Masoom Khwahish Novel by Mahi Shah – Episode 1

0

معصوم خواہشیں از ماہی شاہ – قسط نمبر 1

–**–**–

شانزے ایک عام سے گھرانے کی عام کی سی لڑکی ۔۔۔ عام سی زندگی تو یہی ہے نا کہ پڑھا لکھا کر کچھ گھر داری سکھا کر وقت پر لڑکی کو بیاہ دیا جائے ۔۔۔ پھر اسکی زندگی ہے اسکا سسرال بچے اور شوہر ۔۔۔۔ عمومی طور پر ایک لڑکی کی زندگی کا دائرہ کار اتنا ہی ہے ایک دائرہ سمجھ لیں جو ماں باپ کے گھر سے شروع ہو کر کر بچوں کے گھر پر ختم ہوتا ہے اور اس دائرے میں لڑکی سے عورت بننے تک کی عمر پہلے باپ پھر شوہر اور پھر بچوں کی خدمت میں گزر جاتی ہے ۔۔۔
ہر عام لڑکی کی طرح شانزے کے گھر والوں نے بھی ماسٹرز میں داخلے کے ساتھ ہی رشتہ دیکھنا شروع کر دیا ۔
یہ رشتہ دیکھنا بھی بہت کٹھن مرخلہ ہوتا ہے ۔۔۔
اس میں لڑکی کے گھر سے لے کر بینک بیلنس اور جہیز کے ساتھ لڑکی خود پڑھی لکھی نازک خوبصورت اور صرف اٹھارہ سال کی ہو ۔۔۔ ایسا ہی ہے عام سے لوگوں کی زندگی کا بڑا اور خاص دکھ ۔
“بس بس ٹھیک ہے ۔۔۔ زیادہ میک اپ نہ کر لینا ۔”
” ماما زیادہ کہا کا ہے نیچرل میک اپ کیا ہے ۔۔۔ ہلکا ہلکا سا” شا نزے نے دوپٹہ سر پر ٹکاتے ہوئے اک ادا سے کہا ۔
صاف ستھری رنگت والی مناسب سا قد پر کشش نقوش والی وہ ایک عام سی لڑکی تھی جس کی زندگی بھی عام سی ہی تھی لیکن اسکے خواب بہت خاص تھے ۔
“بس بس اب یہ ایکٹنگ مہمانوں کے سامنے جا کر نہ کرنا ۔۔۔ ” مرتضیٰ نے اسے گھورا ۔
“سب کے بھائی اتنے اچھے ہوتے ہیں ایک میرا بھائی ہے ۔۔۔ یہ وقت ہے مجھ سے منہ ماری کرنے کا ۔”
شانزے نے آنکھوں میں آئے آنسو اپنے اندر اتارے ۔
“ایک تو میں تم دونوں کی اس حرکت پر بہت پریشان ہوں ۔۔۔ گھر پر مہمان بیٹھے ہیں اور یہاں تم دونوں کا یہ تماشا ۔ ” رابعہ نے آہستہ آواز میں کہا مبادہ ڈرا ئینگ روم میں بیٹھے لڑکے والے نہ سن لیں ۔
“سنتے ہیں تو سن لیں ۔۔۔ بڑا کوئی بزنس مین ہے نا انکا بیٹا ۔۔۔ ” شانزے نے منہ بنا کر کہا ۔
“بلکل ٹھیک کر رہی ہے شانزے ۔۔۔ “مرتضیٰ نے اسکی ہاں میں ہاں ملائی ۔
منہ بنا کر ماں کے اور بھائی کے سامنے تو بڑی بڑی باتیں بول دیتی تھی ۔۔۔۔ مگر دل چڑیا کا سا تھا شانزے کا یا شاید ہر لڑکی ہی ایسی ہوتی ہے جب سب کی نظروں کا محور بننا پڑتا ہے ۔۔۔ باتیں کرتے ہوئے تمام لوگ ایک دم خاموش ہو جاتے ہیں اور نظریں بس سامنے آکر شو پیس بن کر بیٹھی لڑکی پر ہوتی ہیں ۔
اس وقت سب کی نظریں کسی سکینر سے کم نہیں ہوتیں ۔۔۔ چہرے کا رنگ دانتوں کی بناوٹ میں لے کر لڑکے والوں کا بس چلے تو مکمل ایکسرے کر ہی لیں آیا آنتیں بھی نفاست میں اپنی جگہ موجود ہیں کہ نہیں ۔۔۔۔ جب کے لڑکی تو زمین میں نگاہیں گاڑھے سوچ رہی ہوتی ہے بس کسی طرح ماں کا اشارہ ہو کہ بیٹا جاؤ ۔۔۔ یہ برتن کچن میں رکھ دو ۔۔۔ اور حلق میں اٹکا سانس بحال ہو ۔
*****************
“مجھے تو بہت پسند ہے یہ رشتہ ۔۔۔ “
رابعہ اپنے شوہر سے مشورہ کرنے بیٹھی تھی جب کہ مرتضیٰ اس میں سے کیڑے نکالنے میں لگا تھا ۔
دلاور تو بس خاموشی سے دونوں کی سن رہا تھا جو بھی تھا فیصلہ اسی نے کرنا تھا .
“لڑکا دیکھا ہے ماما آپ نے ۔۔۔ نوکری بھی کوئی خاص نہیں ۔۔۔” مر تضیٰ کے اعتراض پر رابعہ کا پارہ چڑھ گیا ۔
“پھر اپنے باپ سے کہو کوئی لفٹنینٹ کرنل لے آئے اس مہارانی کے لئے ۔۔۔ ” رابعہ بھی اب تپ گئی ۔
“نوکری کے ساتھ شکل و صورت کا بھی کچھ خاص نہیں ۔۔۔ ” وہ مسلسل ناک منہ چڑھا رہا تھا ۔
“ایسی عام سے شکل و صورت والی لڑکیوں کے لئے کوئی عرش سے اترا شہزادہ تو آنے سے رہا ۔۔۔ میں کہتی ہوں خود کو دیکھو پہلے ۔۔۔ شادی بیاہ میں دیکھ بھال کر جوڑ کرنا پڑتا ہے ۔۔۔”
جب اولاد جوان ہو تو پاکستانی ماؤں کا سب سے بڑا ہتھیار ہوتا ہے اموشنل بلیک میل کرنا ۔۔۔ اگر اس سے کام نہ بنے تو دنیا جہاں کی اولاد کی تعریف اور اپنی اولاد میں کیڑے نکالنا ۔۔۔ رابعہ اپنے دونوں بچوں کو خوب جانتی تھی ۔۔۔ ماں کے ہی ان میں نقص نکالنے سے دونوں کو ہی چپ لگ جاتی ۔ اگر وہ ڈرامے باز تھے تو وہ بھی انکی ماں تھی ۔
“اب ایسی بھی بات نہیں ۔۔۔” شانزے نے ہلکا سا احتجاج کیا ۔
موبائل میں احد کی تصویر دیکھتی کہہ رہی تھی ۔
وہ چھے فٹ کا لمبا چوڑا مرد نہیں تھا مناسب سا قد ہو گا اسکا پانچ فٹ آٹھ انچ ۔۔۔۔ گندمی رنگ بھرا ہوا جسم اور چہرے کے مردانہ نقوش کو مزید دلکش بناتی اسکی داڑھی ۔۔۔ ڈریس پینٹ شرٹ پہنے گلے میں ٹائی لگائے وہ تیس بیتیس سالہ جوان مرد تھا ۔
جو کہیں سے بھی شانزے کے بنا ئے امیج سے میچ نہیں ہوتا تھا ۔
بلیک میل اموشنل ڈرامہ یا زبردستی ۔۔۔۔ جو بھی کہیں ۔۔۔ شانزے ایک عام سی کمپنی میں 9 میں 5 کام پر جانے والے ماسٹر پڑھے احد کے نام میں منسوب ہو گئی ۔
**************
“پرانے ذمانے کا جوڑا اور یہ ہلکی سی سونے کی انگھوٹھی ۔۔۔ کچھ سلامی کی رقم بھی ملی ہے ۔۔۔”
شانزے اپنی منگنی کے بعد خوب بدمزہ ہوئی اور ماما میں شکایت کرنے لگی ۔ اسے آنے والے کل کی فکر تھی ۔
“نا شکری نہیں بنو ۔۔۔ ماشاءالله اتنی اچھی تو ہو گئی رسم ۔۔۔۔ ” رابعہ آج بہت پرسکون اور مطمئن تھی ۔ انہیں تو شانزے آج کسی پری سے کم نہیں لگ رہی تھی جو فیروزی رنگ کے ہلکے سے کام والے جوڑے میں اچھے خاصے شگن کے سامان میں سے خامیاں نکال رہی تھی ۔
“کیا ماما اچھا کیا ہے اس میں؟ “
“بیٹا یہ سب بھی بہت اچھا ہے سسرال سے آئے شگن
کو بڑا بھلا کہنے سے بد شگونی ہوتی ہے ۔۔۔ “
“کیسی بد شگونی ماما ؟ میری دوستوں کی قسمت دیکھیں کیسے بھاری کامدار جوڑے ملے ہیں منگنی پر ۔۔۔ سونے کے سیٹ اور بڑے ہوٹل میں شادی ۔۔۔ کاش میرا بھی کوئی بچپن میں نکاح کر دیا ہوتا کسی کزن سے جو امیر ہو کر آتا مجھے لینے ۔ “
دماغ میں جہاں سکندر آیا ۔
“لڑکا جتنا بھی امیر ہو کھانا گھر میں بیوی کے ہاتھ کا بنا کھاتا ہے ۔۔۔ تمہیں چائے کے علاوہ کچھ بنانا آتا بھی ہے ؟ “جب سے شادی کے دن قریب آرہے تھے رابعہ اور شانزے کی الگ ہی فکریں تھیں ۔
شانزے آج تک یہ کہہ کر کھانا بنانے سے بچتی آئی تھی ۔
“جس سے میری شادی ہو گی وہاں تو بہت زیادہ ملازم ہوں گے ۔۔۔ ملازم نہ بھی ہوئے تو میرا میرے مزاجی خدا خود میرے لئے کھانا بنا دیا کریں گے ۔ “
کچن میں سبزی بنانا سیکھنا اسے جنگ کے میدان میں جانے کے مترادف لگ رہا تھا ۔
***************
کسی کی کوئی بھی بات بری لگے تو بیٹا آگے سے کوئی جواب نہ دینا ۔۔۔ صبر سے سب کا دل جیتنا سسرال میں ۔۔۔ دن رات رابعہ یہی نصیحتیں کرتی رہتی ۔
ہر لڑکی کی طرح شانزے نے بھی بہت سے خواب دیکھ رکھے تھے اپنی شادی کو لے کر ۔۔۔ امیر بھلے ہی نہ ہو بہت ہینڈسم بھی نہ ہو تو کوئی بات نہیں ۔۔۔ بہت زیادہ پیار اور احساس کرنے والا شوہر ہو جو مجھے سب سے زیادہ محبت اور اہمیت دے ۔
جیسا ہیرو کرتے ہیں ۔ شانزے نے اپنا شادی کا جوڑا دیکھتے ہوئے رابعہ سے کہا ۔
ہیرو بس فلموں ڈراموں یا کہانیوں میں ہوتے ہیں ۔
اور جو ہیرو ہوتے ہیں انہیں ہیروئن چاہیئیے ہوتی ہے ۔۔۔ رابعہ نے اسکی بات کو زیادہ اہمییت نا دی ۔
*************
“تمہاری شادی ہے اور تم خوش نہیں ہو؟ کیا کسی اور کو پسند کرتی ہو؟” علیشبا اپنی بچپن کی سہیلی اور ماموں زاد بہن کی شادی کے لئے خاص لاہور سے کراچی آئی تھی ۔
“ہاں کرتی ہوں پسند ۔ ” شانزے بجھے دل سے بولی۔
“کسے ؟ تم نے اب تک یہ بات گھر پر کسی کو کیوں نہیں بتائی ؟” وہ حیران ہوئی ۔
“جو مجھے پسند ہیں وہ کسی کی دسترس میں نہیں آسکتے ۔” اس نے ایک ٹھنڈی آہ بھری ۔
“تم ایک بار گھر پر کسی سے بات تو کرو ۔ ” کچھ دیر پہلی والی خوشی یک دم غائب ہوئی ۔
“میری خواہش ہے مجھے ناولز کے جیسا ہیرو ملے ۔ ” وہ منہ بنا کر بولی ۔
“کیا مطلب ؟” دونوں سہلیاں کمرے میں بیٹھی شادی کی شاپنگ دیکھتی اپنے دل کی باتیں کر رہی تھیں ۔
“تم چاہتی ہو تمہیں ایک سائیکو آدمی ملے جو تمہیں مارے پیٹے ؟ بیلٹ ہنٹر بیلن غرض کوئی چیز نہ چھوڑے جسے تمہیں مارے اور تو اور وہ شراب پیتا ہو زانی ہو؟ ہاں پر تم سے بہت محبت کرے؟ “
وہ جو سالار جہان یا فارس جیسے کسی ہیرو کے انتظار میں بیٹھی تھی اسکی دوست نے تو اسے بد مزہ ہی کر دیا ۔
“الله نہ کرے ۔ “
“اب ناول کا ہیرو تو ایسا ہی ہوتا ہے ۔ یا تم چاہتی ہو تمہیں کوئی اغوا کر لے ؟ تمہارے باپ بھائی کو مار کر تمہیں اٹھا کر لے جائے نکاح کر لے اور تمہیں اس سے محبت ہو جائے ؟” اسکے ہیرو کے امیج کی دھجیاں بکھیرتی اب وہ اپنی ہنسی چھپا رہی تھی ۔
جب اس نے پاس پڑا کشن اسے کھینچ کر مارا ۔
“اچھا اچھا تم ایسا ہیرو چاہتی ہو ؟ اب سمجھی ۔۔۔” وہ کچھ سوچ کر بولی ۔
وہ آنکھوں میں چمک لئے اسے دیکھنے لگی شاید اب وہ اسکے دل سمجھ گئی ہے .
“جو 25 سال میں بزنس امپائر کا مالک ہو ۔ تمہیں ڈائمنڈس گفٹ دے اور تو اور کسی سے بات تک نہ کرنے دے ۔۔۔اگر کبھی کسی سے بات کرو تو تمہیں کسی اندھیرے کمرے میں بند کر دے ۔۔۔ پوسیسو ہیرو ! “
“دفع ہو جاؤ ۔۔۔ کوئی ضرورت نہیں میری شادی میں آنےکی ۔۔۔ ہیرو کہا ہے میں نے۔۔ تم یہ کون سی تعریف سنا رہی ہو ہیرو کی؟ ” ہیرو دانت پیس کر کہا۔
“میں ماڈرن زمانے کے ہیرو کی بات کر رہی ہوں ۔ “
وہ ابھی بھی اسکا ستا ہوا چہرہ دیکھ کر ہنس رہی تھی ۔
“میری شادی میں مت آنا ۔ “وہ اسے ایک اور کشن مارتی چلائی ۔
“لو اس میں برا منانے کی کونسی بات ہے ۔۔۔ میں نے ہیرو ہی تو بتایا ہے ۔ ہیرو تو ایسا ہی ہوتا ہے ۔ “
وہ پرسوچ نظر آنے لگی ۔
“ہاں شاید بدلہ لینے والا ہیرو ۔۔۔ اسکا ذکر نہیں کیا “
وہ کمرے کا دروازہ پکڑے پیچھے دیکھ کر کہتی اسکے متوقع حملے سے بچتی قہقه لگاتی کمرے سے باہر چلی گئی ۔
ہنسی مذاق میں نا چاہتے ہو ئے بھی شانزے کے دل میں احد کے لئے محبت کے جذبے سر اٹھانے لگے تھے ۔۔۔ دل میں موجود ہیرو کی امیج وہ احد میں دیکھنا چاہتی تھی ۔
“شانزے ۔۔۔ میں سوچ رہی تھی احد بھائی میں تو تمہارے ہیرو والی ایک بھی کوالٹی نہیں ۔ ” علیشبا اسے خود سے ہی مسکراتے دیکھ کر شرارت سے بولی ۔
“اب اتنے بھی گئے گزرے نہیں ہیں احد ۔۔۔ “وہ برا منا گئی ۔
“لیکن اگر تمہاری طرح وہ بھی ہیروئن کی تلاش میں ہو ئے تو ؟ ” وہ بھنویں اچکا کر بولی ۔
کیا مطلب ہے تمہارا؟ شانزے متفکر ہوئی ۔
“اگر انہیں بھی ناولز کی ہیروئن چا ہیئیے ہوئی جو نازک سی دنیا کی ہر بات سے نا بلد کچے ذہن کی ہو جسے شادی جیسے رشتے کی سمجھ ہی نہ ہو ۔۔۔ پانچ وقت کی نمازی ، نیک سات پردوں میں رہنے، نازک اتنی کہ اونچی آواز سے کانپ جانے والی اور سخت اتنی کہ بیلٹ کی مار کھا کر بھی کھانا بنانے والی بیوی چاہئیے ہوئی تو؟ “
شانزے اسکی بات سن کر لٹھے کی مانند سفید پڑ گئی ۔
“تم مجھے ڈرا رہی ہو ۔۔۔۔ “وہ منمنائی ۔
علیشبا جو اپنا قہقه روکنے میں سرخ ہو رہی تھی اسکی شکل دیکھ کر ہنس ہنس کر لوٹ پوٹ ہوتی اسے اپنے ساتھ لگائے رونے سے منع کر رہی تھی ۔
شادی کے دن نزدیک ہوں تو نہ چاہتے ہوئے بھی لڑکی اموشنل ہو جاتی ہے ۔۔۔ بات بات پر رونا اور دل بھر آنا نارمل سی بات ہے ۔شانزے بھی اس وقت بہت حساس ہو رہی تھی ۔
***************
رخصتی کے وقت خوب رونا دھونا کر کے سب کو اداس کرتی وہ اپنے پیا گھر چلی گئی ۔
ہر طرف گلابوں کی مہک اور مدھم روشنی اسے اپنا دل ڈوبتا ہوا محسوس ہوا ۔
جیسے جیسے کسی کے قدموں کی آہٹ نزدیک آرہی تھی ۔۔۔ شانزے کو دل کی دھڑکن اپنے کانوں میں سنائی دے رہی تھی ۔۔
پرانے زمانے کی دلہنوں کی طرح وہ بھلے ہی چہرے پر گھونگھٹ اوڑھ کر نہ بیٹھی تھی مگر شرم سے آنکھیں ہی اٹھا نہ پا رہی تھی ۔
احد نے اسکے پاس بیٹھتے ہو ئے اسکا ہاتھ تھاما تو جیسے دل دھڑکنا ہی بند ہو گیا ۔

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: