Mehar Pur Novel by Muhammad Zia – Episode 2

0
مہرپور از محمد ضیاء – قسط نمبر 2

–**–**–

یکایک کچھ مسلح لوگ اس میں سے نکلے اور فائر کھول دیے.

اگلی سیٹ پر بی صاحب اور سائیں جی بیٹھے تھے. پچھلی سیٹ پر مہر تھی. اور پیچھے گارڈز تھے.

گارڈز نے فوراً جوابی فائر کھولے اور تمام حملہ آور ڈھیر ہوگئے. مگر جب تک جو نقصان ہونا تھا وہ ہوچکا تھا.

بیگم نوید کو سب سے زیادہ گولیاں لگی تھیں. ملک نوید کے سینے اور پیٹ میں گولیاں لگی تھیں. پچھلی سیٹ پر ہونے کی وجہ سے مہر کے بازو پر صرف ایک گولی لگی تھی.

گارڈز گاڑی تقریباً اڑاتے ہوئے ہسپتال پہنچے. ملک حمید کو بھی اطلاع مل چکی تھی. وہ پہلے ہی ہسپتال پہنچ چکے تھے.

تینوں کو فوراً آپریشن تھیٹر میں شفٹ کیا گیا. ملک حمید گارڈز سے مخاطب ہوئے. تمہیں موت نہیں آئی تمہارے صاحب کو تمہارے سامنے گولیاں ماری گئیں. تمام گارڈز گردنیں جھکائے کھڑے تھے. ایک گارڈ بولا وہ سائیں سب کچھ اتنی اچانک ہوا کہ…

ملک حمید گرجتی ہوئی آواز میں بولے اچانک ہی ہوتا ہے حملہ بیوقوف. کیا تمہیں دعوت دے کر گولیاں چلائے گا کوئی. دعا کرو کہ ملک نوید کو کچھ نہ ہو اس کی سانسیں ہی ضامن ہیں اب تمہاری سانسوں کی بھی.

وہ بہت جذباتی ہو گئے تھے. اکلوتا بیٹا ابھی سینتیس سال کا اور بہو بتّیس سال کی عمر میں زندگ اور موت کی کشمکش میں مبتلا تھے.

انہوں نے آئی جی کو فون کیا کہ کچھ پتہ چلا. وہ بولا سائیں بندے کرائے پر لیے گئے تھے, کس کا ہاتھ ہے پیچھے ابھی کچھ نہیں کہا جا سکتا.

ملک حمید غصّے میں چلائے. اپنی خیر چاہتے ہو تو چوبیس گھنٹے میں مجھے حملہ آور کا پتہ چاہئیے. آئی جی بولا جی سائیں میں پوری کوشش میں لگا ہوں.

ملک حمید مسلسل فون پر لگے ہوئے تھے اور آپریشن تھیٹر کے باہر ٹہل رہے تھے. لوگوں کے فون پر فون آرہے تھے. اتنے میں جس کا فون آیا وہ اِس کی توقع نہیں کر رے تھے. دوسری طرف ملک عمر تھا اس نے سلام کے بعد پوچھا چچا جان پتہ چلا ہے کہ ملک نوید پر قاتلانہ حملہ ہوا ہے. اس کا نمبر بھی بند جا رہا ہے. اللہ تعالیٰ سے خیر کی دعا ہے. ملک حمید بولے دعا کرو عمر کے اُسے کچھ نہ ہو, اگر تمہارا نام آیا اس سلسلے میں. تو میرا وعدہ ہے تمہارے لیے تو کوئی دعا کرنے والا بھی نہیں بچے گا. ملک عمر بولا کیسی باتیں کر رہے ہیں چچا جان. میں ایسا سوچ بھی نہیں سکتا
مانتا ہوں نوید اور میری نہیں بنتی.مگر میں یہ انتہائی قدم اٹھانے کا سوچ بھی نہیں سکتا.

تھوڑی دیر میں آپریشن تھیٹر کا دروازہ کھلا اور ایک نرس باہر آئی. ملک حمید نے فوراً آگے بڑھ کر پوچھا کہ کیا ہوا. سب خیریت ہے. وہ بولی بیگم نوید کا خون بہت ذیادہ بہہ چکا ہے بچّی بیہوش ہے اور اس کی گولی نکال دی گئی ہے. ملک نوید کا آپریشن ابھی بھی جاری ہے.

ملک حمید کی آنکھوں میں آنسو آگئے. انہوں نے ہاتھ اٹھا کر دعا کی میرے مالک کوئی بری خبر نہ آئے. رحم کر میرے مالک.

آج انہیں احساس ہو رہا تھا کہ اتنی طاقت, شہرت, رتبہ کسی کام کا نہیں. انسان کتنا بے بس اور لاچار ہے. خدا کی مرضی کے آگے کسی کی نہیں چلتی.

………………………….

سب لوگوں کو ہی بچی کی باتوں پر یقین آرہا تھا کیوں کہ درخت تو بہرحال جل رہا تھا. بچی کو اٹھا کر اس کے گھر منتقل کیا گیا.

میں اور عمر واپس ڈیرے پر آگئے. میں نے پوچھا یار عمر کیا اس سے پہلے بھی کبھی ان جنات کا ذکر ہوا ہے گاؤں میں. وہ بولانہیں یار یہ سب اس بچی کی خودکشی کے بعد ہی شروع ہوا ہے.

اگلے دن صبح ہم نے ناشتہ کیا اور میں واپس جانے کے لیے نکلا. راستے میں مجھے ایک جیپ نے روکا اور بتایا کہ ملک عمر آپ سے ملنا چاہتے ہیں.

میں نے سوچا چلو ملنے میں کیا جاتا ہے. میں ان کے ساتھ چل دیا. ان کی کوٹھی پر ہہنچا تو ملک عمر اپنی بیٹھک میں میرا انتظار کر رہے تھے.

میں نے جاکر سلام کیا انہوں نے بیٹھنے کا اشارہ کیا. میں بیٹھ گیا. انہوں نے بات کی شروعات کی. سنا ہے تم مہر کی حویلی گئے تھے.

میں بولا جی. مگر کچھ معلوم نہیں ہوسکا. وہ بولے تمہیں کیا لگتا ہے کس نے کیا ہے اس بچی کاقتل. میں حیران ہوکر پوچھنے لگا. قتل مگر وہ تو خودکشی تھی نا اور اب تو گاؤں والے جنات کا کام کہہ رہے ہیں اِسے.

وہ بہت زور سے ہنسے بولے اوہ بابو تمہیں کس نے رپورٹر بنادیا. یہ سب مہر کی سازش ہے وہ سب کویقین دلانا چاہتی ہے کہ یہ جنات کا کام ہے تاکہ اس کا بیٹابچ کر نکل جائے اور تین مہینے بعد جو الیکشن ہیں وہ اس میں جیت سکے. ورنہ اس الزام کے ساتھ تو لوگ اسے ووٹ نہیں دیتے.

میں واقعی کچھ سمجھنے سے قاصر تھا کیوں کہ یہ معاملہ اب الجھتا ہی جارہا تھا روز ایک نئی بات اس معاملے سےجڑ رہی تھی.

اب یہ الیکشن اف میرے خدایا میرے ذہن میں یہ کیوں نہیں آیا. یہی سب سوچتے ہوئے ان سے باتیں کرتے کرتے دوپہر کا وقت ہوگیا انہوں نے کہا کہ کھانا کھا کر جانا.

میں کھانا کھا کر نکلا کہ اب واپس حیدرآباد جاؤں.اچھی خاصی خبر تو ہاتھ لگی ہے ایک آرٹیکل تو بن جائے گا.کچھ بھی تھا مگر یہ بات واضح تھی کہ اس بچی کی موت کو ہر کوئی اپنے فائدے کے لیے استعمال کرنا چاہتا تھا. یہی سب سوچتے ہوئے جب میں اس درخت کے سامنے سے گزرا. تو دل زور زور سےدھڑکنے لگا. ایسا لگا جیسےواقعی کوئی جن ہے وہاں. ویسے بھی خوف میں اپنا سایا بھی شیطان لگتا ہے.

ابھی میں بائیک چلا ہی رہا تھا کہ اچانک کھیت سے عجیب سی شکل کاہیولا چھلانگیں لگاتا نظر آنے لگا. میں نے بائیک کی رفتار بڑھائی. ابھی میں نےمشکل سے وہ جگہ پار کی تھی کہ پلٹ کر دیکھا تو وہاں کوئی نہیں تھا. واپس سامنے دیکھا تو ایک گاڑی بالکل میرے سامنے تھی اور بچنے کاکوئی موقع نہیں مل سکا. اگلے ہی لمحے میں ہوا میں اڑتا ہوا کھیت میں جاگرا۔

ملک حمید آپریشن تھیٹر کے باہر بے چینی سے ٹہل رہے تھے. کہ آپریشن تھیٹر کی لائٹ بند ہوئی اور ڈاکٹر باہر آئے.

باہر آکر ڈاکٹر نے ملک حمید سے مخاطب ہوتے ہوئے بتایا. معذرت ہم آپ کی بہو کو نہیں بچا سکے. ان کا کافی خون بہہ چکا تھا.

البتہ آپ کے فرزند ابھی بیہوش ہیں ان کی تمام گولیاں نکال دی ہیں. اگلے اڑتالیس گھنٹے بہت اہم ہیں. ان کے لیے دعا کریں.

بچی کو ہم آئی سی یو شفٹ کر رہے ہیں تاکہ وہ جلد ریکور کر سکے.

ملک حمید کا غم سے برا حال تھا. وہ بہو کی لاش لے کر اس کی تدفین کے انتظامات میں لگ گئے. مہر اب سترہ سال کی ہو چکی تھی. اس کو جب یہ خبر ملی کہ بی صاحب اب نہیں رہیں تو جیسے اس پر قیامت ٹوٹ پڑی.

وہ ہی تو تھیں اس گھر میں اس کا سہارا. وہ دن رات اس کا خیال رکھتی تھیں. اب کوئی نہیں تھا اس کے سر پر ہاتھ رکھنے والا.

دو دن بعد ملک نوید کو ہوش آگیا. غموں کے اس موسم میں جیسے ملک حمید کے لیے ایک خوشی کی کلی کھلی تھی.

وہ بہت خوش تھے. انہوں نے غریبوں کے لیے لنگر کا اہتمام کیا تھا. جب وہ ہسپتال پہنچے تو ایک اور بری خبر انکا انتظار کر رہی تھی. ڈاکٹر نے بتایا کہ ملک نوید خطرے سے تو باہر ہیں. مگر جو گولی پیٹ میں لگی تھی اس نے ریڑھ کی ہڈی کو بھی نقصان پہنچایا ہے. اب شاید وہ کبھی چل نہ پائیں یا پھر سالوں بعد کوئی معجزہ ہو تو کچھ کہہ نہیں سکتے.

ملک حمید ان یکے بعد دیگرے حادثات سے بری طرح ٹوٹ چکے تھے. ملک نوید کو جب بیگم کی خبر ملی تو وہ بہت روئے. پانچ دن بعد مہر اور نوید کو ہسپتال سے ڈسچارج ہوکر گھر آنا تھا.

حویلی میں جشن کا سماء تھا. ملک حمید خود گاڑی چلا کر بیٹے کو لینے ہسپتال پہنچے. مہر اب کافی بہتر تھی اس کے ہاتھ پر پلاسٹر تھا.

گھر آکر اس نے آہستہ آہستہ چیزوں کو سنبھالنا شروع کیا. بیگم نوید کی سیکھ آج کام آرہی تھی. شاید وہ آنے والے وقت کے لیے اسے تیار کر رہی تھیں. یا انجانے میں ہی انہوں نے مہر کو ہر کام سکھا دیا تھا.

مہر بخوبی حویلی کے امور انجام دے رہی تھی اور ملک نوید کا پورا خیال بھی کر رہی تھی. ملک حمید بھی سکون میں تھے کہ حویلی کے امور صحیح طور پر انجام پا رہے ہیں.

اسی طرح ایک سال اور گزر گیا. مہر نے پوری حویلی کے انتظامات اپنے ہاتھ میں لے لیے. اچانک ایک دن گاؤں سے خبر آئی کہ مہر کے بابا کا حرکت قلب بند ہونے کی وجہ سے انتقال ہوگیا ہے.

……………………………………..

میں کھیت کے اندر پڑا تھا کہ ایک زنانہ آواز کانوں سے ٹکرائی. آپ ٹھیک ہیں. وہ نقاب والا چہرہ ایک بار پھر میرے سامنے تھا. وہ آنکھیں اتنی گہری تھیں کہ مجھے کچھ لمحوں کے لیے اپنا درد بھول گیا.

وہ پھر بولیں معذرت مگر غلطی آپ کی تھی آپ پیچھے دیکھ کر بائیک چلا رہے تھے.

دل چاہا بولوں آپ تو سامنے دیکھ کر چلا رہی تھیں آپ ہی ہارن کر دیتیں. خیر دو بندے آئے اور اٹھا کر مجھے فریحہ بی بی کی گاڑی میں پیچھے لٹا دیا.

میری ٹانگ کا ٹخنہ سوجا ہوا تھا باقی تھوڑی بہت خراشیں بھی آئی تھیں.

لگتا تھا کہ یہ گاؤں مجھ پر سارے راز کھولے بغیر جانے نہیں دے گا. ہر بار کچھ نہ کچھ ہو جاتا اور مجھے رکنا پڑتا.

گاڑی ایک بار پھر مہر بی بی کی حویلی میں داخل ہوئی. فریحہ نے اتر کر امّاں کو سارا ماجرہ سنایا. وہ غصے میں بولیں کتنی بار منع کیا ہے کہ گاڑی لے کر مت نکلو کسی دن کوئی بڑا نقصان کر بیٹھو گی تم.

مجھے باہر نکالا گیا. مہر بی بی مجھے دیکھ کر بولیں اوہ تو آپ ہیں. میں نے سلام کیا.

انہوں نے ایک بندے کو ڈسپنسری بھیجا ڈاکٹر بلانے کے لیے اور مجھے مہمان خانے میں لٹا دیا گیا. ڈاکٹر نے چیک اپ کر کے بتایا کہ شکر ہے ہڈی نہیں ٹوٹی. مگر اب یہ ایک دو دن بعد ہی اٹھ سکیں گے. کچھ دوائیاں ہیں یہ دیتے رہیں جلد آرام آجائے گا.

شام کو فریحہ بی بی آئیں میرا حال پوچھنے. انہیں پہلی بار بغیر نقاب کے دیکھ رہا تھا. یقیناً ان کی آنکھوں میں جتنی گہرائی تھی چہرہ بھی اتنا ہی حسین تھا.

فریحہ بی بی نے پوچھا اب کیسی طبیعت ہے آپ کی. میں نے بولا جی بہتر ہے درد کم ہے کافی. وہ جانے لگیں اور میں انہیں دیکھتا ہی رہ گیا.

مجھے معلوم تھا کہ ان کا اور میرا رشتہ صرف چاند اور چکور جیسا ہے. جیسے چکور چاند کو تکتے رہتا ہے مگر حاصل نہیں کر سکتا. ایسے ہی میری حدود اور حیثیت کا مجھے بخوبی اندازہ تھا.

مغرب کے وقت مہر بی بی کمرے میں آئیں. مہر بی بی نے پوچھا ملک عمر سے ملے تھے. میں نے اثبات میں سر ہلادیا. وہ بولیں کیا بتایا اس نے.

میں نے بتایا کہ اس کے مطابق یہ سب آپ کر وارہی ہیں. وہ ہنستے ہوئے بولیں اور تمہیں کیا لگتا ہے. میں بولا مجھے ابھی تک بھی کچھ سمجھ نہیں آرہا. وہ اٹھتے ہوئے بولیں کہ کچھ معاملات بہت پیچیدہ ہوتے ہیں. جن پر بیت رہی ہوتی ہے صرف وہی جانتے اور سمجھ سکتے ہیں.

رات میں سونے لیٹا دوائیوں کے اثر سے جلد ہی آنکھ لگ گئی. تقریباً تین بجے ایسا لگا کہ کوئی میری چادر کھینچ رہا ہو میں چادر اوپر کرتا اور پھر چادر نیچے ہو جاتی. آدھی نیند کی کیفیت میں جب میں نے چادر منہ تک اوڑھی تو کسی نے اس بار چادر کو جھٹکے سے کھینچا اور میں ہڑبڑا کر اٹھ بیٹھا.

خوف کے مارے میرا برا حال تھا. میں پلنگ سے اتر بھی نہیں سکتا تھا پاؤں میں ابھی بھی سوجن تھی. کہ ایک سایہ میری طرف بڑھنے لگا. دیکھتے ہی دیکھتے وہ بہت بڑا ہوگیا. اور ایک خوفناک شکل میرے سامنے آئی اور میں چیخ مار کر بیہوش ہوگیا۔

مہر کو جب یہ خبر ملی کہ اس کے بابا اب اس دنیا میں نہیں رہے. تو اسے لگا اب وہ اس دنیا میں واقعی اکیلی ہوگئی ہے.

جیسا بھی تھا آخر کار تھا تو اس کا باپ. مہر جانے کی تیاری کرنے لگی. اس کی آنکھوں سے مسلسل آنسو بہہ رہے تھے. ابھی وہ تیاری کر ہی رہی تھی کہ اچانک کمرے کے دروازے پر دستک ہوئی. ملک حمید سامنے کھڑے تھے.

مہر بیٹا تمہارے بابا کا سن کر دکھ ہوا. تم اپنے آپ کو اکیلا مت سمجھنا ہم سب تمہارے ساتھ ہیں. تم نے اس حویلی کے لیے بہت کیا ہے. میں تمہارے ساتھ چلوں گا گاؤں. ملک حمید بولے.

مہر نے بولا جی شکریہ. ملک حمید جانتے تھے کہ جس حالت میں ملک نوید ہے اس کو کہیں اور رشتہ ملنا مشکل ہے. وہ فیصلہ کر چکے تھے مگر ابھی انہوں نے کسی سے کوئی بات نہیں کی تھی.

راستے بھر دونوں ہی چپ بیٹھے رہے کرنے کو جیسے باتیں ہی ختم ہوگئی ہوں. گاؤں پہنچنے پر سردخانے سے میت گھر لائی گئی. ملنے والوں کا تانتا بندھا ہوا تھا. مہر کو سب نے دلاسہ دیا.شام تک تدفین وغیرہ سے فارغ ہوکر ملک حمید نے پوچھا مہر بیٹا چاہو تو یہاں رک جاؤ کچھ دن یا چاہو تو واپس چل سکتی ہو.

مہر بولی بڑے سائیں یہاں اکیلے دل گھبرائے گا اور سائیں جی کا خیال رکھنے کے لیے بھی کسی کو حویلی میں ہونا چاہئیے.

ملک حمید بولے جیسے تمہاری مرضی. واپسی میں ملک حمید بولے مہر بیٹا موقع تو مناسب نہیں لیکن اب جو میں کہنے جارہا ہوں اسے تحمل سے سننا. میں چاہتا ہوں کہ تمہارا نکاح ملک نوید سے کرادیا جائے.

مہر شاید اس کے لیے پہلے سے تیار تھی. اس کا جو مقصد تھا اس کے لیے یہ ویسے بھی بہت ضروری تھا. اس نے اپنے آپ سے وعدہ کیا ہوا تھا کہ موقع ملا تو گاؤں کی اور ادھر کی لڑکیوں کی زندگی ضرور بدلے گی.

ملک نوید بھلے چل نہیں سکتے تھے اور عمر میں اس سے دگنے تھے مگر شاید یہ سب ایسے ہی ہونا تھا. مہر نے سر جھکاتے ہوئے بولا جیسا آپ ٹھیک سمجھیں بڑے سائیں.

ملک حمید نے سکھ کا سانس لیا. اب صرف ملک نوید کو منانا باقی تھا.

شہر پہنچ کر ملک حمید رات کو ملک نوید کے کمرے میں گئے. وہ پلنگ پر لیٹے کسی گہری سوچ میں گم تھے. ملک حمید نے آواز دی تو وہ چونکے سلام بابا سائیں.

وعلیکم السلام بیٹا. کیا سوچ رہے ہو. کچھ نہیں بابا سائیں بس سوچ رہا ہوں کاش میں بھی نہیں بچتا اس حملے میں اور ملک نوید کی آنکھوں سے آنسو رواں ہوگئے. ملک نوید بولے کیا فائدہ ایسی زندگی کا بابا سائیں.

ملک حمید بولے ناشکری مت کرو بیٹا. اللہ تعالیٰ نے اگر تمہیں زندگی دی ہے توبے مقصد نہیں. سنو مجھے تم سے بہت ضروری بات کرنی ہے. میں چاہتا ہوں تمہارا اور مہر کا نکاح پڑھوا دوں.

ملک نوید اس بات سے بری طرح چونکے.

………………………………..

صبح آنکھ کھلی تو مجھے رات کی بات یاد آئی. اب مجھے پختہ یقین آچکا تھا کہ ہو نہ ہو کوئی جن تو ہے ان سب واقعات کے پیچھے. میں اس حویلی میں دو دن رہا اور پھر اس قابل ہوگیا کہ واپسی جا سکوں.

میں نے مہر بی بی سے اجازت چاہی اور نکل گیا حیدر آباد جانے کے لیے.

وہاں پہنچ کر میں نے ایک آرٹیکل لکھا مہر پور کا جن اور اس میں تمام واقعات کو بڑی تفصیل سے ایک دوسرے سے جوڑا کہ کیسے ایک جن نے ایک بچی کی جان لی اور دوسری کی جان لینے کے درپے تھا.

ہمارا اخبار اس گاؤں میں مقامی زبان میں شائع ہوتا تھا اور گاؤں کا تقریباً ہر فرد ہی اسے پڑھتا تھا. اس ہی وجہ سے مہر بی بی اور ملک عمر مجھے اپنی اپنی باتوں پر قائل کرنے کی کوشش کر رہے تھے.

آرٹیکل شائع ہونے کے ایک دن بعد مجھے ملک عمر کا فون آیا کہ یہ سب کیا اول فول لکھا ہے تم نے. میں نے بولا سائیں عمر یہ سب میں نے خود محسوس کیا ہے. وہ بولے مہر بہت چالاک ہے. سوچو ایک مزارے کی بیٹی آج ممبر صوبائی اسمبلی بنی ہوئی ہے کتنی شاطر ہوگی وہ.

ان کی زبان سے مہر بی بی کے لیے اس طرح کے الفاظ مجھے اچھے نہیں لگے. مہر بی بی کے لیے نفرت ان کے الفاظ سے صاف عیاں تھی.

میں نے انہیں سمجھانے کی بہت کوشش کی مگر وہ اس ہی بات پر قائم تھے کہ یہ سب مہر کے بیٹے جاوید کوبچانے کے لیے کیا جارہا ہے.

میں نے جان چھڑانے کے لیے بولا ٹھیک ہے عمر سائیں میں اس جمعرات پھر چکر لگاؤں گا تا کہ حقیقت جان سکوں.

اگلے دن ایک انجانے نمبر سے کال آئی. میں نے ریسیو کی تو دوسری طرف سے ایک زنانہ آواز تھی. کامران صاحب آپ تو بغیر بتائے نکل گئے. اوہ فریحہ جی میں بے ساختہ بولا. وہ بولیں بڑی بات ہے پہچان لیا آپنے.

میں بولا آپ شرمندہ کر رہی ہیں. آپ کی شخصیت کو کون بھلا سکتا ہے. اصل میں آپ تھیں نہیں اور میں نے پوچھنا مناسب نہیں سمجھا اس لیے مہر بی بی سے اجازت لے کر نکل گیا تھا.

میں بولا اچھا لگا آپ نے فون کیا. ویسے نمبر کہاں سے ملا آپ کو. وہ ہنستے ہوئے بولی کوئی ڈھونڈنا چاہے تو خدا بھی مل جاتا ہے یہ تو پھر نمبر ہے. میں نے بس آپ کی خیریت دریافت کرنے کے لیے فون کیا تھا.

میں معنی خیز لہجے میں بولا سچ صرف یہی بات تھی. وہ ہنس دیں. چلیں پھر بات ہوگی اور انہوں نے فون رکھ دیا.

دو دن ایسے ہی گزر گئے. اگلے دن مجھے پھر مہر پور کے لیے نکلنا تھا. میں نے عمر کو فون کیا کہ کیا حالات ہیں اس نے بتایا کہ اس درخت کے پاس رات میں ایک ہیولے کو دیکھا گیا ہے اور رات کو اس طرف جانے کے لیے سب کو منع کردیا گیا ہے.

میں نے بولا چل ٹھیک ہے پھر ملتے ہیں. میں جمعرات کی دوپہر تک عمر کے ڈیرے پر تھا. اس نے وہاں کے دریا کی مچھلی منگوائی ہوئی تھی. اس نے مجھ سے پوچھا اب کیا کرنا ہے. میں بولا دیکھ بھائی اگر کچھ تصاویر مل جائیں اس ہیولے کی تو ہمارے پاس ناقابل تردید ثبوت ہوگا. عمر بولا کیوں مروائے گا یار. میں بولا کچھ نہیں ہوتا یار. بڑی مشکل سے میں نے اسے راضی کیا.

رات میں ہم دونوں کا پروگرام تھا کہ کسی بھی طرح آج اس راز سے پردہ اٹھا کر رہیں گے. عمر بولا سوچ لے بھائی اگر اصلی میں جن ہوا تو. میں بولا تو تجھے بلی دے دیں گے اسے.

رات میں ہم وہاں پہنچے تو گھپ اندھیرا تھا. ہم کھیتوں سے درخت کی طرف دیکھ رہے تھے کہ پیچھے سے کسی نے میرے کندھے پر ہاتھ دیا۔

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: