Urdu Novels

Mera Faisla Quran karay ga – Episode 5

Mera Faisla Quran karay ga
Written by Peerzada M Mohin
میرا فیصلہ قرآن کرے گا – قسط نمبر 5

–**–**–

*ادھر بالی رونے کی بجائے خاموش ہوگیا تھا ۔گاؤں کے لوگوں کا کہنا تھا کہ بخار میں اتنے دن جو وہ بے ہوش رہا تھا اور سر پہ لگنے والی چوٹوں نے اس کے دماغ پر اثر کیا ہے ۔سخی کی دربار پر منت دینے سے ٹھیک ہوگا چنانچہ تقریبا ہر کوئی اس کی ماں کو مشورہ دے رہا ہوتا کہ فلاں دربار پر جاؤ فلاں پیر سائیں سے تعویز لاؤ تب ٹھیک ہوجائے گا لیکن اس کی ماں جانتی تھی کہ جو روگ اسے لگا ہے یہ تو زندگی بھر کا ہے اس کے با وجود وہ قریبی دربار پر جاکر منت بھی مان آئی اور پیر سائیں سے دم کیا ہوا پانی اور تعویز بھی لے آئی ۔ماں تھی اپنے جگر کے ٹکڑے کو اداس دیکھ کر اس کا سینہ چھلنی ہوجاتا اور پھر اس کی آنکھوں سے گرنے والے آنسوؤں کا کچھ پتا نہ چلتا کہ وہ پینو کے قتل کے ہیں یا بالی کے اجڑنے کے۔*
*پینو کی ماں کی ہنوز وہی حالت تھی ۔بال بکھرے ہوئے ۔سر پر خاک ڈلی ہوئی۔کپڑوں کا کوئی ہوش نہیں تھا بس اپنے گھر سے جاتی اور مسجد کے دروازے پر زور زور سے مارتی اور کہتی قرآن میری دھی کا فیصلہ کرو ۔اللہ سائیں میری دھی کا فیصلہ کرو ۔وہ مسلسل ایسا کرتی ۔روتی چیختی۔اللہ پاک کو پکارتی ۔اس کی آہیں یوں لگتا سیدھی اللہ تک پہنچ رہی ہیں کیونکہ جو بھی اس کو روتے ہوئے دیکھتا اس کا دل باہر آتا محسوس ہوتا ۔ہر آنکھ اشک بار تھی ۔پینو کا چھوٹا بھائی اور بھتیجا پینو کی ماں کو پکڑ کر گھر لے کر آتے مگر تھوڑی ہی دیر میں پینو کی ماں دوبارہ مسجد میں پہنچ جاتی لہذا اسے کمرے میں بند کر دیا جاتا۔وہ پینو کی باتیں کرتی رہتی ۔اس کے لئیے اپنی زبان میں نوحے گاتی*
*ہاۓ ڑی میڈی نمانڑی دھی تیکوں کیتھوں لبھاں (اے میری معصوم بیٹی تمہیں میں کہاں ڈھونڈھوں)*
*تیڈے پاک جسم دے ٹکڑے میں کیتھوں لبھاں (تمہارے پاک جسم کے کئیے گئیے ٹکڑے میں کہاں سے ڈھونڈھوں)*
*قرآن نہ کیتا فیصلہ ڈس کینکوں آکھاں (قرآن نے تیرا فیصلہ نہیں کیا ۔بتاؤ اب کس کو کہوں )*
*کالی دے قبرستان ہی بھاویں پور سٹین ہا (بھلے کالی کے قبرستان میں ہی دفنا دیتے)*
*ہنڑں وہندے پاڑیں دے وچ تیکوں کیویں لبھاں (اب بہتے پانی میں تجھے کیسے ڈھونڈھوں )*
*اسی طرح قرآن پاک سے باتیں کرتی*
*اوہ پاک قرآن آں میڈی دھی دی آہ* *کوںسونڑیاں نئیں توں (اے پاک قرآن* *میرٖی بیٹی کی آہ کو تونے نہیں سنا )*
تیڈیاں قسماں کھاندی کھاندی کوں ہناں* *ظالماں نے رول ڈیتا اے (تمہاری قسمیں کھاتی رہی تب بھی ظالموں نے اسے نہ چھوڑا )*
*جھیڑی تیڈیاں قسماں کھاندی ہئی ہونکوں لوڑھ ڈیتا اے (جو تمہاری قسمیں کھاتی تھی اسے نہر میں بہا دیا گیا )*
*پھر اوپر دیکھ کر اللہ سے مخاطب ہوکر کہتی*
*اللہ سئیں کیوں عورت پیدا کیتی ہیں توں (اللہ سائیں کیوں عورت پیدا کی تھی تونے)*
*ہناں ظالماں دے ہتھ جو مارنا ہاوی (جب ان ظالموں کے ہاتھوں موت دینی تھی تو)*
*کیوں عورت وچوں ظالماں کوں توں پیدا کیتی (کیوں عورت سے ان ظا لموں کو پیدا کیا )*
*قرآن کوں سر تے چا تا میڈی دھی نے (میرٖ ی بیٹی نے قرآن کو سر پر رکھ کر قسم کھائی تھی)*
*ول وی ہوندے سر تے دھڑ کوں کٹ ڈیتا ہناں نے (پھر بھی اس کے سر اور دھڑ کو الگ کر دیا گیا )*
*فیصلہ جو توں نہ کرسیں تاں کہندے در تے ویساں (اگر تونے فیصلہ نہ کیا تو میں کس کے دروازے پر جاؤں گی)*
*تیڈی مسجد دے در تے میں اپڑیں جان رلیساں (تمہاری مسجد کے دروازے پر ہی اپنی جان دے دونگی )*
*وہ نوحے ،مرثے گا گا کر بین کرتی اور ہر آنکھ اشکبار ہوجاتی*
*کبھی وہ نہر کنارے بیٹھ کر نہر سے باتیں کرتی اور کہتی*
*جھیڑی جِیندی تیڈے پانڑیں اچ خوش تھیندی ہئی (جو اپنی زندگی میں* *تمہارے پانی میں خوش ہوتی تھی )*
*ہوندے ٹکڑے کیویں اپنڑیں اندر پاتے ہانی (اس کے جسم کےٹکڑے تم نے اپنے اندر کیسے برداشت کئیے )*
*میڈی دھی دے ٹکڑیاں وِچوں صدا جو آندی ہئی تاں (اگر جو میری بیٹی کے ان ٹکڑوں سے آواز آتی تھی تو)*
*ہئیں صدا کوں تو اللہ سئیں تک پہنچائی کیوں نئی (اس آواز کو تم نے اللہ سائیں تک کیوں نہیں پہنچایا )*
*تیڈا پانڑیں جو سوک ونجے تاں (اگر تمہارا پانی سوکھ جائے تو )*
*میڈیاں نیراں گھِن تے صدا توں وہندا رہویں (میرے آنسو لے لینا )*
*میڈی دھی کوں پر توں ارام ارام نال وہیندا رہویں (لیکن میری بیٹی کو آرام آرام سے بہا کر لے کر جانا )*
*نیم پاگل سی ماں اپنے ان ہاتھوں کو دیکھتی ،اپنی بانہوں کو دیکھتی ،اپنی بیٹی کو اپنے سینے سے لگانے کے لئیے بے چین ہوتی اور پھر اس بات کو سوچ کر کہ میرٖی بیٹی کو کتنا درد ہوا ہوگا اس درد کو محسوس کرتی اور چیخیں مارتی کہ ہائے میری بیٹی کو کتنا درد ہوا ہوگا ایسا تو فرعون نے بھی نہ کیا ہوگا ۔ایسا تو کربلہ میں بھی نہ ہوا ہوگا ۔یزید کے بھی ہاتھ کچھ نہ کچھ کانپے ہونگے لیکن ان خنزیروں کو تو کچھ بھی نہیں ہوا۔ پھر اپنے شوہر کا گریبان پکڑتی کہ تم نے بچایا ہوتا اسے ۔میرے ٹکڑے کردیتے وہ لوگ مگر میری دھی کو چھوڑ دیتے ۔وہ روتے روتے ہلکان ہوجاتی تب امیراں کی ماں آکر اسے چپ کرانے کی کوشش کرتی ۔اپنی بیٹی کا یاد دلاتی کہ اسے تو اس کے اپنے سگے باپ اور بھائی نے مارا تھا ۔وہ بھی تو بے قصور تھی ۔اس کی کیا عمر تھی ۔اسی دن تو اس نے اپنی گڑیا کی شادی کی تھی ۔مجھے دیکھو کیسے جی رہی ہوں ۔بھرجائی ہم عورتیں ان مردوں کی غلام ہی پیدا ہوئی ہیں ۔صدیوں سے یہی دیکھ رہی ہیں پھر بھی عادی کیوں نہیں ہوتیں ۔نہ کسی نے ہماری آواز سننی ہے اور نہ ان کے پتھر دل ہلیں گے پھر رو رو کر خود کو ہلکان کیوں کرتی ہو۔ ایک نہ ایک دن تو سب کو اس دنیا سے جانا ہے ۔ابھی تو اللہ سائیں نظر نہیں آتا ادھر جا کر بات کریں گے ۔روئیں گے ۔فریاد کریں گے اور ان مردوں کو جو عورتوں پر ظلم کرنے والے ہیں ۔اپنے ہاتھوں سے دوزخ کے دروازے سے دھکا دیں گے۔امیراں کی ماں نے پینو کی ماں کو بہلاتے ہوئے کہا۔میں نہیں مانوں گی وہاں بھی یہی آدمی ہونگے اور ان کی حکمرانی ۔اگر اللہ ہے تو پھر میری دھی کا فیصلہ وہ اس جہان میں میری زندگی میں کرے ورنہ میں سمجھونگی اللہ صرف مردوں کے ساتھ ہے ہم عورتوں کو صرف قربان ہونے کے لئیے پیدا کیا ہے ۔میں اپنی آخری سانس تک اسے پکاروں گی جب تک میری دھی کے قتل کا خود اللہ فیصلہ نہیں کرتا۔*
*ادھر رمضو اور اس کے ساتھی جیل سے چھوٹ کر آگئیے تھے ۔سردار کے ڈیرے پر بہت سے دوسرے سردار بھی مو جود تھے ۔جیل سے آئے سب جوانوں کو پگ پہنائی گئی جو کہ ان کے غیرت مند اور بہادر ہونے کی علامت سمجھی جاتی ہے ۔رمضو کی پگ البتہ شملے میں بدل گئیی تھی اور پگ کی اونچائی اب سائیں کی پگ کی اونچائی سے تھوڑی ہی کم تھی ۔سردار بہت خوش تھا باقی سب سرداروں کے سامنے اس کی عزت بڑھ گئی تھی ۔اور یہ بات سچ ہی تو تھی کہ جس کا جتنا اپنی برادری کی عورت پر کنٹرول تھا وہ اتنا ہی بڑا سردار تھا ۔جو جتنی بڑی سزا عورت کو اس کے گناہ (جو ذیادہ تر شک کی بنیاد پر ہوتے یا من گھڑت یا یونہی )پر دیتا اتنا ہی مقبول سردار ہوتا ۔خون کی ہولی کھیلنے والے سارے ہی سردار کے ڈیرے پر موجود تھے ۔دوسرے لفظوں میں شیطان کے سارے چیلے ہی موجود تھے ۔یقینا شیطان ان کی ویڈیو بنا کر دجال کو دکھا کر خوش ہورہا ہوگا اور کہہ رہا ہوگا ٌ اے شیطانوں کے سردار تیرے چھوٹ کر آنے میں اب ذیادہ دیر نہیں ۔ہمیں ذیادہ کچھ کرنے کی ضرورت ہی نہیں بس طاقت کا احساس اور جہالت کا انجیکشن ہی ان کی اپنے ہاتھوں بربادی کے لئیے کافی ہے ۔ان کو ہم نے عورت کے نشے میں لگا دیا ہے۔کبھی یہ اسے خرید کر اپنا نشہ پورا کرتے ہیں ۔کبھی چاردیواری میں قید کرکے ۔کبھی اس کی آواز دبا کے ۔کبھی ایک عورت پر دوسری عورت لاکر ۔کبھی ننھی ننھی بچیوں سے اپنی حوس پوری کرتے ہیں اور یہ جو بڑے اسلام اور مسلمان ہونے کی بڑکیں مارتے تھے انہیں تو اسی اسلام میبں ہی الجھ دیا ہے ہم نے ۔کہیں فرقوں میں ڈال کر ایک دوسرے کے لئیے نفرت ڈال دی ہے تو کہیں کالی کے لئیے سنگسار کی آیتیں مولویوں کے سامنے رکھ دی ہیں ۔لیکن یہ بزدل جو خود کو بہادر کہہ کر خوش ہورہے ہیں اگر واقعی اللہ کے اس حکم پر عمل کریں تو ۹۰ فیصد مردوں کو سنگسار کیا جاتا کیونکہ ہم نے ان کی نظروں میں حوس ڈال دی ہے ۔زنا تو نظر کا بھی ہوتا ہے لیکن ہم نے ان کا رخ صرف عورت کی طرف ہی رکھا ہے اور وہ بھی نا حق قتل اور عورت کا قتل عام ہماری بدولت ہورہا ہے اگر مردوں کو سزا ملی تو ان کا یہ بگڑا معا شرہ ٹھیک ہوجائے گا اور ہم ہار جائیں گے ۔اس لئیے کمزور عورتوں کو مار کر ان کا نشہ پورا کرنے کی لت میں لگا دیا ہے۔ ان کی طاقت ،بے رحمی،ظلم،طاقت کا نشہ اور جہالت ہی ہماری کامیابی ہےٌ ۔اس پر دجال کی خوشی یقینا دیدنی ہوتی ہوگی اور زنجیروں سے آزادی بھی مل رہی ہوگی ۔شیطان جتنا طاقتور ہوگا اتنا ہی دجال کی جلد آمد ممکن ہو گی۔*
*سردار نے محسوس کیا کہ رمضو آج کمزور دکھ رہا تھا ۔وہ اس طرح سے چہک نہیں رہا جیسے اسے چہکنا چاہیے تھا ۔آنکھیں بھی اس کی لال ہو رہی تھیں ۔پہلے تو سردار سمجھا کہ اس نے پی ہوئی ہے لیکن بعد میں جب سب لوگ چلے گئے تو سردار نے رمضو سے پوچھا خیریت ہے تجھے کیا ہوا ہے ۔آج تو تونے خود کوئی ہوائی فائر بھی نہیں کیے ۔پریشان نظر آرہے ہو ۔آنکھیں بھی سوجی ہوئی ہیں ۔ہاں بھئی تم بتاؤ ! اسے کیا ہوا ہے ۔رمضو کو خاموش پاکر سردار رب نواز سے مخاطب ہوا ۔سائیں ! یہ کہتا ہے اسے چیخوں کی آوازیں آتی ہیں ۔اس دن جو رات کو آندھی کی آوازیں تھیں وہ اس کو سنائی دیتی ہیں ۔پتا نہیں ہمیں تو نہیں سنائی آتیں۔رب نواز نے حیرت کا مظاہرہ کرتے ہوئے کہا۔ اوئے رمضو !یہ کیا سن رہا ہوں میں !۔پاگل ہوگیا ہے ۔تیرا یہ پہلا قتل تو نہیں ۔تیرے جیسا غیرتی تو پورے علاقے میں کوئی نہیں ۔کتنوں کو تونے اپنے ان مظبوط ہاتھوں سے اکیلے ہی جہنم راست کیا ہے۔پھر یہ کیا بزدلوں کے جیسی حرکتیں کر رہا ہے۔بندہ بن بندہ۔تیری غیرت کے قصے تو ہمارے گاؤں کے بچوں کے بچے بھی سنائیں گے ۔تاریخ گواہ رہے گی۔پھر کیوں اس طرح کی ڈرپوک حرکت کرکے اپنے کئے کرائے پہ پانی ڈال رہے ہو۔سردار نے ذرا غصے سے کہا ۔نہیں سائیں میں بزدل نہیں ہوں ۔اللہ کے حکم سے میں نے اتنے مضبوط جسموں سے ایک سیکنڈ میں روح نکالی پھر یہ تو کوئی بڑی بات بھی نہیں تھی ۔آپ تو جانتے ہیں میں نے اپنی گھر والی کو بھی غیرت میں قتل کیا تھا حالنکہ میں اس سے بہت پیار کرتا تھا ۔ایسی کوئی بات نہیں پتا نہیں کان خراب ہو گئیے ہیں یا کیا ہے ۔سوتا ہوں تو یہ آوازیں بڑھ جاتی ہیں پھر نیند خراب ہو جاتی ہے ۔کل چیک اپ کرواتا ہوں میں ۔آپ بس میرے کانوں کے لئے دعا کریں

رمضان کا مہینہ شروع ہوگیا تھا ۔سال کا یہ ایک ایسا مہینہ تھا جس میں گاؤں کی مسجد میں نہ صرف آذان کی آواز آتی بلکہ نمازی بھی ہوتے اور اسی طرح وہ بچے جنہوں نے گاؤں کی اس نابینا عورت جو حافظ قرآن تھی جس کے پاس بچے مختلف سورتیں اور نماز سیکھنے جاتے تھے ۔وہ بھی مسجد کا رخ کرتے یوں مسجد کے صحن میں بچوں کے زور زور سے قرآن پڑھنے کی آوازیں پورے گاؤں میں پھیل جاتیں اور رمضان کے مہینے کی برکت ہر سو پھیل جاتی ۔یوں بھی سادہ سے اس گا ؤں کے ذیادہ تر لوگ سادہ تھے ۔قرآن پڑھتے تھے لیکن یہ نہیں پتا تھا کہ اس میں ان کے لئے کیا پیغام ہے ۔اور کچھ مولویوں نے ڈرایا ہوا بھی ایسا تھا کہ تمہاری سمجھ میں نہیں آئے گا۔ ان کو تو بس یہ پتا تھا قرآن پڑھنے سے ثواب ملتا ہے ۔فوتگی میں قل خوانی میں جتنے ذیادہ قرآن پڑھے جائیں اتنا ہی فوت ہونے والے بندے کے گناہ جھڑ جا ئیں گے اور اسے جنت میں اعلی مقام ملے گا ۔رمضان کے مہینے میں ہر کوئی ذیادہ سے ذیادہ قرآن ختم کرتا ۔گاؤں کے بہت سے لوگو ں کو نہ قرآن پڑھنا آتا تھا اور نہ نماز لیکن اس کے باوجود وہ قرآنِ پاک کی ہر سطر پر بسمِ اللہِ الرحمنِ الرحیم پڑھتے اور انگلی سے اگلی سطر پر آتے اور یوں پورا قرآن ختم کرتے اسی طرح نماز میں بھی وہ مسلسل بسمِ اللہِ الرحمنِ الرحیم ہی پڑھتے ۔ سب کے چہرے خدا کی محبت میں سرشار ہوتے تب معلوم ہوتا کہ وہ اللہ کے علم کو اتنا نہ جاننے کے باوجود اس سے اتنی محبت کرتے ہیں اور اگر یہ سادہ لوگ اللہ کے علم کو جان لیں تو کبھی کو ئی گناہ ان سے سرزد نہ ہو ۔شیطان یہ اچھی طرح سے جانتا تھا اس لیۓ اس نے نہ صرف ان کو ایسے سرداروں کا محکوم بنا کر رکھا جنہوں نےاللہ کا پیغام (قرآن)کو ان سے دور رکھا بلکہ مولویوں کے حلوے اور سردار کی سرداری نے ان معصوم لوگوں کو اللہ کا حکم یا تو نہ مکمل بتایا یاپھر من گھڑت اور اللہ کی آیتوں کو اپنے مفاد کے لئے استعمال کیا۔اور گاؤں کے سادہ لوح لوگ یہ بھی نہ سوچتے کہ اللہ تو سب کا ہے وہ تمام انسانوں سے برابر کا انصاف کرتا ہے کیسے ہوسکتا ہے اتنی بڑی کائنات بنانے والا عورت کے ساتھ نا انصافی کرے گا ۔ وہ ایسے مردوں کو اس کا مالک کیسے بناۓ گا جو اسے بھیڑ بکری سے بھی کم درجہ دیتے ہوں اور کہتے ہوں اللہ نے ہمیں تمہارا مالک بنایا ہے ۔کاش ان کی سمجھ میں آجاتا کہ مالک تو بس ایک ہی ہے جو خیال بھی رکھتا ہے ۔پیدا بھی وہی کرتا ہے اور پالتا بھی وہی ہے اور انصاف بھی وہی کرتا ہے۔پیار بھی وہی کرتا ہے ۔ بس کسی کو ڈھیل دیتا ہے تاکہ اس کی پکڑ کر سکے آخر میں تو کسی کا صبر آزماتا ہے۔*
*اس دفع جو مولوی مسجد میں آیا تھا وہ دور کسی گاؤں کا تھا ۔مسجد میں مولوی صاحب کا اچھے سے استقبال کیا گیا ۔بچے اپنے گھر سے ساگ ،مکئی کی روٹی اور لسی لے آئے تھے ۔بڑوں سے ذیادہ بچے خوش تھے ۔ مسجد کے کچے صحن میں جھاڑو لگا یا گیا تھا اور صحن میں گاؤ ں کی عورتوں کے ہاتھ سے کھجور کے پتوں سے بنائی کئی صفیں بچھی ہوئی تھیں اس میں پینو کے ہاتھ سے بنائی گئی صف بھی موجود تھی ۔مسجد میں موجود قرآنِ پاک کو نئے ہاتھ سے کڑاہی کئیے گئے لال رنگ کے غلاف بھی پہنائے گئے ۔ہر طرف خوشبو ہی خوشبو تھی سوندھی مٹی کی۔ مسجد کی رونق نے پینو کے غم میں دکھی دلوں کو تھوڑی سی راحت دے دی تھی تقریبا گاؤں کے سب لوگ مولوی صاحِب سے ملنے آ ۓ لیکن رمضو ماما ابھی تک نہیں آیا تھا ۔*
*رمضو کو جاگے ہوئے کئی دن گزر گئے تھے اس کے گھر والے بھی پریشان تھے وہ سو نہیں پاتا تھا جیسے ہی سونے لگتا پینو کی چیخوں کی آوازیں سنائی دیتیں اور وہ اس کے خواب میں آکر کہتی ٌماما میڈا فیصلہ قرآن کریسے ٌ اور وہ چیخ کر کہتی ٌ قرآن میڈا فیصلہ کر ٌ وہ ایک دم گھبرا کر اٹھ بیٹھتا ۔پینو کا قتل اس کا پہلا قتل نہیں تھا نہ جانے کتنی بے گناہ اس کے ہاتھوں کالی ہوئیں۔کتنے دودھ پیتے بچے اپنی ماؤں سے محروم ہوۓ ، کتنی بے گناہ عورتیں کالی قبرسان پہنچیں ،کتنی سردار کی حویلی میں داسی بنائی گئیں لیکن کبھی پہلے اس کے ساتھ ایسا نہیں ہوا تھا یہ پہلا واقعہ تھا وہ خود بھی پریشان تھا پہلے پہل تو دوسرے لوگوں کی طرح وہ اپنا وہم سمجھا لیکن مسلسل پینو کا اس کے خواب میں آنا اور چیخنے نے اس کو بے آرام کردیا تھا ۔وہ سکون کی تلاش میں دور دور نکل جاتا کہ شاید اس گاؤں سے دور جانے پر اسے پینو کی چیخیں سنائی نہیں دیں گی ۔اسے کچھ ہوش نہیں تھا نہ اپنے کپڑوں کا اور نہ ہی اس پگ کا جس کی خاطر اس نے کئ زندگیاں داؤ پر لگا دیں ۔ اس مشکل گھڑی میں نہ تو سردار اس کے کچھ کام آرہا تھا اور نہ ہی اس کا دوست ابلیس جو اسے عزت کے لیکچر دینے آتا تھا ،اسے اس بات کے گھمنڈ میں ڈال دیا تھا کہ تم بہت طاقت ور ہو ۔نہ ان مولویوں کے ان پیروں کے تعویز اس کے کام آرہے تھے جو ا س کے قتل کے کارناموں پر اسے مبارکباد دیتے اور کہتے بے شک تم نے اللہ کا حکم مان کر بد کردار عورت کو اس کی سزا دی ہے اور اب جہنم کی آگ تمہیں نہیں چھو سکتی۔ وہ سب لوگ کہاں تھے جن کے دل اس کی ایک دھاڑ سے کانپ جاتے تھے جبکہ اب وہ پینو کی چیخوں سے ہی بچتا پھرتا تھا ۔جس کی زندگی میں اس شخص نے بات نہیں سنی تھی اب ہر پل وہ اس کے سامنے آکھڑی ہوتی اور اسی طرح قرآن سر پر رکھے کہتی ٌ ماما میں بے قصور ہوں ۔میرا فیصلہ قرآن کرے گا ٌ ،اب نہ وہ اسے دھتکار سکتا تھا نہ ہی اپنے کھسے سے اسے مار سکتا تھا وہ تو خود کبھی کسی کھڈے میں اوندھے منہ گرا ہوتا تو کبھی کسی پتھر سے ٹکرا کر خون بہہ رہا ہوتا ۔مکافاتِ عمل شروع ہوچکا تھا ۔اللہ کا فیصلہ آچکا تھا ۔بے شک قرآن اللہ نے پڑھنے اور اس پر عمل کرنے کے لئیے بھیجا تھا لیکن جن لوگوں نے اس کا غلط استعمال کیا ۔ اللہ کی آیتوں کو سوچے سمجھے بغیر ،اپنے مفادات کے لئیے غلط طریقہ اختیار کیا ۔اس کے مطلب کو غلط رنگ دیا وہ اللہ کی پکڑ سے بچ نہیں سکتے ۔دیر بدیر اس کے کٹہرے میں تو آئیں گے ۔پھر نہ کوئی سردار کو اس کی سرداری بچاۓ گی اور نہ کسی شیطان کے دوست کو اس کی دوستی پھر تو صرف آہوں کا سوال ہوگا ،آنسوؤں کا انصاف ہو گا ۔اب سردار کی طاقت نہیں خدا کو پکارے گئے الفاظوں کی طاقت ہوگی ۔اللہ اپنے اس وعدے کو پورا کرتا ہے کہ بے شک تباہی ہے ظالموں کے لئے جب وہ حد سے گزر جائیں۔*
*مسجد میں مولوی صاحب کا پہلا دن تھا ۔رات کو تراویح میں گاؤں کے کافی لوگ موجود تھے ۔پہلا روزہ اور وہ بھی جمعہ کا تھا لہذا کچھ بچے بھی موجود تھے ۔تراویح کے بعد لوگ اپنے گھروں میں چلے گئے ۔مولوی صاحب نے اپنا بستر لگایا ۔کیونکہ صبح سے بہت سے لوگوں سے ملنا ملانا رہا اس لئیے تھکاوٹ بہت ہوچکی تھی ۔مولوی صاحب نے سوچا صبح سحری کے لئیے بھی اٹھنا ہوگا اس لئیے اس نے لالٹین کی لو کم کی لیکن اچانک اندھیرے میں اسے کوئی شبیہ نظر آئی جیسے کوئی لڑکی کھڑی ہو بغیر کپڑوں کے اور اس کے منہ میں چوٹیا تھی پہلے وہ ڈر گیا لیکن اچانک وہ لڑکی غائب ہو گئی ۔مولوی صاحب نے اپنا وہم سمجھا اور تھکاوٹ کی وجہ جانا لیکن جیسے ہی مولوی صاحب آنکھیں بند کرتے وہ لڑکی پھر سے آنکھوں کے سامنے نظر آتی ۔مولوی صاحب نے بہت سی سورتیں پڑھیں کہ اگر کوئی آسیب ہے تو ختم ہو جائے لیکن ایسا نہ ہوسکا ۔مولوی صاحب کی اگر ایک آدھ گھنٹہ آنکھ لگی بھی تو اسی طرح اسے ایک لڑکی بگیر کپڑوں کے منہ میں چوٹیا ڈالے کھڑی نظر آئی اور تب وہ پسینہ پسینہ ہو کر اٹھ بیٹھا ۔تھوڑی دیر میں گاؤں کا ایک شخص ان کے لئیے سحری کا کھانا لے آیا لیکن مولوی صاحب کی حالت دیکھ کر حیران ہوگیا ۔کیا ہوا مولوی صاحب کیوں پسینہ پسینہ ہورہے ہیں ؟۔مولوی صاحب نے سارا واقعہ اسے سنایا اور کہا کہ اب میں اور اس مسجد میں نہیں رہ سکتا ۔تھوڑی دیر میں چند اور نمازی بھی آن پہنچے اور مولوی صاحب کو سمجھانے لگ گئے کہ آپ ایسا مت کریں ۔صرف یہی ایک مہینہ تو ہے جس میں یہ مسجد آباد ہوتی ہے اگر کوئی جنات یا آسیب ہوگا تو پڑھاٖئی سے ختم ہو جائے گا ۔اگر آپ بھی چلے گئے تو اتنے بابرکت مہینے میں یہ مسجد ویران ہو جائے گی لوگوں کے بے حد اسرار پر مولوی صاحب رکنے کے لئیے تیار ہو گئیے۔

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

About the author

Peerzada M Mohin

Leave a Reply

This function has been disabled for Online Urdu Novels.

%d bloggers like this: