Mera Ishq Teri Anayat Novel by Faiza Ahmed – Episode 5

0
میرا عشق تیری عنایت از فائزہ احمد – قسط نمبر 5

–**–**–

“ناشتہ ٹھیک سے کرو بیٹا،کونسا دیر ھو رہی ہے تمہیں جو جلدی جلدی میں ناشتہ بھی ٹھیک سے نہیں کر رہے “
عافیہ نے رومان کو ٹوکتے ہوے کہا جو ناشتے کے نام پر صرف چاے پی رہا تھا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
“امی دیر ہو رہی ہے کینٹین سے کچھ کھا لوں گا”
رومان نے چائے کا کپ رکھتے ہوئے کہا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
“رومان تم ابھی تک گھر پر ہو” ۔۔۔۔۔۔۔پنار نے ڈرائنگ روم آتے ہوئے کہا۔
“ہاں آپا آج تھوڑا دیر سے کالج جانا تھا اس لئے تھوڑی دیر ہوگئی۔اور آپ بھی آج ابھی تک گھر ہیں کالج نہیں جانا کیا؟ ” ۔۔۔۔۔۔
رومان نے گاڑی کی کیز اٹھاتے ہوے پنار سے پوچھا۔ ۔۔۔۔۔
“طبیعت نہیں ٹھیک اس کی صبح سے کہہ رہی ہوں مت جاؤ لیکن میری تو سنتی ہی نہیں ہے یہ لڑکی،اب تم ہی اس کو سمجھاو”۔۔۔
ناہید نے رومان سے پنار کی شکایت کی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
“آپا کیا ہوا ہے آپ کو؟ اور آپ نے مجھے کیوں نہیں بتایا؟ چلیں ڈاکٹر کے پاس چلتے ہیں” ۔۔۔۔۔۔۔۔۔
“ارے کچھ نہیں ہوا مجھے بس تھوڑا سا بخار اور اس کی میں نے دوا لے لی امی تو خوامخواہ میں ہی پریشان ہو جاتی ہیں تھوڑی دیر میں ٹھیک ہو جاؤں گی “۔۔۔۔۔۔۔۔
پنار نے ناہید بیگم کے کندھے پر ہاتھ رکھتے ہوئے کہا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
“دیکھا یہی حرکتیں ہیں اس کی”
ناہید نے حفگی سے پنار کو دیکھا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
“اففففف امی میں ٹھیک ہوں بس ہلکا سا فلو ہے آج جانے دیں اگر زیادہ طبعیت خراب ہوئی تو کل نہیں جاوں گی۔ابھی اسٹارٹ کے دن ہیں چھٹی نہیں کر سکتی” ۔۔۔۔۔
پنار نے بیچارگی سے کہا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
“اچھا چلیں ٹھیک ہے چلی جائیں لیکن طبعیت زیادہ خراب ہوئی تو مجھے کال کر لیجئیے گا” ۔۔۔۔۔
رومان نے اسے کندھوں سے تھامتے ہوے کہا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
“اوکے بابا اب چلیں مجھے پہلے ہی بہت دیر ہو چکی ہے”
پنار نے باہر کی طرف جاتے ہوئے کہا ۔۔۔۔۔۔۔۔
🍁🍁🍁🍁🍁🍁
“یار آج لگتا ہے مس پنار نہیں آئیں گئی”۔
عمر نے ہرمان سے کہا جس کے چہرے پر بوریت والے تاثرات سجے ہوۓ تھے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
“ہوں مجھ بھی یہی لگ رہا ہے کہ آج مس نہیں آئیں گی”۔
جواب ہرمان کی بجائے حارث نے دیا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
“کیا ہوا تیرا کیوں موڈ آف آج ہاں؟ ۔۔۔۔۔۔
عمر نے ہرمان سے پوچھا ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔جو نوٹ پر آڑی ترچھی لکیریں کھینچ رہا تھا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
“میرا موڈ کیوں آف ہوگا”
ہرمان نے دائم کو دیکھتے ہوئے کہا جو ہرمان کو غصے سے گھور رہا تھا ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ہرمان اسے دیکھ کر مسکرایا اور اسے زبان نکال کر چڑایا ۔ ” السلام علیکم! اینڈ گڈ مارننگ کلاس”
پنار نے کلاس میں داخل ہوتے ہوئے کہا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
“۔وعلیکم السلام ،اینڈ گڈ مارننگ ٹو مس پنار “
ساری کلاس نے ایک آواز میں کہا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔پنار نے اپنا بیگ میز پر رکھا اور چیئر پر بیٹھی ،۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
“مس پنار۔۔Can I ask a question”
،ہرمان نے ہاتھ اٹھاتے ہوئے کہا۔۔۔۔.
“جی پوچھیں۔۔”
پنار کو پتا تھا اگر اجازت نہیں دے گی پھر کونسا اس نے چپ رہنا تھا ،اس لیے نہ چاہتے ہوئے بھی اسے اجازت دینی پڑی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
“۔اگر سٹوڈنٹ لیٹ آئے تو اسے پنشیمنٹ ملتی ہے اور اگر ٹیچر لیٹ آے تو ۔۔۔۔۔۔۔۔”
دل جلا دینے والی مسکراہٹ سے اس نے پنار سے پوچھا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”پنار کو اس پر غصہ تو بہت آیا لیکن وہ کنٹرول کر گئی
“اس کا جواب میں سر کو دے چکی ہوں اس لیے مجھے تمہیں دینے کی ضرورت نہیں ہے کہ میں کیوں لیٹ آئی ہوں “،
پنار نے کندھے اچکاتے ہوے ہرمان کو ڈھیٹ کیا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔لیکن وہ ہرمان ہی کیا جو شرمندہ ہو جائے۔
“لیکن مس مینار۔۔میرا مطلب مس پنار کلاس کو بھی تو explanation کی ضرورت ہوتی ہے۔چلیں کوئی بات نہیں آج آپ لیٹ آئی ہیں کل میں لیٹ آ جاوں گا۔۔اور میں بھی سر کو explain کر دوں گا”
ہرمان نے بھی پنار کو زچ کرنے کی حد کر دی۔۔
“ایکسکیوزمی! کلاس ٹیچر میں ہوں یا تم۔۔اور برائے مہربانی تم کلاس سے باہر چلے جاو اور جب تک لیکچر ختم نا ہو جائے اندر مت آنا”
پنار نے غصے سے باہر کی جانب اشارہ کیا۔
“سوری مس میں باہر نہیں جا سکتا۔۔اگر میں باہر گیا تو میرا لیکچر مس ہو جائے گا اگر آپ اسی طرح مجھے باہر نکالتی رہیں گی تو میں پاس کیسے ہوں گا”۔
ہرمان نے مصنوعی بیچارگی سے کہا۔
“پہلے کونسا تو پاس ہو جاتا ہے”
عمر بڑبڑایا۔۔ہرمان نے اس کو گھورتے ہوئے دیکھا۔عمر نے اسی وقت نظریں کتاب پر جما لیں۔
“تم نے کلاس میں بیٹھنا ہے یا باہر جانا ہے۔اگر بیٹھنا ہے تو برائے مہربانی بیٹھ جاوں ۔۔اور اگر جانا چاہتے ہو تو تمھارا ہم پر احسان ہو گا”
پنار نے چیئر پر بیٹھتے ہوئے کہا۔
“ارے نہیں نہیں مس آپ بیٹھنے کا رہی ہیں تو میں باہر کیسے جا سکتا ہوں آپ کی بات تھوڑی نا ٹال سکتا ہوں”
ہرمان نے چیئر پر بیٹھتے ہوئے معصومیت سے کہا۔جوابا پنار نے اسے اگنور کرنا ہی بہتر سمجھا۔
“مس آپ نے ہفتہ کو جو ٹیسٹ دیا تھا تو آج آپ لیں گی نااا”
دائم نے ہرمان کو دیکھتے ہوئے پنار سے کہا۔ہرمان نے اس کی طرف آنکھیں نکالتے ہوئے دیکھا اور دانت پر دانت جماتے ہوئے اس کو مکا دیکھایا۔
“نہیں آج میں ٹیسٹ نہیں لے سکوں گی کیونکہ میری تھوڑی طبعیت خراب ہے اس لیے۔۔تو کل ان شاءاللہ ضرور ٹیسٹ لوں گی۔تو آپ ساری کلاس اچھے سے آج تیاری کر لیں ۔۔۔۔۔۔۔اور میں بتاتی چلوں کہ جو ٹیسٹ نہیں دے گا وہ میری کلاس سے باہر رہے”۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
پنار نے ہرمان کو دیکھتے ہوئے کہا. . . . . . . . .
اور ساری کلاس جانتی تھی کہ مس پنار نے یہ بات کس کو کہی ہے لیکن جس کو بات کہی تھی اس پر رتی برابر بھی اثر نا ہوا۔اور وہ پنار کو دیکھ کر ایسے مسکرا رہا تھا جیسے یہ بات کسی اور کے حوالے سے ہو۔
🍁🍁🍁🍁🍁
“یار رومان بھائی کا فون تھا وہ کہہ رہے تھے کہ ان کی بہت ضروری میٹنگ ہے آج اور ڈرائیور پنار آپا کو لینے چلا گیا ہے اور بھائی دو گھنٹے میں فری ہوں گی اور بھائی کہہ رہے ہیں کہ ڈرائیو آپا کو گھر چھوڑ کر آدھے گھنٹے تک تم لوگوں کو پک کر لے گا”
ژالے نے ساری تفصیل بتائی۔
“ارے یار آدھا گھنٹہ تو مجھ سے نہیں انتظار ہوتا۔اب کیا کریں”
ہائمہ نے منہ بسورتے ہوئے کہا۔
“میرے پاس ایک ترکیب ہے کیوں نا آج رکشے پر سواری کی جائے بہت مزہ آئے گا سچ میں”۔
ژالے نے اکسائٹمنٹ سے ہائمہ کو پکڑتے ہوئے کہا۔
“نہیں نہیں بلکل نہیں۔۔مجھے نہیں جانا رکشے میں۔۔ ٹیکسی میں چلے جاتے ہیں”
ہائمہ نے ٹیکسی کی تلاش میں ادھر ادھر نظریں دوڑاتے ہوئے کہا۔
“ارے وہ دیکھ ہائمہ یار رکشہ آ رہا ہے جلدی چل زیادہ نخرے نا کرو بہت مزہ آئے گا”
ژالے نے رکشے کو ہاتھ دیتے ہوئے کیا اور ہائمہ کو گھسٹتے ہوئے رکشے پر بیٹھ گئی۔ہائمہ بچاری بھی منہ بناتے ہوئے رکشے میں بیٹھ گئی۔۔۔
🍁🍁🍁🍁🍁
“عمر تو ایسا کر گھر چلا جا اور امی میرے بارے میں پوچھیں تو بتا دینا کہ وہ ایک دوست کی عیادت کو گیا ہے”۔۔۔۔۔۔۔۔۔
حارث نے عمر کو چلتا کرتے ہوئے کہا۔۔۔۔۔۔۔۔
“اچھا بچو۔۔یہ کونسا ایسا دوست ہے تیرا جسے میں نہیں جانتا اور جس کی عیادت کرنے تو ہر دوسرے تیسرے دن چلا جاتا ہے ہوں”۔
عمر نے بھنویں اچکاتے ہوئے مشکوک انداز میں پوچھا۔
“ہے ایک دوست تو نہیں جانتا اسے۔۔اور زیادہ باتیں نا کر جلدی سے نکلو اب”
حارث نے عمر کو بائیک کی طرف دھکیلتے ہوئے کہا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
“نا نا ایسے کیسے پہلے جیب ہلکی کرو جناب پھر جانا “
“میری جیب بلکل ہلکی ہے اور جیسا کہا ہے بلکل ویسا ہی کرنا چل جلدی سے نکل بھی”۔۔۔
“پہلے نکال ہزار پھر جاوں گا ورنہ میں نے نہیں کہنا “
عمر نے بھی اکڑتے ہوئے کہا۔۔۔۔
“چل یہ لے سرخ نوٹ پکڑ اور چلتا بن اب پیچھے مڑ کے نا دیکھنا۔”
حارث نے جیب سے ایک میلا سا نوٹ نکال کر عمر کے ہاتھ پر رکھا۔عمر کبھی حارث کو اور کبھی اپنے ہاتھ پر رکھے ہوئے نوٹ کو دیکھ رہا تھا خیر نوٹ کہنا تو زیادتی ہو گی وہ نوٹ بلکل اس مریض کی طرح کا تھا جو اپنی آخری سانس گن رہا ہو۔عمر کا صدمے سے برا حال تھا۔۔
“تو ایسا کر یہ اپنے پاس ہی رکھ بلکہ میرے سے بھی لے لے کم از کم تیرے نوٹ کی طرح آخری سانس نہیں لے رہا ہو گا”۔
حارث نے عمر کے ہاتھ سے دونوں نوٹ لے کر جیب میں رکھ لیے اور عمر کو ہگ کیا۔
“تو ہی میرا اصلی بھائی ہے تو نے ثابت کر دیا جگر”
“تیری غربت کو دیکھ کر لگ رہا کہ تو ڈیٹ مارنے کسی ہوٹل نہیں بلکہ کسی ڈابے پہ جاتا ہے غریب آدمی۔۔۔۔اگر کبھی غلطی سے کسی ریسٹورینٹ میں ڈیٹ مار لی تو پکا سارے برتن تجھ سے ہی دھلواتے ہوں گے کنجوس کہی کے”
عمر نے غصے سے بھناتے ہوئے کہا۔۔
“اچھا اچھا ابھی جلدی سے گھر پہنچ لاڈلے میں بھی چلتا ہوں”
حارث نے اس کا گال چومتے ہوئے کہا اور عمر سے زور سے دھکا دیتے ہوئے پیچھے کیا اور گال صاف کرنے لگا۔
“بے غیرت انسان بھائی ہوں تیرا۔۔تیری محبوبہ نہیں چل دفعہ ہو جا کمینہ خود تو پیسے دیے نہیں میرے والے بھی رکھ لیے”
عمر نے بائیک سٹارٹ کرتے ہوئے کہا۔۔۔۔
🍁🍁🍁🍁🍁🍁
“افففف اس رکشے کو بھی ابھی خراب ہونا تھا کیا! یہاں سے تو کوئی لفٹ بھی نہیں ملے گی اب کیا کریں ہائمہ”۔۔۔
ژالے نے بیچارگی سے ادھر ادھر نظر دوڑاتے ہوئے کہا۔۔۔۔۔
“تجھے ہی شوق تھا رکشے کی سواری کرنے کا کر لیا انجوائے۔۔خود تو خوار ہو رہی ہو ساتھ مجھے بھی کیا”
ہائمہ نے ژالے کو دیکھتے ہوئے غصے سے کہا۔۔
“اچھا چلو آگے چلتے ہیں شاید کچھ لفٹ مل جائے “
ابھی وہ تھوڑا ہی آگے بڑھی تھی کہ ایک بائیک ہوا سی باتیں کرتی ہوئی آئی ژالے جو سڑک کے بیچ و بیچ چل رہی تھی بائیک کی آواز پر مڑی اور پیچھے کی طرف گر گئی۔ہائمہ نے بھاگتے ہوئے اسے پکڑا جو سڑک میں ایک طرف جمع ہوئے پانی میں گری ہوئی تھی۔۔
“ہاہاہا سیریسلی ایسا سین میں نے کبھی نہیں دیکھا”
عمر اس کے حلیے پر اپنی ہنسی نا روک سکا۔۔
” ژالے جو اپنے کپڑوں کے حشر نشر کے غم میں مبتلا تھی عمر کے ہنسنے پر لال پیلی ہو گئی
“تجھے تو میں بتاتی ہوں مینڈک کی شکل والے”
ہائمہ نے سر کو دائیں بائیں ہلایا کہ اب ژالے کو کس طرح کنٹرول کرے۔
“یہ کیا طریقہ ہے بائیک چلانے کا یہ بٹن جیسی آنکھیں اللہ نے دیکھنے کیلیے دی ہیں تو ان کا استعمال بھی کرو مینڈک کہی کے۔”
ژالے نے سارا غصہ عمر پر نکالتے ہوئے کہا۔
“ااووو ہیلو میڈم تم خود گری ہو میں نے نہیں گرایا اور بٹن جیسی آنکھوں کا بھی خوب کہا تمھاری بھی تو سرکس کے بندر جیسی آنکھیں ہیں تم ہی استعمال کر لیتی اور نا گرتی”
عمر نے بھی پورا حساب برابر کیا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
“کیااااااااا تم نے مجھے بندر کہا تمھاری اتنی ہمت اپنی شکل دیکھی ہے لنگور کہی کے”
ژالے کونسا کم تھی۔ایک کی چار سنائی۔۔۔۔
“ژالے چھوڑو گھر چلیں دیر ہو رہی ہے”۔
ہائمہ نے اس کا بازو کھنچتے ہوئے کہا۔۔۔۔۔
“نہیں اس سے تو میں نمٹ کر جاوں گی۔ایک تو اس نے مجھے گرایا اوپر سے مجھ پر ہنسا اور پھر مجھے بندر بھی کہا”
ژالے نے اس کے سارے جرم گنوائے اور عمر کے کھاتے میں ڈالے۔۔
“کوریکشن میڈم میں نے آپ کو بندر نہیں کہا، آپ خود کافی دیر سے خود کو بندر کہے جا رہی ہیں۔۔اوو سوری بندریا”۔۔۔۔۔۔
عمر بھی لڑاکا عورتوں کی طرح میدان میں اترا۔۔عمر کو بھی اب اس سے لڑنے میں مزہ آ رہا تھا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
“تم جانتے نہیں ھو میرے بھائی کو روکو ابھی فون کرتی ہوں پھر دیکھنا کیسے تمہاری دھلائی کرتے ہیں۔ ۔۔۔۔۔۔
ژالے نے اب اسے دھمکی دینا بہتر سمجھا “۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
“ژالے وہ دیکھو ڈرائیور آگیا ہے چلو اب ورنہ گھر جا کر تمہاری شکایت لگاوں گی” ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ہائمہ نے اسے کھینچتے ہوئے کہا ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ “تمہیں تو میں دیکھ لوں گی چھوڑوں گی نہیں میں تمہیں۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔ژالے نے گاڑی میں بیٹھتے ہوئے پلٹ کر عمر کو دھمکی دی۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”ویسے میں بھی یہی چاہتوں ہوں کہ آپ مجھے آپ مجھے ہی دیکھے اور چھوڑیں تو بلکل نہ۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔عمر نے گاڑی کو دیکھتے ہوئے کہا اور بائیک سٹارٹ کی۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
🍁🍁🍁🍁🍁🍁🍁🍁
” ویسے ژالے تم کبھی کبھی حد کر دیتی ہو ،کیا ضرورت تھی اس اجنبی سے الجھنے کی ہاں۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ہائمہ نے ژالے سے کہا جو اب تک بڑبڑاے جا رہی تھی۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
کیا مطلب ہے تمہارا میں اس سے الجھ رہی تھی ، میں نہیں وہ الجھ رہا تھا مجھ سے ۔۔۔۔جس کی عورتوں سے زیادہ لمبی زبان تھی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ہو نہہہ ژالے نے ناک چڑاتے ہوئے گاڑی سے باہر دیکھتے ہوئے کہا۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اففففف ژالے بس کر دو اب ،اور تم نے جو اس کی بیستی کی وہ کیا تھا ہاں۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
“اچھا تمہیں اس کی بڑی بیستی فیل ہو رہی ہے، کہی وہ تمہاری خالہ کا بیٹا
تو نہیں ہوں۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ژالے نے بنوئیں اچکاتے ہوئے ہائمہ سے پوچھا۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”اف ژالے تم سے تو بات کرنا ہی فضول ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔ہاِئمہ نے گاڑی سے باہر دیکھتے ہوئے کہا ۔،۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: