Mehar Pur Novel by Muhammad Zia – Episode 1

0
مہرپور از محمد ضیاء – قسط نمبر 1

–**–**–

ڈبل کیبن اپنی پوری رفتار سے کچے پکے راستے پر رواں دواں تھی. گاڑی چاولوں کے کھیت کے سامنے رکی اور ملک نوید اپنی گاڑی سےاترا, آج وہ ہر دفعہ کی طرح اپنے کھیت دیکھنے پہنچا تھا. ہر مہینے کے پہلے ہفتے وہ حیدر آباد سے یہاں زمان پور آتا تھا. حساب کتاب کرنے.

اس کے ساتھ مسلّح محافظ ہر دم موجود ہوتے تھے کیوں کہ اس کا کزن ملک عمر اس کا جانی دشمن تھا, زمینوں پر کافی عرصے سے ان کی آپس میں چپقلش چل رہی تھی.

وہ ایک چارپائی پر بیٹھا تھا اور حساب کتاب میں مصروف تھا لوگ آتے جاتے اور اس کے گھٹنے چھو کر زمین پر اس کے اردگرد بیٹھتے جاتے.

اچانک ملک نوید نے دیکھا کہ ایک تیرہ چودہ سال کی بچی کھیت میں بھاگتی ہوئی اس کی طرف آرہی ہے, اس کے پیچھے ملک عمر کے بندے بھاگے آرہے تھے.

وہ لڑکی ان کے قریب آکر رک گئی, اس کی سانس بری طرح پھول رہی تھی, ملک نوید زور سے چلایا کیا مسئلہ ہے یہ. دینو بولا سائیں یہ تو ضمیرے کی لڑکی مہر ہے.

وہ لوگ ملک نوید کو دیکھ کر واپس چلے گئے. وہ لڑکی وہیں کونے میں سہمی بیٹھی تھی. ایک بندہ جا کر ضمیر کو بلا کر لے آیا.

اس نے بیٹی کو اس حال میں دیکھا تو پوچھا اب کیا عزاب کردیا تو نے. وہ گھبرا کر بولی وہ وہ بابا میں غلطی سے ملک عمر کے کھیت میں چلی گئی تھی اور اس کا دانہ میرا ہاتھ لگنے سے پانی میں گر گیا.

ضمیر اپنا سر پکڑ کر رونے لگا ہائے میری قسمت پیدا ہوتے ہی اپنی ماں کو کھا گئی اب ایک نئی مصیبت کھڑی کردی تونے. اب کیا ہوگا.

ملک نوید یہ سب دیکھ رہا تھا. ابھی وہ کچھ بولتا اس سے پہلے تین گاڑیاں لوگوں سے بھری ان کی طرف آکر رکیں اور ملک عمر باہر نکلا, وہ ملک نوید سے بولا کہ یہ لڑکی ہمارے حوالے کردو اس نے ہمارا نقصان کیا ہے.

ملک نوید بولا یہ اس وقت میری زمین پر ہے اور اس نے یہاں پناہ لی ہے تم میں سے جس کسی نے اس کو ہاتھ لگایا سمجھو ملک نوید کو ہاتھ لگایا اور وہ اپنے انجام کے لیے تیار رہے.

ملک عمر بولا نوید بات کو مت بڑھاؤ, ہمیں لڑکی چاہئے. ملک نوید بولا تاکہ تم اس معصوم کو نوچ ڈالو یہ نہیں ہونے دوں گا میں. وہ بولا اب نقصان کی تلافی کے طور پر ہمارا بندہ اس سے نکاح کرے گا.

ملک نوید بولا تمہارا نکاح مجھے پتہ ہے یہ لڑکی تو تمہیں نہیں مل سکتی.

ملک عمر بولا یہ بہت مہنگا پڑے گا تمہیں اور گاڑیوں بیٹھ کر روانہ ہوگیا.

ضمیر بولا سائیں بہت بہت مہربانی. مگر آپ کے جاتے ہی یہ میری دی کو پکڑنے آجائیں گے. ملک نوید کچھ سوچ کر بولا کہ اس کو ہمارے ساتھ کر دو ہم اسے اپنے ساتھ لے جائیں گے. تم کو ماہانہ تنخواہ بھیج دیں گے. ضمیر بولا جیسا سائیں کا حکم.

مہر کو پانی دیا گیا اور وہ پیچھے بیٹھ کر حیدر آباد کی حویلی پہنچ گئی.
………………………………………

آج میں بہت خوش تھا. آج اس شخصیت کا انٹرویو کرنا تھا. جن کی میں دل سے عزت کرتا تھا.بھلے حالات سازگار نہیں تھے, اور مجھے ان سے شاید سخت سوالات بھی کرنے پڑتے اور اس ہی وجہ سے رات بھر نیند مشکل سے آئی تھی. صبح صبح اٹھ کر حمام میں جا کر نہایا. بالوں کو تیل لگا کر آڑھی مانگ نکالی, کپڑے پہن کر بائیک کو کک ماری اور نکل گیا منزل کی طرف.

اونچا نیچا راستہ تھا برابر سے کوئی ٹریکٹر ٹرالی یا گاڑی گزرتی تو اتنی دھول اڑھتی کہ کچھ دکھائی بھی نہیں دیتا. حیدر آباد سے نکلے مجھے اب تقریباً چالیس منٹ ہوچکے تھے. ابھی بھی بیس منٹ اور آگے جانا تھا.

کھیتوں کے درمیان سے گزرتے ہوئے لہلہاتی فصلیں بہت ہی پرکیف منظر پیش کر رہی تھیں. مہرپور کا بورڈ تو بہت پہلے ہی نظر آگیا تھا. مگر اب لگتا تھا کہ مہرپور پہنچ گیا کیوں کہ نقشہ ہی بدل گیا تھا, پکّی سڑکیں, لہلہاتی فصلیں اور ہر طرف ہنستے چہرے, مجھے لگا جیسے میں سندھ میں نہیں بلکہ کسی اور ہی علاقے میں داخل ہوگیا ہوں.

مہرپور ویسے بھی بہت مشہور گاؤں تھا میں کافی عرصے سے اس پر اسٹوری کرنا چاہتا تھا مگر وہ کہتے ہیں نا کہ اچھائی لکھنا یا دکھانا ریٹنگ نہیں لاتا, منفی چیزیں دکھا کر اور لکھ کر ہی چینل اور اخبار چلا کرتا ہے.

وہ تو پچھلے ہفتے سے چلتی خبروں نے کہ ایک لڑکی نے اس گاؤں میں خودکشی کرلی ہے سن کر ہر چینل اور اخبار کو اس گاؤں کے حوالے سے دکھانا یا چھاپنا تھا.

اس ایک واقعے نے باقی سب اچھائیاں جیسے سو فیصد خواندگی, لڑکیوں کی میٹرک تک لازمی تعلیم اور پکّی سڑکیں جیسی چیزوں کو ماند کردیا تھا.

ایک کونے پر رک کر سوچا راستہ معلوم کرلوں. ایک بزرگ وہاں بیٹھے حقّہ پی رہے تھے میں نے پوچھا اسلامُ علیکم بابا جی. یہ سڑک مہر بی بی کی حویلی کی طرف جارہی ہے. وہ ہنستے ہوئے بولے وعلیکم سلام بیٹا سڑک یہیں ہے کہیں نہیں جا رہی ہاں تم اس سڑک سے وہاں تک جا سکتے ہو.

میں نے ہنستے ہوئے شکریہ ادا کیا اور آگے نکل گیا. آگے ایک عالیشان حویلی دور سے ہی نظر آرہی تھی. ایسی جگہ جہاں ہر طرف وڈیروں کی جاگیرداری اور مردوں کی حکومت تھی یہ پورا گاؤں ایک خاتون کے نام پر آباد تھا.

ان کا رعب اور دبدبا اتنا تھا کہ بڑے بڑے وڈیرے بھی یہاں اجاذت لیے بغیر نہیں آسکتے تھے. گیٹ پر پہنچ کر میں نے دروازہ کھٹکھٹایا, اندر سے ملازم آیا پوچھا کامران صاحب, میں نے کہا جی ,وہ بولا آجائیں اندر, بہت ہی عالیشان حویلی تھی.

اس کی تزئین و آرائش بہت ہی نفاست سے کہ گئی تھی. لال فرش کا آنگن تھا. سامنے صحن میں گھاس لگی تھی ایک چارپائی پر ایک خاتون بیٹھی تھیں, اور اس چارپائی کے چاروں طرف روائتی صوفے رکھے تھے.

میں نے قریب آکر کہا اسلام علیکم, انہوں نے حقہ گڑگڑاتے ہوئے ہاتھ سے جواب دیا اور بیٹھنے کا اشارہ کیا.

میں نے اپنا تعارف کروانا مناسب سمجھا اور بولا مہر بی بی میرا نام کامران ہے. اس سے پہلے کے میں کچھ اور بولتا وہ بولیں ہاں ہاں تم حیدر آباد میں رہتے ہو, تین بہنوں کے اکلوتے بھائی ہو, ابّا تمہارے سرکاری اسکول میں ماسٹر تھے اور پچھلے ایک سال سے تم مقامی اخبار میں رپورٹر ہو. اکیلے ایک کوارٹر میں رہتے ہو. گھر والے عمرکوٹ میں ہیں تمہارے.

میں سوچ میں پڑگیا کہ کیا واقعی, میں رپورٹر ہوں کہ مہر بی بی, وہ مسکراتے ہوئے بولیں بیٹا سیاست اور زمینداری میں آنکھیں کھلی اور دماغ ہر وقت چلتے رہنا چاہئے.

پھر میں نے سوال کرنے کی اجازت چاہی, وہ بولیں سوال ایک بار ہی کرنا اگر میں جواب نہ دوں تو اگلا سوال کر دینا. مجھے ہر سوال کا جواب دینا پسند نہیں. میں بولا جی مناسب.

تو مہر بی بی وہ لڑکی جس نے خودکشی کی ہے, وہ صرف پندرہ سال کی تھی. کیا آپ کو لگتا ہے اس عمر میں کوئی خودکشی کر سکتا ہے. وہ بولیں بیٹا کامران چودہ سال میں تو میں نےموت کو قریب سے دیکھا تھا وہ تو پھر بھی پندرہ سال کی تھی.

میں نے اگلا سوال کیا, آپ کو کیا لگتا ہے کیوں کی اس نے خودکشی.
مہر بی بی بولیں کوئی ایک وجہ نہیں ہوتی بیٹا جب کسی نے اپنی جان لینی ہو تو سوچو وہ کتنا بے بس ہو جاتا ہوگا.

وہ ہر بات کا گھما پھرا کر جواب دے رہی تھیں. پھر میں نے پوچھا کچھ لوگوں کا کہنا ہے کہ آپ کے بیٹے سے بچ کر بھاگ رہی تھی وہ.

مہر بی بی خاموش رہیں. میں نے اگلا سوال کیا اگر آپ کا بیٹا قصور وار ثابت ہوا تو کیا آپ اسے قانون کے حوالے کریں گی.

اب ان کے چہرے پر ناگواری کے تاثرات صاف نظر آرہے تھے. انہوں نے اٹھتے ہوئے کہا کہ اب آپ جا سکتے ہیں.

میں نے بھی اٹھنے میں ہی عافیت جانی اور بائیک کو کک ماری اور واپسی کے لیے نکل گیا. مگر اندر کا جرنلسٹ ابھی مطمئین نہیں تھا. ایک پان کی دکان پر رک کر ایک سگریٹ لی اور سلگاتے ہوئے برابر میں پڑی ایک چارپائی پر بیٹھ کر کش لینے لگا.

اتنے میں کسی نے میرے کندھے پر ہاتھ رکھا, میں نے انہیں چونک کر دیکھا .

حیدرآباد کی حویلی میں گاڑی رکی تو اوپر کھڑکی سے بیگم نوید نے گاڑی پر نظر ڈالی, ملک نوید سے ان کی شادی تقریباً بارہ سال پہلے ہوئی تھی.

مہر کو دیکھ کر وہ سمجھ گئیں کہ حالات پہلے جیسے نہیں. یہ وڈیرے کسی پر بھی بلا وجہ احسان نہیں کرتے اور ایک نہ ایک دن یہ چھوٹی لڑکی ان کی سوتن بن کر ہی رہے گی.

خیر وہ بوجھل دل کے ساتھ سیڑھیاں اتریں, اور ملک نوید کو خوش آمدید کہا. سفر کیسا رہا, ملک نوید بولا الحمداللہ سب صحیح رہا.

پھر ملک نوید نے مہر کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ اس کو لے جاؤ اور کوئی کام دے دو گھر کا ہلکا پھلکا سا.
وہ بولی جی ضرور بیگم نوید بولیں آؤ بچّی.

ملک نوید نیچے ایک کمرے کی طرف چلا گیا. سامنے پلنگ پر ملک حمید بیٹھا تھا جو کہ ملک نوید کا باپ اور ایک مشہور سیاست دان تھا.

ملک نوید نے جھک کر ملک حمید کے گھٹنوں کو ہاتھ لگایا سلام ابّا جی. وعلیکم السلام بیٹا کیسا رہا سفر.

سفر تو ٹھیک تھا مگر ملک عمر سے چھوٹی سی جھڑپ ہوگئی. وہ ہنستے ہوئے بولے بیٹا اس کی ہمت نہیں کہ تم پر ہاتھ ڈالے. کیا پدی اور کیا پدی کا شوربہ. ملک نوید بولا جی ابّا میں جانتاہوں آپ کے ہوتے وہ کچھ نہیں کر سکتا.

یاد رکھنا بیٹا اللہ تعالیٰ رحم کرنے والوں کو پسند فرماتا ہے کبھی ظلم کے آگے نہیں جھکنا. ملک نوید بولا جی ابّا جان.

مہر سہمی ہوئی بیگم نوید کے پیچھے پیچھے جا رہی تھی. انہوں نے اسے ایک کمرے کی طرف اشارہ کر کے کہا کہ اس کمرے میں اپنا سامان رکھ دو.

کل صبح سے تم نے ہمارے سارے کاموں میں ہاتھ بٹانا ہے. مہر بولی جی بی بی جی. پھر بیگم نوید نے پوچھا کہ کبھی اسکول گئی ہو. وہ بولی جی چوتھی جماعت تک پڑھا ہے میں نے. وہ اس کے سر پر شفقت سے ہاتھ پھیر کر نکل گئیں.

مہر شام میں محراب والے برآمدے میں ایک کونے سے لگی بیٹھی سوچ رہی تھی کہ ذندگی میں آگے کیا ہوگا. اتنے میں بیگم نوید اس کے پآس آئیں. بیگم نوید بولیں کیا ہوا مہر بیٹا. وہ بولی جی کچھ نہیں بی بی جی.

بیگم نوید بولیں ابّا یاد آرہا ہے. اس نے اثبات میں سر ہلادیا. بی بی جی کوئی مجھے مارے گا تو نہیں یہاں وہ ڈرتے ڈرتے پوچھنے لگی. بیگم نوید بولی نہیں یہاں کوئی تمہیں نہیں مارے گا.

وہ اوپر آسمان کی طرف دیکھ رہی تھی. کہاں یہ اتنی بڑی حویلی اور کہاں وہ چھوٹی سی کچی کٹیا. جس پر کیچڑ کا لیپ لگا تھا.

مٹی کا ایک چولہا تھا جس پر لکڑیاں رکھ کر وہ کھانا بناتی تھی. اس نے ریڈیو تو دیکھ رکھا تھا مگر گاؤں میں ٹی وی صرف ڈھابے والے کے ڈھابے پر لگا ہوا تھا جہاں گاؤں کے مرد شام میں جمع ہوکر چائے پیتے اور ٹی وی دیکھا کرتے تھے.

اس کے لیے یہ سب بہت نیا اور حیران کن تھا. رات سوتے وقت پنکھا چلا تو وہ حیران تھی اس کی ہوا سے. مگر پھر دل میں بولی کے گاؤں کے کھیت کی ہوا اس سے بہت بہتر تھی.
…………………………………………….

ابھی میں سگریٹ کے کش لے رہا تھا کہ عمر نے میرے کندھے پر ہاتھ رکھا ہاں بھائی ادھر کدھر. عمر میرے ساتھ کالج میں تھا. میں نے سگریٹ زمین پر پھینکی پاؤں سے اسے مسلتے ہوئے اٹھا ارے جانی تو کدھر. وہ بولا بھائی میرا تو گاؤں ہے.

میں بولا یار میں ایک اخبار میں رپورٹر ہوں یہاں ایک کام سے آیا تھا. اس نے اصرار کیا چلو میرے ڈیرے پر.

میں نے سوچا چلو کیا پتہ کچھ معلومات ہی مل جائے اور اس کے ساتھ نکل پڑا.

اس کے ڈیرے پر سب کچھ ہی موجود تھا دو ڈشیں لگی تھیں ایک ریسیور اور ایک ایل ای ڈی. ایک فریج بھی تھا. اس نے فرج سے دو کولڈ ڈرنک نکالیں اور ایک گلاس میں ڈال کر مجھے پیش کی. اس نے ایل ای ڈی پر ایک فلم لگادی اور بولا ہاں اب بتاؤ کیا اس خودکشی والے چکر میں آئے ہو ادھر.

میں بولا ہاں یار مگر کچھ سرا ہاتھ نہیں لگ رہا. وہ بولا لگے گا بھی نہیں بیٹایہ جنات کا کام ہے. میں ہنسا بولا بھائی تو ابھی تک انہیں باتوں پر یقین کرتا ہے.

کالج میں بھی یہی سب باتیں کرتا رہتا تھا. وہ بولا اچھا تو خود بتا. کہ نہ کوئی رسّی ملی نہ کسی نے لاش لٹکی دیکھی بس درخت کے اوپر ایک لاش تھی اور اس کا کیا مطلب ہو سکتا ہے.

میں نے کولڈڈرنک کا گھونٹ لیتے ہوئے بولا ہوسکتا ہے قتل ہو. وہ بولا ہاں ملک عمر مہر بی بی کو نیچا دکھانے کے لیے کسی بھی حد تک جا سکتا ہے.

میں بولا ہاں مگر مہر بی بی کے بیٹے کا نام بھی تو آرہا ہے سامنے. وہ بولا بھائی بڑے لوگوں کے بہت دشمن ہوتے ہیں. کیا سچ ہے کیا جھوٹ اب یہ تو خدا ہی بہتر جانے.

میں نے کہا یاد رکھنا عمر اللہ ظالم کی رسی دراز ضرور کرتا ہے مہلت دیتا ہے کہ سنبھل جائے توبہ کرلے مگر جب ظالم کا ظلم حد سے بڑھ جاتا ہے تو اللہ اس کی رسی یوں کھینچتا ہے کہ وہ ٹھوکر کھا کر منہ کے بل گرتا ہے

وہ بولا ہاں بات تو سہی کی آپ نے مولوی صاحب اب چلو فلم دیکھیں اور ہم دونوں فلم دیکھنے لگے. اتنے میں باہر سے شور کی آواز آنے لگی.

ہم باہر نکلے تو ایک لڑکی کسی موٹر سائیکل والے پر چلا رہی تھی کہ تمہاری غلطی سے ہوئی ہے ٹکر. وہ لڑکی نقاب میں تھی. اس کی آنکھیں بہت ہی دلکش تھیں. اتنے میں عمر بولا اوہ یہ تو فریحہ بی بی ہیں مہر بی بی کی بیٹی اور وہ وہاں جانے لگا معاملہ حل کرانے. میں اس کے ساتھ ساتھ چلنے لگا.میں نے اتنی گہری آنکھیں پہلے نہیں دیکھی تھیں. وہ شاید میری موجودگی محسوس بھی نہیں کر رہی تھیں اور میرے لیے شاید ان کے سوا کوئی اور موجود ہی نہیں تھا.

عمر نے بولا معافی فریحہ بی بی آپ جائیں میں دیکھ لیتا ہوں. وہ غصّے میں بڑ بڑاتی نکل گئی. میں نے عمر کو بولا یار یہ اکیلے کیوں تھی. وہ بولا یار یہ کبھی کبھی اپنی امّاں سے چھپ کر گاڑی لے کر نکل جاتی ہے اور ہر دفعہ کسی نا کسی کو ٹکر مارتی ہے.

ہم دونوں ہنسنے لگے. میں سوچ رہا تھا کاش مجھے ہی مار دیتی وہ ٹکر۔

رات میں یہی سوچتے سوچتے اس کی آنکھ لگ گئی. صبح ایک ملازمہ اسے اٹھانے آئی. وہ اٹھ کر باورچی خانے کی طرف آگئی. ایک خادمہ نے کہا کہ ذرا دھنیا گرائینڈکر دو.

وہ حیران تھی اس نےگرائینڈر کا کا نام ہی پہلی بار سنا تھا. خادمہ سمجھ گئی کہ وہ نہیں جانتی اس نے ایک مشین کی طرف اشارہ کیا کہ یہ ہے گرائینڈر.

اسے چلانے کا طریقہ بتایا اوردوسرے کام میں لگ گئی. مہر نے جیسے ہی بٹن دبایا ایک شور کے ساتھ پورا دھنیا اچھل کر باہر آگیا. وہ اس کا ڈھکن لگانا بھول گئی تھی.

وہ ڈر کے چلائی اور کانوں پر ہاتھ رکھ دیا. شور سن کر بیگم نوید بھی نیچے آگئیں. ملازمہ نے شکایت لگاتے ہوئے بولاکہ دیکھیں بی بی جی کیا کیا اس جاہل نے.

بیگم نوید نے ملازمہ کو گھورتے ہوئے بولا کس سے پوچھ کر تم نے اسے یہ کام دیا. ملازمہ بولی وہ بیگم صاحبہ… بیگم نوید بولیں چپ کرو تم. ایک لفظ اور مت بولنا.

مہر ایک کونے میں سہمی کھڑی تھی. بیگم نوید اس کے قریب آئیں اور بولیں آؤ بیٹا میرے ساتھ. ان کی کوئی اولاد نہیں تھی اور اب وہ اکثر اپنا وقت مہر کو طور طریقے سکھانے اور سمجھانے میں گزارنے لگیں.

مہر ویسے بھی کافی ہوشیار تھی. وہ بہت تیزی سے ہر چیز سیکھ رہی تھی. وہ ملک نوید کو سائیں جی اور بیگم نوید کو بی صاحب بلاتی تھی.

وہ کہیں بھی باہر جاتے تو مہر ہمیشہ ان کے ساتھ گاڑی میں ہوتی, سائیں جی کے کپڑے استری کرنا, موبائل چارج پر لگانا اور اس طرح کے چھوٹے موٹے کام اس کی ذمہ داری تھی. اب وہ تمام نوکروں کو کام دینے اور دوسرے حساب کتاب بھی سنبھالنے لگی تھی.

وقت تیزی سےگزرتا گیا اور اس کی عمر کے ساتھ ساتھ رنگ روپ بھی بڑھتا جارہا تھا. اب وہ سائیں جی کے اور قریب ہوتی جارہی تھی.

ایک دن مہر, سائیں جی اور. بیگم نوید گاؤں سے واپس آرہے تھے کہ سامنے سے دو گاڑیاں آئیں اور ان کا راستہ روک دیا.

یکایک کچھ مسلح لوگ اس میں سے نکلے اور فائر کھول دیے.

…………………………………..

ابھی میں واپس جانے کے لیے نکل ہی رہا تھا کہ ہلکی ہلکی پھوار شروع ہونے لگی. عمر بولا راستے میں پھنس جائے گا اگر بارش تیزہوگئی یہیں رک جا ویسے بھی صبح جمعہ ہے.

میں نے سوچا بات تو معقول ہے کوارٹر جا کر بھی سونا ہی ہے اور راضی ہوگیا. تقریباً نو بجے تک ڈیرے پر کافی لوگ آچکے تھے.

ایک بزرگ نے مجھ سے پوچھا تم کیا کرتے ہو بیٹا میں بولا جی رپورٹر ہوں. وہ حیرانی سے سر کھجاتے ہوئے پوچھنے لگے وہ کیا ہوتا ہے. میں بولا جی خبریں دیتا ہوں لوگوں کو.

وہ بولے یہ کام تو ہمارا سلیم نائی کرتا ہے گاؤں میں اور پورا کمرہ قہقہوں سے گونج اٹھا. میں نے جواب دیا جی بس شہر میں اسے رپورٹر کہتے ہیں.

کچھ دیر بعد سب واپس چلے گئے. میں سونے لیٹ گیا. تقریباً رات کو ڈھائی بجے شدید شور سے میری آنکھ کھلی. عمر کو ہلا کر اٹھایا. ہم باہر نکلے تو سارے گاؤں والے ایک طرف دوڑ رہے تھے.

ہم بھی اس سمت جانے لگے. جب ہم اس جگہ پہنچے تو وہاں کا منظر ہی کچھ اورتھا وہ درخت جس پر لڑکی کی لاش ملی تھی. اس پر آگ لگی ہوئی تھی اور ایک بچی جو بعد میں پتہ چلا کے مرنے والی بچی کی دوست تھی وہاں سے بیہوش حالت میں ملی.

لوگوں کو اب یہ یقین ہوتا جارہا تھا کہ یہ کسی جن کا ہی کام ہے. گاؤں میں خوف بڑھتا جا رہا تھا.

کچھ کچھ مجھے بھی لگ رہا تھا کہ یہ کسی اور طاقت کا ہی کام ہے. تھوڑی دیر بعد اس لڑکی کو ہوش آیا تو اس نے بتایا کہ وہ تو گھر پر سو رہی تھی. جب آنکھ کھلی تو وہ درخت کے پاس موجود تھی اور ایک کالا سایہ آیا اور دیکھتے ہی دیکھتے درخت جلنے لگا. اب سب یقین کرتے جارہے تھے کہ یہ جنّات کا ہی کام ہے.

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: