Mera Sham Slona Shah Piya Novel By Bella Subhan – Episode 10

0
میرا شام سلونا شاہ پیا از بیلا سبحان – قسط نمبر 10

–**–**–

پزا سےانصاف کرنے کے بعدوہ نگہت کی گود میں سر رکھے ان سے لاڈ اٹھوا رھی تھی۔۔۔۔دھیرے دھیرے اس کے باوں میں انگلیاں پھیرتے ھوۓ وہ انھیں ان چاروں کی بچپن کی باتیں بتانے لگیں
زاویار شروع سے ھی بہت سنجیدہ سا بچہ ھے لیکن ثانیہ اس کے برعکس ھے چھٹیوں میں جب تم رھنے آتے تھے ادھر تو تمھیں یاد ھوگا کیسے وہ حسن کو مار پڑوایا کرتی تھی اپنے ماموں سے اور تم فل والیوم میں حسن کے ساتھ مل کر روتی تھی۔۔۔۔۔واحد زاویار تھا جو ثانیہ کو مارتا تھا صرف اسوجہ سے کہ تمہیں کیوں رلایا
وہ اس بات پر مدھم سا مسکراٸی کچھ دھندلی سی یادیں اس کے ذہن میں لہراٸیں جب زاویار بہت پروٹیکٹیو ھو جایا کرتا تھا
ممانی۔۔۔۔۔وہ آج بھی ویسے ھی ھیں ذرا نہیں بدلے۔۔۔۔سرشار ھوتے ھوۓ وہ بولی تو وہ بھی مسکراٸیں تھیں انکا جی چاھا زاویار کے اس التفات کی وجہ بتاٸیں مگر پھر یاد آیا کہ زاویار نے اس بارے میں بات تک کرنے سے منع کیا ھے تو بس خاموش ھو رھیں
یہ دیکھیں ثانیہ نے پکس بھیجیں ھیں۔۔۔۔مہندی کی تصویروں کو دیکھتے وہ دونوں ان پر تبصرہ کرنے لگیں
ایک پک جس میں سندس کو مہندی لگاتے ھوۓ حسن اور ثانیہ اس کے داٸیں باٸیں بیٹھے تھے مشعل کی نگاھوں میں ستاٸش اتری ساتھ ھی ھونٹ واٶ کے انداز میں سکڑے تھے
اپنی ثانیہ کتنی پیاری ھے ناں ممانی؟؟
ھاں ماشاءاللہ،۔۔۔میرے چاروں بچے ھی بہت خوبصورت ھیں
ایک تصویر میں ثانیہ حسن کوزبان چڑارھی تھی جبکہ حسن خود بھی ہنس رھا تھا
دونوں ایک ساتھ بہت اچھے لگ رھے تھے جسٹ لاٸک میڈ فور ایچ ادر۔۔۔۔
یہ خیال دونوں کے ھی ماٸنڈ میں آیا اور اگلے ھی پل انھوں نے اس خیال کی نفی کی تھی
ناممکن ھے یہ کہ دونوں ایک ساتھ زندگی گزار لیں۔۔۔۔
مگر وہ دونوں یہ نہیں جانتی تھیں کہ ان کے ملن کا فیصلہ کر دیا گیا ھے
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
موباٸل کی واٸبریشن سے اسکی آنکھ کھلی توماموں کالنگ پر نظر پڑتے ھی آنکھیں پٹ سے فل کھلی تھیں اور تیزی سے بیڈ سے اترکر وہ گیٹ کھولنے کے لیے بھاگی
نگہت اپنی میڈیسن کی وجہ سے یقیناً گہری نیندمیں تھیں تب ھی انھیں نہ بیل کی آواز سناٸی دی اور نہ ھی موباٸل کے بجنے کی
گیٹ کھول کر وہ ماموں سے سر پر پیار لیتی ھوٸی اندر آٸی اور زاویار کے لیے کافی بنانے لگی اس دوران زاویار گاڑی لاک کر کے نگہت کو گڈ ناٸٹ کہتے اپنے روم میں چلے گٸے
لیٹ ھونے کی وجہ سے شاٸد وہ بھول گٸے تھے کہ انھوں نے خود کہا تھا کہ کافی ٹی وی لاٶنج میں ھی پیا کریں گے
مجبوراً وہ ان کےروم کیطرف بڑھی۔۔۔ہلکی دستک دے کر بھی جواب نہ پایا تو دروازہ دھکیلتی آگے بڑھی تھی
واش روم سے پانی گرنے کی آواز پر و سمجھ گٸی کہ موصوف شاور لے رھے ھیں
جلدی جلدی کافی کو ساٸیڈ ٹیبل پر رکھا اور جونہی جانے کو مڑی تو زاویار کے سیل پر زنیرہ کالنگ کے الفاظ جگمگاۓ
رات ایک بجے اسکا فون۔۔۔۔۔۔۔۔ماتھے پر شکنیں پڑیں شک کے ناگ نے پوری طرح اس پر حملہ کیا اور اسی شک کی بنا پر اس نے کال اٹینڈ کی تھی
اسکو فرصت ھی نہیں وقت نکالے محسن
ایسے ھوتے ھیں بھلا چاھنے والے محسن
زنیرہ نے اپنی شوخ طبیعت کے ھوتے یونہی ایک شعر پڑھا جبکہ وہ سناٹے میں آگٸی تھی
________
روم میں جاتے ھی اس نے زوردار ٹھوکر سے دروازہ بند کیا اور وہ جو اس کے پیچھے تیزی سے آتی ھوٸی اینٹر ھونے کو تھی دروازہ منہ پر بند ھوا تو حیرت سے اسکا منہ بھی کھل گیا تھا
بدتمیز آدمی۔۔۔۔۔۔ماتھے پر شکنیں لاتے وہ بولی اور ناب گھما کر روم میں داخل ھوٸی
کھڑکی کو کھولے جانے وہ اندھیرے میں کیا تلاش کر رھا تھا
وہ قدم اٹھاتی عین اس کے سامنے جا کھڑی ھوٸی
شال کندھوں سے اتار کر گریبان کے دو بٹن کھولے وہ گہری سانسیں لے رھا تھا جیسے گھٹن ھو رھی ھو اسے
تمھیں کیا ھوا ھے؟؟ مجھے کیوں بلایا ھے یہاں؟؟ ابھی بارات آ جاۓ گی۔۔۔ جلدی بولو مجھے جانا ھے باھر
وہ ہنوز اندھیرے پر نظریں جماۓ اسکی موجودگی کو کسی خاطر میں نہ لایا توثانیہ کو پتنگے لگے تھے
ایسے ھی بت بنے کھڑے رہنا تھا تو مجھے کیوں بلایا تھا اتنی ھی ویلی لگتی ھوں میں تم کو؟؟؟
اس کے کان میں وہ چلاٸی تو حسن نے بمشکل اپنے اشتعال کو دبایا
مجھ سے بات مت کرنا اب تم اچھا۔۔جب مزید کچھ دیر گزرنے کے بعد بھی وہ کچھ نہ بولا تو ثانیہ غصے سے اسکو انگلی اٹھا کر کہتی اپنافیصلہ سنا گٸی
حسن کے ماتھے کی رگیں تنی تھیں
جیسے ھی وہ جانے کو مڑی اس نے جھٹکے سے ثانیہ کا بازو جکڑ کر کھڑکی سے اسکا وجود ٹکایا تھا
وہ جو ایسے بی ہیویٸر کی عادی نہ ھی اور نہ ھی حسن کا یوں کرنا اس کےوھم و گمان میں تھا
ٹکر ٹکر حسن کا چہرہ تکنےلگی
بہت پسند آیا ھے وہ تمھیں؟اسکے کندھوں پر اپنے ہاتھوں کی سخت گرفت کیے اور ایک ایک لفظ چباتے ھوۓوہ بولا توثانیہ نے بھی غصے سے اپنے نتھنے پھلاۓ تھے
تمھیں کیا تکلیف ھے اگر وہ مجھے پسند بھی ھے تو۔۔۔۔تمھاری غلام نہیں ھوں میں کہ اب کسی کو پسند بھی کرنا ھو تو تم سے اجازت طلب کروں
جواباً وہ ترخ کر بولتی اسکو مزیدبھڑکا گٸی
ایک ہاتھ کو اسکے سر کی پچھلی طرف لے جا کر بال مٹھی میں جکڑے اور اسکا چہرہ اونچا کیا تھا
ثایہ نے اپنے دونوں ہاتھ اس کے سینے پر رکھ کر اسے پیچھے دھکیلا مگر وہ دیو قامت ایک انچ بھی ابھی جگہ سے نہ سرکا تھا
پھر سے کہہ کر دکھاٶ مجھے کہ وہ پسند ھے تمھیں۔۔۔۔دیکھنا۔۔۔ کیا کرتا کیا ھوں میں تمھارے ساتھ
بالوں کو جھٹکا دیتے وہ بولا تو اس کے منہ سے اک آہ نکلی تھی جسکی حسن نے مطلق پرواہ نہ کی
تمھیں کیوں اتنی مرچی لگ رھی ھے؟؟اپنا پتا ھے تمھیں۔۔۔۔کیسے چپک کر کھڑے تھے اس مونا بونا کیساتھ تم۔۔۔۔۔۔میچنننگگگگگ۔۔۔۔۔۔۔واہ۔۔۔۔میچنگ کرتے ھو اس کے ساتھ تم۔۔ اور میری ایک بات پر بھٹی میں مکٸی کے دانے کی طرح اچھل رھے ھو۔۔۔۔کیوں؟؟؟؟؟؟
اس کے کانوں کے پردے پھاڑتے وہ بولی غصیلے تاثرات لیے دونوں اس بات سے بلکل بے خبر ھو چکے تھے کہ ان کے درمیان فاصلہ نہ ھونے کے برابر رھ گیا ھے
سر کو جھٹکنے سے کانوں میں پہنے آویزے جھولنے لگے تو حسن کی نگاہ ان پر ٹھہری۔۔نظروں نے کانوں سے گردن تک کا فاصلہ طے کیا اور دوبارہ اس کے چہرے ہر جیسے ھی نگاھیں پڑیں تو اس کے صبیح چہرے کے نقوش پر بھٹکنے لگیں۔۔۔ بال ہنوز اسکی مٹھی میں سختی سے جکڑے ھوۓ تھے
کھنچاٶ برداشت سے باھر ھوا تو ثانیہ کی آنکھیں چھلکی تھیں
وحشی۔۔۔۔جنگلی۔۔۔۔سسکتی ھوٸی بھی وہ اسے لقب دینے سے باز نہ آٸی
شششش۔۔۔۔اس کے آنسو پونچھتا وہ پہلے والے حسن سے یکسر مختلف لگا
تجھے محتاط کرتا ھوں تیری میں جان لے لوں گا
جو اپنی جھیل آنکھوں کو کبھی ٌپرنم کیا تٌونے
ایک ہاتھ سے اس کے بال سہلاتے دوسرے سے آنسو پونچھتے ھوۓ اس نے اسے وارننگ دی تو وہ ایک پل کو تھمی۔۔۔۔اس کے ہاتھ جھٹکتے ھوۓ وہ کھڑکی سے ہٹتی روم کے سینٹر میں آگٸی اور اپنے دوپٹے کے پلو سے آنکھ کا کونا صاف کرنے لگی
وہ مسلسل اسکی گہری نگاھوں کے حصار میں تھی
یقیناً منہ ھی منہ میں اسے گالیوں سے نواز رھی تھی
اسی کی تعریف کرونگی دیکھنا تم۔۔۔۔۔ثانیہ کی بڑبڑاہٹ اسکے کانوں میں پڑی تو وہ طوفان کی طرح اس تک پہنچا تھا
سامان پیک کرو ابھی واس جانا ھے گھر۔۔۔
ٹھنڈے لہجے میں وہ بولا جس پر وہ بد حواس ھوٸی۔۔۔۔
کیا مطلب۔۔۔؟؟؟؟وجہٕ تسمیہ بغیر پوری شادی اٹینڈ کیے جانے کی؟؟؟
ولید۔۔۔۔اتنی بڑی وجہ کافی ھے شاٸد
کہتے ھی وہ باھر کی طرف جانے کو مڑا تو ثانیہ بے اختیار اسکا ہاتھ تھام گٸی
اچھا سوری سوری۔۔۔۔۔اب نہیں کرتی پکا والا پرامس۔۔۔پلیز ناں
یوں جاٸیں گے تو کتنا برافیل ھوگاسب کو۔۔۔ اچھا تھوڑی لگتا ھے یوں
وہ اسے مسلسل گھور رھا تھا
مان جاٶ ناں پلیز۔۔۔۔۔۔یہ کہتے ھی اس نے ایک ھواٸی بوسہ اسکی طرف اچھالا ساتھ ھی خود کی ھی آنکھیں حیرت سے پھٹیں اور دونوں ہاتھ اپنے منہ پر رکھ لیے تھے
مسکا لگاتے اپنی بات منواتے وہ اکثر مشعل اور نگہت کیساتھ یوں کیا کرتی تھی مگر آج تو وہ ایسی چَوَل مار گٸی تھی کہ اب جو ریکارڈ لگنا تھا سو لگناتھا وہ خود بری طرح شرمندہ ھو کر رہ گٸی
تھی
جبکہ حسن کا چھت پھاڑ قہقہہ سنتے اس نے اپنی آنکھیں میچی تھیں
اس کے چہرے سے ہاتھ یٹاتے ھوۓ اس نے ثانیہ کا سرخ چہرہ دیکھا تو اپنی مسکراہٹ کا گلا گھونٹا
اب اس وقت میرا کیا دل چاہ رھا ھے۔۔پھر کبھی بتاٶنگا
متبسم لہجہ اس کے کانوں ے ٹکرایا تو اس پر گھڑوں پانی پڑا تھا
آٶ باھر۔۔۔اس جان لیوا فاٸر کے بعد کون کافر تمھاری بات ٹالے گا
اپنی بات سے مزید اس کے چھکے چھڑاتا شال اٹھا کر وہ روم سےہنستے ھوۓ نکلا تو اس نےاپنا ماتھا پیٹ ڈالا
فٹے ای منہ۔۔۔۔۔۔۔۔اب وہ صوفے پر بیٹھی خود کو کوس رھی تھی
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
فون کو یونہی پھینکتے وہ روم سے بھاگی تھی تب ھی زاویار واش روم سے نکلے۔۔انھوں نے اسے یوں بھاگ کر جاتے ھوۓ دیکھا تو اپنی جگہ ساکت ھوۓ تھے
کارپٹ پر گرے فون پر نظر پڑی اور جب اسکو اٹھایا تو زنیرہ کی کال چل رھی تھی
کیا ھوا۔۔؟سکتہ کیوں ھوگٸے ھو تم؟؟
کیا کہا ھے تم نے ابھی؟سنجیدہ سی آواز اس کے کانوں سے ٹکراٸی تو وہ بھی سیریس ھوٸی تھی
ارے بھٸی یونہی مذاق میں کہہ رھی تھی۔۔۔۔ کیا ھوگیا؟
کہا کیا ھے تم نےجو وہ یوں موباٸل پھینک کر بھاگی یہاں سے؟
کون وہ؟کیامطلب؟
کال مشعل نے اٹینڈ کی تھی زنیرہ
غصہ ضبط کرتے وہ بولے
اوہ۔۔۔۔۔۔۔۔میں نے تو بس یونہی مذاق میں۔۔۔اپناشعر انکو سناتے وہ انھیں آگ میں جھونک گٸی
تمھارا دماغ سیٹ ھے زنیرہ؟؟؟تم جانتی بھی ھو اب تک اس نے کیا کیا سوچ لیا ھوگا ھمارے متعلق
آٸم سوری زاویار مجھے کیا معلوم تھا کال وہ پک کرے گی
شرمندگی سے وہ بولی۔۔۔۔۔
اگلے ھی پل اسکی آنکھیں ایک خیال سے چمکی تھیں
دیکھو اب اس جلن میں ھو سکتا ھے وہ تم سے اظہار کرے دیکھو ناں۔۔۔۔ تم بھی تو یہی چاھتے تھے
جبکہ وہ اسکی بات پر آگ بگولا ھوۓ تھے۔۔۔۔فی الحال فون رکھو تم۔۔۔۔میں دیکھتا ھوں جا کر اسے۔۔۔یقیناً رو رھی ھوگی
فون رکھ کر انھوں نے سر کو تھاما تھا
نٸی مصیبت ڈال دی تھی زنیرہ نے۔۔۔۔وہ یہ سوچنے لگے کہ اسوقت اس کے روم میں جانا ٹھیک ھوگا یا نہیں۔۔۔۔دل مسلسل اس کی طرف جانے کو مچل رھا تھا مگردماغ کی مانتے انھوں نے صبح اس سے بات کرنے کو ترجیح دی تھی
افففف رو رھی ھوگی۔۔۔۔انکے دل پر جیسے چٹکی بھری تھی اس خیال نے
تٌو بکھر رھی ھے جانتا ھوں
میں سمیٹ لونگا یقین رکھ
انھوں نے تصور میں اسے مخاطب کیا تھا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
کٸی ثانیے تک وہ ساکت بیٹھی زنیرہ کے کہے الفاظ پر سن بیٹھی رھی۔۔۔قطرہ قطرہ آنکھوں سے سیال بہنے لگا
ھمیں جنگل جنگل بھٹکا دو
ھمیں سولی سولی لٹکا دو
جو جی چاھے سو یار کرو
ھم پڑ جو گٸے تیری راہ پیا
میرا شام سلونا شاہ پیا
مجھے مار گٸی تیری چاہ پیا
_____________
بلڈ ریڈ کلر میں لہنگا پہنے اور بھاری زیورات کیساتھ حسنِ دو آتشہ میں سندس آسمان سےاتری حور لگ رھی تھی اگر دلہن ایسی تھی تو دولہا بھی اس کی ٹکر کا ھی تھا تمام روایتی رسموں کے بعد رخصتی کے وقت بھی سندس ثانیہ کو یہ کہنا نہ بھولی تھی کہ ولیمہ اٹینڈ کیے بغیر واپس نہ جاۓ
چونکہ اسکی سسرال سندس کے گھر سے کچھ فاصلے پر ھی تھی تو ثانیہ نے پہلے سے ھی ولیمہ پر جانے کا ارادہ کر لیا تھا
سارا وقت وہ حسن کی شرارتی نظروں سے چھپتی رھی کیونکہ نہ وہ اسکی بے اختیاری میں کی گٸی حرکت بھولا تھا نہ ھی ثانیہ کے ذہن سے وہ بات نکل رھی تھی
رات تین بجے کے قریب جب ساری ینگ پارٹی آنٹیوں سمیت چاۓ کی چسکیاں لیتے ایک ھی روم میں باتیں کر رھی تھی تب ھی میسیج ٹون پر اس نے اپنا موباٸل اٹھایا تو حسن کیطرف سے میسیج شو ھو رھا تھا
حیرت سے ابرو اچکاتے اس نے اس ”شوخے“ کو دیکھا جو گھونٹ گھونٹ چاۓ حلق میں اتار رھا تھا
اس نے میسیج اوپن کیا
چاۓ کے بعد دوسرا رنگ تنھارا ھے
جو مجھے ”سانولا“ اچھا لگتا ھے
میسیج پڑھتے ھی جھٹکے سےجب اسکی طرف دیکھا تو وہ آہستہ سے سر کو ہلاتے چاۓ پینے کی آفر کر گیا۔۔۔ثانیہ نے دانت پر دانت جما کر زبان کےتیر چلانے سے خود کو باز رکھا اور فقط نظروں سے ھی اسکی تکہ بوٹی بنانے کی خواہش کا اظہار کیا جواباً حسن نے ایک آنکھ دباٸی
اس بے باک سی حرکت پر اس کے ھاتھ میں پکڑا چاۓ کا کپ لرزا
مجھے نیند آگٸی ھے سونے جارھی ھوں۔۔۔عنبر سے کہتی ھوٸی وہ وہاں سے نکلی اور روم میں جاتے جاتے اسکو میسیج میں ”چھچھورا“ لکھ بھیجا جسکو پڑھ کر وہ دھیرے سے ہنستا ھوا سونے کے لیے اپنے روم میں جانے کو اٹھ کھڑا ھوا
محفل اسی طرح جاری وساری تھی مگر وہ دونوں ھی روم میں اپنے جذبات میں تبدیلی سے جنگ میں مشغول تھے
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
فجر کی نماز کے بعد وہ ہلکی آواز میں تلاوت کرنے لگی۔۔دل کو بے حد سکون مل رھا تھا یوں جیسے آیات قرآنی روح میں پلنے والے نٸے نٸے دکھ پر مرھم لگا رھی ھوں اور اسی سکون کو محسوس کرتے اس نے اپنے ہاتھ کی انگلیاں قران پاک کے اوراق پر پھیریں اور لفظ” اللہ“ پر ٹھہراٸیں تھیں
اللہ کی محبت سے لبریز دل کے سبب آنکھیں چھلکیں اوراس نے بے اختیار قرآن پاک کو لبوں سے چٌھوا
اے میرے پاک رب!!!
مجھے اپنی رحمت سے نا امید مت کیجیۓ مایوسی کو میرے قریب بھی مت آنے دیجیۓ گا اللہ۔۔۔۔۔
آنکھوں سے کلامِ پاک کو لگاتے وہ پھوٹ پھوٹ کر رو دی
دل ہلکا کرنے بعد جیسے بوجھ سے آزاد ھوٸی تونیند آنے لگی۔۔۔۔اب نیند میں کوٸی بےچینی نہ تھی معصوم سی مسکراہٹ کیساتھ سوٸی وہ آنے والے وقت سے انجان خوابوں کے سفر پر رواں دواں تھی مگر رب نے ایک اور آزماٸش اسکی قسمت میں لکھ رکھی تھی جس میں وہ حقیقتاً بے حال ھو جانے والی تھی
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
سارا دن آفس میں پریشان گزرا تھا کیونکہ وہ جب تک گھر رھے مشعل اپنے روم سے ھی نہ نکلی تھی کچھ وہ خود جلدی میں تھے مگر آفس آ کر انھوں نے کال کی جو اس نے اٹھاٸی تک نہ تھی
پیشانی کو انگوٹھے اور انگلی سے دباتے ان کا جی چاھا کہ زنیرہ کا گلا دبا دیں جسکی وجہ سے یہ سب ھو رھا تھا
گھر جلدی واپس جانے کا وہ ارادہ کر چکےتھے تا کہ اپنی ”مِشو“ کو منا سکیں
فون کی بیل سے انکی سوچوں کا تسلسل ٹوٹا
یس زاویار ابراھیم سپیکنگ۔۔۔۔۔
اگل بات سنتے ھی انکے ماتھے پر شکنیں پڑیں تھیں
ھمممم کرتا ھوں کچھ۔۔۔۔یہ کہتے انھوں نے فون پٹخا اور ابراھیم سے بات کرنے کو انکے روم کیطرف گٸے
دبٸی میں موجود ان کے بزنس کی ایک شاخ کے ورکرز میں ھوٸی لڑاٸی کی وجہ سے ارجنٹ ھی جانا تھا اور زاویار کی یہ کوشش تھی کہ ابراھیم جاٸیں کیونکہ ابھی انکو مشعل کا موڈ بھی سیٹ کرنا تھا
بمشکل ان کو راضی کر کے وہ جلدی جلدی آفس کا کام واٸنڈ اپ کرنے لگے تب تک شام کے چار بج چکے تھے
راستے میں اسکی فیورٹ آٸسکریم پیک کرواٸی اور گھر جیسے ھی پہنچے تو گیٹ پر گھڑی زنیرہ کی گاڑی کو دیکھتے انکا دل چاھا سٹیرنگ پر ھی اپنا سر مار دیں
اب یہ کیوں آگٸی ھے بھڑکتی آگ میں تیل ڈالنے۔۔۔۔۔۔۔بڑبڑاتے ھوۓ وہ گھر میں داخل ھوۓ تو زنیرہ اور نگہت کو ٹی وی لاٶنج میں بیٹھے دیکھا
زنیرہ کو کھا جانے والی نظروں سے دیکھتے وہ کچن کی جانب گٸے
جانتے تھے مشعل وہیں پاٸی جا سکتی ھے
وہ برتن پٹختے جانے منہ میں کیا بول رھی تھی ساتھ ساتھ لوازمات سے ٹرے بھی سجاٸی جا رھی تھی جب انھوں نے کھنکھار کر اسے اپنی طرف متوجہ کیا
ان کی طرف مڑ کر وہ کچھ پل کو ساکت ھوٸی اور بے حد شکوے بھری نگاھوں سے انھیں دیکھا
کون آیا ھے؟
جان بوجھ کر انھوں نے اسے چھیڑا کہ چلو کسی بہانے بات تو کرے
اپکی چہیتی۔۔۔۔۔۔۔۔سہیلی
ٹھہرے لہجے میں پھنکاری تو وہ قہقہہ روکتے بے حال ھوۓ
اچھی ھے ناں وہ؟؟
مزید اسے آگ لگاٸی تو وہ آتش فشاں بنی تن فن کرتی ٹرے اٹھاۓ باھر نکلی تھی
وہ بھی پیچھے پیچھے چلتے وہاں سب کے بیچ بیٹھے اسی کو نظروں کے حصار میں رکھے ھوۓ تھے جبکہ مشعل خونخوار نظروں سے کبھی اسکو تکتی کبھی زاویار کو۔۔۔ نگہت مغرب کی نماز کے لیے اپنے روم میں گٸیں تو وہ ریلیکس ھو کر میدان میں اترے
اسکا یہ آتش فشاں جیسا روپ اور ناراضگی کا اظہار انھیں بے حد بھایا محبت کا اظہار تو اسکی جانب سے ھونا نہیں تھا تو اسکا یہ روپ ھی اظہار کے جیسا تھا
یعنی وہ اس قدر جیلس ھو رھی تھی زنیرہ سے
ان کے د ل پر ٹھنڈی پھوار سی پڑی
چاۓ کافی بنانا سیکھ لو تم۔۔۔ ابھی تو مشعل سے منوا لیا کرتا ھوں مگر زندگی بھر تو تمھاری ڈیوٹی لگے گی یہ سو۔۔۔۔۔۔سیکھ لو زنیرہ
مسکراہٹ دباتے ھوۓ انھوں نے زنیرہ سے کہا تو وہ ہونق ھوٸی جبکہ مشعل کے سر پر حیرت کے پہاڑ ٹوٹے تھے
اسکا چہرہ دیکھ کر زاویار کا جی چاھا ساری حدود و قیود بھلا ڈالیں مگر ضبط کیے اسکا سرخ چہرہ دیکھنے لگے
مجھ۔۔۔۔۔مجھے پیپر کی تیاری کرنی ھے
یہ کہہ کر وہ وہاں سے بھاگی تو زاویار سر جھکا کر دل سے مسکراۓ
یہ کیا کیا ھے؟؟؟
زنیرہ نے حیرت سے انھیں دیکھا جو مسلسل مسکراۓ ھی جا رھے تھے
تم نے دیکھا اسکا ری ایکشن؟
اب اسے منانے میں جو خوشی ھوگی ناں تم اس کا اندازہ بھی نہیں لگا سکتی
میرے ایک شعرسنانے پر اتنا بھڑکے تھے اور خود اسکو پورا سگنل دے گٸے ھو کہ سمتھنگ بِٹوین اس۔۔۔۔۔انھیں گھورتے وہ بولی تو انکا قہقہہ گونجا تھا
تم اتنا زور مت ڈالو اپنے دماغ پر آگ لگ جاۓ گی اس میں۔۔۔۔انھوں نے شرارت سے اسے کہا تو وہ بھی ہنس دی
نگہت کے آنے پر ٹاپک چینج ھوا تھا
کچھ دیر بعد ھی زاویار کے ایک پرانے دوست آگٸے تو ان کو ٹاٸم دیتے دیتے خاصا وقت ھوگیا
رات کا کھانا بھی اسی دوست کیساتھ کھایا اس چکر میں زنیرہ کو بھی سی آف نہ کر سکے
جب تک فری ھوۓ وہ وقت نہ تھا کہ مشعل کے روم میں جاتے۔۔۔ ابراھیم سے آفس اور اسکی پرابلمز ڈسکس کرنے کے بعد صبح مشعل کو منانے کا ارادہ کرتے وہ سونے کے لیے اپنے روم میں آۓ تھے
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ساری رات بخار میں پھنکنے کے بعد وہ فجر کے وقت ھی سوٸی تھی
نگہت کو کال کر کے اس نے اپنے روم میں بلایا تھا تا کہ وہ اسے کوٸی دوا دے دیں انھوں نے اسے دو سلاٸس کھلاٸے اور وہ دودھ کیساتھ ناک منہ چڑھاتے دوا نگلنے کے بعد آنکھیں موندے لیٹ گٸی
زاویار ناشتہ کرنے کچن میں آۓ تو نگہت نے انھیں اسکے بخار کی بابت بتایا تھا
”اتنا صدمہ لے گٸی لڑکی“منہ ھی منہ میں کہتے وہ اسکی خیریت پوچھنے کو اٹھے۔۔۔۔
ناشتہ تو کر لو بیٹا۔۔۔۔
بس ابھی آیا۔۔۔ابراھیم کو جواب دیتےوہ کچن سے نکلے
میں بھی جاتا ھوں بچی کا حال پوچھنے۔۔۔۔۔ھوا کیا ھے ؟کل تک تو ٹھیک تھی۔۔۔دوا دی ھے؟نگہت سے وہ تفصیل پوچھنے لگےتو وہ انھیں دھیرے دھیرے بتانے لگیں
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
کیسی طبیعت ھے اب؟
بخار کی شدت سے سرخ ھوتے اس کے چہرے کو بغور دیکھتے انھوں نے سرسری سا پوچھا تھا
ھممم۔۔۔۔۔ ٹھیک ھوں میں۔۔۔۔مجھے کیا ھونا ھے بھلا۔۔۔۔؟؟؟
زہر لہجے میں اس کے کہنے پر وہ اپنی بے ساختہ آنے والی مسکراہٹ لبوں میں ھی دبا گۓ
ویسے مشعل۔۔۔۔۔تمھیں زنیرا پسند نہیں آٸی کیا؟؟؟کافی کولڈ بی ہیویٸر تھا تمھارا اس کے ساتھ۔۔یہ بہت غلط بات ھے کیا سوچ رہی ھوگی وہ کہ زاویار کی مشعل ایسی بد اخلاق ھے
بظاہر لہجہ پر شکوہ بناتے جبکہ اپنے چہرے کے تاثرات کو شرارتی ھونے سے روکتے انھوں نے کہا تھا
دوسری طرف وہ ان کے” زاویار کی مشعل“ کہنے پر وہ ہاتھوں میں چہرہ چھپاۓ پھوٹ پھوٹ کے رونے لگی
”کہہ کیوں نہیں دیتی کہ محبت کرتی ھو مجھ سے“
وہ بے بسی سے اسکا رونا دیکھتے سوچنے لگے
آگے بڑھ کر اس کے چہرے سے ہاتھ ہٹاۓ اور بمشکل اسے اپنے سینے سے لگانے کو مچلتے دل کو سنبھالا
کیاھوا ھے؟یوں کیوں رو رھی ھو؟
ان کے اس قدر قریب آنے پر وہ لب کچلتی رونا بھول کر کچھ پل انھیں دیکھے گٸی
وہ۔۔۔۔۔۔وہ سر دکھ رھا ھے بہت
نظریں چراتے اس کے کہنے پر وہ لب بھینچ کر رہ گے
اگلوا کر رھونگا تم سے تمھاری منہ زور محبت۔۔۔۔۔
دانتوں کے تشدد سے سرخ لبوں پر گہری نظر ڈالتے انھوں نے تہیہ کیا اور اسے آرام کرنے کا کہتے روم سے نکل گٸے
کیونکہ ابراھیم کسی بھی وقت روم میں آنے والے تھے..

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: