Urdu Novels

Mera Faisla Quran karay ga – Episode 2

Mera Faisla Quran karay ga
Written by Peerzada M Mohin
میرا فیصلہ قرآن کرے گا – قسط نمبر 2

–**–**–

*پینو کی ساس نے نسرین کے آگے ہاتھ جوڑے اور کہا اللہ کا واسطہ نسرین یہ بات گھر کے مردوں کے سامنے مت کرنا اور کسی اور سے بھی ذکر مت کرنا ۔واہ ۔۔۔واہ چاچی خالی میں نے تو نہیں دیکھا وہ ماسی برکت کا چھوٹا بیٹا بھی تو کھڑا تھا اس نے پوری بستی میں بتایا ہوگا ۔نسرین نے ایک ہاتھ کمر پر اور دوسرے ہاتھ کو نچا کر کہا ۔۔تو بھر جائی اگر اس نے دیکھا ہے تو میں نے کونسا گناہ کیا ہے۔میں کیوں ڈروں؟ ارے پاک بی بی وہ شخص غیر تھا اور غیر بندہ گاؤں میں نہیں آتا اور اس کو کوئی اور نہیں ملا تھا راستہ پوچھنے کے لیئے۔نسرین نے تنک کر کہا ۔۔پینو کی ساس سر پکڑ کر نیچے زمین پر بیٹھ گئی ابھی تو امیراں کا دکھ ختم نہیں ہوا تھا ، ہر روز ایک آدھ آنسو اس کے حصے کا آنکھوں کے کناروں کو بھگوتا اور اب ایک نیا طوفان ۔۔۔۔نہ جانے کیا ہوگا ۔۔۔اس نے پینو کی طرف ترس بھری نگاہ سے دیکھا جو اس کے ساتھ زمین پر بیٹھی رو رہی تھی۔۔*
*شام تک یہ خبر جنگل کی آگ کی طرح پھیل چکی تھی ۔اس کی وجہ یہ تھی کہ اس گاؤں کے لوگ سب کے سب ایک دوسرے کے رشتہ دار ہیں ۔عورتیں گھر کے کاموں کے علاوہ مویشیوں کے لئے گھاس کاٹنے کے لیئے اور کھیتوں میں دیگر کاموں کے لیئے اپنے گھر کےمردوں کے ساتھ کام کرتیں ہیں ۔یہ گاؤں نہر کے قریب ہونے کی بنا پر کافی سر سبز ہےاور آم کے باغ اور گنے کے کھیتوں کی بھی بہتات ہے ۔گاؤں کے کچھ گھر نہر کے کنارے موجود ہیں جبکہ نہر سے ایک کلومیٹر کے فاصلے پر گاؤں کا مرکز ہے جسے بستی کہا جاتا ہے ۔بستی کے گھر ایک دوسرے کے قریب ہیں اور گھروں کے بیچ میں یا تو کوئی دیوار نہیں ہوتی اور اگر ہو بھی تو دو فٹ سے زیادہ نہیں ہوتی ۔یہ بستی ایک گھر سے شروع ہوتی ہے اور جوں جوں بچوں کی شادیاں ہوتی جاتیں ساتھ ساتھ گھر تعمیر ہوتے جاتےہیں ۔اور رشتے بھی قبیلے کے رواج کے مطابق سب سے پہلے گاؤں میں ہی طے ہوتے ہیں ۔ ایک بستی میں تقریبا ۳۰ سے ۳۵ گھر یا خاندان ہوتے ہیں ۔اگر کسی کا گھر چھوٹا پڑ جائے تو وہ اپنا گھر بھائی کو دے کر تقریبا ایک ڈیڑھ کلومیٹر کے فاصلے پر نیا گھر بنا تا ہے ۔اور وقت کے ساتھ ساتھ اس کے قریب گھروں میں بھی اس کے بچوں کی شادیوں کے ساتھ ساتھ اضافہ ہوتا جاتا ہے لیکن گھروں کے بیچ کی دیوار نہ ہونے کے برابر ہوتی ہے البتہ تمام گھروں کے باہر ایک بہت بڑی چار دیواری ہوتی ہے جس نے پوری بستی کو لپیٹا ہوتا ہے اور اس بستی میں داخل ہونے کے لیئے اس کے چاروں طرف یا تو دروازے ہوتے ہیں یا پھر صرف داخلے کی جگہ۔سب کے جانوروں کی جگہ عموما ایک ہی ہوتی ہے لہذا خواتین کا ایک دوسرے سے ملنے اور خبروں میں تبادلے میں وقفہ کم ہی آتاہے ۔ان گھروں کے بیچ کی دیواریں چھوٹی ہونے کی بنا پر پوری بستی ایک ہی گھر کا منظر دیتی ہےکچن بھی صحن میں ہی ہوتے ہیں اور یوں مشترکہ تندور بھی ہوتے ہیں جن پر خواتین روٹیاں لگانے کے ساتھ ساتھ حالاتِ حاضرہ پر گفت و شنید بھی کرتی رہتی ہیں ۔خاندانوں کا یوں اکٹھے رہنا جہاں ان کی خوشیوں کو دوبالا کرتا ہےوہاں غیبت اور حسد کا بھی باعث بنتا ہے۔ آج پینو کا ذکرہر ایک کی ذبان پر تھا اور کسی غیر شخص کا خلافِ توقع گاؤں میں آنا بھی اچنبھے کی بات تھی ۔پینو کا سسرال بستی سے تقریبا ایک کلومیٹر کے فاصلے پر تھا جہاں چند ایک گھر ہی تھے جس میں ایک اس کے چاچا کا اور دوسرا رمضان ماما کا ۔رمضان ماما پینو کی ماں کا خالہ ذاد جبکہ پینو کے سسر اور باپ کا چچا ذاد تھا اور سردار کا دایاں بازو تھا ۔اس قبیلے کے رواج کے مطابق چند گاؤں مل کر اپنے خاندان میں سے جس کی زمین ذیادہ ہوتی اور وہ غیرت مند اور بہادر(غیرت مندی اور بہادری کا معیار بھی عورتوں پر ظلم پر بڑھتا) ہوتا اور دشمن سے لڑنے کا حوصلہ رکھتا اسے سردار بنا دیا جاتا لہذا سردار کا حکم حتمی سمجھا جاتا ہے۔ شادی بیاہ سے لے کر کارو کاری کے تمام معاملات سردار ہی دیکھتا ہےاس کے علاوہ خاندانی اور بیرونی جھگڑوں اور پیچیدگیوں کو بھی وہی دیکھتا ہے ۔ان تمام امور کے لیئے پنچیت کی مدد لی جاتی اور پنچیت میں خانداں کے چند معتبر بزرگ اور غیرت مندی کے شملے (پگ) والے شامل ہوتے ہیں۔رمضان ماما کا شمار پنچیت کے سب سے معتبر رکن میں ہوتا تھا اس کی وجہ ان کا تیز دماغ کے ساتھ ساتھ خاندان کی عزت کا رکھوالا ہونا تھا ۔رمضان ماما نوجوانوں کو بہادر بنانے ،دشمن سے لڑنے اور عورتوں پر ظلم کی خاص تربیت دیتا اور قتل کرنا مرد کی شان سمجھتا۔ بھلا یہ کیسے ہوسکتا تھا کہ کوئی بات بستی میں ہو اور اس کی خبر رمضان کو نہ ہو۔اس واقعہ کی خبر بھی اس تک پہنچ گئی ۔اس وقت وہ ڈیرے پر ایک پنچیت میں بیٹھا تھا کہ رب نواز یعنی اس کے بھتیجے نے اس کے کان میں یہ خبر سنائی۔رمضان کا چہرہ غصے سے لال ہوگیا۔اس نے رب نواز سے کہا تم جاؤ میں آتا ہوں۔*
*پینو کا سسر،اس کا جیٹھ اللہ وسایا اور بالی کے سامنے پینو بیٹھی رورہی تھی جبکہ نسرین صبح کے واقعہ کو مرچ مصالحہ لگا کر ان کو بتا رہی تھی ۔پینو نے آنسوؤں سے گندھی آواز میں کہا بھر جائی اللہ سے ڈرو مجھ پر بہتان مت باندھو ۔اور اپنے سسرکے قدموں میں بیٹھ گئی چاچا تم کو تو پتا ہے میں ایسا نہیں کرسکتی ۔مجھے قرآن کی قسم ہے میں نے کچھ نہیں کیا۔چاچا نے مونہہ دوسری طرف کرلیا ،اللہ وسایا مونچھوں کو تاؤ دیتے ہوئے چارپائی سے اٹھ کر کھڑا ہوگیا اور چیخ کے بولا کچھ ہوتا ہے تو ہی بات بنتی ہے بستی کا بچہ بچہ کہہ رہا ہے اور جو آدمی آیا تھا وہ رحیم چاچا کے گھر نہیں گیا پھر وہ کون تھا ؟اور اس نے تم سے کیوں بات کی؟ جو بھی ہے رمضان چاچا تمہیں نہیں چھوڑے گا ۔یہ کہہ کر وہ باہر نکل گیا ۔باہر رمضان ماما،رب نواز اور خاندان کے ایک دو اور لوگوں کی آوازیں آئیں۔پینو کا سسر کمرے سے باہر صحن میں آنے والی آوازوں کی جانب چلا گیا تو پینو نے بالی کا ہاتھ پکڑا اور روتے ہوئے بولی تم بتاؤ بالی کیا میں ایسی ہوں۔بالی خدا کی قسم میں اس شخص کو نہیں جانتی ۔میں پاک ہوں مجھے اس اللہ سائیں کی قسم جس نے مجھے پیدا کیا ہے میرے تو خواب میں بھی تیرے سوا کوئی نہیں آتا۔بالی جو پہلے سکتے میں تھا ایک دم سے پینو کو گلے سے لگایا اور اس کا چہرہ اپنے ہاتھوں میں لے کر بولا مجھے پتا ہے میری پینو پاک ہے ۔مجھے پتا ہے یہ سب جھوٹ ہے ۔تم فکر نہ کرو میں سمجھاؤنگا ابا سائیں کو ۔تم اندر ہی رہنا باہر مت آنا میں دیکھتا ہوں باہر کیا ہو رہا ہے۔*
*صحن میں پینو کا باپ ،اس کی ماں ،گھر کے باقی افراد اور رمضان ماما تھے۔ شور بڑھ رہا تھا ۔پینو کی ماں دہائیاں دے رہی تھی کہ امیراں کے خون سے تم لوگوں کو ٹھنڈ نہیں پڑی کہ اب میری معصوم دھی کے پیچھے پڑ گئے ہو ۔پینو کا باپ بھی دبی سی ذبان میں کہہ رہا تھا میری دھی ایسا نہیں کرسکتی۔اس نے پینو کے سسر کی طرف دیکھتے ہوئے کہا کیوں ادا کیا تمہیں یقین ہے کہ پینو گنہگار ہے اس کی جگہ پینو کی ساس بولی ارے میرا مٹھڑا بھرا ( سوئیٹ بھائی) پینو دھی ایسی نہیں ہے میں تو صبح سے قسمیں کھا رہی ہوں۔ارے ظلم نہ کماؤ۔بس کرو یہ دھرتی بھی پناہ مانگتی ہے ۔بالی نے اونچی آواز میں کہا بس بہت ہوگیا خبردار میری ذال (بیوی) کے بارے میں اب کسی نے بات کی تو ۔وہ کالی نہیں ہے اور اس کے قتل کی میں ہرگز اجازت نہیں دونگا۔اس کو قتل کرنے کے لئے تم لوگوں کو میری لاش سے گزرنا ہوگا۔ اللہ وسایا نے رمضان چاچا کی طرف دیکھا جو پہلے ہی حیرانگی سے بالی کو دیکھ رہا تھا ایک دم سے سانپ کی طرح پھنکار کر بولا اوئیے میں تو تجھے بڑا غیرت مند سمجھتا تھا تو تو نرا بے غیرت نکلا، ایک عورت کی چال میں آگیا۔ تجھے پتا بھی ہے تو کیا بکواس کر رہا ہے ۔ہاں مجھے پتا ہے کہ میں کیا کہہ رہا ہوں۔ نہیں چاہیئے مجھے غیرت مندی کا تمغہ ۔پینو میری بیوی ہے میں ہی اس کا فیصلہ کرونگا اور یہ میرا فیصلہ ہے کہ پینو بے گناہ ہے ۔بالی دکھ اور غصے سے کانپ رہا تھا کیونکہ وہ پینو سے نہ صرف بے تہاشا محبت کرتا تھا بلکہ اس پر بھروسہ کرتا تھا ۔اللہ وسایا غصے سے چلایا ۔اوئے بالی تجھے شرم نہیں آتی چاچے کے سامنے کیا بکواس کر رہا ہے ۔*
*پینو کمرے میں ڈر کے مارے کانپ رہی تھی ۔باہر شور تھا اور مختلف آوازیں آرہی تھیں ۔۔پینو پاک ہے۔۔۔نہیں وہ کالی ہے۔۔۔اسے ماریں گے۔۔۔میں ایسا نہیں ہونے دونگا۔۔۔۔خاندان کی عزت کا سوال ہے۔۔۔۔میں کچھ نہیں جانتا ۔۔۔۔۔میری دھی بے گناہ ہے۔۔۔۔وہ شخص اس کا آشنا تھا۔۔۔۔آہ اللہ سائیں تو کہاں ہے۔۔۔کالی۔۔۔گنہگار۔۔۔نہیں معصوم۔۔۔پاک۔۔۔دودھ کی طرح پاک ۔۔۔۔کالی نہیں ۔۔۔نا پاک نہیں ۔۔۔۔سنگسار کریں گے۔۔۔سردار کے حوالے کریں گے۔۔۔۔ماریں گے ۔۔۔نہیں مارنے دونگا۔۔۔کالی ہے۔۔۔وہ میری ہے۔۔۔مجبور ہیں پتر ان کی بات مان لو۔۔۔اور اب اقبال کے چیخنے کی آوازیں ۔۔۔پینو نے کانوں میں انگلیاں ڈال دیں۔اسے امیراں یاد آرہی تھی ۔ہائے اس کی بھی تو کسی نے نہیں سنی تو پھر میری اور بالی کی کون سنے گا ۔۔میرا انصاف یہ لوگ کیسے کریں گے ۔یہ منصف تو خود کتنے بے گناہوں کے خون سے نہائے ہوئے ہیں۔میں کیا کروں اللہ سائیں ۔سنا ہے تو منصف ہے ۔تو صحیح فیصلہ کرتا ہے ۔تو میرا فیصلہ کر ۔۔آ جا نا ان لوگوں کو بتا کہ میں بے گناہ ہوں ۔۔میں کالی نہیں ہوں ۔۔میں بدکردار نہیں ہوں۔۔اللہ سائیں تو کہاں ہے ۔۔اللہ سائیں میں تجھے پکار رہی ہوں۔۔مجھے جواب دے ۔۔اچانک اس کی نظر سامنے بنی سفیل (شیلف)پر پڑی جہاں قرآنِ پاک لال اور سنہرے غلاف میں تھا ۔پینو نے جھٹ سے قرآن کو اٹھا یا اور گلے سے لگایا اور چوم کر آنکھوں سے لگایا اور قرانِ پاک کو اپنے ہاتھوں میں لے کر کہا ہاں میرا فیصلہ قرآن کرے گا۔قرآن فیصلہ کرے گا ۔۔میرے پاس اپنی بے گناہی کا کوئی ثبوت نہیں لیکن میری گواہی قرآن دے گا ۔۔*

صحن میں بڑھتا شور اب کمرے کی طرف رخ کر رہا تھا پھر یکا یک صحن میں موجود تمام لوگ کمرے میں تھے رمضان خاں سب سے آگے تھا اور بالی پر چیخ رہا تھا ۔۔تم بے غیرت ہو ،خاندان کی صدیوں پرانی رسموں کو روندنے نہیں دونگا ۔۔تمہیں میں قبیلے کی پگڑی اچھالنے نہیں دونگا۔۔ایک کالی کو گھر میں رکھا ہوا ہے ۔۔بے شرم ۔۔۔لعنتی۔۔۔سن لو جب تک یہ دھرتی پر ذندہ رہے گی دھرتی پر گناہ کا بوجھ رہے گا ۔۔۔اس کے خون سے دھرتی پر عذاب کم ہوگا ۔۔۔ہمارے غیرت مند آباؤ اجداد کی روح شرمندہ ہوگی۔۔۔دشمن ہم پر ہنسیں گے۔۔۔بالی نے ہاتھ سے اشارہ کرتے ہوۓ چیخ کر کہا بس کر چاچا رمضان کب تک اپنی عزت کی پگ کی منزلیں بڑھانے کے لیئے معصوم عورتوں کا سہارہ لوگے ۔۔دشمن پر اپنی بہادری کی دھاک بٹھانے کے لیئے کمزور عورت کی گردن کب تک دبوچو گے ۔۔۔عزت کا شملہ عورت کے خون سے ہی کیوں رنگتے ہو اور جب رنگ پھیکا پڑ جاتا ہے تو تاذہ معصوم اور بے گناہ خون سے پھر نیا رنگ چڑھاتے ہو ۔۔او چاچا بس کرو ۔۔تم آدم خور تو نہیں مگر قسم اللہ پاک کی حوا خور ضرور ہو۔۔۔لت لگ گئی ہے تم کو عورت کے خون کی۔۔۔اور سن لو چاچا دھرتی پر اس معصوم کے گناہ کا بوجھ نہیں لیکن قسم ہے اللہ سائیں کی اگر تم نے میری بے گناہ بیوی کو قتل کرنے کی کوشش کی تو یہ دھرتی تم کو پناہ نہیں دے گی ۔۔۔یاد رکھنا ۔۔بالی غصے اور غم سے رمضان خاں کے آگے چیخا۔۔۔ اللہ وسایا نے بالی کا باذو اپنی جانب کھینچا ۔۔اور ایک ذور دار تمانچا اس کے چہرے پر رسید کرتے ہوۓ چلایا ۔۔اوۓ بالی تیری تو مت مار دی ہے اس زنانی نے ۔۔تو۔۔تو۔۔چاچا رمضان کے آگے کیا بکواس کر رہا ہے ۔۔۔ہوش کر ایسا نہ ہو تجھے بھی بے غیرت ہونے پر تیری زنانی کے ساتھ دفن کرنا پڑے ۔۔۔بالی کے بھائی نے غصے سے پھنکارتے ہوئے اسے ڈرانے کی کوشش کی ۔۔رمضان چاچا کی آنکھوں میں غصے کی لالی میں ایک خاص شیطانیت کی چمک پیدا ہوئی اور اس کے سفاک چہرے پر سفاک مسکراہٹ نے اس کی حیوانیت کی جھلک دی ۔۔ اس نے اپنی کانوں کی لوؤں تک پھیلی ہوئی مونچھوں کو تاؤ دیتے ہوۓ پینو کی طرف دیکھا اور پھر بالی کے باپ کے کندھے پر ہاتھ رکھتے ہوۓ بولا ۔۔سوتر (کزن) بیٹے کو سمجھا لو ۔۔ایسا نہ ہو تیرے بیٹے کی قبر بھی بے نشان رہ جاۓ ۔۔۔تو جانتا ہے نہ جو بزرگوں کے قدموں کے نشان مٹانے کی کوشش کرتا ہے اس کو یہ قبیلہ بے نشان کر دیتا ہے ۔۔سمجھا اس کو ۔۔اس کے خون میں جوا نی کا جوش تو ہے مگر غیرت کا ہوش نہیں اور میں جوش کو ختم کرنے اور ہمیشہ کے لیۓ ہوش اڑانے کا ماہر ہوں ۔اس کو بول پینو میرے حوالے کردے ورنہ اپنی سانسیں گنتا رہے ۔۔ قسم ہے اس شملے (پگڑی) کی جتنے قتل کیے ہیں اس سے کم گنتی رہ جائے گی اس کی سانسوں کی۔۔رمضان نے اپنے کندھے پر موجود اجرک کو ہاتھ میں لے کر جھٹکا دیا اور دوبارہ سے کندھے پر رکھ کر باہر کی طرف رخ کیا ۔اس کی اونچی پگڑی نے دروازے سے گزرتے ہوۓ مزاہمت کی تو اس نے جھک کر دروازہ پار کیا اور بیرونی دروازے کی جانب تکبر سے بڑھا۔*
*پینو کی ماں کی آنکھیں رو رو کر سوجی ہوئی تھیں اور گلا سب کو اپنی بیٹی کی بے گناہی کی گواہی دیتے دیتے بیٹھ گیا تھا۔ پینو کا باپ گردن نیچے کیے نجانے کتنی دیر سے زمین کو تکے جا رہا تھا ۔آج اسے حقہ پینا بھی یاد نہ رہا بس اس کے سامنے پینو تھی جب سے اس کے سسرال سے ہوکر آیا تھا اپنی بیٹی کی سسکیاں اسے اپنی ہر چلتی سانس میں سنائی دے رہیں تھیں ۔۔اس کے ہاتھوں میں قرآن تھا ۔۔وہ بس ایک ہی بات بول رہی تھی ۔۔اس سچے قرآن کی قسم میں سچی ہوں۔۔اس پاک قرآن کی قسم میں پاک ہوں۔۔۔میری گواہی اور میرا فیصلہ قرآن کرے گا۔۔ پینو کے باپ کی جھکی گردن ایک طرف ڈھلکنے لگی پینو کی ماں نے ان کو سیدھا کیا اور ٹانگیں سیدھی کرتے ہوئے بیٹے کو آوازیں دیں ۔۔رستم رستم بھاگ کر آ ۔۔تیرے باپ کی طبیعت خراب ہورہی ہے ۔۔رستم جو باہر جانوروں کو چارہ ڈال رہا تھا بھاگتا ہوا آیا اور باپ کو چارپائی پر سیدھا کر کے لٹایا ۔۔چھوٹا بیٹا جلدی سے پانی لے آیا ۔۔اماں گڑ لاؤ اور شہد لاؤ اس نے ماں کو آواز دی ۔۔تھوڑی دیر میں پینو کے باپ کی طبیعت بہتر تھی ۔۔اس نے رستم کا ہاتھ اپنے ہاتھ میں لیتے ہوۓ کہا۔۔رستم مجھے پتا ہے سارا خاندان باتیں بنا رہا ہے لیکن تم جانتے ہو ہماری پینو دودھ کی طرح پاک ہے ۔۔رستم اگر تمہارے ہاتھ اس کے خون سے رنگے گئے تو مجھے ان ہاتھوں سے کبھی نہ چھو نا اور نہ ہی مجھے ان ہاتھوں سے دفنانا۔۔مجھے پتا ہے میری بچی کی سانسیں چھین لی جائیں گی لیکن میں چاہتا ہوں میرے خون کو میرا ہی خون مت بہائے۔۔۔*
*رمضان اور خاندان کے دوسرے بزرگ سردار کے سامنے بیٹھے تھے اور پینو کا کیس زیر بحث تھا ۔ رمضان نے سردار کو خدشات سے آگاہ کرتے ہوئے کہا کہ کالی (جس پر الزام لگایا جاتا ہے اسے کالی کہا جاتا ہے) کا شوہر بہت اچھل رہا ہے ۔۔وہ اس کے قتل کے لیئے آمادہ نہیں اور اس کا سسر بھی خاموش ہے صرف اللہ وسایا بالی کا بھائی غیرت کا مظاہرہ کر رہا ہے لیکن وہ بھی اپنے بھائی کے لیئے پریشان ہے۔۔ اچھا اور لڑکی کے باپ اور بھائی کی کیا صورت حال ہے ۔۔سردار نے رمضان کی طرف دیکھتے ہوئے پوچھا۔۔سائیں سرکار رستم کا باپ تو اپنی دھی کو بے گناہ سمجھتا ہے ۔۔اسے تو عزت ،غیرت کی پرواہ نہیں ۔۔ہاں البتہ رستم اور اس کے بھائیوں کو غیرت کی شراب پلانی پڑے گی ۔۔ان کی اپنی شہ رگ پہ زور آۓ گا تو بہن کی محبت خود ہی دم توڑ جاۓ گی۔۔رمضان نے* *مونچھوں کو تاؤ دیتے ہوۓ کہا۔۔سردار نے پنچیت بلانے کا کہا جس میں پینو کے میکے اور سسرال اور پینو کو پیش ہونا تھا۔*
*پینو اٹھ جا کب تک جائے نماز پر بیٹھی رہے گی اور اس قرآن پاک کو بھی اب شیلف پر رکھ دے ۔۔میں اپنے جیتے جی کسی کو تیری طرف میلی آنکھ سے دیکھنے بھی نہیں دونگا ۔۔میرا بھروسہ کر ۔۔۔چل چپ ہوجا ۔۔۔اللہ سائیں ہماری مدد کرے گا ۔۔بالی نے پینو کا ہاتھ پکڑ کر اسے جائے نماز سے اٹھایا اور چارپائی پر ٹکریلی گِندی (سندھی بیڈ شیٹ ) بچھائی اور اسے بٹھایا اور چنگیر سامنے رکھ کر نوالہ بنایا اور پینو کی طرف بڑھایا۔۔ پینو نے اس نوالے کو بالی کو کھلایا ۔۔جانتی تھی کہ بالی نے اس کی طرح اب تک صرف آنسو پئے ہیں ۔۔*
*بالی اور پینو کی چارپا؍ئی پچھلے صحن میں بچھی تھی جبکہ گھر کے باقی افراد کمروں کے سامنے والے صحن میں سورہے تھے یا پھر آنے والے وقت کے دکھ سے آنکھیں بند کئے لیٹے ہوئے تھے ۔۔۔آج چاند کی چودھویں تھی غالبا ۔پینو کو چمکتا چاند بہت پسند تھا وہ ہمیشہ چاند کی چودھویں کو بالی سے پوری رات جاگ کر باتیں کرنے کی ضد کرتی ۔کبھی گانے کی فرمائش کرتی اور خوب خوش ہوتی اور بالی اپنی شاعری کے ذریعے کبھی اس کے حسن کو چاند سے ملاتا تو کبھی چاند کو چڑاتا کہ میرے پاس تم سے ذیادہ خوبصورت پینو ہے اور کبھی پینو کو چڑانے اور تنگ کرنے کے لیئے یونہیں بات کرتا اور پھر پینو کو مناتا یوں پتا بھی نہ چلتا اورصبح کی سپیدی ظاہر ہوجاتی لیکن آج کی رات عجیب تھی ۔۔اداس تھی ۔۔دونوں خاموش تھے ۔۔۔جدائی جیسے ان کے قریب آرہی ہو ۔۔۔بالی جو بچپن سے اس ملن کا انتظار کر رہا تھا ۔اس نے تو ابھی ذندگی کی خوبصورت پینو کی صورت میں پائی تھی ۔۔۔ابھی تو اس کی شاعری نے گیت گائے تھے ۔۔ابھی تو اس کی زندگی کے کینوس میں رنگ بھرے تھے ۔۔۔ابھی تو اس نے پینو کو دل بھر کے دیکھنا تھا ۔۔ابھی تو اس نے اس کے ساتھ بہار کے پھول چننے تھے پھر اچانک ہمیشہ رہنے والی خزاں کا پیغام کیوں۔۔۔اس کی ذندگی کے کینوس سے اڑتے رنگوں کا خوف اور اس کے گیتوں کا مرثئے میں بدلنا اس کے دل کو ڈبو رہا تھا ۔اس کا دل اتنی زور سے رورہا تھا کہ وہ اسے دلاسا دیتے دیتے تھک گیا اور پھر تکئے کے بھیگنے پر پینو کی رندھی آواز نے خاموشی توڑی ۔۔بالی تمہارا تکیہ بھی بھیگ گیا ہے ۔۔تمہیں بھی یقین آگیا ہے کہ مجھے تم سے علیحدہ کر دیا جائے گا ۔۔بالی اٹھ کر بیٹھ گیا ۔۔نہیں پینو ۔۔ایسا کبھی نہیں ہوگا ۔۔میں ایسا نہیں ہونے دونگا ۔۔تم دیکھنا ۔۔میں تمہیں بہت دور لے جاؤنگا۔۔بہت دور ۔۔جہاں ہم دونوں ہونگے ۔۔ہمارے بچے ہونگے ۔۔پینو نے روتے ہوئے کہا ہاں اور میں بوڑھی بھی ہوجاؤنگی تو بھی تم مجھے دلہن کی طرح سجا ہوا دیکھنا چاہو گے۔۔پینو نے بالی کی وہ بات جو وہ ہمیشہ اسے کہتا تھا دہرائی۔۔پھر دونوں کے صبر کا پیمانہ لبریز ہوگیا اور گلے لگ کر خوب روئے۔۔
نہر آج بھی اسی آب و تاب سے بہہ رہی تھی ۔بالی نہر کے کنارے بیٹھا تھا ۔نہر کے دونوں اطراف درخت تھے ۔جو لائن میں کھڑے تھے یوں لگتا تھا یہ سب ہاتھ باندھے کسی درباری کی طرح کھڑے ہیں جو دربار کے فیصلوں کو سنتے تو ہیں لیکن خاموش رہتے ہیں ۔یا پھر تماشایوں کی طرح کھڑے ہیں جو کبھی بچوں کو نہر میں نہاتے ،کھیلتے ،تیرتے ہوئے دیکھ کر تالیاں بجاتے ہیں ،درختوں کی شاخیں ہل ہل کر ناچتی ہیں اور پتے ہوا کے سروں میں اضافہ کرتے ہیں ۔اس گاؤں کا بچہ بچہ تیراکی جانتا ہے لہذا نہر کا اس گاؤں کے لوگوں کے ساتھ گہرا رشتہ ہے ۔بالی کو یاد آیا پینو بھی اپنی اماں کے ساتھ نہر پر کپڑے دھونے آتی تھی ، اسے اچانک ایک خوف نے آلیا ۔یہ نہر جتنی خوبصورت اور سحر ذدہ تھی اتنی ہی خوفناک بھی تھی نہ جانے کتنے لوگوں کے جسم بغیر روح کے اس میں بہے ہونگے ۔اس نے سوچا ۔۔مگر نہیں ۔۔۔لوگ نہیں عورتیں ۔۔۔عورتیں نہیں کالیاں ۔۔ہاں کالیاں ۔۔ان میں سے زیادہ تر کالیوں کی نہ تو جلد کالی ہوتی ہے اور نہ دل بلکہ یہاں کے بڑوں ،بزرگوں،سرداروں کی جہالت کی کالک ہوتی ہے جو یہ معصوم لڑکیوں کے چہروں پر ڈالتے ہیں ۔ان کی آنکھوں پر جہالت کی لگی میلی پٹی میں ان کو بہت سی معصوم ،بے گناہ عورتیں کالی دکھتی ہیں اور ان کو کالی کا نام دے کر فرعون کی طرح ان کے جسموں سے روح کو کھینچ کر اپنے خدا ہونے کا دعوی کرتے ہیں ۔ بالی نے انہیں خیالوں میں الجھا ہوا تھا کہ پیچھے سے آواز آئی ٌ بالی تجھے سردار بلا رہا ہے ۔نہر کے ساتھ ہی کچی سڑک تھی اور اس کے ساتھ ہی سردار کا ڈیرہ تھا جہاں دو کمروں کے سامنے برگد کا قدیم ،پھیلا ہوا برگد کا درخت ہے اس ڈیرے کی کوئی چاردیواری نہیں ۔یوں نہر سے ڈیرے پر موجود لوگ صاف دکھتے تھے اور اردگرد پھیلے سرسبز کھیت اور آموں کے باغات کا منظر بھی واضح نظر آتا ہے۔آج پینوکا فیصلہ تھا اس لئے ڈیرے پر بہت سے لوگ موجود تھے جن میں بالی کے ابا،بھائی اور پینو کے ابا ،بھائی ،رمضان خان اور خاندان کے دیگر بزرگ بھی سردار کے ساتھ بیٹھے تھے ۔سردار رنگ دار پایوں والی چارپائی پر کسی بادشاہ کی طرح بیٹھا تھا اس کے سامنے ایک خوبصورت حقہ بھی کسی آرٹ کا نمونہ تھا۔سردار نے حقے میں موجود دھوئیں کے بادل اپنے اندر انڈیلے اور نظریں بالی کی طرف ڈالتے ہوئے رعب سے بولا ٌ ہاں بھئی بالی سنا ہے بڑا اکڑ رہا ہے تو کہ کالی کو مارنے نہیں دے گا ٌ بالی نے سردار کی طرف دیکھے بغیر کہا ٌ کالی نہیں ہے وہ ۔۔یہ اس پر غلط الزام ہے۔۔۔پاک ہے وہ۔۔۔میں جانتا ہوں ۔۔۔وہ بیوی ہے میری۔۔۔۔ٌ ٌ اوئے بس تو فیصلہ کرے گا کہ وہ کالی ہے یا نہیں ٌ سردار غصے سے دھاڑا تو کیا رمضان خان اور باقی لوگ جھوٹ بول رہے ہیں اور سمجھ لے تو کہ ہمارے قبیلے میں شروع سے ہی کالی کا فٖیصلہ پنچیت کرتی ہے یہ اللہ سائیں کا قانون ہے جو بھی گناہ کرے اسے سنگسار کرو ۔۔۔بابا مسلمان ہیں ہم۔۔ہم غیرتی مشہور ہیں ۔۔۔تم کیا چاہتے ہو عورتیں بغیر نکیل کے گھومتی رہیں۔۔آج اگر ہم نے ان کو سزا نہ دی تو بے شرمی بڑھتی جائے گی ۔۔۔دشمن تھو تھو کریں گے اور بزرگوں کی روحیں تڑپ تڑپ کر قبروں سے باہر نکل آئیں گی۔۔بس فیصلہ ہوگیا کہ وہ کالی ہے اور سزا کی مستحقٌ۔۔۔سردار نے دو ٹوک فٖیصلہ سنایا ۔۔۔ٌلیکن میں اس فٖیصلے کو نہیں مانتا اور جو بھی میری بیوی کو مارے گا میں کیا اسے اللہ بھی نہیں چھوڑے گا۔۔۔اس نے سر پر قرآن رکھا ہوا ہے ۔۔۔اگر تم کہتے ہو کہ اس قرآن میں لکھا ہے اس کو سنگسار کرنے کا تو کیا قرآن میں اللہ نے نہیں لکھا ہوگا کہ اگر وہ بے گناہ ہے اور بے گناہ کا قتل کرنے والوں کو کیا سزا نہیں ہوگی۔۔۔تم کہتے ہو کہ یہ قرآن کا فیصلہ ہے کہ اسے سزا دی جائے اور وہ کہتی ہے کہ میں بے گناہ ہوں اور میرا فٖیصلہ بھی قرآن کرے گا ۔۔۔اور مجھے یقین ہے کہ اگر تم لوگوں نے اس کے ساتھ کچھ غلط کیا تو اس کا فیصلہ انشا اللہ قرآن کرے گا ٌ بالی نے دکھ اور غصے سے سردار کو دیکھا۔۔۔ ٌبس کر اوئے بڑا آیا مفتی ۔۔اسی لئے کہتا ہوں سائیں وڈا کہ گاؤں میں ٹی وی پر پابندی لگوائیں ورنہ باپ دادوں کی رسموں اور رواجوں کو یہ نوجوان نسل اپنی بے غیرتی کے نام کردیں گے ۔ایسا وقت قریب نظر آرہا ہے جب غیرت کی وجہ سے نہیں بے غیرتی کی وجہ سے دشمن ہمیں پہچانیں گے اور میں ایسا ہونے نہیں دونگاٌ۔۔رمضان خان نے اپنی بندوق پر ہاتھ رکھتے ہوئے دھمکی دی۔۔۔ کیوں رستم خان تم بلوچ ہونے کا حق اداکروگے یا بالی کی طرح باپ دادا کی پگ رولوگے ۔۔۔سردار نے رستم خان (پینو کے بھائی ) سے سوال کیا تو وہ تھوڑا سا گھبرا یا اور باپ کی طرف دیکھا ۔رستم کی بجائے اس کے باپ نے جواب دیا ٌ سائیں آپ کا حکم سر آنکھوں پر مگر بالی صحیح کہتا ہے میری دھی بے گناہ ہے۔۔۔سائیں ابھی تو وہ چھوٹی سی ہے ۔۔۔میں اس کی حیا کی قسم کھاتا ہوں۔۔میں قرآن اٹھاتا ہوں کہ وہ بے گناہ ہے ۔۔۔وہ بے گناہ ہے ۔۔یہ کہتے ہوئے پینو کے باپ نے سردار کے پاؤں پکڑ لیۓ اور اپنی آنکھوں کے آنسوؤں کو سردار کے پاؤں میں رگڑا کہ شاید اسے رحم آجائے لیکن رحم تو شاید اس کی سرداری کے لئیے طعنہ ہوتا ۔اور سردار کی سرداری تو اس کی بے رحمی سے طاقتور ہوتی ہے ۔۔۔دشمن پر دھاک بھی بیٹھتی ہے اور اس وقت تو سردار کی شان اور بڑھتی ہے جب دشمن خود کہتا ہے فلاں سردار بڑا بے رحم ہے اس سے بچ کر رہو۔۔اور سردار نے سوچا یہی لوگ تو ہیں جن کے کندھوں پر چڑھ کر میرا قد بڑھتا ہے چاہے یہ کندھے زندہ لوگوں کے ہوں یا مرے ہوؤں کے اور پھر جب تک میرے پاؤں ان کے سروں پر رہیں گے تب تک یہ زمین کے قریب اور میں آسمان پر رہوں گا اس خیال کے آتے ہی سردار کے دل میں جلتی ہوئی ذرا سی رحم کی چنگاری بھی بے رحمی سے بجھ گئی۔۔۔سردار نے پاؤں سے رستم کے باپ کو خود سے دور کرتے ہوۓ رعونت سے کہا ٌ رستم اپنے باپ کو مجھ سے دور کردے ایسا نہ ہو اس بے غیرتی پر میں اسے ہی واجب القتل کر دوں ۔کیا ہوگیا ہے آج تک ایسا نہیں ہوا کہ کسی لڑکی کے کالی قرار دینے کے بعد کوئی اس کا وکیل بن کر آیا ہو۔اوہ بے وقوف انسان ! ہوش کے ناخن لے ۔۔۔تجھے بستی میں کون بسنے دے گا ۔۔بتا تو سہی ۔۔۔خاندان سے کٹ کر رہ سکتے ہو تم لوگ؟۔۔۔اللہ وسایا بتا اپنے بھائی کو اس کی زنانی کو قتل کر کے اس کو عزت کی پگ پہنائی جائے گی۔۔اوئے خوش قسمت ہوتے ہیں وہ جن کو یہ پگ پہنا ئی جاتی ہے ۔۔۔نہیں چاہیئے مجھے یہ پگ۔۔میں اپنی زنانی کو لے کر دور چلا جاؤں گا ۔۔۔تم مت رہنے دو ہمیں گاؤں میں ۔۔۔دے دو مجھے بے غیرتی کا ٹائیٹل ۔۔۔بالی اب بپھر رہا تھا ۔۔۔اللہ وسایا نے اپنے چھوٹے بھائی کو سرزنش کی ۔۔۔پاگل ہوگیا ہے ۔۔بکواس بند کر اپنی۔۔۔تجھے عزت کی پرواہ نہیں لیکن ہماری عزت کو تو نہ رول۔۔۔ میرا تو خیال ہے وڈا سائیں اس بالی کو بھی اس کی زنانی کے ساتھ ہی کالی قبرستان میں دفن کردیں یا ایک اور ٌبے غیرتوں کا قبرستان ٌکے نام سے قبرستان بنائیں جہاں یہ اور اس جیسے اور بے غیرتوں کو دفن کریں ۔۔۔بڑا شوق ہے اس کو بے غیرت ہونے کا۔۔بے غیرت کہیں کا۔۔۔ہونہہ۔۔رمضان خان نے نفرت سے بالی کی طرف تھوکا۔۔۔سردار نے بالی کے باپ کی طرف دیکھا ۔۔۔ہاں کیا کہتے ہو پھر فیصلہ کرلو ۔۔لرکی کو خود مارو۔۔۔ورنہ ہمارے حوالے کردو ہم خود اپنے طریقے سے اسے زندہ درگور کریں گے ورنہ جو رمضان خان کہہ رہا ہے اس پر عمل کیا جائے گا ۔۔۔رستم کے باپ تم بھی سن لو ۔۔۔سردار نے بالی کے باپ کے بعد اپنا رخ پینو کے باپ کی طرف کرتے ہوئے کہا ۔پھر پنچیت میں موجود باقی لوگوں سے بھی ان کی رائے لی ۔۔۔کس کی جرائت تھی جو رمضان اور سائیں وڈا کے خلاف بولتے ۔۔۔سب نے ہاتھ اوپر کرکے سردار کے ساتھ کھڑے ہونے کا عندیہ دیا۔۔۔ میں بھی دیکھتا ہوں کون میری زنانی کو ہاتھ لگا ئے گا ۔۔بالی نے غصے سے پنچیت میں بیٹھے ہوئے سب لوگوں کی طرف دیکھا اور ڈیرے سے نہر کی سڑک کی طرف چل پڑا ۔۔۔سردار نے اللہ وسایا ،رستم ،رب نواز،رمضان اور چند عزت کی پگ پہنے ہوئے نوجوانوں کو رکنے کا کہا اور باقی لوگوں کو جانے کا حکم دے دیا ۔۔۔۔پینو کا باپ بالی کے باپ کا سہارا لے کر اٹھا اور نہر کے کنارے پہنچ کر ڈیرے کی طرف دیکھتے ہوئے اپنے بھائی سے دکھ سے گویا ہوا ٌ ادا دیکھو ! میری دھی پینو کو قتل کرنے کی تیاری ہورہی ہے اور میں کتنا بد نصیب ہوں ۔۔۔اگر دھی کو بچانے کی کوشش کروں تو پتر (بیٹے) کو قربان کرنا پڑے گا ۔۔۔ہائے اللہ سائیں ! تو مجھے اٹھا لے ۔۔پینو کی ماں نے میرے سر پر قرآن رکھا تھا کہ پینو پر ظلم نہ ڈھانے دینا لیکن میں کیا کر سکتا ہوں۔۔بالی کا باپ خود بھی اداس تھا لیکن وہ پینو کے ساتھ ساتھ بالی کے لئیے بھی فکرمند تھا۔۔*
*بالی نے گھر آکر گھڑے سے پانی کٹورے میں لیا اور غٹا غٹ تین کٹورے پانی کے پی گیا اور لمبے لمبے سانس لیتے ہوئے چار پائی پر لیٹ گیا جو کہ بیری کے درخت کے نیچے بچھی تھی۔۔۔پینو کمرے کے دروازے پر کھڑی سب دیکھ رہی تھی ۔۔۔بالی کی حالت دیکھ کر سمجھ گئی کہ اس کی زندگی کا فیصلہ بھی باقی لڑکیوں کی طرح سردار نے کردیا ہے ۔۔اسے زندگی کے ہارنے سے زیادہ دکھ بالی سے بچھڑنے کا تھا ۔۔۔۔اس نے ہاتھ میں پکڑے قرآن کو چوما جو کہ اس پر لگائے گئے الزام کے بعد اس کے ہاتھ میں ہی رہتا اور اسے وہ اپنے سینے کے ساتھ چپکا کر وہ ایک ہی بات کہتی ٌ میرا فیصلہ قرآن کرے گا ٌ۔۔۔پینو کی جٹھانی نے بالی کی حالت کو دیکھ لیا اور سمجھ گئی اور پینو کی طرف دیکھتے ہوئے کمر پر ہاتھ رکھ کر بولی تمہارا فیصلہ قرآن نے نہیں سردار نے کر دیا ہے ۔۔۔بھرجائی میں بے گناہ ہوں ۔۔۔مجھے مار بھی دیں گے تو بھی مجھے یقین ہے کہ میرا بدلہ یہ قرآن لے گا اور اصل فیصلہ یہی کرے گا ۔۔دیکھ لینا میرا اللہ سائیں ہر اس شخص کے ساتھ جس نے میرے پاک دامن کو داغدار کیا ہے ۔مجھے کالی کہا ہے ،،مجھے رسوا کیا ہے ۔۔میرا اللہ سائیں اسے اس دنیا میں عبرت کا نشان بنائے گا ۔۔*

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

About the author

Peerzada M Mohin

Leave a Reply

This function has been disabled for Online Urdu Novels.

%d bloggers like this: