Mera Ishq Teri Anayat Novel by Faiza Ahmed – Episode 1

0
میرا عشق تیری عنایت از فائزہ احمد – قسط نمبر 1

–**–**–

“ہرمان ہرمان سر کلاس میں آ رہے ہیں ٹانگیں سیدھی کر کے بیٹھو”
عمر بھاگتے ہوئے اس کے پاس آیا۔وه جو بہت ہی ریلیکس موڈ میں ٹانگیں دوسری چئیر پر رکھے ہوئے کانوں میں ہینڈ فری لگائے میوزک سننے میں مگن تھا عمر کی مداخلت پر وہ ہڑبڑا اٹھا تھا۔
“کیا مصیبت ہے یار کونسی قیامت آگئی ہے جو تم نے مجھے اس طرح ڈسٹرب کیا”
ہرمان نے دانت پر دانت جماتے ہوئے غصے سے عمر کو دیکھا۔
“کیا؟ اب اس کو کونسا کام پڑ گیا جو ہماری کلاس میں آ رہا ہے۔”
ہرمان نے باہر جھانک کر کہا ۔۔۔۔۔۔
“ہیلو کلاس! گڈ مارننگ۔۔کیا حال ہے؟ “
سر خلیل نے خوشگوار موڈ میں کلاس سے پوچھا۔
“گڈ مارننگ سر۔ ہم ٹھیک۔آپ کیسے ہیں”
ساری کلاس نے ایک ساتھ کہا۔آواز نہیں آئی تھی تو صرف ہرمان کی جو سر کے ساتھ آئی نئی شخصیت کو گھورنے میں مصروف تھا۔۔
“کیا بات ہے ہرمان؟ تم ٹھیک تو ہو نا؟ ” سر خلیل نے ہرمان کو دیکھتے ہوئے کہا ۔۔۔
“آف کورس سر! آئی ایم ویل۔”
ہرمان نے نئی شخصیت کو دیکھتے ہوئے لاپرواہی سے کہا۔۔۔۔۔۔۔
“تو کلاس آپ سوچ رہے ہوں گے کہ میرے ساتھ آئی یہ نئی شخصیت کون ہیں۔ تو میں آپ کو بتاتا چلوں کہ یہ ہیں آپ کی نئی ٹیچر “مس پنار” ہیں۔جو آج سے آپ کو میتھ اور انگلش پڑھائیں گی۔
“سر کیا نام بتایا آپ نے؟ کونسا ہار؟” ہرمان نے مضحکہ خیز انداز میں کہا۔
“What the heck is this Harmaan? Be serious.”
سر خلیل نے ہرمان کو غصے سے کہا۔
“اوووووکے سررر “
ہرمان نے مصنوعی مصومیت سے کہا
“So Miss Punaar now you can join your class, if you have any problem, then please ask me.”
سر خلیل نے پنار سے کہا۔
“جی سر”
پنار نے فقط اتنا کہا۔
سر کے کلاس چھوڑتے ہی کلاس میں سرگوشیاں ہونے لگیں۔
“سائیلنٹ کلاس”
پنار نے اونچی آواز میں کہا۔
“اوئے ششششششش سنا نہیں مسس چندن ہار میرا مطلب مس پناررررر نے کیا کہا۔ “
ہرمان نے مصنوعی معصومیت چہرے پر سجاتے ہوئے کہا۔
عمر نے ہرمان کو کہنی ماری۔
“یار تو دو منٹ چپ نہیں رہ سکتا”
” اوئےےے ڈھکن چپ کر۔”
ہرمان نے عمر کو جھڑکا۔
پنار کو اس بدتمیز لڑکے پر بہت غصہ آ رہا تھا جو کب سے اس کا مزاق بنائے جا رہا تھا۔
“کیا نام ہے تمھارا؟ کیا تمھیں کلاس کے مینرز نہیں آتے۔ “
پنار نے اس بدتمیز لڑکے کو گھورتے ہوئے کہا۔
” جی ٹیچر آتےےےے ہیں نا”
“جی ٹیچر اس کو مینرز کے سپیلنگ بھی آتے ہیں۔کیوں ہرمان؟ ٹھیک کہہ رہا ہوں نا میں۔”
دائم ملک نے ہرمان کو غصے سے دیکھتے ہوئے کہا۔ جو ہرمان کا کلاس فیلو کم اور دشمن زیادہ تھا۔
“تجھے تو میں کلاس سے باہر دیکھتا ہوں دیمی کے بچے”
ہرمان نے دانت پیستے ہوئے کہا۔
“What the hell is this۔Be serious in my class”
پنار نے غصے سے کہا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔
“مرینہ یہ پنار ابھی تک نہیں آئی فون بھی نہیں اٹھا رہی”
عافیہ نے اپنی دیورانی کے پاس کچن میں آتے ہوئے پریشانی سے کہا۔ جو ملازمہ کے ساتھ دوپہر کے کھانے کی تیاری کروا رہی تھی۔
“ارے بھابھی آپ پریشان کیوں ہو رہی ہیں۔ آ جاتی ہے آپ کو پتہ تو ہے نا کہ آج اس کا پہلا دن تھا۔پہلے دن کتنی مصروفیت ہوتی ہے۔”
“اسلام علیکم امی جان اینڈ چچی جان”
” لو آ گئی پنار۔”
“کیا ہوا میرا ذکر ہو رہا تھا” پنار نے مرینہ کے ہاتھ سے پانی کا گلاس پکڑتے ہوئے کہا۔
” ہاں یہ عافیہ بھابھی پریشان ہو رہی تھیں۔ تم تھوڑی لیٹ ہو گئی ہو نا”
“پنار تمھارا فون کدھر ہے میں کب سے تمھیں فون کر رہی تھی۔ “
“سوری امی جان میرا فون سائیلنٹ پر تھا میں دیکھنا بھول گئی”
پنار نے کان پکڑتے ہوئے کہا۔
“کوئی بات نہیں پنار آئندہ خیال رکھنا جاو جلدی سے جا کر فریش ہو جاو میں تب تک کھانا لگاتی ہوں”
“اوکے چچی جان”
“وہ امی ژالے کالج سے آ گئی”
پنار نے جاتے ہوئے رک کر پوچھا۔
” ہاں بیٹا وہ آ گئی ہے اب تم بھی جلدی سے فریش ہو کر آ جاو”
عافیہ نے سلاد کی پلیٹ ٹییبل پر رکھتے ہوئے کہا۔۔۔۔۔،
💓💓💓💓💓💓💓
” ہیلو ایوری بڈی”
ہرمان نے صوفہ پر لیٹتے ہوئے دادی اور عذوبہ کو دیکھتے ہوئے کہا۔۔
” ہرمان بیٹا کتنی دفعہ کہا ہے کہ گھر میں داخل ہوتے ہوئے سلام لیتے ہیں۔ میری تربیت کا تم نے کبھی اثر نہیں لیا”
“ارے میری پیاری دادی جان! اچھا سوری سوری آئندہ سے ایسا نہیں ہو گا”
ہرمان نے دادی کے گال کو چومتے ہوئے کہا۔
” چلو پیچھے ہٹو سارا مجھ پر ہی گر گئے ہو تمھاری دادی میں اب پہلے جیسی طاقت کہاں بوڑھی ہو گئی ہوں اب”
“دادی بوڑھے ہوں آپ کے دشمن آپ تو ابھی بھی ینگ ہیں کیوں عذوبہ؟”
ہرمان نے اپنی چھوٹی بہن کو آنکھ مارتے ہوئے کہا۔
“جی دادی بھائی بلکل ٹھیک کہہ رہے ہیں”
عذوبہ نے بھائی کی ہاں میں ہاں ملاتے ہوئے کہا۔ ۔۔
“تو پھر بوڑھی تیری ماں ہو گی کیونکہ دشمن تو پھر وہی ہے میری”
دادی نے ناہید کو دیکھتے ہوئے کہا جو انہی کی طرف آ رہی تھی۔۔۔۔۔
“ہرمان یہ کیا طریقہ ہے لیٹنے کا سیدھے ہو کر بیٹھو”
ناہید نے ڈرائنگ روم میں داخل ہوتے ہوئے کہا۔۔۔۔
” لو آتے ہی میرے بیٹے کے پیچھے پڑ گئی یہ بھی نہیں پوچھا کہ کچھ کھایا پیا بھی کہ نہیں پہلے ہی دیکھو اتنا سا منہ نکل آیا ہے”
دادی نے منہ بناتے ہوئے کہا۔
“ہاں جی میں بھی تو یہی کہنے آئے تھی کہ کھانا لگ چکا ہے جلدی سے آ جائیں سب ٹیبل پر۔۔ امی آپ کھانا ادھر ہی کھائیں گی یا ٹیبل پر”
ناہید نے جاتے جاتے رک کر پوچھا۔
” لو میں کیوں یہاں کھانے لگی میں تو اپنے پوتے کے ساتھ بیٹھ کر کھاوں گی کبھی گھر ٹکو تو پتہ چلے نا کہ دوپہر کا کھانا میں ہرمان کے ساتھ کھاتی ہوں ہونہہہہ”
دادی نے منہ بناتے ہوئے کہا۔
“اچھا اچھا امی جی معاف کریں مجھے اور جلدی سے آ جائیں کھانا ٹھنڈا ہو رہا ہے”
“چلیں دادی جان کھانا کھاتے ہیں”
ہرمان دادی کو کندھوں سے تھامتے ہوئے ڈائنگ ٹیبل کی طرف لے گیا۔
💓💓💓💓💓💓
“ارے آپا آپ نے بتایا نہیں کہ کیسا رہا آپ کا پہلا دن”
ژالے نے بیڈ پر بیٹھتے ہوئے پوچھا۔
وہ جو کبڈ میں سے کل کیلیے کپڑے نکال رہی تھی ژالے کی بات سن کر پلٹی۔
” ارے خاک مزہ آیا اتنی بدتمیز کلاس تھی کہ پوچھو مت اور ایک لڑکا تو انتہائی بدتمیز اور بگڑا ہوا تھا اس نے تو میرے نام کا ہی ستیاناس کر دیا بدتمیز دل کیا اس کے منہ پر رکھ کر تھپڑ ماروں بسسسس کنڑول کر گئی”
پنار نے غصے سے ژالے کے پاس بیٹھتے ہوئے کہا۔
“ہاہاہا واقعی آپا۔۔۔ویسے یہ آپ کا خود کا لیا ہوا سر درد ہے”
ژالے نے بھی جوابا منہ بنا کر کہا۔
“اچھا چھوڑو اس بات کو تم بتاو رومان گھر پر ہی ہے”
“نہیں آپا وہ تو یونی سے ہی آفس چلے گئے کوئی ضروری میٹنگ تھی شاید”
ژالے نے جواب دیا۔
“چلو جلدی سے یہ بتاو کہ کل کونسا سوٹ پہنوں۔۔یہ بلیک،پنک یا یہ فروزی”
پنار نے ژالے کو تینوں سوٹ دیکھاتے ہوئے پوچھا۔
“آپا یہ فروزی والا ٹرائے کریں اچھا لگے گا”
“نہیں ژالے تمھیں پتہ تو ہے کہ یہ کلر میری گندمی رنگت پر سوٹ نہیں کرتا”
پنار نے ناک چڑھاتے ہوئے کہا۔
“ارے آپا آپ کے کمپلیکشن پر ہر کلر سوٹ کرتا ہے”
ہائمہ اس کی چچا زاد بہن نے اس کے گلے میں بانہیں ڈالتے ہوئے کہا۔
” ارے ہائمہ تم کب آئی؟ تمھاری فرینڈ کی آج برتھ ڈے تھی نا”
“ہاں آپا ابھی سیدھی آپ کے پاس ہی آئی ہوں”
ہائمہ نے بیڈ پر نیم دراز ہوتے ہوئے کہا۔
“آپا پھر آج کا دن کیسا رہا خوب انجوائے کیا نا”
ہائمہ نے اکسائیٹڈ موڈ میں پوچھا
“ارے ہائمہ کیا پوچھ لیا آپا سے آپا کا پہلے ہی موڈ خراب ہے”
“ارے ایسا کیا ہو گیا” ہائمہ نے پنار کو دیکھتے ہوئے کہا۔
“تم دونوں اپنی چونچ بند رکھو اور نکلو میرے کمرے سے مجھے آرام کرنے دو”
پنار نے دونوں کو کمرے سے نکالتے ہوئے کہا۔۔۔۔
 
آشعر لوغاری اور یاسر لوغاری دو ہی بھائی ہیں جو جوائنٹ فیملی میں رہتے ہیں دونوں بھائی کپڑے کا کاروبا کرتے ہیں اور ہائی کلاس سے تعلق رکھتے ہیں
اشعر لوغاری کی شادی اپنی خالہ زاد کزن عافیہ سے ہوئی ہے ان کے تین بچے ہیں۔۔۔
پنار ان کی بڑی بیٹی ہے جو سانولی رنگت اور تیکھے نکوش کی مالک ہے اس سے چھوٹا رومان جو پرکشش نوجوان ہے جو پڑھنے کے ساتھ ساتھ اپنے والد اور چچا کا ہاتھ بٹاتا ہے۔۔۔
اس سے چھوٹی ژالے ہے جس نے حال میں ہی کالج جوائن کیا ہے۔۔۔
اشعر سے چھوٹا یاسر لوغاری ہے جس نے اپنی کلاس فیلو مرینہ سے پسند کی شادی کی ہے۔۔۔۔
ان کی صرف دو ہی بیٹیاں ہیں رائمہ جو کہ بڑی ہے اور ہائمہ ژالے کی ہم عمر ہے دونوں نے حال ہی میں کالج جوائن کیا ہے۔۔۔
 
اسد جڈون اور احد جڈون دو بھائی اور ایک بہن ہے۔۔۔
ان کے والد کا انتقال کچھ عرصہ پہلے ہوا ہے جو ایک اچھے اور رئیس خاندان سے تعلق رکھنے والے ہیں۔۔۔
دونوں بھائی اپنا علیحدہ علیحدہ کاروبار کرتے ہیں۔۔۔
اسد جو بڑا بھائی ہے اس کے تین بچے ہیں بڑی بیٹی مرام جو شادی شدہ ہے جس کا ایک بیٹا بھی ہے۔۔مرام سے چھ سال چھوٹا ہرمان ہے جس نے اپنی حرکتوں کی وجہ سے اپنے باپ کی ناک میں دم کر رکھا ہے ان دونوں باپ بیٹے کی آپس میں کم ہی بنتی ہے۔ ہرمان سے چھوٹی عذوبہ ہے جو اپنے نام کی طرح میٹھی اور پیاری ہے۔۔۔۔
اسد جڈون سے چھوٹا احد جڈون ہے جو ایک نرم مزاج رکھنے والی شخصیت ہیں جن کے دو بچے ہیں ایک بیٹی شیزاہ جو بہت خوبصورت تیکھے مزاج کی مالک ہے اور ایک بیٹا ہے عتبہ جو گول مٹول اور گھنگرالے بالوں والا پیارا لڑکا ہے جس کی عمر پندرہ سال ہے جو ہمیشہ ہی ہرمان کی شرارتوں کا نشانہ بنتا ہے

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: