Urdu Novels

Mera Faisla Quran karay ga – Episode 4

Mera Faisla Quran karay ga
Written by Peerzada M Mohin
میرا فیصلہ قرآن کرے گا – قسط نمبر 4

–**–**–

*رب نواز کا بھائی اس تیز آندھی اور اندھیرے میں بڑی مشکل سے پہنچا اور اطلاع دی کہ بالی نہر پر آپ لوگوں کو ڈھونڈھ ڈھونڈھ کر دوسری جانب چلا گیا ہے ۔۔۔رمضان نے ساتھیوں کو نہر کی طرف چلنے کا اشارہ کیا۔۔۔*
*نہر پر رمضان نے اپنے ہاتھوں سے پینو کے ٹکڑے نہر میں ڈالے ۔۔۔۔آج نہر بھی جیسے غصے میں تھی یا پھر دکھ میں خوب شور تھا پانی کا ۔۔۔۔رستم وہاں پر بھی دور کھڑا رو رہا تھا۔۔۔اسے یاد تھا پینو بچپن میں نہر میں آنے سے ڈرتی تھی پھر رستم اسے اپنے کندھے پر بٹھا کر اندر لے آتا۔۔۔اور وہ کہتی ادا مجھے ڈبوؤ گے تو نہیں اوروہ کہتا کبھی نہیں اور اسے تیرنے کی پریکٹس کراتا پھر تو پینو نہر سے باہر ہی نہیں نکلتی تھی اور جب اماں اسے گھر جانے کا کہتیں تو وہ کہتی اماں مجھے نہر میں بہت مزہ آتا ہے دل چاہتا ہے دن رات اس میں ہی رہوں اور اماں کہتی ہاں اگر ڈبو کے لے گئی تو پھر پتا چلے گا۔۔اور پینو کہتی میرا ادا مجھے بچا لے گا ۔۔۔رستم نے روتے ہوئے سوچا ڈبو دیا آج میں نے اپنی بہن کو۔شاید وہ پوری زندگی خود کو معاف نہ کرسکے گا ۔۔۔اس کے اندر عجیب کشمکش تھی شیطان اسے دلاسا دیتا کہ تو کیا کر سکتا تھا ۔۔ویسے بھی انہوں نے مارنا ہی تھا۔۔۔۔*
*رمضان نے اپنے خون آلود ہاتھ اور اوزار دھوئے ۔۔۔فضا میں ابھی بھی چیخوں کی آوازیں تھیں جو سب نے محسوس کیں ۔۔۔مرغ کی بانگوں کی آوازوں نے تھوڑی دیر دوسری چیخوں کو بند کیا ۔۔۔گاؤں میں مرغ کی بانگ (آذان ) سے تقریبا سب اٹھ جاتے ۔۔کوئی اس ویران مسجد کی طرف آتا تو کوئی حقہ جلاتا۔۔۔اور عورتیں بھی کچھ نماز پڑھتیں تو کچھ جانوروں کو چارہ ڈالنے اور دوسرے کاموں میں۔۔۔عام طور پر پرندوں کے چہچہانے، ٹیوب ویل کی آوازوں سے اور گائے بھینسوں اور بکریوں کے چارہ مانگنے کی آوازوں سے صبح کا آغاز ہوتا لیکن آج سب کچھ برعکس تھا ۔۔۔آندھی تھی کہ بڑھتی جا رہی تھی ۔۔مٹی دھول نے بینائی روک دی ۔۔۔درختوں کے پتے ہوا میں اڑتے پھر رہے تھے ۔۔۔درخت ہل ہل کر پاگل ہورہے تھے ۔۔۔یہ سارا شور مل کر عجیب سی چیخوں کو بنا رہا تھا ۔۔۔ہوا میں یوں لگتا تھا جیسے آگ کے گولے گھوم رہے ہوں۔۔۔ہر بندے کے مونہہ سے استغفراللہ نکل رہا تھا سوائے چند انسان نما شیطانوں کے۔۔۔۔
یوں تو اس دھرتی پر نہ تو یہ عورت کا پہلا قتل تھا اور نہ ہی اس گاؤں میں بلکہ یہ گاؤں تو نہ جانے برسا برس سے کالیوں کی ہی قتل گاہ تھی مگر پھر بھی ایسا کیا تھا کہ پینو کے قتل کے بعد ہوا کے سوگ میں بین ختم ہونے کا نام نہیں لے رہا تھا ۔۔۔بہت سی آنکھیں خاموش اشکبار تھیں ۔۔۔لیکن* *شکوے ،شکایتیں تھیں رب سے کہ ہم کو بھی کیا تونے مردوں کے لئیے ان پر قربان ہونے کے لئے بنایا جیسے باقی جانوروں کو انسانوں کے لئیے ۔۔۔ان کی تسکین ہم عورتیں ۔۔۔ان کی غلام ہم عورتیں ۔۔۔جسموں کو ہمارے یہ نوچتے ہیں۔۔۔تشدد یہ کرتے ہیں ۔۔۔پھر بھی مجرم ہم ۔۔۔سزا ہمیں ہی ۔۔۔یا رب اگر ہم جانور ہیں تو ہمیں جانور کی ہی درجہ بندی میں ڈالا جائے۔۔۔ہماری کوکھ سے یہ مرد پیدا کیا وہ تو انسان ہے پھر ہم کیوں نہیں تو خالق ہے تیرا کتنا درجہ ہے پھر ہم عورتوں کو تونے انسان کی ہی تخلیق کا راستہ بنایا پھر ہم اتنی بے وقعت کیوں؟ شیطان اس سوال پر یقینا خوش ہوا ہوگا اور جواب اس نے دیا ہوگا کہ تم کیا چیز ہو ! ہم نے تو اسی انسان کو جس کو خدا نے پیدا کیا ۔جس کو سجدہ کرنے کا تمام مخلوق کو حکم دیا گیا تھا ۔۔جس کا خالق خود اللہ ہے اور اس انسان نے صرف خدا کو سجدہ کرنا تھا ۔۔اسی کو بتوں کے سجدے پر لگا دیا ۔۔۔یہ بے وقوف انسان اس خدا کے رتبے کو نہیں سمجھ سکا تو تجھ جیسی کمزور عورت کے رتبے کو کیا خاک سمجھے گا ۔۔۔یہ انسان تو میرا حکم مانتا ہے۔۔۔میرے دکھائے ہوئے راستے پر چلتا ہے ۔۔۔میری دکھائی ہوئی جنت تو اس کو سامنے نظر آتی ہے پھر وہ کیوں مرنے کے بعد والی جنت کا یقین کرے گا۔۔۔*
*بالی ساری رات ادھر ادھر بھاگتا رہا ۔۔اسے ساری رات رمضان کے چھوڑے ہوئے لوگ کبھی کہتے اس طرف کو کالی لے کر گئے ہیں اور کبھی اس کو دوسری طرف اشارہ کرتے اور وہ پاگلوں کی طرح ادھر ادھر بھاگتا رہا ۔۔یہ رات اسے اتنی طویل اور تھکا دینے والی لگ رہی تھی ۔۔۔اس کا جسم بار بار روح سے الگ ہونے لگتا جیسے کوئی اس پر وار کر رہا ہو ۔۔۔دل زور زور سے دھڑکتا جیسے پینو اسے پکار رہی ہو۔۔۔کالی رات جیسے اس کے نصیب میں اندھیرا لکھ رہی ہو ۔۔۔وہ بھاگتا رہا ۔۔کبھی نہر کے کنارے تو کبھی آموں کے باغوں کی طرف اور پھر آندھی کے زور سے چلنے پر اسے پتا چل گیا کہ یہ پیغام لا رہی ہے پینو پر ہونے والے ظلم کا ۔۔آندھی میں جیسے سسکیاں تھیں ۔۔چیخیں تھیں جو بالی کی روح سے ٹکرا رہی تھیں۔۔۔ کالی رات چھٹ رہی تھی لیکن صبح اتنی شرمندہ اور اداس تھی کہ وہ پینو کے بین کے لئے اپنے ساتھ گرجتے ،برستے بادل اور آندھی طوفان بھی ساتھ لائی ۔۔۔بالی بھاگتا جا رہا تھا ۔۔بالآخر وہ اسی پتھر کے قریب پہنچ گیا جہاں پینو کو قتل نہیں ٹکڑے ٹکڑے کیا گیا تھا ۔۔اس کا خون بھی وہاں تھا اور پتھر پر کلہاڑیوں کے نشانات بھی ۔۔بالی نے پتھر کو چوما اور اس پتھر کے گلے لگ کر اتنی زور زور سے رویا کا آسمان بھی ساتھ ہی رونا شروع ہوگیا ۔۔۔اس طوفانی بارش میں پینو کی سسکیاں تھیں۔۔۔آسمانی بجلی کی چمک اور بادلوں کی چنگھاڑ بتا رہی تھی کہ زمیں والے ہی نہیں آسمان کی مخلوق بھی غم و غصے میں ہے ۔۔بالی کو کچھ ہوش نہ تھا ۔۔۔وہ چیخ چیخ کر کہہ رہا تھا ۔۔۔میں اپنی پینو کو نہ بچا سکا لیکن تو تو بچا سکتا تھا۔۔۔تونے زلزلہ کیوں نہ بھیجا کہ وہ ناپاک جسم اس زمین میں دھنس جاتے جنہوں نے میری پینو کے پاک جسم کے ٹکڑے کئے۔۔۔۔تونے ان پر جو میری پینو پر ٹوٹ پڑے تھے آسمان سے بجلی کیوں نہ گرائی ۔۔۔۔وہ تو ہر پل تیرا ذکر کر تی تھی پھر کیوں مارنے دیا ۔۔۔۔اگر اس کی موت لکھی تھی تو تو مار دیتا ۔۔۔تو مالک تھا ۔۔۔مجھے صبر آجاتا۔۔۔۔کیوں ٹھیکیدار بنا دیا تونے ان ظالموں کو میری پینو کی زندگی کا ۔۔۔یا اللہ سائیں کیوں ۔۔۔میری پینو مجھے دے دے واپس ۔۔۔یا انصاف کر اس کا ۔۔۔ فیصلہ کر اس کا ۔۔۔۔مجھے بھی مار دیتے وہ تو اچھا تھا ۔۔۔۔یہ کہہ کر اس نے زور زور سے اسی پتھر پر سر مارنا شروع کر دیا ۔۔۔ہائے پینو میں تجھے کہاں ڈھونڈھوں ۔۔۔تیری تو نہ قبر چھوڑی اور نہ نشان ۔۔۔۔ وہ خود کو پتھر سے مارتا رہا اور روتا رہا یہاں تک کہ بے ہوش ہوگیا۔۔*
*تھوڑی دیر میں بالی کا باپ اسے ڈھوندھتا ڈھونڈھتا وہاں آ پہنچا ۔۔۔اس کے ساتھ اس کے دو بھتیجے بھی تھے ۔۔اجن کے کپڑے بارش سے مکمل تور پر بھیگ گئیے تھے بلکہ ان کے سر سے پانی بہہ بہہ کر ان کے جسم سے ہوتا ہوا زمین پر بہہ رہا تھا ۔۔ان میں سے ایک نے کہا میں نے کہا تھا نہ چاچا یہ یہاں ہوگا ۔۔۔اوئے اس کا تو خون نکل رہا ہے ۔۔۔۔بالی کے باپ نے روتے ہوئے کہا ۔۔۔بیٹے کے خون پر باپ کا دل تڑپ اٹھا۔۔۔اٹھ بالی پتر اٹھ جا ۔۔۔چاچا یہ تو بے ہوش ہے ۔۔۔اس کا تو بہت خون بہہ گیا ہے ۔۔۔اوئے جا جلدی سے چارپائی لا ایسے اٹھانا مشکل ہوگا ۔۔۔۔بالی کا باپ کھیت میں پانی سے بھری زمین پر بیٹھ گیا اور بالی کا سر اپنی گود میں رکھ لیا۔۔۔اوئے بالی آنکھیں کھول ۔۔اوئے بالی۔۔۔بالی نے ہلکی سی آنکھیں کھولیں ۔۔۔اور بند کر لیں ۔۔ان آنکھوں میں ڈھیروں شکوے تھے اپنے باپ سے ۔۔۔دکھ اور اذیت میں اپنے بیٹے کو دیکھ کر اس کے باپ کا کلیجہ منہ کو آرہا تھا ۔۔۔بالی مجھے معاف کر دے پتر ۔۔۔میں مجبور تھا ۔۔۔بالی کا باپ ہاتھ جوڑے نیم بے ہوش بیٹے سے کہہ رہا تھا ۔۔۔مجھے تجھے مارنے کی دھمکی دی تھی رمضان نے اور ساتھ ہی گاؤں سے نکال کر باپ دادا کی زمین سے بے دخلی کی ۔۔۔میں مجبور تھا ۔۔۔ہم کچھ بھی کر لیتے انہوں نے مارنا تو تھا ہی۔۔۔وہ صرف میری بہو تو نہیں تھی بھتیجی بھی تو تھی بھتیجی بھی وہ وہ جو بیٹیوں سے بڑھ کر ۔۔۔۔یہ کہہ کر بالی کا باپ پھوٹ پھوٹ کر رو رہا تھا ۔۔۔*
*رمضان رات والے واقعے کے بعد گھر جانے کی بجائے سردار کے ڈیرے پر چلا گیا اور کاکے سے حقہ گرم کرنے کا کہا ۔۔۔کاکا ڈیرے پر رہتا تھا ۔۔اور سردار کے مہمانوں کے لئے چائے وغیرہ کا انتظام کرتا ۔۔حقہ گرم کرتا ۔۔۔اور ڈیرے کے دوسرے کام نمٹاتا ۔۔۔۔کاکے نے رمضان کے کپڑوں کی طرف دیکھا جس پر انتہائی گیلے ہونے کے باوجود خون کے نشانات تھے وہ سمجھ گیا کہ رات کی کالک کو کالی کے خون سے لال کیا گیا تھا تبھی تو کل رات صرف سیاہ نہیں سرخ بھی تھی ۔۔۔وہ جانتا تھا کہ اب اس ڈیرے پر خوشی کا سماں ہوگا۔۔۔کچھ ہی دن میں سردار رمضان اور اس کے ساتھیوں کو پگ پہنائے گا۔۔۔دوسرے سرداروں کو بھی دعوت دی جائے گی ۔۔۔انسان کو ذبح کرنے کی خوشی میں جانور ذبح ہونگے۔۔۔۔لسی اور چائے کا دور چلے گا ۔۔۔اور اپنی اپنی بہادری کے قصے سنائے جائیں گے ۔۔۔ہر دفع ایسے موقعوں پر دوسرے گاؤں کے سردار بھی آتے اور اسے خوشی مین لال لال نوٹ بھی دئے جاتے اور وہ خوش ہوتا لیکن اس دفع وہ اداس تھا پینو اس کی رشتہ دار بھی تھی۔۔۔وہ اس سے چند سال بڑی تھی۔۔۔کاکے کو یاد تھا ۔۔گاؤں کی کچی مسجد میں رمضان کے مہینے میں جب امام مسجد آتے تھے تو وہ قرآن پاک کو سر سے پڑھنے کا کہتے تو پینو کے قرآن پڑھنے پر سب بچے خاموش ہوجاتے خود مولوی صاحب بھی سکتے میں آجاتے وہ قرآن پڑھنے میں اتنی محو ہوجاتی کہ آنکھیں بند کر کے سنا رہی ہوتی*
*انجانا سا پیار ،مٹھاس اور کشش تھی اس کی آواز میں ۔۔۔دل میں اترتا ہر ہر لفظ ۔۔۔مسجد سے گزرتے ہوئے اس کے رشتہ دار بھی رک جاتے کہ پینو قرآن پڑھ رہی ہے۔۔۔یوں تو اس کی آواز کم لوگ ہی سنتے تھے لیکن قرآن پاک پڑھتے ہوئے وہ ایسی کھو جاتی کہ اسے ہوش نہ ہوتا کہ کون اسے سن رہا ہے ۔۔۔اور جب وہ سنا چکتی تو مولوی صاحب پوچھتے کہ پینو تمہیں سب یاد تھا زبانی۔۔۔اور وہ کہتی مولوی صاحب مجھے قرآن پاک پڑھنا اچھا لگتا ہے آپ جو پڑھاتے ہیں سارا دن میرا دل یہی پڑھتا رہتا ہے بس اس لئے بغیر دیکھے سنا دیتی ہوں۔۔۔۔کاکے جلدی حقہ گرم کر کے لا ۔۔۔رمضان نے آواز دی تو کا کا خیالوں سے باہر نکل آیا۔۔۔وڈا سائیں نہیں آیا ابھی تک ۔۔۔۔رمضان نے اپنے آپ سے کہا ۔۔۔۔وہ جی باہر دیکھیں نہ اللہ سائیں نے کیسا طوفان بھیجا ہے ۔۔۔بادل گرجتے ہیں تو لگتا ہے کان پھٹ جاۓیں گے ۔۔۔۔زمین بھی لگتا ہے ہل رہی ہو ۔۔اور رات کو تو آندھی شائیں شائیں کرتی پھر رہی تھی ۔۔۔ایسی خوفناک آوازیں تھیں کہ دل باہر آرہے تھے ۔۔توبہ توبہ۔۔۔کاکے نے کانوں پر ہاتھ لگائے۔۔۔بکواس بند کر ۔۔۔بڑا ہی بزدل ہے تو۔۔۔۔رمضان خان نے اسے ڈانٹا لیکن اس بات کے بارے میں تو وہ بھی حیران تھا کہ وہ عجیب ،خوفناک چیخیں کس کی تھیں ۔۔۔کیونکہ پینو تو ان کے ساتھ تھی ۔۔۔اس نے تو کوئی چیخیں نہیں ماری تھیں ۔۔۔وہ سوچ رہا تھا شاید اس نے بھنگ زیادہ پی لی تھی۔۔۔پھر اسے وہی چیخوں کی آواز سنائی دی ۔۔۔اس نے کاکے کو زور سے آواز دی ۔۔۔کاکے یہ چیخیں کون مار رہا ہے ۔۔۔۔کاکے نے کہا ،سائیں یہ تو آندھی اور بارش کا شور ہے ۔۔ہاں رات کو ایسا لگ رہا تھا جیسے کوئی چیخیں مار رہا ہو لیکن یہ چیخیں بہت ساری چیخوں کی آوازوں جیسی تھیں۔۔۔۔رمضان نے اپنے سر کو جھٹکا کہ شاید ان چیخوں کی آواز کم ہو جائے لیکن افاقہ نہیں ہو رہا تھا ۔۔۔۔*
*ادھر پینو کی ماں کی بری حالت تھی ۔۔دوپٹہ سر کی بجاے نیچے پڑا تھا ۔۔۔بال کھلے اور الجھے ہوئے تھے۔۔۔وہ اپنا سینہ پیٹ رہی تھی ۔۔۔خدا سے شکوے ۔شکایتیں تھیں ۔۔وہ پکارتی ہائے میرے میٹھے اللہ سائیں تونے یہ کیا کر دیا۔۔۔۔میرے ٹکڑے کردیتے ۔۔۔میرا جگر نوچ ڈالا ۔۔۔ہائے میری دودھ جیسی پاک دھی کو کالی کر دیا ۔۔۔ اللہ سائیں تو کہاں ہے ۔۔۔وہ اللہ کہتی ۔۔۔اوہ اللہ کہتی تو یوں لگتا جیسے اس کی آواز آسمانوں سے ٹکرا رہی ہو کہ جوابا بادل گرج گرج کر پینو کی ماں کا ساتھ دیتے اور اسی غم و غصے کا اظہار کرتے جو پینو کی ماں کر رہی تھی۔۔۔پینو کی ماں روتے روتے سفیل میں رکھے ہو ئے قرآن کی طرف بڑھی ۔۔۔قرآن ۔۔۔قرآن میرا فیصلہ کرو۔۔۔میری دھی کا فیصلہ کرو ۔۔۔مجھے نہیں پتا اللہ سائیں کہاں ہیں مگر تو تو اسی کا ہے ۔۔۔تجھے اس نے ہمارے لئے بھیجا ہے ۔۔۔تجھے میری بیٹی بہت پیار سے پڑھتی تھی ۔۔۔گلے سے لگاتی تھی اور جب میں پوچھتی تو وہ کہتی تھی میں قرآن پڑھتی ہوں تو ایسا لگتا ہے اللہ سائیں مجھے دیکھ رہے ہیں اور سن رہے ہیں ۔۔۔ہائے اللہ سائیں میری دھی کا فیصلہ کر ۔۔۔ابھی تو وہ اپنے پاک ہونے کا انصاف مانگ رہی تھی اب تو اپنے ناحق قتل کا بھی انصاف مانگے گی ۔۔۔قرآن میری دھی کا فیصلہ کرو۔۔۔امیراں کی ماں نے پینو کی ما ں کو حوصلہ دینا چاہا اور خود بھی اس کے ساتھ اپنی بیٹی کا دکھ لے کر شریک ہوگئی ۔۔۔دونوں اپنی اپنی بیٹیوں کے مرثیے اور نوحے پڑھ رہی تھیں اور گاؤں کی باقی وہ عورتیں جن کی بیٹیوں یا بہنیں جن کو کاروکاری کے کالے قانون کی بھینٹ چڑھا کر یا تو مار دیا گیا یا سردار کے ڈیروں پر بولی لگا کراس کا منہ کالا کر کے کسی بھیڑ بکری کی طرح اس کو کسی اور کے حوالے کردیا جاتا اور لے جانے والا یا تو زندگی کی آخری سانسیں گن رہا ہوتا یا پھر کسی پاگل کی بیوی بنا کر انہیں زندگی بھر کی سزا دی جاتی یا پھر کسی معزور کے نکاح میں دے دیا جاتا جہاں پوری زندگی وہ اس کی خدمت کرتی ۔۔اس طرح دو کام ہوجاتے ۔۔ایک یہ کہ سردار کو اسے قتل نہ کرکے کچھ رقم مل جاتی جو کہ وہ دوسری پارٹی سے وصول کرتا اور دوسرا یہ کہ مر کر تو کالی کو صرف ایک سزا ملتی یہاں پر تو اسے روز مرنا پڑے گا ۔۔۔۔کسی دوسرے کے نکاح میں دینے سے پہلے شادی شدہ خواتین کے شوہر کی طلاق کی بھی زحمت نہیں کی جاتی بقول سرداروں کے کالی کا سابقہ نکاح ویسے ہی ٹوٹ جاتا ہے۔۔۔دودھ پیتے بچوں کو ماؤں سے چھین کر الگ کر دیا جاتا ہے۔۔بچہ ماں سے الگ ہوکر رو رو کر ہلکان ہو رہا ہوتا ہے جبکہ اس کی ماں کو سردار کے حوالے کردیا جاتا ہے جہاں وہ اس کی سانسوں اور زندگی کا فیصلہ سناتا ہے ۔اور عورت کے لئے چاہے قتل کا فیصلہ ہو یا غلاموں کی طرح بک کر ۔۔دونوں سورتوں میں گلے میں طوق وہی کالی کا ہی پہنایا جاتا پھر یہ یاد نہ رہتا کہ وہ کون تھیں ۔۔ان کا اصلی نام کیا تھا یاد رہتا تو بس یہ کہ مر بھی گئیں تو کالی اور اگر موت سے بدتر زندگی جی رہی ہیں تب بھی وہ کالی ہی کے نام سے پکاری جاتیں ہیں۔۔*
*پولیس سردار کے ڈیرے پر آچکی تھی۔۔۔سب کچھ تو پہلے سے ہی طے تھا نہ تو پولیس اس ڈیرے پر پہلی دفع آئی تھی اور نہ ہی یہ پہلا واقعہ تھا ۔۔۔سردار نے ایس ۔ایچ ۔او کو دیکھا ۔۔۔ہاں بھئی کتنے دن میں ہمارے شیر باہر ہونگے۔۔۔سائیں آپ کو تو پتا ہے آجکل تھوڑی سختی ہورہی ہے لیکن یہ شریعت آخر کس دن کام آئے گی۔۔۔کچھ این۔جی۔اوز پیچھے پڑے ہوے ہیں ۔۔بڑے عورتوں کے حقوق وقوق کی باتیں کرتے ہیں لیکن ایسا ہو نہیں سکتا کہ وہ کامیاب ہو جائیں ۔۔ہمارے مولوی انہیں چھوڑیں گے نہیں۔۔۔وہ تو ویسے بھی کہتے ہیں اتنی آسان موت کیوں دیتے ہو ان گناہ کرنے والی عورتوں کو سنگسار کیا کرو ان کو سرے عام ۔۔۔ہر آدمی تا کہ ان کو پتھر مار کر ثوابِ دارین حاصل کرے ۔۔یہ کیا بس چپکے سے ان کو مار دیتے ہیں ۔۔لوگوں میں کچھ خوف و حراس چاہتے ہیں وہ تاکہ عبرت حاصل ہو آخر جنت یونہی تو نہیں مل جاتی۔۔ایس۔ایچ۔او نے سردار کو صورتِ حال سے آگاہ کیا۔۔لیکن ایک مسئلہ ہے سائیں کہ کالی کو تو مار دیا ہے مگر غیرت کے قتل میں کالا بھی تو ہوتا ہے اس کا کیا ہوگا؟

سردار نے رمضان سے پوچھا ؛ہاں رمضو پتا چل سکا کہ اس دن کالی سے ملنے جو شخص آیا تھا وہ کون تھا ؟ ۔۔۔وہ سائیں کالی نے جھوٹ بولا تھا کہ وہ شخص رحیم خان سے ملنے آیا تھا ایسا نہیں تھا ۔۔۔رحیم سے ہم نے اپنے ہر طریقوں سے پوچھ لیا ہے لیکن وہ کہتا ہے کہ مجھ سے نہ تو کوئی ملنے آیا تھا اور نہ ہی میں اس طرح کے کسی حلیے والے بندے کو جانتا ہوں ۔۔۔کالی سے بہت پوچھا گیا تھا۔۔۔میں نے تو اس کو مارا بھی بہت تھا لیکن وہ بڑی ڈھیٹ تھی میں نے اس پر ہر طرح کا طریقہ آزمایا یہاں تک بھی کہا اگر وہ بتا دے تو اس کی زندگی بچ جائے گی اور اس کو صرف سردار کے حوالے کردیا جائے گا لیکن وہ اپنے آشنا سے اس قدر محبت کرتی تھی کہ اسے بچانے کے لئے اس نے قرآن سر پر رکھ کر کہا کہ وہ پاک ہے اور اس شخص کو نہیں جانتی۔۔۔ادھر اس کا مجنوں شوہر اس پر ہاتھ اٹھانے نہیں دیتا تھا ۔۔مجبورا اس کو مارنے سے پہلے میں اس کے منہ پر کپڑا باندھ کر اس کے جسم پر مارتا گیا تھا اور پوچھتا تھا کہ بتاؤ وہ شخص کون تھا لیکن میں نے اس کے ٹکڑے ٹکڑے کر دئیے پھر بھی وہ نہ مانی ۔۔۔بس ۔۔۔۔رمضو نے بات ختم کرتے ہوئے کہا۔۔۔وہ تو سب ٹھیک ہے لیکن شرعی مسئلے میں کالی کے ساتھ کالا ہونا بھی ضروری ہے ۔۔اب اس کے آشنا کا کیا کریں؟ ۔۔۔۔ یا تو کہیں سے پیدا کرو ۔۔۔تم بتاؤ تھانیدار صاحب کیا کرٖیں۔۔۔تمہارا دماغ تو صحیح شیطانی ہے ۔۔۔ذرا سوچو اور راستہ نکالو ۔۔۔۔سردار نے مسکراتے ہوئے تھانیدار کی طرف دیکھا جس نے شیطانی دماغ پر اپنی تعریف محسوس کی اور گویا ہوا ؛ سائیں ! آپ کا حکم سر آنکھوں پر مگر آج کل کچھ پیسوں کی تنگی کی وجہ سے دماغ کام نہیں کر رہا ۔۔۔سردار نے کہا ؛کتنی گندم کی بوریوں اور آم کی پیٹیوں سے تمہارا دماغ کام کرے گا ؟۔۔۔تھانیدار نے قدرے جھینپ کر کہا ؛ سائیں آپ نے جو پچھلی دفعہ گندم دی تھی وہ تو ختم ہوگئی اب پورا سال ہے ۔۔۔دیکھ لیں۔۔۔آگے رمضان کا مہینہ بھی آرہا ہے اللہ کا شکر ہے سارا گھر روزے رکھتا ہے ۔۔۔پھر عید کے کپڑے لتے ۔۔۔آپ کو تو پتا ہے بچوں کی فرمائیشوں کا ۔۔۔بس آپ کا سایہ سلامت رہے ۔۔۔تھانیدار نے خوشامدی لہجے میں کہا ۔۔۔۔رمضو ! بالی کے باپ سے بھی اور رستم کے باپ کو بتا دو اگر بیٹوں کو جیل سے چھڑانا چاہتے ہیں تو جلد سے جلد گندم اور دوسری چیزوں کا بندوبست کریں ۔۔۔یہ ہوئی نہ بات سائیں سرکار۔۔اب میں ریلیکس ہو گیا ہوں ۔۔سائیں کوئٖی مسئلہ ہی نہیں ہے کالی کے ٹکڑے کر کے نہر میں بہا دئیے ہیں نا ! مچھیاں ،شچھلیاں کھا چکی ہونگی اب تک ۔۔۔۔بس گواہ اور مدعی کوئی نہ ہو گاؤں سے پھر کیس میں جان نہیں ہوگی ویسے بھی غیرت میں کیا گیا قتل معاف ہوجاتا ہے۔۔بس ہفتہ دو آپ کے غیرتیوں کو جیل میں رکھنا ہو گا ۔ٹھیک ہے پر یاد رکھنا جیل میں کوئی پریشانی نہ ہو ان کو یہ تو اس خاندان کی عزت کے رکھوالے ہیں ۔بہادر اور دلیر جگر رکھنے والے ۔سائیں نے مونچھوں کو تاؤ دیتے ہوئے تھانیدار سے کہا۔۔سائیں فکر نہ کریں گھر کے جیسا ماحول ہوگا* *انشااللہ ۔۔سائیں آپ کا ہاتھ سر پر رہے گا تو میرا بھی سر سلامت رہے گا پھر ظاہر ہے انکا بھی۔۔ اور سائیں آپ کی دوستی تو ایم۔این۔اے کے ساتھ ہے بس میری پروموشن ہوجائے تو مزے آجائیں گے۔تھانیدار نے خوشا مدی لہجے میں ہاتھ جوڑ کر سائیں کے وقار کو چار چاند لگائے۔ٹھیک ہے ہوجائے گا تیرا کام ۔بس میرے بندوں کو کوئی تکلیف نہیں ہونی چاہیے۔۔سائیں نے گردن کو تان کر کہا۔۔سائیں نے کاکے کی طرف دیکھا ۔کاکا سمجھ گیا اور سائیں کو سنہرے تلے سے بنا قیمتی اور ہاتھ سے بنا کھسہ پہنانے لگ گیا ۔جب کاکا کھسہ پہنا چکا تو سائیں نے کاکے کو پیر سے دھکا دیتے ہوئے کہا ہر کام میں سستی! ۔*
*جیل میں رمضو، رب نواز،اللہ وسایا، رستم اور ایک دو اور جوان تھے ۔ان کی انٹرٹینمنٹ کے لئیے تاش اور لوڈو کا انتظام کردیا گیا تھا ۔اس کے علاوہ سائیں نے کھانے اور ان کی پسند کے پینے کا بھی خاص انتظام کر رکھا تھا ۔آخر کو اتنا نیک کام کرنے والوں کے لئیے وہ کیوں نہ انتظام کرتا ۔بھنگ اور چرس ہی تو تھی جو ان غیرت مندوں کی غیرت کو جگائے رکھتی تھی اور چاہے ان کو نماز نہیں آتی تھی لیکن وہ اللہ کے اس حکم کہ زانی عورت (چاہے ان پر شک ہی کیوں نہ ہو )کی دل و جان سے جان نکالیں۔اس کارنامے کے بدلے ان کو نہ صرف باہر بلکہ جیل میں بھی خاص قسم کا پروٹوکول دیا جاتا۔ جیل میں یوں تو سب ہی خوش تھے لیکن رستم بہت اداس تھا اسے اپنی بہن بہت یاد آتی تھی لیکن وہ دوسروں کے سامنے آنسو پہا کر بے غیرت اور بزدل نہیں کہلوانا چاہتا تھا اس لئیے ان آنسوؤں کو آنکھوں سے بہانے کی بجائے دل پہ بہا دیتا اس طرح آنکھیں خاموش مگر سرخ رہنے لگ گئیں اور دل پر آنسوؤں کے بہنے سے اس کا جسم بخار سے تپنے لگ گیا ۔اس طرح اس کی اندرونی کیفیت کو اس کے بخار نے چھپا دیا تھا۔لیکن رمضو کے ساتھ بہت عجیب ہو رہا تھا وقفے وقفے سے اس کے کانوں میں آنے والی چیخیں اب بڑھتی جا رہی تھیں مزید یہ کہ یہ آوازیں صرف اس کو سنائی دیتیں ۔وہ اپنے ساتھیوں سے پوچھتا ٌکیا تم لوگوں کو چیخیں سنائی دے رہی ہیں ٌ پھر ان کا جواب نفی میں سن کر پریشان ہو جاتا۔*

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

About the author

Peerzada M Mohin

Leave a Reply

This function has been disabled for Online Urdu Novels.

%d bloggers like this: