Urdu Novels

Mera Faisla Quran karay ga – Last Episode 6

Mera Faisla Quran karay ga
Written by Peerzada M Mohin
میرا فیصلہ قرآن کرے گا – آخری قسط نمبر 6

–**–**–

مولوی صاحب کی حالت غیر تھی ۔ دن میں بھی ان کے دل کی دھڑکن غیر معمولی رہی ۔تراویح میں جب گاؤں کے کچھ لوگ آئے تو تراویح پڑھانے کے بعد مولوی صاحب نے کہا ٌ اس گاؤ ں میں کوئی غیر معمولی واقعہ تو نہیں ہوا؟ تمام لوگوں نے نفی میں سر ہلایا حالانکہ ان کے چہرے صاف گواہی دے رہے تھے ۔اس پر مولوی صاحب نے کہا عجیب وحشت ہے یہاں ۔میرے ساتھ ایسے واقعات ہو رہے ہیں جو پہلے کبھی نہیں ہو ئے۔ لوگوں نے ایک دوسرے کی طرف دیکھا اور رمضو کا مسئلہ بھی تھوڑا تھوڑا سمجھ آرہا تھا ۔پینو کی موت کے بعد اس گاؤں میں وہ رونق نہ رہی تھی ۔حالانکہ پینو ایک شرمیلی لڑکی تھی جو اپنے دوپٹے کے پلو کو منہ میں دبا کر نیچے منہ کرکے بات کرتی تھی اور اس کا حیا ہی تھا جو گاؤں کے سب بزرگ اس سے پیار کرتے تھے اب اس کو کالی کرنے کے بعد سب لوگ جیسے خاموش ہوگئے تھے جانتے تھے جس کو سردار کی طرف سے کالی کا خطاب دے دیا جاتا ہے اسے اچھے لفظوں میں یاد کرنا اور اس کا ویسے بھی ذکر کرنا اس گاؤں میں کتنا بڑا گناہ سمجھا جاتا ہے۔اس لیۓ وہ بس یہی کہہ سکے کہ مولوی صاحب روزوں کا مہینہ ہے آپ بس اس مسجد کو خالی چھوڑ کر مت جائیں ۔اتنے عرصے بعد تو آباد ہوئی ہے ۔خالی تھی شاید اس لئیے ۔مولوی صاحب نے لوگوں کے بہت اصرار پر جانے کا فیصلہ ترک کردیا ۔*
*اگلی چند راتیں اسی طرح ہوا ۔مولوی صاحب کو پھر ایک لڑکی قرآن سر پر رکھے اور منہ میں چٹیا دبائے خواب میں نظر آتی ۔اور خواب اتنا حقیقت کے پاس تھا کہ مولوی صاحب پسینے میں شرابور ہوجاتے ۔راتوں کو مولوی صاحب جاگ کر اور سورتیں پڑھ کر گزارتے ۔فجر کی نماز کے بعد انہوں نے لوگوں سے دریافت کیا کہ اس گاؤں میں کسی پر کوئی ظلم ہوا ہے کیا ؟ لوگ جاننے کے باوجود بولے ٌ نہیں مولوی صاحب ! ایسا تو کچھ نہیں ہوا ؟ مولوی صاحب نے پھر اپنے خواب کے بارے میں بتایا اور مسلسل ایک ہی جیسے خواب کا دکھنا انہیں اچنبھے میں مبتلا کر رہا تھا ۔ان کے بہت پوچھنے پر ایک بزرگ نے کہا ٌ اوہ سائیں! ایک لڑکی نے منہ کالا کیا تھا ۔اس کو رواج کے مطابق اور اللہ سائیں کے حکم کے مطابق مار دیا ہے ۔ اس کو ایک غیر شخص کے ساتھ بات کرتے ہوئے دیکھا گیا تھا یہی کیا کم ہے ظاہر ہے وہ اس شخص کو جانتی بھی ہوگی اور اس سے ملتی بھی ہوگی ۔اور بدنامی ہوگئی تھی ۔پھر سردار نے اسے کالی کہہ دیا تھا اب وہ قرآن سر پر اٹھاتی یا کچھ بھی کرتی یہ کوئی پہلی دفعہ تھوڑی ہوا ہے۔ساری کالیوں کا انجام یہی ہوتا ہے ۔آپ کو ویسے ہی شیطانی خواب آرہا ہے ۔بزرگ نے اس بات کو اتنی اہمیت نہ دیتے ہوئے کہا۔ تو یہ کیسے معلوم ہوا کہ اللہ کا حکم اس پر واضح ہوگیا تھا ؟ کیا اس کے گناہ کے کوئی گواہ تھے ؟ مولوی صاحب نے سوال کیا ؟ نہیں سائیں ! گناہ بھلا لوگوں کے سامنے کوئی کرتا ہے ؟ اسی بزرگ نے جواب دیا ۔وہ رب نواز کا باپ تھا اور جانتا تھا کہ اس کا بیٹا بھی اس قتل میں ملوث تھا اس لئیے مولوی صاحب کی بات اسے پسند نہیں آئی ۔لیکن بزرگو ! ابھی آپ نے فرمایا یہ اللہ کا حکم تھا تو کیا آپ کو یہ نہیں پتا کہ اللہ نے عینی شاہد کے ہونے کی صورت میں سنگسار کا حکم دیا ہے اور دوسری صورت میں جب گواہ نہ ہوں اور صرف الزام لگایا گیا ہو تو اس صورت میں اپنی سچائی کی قرآن کی قسم اٹھا کر گواہی دی جاسکتی ہے ۔اس میں جھوٹے شخص کو خود قرآن کی مار پڑ تی ہے ۔کیا یہ آپ لوگوں کو کسی نے نہیں بتایا ۔بحرحال !لگتا ہے آپ سب سے بہت بڑا گناہ سرزد ہوا ہے ۔آپ لوگ اللہ سے معافی مانگیں ورنہ ہر وہ شخص جو کسی بھی طرح سے اس قتل میں ملوث تھا وہ بھی اور جس نے ان کو یہ گناہ کرتے ہوۓ نہیں روکا سب اللہ کی عدالت میں حاضر ہونگے ۔آپ لوگ یہ کیسے سوچ سکتے ہیں کہ اللہ پاک کسی پر ظلم کرسکتے ہیں ۔میرے خواب کی تعبیر بتاتی ہے کہ وہ لڑکی بے گناہ تھی اور اپنی بے گناہی کو ثابت کرے گی ۔ جو کچھ آپ لوگوں نے بتایا کہ اس کے قتل کے بعد ہوا اس سے تو ظاہر ہوتا ہے اللہ اس کے ساتھ ہے اور جلد مجرموں کو عبرت ناک سزا ہوگی ۔مولوی صاحب یہ کہہ کر خاموش ہوگۓ وہ حیران بھی تھے اور پریشان بھی کیونکہ جو کچھ انہوں نے کہا تھا عموما وہ غیرت کے قتل پر تبصرہ نہیں کرتے تھے جانتے تھے کہ ان کی ان باتوں سے نہ صرف سردار بلکہ مولوی حضرات بھی ان کے خلاف ہو جائیں گے لیکن کوئی ایسی طاقت تھی یا اس لڑکی کا ڈر ۔شاید وہ یہی چاہتی تھی کہ میں اس کے بے گناہ ہو نے کو ثابت کروں اور اس پر ہونے والے ظلم کے خلاف نہ صرف آواز بلند کروں بلکہ ان لوگوں کو اللہ کے صحیح حکم کے بارے میں بھی بتاؤں۔ مولوی صاحب کی باتیں سن کر سب لوگ حیران تھے کیونکہ یہ پہلا مولوی تھا جو عورت کو مظلوم کہہ رہا تھا ورنہ تو جتنے بھی مولوی آئے یوں لگتا تھا صرف عورت کے پردے ۔عذت کے لیکچر دینے ہی آئے ہیں اور عورت کو ٹیڑھی پسلی ہی کہتے سنا یا جنت سے نکلوانے پر حقارت کا اظہار ہی کرتے دیکھا یہ کیسا مولوی تھا جو عورت کو نا حق قتل کرنے پر فتوی سنا رہا ہے ۔ یا تو یہ مولوی پاگل ہے یا پھر سائیں کے بارے میں جانتا نہیں ورنہ یہ سب کہنے سے پہلے سوچتا ضرور کہ اس کے یہ الفاظ جو اس کے جس حلق سے نکلتے ہیں سردار اس پہ موجود شہ رگ کو کس طرح سے کاٹے گا ۔ یہاں صرف سائیں کی بادشاہت تھی ۔سائیں کے اصول ،سائیں کا حکم اور سائیں کا سکہ چلتا تھا یہاں بھلا کون سنے گا اس مولوی کو ۔بالی کی طرح اس کی نصیحتیں بھی دم توڑ جائیں گی ۔بالی کی کس نے سنی تھی ۔اس نے کتنا انصاف دلا دیا تھا پینو کو۔اس کی تو بیوی تھی تب بھی وہ کچھ نہ کرسکا تو اب مولوی کی کیا مجال تھی۔*
*صبح کا کا مسجد میں داخل ہوا اور بہت عذت سے سینے پر ایک ہاتھ رکھ کر دوسرا مولوی صاحب کی طرف مصا فحہ کے لئیے بڑھاتے ہوئے ادب سے جھک کر کہا ٌ استاد جی ! آپ کو سائیں وڈا نے جی ڈیرے پہ جی بلایا ہے ٌ مولوی صاحب نے کہا ٌ خیریت ہے ۔کوئی کام تھا ان کو مجھ سے ۔ابھی چند دن پہلے تو ملاقات ہوئی تھی ۔ پتا نہیں جی ۔سائیں سے پوچھنے کی جی جسارت کون کرسکتا ہے جی ۔ان کا حکم تھا جی کہ بلا کر لاؤ مولوی صاحب کو ۔کاکے نے معصومیت سے کہا ۔ ٹھیک ہے تم جاؤ میں اشراک کی نماز ادا کرکے آ رہا ہوں ۔مولوی صاحب نے کہہ کر اشراک کی نماز کی نیت باندھی۔

سردار کے ڈیرے پر برگد کے پھیلے ہوے درخت کی چھاؤں ایسی پھیلی ہوئی تھی جس کو نہ چڑھتا سورج اور نہ ہی سوا نیزے کا سورج مات دے سکتا تھا ۔اور اس درخت کی ٹھنڈک نہر کے قریب ہونے کی بنا پر سورج کی تپش کو بھی ٹھنڈا کردیتی تھی ۔درخت کے آس پاس چارپائیاں اس طرح سے بچھی تھیں کے اس پر بیٹھے لوگوں کا رخ سردار کی ٹکریلی سرخ گندی (سندھی بیڈ شیٹ )سے ڈھکی ،رنگین چار پائی کی طرف تھا ۔ گاؤں کے چند بزرگ بھی اس وقت موجود تھے۔ ان بزرگوں میں چند تو روزے کی حالت میں تھے اور باقی حقے کے دھوئیں کو اپنے حلق میں انڈیل رہے تھے ۔ سردار کا رنگین حقہ بھی کاکے نے تیار کرکے اس کے سامنے رکھا ۔ مولوی صاحب سردار کے سامنے والی چارپائی پر بیٹھے تھے ۔سردار اپنی خونخوار نظروں سے اس کی طرف دیکھ رہا تھا ۔ کچھ دیر خاموشی کے بعد سردار نے مولوی صاحب سے مخاطب ہوتے ہوئے کہا ٌ ہاں استاد جی! کیا درس دیا ہے لوگوں کو مسجد میں ۔کونسا نیا مزہب پڑھا رہے ہو جس میں کاروکاری ناحق ہے اور گناہ ہے ۔بابا پہلا مولوی دیکھ رہا ہوں جو اس طرح کی خرافات بول رہا ہے ۔ہوش میں ہو مولوی یا بھنگ شنگ پی کے بولا تھا ۔تجھے پتا بھی ہے کہ تونے کیا بولا ہے اگر دوسرے مولویوں کو بتا دیا تو تجھے قتل کرنے کا فتوی وہ حق سمجھ کے دیں گے ۔کیا سمجھے ؟مولوی صاحب نے بہت ہی عاجزی سے کہا ٌ سائیں ! میں نے کچھ غلط نہیں کہا ،نہ ہی میرا مقصد ہے کہ اللہ کے قانون کی خلاف ورزی کروں ۔وہ تو مجھے خواب میں ایسا آ رہا تھا ۔ایک لڑکی چوٹیا منہ میں دباے قرآن سر پر رکھے تھی ،میں نے لوگوں سے پوچھا کہ کیا کسی کا ناحق قتل ہوا ہے کیونکہ خواب کی تعبیر یہی بتا تی تھی ۔ اور پھر کسی کو شک کی بنیاد پر قتل کرنا اور عینی شاہدوں کے بغیر کسی کو مجرم سمجھ کر قتل کرنا تو اللہ سائیں سے دشمنی کرنا ہے ۔تم اپنے کام سے کام رکھو ۔گناہ کیا کسی کے سامنے کرتی ہے کالی ۔ہمیں نیا اسلام نہ سکھاؤ ۔لوگوں کی غیرت کو کونسا مولوی ہے جو ختم کرنے کی کوشش کرتا ہے۔یہ کیا تو سراغ لگانے کی کوشش کر رہا ہے کہ لڑکی کے ساتھ کیا ہوا تھا ۔لڑکی ہماری تھی ہم اس کے مالک ہیں ہم غیرتی قوم ہیں ،مسلمان ہیں اور آج تک جو کچھ کر رہے ہیں اس سے سب مولوی خوش ہیں اور ہماری مثال وہ شہر کے بے غیرت لوگوں کو دیتے ہیں ۔ برسوں ہمارے بزرگوں نے غیرت کا خون پلایا ہے ہمیں ۔تم یہ اپنے بے غیرتی کے احساس والے لیکچر اپنے پاس ہی رکھو ۔سردار جانتا تھا کہ گاؤں کے سادہ لوح لوگ اتنے عرصے سے کاروکاری جیسی رسم اللہ کا حکم سمجھ کر نبھا رہے تھے۔ جس پر ہر شخص یہ سوچ کر خاموش ہوجاتا کہ اس رسم کی خلاف ورزی کرنے پر سائیں بھی اسے سزا دے گا اور اللہ بھی لیکن اس مولوی کے لیکچر سے ایسا نہ ہو گاؤں کے لوگ حق اور نا حق قتل میں تمیز کرنے لگ جائیں اور پھر اس کی سرداری تو غیرت کے جھولوں پر کیسے جھولے گی۔چنانچہ اس نے رب نواز کی طرف دیکھتے ہوئے کہا ٌرب نوازے ! پرانا مولوی کہاں مر گیا ہے ۔اسے بلا کر لا اور اسے واپس بھیج دے ورنہ جس طرح سے یہ بول رہا ہے مجھے تو بے دین لگ رہا ہے ایسا نہ ہو یہ اپنے گھر بغیر سانسوں کے پہنچے ۔ہم مولویوں کا بہت احترام کرتے ہیں ۔اس استاد جی کا دماغ تھوڑا ہل گیا ہے بہت عزت کے ساتھ اسے اپنے گھر چھوڑ آ ۔ یہ کہہ کر سردار اٹھ گیا کیونکہ اسے دوسرے گاؤں جرگے کے لئیے جانا تھا ۔سائیں کی لینڈ کروزر تیار کھڑی تھی ۔کچھ ہی دیر میں نہر کے ساتھ بنی کچی سڑک پر سائیں کی گاڑی دھول اڑاتی جا رہی تھی ۔ڈیرے پر بیٹھے تمام لوگ سائیں کو جاتے ہوئے دیکھ رہے تھے۔*
*لوگ کچھ پریشان تھے کیونکہ پینو کے مرنے کے بعد بہت ہی عجیب و غریب سے واقعات ہو رہے تھے اور اب وہ مولوی صاحب کو بھی خواب میں دکھنے لگی تھی۔گاؤں کے لوگ مسجد کے مولوی صاحب کا بہت احترام کرتے تھے ۔مسجد میں ہر سال جو مولوی صاحب بھی آتے تھے وہ ان کی باتیں غور سے سنتے ان میں سے ذیادہ تر عورتوں کو دنیا کی بربادی کہتے ۔اور جنت سے نکالنے والی مجرم کہتے ۔سادہ دیہاتی لوگ یہی سمجھتے کہ ان مولویوں کے پاس اللہ کا علم ہے لہذا ان کے کہے پر آنکھ بند کرکے یقین کرتے ۔جتنے بھی امام صاحب آتے وہ یہی کہتے ٌاللہ نے کہا اگر سجدے کا حکم ہوتا تو بیوی شوہر کو سجدہ کرتی یعنی اتنا بڑا درجہ مرد کا ہےٌ عورت محکوم ہے ۔کھیتی ہے ۔ٹیڑھی پسلی ہے ۔کم عقل ہے ، اسے پردے میں رکھو ،اس پر نظر رکھو ۔مرد گناہ کرے تو اسے قتل کرنے کی بجائے اس کی بیٹی ،بہن یا بھتیجی جرگے کے اصول کے مطابق کالک کے عوض یعنی جس شخص سے گناہ سرزد ہوا اس کی جان بخشی کے بدلے میں دیا جاتا جبکہ عورت پر شک آنے پر بھی سنگسار کا حکم دیا جاتا ۔یہ حقوق گنوائے جاتے اور آدمی چار شادیاں کرے بھلے سے لیکن عورت جس کھونٹی میں بندھ گئی ہے وہاں سے مت ہلے۔یہ باتیں وہ ہمیشہ سنتے لیکن یہ عجیب مولوی تھا جو عورت کو شک کی بنیاد پر قتل کرنا ناحق کہہ رہا تھا چنانچہ سردار کے ڈیرے سے نکلتے ہی چند بزرگ تو اٹھ کر چلے گئے اور چند بیٹھے رہے ، رب نواز مولوی صاحب سے یہ کہہ کر کہ میں ابھی آتاہوں اور آپ کو آپ کے گاؤں چھوڑ کر آتا ہوں کہہ کر نہر میں نہانے چلاگیا تو پینو کے سسر نے ڈرتے ڈرتے ،ادھر ادھر دیکھ کر مولوی صاحب سے پوچھا کہ مولوی صاحب کالی رمضو کے خواب میں بھی آتی ہے اور کہتی ہے میرا فیصلہ قرآن کرے گا ۔اب تو وہ قتل ہوگئی ۔اب کونسا فیصلہ قرآن کرے گا۔مولوی صاحب جو پہلے ہی بہت غمزدہ سے نیچے سر کئیے بیٹھے تھے گویاہوئے ۔ کالی کہنا چاہتی ہے کہ اس کا انصاف قرآن کرے گا ( ٌسرائیکی زبان میں میڈا فیصلہ قرآن کریسےٌ کا مطلب ہے میرا انصاف قرآن کرے گا ) یعنی مرنے کے بعد بھی وہ اپنی بے گناہی ثابت کرنا چاہتی ہے قرآن کی روشنی میں ۔کیونکہ کاروکاری کو اللہ کا حکم اورزنا کرنے والوں کی اسلامی سزا کا درجہ دے کر اور ثواب سمجھ کر کیا جاتا ہے جبکہ قرآن پاک میں عینی شاہدین کی صورت میں سنگسار کرنے کا حکم آیا ہے نہ کہ شک کرنے پر کسی کو قتل کرنے کا حکم ہے ۔یہ تو قرآن کی آیتوں کی خلاف ورزی ہے ۔مولوی صاحب آبدیدہ ہو کر بولے قرآن اللہ سائیں کی وہ کتاب ہے جس میں احکامات بھی ہیں اور تجربات بھی ۔اللہ سائیں ظلم کرنے والوں کو کس طرح عبرت ناک سزا دیتا ہے۔اور ناحق قتل کرنے والوں کو اپنے غذب سے ڈراتا ہے ۔جس طرح عدالت میں جج قانون کی کتاب پڑھ کر فیصلہ سناتا ہے اسی طرح قرآن پاک بھی اللہ کا فیصلہ سناتا ہے ۔ میرے خواب کی تعبیر کے مطابق وہ لڑکی خود پر لگنے والے الزام اور ظلم کا بدلہ اللہ سے مانگ رہی ہے اور ہم سب کو یہ پیغام دے رہی ہے کہ میرا انصاف اس قرآن کے مطابق میرا اللہ کرے گا ۔اور یقینا آخرت میں تو سزا ہے ہی لیکن یہ اس دنیا میں ملنے والی سزا کا اشارہ ہے ۔جو جو اس ناحق قتل میں ملوث تھا اسے اپنے اللہ سائیں سے معافی مانگنی چاہیے۔یہ کہہ کر مولوی صاحب نے لمبی سانس لی ۔مولوی صاحب اپنی اس کیفیت پر حیران تھے ۔وہ اتنا علم ہونے کے باوجود کبھی اس طرح کھل کر کاروکاری پر بات نہیں کرتے تھے کیونکہ وہ جانتے تھےکہ سب تو نہیں لیکن بہت سے مولوی حضرات ان کی بات کو بنا سمجھے انہیں لبرل کا لقب دے کر فتوی دے ڈالیں گے۔ پینو کا سسر گہری سوچ میں پڑ گیا ۔اس کے چہرے پر دکھ کے ساتھ تفکرات ،پچھتاوے کا احساس گناہ بن کر چھلکنے لگ گیا ۔اس کی سزا تو شروع ہوگئی تھی اس کا بیٹا بالی اپنی بیوی پینو کے غم میں نیم پاگل ہوگیا تھا ۔اسے نا کھانے کا ہوش تھا اور نہ ہی اوڑھنے کا بس نہر کے کنارے بیٹھا باتیں کرتا رہتا ۔کبھی ہنستا تو کبھی روتا ۔کاش میں اپنے بیٹے اور بہو کے لئیے کچھ کرسکتا یہ کہہ کر پینو کا سسر آنکھیں پونچھتا گھر کی طرف چل پڑا اور مولوی صاحب رب نواز کے ساتھ اپنے گاؤں کی جانب۔*
*سردار بہت پریشان تھا اس دفعہ کے واقعے نے اسے بھی ہلا کر رکھ دیا تھا ۔رمضا ن کا مہینہ تو جیسے کیسے گزر گیا تھا ۔رمضو عید پر بھی گھر نہیں آیا تھا ۔جانے کہاں دربدر گھوم رہا تھا ، وہ ایک گاؤں سے دوسرے میں جاتا کہ شاید اسے سکون آجائے اور پینو اس کے خواب میں نہ آئے لیکن ایسا نہ ہوسکا تھا ۔سردار نے کئی دفع اپنے بندوں کے زریعے اسے دوسرے گاؤں سے بلوایا اور کئی دفع اس کے اپنے گھر والے اسے لے کر آئے لیکن وہ پھر سے چلا جاتا ۔آج پھر سردار نے کچھ لوگوں کو اسے پکڑ کر لانے کا کہا ۔سردار خود بہت پریشان تھا ۔گاؤں کے لوگ طرح طرح کی باتیں کر رہے تھے اوپر سے جو مولوی آیا تھا اس نے بھی اپنا خواب لوگوں کو بتایا تھا پھر پینو کے قتل والے دن عجیب سی چیخیں بھی لوگ نہیں بھول رہے تھے ۔جب سے پینو کا قتل ہوا تھا اس کے بعد سے شام کے وقت آسمان کا لال سرخ ہونا بھی ناحق قتل کی نشاندہی کر رہا تھا ۔عموما کسی کے ناحق قتل ہونے پر صرف ایک یا دو دن ہی آسمان سرخ ہوتا اور لوگ سمجھ جاتے کہ کسی کا ناحق قتل ہوا ہے لیکن اس دفع تو آسمان پر سرخی جیسے پکی ہوگئی ہو ۔عجیب سی خاموشی تھی فضا میں جسے نا بچوں کا نہر کے پانی میں چھپک چھپک کا شور تاڑ پایا نہ کھیتوں میں ٹریکٹر کی آواز نہ کوئیں سے نکلتے پانی کا شور اور نہ عورتوں کے چکی پیسنے کی آوازیں ۔رمضو کو اس کا بھتیجا ڈھونڈھ کر لے آیا تھا ۔اس کی بری حالت تھی ،پگ تو نہ جانے کہاں تھی ۔کپڑے کئی دن کی میل میں اٹے ہوئے تھے ،نہ جانے کب سے نہایا بھی نہیں تھا ۔آنکھوں کی سرخی بتا رہی تھی عرصے سے سویا بھی نہیں ۔چہرے پر تھکاوٹ بتا رہی تھی کہ سکون سے بیٹھا بھی نہیں ،سر کی نسیں درد سے ابھر رہی تھیں ۔سردار کی پریشانی میں اور اضافہ ہوگیا ۔سردار نے رمضو کی طرف دیکھ کر بہت پیار سے کہا اوئے یار یہ تجھے کیا ہوگیا ہے ۔تو تو میرا دایاں بازو تھا ۔یہ کیا حشر بنا لیا ہے ۔کیا ہو گیا تجھے تونے اتنے قتل کئیے ہیں اس پینو کے قتل پر تیرا یہ حال کیوں؟ رمضو نے روتے ہوئے کہاٌ سردار میں تو اب بھی سو قتل اور کر سکتا ہوں لیکن یہ شور میرے کانوں کو نہیں چھوڑ رہا ۔سو نہیں سکتا ہوں ،سونے کی کوشش کرتا ہوں تو کالی آکر کھڑی ہو جاتی ہے اور کہتی ہے ٌ ماما میرا فیصلہ قرآن کریسے ٌ سکون نہیں لینے دیتی سائیں وہ ، مجھے لگتا ہے جیسے وہ زندہ ہے ،کسی کو نظر نہیں آتی لیکن مجھے نظر آتی ہے ۔میں اس سے ڈرتا نہیں ہوں لیکن وہ بہت شور کرتی ہے ،میرے کانوں کو سکون نہین کرنے دیتی سائیں ۔ایک دفع مجھے نیند آجائے بس دعا کریں ۔سردار نے اس کی حالت دیکھتے ہوئے کہا تونے دم کروایا کیا ؟ جی سائیں بہت دم کروایا ۔ مزاروں پر بھی گیا ہوں ۔تعویز بھی لئیے لیکن سمجھ مین نہیں آتا ،ڈاکٹر کے پاس بھی گیا ہوں لیکن کوئی فائیدہ نہیں ہوا ۔رمضو چارپائی سے اتر کر زمین پر اکڑوں بیٹھ گیا اورسر کو پکڑ لیا اور کہنے لگا دیکھو سائیں وڈا پھر سے چیخوں کی آوازیں آرہی ہیں اس نے اپنا سر ٹانگوں میں ڈالتے ہوئے خود کو چھپانے کی کوشش کی جیسے آسمان اس کے سر پر گر جائے گا۔ اس کی یہ حالت دیکھ کر سردار کی پریشانی میں اور اضافہ ہوگیا۔*
*ادھر پینو کی ماں اکثر خالی مسجد کے دروازے پر آکر زور زور سے چیختی اور کہتی اللہ سائیں میری دھی کا فیصلہ کرہ ۔قرآن میری دھی کا فیصلہ کرہ اور پھر وہی پراانے نوحوں میں چند نئے نوحوں کا اضافہ کرتی ۔گاؤں کے لوگ اس کی یہ حالت دیکھ کر آبدیدہ ہوجاتے اور آسمان کی طرف دیکھتے اور گلہ کرتے کہ یا اللہ ہمارا مالک تو ہے تو ہمیں سرداروں کے رحم و کرم پر کیوں چھوڑا ہوا ہے ۔کچھ عورتیں پینو کی ماں سے کہتیں ٌ ادی تمہاری دھی تو قتل ہو گئی اب تم اس کا فیصلہ کس چیز کا کرو گی ؟ ٌ ۔پینو کی ماں کہتی میری بیٹی کے نام کے ساتھ کالی نہ لگائیں وہ معصوم تھی ۔اس کو ناحق قتل کرنے والوں کو اللہ سائیں جب تک سزا نہیں دے گا میں اسی طرح اس مسجد کے سامنے احتجاج کرتی رہونگی وہ کہتے ہیں قرآن میں لکھا ہے کہ کالی کو سزا دو تو میں کہتی ہوں میری بیٹی کالی نہیں تھی اس کو کالی کرنے والوں کی سزا کا بھی تو لکھا ہوگا نہ ۔ کہتے ہیں قرآن سچا ہے تو میری بیٹی بھی سچی تھی نا تو سچا قرآن میری بیٹی کو سچا دکھائے نا ۔ظالموں نے میری بیٹی کے ٹکڑے کئیے ۔ہائے اللہ سائین ان کے ہاتھوں کے ٹکڑے کرے ، ہائے ان ظالموں کے دل بھی نا کانپے جنہوں نے میری لاڈلی دھی کے ٹکڑے کر کے دل کو اپنے ہاتھوں میں لیا ۔میں انصاف مانگتی ہوں اللہ سائیں سے ۔میرے دل کو سکون تب آے گا جب ان کے دل پھٹیں گے ۔ یوں تو وقت بڑا مرہم ہوتا ہے لیکن پینو کی ماں کا دکھ ،اس کے کلیجے پر لگنے والے دکھ کی شدت کم ہوئی اور نہ صبر آیا ۔*
*یوں تو گاؤں میں عجیب و غریب واقعات ہو رہے تھے لیکن چند دن سے گاؤں میں ایک عجیب سی بدبو پھیلی ہوئی تھی جو پہلے تو ہلکی ہلکی تھی لیکن اب کافی پھیل گئی تھی ۔عجیب بات تھی کہ بدبو کہاں سے آرہی ہے اس کی نشاندہی نہیں ہورہی تھی ۔بو اس قدر زیادہ تھی کہ لوگوں کو اپنے ناک پر کپڑا باندھنا پڑ رہا تھا ۔گاؤں میں مختلف باتیں ہورہی تھیں ،کچھ لوگوں کا خیال تھا کہ جس عذاب کے بارے میں مولوی صاحب نے بتایا تھا یہ وہی عذاب ہے شاید ، پینو کے ناحق قتل کا عذاب ۔لیکن گاؤں والوں کا کیا قصور تھا یہ ان کی سمجھ میں نہیں آرہاتھا ۔ بدبو نے گاؤں والوں کو پریشان کر رکھا تھا ،اس بدبو کی شدت میں اضافے نے سب کو ہی* *تقریبا سر درد میں مبتلا کردیا تھا ۔عجیب سی سڑی ہوئی بدبو تھی ایسی *گندی بدبو تھی کے ہر بندہ استغفار کر رہا تھا ،کتے اس طرح بھونک رہے تھے* *جیسوہ بھی اس بدبو سے تنگ ہوں۔*

بدبو نے پورے گاؤں کا احاطہ کیا ہوا تھا … اس بدبو کی انٹینسٹی اتنی زیادہ تھی کہ ہر شخص ہی تنگ تھا اور استغفار پڑھ رہا تھا ۔دور دور تک پھیلی بدبو یوں لگتا قریب سے ہی آرہی ہے ۔اس لئیے صحیح جگہ کی نشاندہی نہیں ہو پا رہی تھی ۔ڈیرے پر پنچیت کا ایک فیصلہ تھا لیکن اس بدبو کی وجہ سے دوسرے گاؤں سے آئے مہمان بھی معذرت کرکے اٹھ گئے۔سردار نے کاکے کو بھیج کر رب نواز کو بلایا اور اس بدبو کے بارے میں دریافت کیا ۔سائیں ایک دو دن سے تو تھوڑی تھوڑی بدبو تھی لیکن اب بڑھ گئی ہے ۔سب جگہ دیکھ لیا لیکن پتا نہیں چل رہا کہ کہاں سے آرہی ہے ۔اتنی گندی بدبو تو آج تک کبھی نہیں آئی لوگوں کے سر درد سے پھٹ رہے ہیں ۔رب نواز نے اپنے سر پر ہاتھ رکھتے ہوئے کہا۔۔ہاں ! صحیح کہہ رہے ہو ،پنچیت بھی آج بغیر فیصلے کے ختم کرنی پڑی ۔بڑی شرم آئی مجھے ۔ساتھ والے گاؤں کے لوگ کیا سمجھ رہے ہونگے کہ یہ اب تک بدبو کا پتا نہیں چلا سکے ۔سائیں نے غصے سے کہا ۔۔رمضان خان کو پتا نہیں کیا ہوگیا ہے ،ایک تو ہر کوئی اس کے بارے میں مجھ سے پوچھتا ہے ۔اس کے بغیر تو میں ایک قدم بھی نہیں چل سکتا ہوں ۔یہ اس کا شاطر دماغ تھا کہ میں اتنے سارے گاؤں کا سردار بن گیا ، اب تو لگتا ہے دماغ ہی نہیں کام کرتا ۔رمضان کو لائے تھے نا تو اب پھر کہاں گیا ؟ سائیں نے استفسار کیا ۔۔سائیں وہ پھر غائب ہوگیا ہے ۔ساتھ والے گاؤں میں بھی پتا کیا لیکن کچھ نہیں پتا کسی کو ۔۔رب نواز نے سائیں کو با ادب ہوکر بتایا ۔ٹھیک ہے اسے ڈھونڈو اس کا علاج کروانا ہے ۔وہ بندہ ہی تو ہے اصل کام کا ،غیرتی ،پرجوش جسے دیکھ کر ،اس کا نام سن کر دشمن تھر تھر کانپتا تھا ،میرا شیر دل ساتھی ہے وہ ،اس کا میں خود علاج کرواؤں گا ۔جی سائیں !آپ صحیح کہہ رہے ہیں وہ ہوتا تو اب تک بدبو کا پتا لگا چکا ہوتا اس کی تو سونگھنے کی حس اتنی تیز تھی کہ سیدھا اس جگہ پہنچا دیتا جہاں سے بدبو آرہی تھی۔۔۔*
*سائیں !سائیں! منظور بھاگتا ہوا آیا اور ہانپتا کانپتا سردار سے کہنے لگا ٌسائیں وہ چاچا رمضان کا پتا بھی چل گیا اور بدبو کا بھی ٌ ۔کیا مطلب ؟ سردار نے حیران ہو کر پوچھا ۔۔سائیں رمضان خان نے خود کشی کرلی ہے اور اس کی لاش درخت کے ساتھ لٹکی ہوئی ہے اور اسی سے بدبو آرہی ہے ۔*
*گاؤں کے تقریبا سب لوگ ہی اس کھیت کے اردگرد موجود تھے جہاں وہ درخت موجود تھا مکئ کے کھیت میں یہ درخت موجود تھا اور مکئی کے لمبے لمبے پودوں میں اس کی لاش چھپی ہوئی لٹکی تھی ۔یہ وہی جگہ تھی جہاں پینو کا قتل کیا گیا تھا ۔اس کی چارپائی لائی گئی تھی اور اسی درخت کے نیچے وہ پتھر بھی موجود تھا جس پر پینو کے ٹکڑے کئیے گئے تھے اور اسی رمضان خان کی بدبو سے بھری لاش لٹکی ہوئی تھی جس نے پینو کے جسم کے ٹکڑے کرکے اس کا دل نکالا تھا اور اس وقت اس کا اپنا دل نہیں ہلا تھا اور آج وہ خود عبرت کا نشان بن گیا تھا ۔بدبو اس قدر ذیادہ تھی کہ کوئی بھی لاش کے قریب جانے کے لئییے تیار نہیں تھا ۔لاش سے کیڑے گر گر کر زمین پر آرہے تھے ۔نہ جانے کتنے دن سے لاش لٹکی ہوئی تھی اور مکئی کے اونچے اونچے ڈنڈوں میں چھپی ہونے کی وجہ سے کسی کو نظر نہیں آئی تھی ۔اور اب جب پتا چل گیا تھا تو خود رمضان خان کے اپنے گھر والے بھی بدبو کی وجہ سے لاش کے قریب نہیں آپا رہے تھے ۔اوپر سے ہوا کے جھونکے بدبو کو لا کر لوگوں کے کانوں اور منہ پر ایسے ڈالتے جیسے کہتے ہوں دیکھو اس شخص کی گندگی ،غلاظت جو پاک عورتوں کو ناپاک کہتا تھا ۔اس کے جسم سے اٹھنے والی بدبو اس کی ناپاکی کا منہ بولتا ثبوت تھی ۔اس کے جسم میں رینگنے والے کیڑے اسے نوچ نوچ کر پینو کا بدلہ لے رہے تھے ۔ہر زبان پہ تھا کہ پینو کے قرآن نے فیصلہ کردیا۔ پینو پاک تھی ،پینو کالی نہیں تھی ، پینو کو ناحق مارا گیا تھا ،اللہ کا عذاب آگیا تھا ۔لوگ پینو کی ماں کو بتا رہے تھے کہ تمہاری بد دعائیں رنگ لے آئیں ۔اس بد انسان کی بدبو اس کے بد ہونے کی گواہی دے رہی ہے ۔اس کی سزا اللہ نے دے دی ہے ۔تمہارے اللہ کے قرآن نے فیصلہ کردیا ۔پینو کو انصاف مل گیا ۔اب کوئی پینو کے نام کے ساتھ کالی نہیں لگائے گا ۔تمہاری دھی پاک تھی ۔پینو کی ماں نے آنکھیں بند کیں اس کے چہرے کے دونوں طرف آنسوؤں کی لکیر تھی اور یہ آنسو شکرانے کے تھے ،اس کی بیٹی کا فیصلہ ہوگیا تھا ۔انصاف اللہ نے کردیا ،انسان نے تو اس کی بیٹی کے قاتل کو عذت اور وقار کے ساتھ چھوڑا تھا جبکہ اس کے رب نے پینو کے قاتل کو سرعام عبرت کا نشان بنا دیا ۔اس کے ان کانوں کو جس نے پینو کی فریاد نہ سنی تھی اس کی آواز سے ہی پھاڑ دیا تھا ،وہی رمضان جو کل تک اپنے دماغ کی طاقت کے زعم میں تھا مفلوج کردیا ،وہی ہاتھ جو معصوموں کے قتل کے لئیے اٹھتے تھے آج اس کے اپنے ہاتھوں نے ہی اس سے اس کی روح کو الگ کیا تھا ۔رمضان نے ان آوازوں سے تنگ آکر خودکشی کر لی تھی ۔اس سے بڑی سزا اور کیا ہوگی ۔یہی رمضان تھا جو معصوم لڑکیوں کو کالی کرنے کے بعد ان کی نماز جنازہ پڑھانے نہیں دیتا تھا اور آج اس کے جسم سے اٹھنے والی بدبو اور جسم میں رینگنے والے کیڑوں کی وجہ سے نہ تو اس کو غسل دیا جاسکتا تھا اور نہ ہی اس کا نماز جنازہ پڑھایا جاسکتا تھا بلکہ قبرستان سے تھوڑا دور ایک گڑھا کھود کر اس کی لاش کو دبا دیا گیا ۔یہ انجام ہوا رمضان خان کا ۔سائیں،رب نواز ،منظور اور دوسرے عذت داروں کے دل بھی اپنے انجام کو دیکھ کر کانپ رہے تھے …….!!!

–**–**–
ختم شد
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

About the author

Peerzada M Mohin

Leave a Reply

This function has been disabled for Online Urdu Novels.

%d bloggers like this: