Masoom Khwahish Novel by Mahi Shah – Last Episode 4

0

معصوم خواہشیں از ماہی شاہ – آخری قسط نمبر 4

–**–**–

“مجھے آج ماما کی طرف جانا ہے ۔ ” شانزے نے احد کو ناشتے پر اطلاع دی ۔
کچھ سوچ کر احد نے سر ہلا دیا ۔
“شام میں تیار رہنا چھوڑ آؤں گا ۔” نارمل لہجے میں کہتا وہ آفس چلا گیا ۔
شانزے سارا دن جلتی کڑتی گھر کے کام کرتی رہی شام میں تیار ہو کر احد کا انتظار کرنے لگی۔
احد نے شام میں اسے اسکی ماں کے گھر چھوڑا سسرالیوں نے داماد کی اچھی خاصی خاطر مدارت کی ۔ سب کے ساتھ کچھ گھنٹے گزار کر وہ گھر آکر لمبی تان کر سو گیا ۔
شانزے اپنے بھائی کے ساتھ کافی دیر تک باتیں کرتی رہی ۔رات میں ماما پاپا کے ساتھ خوش گپیوں میں کچھ مصروف رہی . .
*********
اگلے دن بھی جب شانزے نے واپس نہ جانے کا بتایا تو رابعہ کو کچھ غلط ہونے کا احساس ہوا ۔ماؤں کو اللہ‎ نے ایک اضافی حس دی ہے وہ اپنی اولاد کے غم پریشانی اور خوشی انہیں بغیر دیکھے بھی جان لیتی ہیں ۔ ابھی تو شانزے ہنسنے کی ایکٹنگ کرتی اسکی نظروں کے سامنے تھی وہ کیسے نہ سمجھتی کچھ ۔
“شانزے تم لڑائی کر کے آئی ہو؟ “
شانزے نے چونک کر اپنی ماں کو دیکھا ۔
“وہاں کون ہے جس سے لڑائی کروں گی اکیلی ہی ہوتی ہوں گھر پر ۔ “
“احد سے لڑائی ہوئی ہے ؟” رابعہ اسکے جواب سے بلکل بھی مطمئن نہ ہوئیں ۔
“ماما کوئی لڑائی نہیں ہوئی ۔ “
“شانزے جھوٹ نہ بول میرا دل بیٹھا جا رہا ہے ۔ “
وہ متفکر ہوئیں تو شانزے کی پریشانی مزید بڑھ گئی ۔
“احد کے ساتھ ہوئی ہے لڑائی ۔” وہ منہ بنا کر بولی ۔
“کس بات پر ؟”
“ماما ! وہ ہر بات پر اپنے گھر والوں کی سائڈ لیتے ہیں ۔” شانزے کی آنکھیں نمکین پانیوں سے بھر گئیں ۔
“اس بات پر گھر چھوڑ کر کون آتا ہے ؟” رابعہ تو بس رو دینے کو تھی . . بیٹی کا گھر چھوڑ کر آنا ۔ یہ سوچ ہی اسکا دل دہلا رہی تھی ۔
“یہ چھوٹی بات ہے ؟ تین دن سے مجھ سے بات نہیں کر رہے ۔ کہتے ہیں علیحدہ گھر بھی میری ضد تھی انکی ماں نے کبھی کچھ غلط نہیں کیا یا کہا مجھے ۔” وہ روہانسی ہوئی ۔
“تم الگ تو ہو گئی ہو پھر ان سب باتوں کا مقصد؟ “
“وہ خود ایسی بات کر دیتے ہیں ۔ ویسے بھی انہیں کوئی فکر نہیں تو میں بھی نہیں جا رہی واپس ۔ “
“شانزے میرا ہارٹ فیل ہو جانا ہے کسی دن تمہاری ایسی باتوں سے ۔ “
“ماما ! آپ میری ٹنشن نہ لیں ۔ “
“جب خود ماں بنو گی نا پھر پوچھوں گی میں ۔ “
شانزے بس منہ بنا کر بیٹھی رہی ۔
“اتنی سی بات پر گھر چھوڑ کر آجائے تو بس گیا گھر پھر ۔ جتنی بھی بات بڑھ جائے یا مسلہ ہو اپنا گھر نہیں چھوڑتے کبھی بھی ۔ وہیں نظروں کے سامنے رہ کر بات کرتے ہیں ۔ شوہر کا دل جیتنے کے لئے بڑے جتن کرنے پڑتے ہیں ۔ اسے اپنا عادی بناؤ چھوٹی چھوٹی باتوں کو درگزر کرو اور اپنی انا کو اپنے رشتے سے دور رکھو پھر کہیں جا کر گزارا ہوتا ہے ۔ “
“وہ جو مرضی کریں ۔ سارے جتن میں ہی کروں بس ؟ “
“کیا نہیں کرتا وہ؟ کونسی تمہاری ذمہ داری نہیں اٹھائی اس نے؟ ٹھنڈے دودھ کو پھونکیں مارتی ہو تم بس ۔ ساری غلطی ہی تمہاری ہے ۔پہلے اسکی ماں کو بات کی پھر گھر چھوڑ کر یہاں آکر بیٹھ گئی ہو ۔۔”
“ہاں سب میری ہی غلطی ہے ۔ وہ جو ضد کے اتنے پکے ہیں تین دن سے بات نہیں کی خود سے ۔۔۔ میں ہی ڈھیٹوں کی طرح انکو بلا رہی ہوں انکے سب کام بھی کر رہی ہوں ۔ پھر میں نے یہاں آنے کا کہا تو بھی نہیں روکا ۔ افون تو دور ایک مسج تک نہیں کیا ۔” شانزے نے اب باقاعدہ رونا شروع کر دیا ۔
“ہاں ساری غلطی تمہاری ہے ۔ ابھی اسی وقت اسے کال ملاؤ اور واپس اپنے گھر جاؤ ۔” رابعہ کا جیسے آخری فیصلہ تھا . .
“وہ خود نہیں کر سکتے کال ؟ مسج ہی کر دیں میں لینے آرہا ہوں ۔” ہلکا سا احتجاج کیا گیا ۔
“شانزے مجھ سے اب شادی کے بعد ایک تھپڑ نا کھا لینا ۔” شرافت سے بلاؤ اسے ۔
“آپ کو میں کبھی سہی نہیں لگتی ۔ “وہ بڑبڑاتی ہوئی منہ بنا کر مسج کرنے لگی ۔
“اب میں نے مسج کر دیا ہے ۔ اگر تو وہ لینے آتے ہیں تو ٹھیک ہے ورنہ میں یہی رہوں گی ۔”
“خبر دار جو دوبارہ اپنے گھر سے اس طرح ناراض ہو کر آئی ۔ “
“خوشی سے جب دل کرے آؤ ۔ “
“میری تو کوئی عزتِ نفس ہی نہیں ہے نا ۔” اسے رہ رہ کر غصّہ آرہا تھا ۔
بیٹی کا گھر بسانے میں ماں کا کردار بہت اہم ہوتا ہے۔ اگر وہ لڑکی کو شہ نہ دے بات بات پر لڑائی پر اکسانے کی بجائے صلح جو بنائے تو لڑکی کی زندگی سسرال میں کافی حد تک آسان ہو جائے ۔
**************
“لڑکیوں کی مائیں ہمیشہ اپنی بیٹی کی طرف ہوتی ہیں اور ایک میری ماں ہیں ۔ میرا کوئی احساس ہی نہیں میری فکر نہیں ۔ مجھ سے مسج کروا دیا ۔
چلو میں نے مسج کر ہی دیا تھا تو انکا فرض تھا آجاتے مجھے لینے ۔ رپلائے تک نہیں کیا ۔ یہی اوقات ہے میری انکی زندگی میں انہیں کوئی فرق نہیں پڑتا ۔ میری پرواہ ہی نہیں .” شانزے نے دوپہر سے شام تک بس یہی راگ الاپے ۔ ابھی بھی وہ موبائل ہاتھ میں لئے لاشعوری طور پر مسج یا کال کا انتظار کر رہی تھی ۔ بلآخر شام میں کال آہی گئی احد کی . .
“آٹھ بجے تک تیار رہنا تمہیں لینے آرہا ہوں ۔ “احد نے مختصر سا پیغام دیا ۔
“بیٹا کھانا تو کھا کر جاؤ اس طرح اچھا لگتا ہے تم آئے ہو بیٹھے تک نہیں کھانا بھی نہیں کھایا ۔ ” رابعہ نے احد کو سر پر پیار دیتے ہوئے کہا۔
“آنٹی میں نے اسی لئے آنے کا وقت نہیں بتایا تھا آپ تکلف میں پڑ جاتیں . . “
“تکلف کی کوئی بات نہیں تمہارا گھر ہے ۔ اچھا نہیں لگتا اس طرح بیٹا ۔”
“پھر کبھی آنٹی ۔ “
احد نے بات کرتے کرتے ایک نظر شانزے کو دیکھا جو تیار تھی مگر احد سے بے نیاز .
گاڑی گھر کی بجائے ریسٹورنٹ کی جانب تھی ۔
“ہم کہاں جا رہے ہیں ؟” شانزے نے نروٹھے پن سے پوچھا ۔
“اب اتنی رات کو کیا پکاؤ گی ۔ اس لئے سوچا ڈنر کر کے ہی گھر جاتے ہیں ۔” احد سامنے دیکھتے ہوئے ڈرائو کرتا ہوا بولا ۔
شانزے خاموشی سے بیٹھی رہی ۔
ڈنر کرنے تک شانزے کا موڈ بہت حد تک اچھا ہو گیا ۔
“انکی انا کو سکون ملا ہو گا میں نے ہی بلایا ہے آخر ۔ “شانزے نے سوچتے ہوئے اسکی باتوں پر کان دھرے ۔
“تم کچھ اور لو گی؟” احد نے نرمی اور محبت سے پوچھا ۔
“نہیں بس !” وہ اب بھی نخرے دکھا رہی تھی ۔
***************
شانزے نے گھر آتے ہی لباس تبدیل کیا اور کچن کا رخ کیا ۔ ایک دن بعد کچن کا حال دیکھا تو شکر کیا کچن قابلِ قبول حالت میں ہی تھا ۔ نا چاہتے ہوئے بھی شانزے کو خود پر افسوس ہوا ۔
“آپ نے صبح ناشتے میں کیا لیا تھا؟” بیڈ پر اپنی سائیڈ پر لیٹتے ہوئے شانزے نے پوچھا ۔
“ناشتہ ہی لیا تھا ۔ وہ الگ بات ہے اب بیوی گھر سے باہر ہو تو کیسا نا شتہ ۔ “
“ایک دن کے لئے گئی تھی میں بس ۔ آپ روک لیتے مجھے ۔ “
“تم اتنے دن بعد گئی تھی ۔ تمہارا خیال تھا اسی لئے جانے دیا ۔” احد نے اسے خود سے قریب کرتے ہوئے کہا ۔
“تو آپ مجھے ناراض نہ کیا کریں ۔ میرا اپنا دل کہاں لگتا ہے آپ کے بغیر ۔” وہ اسکے کندھے پر سر رکھے اتنے سارے دنوں کا غبار نکالنے لگی ۔
“میں نے کیوں ناراض کرنا ہے تمہیں ؟ تمہیں خوش کرنے کے لئے تو اتنا کچھ کرتا ہوں پھر بھی تم ناراض ہو گئی ؟ کس بات پر ؟ “
یعنی وہ جو اتنے دنوں سے جلتی کڑتی رہی نیندیں حرام کیں مقابل تو بلکل انجان تھا ۔
احد کی بات پر شانزے نے سر اٹھا کر اسے دیکھا ۔
“میری اتنی بھی فکر نہیں ہے آپ کو ۔ اپنی انا کو سب سے اوپر رکھتے ہیں آپ ۔” یہ سب بس سوچا . .
“اب بتاؤ تو کیوں ناراض ہو؟ ” احد نے محبت سے پوچھا ۔ مگر اسکا لا علم ہونا شانزے کو دکھی کر گیا ۔
“آپ نے ایک مسج تک نہیں کیا ۔ میں انتظار کرتی رہی ۔ “
“مسج اس لئے نہیں کیا کہ آنٹی کسی تکلف میں نا پڑیں ۔ “
“یہ بات ناراض ہونے والی تو نہیں تھی ویسے ۔”
“ناراض تو میں کسی اور بات سے تھی اتنے دن آپ سے بات نہیں کی لیکن آپ کو کوئی فرق ہی نہیں پڑتا ۔ “وہ شکوہ کئے بنا نہ رہ سکی ۔
“کتنے دن سے ناراض تھی اور کیوں ؟ مجھے بتایا ہی نہیں تو علم کیسے ہوتا کہ منانا بھی ہے ۔” احد انجان بن رہا تھا یا سچ میں انجان تھا ۔ شانزے کا دل کیا اپنا سر پیٹ لے ۔
“اب میں کیا خود سے آپ کو کہتی سنئے میں ناراض ہوں مجھے منا لیجئیے ؟ “
“جب کوئی بحث جگھڑا کچھ ہوا ہی نہیں تو مجھے بھی خواب آنے سے رہا کہ شانزے بی بی ناراض ہیں ۔”
“مطلب میں جو اتنے دنوں سے بے سکون ہوں کہ آپ کو کوئی فرق نہیں پڑتا میرے ناراض ہونے سے ۔ آپ کو اس بات تک کی خبر نہیں تھی کہ میں ناراض ہوں ؟”
“آئندہ مت ہونا ناراض ۔ اب یہ ناراض ناراض کی رٹ ختم کرو ورنہ میں نے ناراض ہو جانا ہے ۔” احد نے شرارت سے کہا ناچار اسے خاموش ہونا پڑا ۔
کبھی کبھی ہم جو بات انا کا مسلہ بنا کر رشتے خراب کر لیتے ہیں اگر وقت رہتے بات کر کے حل نکالا جائے تو یقیناً بہت سے رشتے ٹوٹنے دے بچ جائیں ۔
*************
اتوار کو شانزے نے بریانی بنائی تو احد اسکی مدد کی خاطر برتن خود دھونے لگا ۔
“ارے یہ آپ کیا کر رہے ہیں ؟ چھوڑ دیں ۔ میں خود کر لوں گی ۔” شانزے اسکے ہاتھ سے صابن لگا برتن لینے لگی ۔
“کوئی ہے نہیں تمہاری مدد کرنے والا یہاں تو تھوڑی سی ہیلپ تو میں کر ہی سکتا ہوں ۔” وہ مصروف
انداز میں بولا ۔
آہستہ آہستہ احد نے یہ روٹین بنا لی جب وہ گھر جلدی آجاتا یا اتوار کا دن ہوتا وہ کچن میں شانزے کی مدد کرنے لگا ۔ یہ ضروری نہیں تھا لیکن شاید یہ احد کا محبت کرنے کا انداز تھا ۔
****************
شانزے کو نئے مہمان کی خوشخبری ملی تو اسکے پیر تو جیسے زمین پر نہیں تھے ۔ ہر وقت وہ ساتویں آسمان پر رہتی ۔
وہ ہانپتی ہوئی کرسی پر بیٹھی تھی ۔
“تم ٹھیک ہو؟ ڈاکٹر کے پاس چلتے ہیں ۔” احد متفکر تھا ۔
“اسکی دوائی سے بھی فرق نہیں پڑ رہا یہ وومٹ رکتی ہی نہیں ۔ “شانزے نے زرد چہرے پر ہاتھ پھیرا ۔
“یہی بتائے گے اسے کہ فرق نہیں پڑ رہا چلو اٹھو شاباس ۔”
سچ کہتے ہیں سب میاں بیوی کے رشتے میں اولاد ایک مظبوط کڑی ہوتی ہے جو دونوں کو ایک دوسرے کے مزید قریب کر دیتی ہے ۔
شادی کے شروع کے دنوں سے لے کر شانزے کے ماں بننے تک احد اور اسکے رشتے میں خاطر خواں تبدیلی آئی تھی ۔ خوش گوار تبدیلی ۔
شادی کے چند سال گزر گئے شانزے کے رومانس کے خواب تو کب کے ختم ہو چکے گھر بچے کچن ۔۔۔زندگی تو بس ان سب کے گرد گھومتی رہتی ۔
آج بالوں میں تیل لگا کر جوڑا بنائے وہ حسبِ معمول کچن میں مصروف تھی جب احد آفس سے واپسی پر کچن میں ہی آیا ۔
اسکے ہاتھ تھام کر خود اسکی کلائیوں میں گجرے پہنائے ۔
“بہت حسین لگ رہی ہو ۔ تھوڑا وقت اپنے اس شوہر نامدار کو بھی دو یار ۔” شادی کے اتنے سالوں میں شانزے اسکی باتوں اور نظروں کا مفہوم پڑھنا خوب جان گئی تھی ۔
“آپ کے بچوں اور گھر کو دیکھو یا آپ کو ؟” وہ مصروف انداز میں بولتی واپس چولہے کی طرف مڑی ۔
“مجھے اس سب کا کچھ نہیں پتا بس میرے لئے وقت نکالو ۔” وہ حکم صادر کرتا چلا گیا ۔
بے ساختہ اسکی بات شانزے کے لبوں پر مسکان لے آئی ۔
اصل زندگی میں ہر وقت تو انسان ایک دوسرے کی باہوں میں باہیں ڈالے آنکھوں میں جھانکتا محبت بھری بول نہیں بولتا لیکن ایک دوسرے کا ساتھ ہی سکون بخشنے کے لئے کافی ہوتا ہے .
اب ایسا کہاں کسی کہانی میں ہوتا ہے کہ تیل لگا کر رف سے حلیے میں کام کر رہے ہو اور اس حال میں بھی اپنے شوہر کو سب سے حسین لگو ۔
بھلے ہی ویسا رومانس زندگی میں نہیں ہوتا جیسا نوولز میں لکھا ہوتا ہے ۔ مگر اصل زندگی کا رومانس اس سب سے کہیں خوبصورت ہوتا ہے ۔ جہاں ہر وقت زندگی میں نیا ٹوسٹ نہیں ہوتا اتار چڑھاؤ زندگی کا حصہ ہوتے ہیں لیکن آپکا ہمسفر ہمیشہ آپ کے ساتھ ہوتا ہے ۔ آپ کو محبت سے بھی زیادہ عزت دیتا ہے ۔ آپ اپنا ہر دکھ سکھ دل کی ہر بات اس سے شئیر کر سکتے ہیں ۔ ضروری نہیں چھے فٹ سے لمبا قد کسرتی وجود اچھا بزنس ہی کامیاب زندگی کی ضمانت ہو ۔ زندگی تو محبت پیار خلوص اور اپنے پن سے خوبصورت ہوتی ہے اور یہی سب سے اہم اور خوبصورت رومانس ہے ۔
ہیرو وہ نہیں ہوتا جو خوبصورت شکل و صورت کا مالک ہو ۔ ہیرو تو وہ ہوتا ہے جو خوبسیرت ہو ۔ جو عزت دینا جانتا ہو ۔ اپنے سارے فرض بخوبی نبھاتا ہو ۔
اگر لڑکیاں قصے کہانیوں سے نکل کر اپنے ہمسفر کو اسکی خوبیوں کو دیکھیں تو بلاشبہ زندگی بہت سہل اور سکون دینے والی ہو ۔
شانزے نے اپنے شادی سے پہلے سے لے کر اب تک کے خیا لات کا موازنہ کیا تو خدا کا شکر کئے بنا نہ رہ سکی ۔ آخر اسکی معصوم خواہش تو ہیرو کی تھی جو بے شک اللہ‎ نے پوری کی تھی ۔

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Read More:  Khoj Novel by Zeeshan Ul Hassan Usmani – Episode 17

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

%d bloggers like this: