موسم (افسانہ) از رمشا یاسین

0
موسم (افسانہ) از رمشا یاسین

–**–**–
آج موسم نہ جانے کیوں بہت اداس تھا۔ فضا سائیں سائیںکررہی تھی۔آسمان اداسی کے رنگوں میں ڈوبا ہوا تھا، ہوائیں بے چین و بے قرار تھیں۔ پت جھڑ کا یہ موسم تو جیسے کسی بری خبر کی صوغات لے کر آیا تھا۔ تمام پھول مرجھا چکے تھے اورپتے کسی رویٔ کی مانند ہوا میںاڑتے پھررہے تھے۔ خزاں کا یہ موسم حسین و دلکش تو تھا ہی مگر اداسی کی جو لہر اس کے اندر نمایاں تھی وہ کسی بھی مچلتی روح کو اداس کرنے لیٔ کافی تھی۔ پرندے درختوں پر ڈیرا جماے ٔ بیٹھے تھے ، کوئل بھی آج اپنی میٹھی اور سریلی آواز سے فضا کو مسرت بخشنے سے قاصر تھی۔ یوں معلوم ہو تا تھا جیسے ہر ایک شے نے آج ایکا کرلیا ہے۔ خزاں کا زرد موسم بڑا دل گداز تھا اور بہار، بہار تو جاچکی تھی، اس کے آنے میں اب تو جیسے کیٔ برس لگ جانے تھے۔
اس کی اماں نے اسے جانے سے روکا اور کہا کہ بٹیا پہلے کھانا کھالے، پھر چلی جانا۔ مگر شنو پر توجیسے ایک جنون سوار تھا کہ آج تو ڈھیر ساری بیریاں توڑ کر لاؤں گی۔ شنوگاؤں والوں کی لاڈو تھی۔ وہ سب کے دلوں پر راج کرتی تھی۔ حسین ہونے کے ساتھ ساتھ نہایت ذہین بھی تھی۔ ہمیشہ اول آتی تھی، مقابلوں میں حصہ لیتی تھی،اور کہانیاں لکھا کرتی تھی۔ وہ اسی تلاش میں رہتی تھی کہ کہیں سے کویٔ کہانی اس کے ہاتھ لگ جاے ٔ تو وہ اپنے قلم کو لفظوں میں پروتے ہوے ٔ ایک خوبصورت سی تخلیق میں اسے بدل دے۔ ایسے ہی آج بھی وہ کہانی کی تلاش میں تھی۔ اس نے صبح ہی اپنی اماں سے کہا تھا، کہ اماں آج میں کویٔ کہانی لکھنا چاہتی ہوں مگر دماغ بالکل خالی پڑا ہے۔ اور اس کی اماں نے بڑے پیار سے اس کے بال سہلاتے ہوے ٔ کہا تھا، ارے نہیںلاڈو، تو تو بڑی ذہین ہے۔ دیکھنا توآج بھی بڑی اچنگی کہانی لکھے گی۔اور پھر شنو بڑے غور سے موسم کی جانب دیکھنے لگی تھی۔ اور کہنے لگی تھی کہ اماں، آج موسم کتنا اداس معلوم ہوتاہے۔ کیوں نہ میں موسم کے اس رویے پر لکھوں؟ اس اداسی پر لکھوں جو موسم میں جھلک رہی ہے۔ جیسے یہ کچھ بتانا چاہ رہی ہوں، کچھ دکھانا چاہ رہی ہوں، جیسے کہ اس موسم کی اداسی میرے اندر اتر رہی ہو۔یہ کہتے ہوے ٔ شنو بیریاں توڑنے کی نیت سے گھر سے باہر نکل گیٔ اور اس کی اماں اسے تکتی رہ گیٔ تھی۔
وہ درخت کی ٹہنی پر چڑھے بیریاں توڑنے کی کوشش میں مشغول تھی کہ چوہدری کرموں نے اسے دیکھ لیا۔ کرموں کا شمار گاؤں کے بڑے لوگوں میں ہوتا تھا۔وہ گاؤں کا وڈیرا ہونے کے ساتھ ساتھ پنچائت کا حاکم بھی تھا۔ کویٔ بھی فیصلہ کرنا ہوتا تو کرموں کی بات کو سب سے زیادہ فوقیت دی جاتی تھی۔یہاں تک کہ اگر کسی شخص سے کویٔ گناہ سرز د ہوجاے ٔ تو کرموں کا فیصلہ ہی اس انسان کے حق میں آخری فیصلہ ہوتا تھا۔ جیسے ہی کرموں نے شنوکو دیکھا تو سوچا کہ کیوں نہ شنو کی بیریاں توڑنے میں مدد کردے۔چنانچہ وہ شنو کے پاس جا کھڑا ہوا اور اس سے کہنے لگا، کہ آؤ گڑیا، ہم تمہاری مدد کیے دیتے ہیں۔ شنو نے کرموں کو چونک کر دیکھا اور کہنے لگی، نہیں کرموں چچا، میں کرلوں گی۔ شنو، کرموں کو کرموں چچا کہا کرتی تھی بلکہ گاؤں کے تمام بچے ہی اسے کرموں چچا کہ کر پکارا کرتے تھے کیوں کہ وہ تمام بچوں سے ہی نہایت شفقت و محبت سے پیش آیا کرتا تھا۔ وہ شنو کو ٹکٹکی باندھے دیکھنے لگا۔ جب وہ بیریاں توڑ چکی تو اس نے شنو سے کہا، کہ کھیت چلو گی؟ وہاں خوب سیر و تفریح کرنا۔ شنو کو کرموں چچا کی پیشکش بڑی بھلی معلوم ہویٌ اور وہ خوشی خوشی اس کے ساتھ چل دی ۔ جب وہ دونوں کھیتوں میں پہنچے تو شنو کی خوشی کی انتہا نہ رہی ۔وہ پورے کھیت کے چکر کاٹتی پھررہی تھی۔ پھر اچانک کرموں نے شنو سے کہاکہ کہا چلو اب بیٹھ جاؤاور اپنی لکھی کویٔ کہانی مجھے سناؤ۔ شنو نے کہانی سنانا شروع کی، جب تک وہ کہانی سناتی رہی، کرموں کی نظریں اس کے چہرے کا طواف کرتی رہیں۔ پھر اچانک سے وہ شنوکے چہرے اور بالوں پر اپنا ہاتھ پھیرنے لگا تو وہ ایک دم چونکی۔ کرموں کہنے لگا کہ گھبرا نہیں شہزادی، میں تو تجھے پیار کررہا ہوں، اور پھر وہ اس کے چہرے سے ہاتھ ہٹا کر اپنا ہاتھ اس کے کندھوں اور پھر کمر پر لے آیا۔ تو شنو ہڑبڑا کر پیچھے ہٹی۔ اس نے سہمتے ہوے ٔ کہا کہ مجھے گھر جانا ہے، اماں انتظار کررہی ہوگی۔ ارے ہاں ہاں گڑیا، گھر بھی لے چلوں گا، پہلے سہی سے مزا تو لے لے کھیتوں کا، اس نے بڑے عجب انداز سے شنو کوکہا۔ لیکن اماں نے کہا تھا کہ مغرب سے پہلے گھر آجانا، شنو گھبرایٔ اور سہمی کرموں سے کہنے لگی۔ میں نے کہا نہ ابھی نہیں لے کر جارہا، چپ چاپ یہاں بیٹھی رہ اور میرے پاس آ، اس نے اب کی بار بڑے غصیلے لہجے میں شنو کو ڈانٹا تھا۔ تو وہ اس کے قریب آگیٔ اور اس نے پھر سے شنو کے چہرے پر ہاتھ پھیرنا شروع کردیا۔ اس بار شنونے اس کے ہاتھ کو تیزی سے جھٹکا اور اٹھ کر بھاگنا چاہا، مگر کرموں توشیطانی چال چلنے آیا تھا، اس نے شنوکی فراک پکڑ کر اسے کھینچا تو اس کی فراک درمیان سے پھٹ گیٔ اورشنو زمین پر گرپڑی۔ اب وہ بری طرح ڈر چکی تھی ، پھر چلانے لگی کہ بچاؤ بچاؤ، لیکن چونکہ وہ دونوں گاؤں سے کافی دور تھے تو کسی تک شنوکی آواز پہنچنا نا ممکن تھا۔ کرموں نے شنوکے چیخنے پر زور سے قہقہ لگایا اور اس کے اوپر لپکا۔ اب وہ پوری طرح سے اس کے چنگل میں تھی، اور وہ درندہ اس کی معصومیت اور بے بسی کا بھر پور فائدہ اٹھا رہا تھا۔ ساتھ ہی اللہ اکبر کی صدائیں گونجنے لگی تھیں اور آسمان شفق کے رنگوں میں ڈوب گیا تھا!!
کیٔ گھنٹے گزر چکے تھے، شنوکی اماں اپنے گھر کے صحن میں پریشان حال ادھر سے ادھر پھرے جارہی تھی۔ پورے گاؤں میں شنو کے لاپتا ہونے کی خبر گردش ہوچکی تھی اور اس کے ابا اور گاؤں کے دوسرے لوگ اسے ڈھونڈنے نکلے ہوے ٔ تھے ۔ بالآخر جب وہ کھیتوں میں پہنچے اور بڑی دیر بعد انہیں شنو زمین پر پڑی ملی توتمام گاؤں والوں کی چیخیں نکل گئیں۔ شنو کا باپ اسے اس حالت میں دیکھ کر سکتے میں آگیا۔ وہ بری طرح تڑپ رہی تھی، درد سے کراہ رہی تھی، اور اس کے جسم سے خون بہ رہا تھا۔ وہ ہاے ٔ میری بچی، ہاے ٔ میری بچی کرتا اس کی طرف جھکا اور پھر اسے اپنے کندھے پر ڈال کر لے جانے لگا، تمام گاؤں والے بھی اس کے پیچھے چل دیے۔ سب ہی نہایت طیش میں تھے کہ آخر ہماری لاڈو کی یہ حالت کس نے کی! کویٔ کہ رہا تھا کہ جس نے بھی یہ گندی حرکت کی ہے اسے پھانسی پر لٹکا دینا چاہئے، تو کویٔ یہ کہر ہا تھا کہ اسے گاؤں کے بیچ و بیچ قتل کردینا چاہئے ۔ جب شنو کا باپ اسے گھر لے آیا تو اس کی اماں کی حلق سے چیخ نکلی اور اس نے بھاگ کر شنوکو اپنے سینے سے لگا لیا۔ شنو ہوش میں تھی، مگر درد و تکلیف سے کراہ رہی تھی۔ اس کی ماںرونے لگی کہ میری بچی کی یہ حالت کیسے ہوگیٔ۔اس کی اماں دھاڑے مار مار کر رو رہی تھی اور کہ رہی تھی کہ ہاے ٔ جس نے بھی یہ کیا، اس کے ہاتھ پیر ٹوٹ جائیں، اللہ اسے اٹھالے۔ شنوکچھ بولنا چاہتی تھی، مگر وہ بول نہیں پار ہی تھی۔ اس کی آنکھوں سے آنسو بہ رہے تھی۔اسے کہانی مل چکی تھی۔ وہ اب جان گیٔ تھی کہ موسم کیوں اداس تھا، اور وہ آج موسم کے اسی بھیانک روپ پر ہی تو لکھنا چاہتی تھی۔ وہ شدتِ تکلیف سے بڑھ کر شدتِ غم کو لفظوں میں سمیٹنا چاہتی تھی۔ مگر لفظوں کا ذخیرہ آج ناکافی تھا۔ آج اس کی معصومیت کو ایک وحشی درندے نے نوچ ڈالا تھا۔ زندگی کے وہ رنگ جو کسی پرندے کی طرح اس کے اندر چہکتے تھے، خزاں کے رنگوں میں گھل چکے تھے۔وہ پھول کی طرح مرجھا چکی تھی۔موسم کی اداسی اس کے اندر ہمیشہ کے لیے سما چکی تھی۔اس کی زندہ دل کہانیاں،شاید کہ اب غم انگیز ہونے والی تھی۔ وہ اپنی ماں کو بتانا چاہتی تھی کہ اس کے ساتھ کیا ظلم ڈھایا گیا ہے۔ وہ اسے بتانا چاہتی تھی کہ اسے آج میٹھے لفظوں کے چنگل نے دبوچ ڈالا، اور اب وہ کبھی کسی پر اعتماد نہیں کرسکے گی۔ اسے کم عمری میں ایک بڑا سبق مل گیا تھا۔وہ اپنی ماں سے کہنا چاہتی تھی کہ ا ماں میں لکھنا چاہتی ہوں مگر آج شاید کچھ بھی نہ لکھ پاؤں۔ یہاں تک کہ وہ کہانی بھی جو آج اس نے پالی تھی۔ یا شاید اب کبھی نہ لکھ پاؤں۔ اور یہ سوچتے ہوے ٔ اس نے آنکھیں بند کرلیں تھیں!

–**–**–
ختم شد
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: