Mera Sham Slona Shah Piya Novel By Bella Subhan – Episode 11

0
میرا شام سلونا شاہ پیا از بیلا سبحان – قسط نمبر 11

–**–**–

تاٸی جی یہ مجھے دے دیں آپ کو آنٹی نے بلایا ھے پلیز آپ ناشتہ کریں جا کر۔۔۔۔
ان کے ہاتھ سے چاۓ کے کپ سے بھری ٹرے لیکر وہ کچن سے نکلتی ھوٸی ڈاٸننگ ہال میں آٸی جہاں سب بزرگ افراد ناشتہ کر رھے تھے
ان دنوں میں وہ سب کیساتھ گھل مل گٸی تھی ریزرو سی نیچر ھونے کے باوجود اتنی اپناٸیت ملنے کے بعد وہ بھی ان کے اپنے پن کی قاٸل ھونے کے ساتھ ساتھ انھی کی طرح سب سے پیش آنے لگی چاۓ کی ٹرے ٹیبل پر رکھنے کے بعد وہ جانے کو مڑی تو پھپھو نے اسکا ہاتھ پکڑتے روکا
میرے ساتھ بیٹھو بیٹا۔۔۔۔مل کر ناشتہ کرتے ھیں
محبت سے انھوں نے کہا تو وہ شرمندہ سی ھوگٸی
سندس کی سب کزنز حتی کہ بہن عنبر بھی ابھی تک بغیر ناشتے کے کام کاج میں مصروف تھی تو اسے عجیب لگا ان سے پہلے ناشتہ کرنا
پھپھو آپ کیجیۓ نا پلیز۔۔۔۔میں ان سب کیساتھ ھی کرونگی سب کی طرف اشارہ کرتی
سہولت سے انھیں کہتے وہ جانے کو پلٹی تو پھپھو کی آواز اس کے کانوں سے ٹکراٸی جو وہاں موجود افراد سے مخاطب تھیں
یہ بچی مجھے بہت پسند ھے بڑی محبت اور عزت کرنے والی ھے
سب نے انکی تاٸید کی تھی
ان کی بات پر اس کے لبوں پر مسکراہٹ آٸی
سب کے ساتھ ناشتہ کرنے کے بعد ایک دوسرے کیساتھ گپیں لگاتے کپڑے پریس کرتے شام کے تین بج چکے تھے
چونکہ سندس اپنے سسرال تھی اور سب لڑکیاں تیار ھونے کو پارلر جا رھی تھیں تو بے حد اسرار بلکہ زبردستی اس کو بھی ساتھ بھیج دیا گیا تھا
ایک تو اسکو ساڑھی پہننی تھی دوسرا جانے کیسا میک اپ ھونے والا تھا
بے حد الجھی وہ پارلر پہنچی جہاں اس کے مطابق اسے مشقِ ستم بنایا جانا تھا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
تیزی سے بھاگتی ھوٸی وہ روم سے باھر آٸی جہاں سب جانے کے لیے تیار کھڑے تھے۔۔۔۔ارے عنبر بیٹا جاٶ ثانیہ کو بھی بلا لاٶ جا کر۔۔۔ پانچ منٹ کا کہہ کر گٸی تھی ابھی تک نہیں لوٹی
سعدیہ( عنبر کی والدہ)نے اسے دوڑایا کیونکہ آدھے لوگ گاڑیوں میں بیٹھ چکے تھے۔۔۔ولیمہ کا فنکشن ہال میں رکھا گیاتھا اورآدھا پونا گھنٹہ راستے میں ھی لگ جاتا
بس کر دیں ثانیہ آپی۔۔۔۔کتنی بار پنز کھول کر سیٹ کریں گی اسکو۔۔ساڑھی بھی دہاٸی دیتی ھوگی کس شہزادی نے مجھے زیب تن کیا ھے کہ مطمٸن ھی نہیں ھو پارھی
عنبر نے اسے چھیڑا جواباً وہ چھِڑ بھی گٸی
نہ تنگ کرو مجھے۔۔۔یہ کونسا عذاب متھے مار لیا میں نے۔۔۔مشعل کی بچی نے کہا کہ لے جاٶ ساتھ اچھی لگے گی اب لگ تو ٹھیک ھی رھی ھے مگر کمفرٹیبل نہیں ھوں میں
میں لگاتی ھوں پنز۔۔۔پلو نہیں سرکتا۔۔۔ ایویں وھم ھو رھا ھےآپ کو آپی
پنز ڈریسنگ ٹیبل سے اٹھاتے وہ بولی اور اچھی طرح پن اپ کرنے کے بعد دونوں باھر آٸیں جہاں سب ھی جا چکے تھے بس ایک گاڑی ھی کھڑی تھی
بیٹھیں بیٹھیں زیادہ لیٹ ھو گٸے ھم۔۔۔عنبر اسکو کہتے گاڑی میں بیٹھی تو اس نے بھی اپنی ساٸیڈ کا دروازہ کھولا
فرنٹ سیٹ پر سندس کے تایا بیٹھے تھے وہ سوچنے لگی کہ جانے گاڑی ڈراٸیو کون کرے گا تب ھی وہ فرنٹ سیٹ پر بیٹھا
اَلسَّلامُ عَلَيْكُم ولید بھاٸی
عنبر کی آواز سنتے آنے والے پر نظر پڑتے ھی جھٹکا کھا کر وہ سیدھی ھوٸی
اللہ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔یہ۔۔۔۔ اس کے ساتھ جاٶنگی میں۔۔۔۔۔ افففف نہیں
اپنی پیشانی مسلتے اس نے کن اکھیوں سے اسے دیکھا جس کی ساری توجہ ڈراٸیونگ پر تھی
حسن کو محض جلانے کے لیے اسکی تعریف کی تھی تو وہ آگ بگولا ھو گیا تھا۔اب تو وہ میری جان ھی لے لے گا کہ اس کےساتھ پہنچی ھوں میں ہال میں
چٌوڑا انسان۔۔۔۔۔۔۔کیا ضرورت تھی بلیک ٹوپیس میں آنے کی۔۔۔۔اور کیا آفت آٸی تھی مجھے آج ھی بلیک کلر پہننے کی
خوامخواہ ایک اورموقع ملے گا اس بدتمیز کو مجھ پر چڑھاٸی کرنے کا
تیکھی نظروں سے اس نے مرر میں جیسے ھی دیکھا تو اسکو اپنی ھی طرف دیکھتے پایا گڑبڑاتے ھوۓ نظروں کا زاویہ تبدیل کر کے وہ بے مقصد ھی بالوں کو سنوارنے لگی جو کھلی کھڑکی سے آتی ھوا کے باعث بار بار اس کے گالوں کو چوم رھے تھے
ایسے جان لیوا منظر پر ولید کا دل گھاٸل ھوا۔مسکراہٹ دبا کر اس نےگاڑی کی سپیڈ مزید تیز کی کیونکہ پہلے ھی خاصی دیر ھو چکی تھی
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
بخار ک نقاہت ابھی باقی تھی اور پیپر کی تیاری کی ٹینشن الگ۔۔۔۔۔نہا کر خود کو فریش کرنے کے بعد چاۓ بنا کر وہ کچن سے نکلی تب ھی اسے زاویار آتے دکھاٸی دیٸے
صبح بے اختیار ھو کر اپنے رونے کو یاد کرتے اس نے اپنے لب بھینچے۔۔۔زاویار نے اسے نہ دیکھا تھا وہ سیدھا اپنے روم کی طرف گٸے تو اس نے سکھ کا سانس لیا کیونکہ ابھی وہ ان کا سامنا نہیں کرنا چاھتی تھی
نگہت ملازمہ سے گھر کے پچھلی جانب بنی لانڈری کی صفاٸی کروا رھی تھیں
وہ سست روی سے چلتی ھوٸی اپنے روم میں چلی آٸی
چاۓ کو ڈریسنگ ٹیبل پر رکھ کر ہیٸر برش اٹھایا اور الجھے بال سنوارنے لگی
آنکھوں میں عجیب سی ویرانی تھی جانے دل میں کہا سماٸی بھر بھر کے آنکھوں میں کاجل لگایا اور بغور اب اپنا تنقیدی جاٸزہ لینے لگی
وہ آٸینے میں اپنی ادا دیکھ رھے ھیں
مر جاۓ کہ جی جاۓ کوٸی ان کی بلا سے
آواز پر وہ اچھل کر مڑی تو ان کو گہری نظروں سے اپنی طرف دیکھتے پایا
ہڑبڑا کر بیڈ پر پڑا دوپٹہ اٹھاکرخود پر پھیلایا تب تک وہ چندقدم کا فاصلہ طے کرتے اس تک آۓ اور ہاتھ میں پکڑی فاٸل کو ڈریسنگ ٹیبل پر رکھا تھا
اسے لاسٹ ٹاٸم زنیرہ سے کی گٸی انکی بات یادآٸی تو شکوے بھری نظروں نےسوال اٹھایا
جسکو سمجھتے وہ منہ نیچے کیے دھیرے سے ہنسے
اتنا ھی جان پاٸی ھو مجھے ؟؟؟
میری زندگی میں کوٸی اور ھو سکتا ھے یہ تم سوچ بھی کیسے گٸی۔۔۔؟؟ حیرت ھےمجھے
”مرد کی دی گٸی عزت ھی محبت ھوتی ھے“
انکی بات پر وہ نظریں چرانے لگی
ادھر دیکھو میری طرف۔۔۔۔تھوڑی کے نیچے انگلی رکھ کر اسکا چہرہ اپنی جانب موڑا تو اسکی ہتھیلیاں پسینے سے بھیگیں۔۔۔اور چہرے پر گلال اترنے لگا جو مقابل کو ضبط کے کنارے تک لے آیا
کیا مجھے کچھ کہنے کی ضرورت ھے؟ کیا میرے ہر اک عمل نے باور نہیں کروایا تمھارا مقام میری زندگی میں؟
بدگمانی,شک,غلط فہمی,تہمت ,الزام یہ سب وہ سیڑھیاں ھیں جن پر پاٶں رکھتے ایک ایک کر کے اترتے ھوۓ کوٸی بھی خوبصورت رشتہ پاتال سی گہراٸی میں منہ کے بل جا گرتا ھے جہاں اس رشتے کہ بس موت ھوتی ھے
آٸندہ کبھی بھی کچھ بھی محسوس کرو۔۔۔۔ تمھیں لگے تمھارےساتھ کچھ انفٸیر ھے توڈسکس کرنا ھے پہلے۔۔۔۔۔۔بغیر کوٸی نتیجہ اخذ کیے
اوکے؟؟؟؟
سر ہلاتی وہ رخ موڑ گٸی تو اسکی آبشار سی زلفیں نظروں کے سامنے آٸی تھیں
ستاٸش سے دیکھتے انھوں نے بالوں کو چھونے کے لیے ہاتھ بڑھانا چاھا مگر خود پر قابو کرتے ھوۓ ٹیبل پر پڑا چاۓ کا مگ اٹھا کر لبوں سے لگایا
ھا۔۔۔۔۔۔۔یہ میری جوٹھی ھوتی تو؟؟؟؟
اس نے حیرت سے انھیں اپنی چاۓ پیتے دیکھ کر پوچھا تو انکی نگاھوں میں جذبے لو دینے لگے
تو۔۔۔۔۔۔۔۔زیادہ میٹھی ھوتی
گھمبیرتا سے کہتے معنی خیز نگاھوں سے اسکو تکتے مگ واپس ٹیبل پر رکھا اور روم سےنکلتے چلے گٸے
جبکہ وہ سن کھڑی تھی حواس واپس آۓ تو شرمیلی سی مسکراہٹ نے لبوں کا احاطہ کیا مگ اٹھا کر انکی چھوڑی ھوٸی چاۓ کا ابھی پہلا سپ ھی لیا تھا جب وہ پھر روم میں اینٹر ھوۓ
گڑبڑاتے ھوۓ اس نے مگ ٹیبل پر واپس رکھا
انھوں نے حیرت سے اسکا بوکھلانا دیکھا پھر جیسے سب سمجھتے ھی شرارت سے مسکراۓ تھے
ھاۓ۔۔۔۔۔۔
لہجے میں مصنوعی حسرت سموتے انھوں نے اسے چھیڑا
مجھے پسند ھیں تیرے کھلے گیسو
تمھیں پسند ھے میری جوٹھی چاۓ
اس نے بے احتیار اپنی آنکھیں میچ کر نچلا لب دانتوں میں دبایا
اسکو شرم سے بے حال دیکھتے ھوۓ وہ ٹیبل پر پڑی فاٸل اٹھاتے اسکی جانب ذراسا جھکے
مشعل کی سانس سینے میں ھی اٹک گٸی
ریلیکس۔۔۔۔۔۔جا رھا ھوں
مسکراہٹ دباتے اسے کہا اور روم سے باھر نکلتے دروازہ بھی بند کر گٸے
بے دم ھو کر وہ بیڈ پر بیٹھی اپنی سانسیں معمول پر لانے لگی
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ہال پہنچتے ھی وہ گاڑی سے نکلی۔اسکی کوشش تھی کہ حسن کی نظر میں آنے سے پہلے ھی اس گاڑی سے دور ھو جاۓ جس سے یہ بات حسن کے علم میں آتی کہ وہ ولید کے ساتھ آٸی ھے مزید ستم ان کے ڈریسیز کی میچنگ۔۔۔۔۔وہ سوچتے ھی بے بسی سے دانت کچکچا کر رہ گٸی
عنبر کے ساتھ چلتے اسےاندازہ تک نہ تھاکہ محترم ولید بھی خراماں خراماں اس سے ایک قدم پیچھے چلے آ رھے ھیں
ساڑی کی فال کو درست کرتی وہ ایک دم لڑکھڑاٸی جب ولید ایک دم اسے تھامنے کو آگے بڑھا تھا اس سے پہلےکہ وہ اسے ہاتھ لگا پاتا وہ اسے سرد لہجے میں تھینک یو کہتے سنبھلی تب ھی حسن وہاں پہنچا جس نے سلگتی نگاھوں سے یہ منظر دیکھا تھا
چلو۔۔۔۔۔۔اسکا ہاتھ تھام کر وہ اندرونی حصے کی جانب بڑھا وہ اس کے ساتھ کھنچتی چلی گٸی اس نے حسن کے تاثرات جاننے چاھے مگر کچھ اخذ نہ کر سکی کیونکہ وہ ناک کی سیدھ میں سپاٹ چہرہ لیے اسکے ہمراہ چل رھا تھا
رنگ و بٌو کا سیلاب اور ہر قسم کی فکر سے آزاد چہرے بات بے بات قہقہہ لگاتے لوگ اور اس پر خواتین کی بے باک سی ڈریسنگ۔۔۔ خاصےآزاد خیال لوگ تھے اسے اس ماحول سے گھٹن کا احساس ھوا
تب ھی ایک ٹیبل پر اس کے لیے چیٸر گھسیٹ کر حسن نے بیٹھنے کو کہا تو وہ بغیر چوں راں کیے بیٹھ گٸی
اللہ۔۔۔۔۔۔اب یہ میری کلاس لے گا۔۔۔۔ھونٹ بھینچے وہ سوچے گٸی
جبکہ حسن تو کسی اور ھی جہان میں تھا۔۔۔۔ ہاں اسے غصہ آیا تھا دونوں کوساتھ دیکھ کر مگر پھر سارا غصہ ثانیہ کے حسن کے آگے ماند پڑتے پڑتے گم ھوگیا
ایسا روپ کہاں دیکھا تھا اس نے ثانیہ کا۔۔۔وہ نظر بھر کر اسے دیکھ بھی نہیں رھا تھا کہ کہیں اسکی نگاھیں اس کے دل کاراز نہ اگل دیں جس سے ابھی وہ خود نظریں چرا رھا تھا
ثانیہ۔۔۔۔
وہ مسلسل اپنےناخنوں کو دیکھتی اس کے متوقع غصے سے خاٸف تھی جب حسن نے دھیرے سے اسے پکارا
گہرہ سانس بھر کر خود کو تیار کرتے ھوۓ اس نے حسن کی جانب دیکھا۔۔۔۔۔جانے کیا کیا آنکھوں پر رنگ اور حد یہ کہ نقلی پلکیں تک لگاۓ اس کی آنکھیں قیامت لگ رھی تھیں
اسکی آنکھیں بتاٶں کیسی ھیں
جھیل سیف الملوک جیسی ھیں
یہ شعر اس کے لبوں پر آتے آتے رکا آنکھوں سے بمشکل نظریں ہٹاتے دھیان لبوں تک گیا جہاں گہری سرخ لپ اسٹک سجی تھی
اففف اسکیے نچلے ھونٹ میں دنیا کا آدھا فساد چھپا ھے۔۔۔۔وہ منہ ھی منہ میں بڑبڑا کر رھ گیا
اور ثانیہ جو اس کے اتنی گہری نظروں سے دیکھنے پر سمٹ رھی تھی اسکو مراقبے میں جاتا دیکھ کرشرم وحیا کو دفع دور کرتی میدان میں اتری
اتنا لفنگوں کی طرح کیوں دیکھ رھے ھو؟؟؟اللہ۔۔۔۔۔۔کبھی کوٸی حسین لڑکی نہیں دیکھی نہ تم نے۔۔۔۔سر کو جھٹکنے پر بال جو ہلکا سا لہراتے ھوۓ آگے کی طرف آۓ توحسن نے بے اختیار سر ہلاتے خود کو ہوش میں لانے کی سعی کی
ایک تو خود چاۓ جیسی رنگت ھے تمھاری دوسرا رنگ کالا پہن لیا تیسرا بال کھول لیے چوتھا لال و لال ھونٹ۔۔۔۔بلکل کوٸی خون آشام ڈاٸن لگ رھی ھو
حیرت سے منہ کھولے وہ اسکی لن ترانیاں سننے لگی۔۔۔
اچھا نظریں تو کچھ اور ھی کہہ رھیں تھیں
آہاں۔۔۔۔۔۔پڑھ پاٶگی نظریں میری؟؟؟
لہجہ اور نگاھیں دونوں ھی بدلیں تووہ سٹپٹاتے ھوۓ ادھر ادھر دیکھنے لگی
تبھی عنبر مونا اور ان کی کچھ کزنز ثانیہ کو سندس سے ملوانے سٹیج پر لے گٸیں جبکہ حسن حمدان کے بلانے پر اٹھ کھڑا ھوا
ہلکے پستٸی رنگ کے لانگ فراک میں سندس کل کی نسبت آج زیادہ حسین لگ رھی تھی دولہا دلہن کےداٸیں باٸیں بیٹھ کر پکس بنوانے اور گفٹس دینے کے بعد وہ سٹیج سے نیچے اترے تبھی ولید اس کےسامنے آیا۔۔۔۔اگر وہ نہ رکتی تو یقیناً اس سے ٹکراٶ ھو جاتا
ناگواری سے اس نے نظریں اٹھاٸیں تو وہ خبیٹ مسکراہٹ لیے اسے تک رھا تھا دِکھنے میں اچھا خاصا مہذب مگر اس حرکت کے بعد وہ اسے زھر لگا
جلد ملتے ھیں۔۔۔
کیا ھوا؟؟؟حسن نے جاتے جاتے پیچھے مڑ کے دیکھا وہ ہنوز سٹیج کے قریب ھی کھڑی تھی اس تک جا کر پوچھنے پر وہ چونکی۔۔۔ولید یقیناً جا چکا تھا
حسن کو دیکھتے اس نے نفی میں سر ہلایا اوراسکے ساتھ چل دی
کانوں میں ولید کا جملہ”جلد ملتے ھیں“ گونج رھا تھا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ڈونٹ وری بابا۔۔۔۔۔میں سنبھال لونگا سب ۔۔۔۔آپ وہاں کا مسٸلہ سلجھا آٸیں
خود کا بھی خیال رکھنا ھے اور شوگر ھاٸی نہ ھو آپ کی پلیز پرہیز کیجیۓ گا کچھ بھی ایسا کھانے سے جس سے شوگر لیول ڈسٹرب ھوتا ھو
ابراھیم سے گلے ملتے وہ واپس جانے کو مڑے۔۔۔۔انھیں ایٸر پورٹ ڈراپ کرنے کے بعدحسن کو فون کیا حال چال پوچھا اور واپسی کی بابت تفصیل جاننے لگے
وہ لوگ آج ھی واپس آنے والے تھے اورانکا پلان تھا کہ حسن کے آنے سے پہلے اسکا برتھڈے پریزنٹ لے آٸیں
وہیں سے گاڑی مارکیٹ کی طرف موڑی اور حسن کے لیے کافی سوچ بچار کے بعد لیپ ٹاپ خریدا پچھلا لیپ ٹاپ بھی انھوں نے ھی اسے تین سال پہلے دیا تھا تو سوچا اب چینج ھو جانا چاھیے یقیناً اس کو پسند بھی آتا
مشع کے لیےآٸسکریم پیک کروا کر گاڑی گھر کی جانب موڑی تو لب آپ ھی آپ مسکرانے لگے وہ دشمنِ جاں اور اس کی بد حواسیاں بوکھلاہٹیں دل میں میٹھا سا درد جگانے لگیں
”میری جھلی سی محبت“
زیرِلب کہتے وہ سر شار ھوۓ۔۔۔قسمت سے بلکل انجان جو جانے کیا گل کھلانے والی تھی
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
کیا ھوا ھے؟؟؟گونگے کا گڑ کھا لیا ھے کیا تم نے جو اتنی خاموش ھو؟؟
اسکی مسلسل خاموشی سے حیران ھوتے حسن نے پوچھا تھا
وہ لوگ آدھا گھنٹہ پہلے ھی سب سے مل کر واپسی کے سفر پر گامزن تھے مگر ثانیہ چپ چپ سی تھی اور یہ چپ حسن کو بے حد کَھلی
ھممم کچھ نہیں۔۔۔
ٹیل می ثانیہ ادرواٸز یو نو می۔۔۔۔دھمکاتے ھوۓ اس نے پوچھا تو وہ اس پر ایک نظر ڈال کر رہ گٸی
ولید بہت۔۔۔۔۔۔۔عجیب تھا ناں حسن؟؟
کچھ کہا اس نے؟جبڑے بھینچتے اس نے پوچھا
حسن؟؟
اسکی آنکھوں میں ہلکی سی نمی آٸی تو وہ بے حد پریشان ھوتا گاڑی روک گیا
بتاٶ مجھے کیا ھوا ھے کیا کہا ھے اس نے تمھیں؟کوٸیک ثانیہ۔۔۔۔۔اسکے چیخ کر پوچھنے پر وہ دہل گٸی
مجھےکہتا۔۔۔۔ جلد ملیں گے
گھٹی گھٹی آواز میں وہ بولی تو اسکی ماتھے کی رگ غصے کے باعث پھولنے لگی
کب کہا؟
جب ھم سٹیج سے اترے تھے تب ھی
تومجھے کیوں نہیں بتایا تم نے تبھی منہ توڑ دیتا اسکا میں۔۔۔۔اسکو ایک بار کہہ دیا کہ منگیتر ھوتم میری تو اسکو کیا تکلیف تم سے بات بھی کرنے کی۔۔۔۔میری ملکیت کی طرف دیکھنے کی ہمت بھی کیسے کی اس نے۔۔۔۔
بولتے بولتے وہ رکا اور ٹھٹھک گیا جبکہ وہ بھی اپنی جگہ سناٹے میں آ گٸی تھی
اقرار کے لمحے یوں ان کے بیچ آۓ تھے کہ جہاں وہ شرم سے گڑی وہیں اس نے پہلے حیرت سے اپنا جی ٹٹولا جہاں واقعی وہ پوری آب و تاب سے براجمان تھی اور پھر خود کو کوسا کہ کیوں کہہ دیا یہ سب
میرا مطلب کہ اسکو یہی لگنا چاھیے تھا کہ تم ملکیت ھو میری مگرخیر تم پریشان مت ھو سب ٹھیک رھے گا اوکے
اسکو تسلی دی تھی یا شاٸد خود کو۔۔۔بہرحال بات کا اثر زاٸل کرنے کی کوشش کی تھی جو کہ کافی حد تک کامیاب رھی تھی
اور وہ خود سے جنگ میں مصروف تھی کہ کیوں دل نے اسے ھی چن لیا تھا جسکو پرواہ تک نہ تھی اسکی۔۔۔بس ھر وقت کا مذاق اور غیر سنجیدگی ھی جسکا خاصا تھی
روح اسکو طلب کر بیٹھی تھی
یہی تو ھے میری مشکل بہت نازک ھے میرا دل
تیرے سینے میں پتھر ھے تجھے کس بات کا ڈر ھے؟
میں تجھ کو لاکھ بہکاٶں تجھے الجھاٶں بھٹکاٶں
تٌو اپنے راستے پر ھے تجھے کس بات کا ڈر ھے؟
تٌو مجھ کو چھوڑ جاۓ گا تعلق توڑ جاۓ گا
مجھے اس بات کا ڈر ھے تجھے کس بات کا ڈر ھے؟
_________
تمھیں سچی بہت مس کیا میں نے۔۔پتا ھے بخار بھی ھو گیا تھا مجھے بیمار تھی میں۔۔۔۔۔
لاڈ سے ثانیہ کو کہتی وہ بہت معصوم بچی لگی ۔۔حسن نے اسے اپنے ساتھ بٹھایا اور پیپر کا پوچھنے لگا
ساری باتیں چھوڑیں بھاٸی۔مجھ بتاٸیں کیسے رہ لیا اتنا وقت ایک ساتھ؟؟بغیر لڑاٸی کے۔۔۔بہت حیرت ھے مجھے
بس تمھارے بھاٸی پر ترس کھا لیا۔۔۔۔اکیلا بیچارا رونے لگ جاتا تو بھٸی مجھے تو تجربہ بھی نہیں مردوں کو چپ کروانے کا
ھا ھا ھا۔۔۔۔۔۔ٹھنڈا جوک تھا یہ کافی۔۔۔ہنسی نہیں آٸی بی بی
میں بتاٶں رو کون رھا تھا ھاں۔۔گاڑی میں آتے کون رونے کا پروگرام بنا کے بیٹھا تھا ہونہہ۔۔۔آٸی بڑی
حسن نے اینٹ کی مانند بات کی
مجھے تو تم چھیڑو ھی مت ورنہ بتاٶں میں کہ کیسے کیسے تم جیلس ھوۓ تھے جب کوٸی میرے ساتھ بیٹھ گیا تھا آ کر۔۔۔۔۔ آیا بڑا۔۔۔۔۔ہونہہ
اینٹ کا جواب پتھر سے نہ دیتی تو نیند کیسے آتی بیچاری کو
اپنی چونچیں لڑاتے انھیں پتا ھی نہ چلا کہ مشعل وہاں سے جا چکی تھی زاویار کے آنے تک یونہی لڑتے ہنستے نگہت کیساتھ وقت گزارتے رھے جبکہ وہ اپنے روم میں پیپر کی تیاری کر رھی تھی کل پیپر بھی تھا تواس نے ذرا سیریس ھو کر توجہ پڑھاٸی کی طرف کی
کھانا وہ چونکہ دوپہر کو کھا چکی تھی تو بھوک محسوس نہ ھوٸی تب ھی اسے یادآیا کہ نگہت نے فریج میں رکھی آٸسکریم کا ذکر کیا تھا جو زاویار دے کر گٸے تھے مگروہ تب روم سے نہ نکلی تھی
وہیں بیٹھے بیٹھے اس نے ثانیہ کو میسیج کیا کہ روم میں آتے ھوۓ آٸسکریم لیتی آۓ ساتھ ھی زاویار کو بھی میسیج میں سوری بھیجا کیونکہ وہ زنیرہ کی وجہ سے جو بدگمان ھوٸی تھی اس کی پریشانی میں ان کو کافی بنا کر دینا چھوڑ چکی تھی
انھیں میسیج کرنے کے بعد سیل کو آف کیا کیونکہ وہ جانتی تھی کہ اگر کوٸی بھی رپلاۓ آیا تو اسکا دھیان پھر کتابوں میں نہیں لگنا تھا
بری طرح کتابوں میں غرق ھوۓ کافی دیر ھو چکی تھی تقریباً ساڑھے دس بجے ثانیہ روم میں آٸی ہاتھ میں اس کے حصے کی آٸسکریم کا چھوٹا سا باٶل تھا
کتابوں کو ایک ساٸیڈ پر کرتے بیڈ پر ھی نیم دراز ھوتے اس نے زوردار انگڑاٸی لی
تھک جاٶ گی اب ذرا ریسٹ بھی کر لو۔۔۔۔۔
کرتی ھوں ریسٹ بھی۔۔۔۔پکس تو دکھا دے یار شادی کی
اس نے مصنوعی ناراضگی دکھاتے کہا تو وہ ساتھ جڑ کے بیٹھتے ایک ایک تصویر پر سیرحاصل گفتگو کرنے لگیں
بھاٸ کہتے کہ کل ڈنر باھر کرنا سب نے حسن کی برتھ ڈے سیلیبریشن یو نو۔۔
اوہ ہاں اچھا یاد کروایا۔۔۔مجھے تو آج کل کچھ یاد نہیں رہتا۔۔۔شکر ھے گفٹ لے آٸی تھی پہلے ھی
وہ جس پر زاویار بھاٸی نے ڈانٹا تھا شاٸد تمھیں۔۔ثانیہ نے اسکو چھیڑا۔۔۔۔اسے لگا کہ مشعل کو برا لگے گا مگر اس کے ذہن پر گاڑی والا سین لہرایا تو ہاتھ پیر جھنجھنا اٹھے وہ وقت سوچتے ھی۔۔۔۔ جس کو وہ اپنی زندگی میں کبھی فراموش نہں کر سکتی تھی
سو گٸے سب؟؟؟
اس کے چہرے سے کچھ ظاھر نہ ھو جاۓ اس نے بات بدلی تو ثانیہ نے اسکو بغور دیکھا اور جانچا
بدلے بدلے سے میرے سرکار نظر آتے ھیں۔۔۔۔شکل کو کیا ھوا ھے لڑکی۔۔۔۔سرخ پڑ گٸی ھے رنگت۔۔۔۔۔اور آنکھیں بھی کچھ کچھ۔۔۔۔۔؟؟
آنکھیں گھماتے اس نے پوچھا تو وہ اسے گھورتے ھوۓ ادھر ادھر کی باتوں میں لگا گٸی
مجھ پر دم کرو مرشد
وہ میری آنکھوں سے ظاھر ھونے لگا ھے
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
جلدی جلدی آٹا گوند کر ناشتے کے لیے پیڑے بناتے ھوۓ وہ ساتھ ساتھ یہ بھی سوچ رھی تھی کہ حسن کے اٹھتے ھی اسے وش کرے گی۔۔۔۔رات ڈنر پر کیا پہنے یہ سوال بھی اسے پریشان کر رھا تھا
چاۓ کے لیے پانی رکھا تب ھی زاویار اور مشعل اکٹھے کچن میں آۓ
صبح صبح ناشتہ کرنے کا دل نہیں چاھتا کیوں زبردستی کروا رھے ھیں۔۔۔۔
منہ بسورتے مشعل نے زاویار سے کہا تو وہ آنکھوں سے ھی اسکو بیٹھنے کا کہتے ناشتہ اس کے اسکی طرف کھسکانٕے لگے
ثانیہ نے یہ منظر دیکھتے اپنی مسکراہٹ دباٸی۔۔۔
”سہی اس چھوٹی سی لڑکی نے میرے بھاٸی کو اپنا شیداٸی بنایا ھوا ھے“
آھم آھم۔۔۔۔۔۔بھاٸی آپ بھی تو کریں یا اسے دیکھنے سے ھی پیٹ بھرنا ھے اپنا؟؟
شرارت سے اس نے کہا تو وہ پہلے حیرت اور پھر اسے سرزنش کرتی نگاھوں سے دیکھ کر رہ گٸے
جبکہ مشعل اہنی جگہ چور سی ھوگٸی تھی
ارے امبیرز مت ھو یار۔۔۔۔۔۔۔کوٸی دیکھے نہ دیکھے میں تو دیکھوگی اور ھر بات جانتی بھی ھوں سو۔۔۔۔۔جسٹ چِل
دونوں کو دیکھ کر کہتی وہ توے پر ڈالے پراٹھے کی طرف متوجہ ھوٸی
جوس کا گلاس پی کر ٹیبل پر رکھتے ھی وہ اٹھے اور ثانیہ کو ایک چپت لگاٸی
یہ بہنیں بھی ناں۔۔۔۔۔۔رحمتیں ھوتی ھیں
پیار سے اسکو ساتھ لگاتے وہ کچن سے نکلے تو مشعل بھی ان کے پیچھے بھاگی جو مارے باندھے ھی ناشتہ کر رھی تھی کچھ اسکو ثانیہ کی نظریں بھی ڈسٹرب کر رھی تھیں
واپس آٶگی تو پوچھونگی۔۔۔ابھی پیپر دے آٶ سکون سے۔۔۔۔۔اسے چھیڑتے ھوۓ ثانیہ نے پیچھے سے ہانک لگاٸی تو اسے زاویار پر غصہ آنے لگا
کا ضرورت تھی یہ سب کرنے کی اب وہ مجھے تنگ کرے گی۔۔۔۔۔گاڑی میں بیٹھتے ھی ناراضگی سے کہتے ھوۓ اس نے انھیں دیکھا
تو تم نہ تنگ ھونا
بڑے سکون سے جواب آیا جو اسے بے سکون کر گیا
ایسے کیسے نہ تنگ ھوں میں بھلا۔۔۔۔بہت برے ھیں آپ زر۔۔۔۔مجھ سے اب اسی ٹینسشن میں پیپر بھی نہیں دیا جانا ٹھیک سے
وہ جو اپنی ھی دھن میں بول رھی تھی اسکی زبان کو بریک تب لگا جب زاویار نے اسکا ایک ہاتھ پکڑ کر اسٹیرنگ پر رکھ کر اپنے ہاتھ اس پر رکھتے ڈراٸیونگ جاری رکھی
ایسا کرنے سے وہ انکی طرف جھک آٸی تھی
اب بولو۔۔۔۔۔کیا کہہ رھی تھی تم۔۔۔۔مسکراہٹ لبوں میں دباتے انھوں نے اسے جذبے لٹاتی نگاھوں سے ایک پل کو دیکھا
ان کے ہاتھوں کے نیچے دبا اسکا ہاتھ کانپا جسکی کپکپاہٹ کو محسوس کرتےھوۓ زاویار کے دل نے ایک بیٹ مس کی
کالج کے آنے تک وہ اپنی جگہ منجمد رھی اور زاویار بھی اس وقت کی خوبصورتی محسوس کرتے سرشار تھے
کالج گیٹ کے سامنے گاڑی روکتےھی اس نے جھٹکے سے اپنا ہاتھ ان کے ہاتھوں کے نیچے سے نکالا۔۔۔
کبھی کبھی جی چاھتا ھے راستہ ختم ھی نہ ھو۔۔۔۔۔ اسکی طرف جھکتے انھوں نے سرگوشی کی تو وہ انھیں اللہ حافظ کہتی ھوٸی گاڑی کا دروازہ کھول کے کالج کی طرف تیزی سے بڑھی
اسکو جاتا دیکھتے مسلسل مسکان نے ان کے لبوں کا احاطہ کیے رکھا تھا

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: