Mehar Pur Novel by Muhammad Zia – Last Episode 3

0
مہرپور از محمد ضیاء – آخری قسط نمبر 3

–**–**–

ملک نوید: بابا سائیں آپ یہ کیا کہہ رہے ہیں. مہر مجھ سے عمر میں آدھی ہے اور میری حالت دیکھیں. یہ سراسر ظلم ہوگا اس کے ساتھ.

ملک حمید: بیٹا تمہاری اسی حالت کی وجہ سے ہی میں اس فیصلے پر پہنچا ہوں. میں اب اور کتنے دن جیوں گا. مہر نے پوری حویلی کی گھرداری سنبھالی ہوئی ہے. سوچواگر اس کی شادی کہیں اور ہوگئی تو کون سنبھالے گا یہ سب. تم مہر کی فکر مت کرو. اس کی رضامندی ہے اس رشتے میں.

ملک نوید: پھر بھی بابا سائییں میرا دل مطمئین نہیں اس کے لیے.

ملک حمید: بس اب میں نے فیصلہ کرلیا ہے تمہارا نکاح مہر سے ہوگا. اس پر اور کوئی بحث نہیں چاہئے مجھے.

ایک ہفتے بعد مہر اور ملک نوید کا نکاح پڑھوا دیا گیا. جو کہ بہت سادگی سے ہوا. مہر کو ویسے بھی کوئی ارمان نہیں تھے جو اس نے نکالنے تھے.

مہر دلہن کے سرخ جوڑے میں بہت حسین لگ رہی تھی. اب اس کو باقاعدہ بی صاحبہ کا مقام مل گیا تھا. وہ اور دل لگا کر حویلی کی اور ملک نوید کی خدمت کرنے لگی. اسی اثناء میں چھ مہینے گزر گئے. مہر نے دن رات ایک کر دیا تھا ملک نویدکی خدمت میں.

اس کی محنت رنگ لے آئی اور ملک نوید آج بے ساکھی کے سہارے تھوڑا بہت چلتے ہوئے ملک حمید کے کمرے تک آئے. ان کا ایک ہاتھ مہر نے تھاما ہوا تھا.

مہر نے اندر داخل ہوتے ہوئے آواز دی بابا سائیں.
ملک حمید نے پلٹ کر دیکھا تو خوشی کے مارے ان کی آنکھوں سے آنسو نکل آئے.

ملک حمید: مہر بیٹا تم نےناممکن کو ممکن بنا ڈالا.
مہر: بابا سائیں یہ تو سائیں جی کی ہمت ہے انہوں نے بہت ساتھ دیا ہے میرا.

ملک حمید: یا اللہ تیرا لاکھ لاکھ شکر ہے. اب میں اگلے مہینے الیکشن کی تیاری اور یکسوئی سے کر پاؤں گا. ایک اور خواہش ہے بیٹا میری.

مہر: حکم کریں بابا سائیں.

ملک حمید: اب جلدی سے مجھے دادا بنا دو.

مہر کے گال شرم سے لال ہوگئے.

ملک نوید اور مہر اب کافی گھل مل گئے تھے ایسے ہی دو سال گزر گئے. مہر اور ملک نوید کے یہاں پہلے بیٹے کی پیدائش ہوئی. اس کا نام ملک حمید نے بالاج رکھا.

پھر دو سال بعد ایک لڑکی ہوئی جس کا نام فریحہ رکھا گیا. ملک نوید اب بھی بستر پر ہی تھے بس تھوڑا بہت بے ساکھی اور سہارے سے چل لیا کرتے تھے.

چھ مہینے بعد الیکشن تھے.
ملک حمید: مہر بیٹا اب میری عمر ہوگئی ہے. تم نے مجھے پوتا پوتی دونوں کا سکھ دے دیا ہے. میں چاہتا ہوں کہ اس دفعہ الیکشن نہ لڑوں اور گھر پر ہی رہوں اب.

مہر: بابا سائیں آپ سائیں جی کا نام دے دیں پارٹی کو. وہ لڑ لیں گے اس دفعہ الیکشن.

ملک حمید: میں نے نوید سے بات کی تھی اس کا مشورہ ہے کے اس دفعہ الیکشن تم لڑو.

مہر: یہ کیا کہہ رہے ہیں سائیں جی یہ بہت مشکل کام ہے.
……………………………………

ہم درخت کی طرف دیکھ رہے تھے کہ کسی نے ہاتھ میرے کندھے پر رکھا. میں نے مڑ کر دیکھا تو وہی خوفناک شکل والا ہیولا میرے پیچھے کھڑا تھا.

گھپ اندھیرے میں سوائے اس کے چہرے کے کچھ نظر نہیں آرہا تھا. میں نے جلد سے اس کا ہاتھ اپنے ہاتھ سے جھٹکا اور آواز ماری بھاگ عمر.

عمر پہلے ہی تیار بیٹھا تھا ہم دونوں نے دوڑلگا دی. کھیتوں سے بھاگتے ہوئے ہماری ہمت نہیں تھی کہ پیچھے مڑ کر دیکھتے.

ہم جو وہاں سے دوڑے تو سیدھا عمر کے ڈیرے پر آکر ہی رکے.

ہم دونوں کی سانس بری طرح پھول رہی تھی. عمر نے فرج کا دروازہ کھولا اور پانی نکال کر پینے لگا.

عمر: یار آج تیری رپورٹری کے چکر میں ہم مر جاتے. اب جب بھی جاسوسی کرنی ہو بھائی اکیلے ہی جانا میں نہیں آنے کا ساتھ.

میں نے کہا ہاں یار آج تو واقعی بال بال بچے ہیں. میں اس ہاتھ کو دیکھنے لگا جس سے میں نے اس ہیولے کا ہاتھ پکڑا تھا میرے ناخنوں پر خون کےذرات تھے.

میں اچانک سے چونکا. یہ دیکھ عمر. خون.
عمر: سر کھجاتے ہوئے…………. یہ کس کا خون ہے بھائی.

میں نی کہا شاید اس ہیولے کا ہاتھ جھٹکتے وقت میرے ناخن اس کے ہاتھ پر رگڑے ہونگے.

عمر: مگر تو اتنا پریشان کیوں ہو رہا ہے. اس بات د
سے.

میں نے عمر کو بتانا شروع کیا کی اس کا مطلب ہے. وہ کوئی جن وغیرہ نہیں ہے.بلکہ کوئی انسان ہے ورنہ خون کہاں سے آتا.

عمر: یار مگر اس کا چہرہ تو بہت بھیانک تھا.

ہاں یار ایسے ماسک آسانی سے مل جاتے ہیں اور اندھیرے گھپ کھیت میں تو ویسے ہی اور ڈراؤنے لگتے ہیں. میں نے جواب دیا.

عمر: تو اس سب کا مطلب کیا ہے. کون ہے جو ہمیں اور گاؤں والوں کو ڈرانا چاہتا ہے.

میں نے کہا ہو نہ ہو اس کے پیچھے مہر بی بی کا ہاتھ ہے. ورنہ سوچ ان کی حویلی میں مجھے وہ جن کیسے نظر آتا.

عمر: کیا کہہ رہا ہے بھائی. غلطی سے بھی یہ بات کسی اور کے سامنے مت کر دینا.

گاؤں والے تجھے اور مجھے دونوں کو زندہ ہی دفن کر دیں گے. مہر بی بی ان کے لیے کیا مقام رکھتی ہیں جانتا ہے نا.

میں نے جواب دیا ہاں جانتا ہوں. ہمیں اب بہت ہوشیار رہنا ہوگا. اب باقی کا معاملہ تو مہر بی بی ہی بتائیں گی.

عمر: اچھا اب وہ سب چھوڑ نہا لے پھر کھانا کھاتے ہیں. آج تجھے بٹیر کھلاؤں گا.

میں ہنستے ہوئے دوپہر میں مچھلی رات میں بٹیر کیا ارادے ہیں بھائی.

عمر: کھالے بیٹا حیدرآباد میں تو وہی سبزی ترکاری ہی کھانی ہے تونے.

میں نے ٹھنڈی آہ بھری,ہاں یار شہر میں کہاں ملتا ہے یہ سب. رات کا کھانا کھا کر عمر نے ٹی وی چلا دیا.

کچھ دیر ٹی وی دیکھتے دیکھتے میری نیند لگ گئی. ویسے بھی اگلے دن بہت ضروری کام نمٹانا تھا مجھے۔

مہر: بابا سائیں یہ بہت مشکل کام ہے.

ملک حمید: کچھ مشکل نہیں ہے بیٹا. یہ سیٹ ہماری خاندانی ہے کسی اور کو تو نہیں دے سکتے. ہم سب ہیں ناں تمہاری رہنمائی کے لیے.

مہر: جیسا آپ کو ٹھیک لگے بابا سائیں. بس آپ کی اور سائیں جی کی ضرورت ہر قدم پر رہے گی مجھے.

ملک حمید: انشاءاللہ بیٹا, تم کامیاب ہوگی اس امتحان میں بھی.

مہر وہاں سے ملک نوید کے پاس آئی.
مہر: سلام سائیں جی. یہ کیسا مشورہ دے دیا آپ نے بابا سائیں کو. آپ کو لگتا ہے کہ میں یہ سب کر پاؤں گی.

ملک نوید: مہر تم ایک بہادر اور با حوصلہ عورت ہو. مجھے تم سے بڑی امیدیں ہیں.

مہر: میں پوری کوشش کروں گے کہ آپ کی امیدوں پر پورا اتروں.

الیکشن میں ملک عمر مہر کے مقابلےمیں الیکشن لڑے. مگر ہار گئے. اس کے بعد مہر نے بہت محنت کی. وہ لوگوں کی شکایات خود سنتی اور ہفتے میں ایک دن کھلی کچہری لگواتی.

اس نے ملک نوید سے بات کرکے گاؤں میں ایک حویلی کی تعمیر شروع کروائی. دوسال میں اس نے بہت کام کیا اپنے حلقے میں. ادھر ملک حمید اب اکثر بیمار رہنے لگے اور ایک دن اپنے خالقِ حقیقی سے جا ملے.

زمان پور میں حویلی تیار ہوچکی تھی. مہرنے ملک نوید کو قائل کیا کہ اپنے حلقے میں چل کر رہتے ہیں. لوگوں کے بیچ رہیں گے تو زیادہ بہتر ہوگا. اور وہ زمان پور میں منتقل ہوگئے.

وہاں پہنچ کر اُس گاؤں کی ترقی کے لیے مہر نے دن رات ایک کردیا. پہلے عورتوں اور نومولود بچوں کے لیے کوئی انتظام نہیں تھا.

عورتوں کو یا تو دائی بلوانا پڑتی تھی یا پھر تین چار گھنٹے سفر کر کے حیدر آباد جانا پڑتا تھا.

مہر نے وہاں ڈسپنسری بنوائی. لڑکیوں کی تعلیم پر کام کیا. سڑکوں کو پکّا کروایا.

اس نے وہاں اتنا کام کروایا کے اگلے پندرہ سالوں میں زمان پور کا نام مہر پور پڑگیا. بچے بڑے ہوگئے. دشمن بہت تھےسب سے بڑا دشمن ملک عمر تھا. جو ابھی بھی کوئی موقع ڈھونڈ رہا تھا مہر کو نیچا دکھانے کا.

ان سب معاملات میں مہر بچوں کو اس طرح سے وقت نہیں دے سکی اور بالاج کی قربت ملک عمر اور اس کے گھرانے سے بڑھ رہی تھی.

ملک نوید کی صحت پہلے جیسی تو نہیں تھی مگر وہ مہر کا ہر ممکن ساتھ دیتے. مہر کو کوئی بھی مشورہ چاہئیے ہوتا تو ملک نوید اس کی رہنمائی کرتے.

بالاج اب بڑا ہوچکا تھا اور ملک عمر نے ایک سازش تیار کی.

………………………..

صبح اٹھ کر میں نے مہر بی بی کو فون ملایا. ان سے ملنے کی درخواست کی. انہوں نے مجھے چار بجے کا ٹائم دیا. فون پر میں نے انہیں سرسری سی بات بتائی اس ہیولے نما انسان کی حقیقت کے بارے میں.

مہر بی بی سے بات کیے ابھی تقریباً آدھا گھنٹا گزرا تھا کہ میرے موبائل پر ایک کال آئی.

کامران صاحب بات کر رہے ہیں دوسری طرف سے کسی نے پوچھا.

میں نے اثبات میں جواب دیا.

وہ بولا میرا نام شفیق ہے آپ سے ملنا ہے اگر ثبوت چاہئیں تو آجائیں سلیم نائی کی دکان پر اور ہاں اکیلے آنا.

میں نے کہا آرہا ہوں. عمر نے پوچھا کدھر جارہا ہے بھائی.

میں نے اسے پوری بات بتائی وہ اصرار کرنے لگا ساتھ چلنے کے لیے.

میں نے اسے منع کردیا. نہیں عمر تم پہلے ہی کافی پریشانی اٹھا چکے ہو. اس کام میں اب کافی خطرہ ہے میرا اکیلے جانا ہی بہتر رہے گا.

عمر: دیکھ لے یار. وہ اس وقت میں نے ایسے ہی کہہ دیا تھا باقی تیرے لیے جان بھی حاضر ہے.

میں نے مسکراتے ہوئے اسے گلے لگایا. نہیں عمر وہ بات نہیں ہے. بس شاید اس کام کو مجھے اکیلے ہی انجام دینا ہے.

میں وہاں پہنچا تو ایک شخص وہاں ٹہل رہا تھا. اس کے ہاتھ میں ایک لفافہ تھا.

وہ میری طرف بڑھا جیسے مجھے پہچانتا ہو. اس نے لفافہ میرے ہاتھ میں دیتے ہوئے کہا کہ آگے کیا کرنا ہے تم جانتے ہو. ابھی اور کچھ بات ہوتی کہ گلی کے کونے سے چار بندے نمودار ہوئے. ان کے ہاتھ میں اسلحہ تھا. انہوں نے آواز لگائی شفیق رک, اس نے گھبرا کر مڑکر دیکھا اور ایک طرف بھاگنے لگا. میں نے بھاگ کر جان بچانے میں عافیت جانی. میں بھاگ رہا تھا دو بندے میرا پیچھا کر رہے تھے.

میں گنے کے کھیتوں کی طرف سر پٹ دوڑنے لگا. اتنے میں عمر نے بائیک پر سے آواز دی, کامران جلدی آؤ. میں نے اللہ کا شکر ادا کیا. ہم بائیک گنّے کے کھیتوں میں لے گئے وہاں سے چھوٹے چھوٹے راستوں سے ہوتے ہوئے چھپ چھپا کر عمر کے ڈیرے پر پہنچے..

میرا دل اتنی تیڑ دھڑک رہا تھا کہ تھوڑا اور بھاگتا تو شاید باہر ہی آجاتا. اب مجھے واقعی میں ڈر لگ رہا تھا یہ معاملہ بہت پیچیدہ ہوتا جا رہا تھا.

مجھے تھوڑا سکون ملا تو لفافے کا خیال آیا. کھول کر دیکھا تو اس میں ایک تصویر تھی. اس تصویرکو دیکھ کر تو میرے رہے سہے اوسان بھی خطا ہوگئے.

میں نے تصویر اپنے بیگ میں رکھ لیں. شام چار بجے جب میں مہر بی بی سے ملا تو انہیں ساری حقیقت سے آشکار کیا. مگر تصویر کا کوئی ذکر نہیں کیا. میری ان سے کافی لمبی بات چیت ہوئی.

اس دن کے بعد فریحہ بی بی سے پھر بات نہیں ہو پائی. پتہ چلا کہ بالاج اور فریحہ بی بی دونوں باہر جا چکے ہیں پڑھائی کے لیے.

میں نے واپس حیدر آباد آکر سب سے پہلے اپنے ایڈیٹر کو وہ تصویر دی. انہوں نے تصدیق کروائی تو پتہ چلا کہ تصویر کے ساتھ کوئی چھیڑ چھاڑ نہیں کی گئی ہے اور تصویر اصلی ہیں نا کہ فوٹو شاپ.

اتنی بڑی خبر چھاپنے سے پہلے ہم ہر طرح کا اطمینان کرنا چاہتے تھے.

جب وہ خبر اخبار میں چھپی تو مہر پور میں واقعی تہلکہ مچ گیا. خبر کے ساتھ ساتھ وہ تصویر بھی تھی جس میں ملک عمر ہاتھ میں وہی خوفناک ماسک لیے ہوئے درخت کے پاس کھڑاتھا.

اب الیکشن میں بہت کم وقت بچا تھا اور ملک عمر کا کھیل پلٹ چکا تھا. اسے اس خبر کا ناقابل تلافی نقصان ہوا.

اس کو پوری امید تھی کہ اس دفعہ وہ الیکشن جیت جائے گا. مگر ہار ایک بار پھر اس کا مقدر بن چکی تھی.

شام میں مہر بی بی نے اپنی حویلی میں پریس کانفرنس کا انتظام کیا ہوا تھا. میں بھی اس میں خوشی خوشی شامل ہوا.

مہر بی بی آکر بیٹھی ہی تھیں کہ ان کے پیچھے کھڑے محافظ کو دیکھ کر میں حیرانی کے سمندر میں غوطے کھانے لگا.

وہ شفیق تھا. جس نے مجھے وہ تصویر دی تھی. یا میرے خدا اس کا مطلب وہ تصویر مہر بی بی نے بھجوائی تھی. کیا میں استعمال ہوگیا. کہیں میں کچھ غلط تو نہیں کر بیٹھا. میں انہی سب سوچوں میں گم تھا.

میں نے پوری پریس کانفرنس میں ایک سوال بھی نہیں کیا تھا. میری خوشی پریشانی میں تبدیل ہو چکی تھی. مہر بی بی نے بھی اس بات کو محسوس کر لیا تھا شاید.

جب سب جانے لگے تو مہر بی بی نے مجھے آواز دی کامران میں تم سے ملنا چاہوں گی کانفرنس کے بعد. میں وہیں رک گیا.

مہر بی بی: کیا بات ہے کامران کافی پریشان لگ رہے ہو. ویسے تو بہت سوال کرتے ہو, آج تم نے ایک بھی سوال نہیں کیا.

میں نے انہیں اپنی پریشانی بتائی کہ مجھے لگتا ہے جس بندے نےوہ تصویر مجھے دی تھی, وہ ابھی آپ کے ساتھ کھڑا تھا.

مہر بی بی: ہنستے ہوئے بولیں. ہاں شفیق کی بات کر رہے ہو. کامران شاید اب وقت آگیا ہے کہ تم تمام حقائق سے آشناس ہوجاؤ.

چلو میں تمہاری پریشانی دور کر دیتی ہوں. اصل میں میرا بیٹا بالاج ملک عمر کے بیٹے کا بہت گہرا دوست تھا. ملک عمر نے ویسے بھی کبھی یہ نہیں چاہا تھا کہ یہ گاؤں ترقی کرے. اس کے لیے یہ سب مزارع تھے اور وہ نہیں چاہتا تھا کہ لوگ پڑھ لکھ کر اس کے سامنے سوال کھڑے کریں.

جب اس سے کچھ نہ بن پایا تو اس نے یہ گھناؤنی سازش رچی. اس نے بالاج کو استعمال کرنا چاہا. اس نے میرے بالاج کو بیہوش کر کے اس درخت کے پاس پھینک دیا اور ایک بچی کو گاؤں سے اغوا کر کے مار کر وہاں درخت پر ڈال دیا.

میں نے سوچا اوہ تو یہ بات ہے. میں نے مہر بی بی کا شکریہ ادا کیا اور واپسی کے لیے نکل گیا. سوچا چلو جاتے ہوئے عمر سے ملتا چلوں.

میں عمر کے ساتھ چائے کے ہوٹل پر بیٹھا چائے پی رہا تھا. عمر نے اچانک پوچھ لیا کہ وہ تصویر جس بندے نے دی تھی اس کا کچھ پتہ چلا.

میں نے تمام باتیں جو مہر بی بی سے ہوئی تھیں. وہ سب عمر کو بتا دیں

عمر: یار ایک بات سمجھ نہیں آئی. جب ملک عمر نے بالاج کو ہی پھنسانا تھا وہ جن والا ڈرامہ کیوں کیا اس نے.

میں عمر کے سوال سے ایک بار پھر چونک گیا, واقعی یہ سوال میرے ذہن میں کیوں نہیں آیا.

میں نے عمر سے پوچھا کہ کوئی بندہ ہے اس کی جان پہچان میں جو ملک عمر سے متعلق معلومات دے سکے.

عمر: ملک عمر سے تو نہیں ہاں ضمیر بابا سے مل سکتے ہیں. وہ پولیس میں حوالدار ہیں اور اس کیس پر کام کر رہے تھے. انہیں شاید سب معلوم ہو مگر قائد اعظم لگیں گے.

میں نے ہنستے ہوئے کہا, ضمیر بابا تو بڑے بے ضمیر ہیں یار.

عمر: بھائی پیٹ تو سب کے ساتھ لگا ہے ناں.

میں نے کہا چلو پھر چلتے ہیں. آج یہ راز پورا کھل ہی جائے.

ہم تھانے کے باہر انتظار کرنے لگے. تھوڑی دیرمیں ایک پیٹ تھانے کے گیٹ سے باہر نکلتا ہوا نظر آیا اور مجھے عمر کی بات یاد آئی کہ ان کو بھی پیٹ لگا ہے یار اور پھر پورے ضمیر بابا بھی نظر آہی گئے.

عمر نے انہیں آواز دی, وہ شاید عمر کے دور کے رشتے دار بھی تھے. ہم علیک سلیک کے بعد ایک جگہ بیٹھ گئے.

عمر: ضمیر بابا یہ کامران اخبار میں رپورٹر ہے. کچھ معلومات چاہئیے اسے.

ضمیر بابا: مل جائے گی. مگر وہ……..

عمر: ہاں ضمیر بابا وہ میں بتا چکا ہوں.

ضمیر بابا: پوچھو بیٹا کیاپوچھنا ہے. ہم سب جانتے ہیں. بس کہتے کچھ نہیں. ہاں بس میرا نام نہ آئے کہیں بھی.

میں نے انہیں یقین دلایا کہ اس بات سے آپ بے فکر رہیں. آپ کا نام کہیں نہیں آئے گا.

ضمیر بابا: تم غالباً مہر بی بی اور ملک عمر کے کیس کے بارے میں جاننا چاہتے ہو.

میں نے اثبات میں سر ہلایا.

ضمیر بابا: بیٹا سائیں بالاج کا ملک عمر کے بیٹوں سے کافی گہرا دوستانہ تھا. وہ اکثر ساتھ راتوں کو محفلوں میں بھی ہوتے تھے.

بڑے لوگوں کے بچے تھے ایک دن بالاج نےذیادہ پی رکھی تھی اور رات میں اس لڑکی کو ان لوگوں نے اغواء کیا اور پھر بالاج سے غلطی ہوگئی. وہ اتنانشے میں دھت تھاکہ وہ وہیں بیہوش ہوگیا.

اب یہ تو نہیں پتہ کہ قتل کس نے کیا مگر اس بات کو دبانے میں مہر بی بی نے خوب پیسہ چلایا. ایس ایچ او نے تو کراچی میں گھر لیا تھا اس حادثے کے بعد. مہر بی بی ملک عمر سے ساری زندگی ان غریبوں کے لیے لڑتی رہیں اور اس کا اپنا بیٹا ان لوگوں کو حقیر سمجھنے لگ گیا تھا

بعد میں ملک عمر نے بڑی کوشش کی بالاج کو پھنسانے کی. اس نے لوگوں میں مشہور کروادیا کہ بالاج اس دن موقع واردات پر موجود تھا. ایس ایچ او تو مہر بی بی کے گھر بھی گیا تھا کہ شاید بالاج کو گرفتاری دینی پڑے. مگر مہر بی بی نے اس کہا کہ گاؤں میں مشہور کروادو کہ اس سب کہ پیچھے جنات کا ہاتھ ہے.

میں تجسس سے بولا پھر وہ ملک عمر کے ہاتھ میں جو ماسک تھا وہ تصویر کا کیا ماجرہ ہے.

ضمیر بابا: بیٹا وہ مہر بی بی ہے ناں. اسے ملک عمر بہت ہلکا لے گیا. اس نے اپنے بندے سے فون کروایا ملک عمر کو کہ درخت کے پاس جن کا راز ہے, جب وہ وہاں پہنچا تو وہاں اسے ماسک دکھا.

اس نے ماسک دیکھنے کے لیے اٹھایا تو مہر بی بی کے بندے نے وہ تصویر لے لی اور پھر تمہیں دے دی. ملک عمر سے تفتیش میں ہمیں اس نے یہ بتایا تھا. باقی اللہ بہتر جانتا ہے.

میں بہت بری طرح سے استعمال ہوچکا تھا. اب میں کسی کوکچھ بتا بھی نہیں سکتا تھاکیوں کہ ملک عمر کو تو میں خود ولن ثابت کر چکا تھا. پتہ نہیں مہر بی بی نے سہی کیا یا نہیں. پتہ نہی کس کا سچ پورا سچ تھا یاآج تک چھپا ہوا ہی تھا.

مہر پور آج بھی ترقی کر رہا ہے. مہر بی بی آج بھی وہاں لوگوں کے دلوں پر راج کرتی ہیں. ملک عمر سب کر کے بھی کچھ خاص حاصل نہیں کر سکا.

اور یہ راز ایک راز ہی رہ گیا کہ اس بیچاری بچی کے ساتھ اس رات ہوا کیا تھا. شاید غریب کی زندگی کی وہ قیمت نہیں جو امیر کی زندگی کی ہے.

–**–**–
ختم شد
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: