Masoom Khwahish Novel by Mahi Shah – Episode 2

0

معصوم خواہشیں از ماہی شاہ – قسط نمبر 2

–**–**–

نظر اٹھا کر اس نے سامنے بیٹھے اپنے شوہر کو دیکھا تو دیکھتی ہی رہ گئی ۔
پہلی بار کسی مرد کو اتنے قریب سے دیکھا مرد بھی وہ جو اسکا محرم تھا ۔۔۔بقول اسکے اسکا ہیرو ۔
تصویر سے تو وہ آج بلکل مختلف لگ رہا تھا ۔۔۔ صاف نکھرا رنگ ۔۔۔ نفاست سے بنی داڑھی اور محبت لٹاتی نگاہیں ۔۔۔ ایک نظر میں ہی وہ اسکے دل پر قابض ہو گیا ۔
وہ شرم سے نظریں پھر سے جھکا گئی ۔
“تم کمفرٹیبل ہو اس ڈریس میں؟” احد نے بہت عام سے لہجے میں پوچھا ۔
“جی ! نہیں ۔۔۔ میرا مطلب ہیں ہاں ۔۔۔”
(زمین آسمان کے قلابے نہ سہی تھوڑی سی تعریف ہی کر دیں ۔) دل میں سوچتے ہوئے وہ اسکے اگلے جملے کا انتظار کرنے لگی۔
“اس گھر میں آج تک کبھی کوئی لڑائی نہیں ہوئی ۔ سب بہت محبت سے ایک دوسرے کے ساتھ رہتے ہیں پھر وہ بھابھی امی یا رمشا ہو تمہاری نند ۔۔۔ سب کا پیار سلوک مثالی ہے ۔۔۔ میں چاہتا ہوں تم بھی سب کے ساتھ بہت پیار سے رہو ۔”
وہ اسے بہت نرمی سے سب گھر والوں کی اہمیت اور اپنی ان سے محبت کا بتا رہا تھا اور وہ یہ سوچ رہی تھی اب اسکی تعریف ہو گی اب محبت کا اظہار ہو گا ۔
“سب کی دل سے عزت اور خدمت کرنا ۔۔۔ اب یہی تمہارا گھر ہے ۔ “احد نے بہت اپنائیت اور محبت سے اسکا ہاتھ تھامتے ہوئے کہا ۔
گھر والوں کے بعد کب اسکا نمبر آیا اسے یاد نہ رہا جو اظہار احد سے وہ سننا چاہتی تھی وہ تو نہ سنا لیکن اپنے رشتے کے تقاضے اور نوعیت کو وہ اچھے سے جانتی اور سمجھتی تھی . . کسی کی طرف سے کوئی اعتراض یا اظہار نہیں کیا گیا پھر بھی انکا رشتہ بہت مکمل اور سکون دینے والا تھا ۔
شادی کے بعد کے دن بہت خاص تھے ۔ شانزے بہت خوش تھی لیکن بہت سی خواہشیں دماغ میں ہلچل مچاتی رہتی ۔
احد نے پانچ دن کی چھٹی کے بعد بلآخر دوبارہ آفس جانا شروع کر دیا ۔
احد کم گو تھا یا شاید شادی کے بعد سب ہی شروع میں کم بولتے ہیں ایک دوسرے کی تعریف کے علاوہ کچھ اور کہنا بھی تو نہیں ہوتا ۔
شانزے نے احد کو باتھ روم میں جاتے دیکھا تو خود دروازے کے سامنے کھڑی ہو گئی ۔
احد دروازہ کھول کر باہر آیا تو شانزے نے خود کو اسکے سامنے پیر موڑنے کی ایکٹنگ کی اور گرنے ہی والی تھی جب احد نے اسکا بازو پکڑ کر اسے تھاما ۔
“تم ٹھیک ہو؟” وہ پریشان ہوا ۔
شانزے شرمانے کی ایکٹنگ کرتی اسے دیکھنے لگی ۔
“کہیں چوٹ آئی ہے ؟ ” وہ اس کا بازو ہلاتا پوچھنے لگا ۔
“میں ٹھیک ہوں ۔ ” وہ نظریں جھکا کر بولی ۔
“تم یہ بڑے گھیر والی کھلی شلواوار پہن لیتی ہو اسی لئے کھڑے ہونے میں دقت ہوتی ہے ۔ بار بار کون گرتا ہے اس طرح ۔ “وہ بہت سنجیدہ دکھائی دیتا تھا ۔
“میرا ہی دماغ خراب ہے جو یہ سوچتی ہوں آج تو کچھ نیا ہو گا ۔ رومانس کا توآر بھی نہیں ہے ان کے اندر ۔ ” وہ منہ بنا کر سوچنے لگی ۔
“اتنی جلدی آفس جانا ضروری ہے ؟ ” وہ محبت سے اسے دیکھنے لگی ۔
احد نے مسکرا کر اسے دیکھا ۔
“دل تو میرا بھی نہیں کر رہا جانے کا ۔ محبت سے کہتا وہ اسکے چہرے پر آئے کئی رنگ دیکھ رہا تھا ۔
گھر تو تنخواہ سے ہی چلتے ہیں نا۔۔۔ شادی پر بہت خرچہ ہو گیا ہے ۔ تم بھی سگھڑ بیویوں کی طرح گھر سنبھالنا ۔” وہ صاف صاف کہتا اسکے سامنے سے اٹھ کر گیلے بالوں کو تولیے سے رگڑتا ڈرسنگ مرر کے سامنے کھڑا ہو گیا ۔
***************
“نئی نئی شادی ہوئی ہے اتنا نہیں کہ بیوی کے نخرے دیکھیں ۔ ناز اٹھائیں ۔” شادی کے دس دن بعد ہی روائتی نوک جھوک شروع ہو گئی ۔ آج تو شانزے نے باقاعدہ بات کرنے کا سوچا ۔
“میری سب سہیلیاں شادی کے بعد کہیں نہ کہیں گئی ہیں اور ایک ہم ہیں ۔۔۔ لگتا ہی نہیں نئی نئی شادی ہوئی ہے ۔ “
“یہ نئی نئی شادی کا کیا مطلب ہے؟”
“دس دن بعد شادی نئی ہی ہوتی ہے ۔ مجھے لگتا ہے آپ کو شوق ہی نہیں تھا شادی کا ۔ زبردستی کر دی آپ کے گھر والوں نے ۔ “
“مرد کسی بھی عمر کا ہو شادی کے لئے ہر وقت تیار رہتا ہے ۔۔۔ میں تو ابھی جوان ہوں تو پھر شوق کیسے نہیں تھا شادی کا ۔” احد موبائل دیوار میں نسب ایل ای ڈی پر نظریں گاڑے اسے جواب دے رہا تھا ۔
“کتنے ارمان تھے میرے ۔۔۔ شادی کے بعد ایسا ہو گا ویسا ہو گا ۔۔۔ ہوا کیا ؟” وہ خود سے ہمکلام تھی مگر آواز اتنی ضرور تھی کہ احد بآسانی سن سکتا تھا ۔
“یہ جو تمہارے ارمان تھے ایسا ہو گا ویسا ہو گا ۔۔۔ یہ تو دو سے چار دن میں ہی ختم ہو جاتے ہیں اور جو ہوا ہے ہر شادی کا یہی انجام اور مقصد ہوتا ہے ۔” احد نے اسکے کندھوں پر اپنے بازو حمائل کرتے ہوئے کہا ۔
کچھ پل تو وہ شرم سے خاموش تھی پھر یاد آنے پر خود کو اس سے دور کر کے بیٹھ گئی ۔
“جی نہیں ! سب سیر کو جاتے ہیں ۔ گھومتے پھرتے ہیں زیادہ کچھ نہیں تو ہوٹلنگ ہی کر لیتے ہیں ۔ ” وہ نا چاہتے ہوئے بھی افسردہ ہو رہی تھی ۔
“اب تم اتنی ضد کر رہی ہو تو چلتے ہیں سیر کرنے لیکن یہ پہلی اور آخری ضد ہو گی جو یوں پوری ہوئی ۔ “احد نے تنبیہ کی ۔
“منظور ہے” وہ خوشی سے چہکتی اسکے قریب ہو کر بیٹھ گئی ۔
*****************
شادی کے ہنگاموں کے بعد دونوں حرفِ عام میں سیر پر چلے گئے ۔۔۔ اور شانزے کی اصتلاح میں ہنی مون ۔
دونوں کشمیر گئے تھے اور شانزے کا یہ ٹرپ بھی ناولز کے ہنی مون ٹرپ سے یکسر مختلف تھا ۔
“احد ایک تصویر بنوا لیتے ہیں نا ایک ساتھ ۔ “
“یار راستہ دیکھو ۔۔۔ جلدی ہوٹل چلو ۔۔۔ کہیں پھس گئے تو اجنبی جگہ ہے لفٹ لینے سے بھی خطرہ ہو سکتا ہے ۔ ” احد اسکی ضد کی پرواہ کئے بغیر اسے جانے کا کہہ رہا تھا . .
“اچھا نا بس ایک سیلفی ۔۔۔ ” وہ اسکا ہاتھ پکڑ کر بولی ۔
“ٹھیک ہے جلدی کرو ۔ ” وہ اسکے کندھے پر ہاتھ رکھے اسکے ساتھ کھڑا ہوتا ہوا سیلفی لینے لگا ۔
وہ اسکے کندھے پر سر ٹکائے مسکرا کر اسے دیکھ رہی تھی ۔
“چلو اب جلدی چلو اور ہاں یہ وٹس ایپ سٹیٹس مت لگا دینا ۔۔۔ وہاں سارا خاندان دیکھے گا پھر نئے مسلے ۔” احد نے تنبیہ کی ۔
وہ آنکھیں گھماتی اسکا ہاتھ پکڑے چلنے لگی ۔
“کبھی ایسا نہیں سنا نہ پڑھا کہ بیوی کے ساتھ تصویر لگانے سے بھی مسائل ہوتے ہیں ۔ مسائل تو انکو ہوں جو بیوی کے علاوہ کسی اور کے ساتھ تصویر لگاتے ہیں ۔ “وہ گاڑی میں بیٹھ کر بھی سکون نہیں لے رہی تھی ۔
“سب کہتے ہیں شرم نہیں ہے ان میں۔۔۔ “
شانزے نے مزید بحث کا ارادہ ترک کیا اور ارد گرد کے نظارے دیکھنے لگی ۔
****************
زندگی آسانی سے ایک ڈگر پر چل رہی تھی ۔ دونوں میاں بیوی خوش تھے ۔۔۔ کبھی کبھی نوک جھوک لڑائی جھگڑا کرتے ۔
شادی کے بعد بھی ناولز کی شوقین کے خواب ختم نہیں ہوئے ۔
جیسے صبح صبح گیلے بالوں کو جھٹک کر ہیرو یعنی شوہر کو جگانا۔
اس نے شادی کے بعد کم سے کم ایک تو ہیرو ہیروئن والی خواہش پوری کرنی چاہی اور گیلے بال سوئے ہوئے شوہر کے چہرے کے قریب کئے ۔
ہیروئن کی سی ادا سے بال جھٹک کر اپنے شوہر نامدار کو جگانا چاہا ۔
“صبح صبح کمرے میں بارش ۔۔۔ ” وہ ہربڑا کر اٹھ گیا۔ سامنے شانزے گیلے بالوں کو جھٹک کر اسے دیکھ رہی تھی ۔
“اوہ تم نے یہ کیا حال بنا رکھا ہے؟ ” نیند سے جلدی اٹھ جانے پر وہ بدمزہ ہوا ۔
اب کیا کہتی کیا ہائے ایک بار محبت سے یہی کہہ دیتے تمہارا یہ انداز بڑا جان لیوا ہے ۔ شانزے نے سوچتے ہوئے اسے دیکھا ۔
“بیوی کواس طرح نظر انداز کرنا ۔۔۔ سب سمجھتی ہوں میں ۔۔۔ کسی اور کو پسند کر تے ہیں تو مجھ سے شادی ہی کیوں کی؟” وہ رج کے بد مزہ ہوتی واپس سے گیلے بال زور سے اسکے منہ پر جھٹک کر بال ڈرائیر سے ڈرائے کرنے چل دی ۔
“کسی اور کو پسند ؟ دماغ چل گیا ہے بیبی تمہارا صبح صبح؟ کسی اور کو پسند کرتا ہوتا تو تم سے شادی کیوں کرتا ؟” وہ منہ کے زاویہ بناتا فریش ہونے چلا گیا ۔
وہ آئینے کے سامنے کھڑی تیار ہو رہی تھی اسے پوری امید تھی کم سے کم اب تو اسکا شوہر اسے محبت پاش نظروں سے بیڈ پر کہنی کے بل لیٹتا دیکھے گا ۔
ناولز کے سینز دماغ میں ایسے نقش تھے کہ اٹھتے بیٹھتے سوتے جاگتے وہ ہونے شوہر میں ایک ہیرو کو ڈھونڈ رہی تھی ۔۔۔ جو آفس جانے کی جلدی میں عجلت میں تیار ہونے میں مصروف تھا ۔
دماغ میں کہیں خیال آیا ۔ روڈ ہیرو ۔
وہ منہ بناتی تیار ہونے لگی ۔

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Read More:  Ishk Ka Qaaf Novel by Sarfraz Ahmed Rahi – Episode 8

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

%d bloggers like this: