Mera Sham Slona Shah Piya Novel By Bella Subhan – Episode 12

0
میرا شام سلونا شاہ پیا از بیلا سبحان – قسط نمبر 12

–**–**–

ڈور ناک کیا مگر جواب نہ پاکر وہ ھولے سے ناب گھماتی اندر چلی آٸی
سر تک کمبل تانے وہ دنیا جہاں سے بے خبر گدھے گھوڑے بیچ کر سو رھا تھا اس قدر گہری نیند تھی اسکی۔۔۔۔ اسکو کچھ خبر نہ تھی کہ کمرے میں کوٸی اور بھی موجود ھے
دن کے بارہ بج چکےتھے مگر موصوف کی ابھی صبح ھی نہیں ھوٸی تھی
کمبل اس کے سر سے کھینچتے اس نے اپنی ھی شامت بلواٸی
اگلے ھی پل اسکا چہرہ نظروں کے سامنے تھا مندی مندی آنکھوں سے اسکو کچھ دیر دیکھنے کے بعد جیسے جیسے حواس بیدار ھوتے گٸے ویسے ویسے نگاھوں میں خمار اترتا گیا
دنوں بازو سینے پر لپیٹے وہ اسکے یوں دیکھنے پر نروس ھوتی جونہی پیچھے ھونے لگی تو حسن نے اسکے دوپٹے کا پلو پکڑتے ھوۓ اسکی کوشش ناکام بناٸی تھی
گزشتہ رات کی سحر اس قدر دلفریب ھوگی معلوم نہ تھا۔۔۔۔۔
سحر نہیں دوپہر۔۔۔۔ثانیہ نے بے اختیار دانت پیسے۔۔۔۔۔دو موڈ ھی آن رھتے ھیں ٹھرک اورمذاق
سر جھٹکتے اس نے اپنا غصہ دباتے اسے دیکھا جو اسکے پلو کو اپنے چہرے پر رکھے کسی اور ھی جہانوں کی سیر سے لطف اندوز ھو رھا تھا
اوۓ۔۔۔۔۔۔۔دوپٹے کا پلو اس کے چہرے سے کھینچتے ھوۓ وہ چیخی تو حسن ہڑبڑاتے ھوۓ اٹھ بیٹھا
تم واقعی میں ھو یہاں؟؟؟
اس پر جیسے ھی نظر پڑی تو حیرانی سے اس نے استفسار کیا
سوٸی قوم۔۔۔۔۔۔مبارک ھو سالگرہ تمھیں۔۔۔۔ بیڈ کی ایک ساٸیڈ پر ذرا سا ٹکتے اس نے گویا حسن پر احسانِ عظیم کیا تھا
یوں وش کرتے ھیں؟
تو اور کیا بینڈ باجا بھی ساتھ لاتی۔۔۔۔۔
اس کے شکوے پر وہ ترخ کر بولی تو وہ ہنس دیا
سدھر جاٶ تم۔۔۔ذرا جو میٹھا بول بولا ھو کبھی تم نے
تم سے برداشت کہاں ھوتے ھیں میرے میٹھے لہجے۔۔۔۔اس نے ناک پر سے مکھی اڑاٸی
ہاں۔۔۔۔۔یہاں۔۔۔۔سیدھا دل پر لگتے ھیں۔۔۔اپنے سینے پر ہاتھ رکھتےھوۓ وہ اسکو مزید نروس کر گیا تو اس نے اپنا گفٹ اس کے سامنے کیا
یہ۔۔۔۔۔۔گفٹ۔۔۔ لیا تھا تمھارے لیے
اٹک اٹک کر کہتی وہ اسے محضوظ کر گٸی
ھاۓ اوۓ نہ کر نوازشیں۔۔۔۔میں کرنے لگا تو سہہ نہیں پاٶگی تم۔۔۔۔مسکراہٹ جو اس کے لبوں سے جدا ھی نہ ھو رھی تھی مزید بے قابو ھوٸی
فضول نہیں بولو۔۔۔۔شام کو یہی پہننا۔۔اچھا لگے گا مجھے۔۔۔کہہ کر وہ جانے کے لیے مڑی تو وہ ایک ھی جست میں اس تک پہنچتے ھوۓ اسکی کلاٸی تھام گیا
اپنی بے باک نظریں اسکی حیران نظروں میں گاڑتے ھوۓ وہ دنیا جہاں بھولا۔۔۔۔
”شکریہ جادوگرنی“
بڑی مشکلوں سے خود کو اس کے سحر سے آزاد کرواتے اس کی اور ذرا سا جھکتے ھوۓ بولا
جواباًوہ محض سر ہلاتے روم سے بھاگی تھی
کچن میں آکر اپنی سانسیں درست کرتے ھوۓ وہ بے ساختہ شرماتے ھوۓ مسکرادی
میں چاکر تیری ازلوں سے
تو افضل خاص الخاص پیا
مجھے سارے درد قبول سجن
مجھے تیری ہستی راس پیا
میراشام سلونا شاہ پیا
مجھے مار گٸی تیری چاہ پیا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
طبیعت تو ٹھیک ھے ناں۔۔۔۔؟؟؟میڈیسین لے رھے ھیں پراپرلی؟
ہاں بلکل ٹھیک ٹھاک ھوں گھر سب خیریت ھے؟زاویار سے تو صبح ھی بات ھو گٸی تھی میری۔۔۔۔تم کیسی ھو باقی بچے کیسے ھیں ؟
ابراھیم نے اپنی خیریت بتاتے ھی نگہت سے باقی سب کا پوچھا تھا وہ انھیں تفصیل سے جواب دینے لگیں
مجھے دیجیٸے گا ممانی۔۔۔۔ان کے ہاتھ سے فون لیتے وہ ابراھیم سے شکوے کرنے لگا
مری برتھ ڈے پر نہیں آپ یہاں یار ماموں یہ کیا بات ھوٸی مس کررھا ھوں آپ کو بہت۔۔۔۔۔جواباً جانے انھوں نے کیا کہا تھا وہ قہقہہ لگا کر ہنس دیا
میرے جانے سے پہلے پہلے آ جاٸیے گا پھر تو دو سال مزید دور ھی رہنا ھے
بات کرتے کرتے اس نے نگہت کے گرد اپنا بازو پھیلا کر انھیں اپنے حصار میں لیا
وہ مزید کچھ دیر بات کرتا رھا وقتاًفوقتاً نگہت کو دیکھ کر مسکراتا رھا
فون بند کر کے اس نے ان کے ماتھے پر بوسہ دیتے ھوۓ انھیں اپنے گلے لگایا
وہ سمجھ گٸیں کہ اسے شدت سے اپنے والدین یاد آۓ ھیں وہ ہر سال اپنی سالگرہ پر کچھ زیادہ ھی ان کو یاد کیا کرتا تھا تب وہ ابراھیم اور نگہت میں ھی سکون تلاش کرتا
”ہیپی برتھ ڈے“
اسکی پیٹھ تھپکتے ھوۓ نگہت نے اسکا چہرہ دیکھنا چاھا وہ جانتی تھیں کہ آنکھیں بھیگی ھونگی۔۔۔۔۔انکی اپنی پلکیں بھی نم تھیں
ایک انگلی سے اپنے آنسو کو آنکھ کے کنارے سے اٹھا کر اڑاتے ھوۓ وہ سابقہ موڈ میں لوٹا
چلیں ناشتہ دے دیں۔۔۔۔خود بنا کر میری سالگرہ کی خوشی میں۔۔۔ہنستے مسکراتے وہ ان کو بھی دکھ سے باھر لے آیا جو اس کے والدین کے نہ ھونے کا دونوں پر وارد ھوا تھا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
پیپر دے کر واپسی پر حسن نے اسے پک کیا تھا اسے اسکا گفٹ دینے کے بعد مشعل نے کھانا کھایا اور اپنے کچھ نوٹس لیے ٹی وی لاٶنج میں ھی آ کر بیٹھ گٸی
تاکہ ثانیہ کےساتھ مل کر شام کو حسن کی جیب کیسے خالی کروانی ھے اس کا پلان بنا سکے
نوٹس پر ھی آڑی ترچھی لکیریں کھینچتے ھوۓ ثانیہ کے ساتھ بات بے بات ہنستے وہ سب فراموش کیے بیٹھی تھی زاویار آفس سے آنے کے بعد وہیں آ کر بیٹھے تو اسکی زبان کو بریک لگی
ماں کہاں ھیں ثانیہ؟
بھاٸی وہ حسن کیساتھ مارکیٹ گٸی ھیں ابھی
آپ کب آۓ؟مجھے پتا ھی نہیں چلا۔۔۔۔۔اچھنبے سے اس نے زاویار سے پوچھا
جب زور و شور سے باتوں میں مگن تھی تم۔۔۔ پیپر کیسا ھوا ھے اور دکھاٶ یہ کیا پڑھ رھی ھو ؟
اس کے ہاتھ سے نوٹس لیتے ھوۓ وہ اسی کے برابر پیٹھے تو وہ غیر محسوس انداز میں ذرا پرے کو سرکی
یہ کیا بنایا ھے؟
ہنستے ھوۓ انھوں نے پوچھا تو وہ اپنی جگہ شرمندہ ھوگٸی مگر پھر ڈھیٹ بنتے ہنسنے لگی
یہ ناں آپکا سکیچ بنایا ھے میں نے۔۔۔۔پیج کو الٹ پلٹ کر دیکھتے اور بے تحاشہ ہنستے ھوۓ جب اس نے کہا تو وہ اسے محض گھور کر رھ گٸے
ایسا مضحکہ خیز لگتا ھوں تمھیں؟؟
مجھے بھی دکھاٸیں بھاٸی۔۔۔ثانیہ نے اس کے ہاتھ سے نوٹس جھپٹتے اسکا کارنامہ دیکھنا چاھا اگلے ھی پل ہنسی کا فوارہ اسکے منہ سے برآمد ھوا تھا
علاج کرواٶ اپنے دماغ کا مشعل بی بی میرا اتنا ڈیشنگ سمیشنگ بھاٸی تمھیں ایسا لگتا ھے ہاں
اچھا چلو چھوڑو یہ سب رات نو بجے تک چلیں گے سر میں درد کی وجہ سےجلدی آیا ھوں تھوڑی دیر سوٶں گا
چاۓ کیساتھ ٹیبلٹ لے کی تھی آفس میں ھی۔۔۔اس سے پہلے کہ یہ مشورہ دیا جاتا انھوں نے خود ھی بتایا تھا
یہ کہتے وہ وہاں سے جانے لگے مگر جاتے جاتے اس پر گہری نگاہ ڈالنا نہ بھولے تھے جو محویت سے انھیں دیکھ رھی تھی
بوکھلاتے اس نے نظروں کا زاویہ بدلا تو وہ مسکراہٹ دباتے اپنے روم کی طرف بڑھ گٸے__
________
سنی نہیں زمانے نے تیری میری کہانیاں
کردے کوٸی نوازشیں کرم مہربانیاں
بالوں کو جیل لگا کر سیٹ کرتے ھوۓ مسلسل زبان پر فیورٹ سونگ کی فیورٹ لاٸنز تھیں جب مشعل نے روم میں آتے ھی ماشاءاللہ کہا تو وہ ہنستا ھوا اسے دیکھ کر رہ گیا
کتنے پیارے لگ رھے ھیں بھاٸی۔۔۔۔۔۔محبت پاش نظروں سے اسکو دیکھتے ھوۓ وہ اس کے قریب آٸی تو حسن نے بازو اس کےگرد پھیلاۓ
شکریہ گڑیا۔۔۔۔۔۔چلو اب نیچے چلتے ھیں نہیں تو اس لڑاکے طیارے نے آکر مجھ پر ھی حملہ کرنا ھے ۔۔۔۔کسی اور پر تو زور چلتا نہیں اسکا
ثانیہ کے بارے میں بات کرتے کرتے وہ ہنسا اور دونوں نیچے آۓ تھے
ٹی وی لاٶنج میں موجود نگہت نے اسے دیکھا تو بے ساختہ اسکی بلاٸیں لی تھی
سفید فراک جس پر گلابی دھاگے سے کڑھاٸی کی ھوٸی تھی دوپٹہ شانوں پر پھیلاۓ بالوں کے سٹاٸلش ساٸیڈ جوڑے کیساتھ وہ ان کے قریب آٸی
ماشاءاللہ بہت پیاری لگ رھی ھے میری بیٹی۔۔۔۔ اور میرا بیٹا بھی۔۔۔۔دونوں کو ایک ساتھ گلے لگاتے وہ انھیں دعاٸیں دینے لگیں
ماں یہ آپ کی میڈیسن۔۔۔۔۔۔ثانیہ نگہت کی معدے کی دوا لے کر آٸی جو انھیں کھانا کھانے سے ایک گھنٹہ پہلے لینی ھوتی تھی
حسن نے گہری نگاھوں سے اسے دیکھا جو اوشن بلو کلر کی لانگ شرٹ سفید ٹراٶزر کے ساتھ بلو ھی دوپٹہ لیے بہت الگ سی لگ رھی تھی یا شاٸد اب دیکھنے کا انداز بدل چکا تھا
کن اکھیوں سے اس نے حسن کو اپنے دٸیے گٸے سوٹ میں دیکھا جو اس پر بہت جچ بھی رھا تھا
بالوں کو بے مقصد اپنے ہاتھوں سے سنوارتی ھوٸی وہ اسکی نظروں سےخاصاڈسٹرب ھوچکی تھی
لاٶنج میں رکھے پھولوں میں سے ایک گلابی پھول نکال کر ثانیہ نے مشعل کے بالوں میں لگایا۔۔۔ پرفیکٹ لگ رھا ھے تمھارے ڈریس کیساتھ یہ گلابی پھول ۔۔۔۔۔ستاٸشی نظروں سے دیکھتےھوۓ وہ بولی تو نگہت نے بھی تاٸید کی
چلیں اب۔۔۔۔۔ھم تو بیٹھیں جا کر بھاٸی نے کہا وہ بس آ رھے ھیں
نگہت کو کہتی وہ جانے لگی تب ھی حسن نے اسکی ٹیل پونی کو کھینچ کر اسے جانے سے روکا
چیختے ھوۓ مڑ کر اس نے زور دار مکا اسکے بازو پر مارا تووہ بلبلاتا ھوا اس کے بال مزید بکھیر گیا
ماں۔۔۔۔۔۔۔۔دیکھیں اسے۔۔۔۔نگہت کو اسکی شکایت لگاتے وہ روہانسی ھوٸی جبکہ مشعل قہقہہ لگاتے ھوۓ صوفےپر گرنے کے انداز میں بیٹھی
نہ تنگ کیا کرو اسے۔۔پھر وہ بھی بدتمیزی کرتی ھے تمہارے ساتھ۔۔۔نگہت نے اسےسرزنش کی
تم نے کب جانا ھے یہاں سے واپس۔۔۔زندگی عذاب بنانے کو آگٸے ھو میری۔۔۔بالوں کو درست کرتی ھوٸی وہ خونخوار نظروں سے دیکھتےھوۓ بولی
کچھ دیر پہلے کی جھجھک اور جذبات بھک سے ھی تو اڑے تھے
حسن ہنستے ھوۓ باھر کی جانب بڑھا تو وہ سب بھی اسکی تقلید میں جانے کو اٹھیں
میں موباٸل لے کر آتی ھوں روم میں ھی رہ گیا ھے
جاتے جاتے انھیں کہہ کر وہ روم میں آٸی اور موباٸل دیکھا جو کتابوں کے بیچ کہیں پڑا تھا رات جو آف کیا تھا تو آن کرنے کی طرف دھیان ھی نہ گیا اسکا
موباٸل آن کر کے روم سے نکلتے ھوۓ وہ ایک ہاتھ سے دوپٹہ سنبھالتی دوسرے سے موباٸل میں آنے والے میسیجیز چیک کرتے ھوۓ جا رھی تھی
زاویار اپنے روم سے نکل کر نیچے آۓ مگر پانی پینے کو کچن میں گٸے وہاں سے نکلتے ھی اسکو باھر کی جانب جاتے دیکھا
افلاک سے اتری کوٸی حور کے جیسے سہج سہج کر زمین کے سینے ہر پاٶں دھرتی انکی زندگی۔۔۔۔وہیں ان کے قدم جم سے گٸے تھے ھر روپ ھی بہت دل موہ لینے والا تھا اسکا
زاویار کا رات کو بھیجا گیا میسیج اس نے کھولا تو ہارٹ ایموجیز کودیکھ کر قدم رکے تھے بے اختیار اس نے اوپر ان کے روم کی طرف دیکھا ایک چمکیلی سی مسکراہٹ نے ہونٹوں کو چھوا اور اسکی یہ دلکشی کچھ دور کھڑے زاویار نے اپنے دل پر اثر کرتی محسوس کی
آہستگی سے اسکی طرف قدم بڑھاتے محض ایک قدم کے فاصلے پر رکتے ھوۓ انھوں نے اس کے بالوں میں لگے گلابی پھول کی نرمی کو انگلیوں کی پوروں پر محسوس کیا
میں ادھر ھوں وہاں کہاں ڈھونڈ رھی ھو مجھے؟
ورٹِس کی خوشبو نے اسے اپنے حصار میں لیا ھی
تھا کہ بہت قریب سے آتی گھمبیر آواز پر وہ اچھلی
آنکھیں پوری کھول کر بے اختیار میچتے ھوۓ جب اس نے انھیں دیکھا تو زاویار کو رب کی اس تخلیق پر بے اختیار پیار آیا
حسن دیکھوں گا تمھاری آنکھوں کا
کچی نیند سے تمھیں جگا کر
آجاٶ۔۔۔۔۔۔
اس سے پہلے کہ وہ آنکھیں ان سے کوٸی گستاخی کرواتیں وہ اسے کہتے ھوۓ وہاں سے گٸے تو اس نے گہرا سانس لیتےھوۓ خود کو نارمل کیا
گاڑی میں بیٹھنے سے ہوٹل پہنچنے تک اس نے انھیں دیکھنے سےگریز کیاتھا بار بار کانوں میں اسکی آنکھوں پر سنایا گیا ان کا شعر گونج رھا تھا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
کیک پر لگی موم بتی کو بجھاتے ھوۓ اس نے سب کے چہرے پر نظر ڈالی۔۔۔۔سکون کی لہر رگ و پے میں سراٸیت کر گٸی تھی
کچھ لوگ ھوتے ھیں جن کی زندگی سے جب ماں باپ کا سایہ اٹھ جاۓ تو وہ محبت کی چاشنی کو محسوس کرنے سے محروم کر دیٸے جاتے ھیں کیونکہ دنیا میں ھر رشتے کا نعم البدل ھے سواۓ والدین کے
ہاں آج بھی وہ اپنے ماں باپ کو یاد کرتا تھا تو آنکھیں بھیگ جاتی تھیں مگر پھر ماموں ممانی کا چہرہ نگاھوں میں آتے ھی جیسے کوٸی ان زخموں پر محبت کے پھاہے رکھ دیتا جو اسکی زندگی میں ان کے جانے سے روح کو تکلیف دیتے تھے
ویڈیوکال پر موجود ابراھیم کی طرف مشعل نے توجہ دلواٸی تو وہ ان سے بات کرنے لگا ساتھ ساتھ کیک پر سے تھوڑی سی کریم کو انگلی کی مدد سے ثانیہ اور مشعل کے گال پر لگایا تھا
زاویار کو کیک لگاتے لگاتے اس کے ہاتھ تھمے کیونکہ ان کا رعب ھی ایسا تھا سب پر۔۔۔۔چاھے جتنا بھی فرینکنس ھو جاۓ ایک جھجھک ھمیشہ موجود رھتی جو حد سے تجاوز نہ کرنے دیتی تھی
جب تک کال بند ھوٸی کیک کو اپنی اپنی پلیٹس میں کٹ کر کے رکھا جا چکا تھا
بھاٸی یہ آپ لیں ناں۔۔۔۔۔مشعل نے پلیٹ اسکی طرف کھسکاٸی تو اس نے ”ابھی لیتا ھوں“ کہہ کر گلاس میں پانی انڈیلا اور گھونٹ گھونٹ اپنے حلق میں اتارنے لگا
سب سے نظر بچا کر اس نے ثانیہ کی پلیٹ اپنے آگے رکھی جس میں سے آدھا پیس وہ کھا چکی تھی اور اپنے حصے میں سے ایک چمچ لینے کے بعد اسے ثانیہ کے آگے رکھا
بہت صفاٸی سے یہ کام سر انجام دیا کہ کسی کو خبر تک نہ ھوٸی تھی
مشعل نگہت کیساتھ کوٸی بات کر رھی تھی جبکہ زاویار ویٹر سے کافی کا کہہ رھے تھے ہاں البتہ ثانیہ کا سارا دھیان ھی حسن کی جانب تھا
اسکی یہ حرکت جب ثانیہ کی نظر میں آٸی تو اس نے ابرو اچکا کر ”آہاں۔۔۔۔۔؟“جیسے ایکسپریشن دٸیے
چیٸر کو مزید آگے ک طرف کھسکا کر وہ اس کے چھوڑے ھوۓ کیک کو رغبت سے کھانے لگا
آنکھیں بند کر کے دل سے مسکراتے ثانیہ نے چہرہ نیچے کیا اور اپنے آگے رکھاھوا کیک کھانےلگی
وہ بظاہر زاویار سے بات کر رھا تھا مگر دھیان اسکا ثانیہ کی طرف ھی تھا جو گاھے بگاھے اسے چور نگاھوں سے دیکھتی اسکے دل کے تار چھیڑ رھی تھی
ھوا کتنی ٹھنڈی چلنے لگی ھے بادل بھی گہرے ھو رھے ھیں اب۔۔۔بیٹا جلدی واپس چلے چلتے ھیں گھر۔۔۔۔مشعل تو بیمار بھی جلد ھی ھو جاتی ھے ایسے موسم کہاں راس آتے ھیں اسکو اور پھر کوٸی گرم شال بھی نہیں لی ھوٸی اس نے
نگہت نے زاویار اور حسن سے بات کرتے کرتے مشعل کو پریشانی سے دیکھا جو سردی ے باعث ہاتھوں کی کپکپاہٹ کو چھپانے کی سعی ر رھی تھی مگر وہ نگہت کی نگاھوں سے پوشیدہ نہ رہ سکی تھی
بس جلدی ھی چلتے ھیں واپس اب اتنے عرصے بعد تو آۓ ھیں اکٹھے باھر
حسن نے کہا مگر زاویار ہنوز اسی کی جانب دیکھ رھے تھے
آنکھوں سے ھی اسے ”یو اوکے؟“ پوچھا تو وہ اثبات میں سر ہلا گٸی
کھانا کھانے کے بعد مشعل نے حسبِ عادت آٸسکریم منگواٸی زاویار نے کافی جبکہ حسن ثانیہ اور نگہت نے چاۓ کو ترجیح دی تھی
آٸسکریم نہ کھاٶ پہلے ھی ٹھنڈی پڑ رھی ھو۔۔۔۔ثانیہ نے اسے روکنا چاھا مگر ”کچھ نہیں ھوتا “کہہ کر وہ اسے مطمٸن کر گٸی
آپ کیسے پی لیتے ھیں اتنی کڑوی کسیلی سی کافی۔۔۔۔۔براۓ نام چینی ھوتی ھے اس میں۔۔۔
ثانیہ نے حیرت سے بھاٸی کو دیکھا جو کافی کو حلق سے اتارتے بے حد شاداں دکھاٸی دے رھے تھے
جیسے تم لوگ چاۓ پی لیتے ھو ویسے ھی۔۔۔۔مسکراتے ھوۓ انھوں نے کہا
مجھے تو چاۓ بھی کچھ خاص پسند نہیں۔۔۔ناک چڑھاتے وہ بولی تو حسن نے اسے گھورا تھا
اتنی سلیکٹیو ھیں آپ قلوپطرہ مادام۔۔۔۔؟
جی بلکل۔۔۔۔۔طنز سے وہ بولا تو آنکھیں پٹپٹاتے وہ اسےچڑانے لگی
ہونہہ کچھ بھی۔۔۔۔۔اچھا چلیں اب۔۔۔مشی گڑیا کب تک چمچ بے مقصد گھماتے رہنا ھے یا تو کھا لو اسے یا جان چھوڑو آٸسکریم کی
حسن کے گھرکنے پر وہ جھینپتی ھوٸی اپنی چیٸر سے سب کی معیت میں اٹھی
پارکنگ تک آتے آتے بارش شورع ھو چکی تھی گاڑی کا لاک کھولتے انھوں نے پیچھے مڑ کر دیکھا تو سب سے آخر میں سستی سے قدم اٹھاتی ھوٸی مشعل کا چہرہ انھیں سٌتا ھوا سا لگا
سفید دوپٹہ جو ھوا کے دوش پر لہرا رھا تھا اس پر ہلکی ھوتی بارش بالوں میں لگے گلابی پھول اور شخصیت میں عجیب سا ٹھہراٶ لیے وہ اسے الف لیلوی داستان کا بھٹکا ھوا کردار لگی
لہراتے آنچل کو بمشکل سنبھالتے وہ گاڑی تک آٸی نگہت جو جلدی سو جایا کرتی تھیں نیند سے بند ھوتی آنکھوں کو مسلتی ھوٸی سیٹ کی پشت سے سر ٹکاۓ ھوۓ تھیں اور ثانیہ موباٸل میں گم تھی
حسن کو ڈراٸیونگ کا کہتے وہ دوسری طرف کا دروازہ کھول کر بیٹھے۔۔۔انکی ساری توجہ مشعل کی جانب تھی جس کی طبیعت انھیں کچھ ٹھیک نہیں لگ رھی تھی
گھر کےگیٹ سے اندر آنے تک باقاعدہ کانپتےھوۓ انھوں نے مشعل کو دیکھا تو تیزی سے اتر کر اسکی طرف کا دروازہ کھول کر اسےکھینچتے ھوۓ باھر نکالا
کسی انگارے کو انھوں نے چھو لیا ھو۔۔۔ایسے اسکا جسم بخار میں تپ رھا تھا اور اسکی شدت سے سرخ چہرہ کیے وہ ضبط کرتے رو دینے کو تھی
اسے ڈاکٹر کے پاس لے کر جا رھا ھوں میں بخار زیادہ ھے
زاویار کے کہنے پر ثانیہ اور نگہت تیزی سے اسکی طرف آٸیں حسن بھی گاڑی کا دروازہ کھلا چھوڑے اسکی طرف آیا تھا
ہاں بٹھاٸیں اسے گاڑی میں۔۔۔۔ثانیہ تم ماں کو لیکر جاٶ اندر نہ سونے سے انکی طبیعت بھی خراب ھو جاتی ھے ڈونٹ وری معمولی سا بخار ھے بس ابھی آ جاتے ھیں ھم
نگہت کو تسلی دیتے ھوۓ وہ ڈراٸیونگ سیٹ پر بیٹھے
گھر پر ھی رکو تم۔۔۔۔یہ دونوں اکیلی ھونگی اس وقت۔۔۔تو مناسب نہیں ھے
حسن کو کہتے گاڑی کو گیٹ سے نکالتے ھوۓ انھوں نے سڑک پر ڈالا مشعل سیٹ کیساتھ ٹیک لگاۓ آنکھیں موندے ھوۓ تھی
انھیں تشویش نے آگھیرا۔۔۔۔۔گاڑی روک کر سیٹ کو ایزی کرتے ھوۓ وہ اسکی پیشانی پر ہاتھ رکھتے بخار کو چیک کرنے لگے تو اس نے اپنی آنکھیں کھولیں
ان کے ہاتھ کو پیشانی سے ہٹا کر اپنے ہاتھ میں جکڑتے ھوۓ اس نے دوبارہ آنکھیں بند کیں تو زاویار کو وہ کوٸی دیوانی لگی
کسی کی آنکھوں میں اپنے لیے محبت دیکھنا بہت پر مسرت لمحہ ھوتا ھے وہ جانتےتھے۔۔۔ مگر محبت کیساتھ اگر عقیدت بھی شامل ھو جاۓ تو وہ کوٸی ماوراٸی سا جذبہ بن جاتا ھے جو آنکھوں سے شعلوں کی مانند نکلتے ھوۓ مقابل کی روح کو اسطرح سے جھلساتا ھے کہ وہ تپش جان لیوا نہیں ھوتی بلکہ پر کیف اور شہد آگہیں لگتی ھے اور اس طلسم سے نکلنےکا نہ جی چاھتا ھے نہ ھی طلسم بذاتِ خود اس ذات سے نکلے کو تیار ھوتا ھے
محبت کی تعریف کے لیے الفاظ کو صفحہ قرطاس پر بکھیرہ جاۓ جی جان لگا دی جاۓ تب بھی تا حال اسکا جواب جاری و ساری ھے
کلینک پہنچتے ھی اسکو ٹریٹمینٹ دیا گیا بخار کی شدت کم ھوٸی تو ڈرپ لگا دی گٸی غنودگی کی سی کیفیت میں ھونے کی وجہ سے وہ زاویار کے چہرے ہر اس کے لیے دیوانگی نہ دیکھ سکی اگر جو دیکھ لیتی تو اپنے ھونے پر ناز کرتی
فون کر کے گھر اطلاع دینے کے بعد جب تک ڈرپ ختم ھوٸی انھوں نے اس پر سے نگاھیں نہ ہٹاٸی تھیں
تم اک ایسی ہستی ھو
کہ جسکا نام
لبوں سے پہلے
آنکھوں میں آ جاتا ھے
اسکی پلکوں کو دھیرے سے چھوتے ھوۓ وہ جذبے لٹاتی نگاھوں سے اسے دیکھے گٸے اور یہ انکی نظروں کا ارتکاز ھی تھا جو وہ کسمساتی ھوٸی آنکھیں کھول گٸی
گہری سانس بھرتے انھوں نے ہاتھ ہٹایا اور مشعل
نے جو ان کو أپنی طرف جھکے ھوۓ پایا تو ہونق ھوتی جھٹکے سے اٹھی جوڑا جو آدھا کھلا آدھا بند تھا اور پھول بھی مرجھا چکا تھا بالوں کو ایک جھٹکا لگنے سے اپنی کچھ پتیاں اسکی گردن پر گرا گیا
خیام کی رباعی۔۔۔۔میر کی غزل۔۔۔۔۔کیٹس کے اشعار
جانے کون کون سی تشبیہات اسکا روپ دیکھتے ان کے ذہن پر وارد ھوٸیں
کچھ دیر تک چلتےھیں۔۔۔۔۔۔اب ٹھیک ھو ناں تم؟؟
کھڑےھو کر انھوں نے پوچھا تو وہ محض اثبات میں سر ہلاگٸی
واپسی کا رستہ بھی خاموشی سے کٹا جبکہ وہ اسے ایک اھم بات بتانا چاھتے تھے لیکن اسکی طبیعت کے پیشِ نظر کل پر بات چھوڑی تھی
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اپنے روم میں آتے ھی اس نے کپڑے چینج کیے انگیوں سے بال سنوارتے ھوۓ اسکی نظر صوفے پر پڑی جہاں یقیناً اسکا تحفہ رکھا تھا
برینڈ نیو لیپ ٹاپ پر نظر پڑتے ھی ایک جاندار مسکراہٹ نے لبوں پر چھب دکھاٸی
زاویار بھاٸی۔۔۔۔
یو آر جسٹ واٶ
لیپ ٹاپ اٹھاۓ وہ نگہت کے روم میں آیا جہاں ثانیہ ان کے پاٶں دبا رھی تھی
یقیناً ممانی بہت تھک گٸی ھیں ناں؟؟؟
تاسف سے انھیں دیکھتے وہ بولا
ساتھ ھی لیپ ٹاپ دکھایا تھا تو ثانیہ اسکی خوشی میں خوش ھونے لگی
مشی کب تک آۓ گی؟بات ھوٸی؟
ہاں بس پہنچنے ھی والے ھونگے وہ۔۔۔۔ ڈرپ لگی ھوٸی ھی تب ھی اتنی دیر ھوٸی
حسن نے جواب دیا
سندس سے بات ھوٸی تھی میری ابھی کچھ دیر پہلے ھی۔۔۔۔۔
اچھا پھر؟
کل آ رھی ھے وہ یہاں ھماری طرف۔۔۔
خیریت ھے؟؟شادی کو دو دن بھی نہیں ھوۓ
اور ھماری طرف چکر۔۔۔۔۔حیرت سے اس نے استفسار کیا
اللہ ھی جانے۔۔۔۔۔کہتی کہ ضروری ھے آنا
شش و پنج میں مبتلا وہ بولی تو حسن نے بغور اسے دیکھا
چلو دیکھتے ھیں صبح ھی۔۔۔۔۔گڈ ناٸٹ
کھذڑے ھو کر اسکی طرف جھکتے وہ بولا تو پاٶں دباتی ثانیہ کے ہاتھ جو نگہت کے پاٶں پر تھے ساکت ھوۓ
دو انگلیوں سے اسکا گال چھو کر کہتے ھوۓ وہ روم سے نکلا تو آنکھیں میچتے اس نے دل پر صحیفے کی مانند اسکی محبت کی شدت کو محسوس کیا۔۔

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: