currently taking a position in front of the wicket.”
” میسم مراد پاکستان کے بہترین بلے باز اور کپتان اس وقت وکٹ کے سامنے پوزیشن لیتے ہوۓ “
میسم نے اپنے مخصوص انداز میں آنکھوں کو سکوڑ کر گیند باز کے ہاتھوں پر ٹکایا۔ منہ کو ایک دفعہ کھول کر ہیلمٹ کی سر کے پاس ہوتی چبھن کو کم کیا ۔
“Ram Jeevan ready for bowling”
” رام جیون گیند بازی کے لیے تیار “
دوسری طرف نیلی وردی میں ملبوس بھارت کا گیند باز اب گیند کو ہاتھ میں تھامے بھاگتا ہوا آ رہا تھا ۔ گیند میسم تک پہنچتے ہی میسم اس پر بلا گھما چکا تھا ۔ ایک سکور کے لیے گیند میدان میں گھومتی ہوٸ جا رہی تھی اور نیلی وردی میں ملبوس کھلاڑی پیچھے بھاگ رہے تھے ۔
“Well Steve you ever noticed one thing Masum murad play accordingly to every bowler’s syle “
” اچھا سٹیو آپ نے ایک بات نوٹ کی کبھی میسم مراد ہر گیند باز کو اس کے مطابق کھیلتا ہے “
کمنٹیٹر آپس میں بات کر رہے تھے۔ میسم نے پہلی دو گیند آرام سے کھیلنے کے بعد اب تیسری بال پر چھکا لگا دیا تھا جس پر رام اب سر پکڑ کر کھڑا تھا اور میسم اور سمیع ہاتھوں کی مٹھیوں کو بند کیے ایک دوسرے کے ساتھ ملا رہے تھے ۔
“Yes look at the bowling of the bowler first and then play. That is how a good batsman should be.”
” جی گیند باز کی گیند بازی کو پہلے بہت غور سے دیکھتے ہیں پھر کھیلتے ہیں ایک بہترین بلے باز کو ایسا ہی ہونا چاہیے “
دوسرے کمینٹیٹر نے جواب دیا ۔ میسم پھر اپنی جگہ لے چکا تھا ۔ پھر وہ اسی طرح ہی کھیل رہا تھا ہر تیسری یا چوتھی بال پر ایک چوکا اور چھکا لگانا ضروری تھا کیونکہ بھارت کا حدف بہت زیادہ تھا ۔ سمیع اس کے ساتھ دس اٶور کھیل چکا تھا اور اب وہ بھارت کے سپنر گیند باز اجے کی گیند پر کلین بولڈ ہوا تھا ۔
“Out yes out Sami are out on Ajay’s first ball Ooh Sami Akram out on a very good partnership at ninth score”
” آٶٹ یہ آٶٹ ہیں سمیع اجے کی پہلی گیند پر ہی آٶٹ ہیں اوہ بہت اچھی پارٹرنر شپ نوے سکور پر سمیع اکرم آٶٹ “
سمیع اب پیولین کی طرف جا رہا تھا ۔ پر اس کے بعد کوٸ بھی سمیع کی طرح ٹک نہیں سکا تھا جس کی وجہ سے میسم کو اور ہمت دکھانی پڑ رہی تھی ۔ اس کی کپتانی میں یہ پہلا ورلڈ کپ تھا اور اسے یہ ورلڈ کپ ہر حال میں جیتنا تھا کیونکہ سب کی نظریں اس پر ٹکی تھیں پر اس کی نظریں خدا پر تھیں ۔ دل مسلسل ورد کر رہا تھا ۔ دو سو پچاس سکور بنا چکا تھا جو اس کے اب تک کے بناۓ گۓ سکور میں سب سے زیادہ تھا۔ کیمرہ نشستوں پر بیٹھی ارما کی طرف گھوما تھا جہاں تین سالہ ارما ننھے ہاتھوں کو اٹھاۓ دعا مانگ رہی تھی ادینہ بھی دعا کے انداز میں ہاتھ اٹھاۓ ہوۓ تھی شاٸد ادینہ کو دیکھتے ہوۓ وہ بھی وہی انداز اپنا چکی تھی ۔ دمیر ادینہ کے ساتھ بیٹھا پوری آنکھیں کھولے غور سے میچ کو ایسے دیکھ رہا تھا جیسے اسے سب سمجھ آ رہا ہو ۔
“she is the daughter of Mesum Murad , who is reminiscent of the England tour when masam’s wife pray was just like that.”
” یہ میسم مراد کی بیٹی ہیں شاٸد انگلینڈ کی سیرز یاد کروا رہے ہیں جب میسم کی واٸف بلکل اسی طرح دعا گو تھیں “
کمینٹیٹر نے ہنستے ہوۓ کہا ۔کیونکہ اب ایک طرف انگلینڈ کی سیریز کا مشہور کلپ چل رہا تھا جس میں ادینہ پانچ سال پہلے یوں ہی میسم کے لیے دعا مانگ رہی تھی ۔ اور ایک طرف سکرین پر ارما کو دکھایا جا رہا تھا ۔ پورا سٹڈیم ہنسنے لگا تھا پر میسم نے آج اپنی بیٹی کی طرف ہواٸ بوسہ اچھالا تھا جو بڑی سکرین پر میسم کو دیکھ کر خوشی سے اچھل پڑی تھی دعا مانگنا بھول کر وہ اب ادینہ سے میسم کے پاس جانے کی ضد کرنے لگی تھی ۔
آخری کھلاڑی تھے اب وہ اور اشرف اور ایک گیند پر دو سکور چاہیے تھے ۔ اشرف گیند باز تھا اور اس وقت وکٹ کے آگے وہی کھڑا تھا پاکستانیوں کے منہ لٹک چکے تھے ۔ پر میسم نے اشرف کو ہاتھ سے اشارہ کیا کہ کچھ نہیں ہوتا بس کھیل جا ۔
“Pakistan need two score on one ball to win “
” پاکستان کو جیت کے لیے ایک گیند پر دو سکور کی ضرورت“
کمنٹری کی آواز گونجی لوگ اب لبوں پر ہاتھ رکھے پریشان حال بیٹھے ہوۓ تھے ۔
“Oh very disturbing situations on both sides”
” اوہ بہت بہت پریشان کن حالات دونوں طرف “
کمنٹری کی گونج اور دھڑکتے دل سب کے اشرف بار بار پسینہ صاف کر رہا تھا ۔
“Sommeet Singh leads the bowling while Ashraf takes the wicket on the other side.”
” سومیت سنگھ گیند بازی کے لیے آگے بڑھتے ہوۓ دوسری طرف اشرف وکٹ سنبھالے ہوۓ “
بھارت کے بلے باز نے گیند اشرف کی طرف پھینکی اشرف نے اللہ کا نام لیا اور آگے بڑھ کر بلا گھمایا گیند کچھ ہی دوری پر گری میسم نے بھاگنا شروع کیا پر دل زور زور سے دھڑک رہا تھا ۔
ابھی ایک سکور ہوا تھا کہ گیند ان کے کھلاڑی کے ہاتھ میں آ چکی تھی میسم نے دوسرے سکور کے لیے دوڑ لگاٸ اشرف حیران ہوا اور بھاگ پڑا بھارت کے کھلاڑی نے دونوں کی طرف دیکھا اور پھر زور لگا کر گیند کو میسم کی طرف پھینکا یہی وہ غلطی کر گیا اشرف کی طرف پھینکتا تو شاٸد وہ جیت جاتے پر اسے یہی لگا تھا میسم تھکا ہوا ہے وہ اتنا تیز نہیں بھاگ سکے گا پر یہ صرف اس کی سوچ تھی گیند کے وکٹ تک پہنچنے سے پہلے وہ مقسوم بن چکا تھا ۔
پاکستان جیت چکا تھا ۔
*********
”ادینہ ادینہ سر میسم لسن ایک منٹ “
وہ لوگ ابھی سکیورٹی کے داٸرے میں آگے بڑھ رہے تھے جب پیچھے سے بازگشت ابھری ۔ ادینہ نے دمیر کو گود میں اٹھا رکھا تھا جبکہ ارما میسم کے بازو پر تھی ۔ دونوں نے ایک ساتھ گردن کو خم دیا تو روشان بھاگتا ہوا قریب آیا۔
” کیسے ہیں آپ سر پہچانا مجھے ؟“
روشان نے باچھیں نکالتے ہوۓ پھولی سانسوں کے ساتھ کہا ۔ اس کی آنکھوں پر چشمے کا اضافہ ہو چکا تھا ادینہ نے چونک کر میسم کی طرف دیکھا جو ایک آبرٶ چڑھاۓ روشان کو دیکھ رہا تھا۔ اور روشان کے بڑھے ہاتھ کو پرسوچ انداز میں تھاما ۔
” ادینہ کیسی ہو “
روشان نے مسکراتے ہوۓ ادینہ کی طرف دیکھا جو ابھی ہونق بنی میسم کی طرف دیکھ رہی تھی۔ افف یہ کہاں سے آ گیا ادینہ کا دل عجیب گھٹن سے بھرنے لگا ۔
” سر ایک سیلفی ہو جاۓ “
روشان نے جلدی جلدی موباٸل نکالا اور پاس ہوا میسم نے بھرپور مسکراہٹ چہرے پر سجاٸ اور قریب ہوا ۔ کن اکھیوں سے ادینہ کو دیکھا اس کے انداز پر ہنسی چھپاٸ وہ کتنی پیاری لگ رہی تھی اس طرح ڈرتی ہوٸ ۔
” شٸیور “
مسکراہٹ دبا کر ایک نظر پھر گھبراٸ سی ادینہ پر ڈالی جو اب ارد گرد دیکھ رہی تھی روشان کے ساتھ سیلفی بنانے کے بعد سیدھا ہوا ۔
” روشان انگلینڈ گھماٸیں گے میری فیمیلی کو ؟ “
خوشدلی سے مسکرا کر روشان سے کہا جس کا منہ خوشگوار حیرت میں کھل گیا تھا ۔ ادینہ نے حیرت سے میسم کی طرف دیکھا جس پر میسم نے مسکراتے ہوۓ ایک آنکھ دباٸ ۔
********
” میں نہیں تم بھول گٸ ہو شادی کیا ہوٸ جناب کی نہ کوٸ فون نہ کوٸ خبر دو سال ہو گۓ “
ادینہ نے فون کان کو لگاۓ خفگی سے کہا۔ باہر سے آتا شور بڑھنے لگے تھا ۔ دوسری طرف ماہ رخ موجود تھی جس کی شادی کراچی ہوٸ تھی ۔
” دور ہی بہت چلی گٸ ہوں یار “
ماہ رخ نے ٹھنڈی سانس لی اور اداسی سے کہا۔ لان سے اب دمیر کے رونے جیسی آوازیں آنے لگی تھیں ادینہ نے پیشانی پر بل ڈالے ۔
” ماہ رخ ایک منٹ میں تمہیں پھر کال کرتی ہوں کچھ دیر میں “
عجلت میں ماہ رخ کو جواب دینے کے بعد وہ تیز تیز قدم اٹھاتی باہر آٸ ۔ لان میں دمیر اور میسم بری طرح لڑ رہے تھے ۔
” بابا یہ کیا بات ہوٸ آپ پھر جلدی آٶٹ نہیں ہوتے “
دمیر میسم سے بلا پکڑ رہا تھا اور میسم بچوں کی طرح بلا واپس کھینچ رہا تھا ۔
” میسم کیا ہوا ہے بھٸ کیا شور ہے یہ“
ادینہ نا سمجھی کے انداز میں سر پر آ کر کھڑی ہوٸ ۔
” یہ تمھارا بیٹا تین دفعہ آٶٹ کر چکا ہوں اسے مجھے بلا دینے پر تیار نہیں یہ “
میسم نے گھور کر سات سالہ دمیر کی طرف دیکھا ۔
”میسم آپ بچے ہیں کیا “ ادینہ نے حیرت سے میسم کی طرف دیکھا ۔
” تو ؟ اس وقت میرے ساتھ کھیل رہا تو انصاف کرے “
میسم نے منہ پھلا کر کہا جس پر دمیر نے کمر پر ہاتھ رکھ کر غصے سے دیکھا ۔
” چلیں میں کرواتی آپکو بال کھڑے ہوں “
ادینہ نے اچانک کہا میسم نے آبرٶ چڑھاۓ وہ شرارت سے مسکرا رہی تھی ۔
” مما آپ “
دمیر چہک اٹھا اور پھر جوش سے اندر کی طرف بھاگا ۔
” ارما ارما مما بابا کو آٶٹ کریں گی “
وہ آوازیں لگاتا اندر گیا اور پھر اگلے ہی لمحے سات سالہ ارما پونی لہراتی دانت نکالے باہر آٸ تھی ۔ ادینہ نے گیند سیدھی میسم کے منہ کی طرف اچھالی جسے میسم نے بلا کھڑا کر کے جلدی سے روکا ادینہ نے دمیر کو اشارہ کیا جو اب پاس پڑا گیند سے بھرا باکس اٹھا کر ادینہ کے پاس آ چکا تھا ۔
” ادینہ یہ باونٸسر ہے چیٹنگ ہے یہ “
میسم نے بلا نیچے کیا اور انگلی کھڑی کرتے ہوۓ تنبہیہ کیا ۔
” تو کھیلں اس کو بھی “
ادینہ نے ایک اور گیند چہرے کی طرف پھینکی میسم بہت پھرتی سے بال کو روک رہا تھا ادینہ اب اٹھا اٹھا کر اندھا دھند گیند پھینک رہی تھی ۔
” یہ اس دفعہ سریز پر ساتھ نہ لے جانے کے لیے “
زور سے ایک گیند پھینکی میسم قہقہ لگا رہا تھا ۔ اور گیند بمشکل روک رہا تھا
” بیگم لگے گی اتنا پیارا چہرہ خراب ہو جاۓ گا ناز عالم کیا کہے گی “
ہنستے ہوۓ کہا ۔پر وہاں تو کوٸ اثر ہی نہیں تھا ۔
” یہ ناز عالم کے ساتھ ایک اور برینڈ کا ایڈ ساٸن کرنے کے لیے “
ایک اور گیند پھینکی ۔ بچے تالیاں بجا رہے تھے ۔
” بیگم “
میسم چیخا ۔ کیونکہ لگاتار گیند پر گیند آ رہی تھی بچے اٹھا اٹھاکرادینہ کو گیند دے رہے تھے ۔
” یہ میرے بیٹے کے ساتھ لڑنے کے لیے “
ایک اور پھینکی ۔ میسم اب کھیلتا ہوا آگے بڑھ رہا تھا۔
” تمھاری تو رکو “
بلے کو ایک طرف پھینک کر ادینہ کی طرف لپکا ۔
” مما بھاگیں “
دمیر اور ارما نے ایک ساتھ چیخنے کے انداز میں کہا ۔

 

–**–**–
ختم شد
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: