Mera Ishq Teri Anayat Novel by Faiza Ahmed – Episode 2

0
میرا عشق تیری عنایت از فائزہ احمد – قسط نمبر 2

–**–**–

یہ منظر جڈون پیلس کا تھا۔
“یہ ابھی تک ہرمان نہیں اٹھا کالج نہیں جائے گا کیا ؟ ساڑ ھے آٹھ بج رہے ہیں”
اسد جڈون نے ناشتہ کرتے ہوے ناہید سے پوچھا۔۔۔
“نہیں ابھی تک نہیں اٹھا دو بار نوری کو بیجھ چکی ہوں لیکن ابھی تک ناشتے کیلئے نہیں آیا”
ناہید نے سیڑیوں کی طرف دیکھتے ہوئے کہا ۔۔۔۔۔
“ارے کیا ہوگیا ہے ساری رات پڑتا رہتا ہے میرا بچہ بیچارہ دو گھڑی آرام سے سو لینے دیا کرو اسے”
دادی نے اسد کو ہوئے کہا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
“اماں آپ کا بیٹا اج تک پاسنگ مارکس تو نہیں لے سکا بس ساری رات اپنے نکمے دوستوں کے ساتھ فون میں لگا رہتا ہے”
اسد صاحب نے ٹیشو پیپر سے ہاتھ منہ پونچھتے ہوئے کہا۔۔۔۔۔۔
“ارے میاں! تو یہی عمر ہے اس کے کهیلنے کودنے کی” ہونہہہہہ دادی نے منہ بناتے ہوے کہا۔۔۔۔۔
“ڈیڈ چلیں مجھے دیر ہو رہی ہے” عذوبہ نے ڈائنگ ٹیبل سے اٹھتے ہوے کہا۔۔۔۔
“چلیں بیٹا۔۔ اچھا اماں خدا حافظ”
اسد جڈون اماں سے پیار لیتے ہوئے چلے گئے۔۔۔۔۔۔۔۔
“میں ذرا ہرمان کو دیکھ لوں”
ناہید نے ٹیبل سے اٹھتے ہوئے کہا۔۔۔۔۔
“ہوں جاؤ ذرا پیار سے اٹھانا”
دادی نے مصروف سے انداز میں کہا۔۔۔۔،
“ہرمان اٹھ جاؤ بیٹا کالج نہیں جانا کیا؟
ناہید نے ہرمان کے کمرے میں آتے ہوئے کہا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
“افففف کیا کروں میں ہرمان تمہارا۔۔۔یہ کیا حالت بنا رکھی ہےتم نے کمرے کی؟” ناہید نے کمرے کی حالت دیکھ کر سر تھام لیا۔۔۔۔۔۔
ہرمان بیڈ پر بنا شرٹ کے تکیے میں منہ دئیے خواب خرگوش کے مزے لے رہا تھا۔۔۔۔
“اٹھو ہرمان ٹائم دیکھو ذرا کالج سے لیٹ ہو رہے ہو”
ناہید نے ہرمان کو سیدھا کرتے ہوئے کہا۔۔۔
“اففففف موم کیا مصیبت ہے اس گھر میں تو انسان دو گھڑی سکون سے سو بھی نہیں سکتا”
ہرمان نے پھر سے منہ تکیے میں دیتے ہوئے۔۔۔
“تم اٹھ رہے ہو یا تمہارے ڈیڈ کو فون کروں”
ناہید نے پھر اس کے منہ سے تکیہ کھنچا۔۔۔
“موم یہ اپنے شوہر کے ڈراوے مجھے مت دیا کریں میں آپ کے شوہر سے نہیں ڈرتا”
ہرمان نے منہ بناتے ہوئے کہا۔
“جلدی سے اٹھ جاو اب اور یہ کمرے کی حالت دیکھو کیا بنا رکھی ہے اپنی عمر دیکھو اور اپنی حرکتیں دیکھو اٹھو جلدی سے اب”
ناہید نے کمرے سے جاتے ہوئے کہا۔
“گڈ مارننگ دادی جان”
ہرمان نے جوس کا گلاس اٹھاتے ہوئے کہا۔۔۔
“ہرمان پھرررر سے”
دادی نے ہرمان کو گھورا۔
“اووو سوری سوری مائے ینگ لیڈی۔اسلام علیکم”
ہرمان نے دادی کا گال چومتے ہوئے کہا۔
“وعلیکم اسلام اور یہ کیا طریقہ ہے کھانا کھانے کا آرام سے بیٹھ کر کھاو”
دادی نے اس کی کمر پر جھانپڑ مارتے ہوئے کہا۔
“اففف دادی یار مار دیا اتنی زور سے کوئی مارتا ہے کیا؟ “
“اوکے اوکے اب میں چلتا ہوں پہلے ہی لیٹ ہو گیا ہوں بائے بائے موم اینڈ دادی جان”
ہرمان نے بریڈ کا سلائس پکڑتے ہوئے کہا۔
“ہائے میرا بچہ بنا ناشتے کے ہی چلا پہلے ہی اتنا سا منہ نکل آیا ہے ناہید تمھیں بلکل بھی پروا نہیں بچے کی”
دادی نے ناہید کو سناتے ہوئے کہا۔ناہید نے جوابا یہاں سے چلے جانا ہی بہتر سمجھا۔
💓💓💓💓💓💓
“امی یہ پنار چلی گئی کالج”
رمان نے ناشتہ کرتے ہوئے پوچھا۔
” ہاں وہ اور ژالے تمھارے ابو کے ساتھ چلی گئی ہیں”
“اوکے پھر میں بھی چلتا ہوں مجھے بھی دیر یو رہی ہے”
رومان نے ڈائنگ ٹیبل سے اٹھتے ہوئے کہا۔
“ارے بیٹا رکو ذرا وہ ہائمہ کو ساتھ لیتے جانا اسے آج دیر ہو گئی ہے”
“اففف امی۔۔۔اچھا چلیں جلدی سے بھیجھ دیں اسے میں گاڑی میں ویٹ کر رہا ہوں”
“ہاں تم جاو میں ابھی بھجتی ہوں”
رومان باہر چلا گیا
“ارے ہائمہ جلدی سے جاو بھائی گاڑی میں ویٹ کر رہا ہے “
“اوکے اوکے اللہ حافظ”
ہائمہ نے بھاگتے بھاگتے ہوئے کہا۔
“ہائمہ جلدی کرو دیر یو رہی ہے۔اور آج لیٹ کیوں ہو گئی ہو”
رومان نے گاڑی کا دروازہ کھولتے ہوئے کہا۔
“وہ بھائی رات کو سر میں درد تھا اس لیے لیٹ سوئی تھی اور آنکھ دیر سے کھلی”
ہائمہ نے گاڑی میں بیٹھتے ہوئے کہا۔
“تو فون کم یوز کیا کرو ٹڈی اور جلدی سو جایا کرو”
رومان نے گاڑی سڑک پر ڈالتے ہوئے کہا۔
“بھائی آپ پھر شروع ہو گئے کتنی دفعہ کہا ہے کہ ٹڈی نا بولا کریں مجھے آپ ہی زرافے کی طرح لمبے ہو گئے ہیں میں کوئی ٹڈی نہیں ہوں”
ہائمہ نے منہ بسورتے ہوئے کہا۔
“اچھا اچھا میری ٹڈی منہ مت بناو صبح صبح ہی منہ پر بارہ بجا لیے”
ہرمان نے اس کے سر پر ہلکی سی چپت لگاتے ہوئے کہا۔۔۔۔
“لو آ گیا تمہارا کالج”
رومان نے گاڑ ی کالج کے دروازے پر روکتے ہوے کہا۔۔۔۔
“اچھا اللّه حافظ بھائی”
!ہائمہ نے گاڑ ی سے اترتے ہوے کہا ۔۔۔۔۔۔۔
“اللّه حافظ”
رومان نے گاڑ ی کا روح موڑ تے ہوئے کہا ۔۔۔۔۔۔۔
💓💓💓💓💓💓💓💓💓
ہرمان کی بائیک سیدھی کالج کے اندر جا کر رکی اس نے بائیک پارک کی اور سٹی بجاتے ہوئے انگلی پر کی گھماتے ہوئے ریلیکس موڈ میں کلاس کی طرف بڑھنے لگا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
“گڈ مارننگ ٹیچر”
ہرمان نے کلاس میں اینٹر ہوتے ہوئے کہا ۔۔۔۔۔
پنار جو کلاس کو لیکچر دینے میں مصروف تھی ہرمان کی آواز پر اس کی طرف متوجہ ہوئی جو بلا جھجھک اپنی سیٹ کی طرف بڑھا۔۔
“یہ کیا بدتمیزی ہے ایک تو تم پہلے ہی اتنے لیٹ آئے ہو اور اوپر سے تمھیں کلاس میں اینٹر ہونے کے مینرز بھی نہیں آتے”
پنار نے اس کی طرف دیکھتے ہوئے غصے سے کہا۔ساری کلاس میں ایک دم خاموشی چھا گئی۔ساری کلاس ہرمان اور پنار کی طرف متوجہ ہوئی۔۔۔
“سوری پر اب تو میں اندر آ چکا ہوں اب تو کچھ نہیں ہو سکتا”
ہرمان نے لاپرواہی سے کندھے اچکاتے ہوئے کہا۔
“اب یہ ہو سکتا ہے کہ تم کلاس سے باہر جاو اور اجازت لے کر آو تاکہ آئندہ تمھیں یاد رہے کہ کلاس میں اجازت لے کر آتے ہیں”
پنار کو اس بدتمیز لڑکے پر کل کا ہی بہت غصہ تھا اور آج اس کی اجازت نا لینے والی حرکت پر تلملا اٹھی۔۔
“سوری لیکن میں تو اب نہیں جا رہا باہر”
ہرمان نے اپنے دوستوں کو دیکھتے ہوئے کہا جو اسے باہر جانے کا اشارہ کر رہے تھے۔
“بہت بدتمیز ہو تم اس دفعہ تو بیٹھ جاو لیکن اگلی دفعہ اس طرح ہوا نا تو ہھر میں نہیں پرنسپل ہی تم سے پوچھیں گے۔ہرمان نے جوابا مسکراتے ہوئے سر کو خم دیا اور اپنی سیٹ پر بیٹھ گیا۔وہ جو اس سے سوری کی توقع کر رہی تھی اس کی مسکراہٹ پر تلملا اٹھی۔۔
“اففف میں بھی کس ڈیٹھ انسان سے توقع کر رہی تھی”
پنار بڑبڑاتے ہوئے دوبارہ کلاس کی طرف متوجہ ہوئی۔
“ہرمان تو آج پھر لیٹ آیا یار کبھی تو ٹائم سے آ جایا کر یہ نئی مس بہت غصے والی ہے”
حارث نے اس کے کان میں سرگوشی کرتے ہوئے کہا۔جوابا ہرمان نے اس کو تگڑی گھوری دی
“اپنی اس مس پنار عرف چندن ہار کا ڈراوا مجھے نہیں اس دائم کے بچے کو دو جو بڑے دانت نکال رہا تھا”
ہرمان نے دائم کو گھورا جوابا دائم نے بھی ہرمان کو گھورا۔
“تجھے تو بعد میں دیکھتا ہوں میں چمچے”
“تو کلاس جو میں نے آج لیکچر دیا ہے کل مجھے اس کی اسائنمنٹ بھی چاہیے”
پنار نے اپنا بیگ کندھے پر رکھتے ہوئے کہا۔
“مس پنار ایک منٹ جیسا کہ آپ جانتی ہیں کہ میں لیٹ آیا ہوں اور لیٹ آنے کی وجہ سے لیکچر نہیں لے سکا اور لیکچر نہیں لے سکا تو اس کا مطلب کہ کل میں اسائنمنٹ نہیں دے سکتا۔ “
پنار جو کلاس سے باہر جا رہی تھی ہرمان کی بات پر اس کی طرف مڑی۔
” یہ میرا مسلہ نہیں ہے کلاس میں سے کسی سے بھی پوچھ لینا لیکن مجھے کل ساری کلاس کی اسائمنٹ چاہیے”
پنار نے تیوری چڑھاتے ہوئے کہا۔
“لیکچر لے بھی لیتے تو کونسا تم نے بنا لینی تھی”
دائم نے مسکراتے ہوئے ہرمان پر طنز کیا۔
“تم اپنا منہ بند ہی رکھو دیمی کے بچے”
ہرمان نے غصے سے دائم کو گھورا۔
“شیم آن بوتھ آف یو میں ابھی کلاس میں ہی کھڑی ہوں اور تم دونوں جاہلوں کی طرح لڑ رہے ہو۔”
پنار نے دونوں کو جھڑکا۔اور کلاس سے باہر چلی گئی۔
“کیوں ديمی کے بچے تیرے بہت دانت نکل رہے تھے”
ہرما ن نے اپنی جگہ سے کھڑے ہوتے ہوئے کہا۔۔۔۔۔۔۔۔
“ہاہاہا تیری بےعزتی پر میرے دانت نہیں نکلیں گے تو پھر عمر اور حارث کے نکلیں گے”
جوابا دائم نے بھی اپنی جگہ سے کھڑے ہوتے ہوئے کہا ۔۔۔۔۔۔۔۔
“تیری تووووو”
ہرمان جو دائم کی طرف بڑھا تھا کہ حارث اور عمر نے پکڑا ۔
“ہرمان یار چل باہر چلیں خوامخواہ میں ہی بات بڑھ جائے گی”
عمر نے ہرمان کو باہر لے جاتے ہوئے کہا۔
“نہیں چھوڑو ذرا اس دائم کی تو ساری ہوا نکالتا ہوں میں”
“ارے چھوڑ یار جانے دے چل کنٹین پر تجھے جوس پلاتا ہوں تھوڑا ٹھنڈا ہو جا”
عمر نے اس کو کنٹین کی طرف لے جاتے ہوئے کہا۔

وہ تینوں کنٹین کی طرف چلے گئے۔

“رائمہ تم بھی کوئی کام کر لیا کرو رات کو گھر میں مہمان آنے والے ہیں” ۔۔۔
مرینہ بیگم نے رائمہ کو دیکھتے ہوئے کہا جو صوفہ پر لیٹی موبائل یوز کرنے میں مصروف تھی۔۔
“اففف امی کیا مصیبت ہے جس کے مہمان آ رہے ہیں اسی سے کہیں کے کام کرے”
رائمہ نے ناک چڑھاتے ہوئے کہا۔۔۔
“تمھیں پتہ تو ہے وہ کالج گئی ہے اور آنے جانے میں کتنی تھکاوٹ ہو جاتی ہے اور بچی آتے ہی کچن میں کام کرنے لگ جائے”
“اففف بچی بچی۔۔بچی نہیں ہے وہ پورے تئیس کی ہو چکی ہے میڈم۔میں کمرے میں جا رہی ہوں جب مہمان آئیں گے تو مجھے بلا لیجیے گا “
رائمہ نے اپنے کمرے کی طرف جاتے ہوئے کہا۔۔۔
“توبہ ہے اس لڑکی کی حرکتیں دیکھو اگلے گھر جا کر تو ناک ہی کٹوائے گی ہماری”
مرینہ بیگم نے دوبارہ کچن کے کاموں میں مصروف ہوتے ہوئے کہا۔
💖💖💖💖💖
“ہرمان تمھیں پرنسپل اپنے آفس میں بلا رہے ہیں”
ہرمان کے سینئیر نے ہرمان کی طرف آتے ہوئے کہا۔۔۔
“لو جی آ گئی مصیبت ۔اب کیا کر دیا میں نے لگتا ہے پرنسپل کا دل اداس ہو جاتا ہے میرے بغیر جو ہر دو گھنٹے بعد دیدار کیلیے بلا لیتا ہے”
ہرمان نے جھنجھلاتے ہوئے کہا ۔۔۔۔۔۔
“ہاہاہا تمہارے ڈیڈ کے دوست ہیں کچھ تو انکی عزت کیا کر”
عمر نے حارث کے ہاتھ پر ہاتھ مارتے ہوے کہا۔۔۔۔
“زیادہ بکواس نا کر تم دونوں پارکنگ میں جاؤ میں آتا ہوں”
ہرمان نے پرنیسپل کے آفس کی طرف جاتے ہوئے کہا ۔۔۔۔
“سر میں اندر آ جاؤں”
ہرمان نے اندر آتے ہوے کہا۔۔۔۔۔
“برخودار تم اندر آچکے ہو”
سر خلیل نے ہرمان پر ہلکا پھلکا طنز کرتے ہوے کہا ۔۔۔۔۔
پنار نے سر کی بات پر ہرمان کی طرف دیکھا جو اسے دیکھ کر تھوڑا چکنا ہو گیا ۔۔۔۔
“بیٹھو ادھر”
سر خلیل نے کرسی کی طرف اشارہ کیا۔۔۔۔
“جی انکل”
ہرمان نے کرسی پر بیٹھتے ہوئے کہا۔
“انکل” سر خلیل نے بھنویں اچکاتے ہوئے استفسار کیا۔
“سوری سرر”
“سر آپ نے بلایا کوئی خاص کام تھا آپ کو مجھ سے”
ہرمان نے پنار کی طرف دیکھتے ہوئے کہا جو اس کے دیکھنے پر منہ دوسری طرف موڑ گئی۔۔۔
“تمھاری شکایتیں دن بدن بڑھتی جا رہی ہیں کیوں مس پنار”
“پر اب تو میں نے ایسا کوئی کام نہیں کیا جس پر مسسس پنار نے میری شکایت کی ہے آپ سے “
ہرمان نے پنار کی طرف دیکھتے ہوئے معصومیت سے کہا۔
“ایک تو تم میری کلاس میں دیر سے آتے ہو اور اوپر سے بغیر اجازت کے کلاس روم میں آتے ہو اور اوپر سے ایٹیٹیوڈ دیکھاتے ہو اور سر اسے بتائیں کہ میرا نام پنار ہے چندن ہار یا منار نہیں”
پنار نے اس کی شکایتوں کے انبار لگائے۔
ہرمان کبھی سر اور کبھی پنار کو دیکھ رہا تھا جیسے یہ باتیں اس کے بارے میں نہیں کسی اور کے بارے میں ہو رہی ہوں۔
“ہرمان جو مس پنار کہہ رہی ہیں کیا وہ سچ ہے لگتا ہے اب کی بار اسد کو بتانا پڑے گا”
“نہیں نہیں سر آئندہ ایسا نہیں ہو گا میں آگے سے مس منار میرا مطلب مس پنار کو شکایت کا کوئی موقع نہیں دوں گا۔ “
ہرمان نے پنار کی طرف مسکراتے ہوئے دیکھا جو اس کے پھر سے منار کہنے پر ہاتھوں میں سر گرائے بیٹھی تھی۔۔۔
“اس بدتمیز انسان کا کچھ نہیں ہو سکتا”
پنار نے دل ہی دل میں کہا۔
“سر اب میں جاوں ناااا”
ہرمان نے چہرے پر معصومیت سجاتے ہوئے پوچھا۔
” ہاں جاو جاو۔۔۔یہاں بیٹھ کر تم نے کونسا تیر مار لینا ہے”
سر خلیل نے جوابا کہا۔سر کے کہنے پر وہ پنارپر ایک سرسری نظر ڈالتے ہوئے آفس سے باہر چلا گیا۔
“اوکے مس پنار تو آپ کو تھوڑا صبر و تحمل کا مظاہرہ کرتے ہوئے اس کو ہینڈل کرنا ہو گا یقین کریں اس کے گھر والے بھی اس سے اتنے ہی تنگ ہیں جتنا کہ ہم۔ اور ہم اس کو نکال بھی نہیں سکتے کیونکہ اس کے ڈیڈ اور میں دوست ہونے کے ساتھ ساتھ اس کالج کے پارٹنر بھی ہیں سوو آپ اس کو نرمی اور توجہ سے ہینڈل کریں کیا پتہ وہ پھر ہی آپ کی بات مان لے”
سر نے پنار کو سمجھاتے ہوئے کہا
“اوکے سر میں چلتی ہوں مجھے لیٹ ہو رہا ہے اللہ حافظ۔ “
پنار نے اپنا بیگ کندھے پر رکھتے ہوئے کہا۔
” جی جی اللہ حافظ “
پنار آفس سے باہر چلی گئی۔
💖💖💖💖💖
” یار کدھر رہ گیا تھا تو اتنی دیر لگا دی کب سے ویٹ کر رہے تھے ہم “
عمر نے اس سے پوچھتے ہوئے کہا جو ان دونوں کے پاس آ رکا تھا۔
“افففف یار کیا بتاوں تمھاری مسس پنار سر کے آفس میں میری شکاتیوں کا کھاتا کھول کر بیٹھی تھی”
“اوو یار زیادہ بے عزتی تو نہیں ہو گئی پھرررر”
حارث نے عمر کے ہاتھ پر تالی مارتے ہوئے کہا۔
“ہونہہہ میری بے عزتی کرنے والا ابھی تک پیدا نہیں ہوا اور تم دونوں اپنا ڈھکن جیسا منہ بند ہی رکھو اور چلو”
ہرمان نے بائیک پر بیٹھتے ہوئے کہا۔
“اور جو اپنے ڈیڈ سے دن رات بے عزتی کرواتا رہتا ہے اس کا کیا ہاں؟ “
عمر نے اپنی بائیک سٹارٹ کرتے ہوئے کہا ۔
“وہ میرے ڈیڈ ہیں انھیں مارجن دینا بنتا ہے اور کوئی کر کے تو دیکھے میں اس کے دانت نا توڑ دوں”
“اچھا اچھا چلیں دیر ہو رہی ہے”
حارث نے بات کو سمیٹتے ہوئے کہا وہ تینوں اپنی اپنی بائیک پر بیٹھ کر گھر کی طرف روانہ ہو گئے۔
💖💖💖💖
“مرینہ اور عافیہ لاونج میں بیٹھی آج کے مینیو کے بارے میں ڈسکس کر رہی تھیں اور ژالے گود میں فروٹ کی پلیٹ رکھے ہوئے تھی فروٹ کھانے کے ساتھ ساتھ ان کی باتیں سن رہی تھی اور ہائمہ ژالے کے کندھے پر سر رکھے موبائل یوز کرنے میں مگن تھی۔۔۔
“اسلام علیکم”
پنار نے سب کو سلام کیا۔سب نے اپنی باتیں ترک کر کے پنار کی طرف دیکھا جو صوفہ پر ریلیکس موڈ میں نیم دراز ہو گئی۔
” رانی آپا کیلیے پانی لے کر آو”
ژالے نے ادھر سے ہی آواز لگائی ۔
“آ رہی ہوں باجی”
رانی نے پانی کا گلاس لے کر آتے ہوئے کہا۔ پنار نے رانی کے ہاتھ سے پانی کا گلاس پکڑا اور ایک ہی سانس میں پی گئی۔
“بیٹا آرام سے پانی پیتے ہیں تم ایک ہی سانس میں سارا پی گئی”
عافیہ بیگم نے پنار کو ٹوکتے ہوئے کہا۔
“اففف امی بہت پیاس لگی ہوئی تھی”
پنار نے گلاس میز پر رکھتے ہوئے کہا۔
“میں نے تو پہلے ہی کہا تھا کہ آج چھٹی کر لو لیکن تم کسی کی سنو تب نا”
“امی ابھی میری جاب کا دوسرا دن تھا اور دوسرے دن ہی چھٹی کر لیتی
میں تھوڑی دیر آرام کر لوں پھر میں آپ دونوں کی کچن میں ہیلپ کرواتی ہوں”
پنار نے صوفے سے اٹھتے ہوئے کہا۔
“نہیں تم جاو اور آرام کرو کچن میں اور بھابھی دیکھ لیں گی اور تھوڑی بہت ہیلپ ژالے اور مرینہ کروا دیں گی”
مرینہ نے بھی گفتگو میں حصہ لیا۔
“میں پہلے ہی بتا رہی ہوں میں صرف سلاد بناوں گی۔۔۔۔اور میں صرف رائتہ”
ژالے اور ہائمہ نے جھٹ پٹ کہا۔
“ایسا کرو تم دونوں کچھ بھی مت کرو موبائل پکڑو اور سہیلیوں سے باتیں کرو اس کے علاوہ تم دونوں کچھ نہیں کر سکتیں”
عافیہ نے دونوں کو جھڑکا۔
“چلیں بھابھی کچن میں چلتے ہیں ان دونوں سے تو کوئی امید نہیں کی جا سکتی “
مرینہ اور عافیہ کچن میں چلی گئیں۔
اور وہ نکمیاں ان کے جاتے ہی موبائل پکڑ کر بیٹھ گئیں.
💖💖💖💖💖💖
“گڈ آفٹرنون مائے ینگ لیڈی ہرما ن نے دور سے ہی دادی کو دیکھتے ہوئے نعرہ لگایا ۔۔۔۔
“دادی جو عتبہ سے باتوں میں مگن تھی ہرمان کی انچی آواز پر ڈر گیی ۔۔۔۔
“وے ہرمان تو نے کسی دن اسی طرح سے میری جان نکل دینی ہے دادی نے ہرمان کو دیکھتے ہوے کہا جو اب عتبہ کو تنگ کر رہا تھا ۔۔۔۔۔
“ارے دادی مرے آپ کے دشمن آپ تو ہزاروں سال جیں گیی ہرمان نے دادی کو ہگ کرتے ہوے کہا ۔۔۔۔۔۔
“ارے پیچھے ہٹ تو نہیں سدھرنے والا دادی نے اس کے کندھے پر چپٹ مارتے ہوے کہا ۔۔۔۔۔۔۔۔
“ارے موٹے تم کہاں جا رہے ہو ہرمان نے عتبہ کو دیکھا جو اپنی جگہ سے کھڑا ہو گیا تھا ۔۔۔،
“مجھے ایک کام یاد اگیا ہے دادی میں چلتا ہوں عتبہ نے ہرمان کو گھورتے ہوے کہا جو عتبہ کو دیکھ کر مسکرا رہا تھا ۔۔۔۔۔
“ارے میرے پیارے راج دلارے تم کہاں جا رہے ہو بیٹھو یہاں پر ہرمان نے اسے دوبارہ صوفہ پر زبردستی بٹھایا ۔۔۔۔
“میں نہیں بیٹھ رہا آپ نے پہلے ہی میرے گال کھینچ کھینچ کر بڑے کر دئیے ہیں عتبہ نے اپنے دونوں گال پر ہاتھ رکھتے ہوے کہا اور باہر کی۔ طرف دوڑ لگا دی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
“ہر مان باز آجاؤ اپنی حرکتوں سے کیوں بچے کو اتنا تنگ کرتے ہو ہاں دادی نے ہرمان کو گھورتے ہوے کہا جو مسکرا کر دادی کی گود میں سر رکھ گیا تھا ۔۔۔۔۔۔۔
“دادی موم اور عزوبہ کہاں ہیں نظر نہیں آرہی اس نے آنکھیں بند کرتے ہوے پوچھا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ارے تمہاری ماں کبھی گھر ٹکی ہے جو تمہیں نظر آے گی ہوں نکلی ہوئی ہے اپنے میکے اور ساتھ بچی کو بھی لے گیی مجھ بڑھیا کی تو اس گھر میں کسی کو فکر ہی نہیں دادی نے ہمیشہ کی طرح اپنا دکھڑا رویا ۔۔
“ہرمان دادی کی بات پر مسکرایا ۔۔۔۔
اف دادی تو آپ پوری ڈرامہ کوئین ہیں آپ کو تو ڈرامو ں میں کام کرنا چاہئیے تھا ۔۔۔
“ہرمان نے اپنی بات پوری ہونے سے پہلے ہی اپنے کمرے کی طرف دوڑ لگا دی کیونکہ وہ جانتا تھا کہ اب اس کی خیر نہیں ۔۔۔۔۔۔۔
💖💖💖💖💖💖💖
“بیٹا آپ ابھی تک تیار نہیں ہوئی پنار جو پہنے کے لیئے کپڑے دیکھ رہی تھی افیہ بیگم کی بات پر انکی طرف متوجہ ہوئی ۔۔۔۔۔،
“امی آرہی ہوں میں بس پانچ منٹ دیں مجھے پنار نے واشروم کی میں جاتے ہوے کہا ۔۔،۔۔
ہاں آجاؤ جلدی سے وہ اس سے کہتے ہوے نیچے چلی گئی ۔۔۔۔۔۔۔۔
💖💖💖💖💖💖💖
“پنار نہیں آئی ابھی تک ظفر صاحب(پنارکے ہونے والے سسر) نے چا ئے پیتے ہوے عافیہ بیگم سے پوچھا ۔۔۔۔
آرہی ہے وہ بھائی صاحب، لو آگئ میسسز ظفر نے پنار کو دیکھتے ہوے کہا ۔۔۔۔
السلام عليكم ،پنار نے سب کو سلام کیا ۔۔
“ارے اؤ بیٹا یہاں پر بیٹھو آسیہ نے اپنے پاس جگہ بناتے ہوے کہا ۔۔۔۔
کیسی ہو آپ بیٹا، ظفر صاحب نے پنار کے سر پر ہاتھ رکھتے ہوے کہا ۔۔۔۔
“میں ٹھیک ہوں انکل آپ اور انٹی ٹھیک ہیں، پنار نے مسکراتے ہوے انکا حال پوچھا ۔۔۔۔۔۔
ارے بیٹا بس آپ کی دعائیں ہیں ۔۔۔
“چلیں کھانا ریڈی ہے باتیں وغیرہ تو ہوتی راہیں گیی ۔۔۔
مرینہ بیگم نے سب کو کھانے کی میز پر بولا یا ۔۔۔۔
چلیں آے کھانا کھاتے ہیں عشر صاحب نے اٹھتے ہوے کہا
💖💖💖💖💖💖
“ویسے آپا انٹی کہہ رہی تھی کہ تین چار ماہ میں رمیز بھائی بھی آجائے گیے تو پھر شادی کی تیاریاں شروع کریں گیے ژالے نے پنار کو چھیڑ تے ہوے کہا ۔۔۔۔۔
“ہائمہ اور ژالے نے پنار کے کمرے میں ڈیڑہ لگایا ہوا تھا اور اس کو رمیز کا نام لے کر چھڑ رہی تھیں ۔۔۔۔
” چلو اٹھو تم دونوں یہاں سے اور نکلو میرے کمر ے سے سر میں درد کر رکھا ہے تم دونوں نے پنار نے دونوں کو باہر کا راستہ دیکھایا۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔
افففف آپا اب انسان میں اتنی بھی بےمروتی نہیں ہونی چاہئے کہ بندہ سیدھا باہر کا راستہ ہی دیکھا دے کیوں ژالے ؟۔۔۔۔۔۔۔
“ہائمہ نے ژالے کو دیکھتے ہوے کہا ۔۔۔۔۔
بلکل آپا آپ کی ابھی شادی بھی نہیں ہوئی تو یہ حال ہے اگر ہو گیی تو آپ تو ہمیں منہ بھی نہیں لگائیں گیی ۔جوابًا ژالے نے کہا ۔۔۔۔۔
“تم دونوں اٹھ رہی ہو یا میں ابو کو بلا ؤں پنار نے دونوں کو گھورتے ہوے کہا جن کی نوٹنکیاں ختم ہونے کو نہیں آرہی تھی ۔۔۔۔۔۔۔
اف آپا کیا ہوگیا ہے آپ کو جا تو رہی ہیں، کیا اب بچیوں کی جان نکالے گیی آپ ۔۔۔
زالے اور ہائمہ نے کہتے ہوے باہر کی طرف دوڑ لگا دی ۔۔۔۔۔۔۔
اف سر درد کر دیتی ہیں یہ دونوں لڑکیاں پنار نے سر کو دونوں ہاتھوں سے تھامتے ہوے کہا ۔۔۔۔۔۔۔
💖💖💖💖💖💖💖
“ہرمان تم نے سائمنٹ بنا لی یا نہیں حارث نے اس سے پوچھا ۔۔۔۔۔۔۔
وہ دونوں اس وقت ہرمان کے کمرے میں موجود تھے ۔ اور تینوں نیچے لیتے ہارر مووی دیکھ رہے تھے جب حارث نے ہرمان سے پوچھا۔ ۔۔۔۔۔
کیوں تم نے بنالی جواباً ہرمان نے پوچھا۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔
نہیں یار جا کر بناؤں گا حارث نے جمائی لیتے ہوے کہا ۔۔۔۔۔۔
جب خود بنائی نہیں تو میری کیوں اگ لگ رہی ہے تمہیں ہاں ہرمان نے اسکی گردن پکڑ تے ہوے کہا ۔۔۔۔۔۔۔۔
ارے معاف کر دے میرے باپ جو تم سے میں نے سائمنٹ کے بارے میں پوچھا اب چھوڑ دے میری گردن ۔۔۔۔۔۔۔
“آئندہ میں جب مووی دیکھنے میں مگن ہوں تو مجھ سے پڑ ھائی کے بارے میں کوئی بات نہ کرنا ورنہ دانت توڑ دوں گا تمہارے ۔۔۔۔۔۔۔
ارے چھوڑو بھی یار ہر جگہ لڑنے بیٹھ جاتے ہو اور ویسے بھی اٹھ جا حارث لیٹ ہو رہا ہے اب ورنہ گھر والے ہم دونوں کو اندر نہیں گھوسنے دے گیے۔۔
“حار ث اور عمر چچازاد تھے اور جوئنٹ فیملی میں رہتے تھے ۔۔۔۔۔

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: