Masoom Khwahish Novel by Mahi Shah – Episode 3

0

معصوم خواہشیں از ماہی شاہ – قسط نمبر 3

–**–**–

شانزے سارا دن سسرال والوں کو اور وہ شانزے کو سمجھتے رہتے ۔ کبھی شانزے کی کوئی بات ساس یا نند کو بری لگ جاتی کبھی انکی بات سے شانزے کا دل دکھ جاتا . . شب و روز اسی طرح گزر رہے تھے ۔
احد کی نو سے پانچ کی نوکری اور ہفتہ اتوار گھر پر گھر والوں اور شانزے کے ساتھ گزرتا باقی دنوں میں تو دفتر وقت پر پہنچنے کی دور میں ہی گزر جاتے ۔
ایک مہینہ آرام کے بعد آخر کار نئی بہو کو کچن اور گھر کے کاموں پر لگا دیا گیا ۔
کچھ مہینوں میں سسرالیوں اور شانزے میں اچھی خاصی دوستی ہو گئی جب احد کو الگ گھر کا فرمان جاری ہو گیا . .
“شادی کے بعد کی زندگی میں لونگ ڈرائیو ، ہوٹلنگ کرنا ، شاپنگ پر جانا ، محبت بھری باتیں کرنا اور بھی نا جانے کیا کیا سوچا تھا ۔ یہ تو سوچا ہی نہیں تھا شوہر سے بھی پہلے اسکے گھر والوں کا دل جیتنا پڑتا ہے اللہ‎ اللہ‎ کر کے وہ ہو ہی جائے تو گھر داری میں سارا وقت گزر جاتا ۔ رومانس کہاں اور کب ہوتا ہے زندگی میں؟ ” وہ کچن میں چولہے کے پاس کھڑی
دودھ ابالتی ہوئی سوچ رہی تھی ۔
احد کا رومانٹک نہ ہونے کا صدمہ اب کافی حد تک کم ہو گیا کیونکہ اسکی جگہ آج کیا پکانا ہے کی نظر ہو جاتا ۔
احد دفتر سے لوٹا تو نا جانے کیا خیال آیا کہ کچن میں ہی شانزے کے پیچھے آگیا ۔
“کیا ہو رہا ہے؟ ” وہ جو اپنی ہی دھن میں کھڑی تھی احد کی آواز پر چونک گئی ۔
“اف اللہ‎ احد ! ڈرا دیا مجھے آپ نے ۔ دودھ ابال رہی ہوں ۔” وہ پھو لے ہوئے تنفس کو بحال کرنے لگی ۔
اچانک احد کی نظر شانزے کے ہاتھ پر پڑی جہاں ہلکا سا کٹ کا نشان تھا ۔احد نے ہاتھ میں پکڑا پھلوں والا شاپر شلف پر رکھا اور شانزے کا ہاتھ پکڑ کر دیکھا ۔
“شکر ہے زیادہ گہرا کٹ نہیں ہے ۔ کیسے لگا یہ؟ “
“سبزی کاٹتے ہوئے لگ گیا ہو گا ۔ یا شاید گلاس ٹوٹا تھا وہ ۔۔۔” شانزے بھی اپنے ہاتھ پر لگے کٹ کا معائنہ کرنے لگی ۔
“لاپرواہی کی بھی حد ہوتی ہے ۔ شکر ہے زیادہ نہیں لگا ۔ تم ذرا اختیاط سے کام کیا کرو ۔ ” غصّے اور فکر کا ملا جلا تاثر تھا ۔
“ہاں میں ہوں ہی لا پرواہ ! مجھے کہاں کچھ کرنا آتا ہے ۔ آپ کی ماں بلکل سہی کہتی ہیں میرے بارے میں” مہینوں پہلے کبھی کوئی دیا طعنہ یاد کروایا گیا ۔
“انکا یہاں کیا ذکر ؟ میں تمہاری فکر کے لئے کہہ رہا ہوں ۔ “
“رہنے دیں آپ سب سمجھتی ہوں میں ۔” وہ اپنا ہاتھ کھینچتی بد مزہ ہوئی ۔
“کوئی ہاتھ پر مرہم لگایا جاتا ہے ۔ دوا کا پوچھا جاتا ہے ۔ آرام کرنے کا کہا جاتا ہے لیکن نہیں ۔ ” اب تک کے سارے پڑھے ہیروز کی خاطر مدارت کرنے والے سین یاد آئے ۔
“دوا تو لے دوں گا ۔ اچھا ایسا کرو آج کھانا نا بناؤ باہر سے کھالیتے ہیں ۔ تیار ہو جاؤ ۔ اب موڈ ٹھیک کر لو اپنا ۔ ” احد اسے کہتا ہوا کچن سے چلا گیا ۔
ہر کسی کا احساس کرنے کا یا محبت جتانے کا اپنا الگ ہی طریقہ ہوتا ہے ۔ اصل زندگی اور فنٹسی کا آپس میں دور دور تک کوئی تعلق نہیں ہوتا ۔ اگر یہ بات سب سمجھ جائیں تو شکووں کی جگہ شکر کرنے لگ جائیں ۔
************
شانزے بہت لگن سے تیار ہوئی ۔ باہر جانے کی خوشی اور وہ بھی بغیر منتیں کئے ۔ آج تو اسکے لئے عید کا سا سماں تھا ۔
“ہر بار اسی جگہ آتے ہیں آج کہیں اور چلتے ہیں” احد نے گاڑی پارکنگ میں روکتے ہوئے کہا ۔
“نہیں یہی ٹھیک ہے سستا بھی ہے ۔”
“جیسے تمہاری مرضی ۔” گاڑی سائیڈ پر لگاتا وہ اسے لئے اندر چلا گیا ۔
ڈنر کرتے وقت پیار محبت کی باتیں اور ایک دوسرے کی تعریف تو اتنی نہیں ہوئی جتنی گھر کا کونسا سامان لینا ہے ۔ کونسے رشتے دار پسند ہیں اور کونسے نہیں یہ سب ڈسکس ہوتا رہا ۔
“مجھے یہ سمجھ نہیں آتی کہانیوں میں سب ہر وقت پیار محبت کی باتیں کیسے کر لیتے ہیں ۔ “
“کونسی کہانیاں ؟ “
“یہی فلم ڈرامہ ناول ۔ “
“دو سے تین گھنٹوں میں کوئی مکمل زندگی تو نہیں دکھا سکتا ۔ زندگی کے کچھ پہلو یا کچھ حصے پر ہی روشنی ڈالی جاتی ہے ۔ “احد کی بات پر شانزے نے پرسوچ نظروں سے اسے دیکھا ۔
“جو حصہ دکھایا جاتا ہے ویسا تو کچھ بھی نہیں ہوتا ۔ “
“وہ اس لئے کہ جہاں فلم یا ڈرامہ ختم ہوتا ہے اصل زندگی وہاں سے شروع ہوتی ہے ۔ “
“جیسے؟ “
“جیسے ساری کہانی کا مقصد دو کرداروں کو ملانا ہوتا ہے ۔ جہاں وہ ملے وہی کہانی ختم ۔۔۔ جب کہ زندگی تو شروع وہاں سے ہوتی ہے جب دو لوگ مل کر ایک ساتھ زندگی گزارنے کی سوچتے ہیں ۔
اب دال سبزی آٹا گھی اس سب کا بھاؤ تو کہانی میں بتانے سے رہے ۔”
“چلو کچھ حصہ نہیں بتاتے جو بتاتے ویسا کیوں نہیں ہوتا ؟ “
“جیسا وہ بتاتےہیں ویسا عام انسانوں کی زندگی میں ہونے لگی تو دوسرا سانس تک نہ آئے ۔ “
“اب ایسا بھی نہیں ہے ۔ اتنی پیاری باتیں کرتے ہیں ہیرو ہیروئن ۔”
“گانے بھی گاتے جہاں میوزک بھی آجاتا اور ڈرسز بھی خود ہی بدلتے جاتے ۔ ” احد نے مذاق بنایا۔
“وہ تو دل کی آواز ہوتی ہے ۔ یہ بتایا جاتا دو لوگ آپس میں کتنے خوش ہیں ۔ انکا دل کیا چاہتا ہے ۔” اب اتنی آسانی سے تھوڑی وہ اپنی خیالی دنیا کو غلط کہہ سکتی تھی ۔
“اسکے لئے گانا گا کر یا ڈانس کر کے بتانا ضروری تھوڑی ہے ۔ اب ہمیں دیکھ لو ۔ ایک ساتھ خوش ہیں ۔ اچھی محبت بھری زندگی گزار رہے ہیں ۔ “
پہلی بار احد کے منہ سے ایسے الفاظ سن کر وہ آنکھیں بڑی کر کے اسے دیکھنے لگی ۔
“کیا تم خوش نہیں ہو؟ “
“ہاں ! بہت خوش ہوں ۔ “
“شکل تو ایسے بنا رہی ہو جیسے بہت ظلم ہوتے ہیں تم پر ۔”
“آپ کو کچھ زیادہ زبان نہیں لگ رہی ؟ “
“تمہارا ہی اثر ہے ۔ “
ویٹر بل رکھ کر چلا گیا تو احد بل کی رقم بٹوے میں سے نکال کر رکھنے لگا ۔ تو شانزے بل دیکھنے لگی ۔
“یہ اتنے زیادہ پیسے کیوں رکھ رہے ہیں؟ “
“ٹپ کے لئے ۔” وہ مصروف سے انداز میں بولا ۔۔
“ہاں تو بس سو روپے ٹھیک ہیں اسکے لئے ۔ “
اتنے میں تو ایک پورے دن کا راشن آجائے ۔ شانزے کچھ نوٹ اپنے پرس میں ڈالتی بولی ۔
“یہ بھی نہیں بتایا جاتا تمہاری کہانیوں میں ۔” احد اسکی حرکت پر چوٹ کرتا محظوظ ہوا ۔
“خود تو آپ نے کہا ہے سب نہیں بتایا جاتا ۔” وہ بھی ہار ماننے کے موڈ میں نہیں تھی ۔
***************
شانزے آج کل عام حالات سے کچھ زیادہ ہی تھک جاتی ۔ دن بھر سستی اور کمزوری محسوس کرتی ۔
اکثر ہی احد کیلئے ناشتہ بنانے بھی نہ اٹھ پاتی ۔ پھر سارا دن اسی ملال کی نظر ہوتا کہ آج احد ناشتہ کئے بغیر چلے گئے ۔
“یہ آدھی رات کو کیا شوق ہو رہا ہے تمہیں؟ “
“آپ کے ہفتے بھر کے کپڑے استری کر کے رکھ رہی ہوں ۔ ایک دن کا رہ گیا تھا وہی دیکھ رہی ہوں کونسا والا استری کروں ۔” وہ الماری میں ہی منہ دئے بولی ۔
“یار لائٹ ہی آف کر دو ۔۔۔ نیند بھی ٹھیک سی پوری نہیں ہو گی اس طرح میری ۔ پھر سارا دن سر میں درد رہے گا ۔”
“بس پانچ منٹ میں کر دیتی ہوں ۔ “وہ اسکے لئے کپڑے لیتی آہستہ سے کمرے کا دروازہ بند کرتی باہر چلی گئی مباده پھر سے احد کی نیند میں خلل نہ پڑے ۔
احد کے کپڑے پریس کر کے انہیں اچھے سے ہینگ کرتے ہو ئے شانزے سے احد کی ٹائی کو بہت محبت سے دیکھا ۔
“کتنا شوق تھا مجھے کہ اپنے شوہر کو روز صبح خود اپنے ہاتھوں سے ٹائی باندھا کروں گی ۔ یہاں وقت پر آنکھ خل جائے اور ناشتہ کروا کر ہی روانہ کر دیا جائے تو بڑی بات ہے ۔ “وہ محبت سے اسکی ٹائی کو رکھتی مسکرائی ۔
سونے کی لئے جب وہ کمرے میں پہنچی تو احد گھوڑے بیچ کر سو رہاتھا ۔
شانزے نے محبت سے اسکے ماتھے پر بکھرے بال پیچھے کئے ۔
وہ لمبا کسرتی وجود والا آنکھوں سے ہی گھائل کرنے والا ہر وقت پیار محبت کی باتیں کرنے والا بھلے نہ تھا لیکن وہ عزت کرنے والا محنت سے کما کر حلال کی کھلانے والا اچھا شوہر تھا جو شانزے اور گھر کی ساری ذمہ داری بخوبی نبھا رہا تھا ۔
شانزے سے اسے پر سکون سوتے دیکھ اسکے بالوں کو اپنے ہاتھ سے خراب کیا مگر مجال ہے وہ تھوڑا سا بھی ہلا ہو ۔
اس نے منہ بنا کر اسکے داڑھی کے بالوں کو چھیڑا ۔
وہ جو پیٹ کے بل لیٹا نیند میں مگن تھا اس نے سرخ ہوتی آنکھوں کو ہلکا سا کھول کر شانزے کو گھورا ۔
شانزے کی مسکراہٹ پل میں غائب ہوئی ۔
“سارا دن کا تھکا ہارا انسان دو گھڑی سکون نہیں لے سکتا اس گھر میں ۔ “اتنے شدید غصّے کا مظاہرہ وہ صرف نیند سے جگانے پر ہی کرتا تھا ۔
“تو میں کس سے بات کروں جو بھی بات کرنی ہو؟
آپ کی یہاں نیند ہی پوری نہیں ہوتی ۔” شانزے کو بھی آج غصّہ آہی گیا ۔ خود سے نہیں سمجھ سکتا تھا وہ کبھی شانزے بھی چاہتی تھی وہ اس سے گهنتٹوں نہیں تو کچھ منٹ ہی فرصت سے بیٹھ کر بات کر لے ۔
“الگ گھر کا مطالبہ تمہارا ہی تھا ۔ اب میں کام چھوڑ کر تو تمہیں کمپنی نہیں دے سکتا ۔ “
“کیا مطلب ہے آپکا؟ آپ کی ماں کو مجھ سے ہزار مسائل تھے اور انہی کے فرمان پر ہم الگ ہو ئے میرے لئے نہیں کیا کچھ ۔”
ایک بات تو طے ہے مرد بیوی اور ماں دونوں کو ایک ساتھ خوش نہیں رکھ سکتا ۔ ماں کا شکوہ کہ بہو نے بیٹا چھین لیا اور بیوی کا غم کہ ماں کی بیوی سے زیادہ اہمیت ۔
ایک روایتی مرد کبھی بھی اپنی بیوی کی ہر بات پر لبیيک کرنے کے باوجود زبان سے اقرار نہیں کرتا بس کہتا ہے اسکے عمل کو سراہا جائے اور بیوی چاہتی ہے شوہر بھلے ہی اپنی کرے بس زبان سے کہہ دے کہ میں تو تمہارے ساتھ ہوں ۔
“یار کیا مسلہ ہے ؟ آدھی رات کو لڑنے کا دل ہے تمہارا؟” وہ منہ تکیے میں دئے بولا۔
“ہاں میرا دل کرتا ہے لڑنے کا ۔ میرا دماغ خراب ہے جو آپ سے ہر بات کئے بغیر سکون نہیں ملتا ۔ آپ کو تو نہ شادی کرنی تھی نا میری کوئی قدر ہے ۔ ان سے پوچھیں جن کی شادی نہیں ہوئی اور بیوی کو ترستے ہیں ۔ جب آسانی سے سب کچھ مل جاتا ہے تو قدر نہیں ہوتی ۔ پتہ نہیں کونسی بیویاں ہوتی ہیں جو ہر بات منوا لیتی ہیں شوہر سے ۔ یہاں تو بات سن لی جائے تو کیا ہی بات ہے ۔ ” جھل بن کر کہتی وہ آنسو صاف کرتی احد کو دیکھنے لگی جو چہرہ موڑے ابھی بھی سو رہا تھا ۔
غصّے سے تكيه اسکے منہ پر مارتی شانزے بھی منہ موڑ کر سو گئی ۔
صبح اٹھ کر بھی اس نے احد سے بات نہیں کی ۔
خاموشی سے ناشتہ بنا کر دیا اور واپس سونے چلی گئی ۔
دو تین دن اسی طرح گزر گئے احد نے ایک بار بھی نہیں پوچھا کیا تم ناراض ہو؟ کوئی بات ہوئی ہے؟
شانزے دل ہی دل میں کڑتی آج بھی منہ موڑ کر سو گئی ۔
تو ایسی ہوتی ہے میاں بیوی کی لڑائی جہاں نہ درمیان میں تکیے کی دیوار ہوتی ہے نہ بیڈ سے صوفے پر یا اگ کمرے میں سویا جاتا ہے ۔ بس منہ موڑ لیا اور سو گئے اور یہی چند انچ کا فاصلہ عبور کرنے میں پہل کرنا ایک پہاڑ سر کرنے کے برابر ہوتا ہے ۔

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Read More:  Dastan Iman Faroshon Ki by Inayatullah Altamash – Episode 18

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

%d bloggers like this: