Urdu Novels

Mera Faisla Quran karay ga – Episode 1

Mera Faisla Quran karay ga
Written by Peerzada M Mohin
میرا فیصلہ قرآن کرے گا – قسط نمبر 1

–**–**–

گاؤں کی پگڈنڈیوں پہ بچے ایک دوسرے سے آگے نکلنے اور ڈھول کی آواز کا پیچھا کرتے بھاگ رہے ہیں ۔آج پروین کی اور اقبال کی شادی ہے دونوں کے گھروں میں کچھ خاص فاصلہ نہیں ۔ چچا ذاد ہونے کی بنا پر یہ رشتہ پروین کے پیدا ئش کے دن ہی طے پایا تھا ۔دونوں طرف ایک ہی خاندان تھا ۔بارات پینو کے گھر آچکی تھی ہرے بھرے کھیتوں کے بیچ کچی مٹی کی چاردیواری میں کھلا سا صحن اور صحن کے ایک طرف بیری کا بڑا سا درخت جو کے کیکر کے درخت کے اتنے قریب کہ اٹھکیلیاں کرتے ہوئے صاف دکھتا۔ صحن کے بیچوں بیچ مراسن ڈھول پیٹ رہی ہے اور دولہے کی بہنیں اور رشتہ دار عورتیں سہرے(گیت) گا گا کر اور جھومر ڈال ڈال کر اپنی خوشی کو ذندگی کا حصہ بنا رہی ہیں ۔ اور ان کے گرد بچھی چارپائیوں پر بوڑھی خواتین بھی ان کا گا گا کر ساتھ دے رہی ہیں۔دو کمروں کے اس مٹی سے بنے گھر میں ہر طرف خوشی ہی خوشی ہے۔دلہن کی سہیلیاں اسے تیار کر رہی ہیں اور ساتھ ہی شادی شدہ کزنیں پینو کے ساتھ چھیڑ چھاڑ کر نے میں مصروٰف دکھائی دے رہی ہیں اور پینو مارے شرم کے اپنا مونہہ نیچے کر لیتی ۔سولہ سال کی پینو پر رج کے روپ آیا تھا ۔لمبے گھنے بال جسے آج پہلی دفع اس کی سہیلیوں نے بھی بچپن کے بعد اب دیکھا تھا وہ اتنا کس کے دوپٹہ جو لیتی تھی ،بڑی بڑی اور حیا سے بھری آنکھیں جو پلکوں کے بھاری پن سے جھکی ہوئی تھیں ستواں ناک پرخوبصورت نتھ ، اور نازک ہونٹ جن پر پہلی دفع لپ اسٹک لگی تھی۔اور سرخ رنگ کی لپ اسٹک اور آنکھوں کا کاجل اور کھلتا صاف گندمی چہرہ جس پر ہلکی سی کریم لگی تھی ۔ ماتھے پر جھومر لیکن ایسا لگتا تھا گویا پریوں کے مقابلہ حسن میں پہلا انعام پا کے بیٹھی ہو۔اس خوبصورتی کو اگر غالب دیکھتے تو یقینا ایک دیوان لکھ دیتے۔*
*شاید دولہا آگیا ہے اس کی سہیلی نے اس کے کان میں کہا اور پھر اچانک کمرے کے دروازے پر موجود لڑکیوں کی بحث کی آوازیں آئیں جو کہ دولہا سے در مہاڑی(دروازہ کھولنے کی رسم) کے پیسے مانگ رہی تھیں ۔کافی بحث کے بعد کچھ معاملہ طے پاگیا ۔پروین ہاتھ سے بنی ٹکریلی گندی(سندھی بیڈ شیٹ) سے ڈھکی چارپائی پر بیٹھی تھی جس کے چاروں پائے رنگین اور آرٹ کا نمونہ تھے جو کہ اس کی ماں نے اپنے ہاتھوں سے بنی تھی۔ اقبال جو گلے میں نوٹوں کے بھاری بھرکم ہار پہنے ہوئے تھا شرماتا ہوا چارپائی پر بیٹھ گیا ۔ارد گرد موجود بوڑھی عورتوں نے اپنی خاص سرائکی زبان میں ان کے لیئے دعاؤں کے گیت گانے شروع کر دیئے۔سات سہاگنوں نے ان کے سرپر اپنے دوپٹے کے پلو ڈالے اور ہر ایک نے نیک تمناؤں ،دعاؤں کے ساتھ ان کے سر سے پلو ہٹائے اور مختلف رسومات کے بعد آخر کار رخصتی کا وقت بھی آگیا۔ باپ نے گلے لگایا بھاٖئیوں نے سر پر ہاتھ رکھا ماں اور بہنوں سے ملتے ہوئے وہ پھوٹ پھوٹ کے روئی لیکن ایک نہ ایک دن تو سب کو ہی پیا گھر سدھارنا ہوتا ہے اور یہی معاشرے کا قانون ہے۔*
*اقبال بہت خوش تھا آج پینو اس کے خوابوں سے نکل کر حقیقت میں اس کے سامنے بیٹھی تھی بچپن کی منگ تھی اس کی۔۔ بچپن سے ہی اسے دیکھ کر شرم سے چھپ جاتی ۔۔ اس گاؤں اور خاندان کے رواج کے مطابق منگیتر سے بات کرنا بہت ہی بے شرمی سمجھا جاتا تھا اس لیے ان دونوں کے درمیان کبھی لفظوں کی زبان نہیں بولی گئی تھی۔ گو کہ اقبال کی ترسی نگاہیں ہر وقت پینو کی متلاشی رہتیں اور راتیں اس کے سپنوں میں کٹتیں اور اب حقیقت میں اس کے سپنوں کی شہزادی گھونگھٹ ڈالے بیٹھی تھی ۔اقبال نے اپنے مہندی والے لال ہاتھوں سے اس کا گھونگھٹ اٹھایا اور بے اختیار بولا واہ اللہ سائیں واہ ۔۔۔*

*پینو اور اقبال کی محبت کی ابتدا کا تو ان دونوں کو معلوم نہیں کب ہوئی لیکن شادی کے بندھن نے گویا اس محبت کو زباں دے دی تھی یہ وہی پینو تھی جو اس کو دیکھتے ہی شرم سے چھپ جاتی تھی اب اس سے ڈھیروں ساری دل کی باتیں کرتی۔ایک دن دونوں مل کر گھاس کاٹتے کاٹتے تھک کر پگڈندی پر بیٹھ گئے تو پینو نےاپنے دوپٹے سے اقبال کا پسینہ سکھایا۔ اقبال نے اس کی آنکھوں میں جھانکا ۔۔پینو نے شرما کر پوچھا کیا* *دیکھ رہے ہو ۔۔۔۔تمھاری آنکھوں میں اپنی تصویر دیکھ رہا ہوں اقبال نے درانتی کو زمین پر رکھتے ہوئے بہت پیار سے کہا ۔۔۔پینو جو اب تک پگڈندی پہ لگی گھاس سے کھیل رہی تھی خوب کہکہالگا کے ہنسی اور پھر ہنستی ہی رہی اقبال اس کی ہنسی کی آواز سے خوش تھا لیکن مصنوعی خفگی سے بولا یہ کیا بات ہوئی میں نے جھوٹ کہاکیا؟ ۔۔۔* *نہیں پینو جھٹ سے بولی اصل میں شادی سے پہلے جب تم میرے خواب میں آتے تھے تو اگلے دن میں نیچے مونہہ کر کہ گھومتی تھی ۔۔۔اقبال نے حیرت سے اسے دیکھ کر کہا مگر کیوں؟ایسا کس لیئے ؟میں ڈرتی تھی کہ کوئی میری آنکھوں میں آپ کی تصویر نہ دیکھ لے اور کہیں کسی کو پتہ نہ چل جائے کہ آپ میرے خواب میں آئے تھے۔۔۔اس بار ہنسنے کی باری اقبال کی تھی اور وہ زور زور سے ہنسنے لگا پینو نے پاؤں زمین پر پٹخے ۔۔بالی تم بہت برے ہو اور کاٹی ہوئی گھا س جو ذرا فاصلے پر پڑی تھی پینو نے اقبال پر ڈالنا شروع کردی ۔۔۔اقبال کہاں چوکنے والاتھا اس نے بھی پینو پر ڈالنا شروع کردی* *دونوں خوب ہنسے اور خالی کپڑے میں پھر سے گھاس ڈالنا شروع کردی۔۔۔*
*چاچی باہر شور کیسا ہے۔اچانک شور پر پینو نے آٹا گوندھتی ساس سے کو دیکھا جو خود بھی حیران تھی اب شور بڑھ رہا تھا اچانک نزیراں ،امیراں اور ان کی ما ں بھاگتی ،ہانپتی ،کانپتی ان کے گھر میں داخل ہوئیں اور فریاد کرنے لگیں اللہ کا واسطہ میری بیٹیوں کو چھپالو ان کے بھائی نے ساتھ والے گاؤں کے آدمی کا قتل کردیا ہے اور اب میری بیٹیوں میں سے کسی کو قربان کرے گا۔ یہ کہانی کوئی نئی نہیں تھی پینو اور اس کی چاچی کے لیئے ۔یہ تو اس گاؤں کی ریتی تھی یہاں کے آدمی قتل کرنے میں بہادری سمجھتے تھے اور اسی قتل کی سزا سے بچنے کے لیئے اپنی بہنوں،بیویوں،بہوؤں اور ماؤں کو قتل کردیتے اس سے ان کے دو مقاصد حاصل ہوتے دشمن بھی مارا جاتا جس پہ ان کہ بہادری کا ٹائیٹل مل جاتا اور گھر کی کسی عورت کو مارنے پر سزا سے بچنے کے علاوہ عزت دار،غیرت مند ہونے پر پگ بھی پہنائی جاتی ۔ویسے بھی عورت کی حیثیت ہی کیا تھی ان کی نظر میں پاؤں کی جوتی،غلام،حقیر اور کمزور اور پھر چھوٹی موٹی مار کٹائی سے کہاں ان کی طاقت کا پتا چلتا ایک آدھ قتل کرکے ہی تو مرد کی مردانگی کا روپ آتا ۔*
*شور اور قریب آرہا تھا اس سے پہلے کہ پینو اور اس کی چاچی کچھ کرنے کا سوچتیں امیراں،نزیراں کے بھائی اور باپ اندر آگئے ان کے ساتھ پینو کا سسر اور جیٹھ اپنی بڑی مونچھوں کو تاؤ دیتا ہوا صحن میں داخل ہوا نزیراں اور امیراں کمروں کی طرف بھاگیں لیکن ان کا بھائی جو تازہ تازہ قتل کرکے آیا تھا جس کی آنکھوں سے ایک وحشی پن جھلک رہا تھا اور ایک قتل کرنے کے بعد اس کی آنکھوں کا رنگ لال ہورہا تھاان کے پیچھے شکاری کتے کی طرح جھپٹا امیراں کی قسمت خراب تھی کہ وہ پہلے پکڑائی میں آگئی اور اس کے بھائی کو تو اس وقت قربانی کے لیئے ایک ہی چاہیئے تھی ۔امیراں نے بھائی کی منت سماجت کی اپنا دوپٹہ اس کے پاؤں میں ڈالا ۔واسطے دئیے ۔وہ کہتی رہی بھائی مجھے کیوں مار رہے ہو ۔مجھے نہیں مرنا ،اس کی چیخوں کی آوازیں آسمان ہلا رہیں تھیں ۔لیکن اس کا بھائٖی اسے گھسیٹے جا رہا تھا ،امیراں کی ماں دہائیاں دے رہی تھی ۔چھاتی پیٹ رہی تھی اور اپنے بیٹے کو اپنے دودھ کا واسطہ دے رہی تھی کہ بہن کو چھوڑ دو ۔بے گناہ کو مت مارو ۔۔۔مغرب کی آذان کی آواز آئی تو بولی دیکھو میرے بیٹے تم کو اس آذان کی قسم کا واسطہ میری بیٹی کو چھوڑ دو ۔۔ارے یہ تو سب سے چھوٹی ہے ۔۔تمھاری لاڈلی ہے۔۔۔تم سے کتنا پیار کرتی ہے ۔۔۔تمھارا راستہ دیکھتی ہے ۔۔تمھارے لیئے اللہ سائیں سے دعائیں مانگتی ہے ۔۔ابھی سے تمھاری شادی کے گیت گاتی ہے۔۔۔۔اسے چھوڑ دو۔۔۔۔۔*
*بکواس بند کرو اپنی امیراں کا باپ جو کہ اب تک خاموش کھڑا تھا بول پڑا ۔۔قتل کرکے آیا ہے ساتھ والے گاؤں کے آدمی کو اگر بہن کو کالی کرکے نہیں مارے گا تو اس کو سزا ہوگی اور مقتول کا بدلہ لینے آجائیں گے۔۔۔اور پھر بہنیں بھائیوں پر قربان ہونے کے لیئے ہی تو ہوتی ہیں ۔۔۔۔۔۔جلدی کر پتر اس سے پہلے کہ پولیس آجائے ،چلو پکڑو امیراں کو ۔۔۔اس نے اپنے دوسرے بیٹوں کو اشارہ کیا جو کہ اب تک خاموشی سے یہ منظر دیکھ رہے تھے تیزی سے لپکے اور امیراں کی آوازیں ۔۔اماں مجھے بچاؤ میں مرنا نہیں چاہتی ۔۔ ۔۔اماں مجھے درد ہوگا ۔۔۔ابا سائیں ادے سائیں کو بولو مجھے چھوڑ دیں آپ کی تو میں لاڈلی گڈی ہوں ۔۔۔امیراں کے باپ نے اس کے سر پر ہاتھ رکھا ۔۔۔میں مجبور ہوں اور بیٹوں کی طرف اشارہ کیا دیر مت کرو ۔۔۔پینو اور اس کی ساس جو شروع سے رورہی تھیں اور اسے بچانے کے لیئے آگے آرہی تھیں وہ بھی واسطے دینے لگ گئیں ۔۔۔چاچا اللہ کا واسطہ ظلم مت کرو ۔۔۔خدا کے قہر سے ڈرو ۔۔۔لیکن اس وقت کوئی بھی فریاد ،کوئی بھی واسطہ کوئی بھی آنسو امیراں کے باپ کے فیصلے کو ٹس سے مس نہیں کرسکتا تھا ۔۔اس وقت اس کو اپنی بیٹی کی قربانی میں ہی اپنے بیٹے کی زندگی نظر آئی اور بیٹی بچا کر وہ گھاٹے کا سودہ نہیں کرنا چاہ رہا تھا آخر کو نسل تو بیٹوں سے چلتی ہے ۔۔۔امیراں کی ماں ان کے پیچھےباہر کے دروازے کی طرف بھاگی لیکن اس کے شوہر نے اس کو بالوں سے پکڑ کر پیچھے کی طرف دھکا دیا اور بیٹوں کو باہر سے دروازہ بند کرنے کا کہا ۔۔۔۔امیراں کی چیخوں کی آوازیں اندھیرا پھیلنے کے ساتھ ساتھ دور ہوتی چلی گئیں*
*۔اس کا دوپٹہ کچے صحن کے بیچ پڑا تھا ۔۔۔اس کی ماں نے دوپٹے کو اٹھا کر گلے لگایا ۔۔۔آج امیراں کی گڑیا کی شادی تھی اور اس نے اپنی ماں سے خاص یہ سوٹ سلوایا تھا اور دوپٹے پر گوٹا اپنے ہاتھوں سے لگایا تھا ۔۔۔اس نے دوپٹے پر گوٹا لگا کر ماں سے کہا ٌدیکھو اماں میں نے اچھا گوٹا لگایا ہے نا ۔۔۔بڑے ادا(بڑے بھائی ) کی دولہن کے کپڑوں پر بھی میں گوٹا لگاؤں گی۔۔اماں کتنا مزہ آئے گا میں ادے کو خود مہندی لگاؤں گی۔۔۔امیراں کی ماں غم سے نڈھال تھی ۔۔پینو اور اس کی ساس اسے پانی پلانے کی کوشش کر رہی تھیں اور خود بھی زاروقطار رو رہی تھیں بھلا کیسے اسے دلاسا دیتیں ۔۔۔۔ادی اٹھو۔۔پانی پی لو ۔۔ہم عورتوں کی تو قسمت ہی خراب ہے ۔۔۔اللہ سائیں نے ہمیں پیدا ہی قربان ہونے کے لیئے کیا ہے ۔۔۔اسی لئے تو درباروں میں جا جا کر ا بیٹی پیدا نہ ہو دعائیں کرتے ہیں۔۔۔لیکن وہ بھی بادشاہ ہے اماں حوا کی سزا ہم سے لے رہا ہے۔۔۔کیا ہوتا ہم عورتوں کو بلی ،کتا یا کوئی اور جانور بنا دیتا ۔۔ارے اس عورت بننے سے تو وہ بہتر تھا۔۔۔چاچی اپنے غم میں بولے چلی جا رہی تھیں اور امیراں کی ماں اس کے گلے لگا کر بین کر رہی تھی۔۔۔ارے میری امیراں کی گڑیا کی شادی تھی آج۔۔۔میری بیٹی کتنی خوش تھی ۔۔۔مہندی لگائی اس نے اپنے ہاتھوں پہ۔۔۔ہائے میری بچی آج بہت خوبصورت لگ رہی تھی ۔۔۔ہائے نظر لگ گئی میری بچی کو میری۔۔۔۔اوہ ربا تو نے پیدا کیوں کیا اگر میری گود میرے ہی بچے کے ہاتھوں اجاڑنی تھی تو ۔۔۔بین کرتے کرتے چاچی رحمت بے ہوش ہو گئی۔۔۔۔*

*پینو خود غم سے نڈھال تھی ۔امیراں صرف اس کے چچا کی بیٹی ہی نہیں اس کی سہیلی بھی تھی ۔دونوں کی عمروں میں زیادہ فرق نہیں تھا۔امیراں پینو سے سال ڈیڑھ چھوٹی تھی ۔اور گھر بھی پاس ہی تھا ۔دونوں کے گھروں کے بیچ ایک چھوٹی سی دیوار تھی جو یہ آرام سے کود کر ایک دوسرے کے گھر آجاتیں۔۔اور آج صبح سے پینو کو امیراں اپنے ساتھ گھر لے گئی تھی کیونکہ اس کی گڑیا کی شادی تھی اور پینو نے اس کا ہاتھ بٹانا تھا ۔۔۔امیراں نے اپنی ساری سہیلیوں کو بلایا تھا*
*امیراں بہت پیاری لگ رہی تھی۔۔اس نے سرخ گوٹے والا سوٹ پہنا تھا۔۔۔اس کی گڑیا کا سوٹ بھی سرخ تھا جس پہ اس نے اسی طرح کا گوٹا لگایا تھا اور گڈا بھی اس کا اپنا تھا جس کو اس نے سفید سوٹ اور سر پر لال پگ پہنائی تھی۔پچھلی دفعہ اپنی گڑیا کی شادی پر وہ بہت روئی تھی کیونکہ اس کی گڑیا رخصت ہوگئی تھی اب کی بار اس نے سوچا تھا گڑیا کی شادی بھی ہوگی اور وہ میرے پاس رہ جائے گی ۔۔۔ پینو نے سوچا لیکن اسے کیا پتا تھا کہ اس کو ہی اس کی گڑیا سے الگ کر دیا جائے گا۔۔*
*آج کی رات پینو کے لیئے بہت* *بھاری،خوفناک تھی اقبال بھی کسی کام سے دوسرے گاؤں گیا ہوا تھا ورنہ اس کے کندھے پر سر رکھ کر اپنی سہیلی کا غم ہلکا کرتی ۔امیراں کو اس کے ادا سائیں نے قتل کر نے کے بعد خود کو پولیس کے حوالے کر دیا تھا ۔پینو کے خون کی خوشبو اس اندھیری رات میں پھیل گئی تھی۔جانے غم کی راتیں اتنی لمبی کیوں ہوتی ہیں ۔۔پینو نے سوچا ۔۔۔وہ جانتی تھی کہ امیراںکو بغیر نماز جنازہ کے ہی دفنا دیا ہوگا ۔۔قبرستان سے تھوڑا ہٹ کر کالیوں کے لئیے مختص جگہ میں جہاں ایک گڑھا کھود کر ان پر مٹی ڈال دی جاتی ہے۔اور ان کا کوئی نشان نہیں رکھا جاتا۔وہ سوچ رہی تھی امیراں کا تو کفن بھی وہی سرخ گوٹے والا سوٹ تھا۔۔اور یہ سوچ کر وہ پھر سے پھوٹ پھوٹ کر روئی۔۔*
*امیراں کو اندھیری رات نے اندھیری قبر میں ڈال دیاپھر بھی صبح کا سورج نکل آیا صحن میں سب کچھ اسی طرح پڑا تھا ۔آٹے کا تھال۔چولھے پر چڑھی دال کے نیچے آگ بجھ چکی تھی لیکن رحمت چاچی کا دل جل رہا تھا ،آنکھیں سوج کر سرخ انگارہ ہوگئی تھیں۔۔نزیراں ابھی تک اندر کہیں اندھیرے میں چھپی بیٹھی تھی ۔۔پینو کی ساس اس کا ہاتھ پکڑ کر باہر لے آئی ۔۔۔نزیراں بوکھلائی ہوئی تھی جانتی تھی اس کی بہن ہمیشہ کے لئے اس سے بچھڑ چکی ہے اور کل کی نوک جھونک ان کی آخری نوک جھونک تھی۔*
*دروازے پر دستک ہوئی چند رشتہ دار عورتیں گھر میں داخل ہوئیں ۔پینو کی ماں بھی ان کے ساتھ تھیں ۔۔پینو ماں سے لپٹ گئی اور پھوٹ پھوٹ کر رونا شروع ہوگئی ۔اماں دیکھو یہ کیا ہوگیا ۔امیراں کو مار دیا ۔۔۔ایک معمر خاتون جو ان کے ساتھ تھی پینو سے گویا ہوئی بری بات ہے دھی رانی کالیوں کے مرنے پر روتے نہیں ۔۔ماسی وہ کالی نہیں تھی اس نے دکھ سے اونچی آواز میں چیخ کر کہا ۔اس نے کوئی گناہ نہیں کیا ۔وہ تو کل اپنی گڑیا کی شادی میں مصروف تھی۔۔معمر خاتون اسے نظرانداز کرکے آگے بڑھی اور امیراں کی ماں سے گویا ہوئی ارے اٹھو بھی کونسی نئی بات ہوگئی یہ کونسا پہلی دفع ہوا ہے ۔خود کو سنبھالو ۔کیا تم کو یاد نہیں تمھارے بھائیوں نے تمھاری بہن کو کالا کرکے ذندہ دفن کیا تھا اس کا دودھ پیتا بچہ اس کی چھاتی سے کیسے الگ کیا گیا ۔۔کیا سب بھول گئی ۔۔اس طرح کے دکھ تو ہمارے خاندان کی عورتیں اوپر سے لکھواکر لائی ہیں ۔۔چل اپنے گھر جا تیرا بیٹا کل تک چھوٹ کر آجاے گا ۔۔پنچیت اس کو پگ پہنائے گی جو بھی ہے دلیری کا کام تھا یہ۔۔چل اگر رؤے گی تو تیری بھی قبر کھود دیں گے۔اور ہاں پولیس تیرا بیان لینے آئے گی سردار نے کہا ہے تو نے کہنا ہے کہ تیرے بیٹے نے اچھا کیا جو بہن کا قتل کیا وہ غیرت مند ہے اور مجھے اپنے پتر پر فخر ہے۔۔معمر خاتون جو اب تک زمین پر ننگے سر بیٹھی رحمت چاچی کے پاس بیٹھی تھی اٹھ کر چارپائی پر بیٹھ گئی اور لمبے لمبے سانس لینے لگ گئی کیونکہ جو کچھ اس نے کہا تھا اس کا دل جانتا تھا اس نے کیسے کہا ہے۔مگر چاچی ادے منظور نے تو گھوڑے کی ریس میں ہارنے پر اس آدمی کا قتل کیا اور اس کی سزا سے بچنے پر امیراں کا ۔۔پھر امیراں کو کالی قبرستان میں کیوں ڈالا ۔۔۔ارے دھی رانی تو باقی جن کو کا لا کیا ہوتا ہے وہ کونسا اصل میں گناہ گار ہوتی ہیں ۔یہ تو ان کی قسمت میں لکھا ہوتا ہے۔اللہ سائیں کی مرضی وہ جس کو جب جیسے مارے یا مروائے ۔۔۔پینو کی ماں نے جو آنسوؤں سے پہلے ہی دوپٹہ گیلا کیئے بیٹھی تھی دکھ سے بولی ماسی اللہ سا؍ئیں نے ہماری قسمت نہیں لکھی ان مردوں نے لکھی ہے اور اگر اللہ نے لکھی بھی ہے تو مردوں نے بدلا دی ہے ۔ ارے کرے کوئی اور بھرے کوئی یہ کہاں کا انصاف ہے۔ چپ کر پینو کی ماں رحمتے کو نہ بھڑکا ،ارے اپنے مرد اور بیٹوں کے خلاف بولے گی یہ ۔کیا ہوگیا ہے بیٹا سولی چڑھ جائے گا اور سردار خاندان کا نام مٹی میں ملانے پر اس کو اپنے گاؤں میں رہنے دے گا کیا ۔ چری (پاگل) ہوگئی ہے کیا ۔اپنی عقل کو دل کے حوالے مت کرو ۔جو دن زندگی کے باقی ہیں بس جیسے کیسے انہیں گزارو۔ اور بیٹی کے ٰفیصلے کی فکر نہ کر وہ آخرت میں ہو ہی جائے گا پر دنیا میں فیصلہ تو سردار ہی کرتا ہی نا۔معمر خاتون نے پروین کی ماں کو جھڑکنے کے بعد رحمتے کو پیار سے سمجھایا۔ پروین کی ماں سے یہ بات ہضم نہیں ہوئی بولی کیوں ماسی اللہ دنیا میں فیصلے نہیں کرتا کیا ؟ ماسی جو پہلے ہی تقریر کرکے تھک چکی تھیں غصے سے بولیں فکر نہ کر تیری دھی کے ساتھ ہوا تو دنیا میں ہی اللہ سائیں سے فیصلہ کروالینا۔ پینو کی ماں نے پینو کی طرف دیکھا اور دل پر ہاتھ رکھ لیا اور فورا بولی اللہ نہ کرے ماسی میری بیٹی کے ساتھ کچھ برا ہو ۔تمہارے مونہہ میں خاک۔*
*ابھی معمر خاتون رحمت خالہ کو سمجھا ہی رہی تھی کہ امیراں کا باپ ،پینو کا سسر اور جیٹھ سردار کے ساتھ اندر داخل ہوئے معمر خاتون نے جلدی سے رحمت چاچی کے اجڑے بالوں پر دوپٹہ ڈالا ۔۔رحمتے باہر پولیس آئی ہے تیرا بیان لینے ۔ماسی جیندل نے جو تجھے سمجھایا ہے ویسے ہی کہنا ورنہ تیرا بیٹا سولی چڑھ جائے گا۔۔امیراں کے باپ نے رحمت کی طرف دیکھتے ہوئے اپنا حکم سنایا۔۔۔رحمت چاچی نے نفرت سے شوہر کی طرف دیکھا اور کہا تم سب میری بیٹی کے قاتل ہو ۔۔خدا تمہیں کبھی معاف نہیں کرے گا ۔تم آگ میں جلوگے ۔۔میری دھی کے قاتل میں خود تمہیں دوزخ میں ڈال کر آؤں گی ۔۔اوہ بند کر اپنی بکواس ۔ایک دونگا الٹے ہاتھ کی ۔۔ تیرے بیٹے کی جان بچا رہا ہوں میں۔۔شکر کر بیٹا بھی بچ جائے گا اور پگ بھی بڑھ جائے گی ۔۔چل اب ذیادہ اوکھی نہ ہونا۔۔خبردار جو پولیس کے سامنے واویلہ کیا ۔ذندہ زمین میں گاڑ دونگا ۔سمجھی ایں۔*
*(کیا چاچی رحمت اپنے شوہر کی بات مانے گی یا اپنے دل کی ؟

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

About the author

Peerzada M Mohin

Leave a Reply

This function has been disabled for Online Urdu Novels.

%d bloggers like this: