Mera Sham Slona Shah Piya Novel By Bella Subhan – Episode 14

0
میرا شام سلونا شاہ پیا از بیلا سبحان – قسط نمبر 14

–**–**–

کیا کر رھی ھیں ممانی؟
اندر داخل ھو کر ان کے پاس بیٹھتے ھی اس نے پوچھا تو نگہت نے نظریں اٹھاٸیں جو بڑی محویت سے ابراھیم کی ایک شرٹ کا بٹن ٹانک رھی تھیں
بٹن لگا رھی ھوں۔۔۔۔۔ابھی ابھی کپڑوں کو سیٹ کرتے ھوۓ دیکھا تو سوچا یہ کام ابھی کر دوں پھر یاد نہیں رہتا۔۔۔ناشتہ کر لیا تم نے؟
جی۔۔۔۔۔اس نے یہ نہیں بتایا کہ آپکی بیٹی کے رونے کے چکر میں بھوکا پھر رھا ھوں
مجھے آپ سے ضروری بات کرنی ھے پلیز۔۔۔۔ان کے ہاتھ سے شرٹ اور سوٸی دھاگہ لیکر ساٸیڈ پر رکھتے وہ بولا تو نگہت ہمہ تن گوش ھوٸیں
ثانیہ کی شادی وہاں نہیں ھوگی جدھر سے رشتہ آیا ھے اسکا۔۔۔۔۔مجھے اک آنکھ نہیں بھایا وہ شخص
جس پریشانی سے اور بےتابی کیساتھ اس نے کہا تھا نگہت کا ماتھا ٹھنکا
تو پھر کہاں کروں اسکی شادی؟؟اسے کھوجتی نگاھوں سے دیکھتے ھوۓ وہ بولیں تو حسن بے بسی سے انھیں دیکھ کر رہ گیا
دیکھیں کوٸی۔۔۔اپنے بے حد پاس شاٸد کوٸی ھو ایسا جو آپ کو بھی پسند ھو۔۔۔بات کرتے کرتے اس نے شہادت کی انگلی اہنے سینے پر رکھ کر ایک طرح سے انھیں اشارہ دیا کہ میں کس مرض کہ دوا ھوں
نگہت نے اسکا اشارہ سمجھتے ھوۓ حیرت کی زیادتی سے کچھ پل اسے دیکھا
تمھیں پتا ھے ناں کہ وہ تمھارا سر پھاڑ دے گی اگر اسے بھنک بھی پڑی جو تم کہنا چاہ رھے ھو اس کے لیے۔۔۔۔
خوشی سے سرشار ھو کر انھوں نے اس کے کان کو پکڑ کر دھیرے سے مروڑا
کچھ نہیں کہتی وہ۔۔۔۔حقیقت یہ ھے ممانی کہ صرف ھم دونوں ھی ایک دوجے کی باتیں برداشت کر سکتے ھیں۔۔۔اور کوٸی نہیں اور پھر دیکھیں ناں آپ کی بیٹی ھمیشہ آپ کے پاس ھی رھے گی۔۔۔۔۔
اس نے انھیں لالچ دیناچاھا جس پر وہ ہنس دیں۔۔۔
تمھیں پتا ھے مجھے ابراھیم نے کہا تھا تم دونوں کے بارے میں اور زاویارکو بھی یہی لگتا تھا کہ تم دونوں پرفیکٹ ھو ایک دوسرے کے لیے مگر میں نے انکار کر دیا کہ نہیں۔۔۔ثانیہ اور حسن کی تو بنتی ھی نہیں ھے آپس میں۔۔۔
وہ انکی بات سن کر بس مسکراۓ گیا
تب ھی نگہت نے اسے مشعل اور زاویار کے بارے میں بتایا اور ساتھ یہ بھی کہا کہ مشعل کو اس سے لاعلم رکھا جاۓ۔۔۔ایٹ لیسٹ تب تک۔۔۔ جب تک اسکے ایگزیمز ختم نہیں ھو جاتے
خوشگوار حیرت اور خوشی سے اس نے نگہت کو گلے لگایا۔۔۔۔۔۔۔۔۔ان سے بہتر کوٸی بھی نہیں ھو سکتا مشعل کے لیے
اور ثانیہ کے لیے تم سے بہتر کوٸی نہیں ھوگا
إن شاءالله،۔۔۔۔۔۔کہتے ھوۓ وہ شرارت سے مسکرایا
اچھا اسے ابھی کچھ مت کہیے گا اس کے بارے میں ماموں کو آنے دیں تو پھر۔۔۔۔۔۔
چلو ٹھیک ھے۔۔۔۔انھوں نے کہا تو وہ انکےماتھے پر بوسہ دیتے ھوۓ جیسے ھی جانے کے لیے اٹھا۔۔۔۔اسے لگا ابھی کوٸی دروازے کی ساٸیڈ پر آ کر کھڑا ھوا ھے
ذراسا آگے جا کر اس نے دیکھنا چاھا تو میرون دوپٹے کا پلو نظر آیا۔۔۔۔
اوہ۔۔۔۔۔۔محترمہ کن سوٸیاں لینے آٸی ھیں۔۔۔۔تب ھی شیطانی دماغ میں ایک خرافاتی پلان بناتے وہ نگہت کے پاس دوبارہ بیٹھا
یہ آپ کیا کہہ رھی ھیں ممانی؟؟؟ایسا کیسے ھو سکتا ھے؟مطلب میں اور ثانیہ۔۔۔۔۔۔ناممکن ھے
میری اچھی کزن ھے اور اچھا وقت گزر جاتا ھے اس کے ساتھ مگر اس سے شادی۔۔۔توبہ کریں ممانی۔۔۔مجھے ہنسی آ رھی ھے کہ یہ بات آٸی ھی کیونکر آپ کے دماغ میں
اپنی ہنسی کوروک کربمشکل آواز میں حیرت اور جھنجھلاہٹ لاتے ھوۓ اسکا چہرہ سرخ ھوا تھا
نگہت ہونق بنے اسے دیکھنے لگیں۔۔۔
کیا بات کر رھے ھو بیٹا۔۔۔۔۔میں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
بس ممانی مجھے معاف کر دیجیۓ گا مگر میں ثانیہ سے شادی نہیں کر سکتا
ان کے منہ پر ہاتھ رکھ کر بولنے سے روکتے ھوۓ وہ انھیں آنکھوں سے ھی چپ رھنے کا کہنے لگا
نگہت کو کچھ سمجھ نہ آیا کہ وہ کر کیا رھا ھے
وہ جو مشعل سے اسکی تیزی کی وجہ جان کر نگہت کے روم میں یہ جاننے آٸی تھی کہ حسن کیسے ری ایکٹ کرتا ھے اور اگر اسکے دل میں فیلنگز ھیں تو کسطرح اس کے لیے ماں کو کنونس کرے گا
مگر ایک کے بعد ایک کی گٸی اسکی باتوں سے اور بےزاری سے پٌر آواز سن کر وہ جیسے ڈھے گٸی تھی مطلب صرف کزن اور اچھا وقت گزازنے کا ذریعہ تھی وہ حسن کے لیے
کونسا مان کہاں جا کر ٹوٹا تھا کہ اگرچہ اس ٹوٹنے کی آواز نہ تھی مگر اس نے اپنے ایک ایک لوٸیں کو بین کرتے محسوس کیا
مردہ قدموں سے خود کو گھسیٹتے ھوۓ باھر لان میں آ کر وہ لمبے لمبے سانس لینے لگی
دوسری طرف حسن منہ نیچے کیے دل کھول کہ ہنسا تھا۔۔۔۔۔کچھ نہیں ممانی ایسے ھی میں فلمی سچوٸشن کری ایٹ کرنے کی کوشش کر رھا تھا۔۔۔چلیں اب کریں آپ اپنے سرتاج کے کام۔۔۔ان کے ہاتھ میں شرٹ اٹھا کر تھماتے وہ انھیں کہنے لگا تو نگہت نے اسےجھینپتے ھوۓ گھورا تھا
اپنے روم کی بالکونی سے اس نے ثانیہ کو شکستہ سی بیٹھے دیکھا تو دل گداز ھو اٹھا تھا اس محبت پر۔۔۔ جسکو ابھی اظہار کے شیریں الفاظ سے کوسوں دور رکھ کر اس نے وصل کو مزید دلکش بنانے کی کامیاب کوشش کی تھی
مگر اس پر تو جیسے خزاں کا موسم اتر چکا تھا۔۔۔۔۔دل کی خواہش یوں منہ کے بل گری تھی کہ پھر نہ سناٸی دینے والی چیخوں نے روح میں دراڑیں ڈالیں ۔۔۔۔۔ اس کے تٸیںں یہ غم دینے والا مذاق مذاق میں ھی اسکی ہستی ہلا گیا تھا آرزوٶں کو ابدی موت سلا گیا تھا
آرزوٸیں فضول ھوتی ھیں
گویا کاغذ کے پھول ھوتی ھیں
ہر کسی کے نام پر نہیں دھڑکتیں
دھڑکنیں بااصول ھوتی ھیں
کوٸی میرے لبوں کو بھی لادے
وہ دعاٸیں جو قبول ھوتی ھیں
خواب ٹوٹیں یا بکھر جاٸیں
قیمتیں کب وصول ھوتی ھیں
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
گھر سے جانے کے بعد آفس میں سر کھپاتے مسلسل کام کرتے ھوۓ انھیں رات کے نو بج چکےتھے ابراھیم کو فون کر کے انھوں نے دبٸی کی فرم میں ھونے والی بدمزگی کے بارے تفصیل سے گفتگو کی اور تسلی بخش جواب نہ ملنے پر مزید پریشان ھوۓ
انھیں پہلے ھی وہاں کے مینیجر نے صورتحال سے آگاہ کر دیا تھا مگر انھوں نے سوچا کہ ابراھیم معاملے کو احسن طریقے سے سلجھا لیں گے کہیں نہ کہہں دل میں دھڑکا لگا تھا کہ انھیں دبٸی نہ جانا پڑے کیونکہ اگر وہ وہاں گٸے تو دنوں نہیں واپسی پر مہینوں لگ جاتے اور مشعل سے اتنا عرصہ دور رہنا مطلب اسکی ناراضگی مول لینا تھا
تب ھی وہ اسکو آگاہ کرنا چاھتے تھے لیکن پھر اسکے بخار کی وجہ سے بعد میں بتانے کا سوچا
اب لگ رھا تھا کہ مشعل کو بتا کر اسکو سمجھا کر انھیں دبٸی جانا ھی پڑے گا
پیشانی مسلتے وہ موباٸل اٹھا کر اسے فون ملا گٸے تاکہ اسکی آواز سن کر ھی دماغ پر دھرا بوجھ کچھ دیر کے لیے ہٹا سکیں
آخری بیل پر اس نے فون اٹھایا اور مصروف سی آواز میں ہیلو کہا۔۔۔۔شاٸد اس نے سکرین پر نظر نہ ڈالی تھی کہ کس کا فون ھے
جبکہ زاویار کی رگ رگ میں اسکی آواز سن کر سکون اترا تھا
ڈسٹرب تو نہیں کیا میں نے۔۔۔۔۔بھاری آوز میں انھوں نے پوچھا تو موباٸل کان سے ہٹا کر اس نے سکرین پر نگاہ ڈالی
زبان دانتوں تلے دباکر اَلسَّلامُ عَلَيْكُم کہا تو وہ مسکراۓ
وَعَلَيْكُمُ اَلسَّلامُ
پڑھ رھی تھی؟
جی
کھانا کھایا؟
جی
ثانیہ یقیناً کچن میں ھوگی؟
جی
تو تم اکیلی ھو روم میں؟
جی
میں آجاٶں؟
جی۔۔۔۔۔۔۔
جی؟؟؟؟؟؟؟کیا۔۔؟؟کیا بات کر رھے ھیں آپ؟
وہ قہقہہ لگاتے اسکی معصومیت پر جی جان سے فداھوۓ جبکہ وہ بوکھلاتی ھوٸی آنکھیں میچتے ناخن چبانے لگی
جسٹ کِڈنگ ماۓ لیڈی۔۔۔۔۔
ان کی بات پر اس نے خود کو نارمل کیا
اچھا کب تک آٸیں گے؟
آہاں۔۔۔۔۔۔خالص بیگم والا انداز۔۔۔۔۔۔ترقی کر رھی ھو محترمہ۔۔۔۔وہ اسے شرارت سے چھیڑنے لگے تو اس نے پیشانی پر ہاتھ کی مٹھی بنا کر ضربیں لگاٸیں
اصل میں کچھ سمجھنا تھا آپ سے تو اگر وقت ھو تو۔۔۔۔۔
تمھارے لیے وقت نہ بھی ھو تو نکالا جا سکتا ھے۔۔۔۔۔۔ترجیحات میں اولین ھو تم۔۔۔بس کچھ دیر تک نکل رھا ھوں آفس سے۔۔۔کافی بنا کر رکھو۔۔۔کافی دن سے سزا نہیں بھگتی تم نے۔۔۔۔۔
بات کے آخر میں اسے ڈپٹتے وہ بولے تو وہ کھلکھلاٸی تھی
فون رکھ کر کچھ پل وہ اسکی ہنسی کو آس پاس بکھرتا محسوس کرتے رھے۔۔۔۔اور آفس سے نکلنے کو اٹھ کھڑے ھوۓ
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ٹیبل پر کھانا لگا کر اس نےنگہت کو بلایا اور انھی سے کہا کہ حسن کو آواز دے دیں
بھلا اتنی دور سے اسکو آواز کیسے دوں میں؟تم بلا لاٶ بلکہ مشعل کو بھی بلاٶ ناں کھانا کھاۓ وہ بھی
مشعل کھانا کھا کر جاچکی ھےاس نے صبح بہت ہلکا پھلکا ناشتہ کیا تھا تو جلدی کھانا کھا لیا اس نے
اچھا جاٶ حسن کو تو بلا لاٶ۔۔۔۔انھوں نے کہا تووہ نٸے سرے سےسلگی تھی
میں بھلا نوکر لگی ھوٸی ھوں اسکی جو کھانے کی طشتری سجا کر پیش کروں اس کے آگے۔۔۔۔وہ چٹخی تو نگہت نے غصے سے اسکو دیکھا
بہت زبان چلنے لگی ھے تمہاری۔۔۔عزت سے بات کیا کرو اس کے ساتھ بڑا ھے تم سے اور جاٶ بلا کر لاٶ اسے یہاں
ان کے کہنے پر وہ پیر پٹختی ھوٸی اس کے روم میں آٸی جو خالی اسکا منہ چڑا رھا تھا
پتا نہیں کونسی گھاس کھودنے گیا ھے وہ دھوکے باز
وہ واپس جانے کے لیے مڑی تو اسی وقت وہ روم کے اندر داخل ھوا
آنکھوں میں قندیلیں روشن ھوٸی تھیں۔۔۔۔تنفر سے اسے دیکھ کر وہ جانے کے لیے تیز تیز قدم اٹھاتی درواتے تک آٸی اور پلٹ کر اسے دیکھا
کٸی شکوے اور خوابوں کی کرچیاں آنکھوں میں دیکھتے ھوۓ حسن کے دل کو کسی نے مسلا تھا
ایک ہاتھ دروازے پر رکھے وہ اسے دیکھے گٸی
کھانا کھالو آکر۔۔۔۔۔یہ کہہ کر وہ بھاگتی ھوٸی وہاں سےنکل کر نگہت کے روم میں گٸی تا کہ ذرا رو کر دل کا بوجھ اتار سکے
نگہت چونکہ کچن میں تھیں تو وہ روم میں بنے اٹیچ باتھ میں جا کر پانی کے چھپاکے اپنے چہرے پر مارنے گی
آٸینے میں حسن کی شبہیہ لہراٸی تو نٸے سرے سے رونا آنے لگا
تھاری آنکھیں تو دنیا کی رنگینیوں کو دیکھنے کی عادی تھیں۔۔۔تمھیں کیا سمجھ آتی ایک عام سی لڑکی کی سادہ سی محبت۔۔۔۔۔وہ چہرہ جھکاۓ پھوٹ پھوٹ کر رونے لگی
تیڈے فارغ وقت دا شغل جو ہاں
جیویں دل آکھیں اونویں رولی رکھ
ادھر حسن نے تہیہ کر لیا تھا کہ صبح اسکو سب سچ بتا دے گا کہ ہزار ولید بھی آ جاٸیں وہ لڑکی اور اسکی ڈھکی چھپی سی محبت پر صرف اسکا حق ھے
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
خود کہاں رہ گٸی وہ۔۔۔۔؟کچن میں ھی رکھی چٸیر پر بیٹھیں نگہت نے حسن کو اکیلے آتے دیکھ کر پوچھا
کچھ کام ھوگا اسکو۔۔۔اپنے روم میں گٸی ھے شاٸد۔۔۔۔لاعلمی سے کندھے اچکاتے وہ چٸیر گھسیٹ کر بیٹھا تو وہ اس کے لیے پلیٹ میں سالن نکالنے لگیں
اچھا حسن ایک بات سنو میری وہ بھی ذرا غور سے۔۔۔۔۔ان کے اتنے سنجیدہ ھونے ہر اسکا نوالہ بناتا ہاتھ ایک پل کو رکا تھا
جی جی بولیں۔۔۔
دیکھو جو رشتہ تم لوگوں کا بننے جا رھا ھے یہ عزت و احترم کا متقاضی ھوتا ھے بیٹا۔۔۔بچپن اکٹھے گزرا ھے بہت بے تکلف بھی رھے ھو آپس میں۔۔۔۔اسکے باوجود اب میں تم سے یہی چاھونگی کہ اپنی عزت کرواٶ ثانیہ سے
سب جانتے ھی ھیں جیسے تم اسے تنگ کرتے ھو اور جسطرح پھر وہ زبان چلاتی ھے۔۔یہ کزنز کی حد تک تو ٹھیک ھے انسان برداشت بھی کر جاتا ھے مگر میاں بیوی کے رشتے میں محبت دوسرے نمبر پر آتی ھے۔۔۔پہلے نمبر پر ھمیشہ سے عزت ھی تھی اور عزت ھی رھے گی
سمجھ رھے ھو ناں میری بات۔۔۔انھوں نے اسے سنجیدگی سے دیکھتے کہا تووہ محض اثبات میں سر ہلا گیا
تبھی وہ کچن میں آٸی اور بغیر کچھ بولے چاۓ کا پانی چولہے پر رکھنے لگی
کھانا تو کھالو چاۓ کی پڑ گٸی تمھیں۔۔۔ٹھنڈا ھورھا ھےسب کچھ
حسن پیتا ھے چاۓ کھانے کے بعد۔۔۔اسی کے لیے بنا رھی ھوں۔۔آپ پیٸں گی؟؟
حسن نے نظروں ھی نظروں میں نگہت کو ابرو اچکاتے مسکراتے ھوۓ دیکھا گویا کہہ رھا ھو کہ دیکھیں۔۔۔۔ کتنا خیال کرتی ھے میرا
اسکی بات سمجھتے وہ مسکراٸیں
نہیں بیٹا چاۓ پی کر نیند نہیں آۓ گی پھر۔۔۔
ان کے برابر اور حسن کے سامنے بیٹھ کروہ چپ چاپ کھانا کھانے لگی۔۔۔۔۔
حسن کو افسوس ھونے لگا کہ اک زندہ دل سی لڑکی اسکے ایک مذاق کی وجہ سے مرجھا گٸی ھے۔۔۔۔
حسن کی نظریں محسوس کرتے ھوۓ وہ خود پر ھی ترس کھانے لگی۔۔۔کیا تھا گر اس شخص کو محبت ھو جاتی مجھ سے۔۔۔۔شکوہ کناں نظروں سے اس نے حسن کو دیکھنا چاھا تو دل پر جبر کرتے ھوۓ نگاھیں اس پر پڑنے سے پہلے ھی موڑ گٸی
تین چار نوالے زہر مار کرنے کے بعد ابلتے قہوے میں دودھ ڈالنے کو اٹھی تو نگہت نے اسے کندھے سے پکڑ کر بٹھایا
تم کھانا کھا لو چاۓ میں دے دیتی ھوں۔۔۔۔ان کے مڑنے کی دیر تھی حسن نے اس کو گہری نگاہ سے دیکھا۔۔۔۔کیاھوا ھے تمھیں؟
بہت دھیمی آواز میں اس نے پوچھا تھا
کچھ ھونا تھا؟
وہ زہر میں بجھے تیر کی مانند بولی
چپ چپ سی ھو ناں۔۔۔۔اسی لیے پوچھا
حسن کا جی چاھا کہ زہریلے لہجے میں ھی سہی مگر وہ اس سے بات کرتی رھے
بغیر کوٸی جواب دٸیے وہ کچھ پل اس کی نظروں میں دیکھتی رھی۔۔۔آنکھوں کے کنارے ضبط کرنے کی کوشش میں سرخ ھونے لگےجب اسے لگا کہ اب مزید وہ آنسو نہیں روک پاۓ گی تو جھٹکے سے اپنی جگہ سے اٹھتی ھوٸی کچن سے نکلتی چلی گٸی
”سونے جا رھی ھوں“
جاتے جاتے کہے گٸے اسکے الفاظ کی بازگشت میں حسن یہ سوچے جا رھا تھا کہ اب کی بار مذاق نہیں بہت فضول حرکت کر گیا ھے
اسے پچھتاوا ھونے لگا نگہت کے ہاتھ سے چاۓ کا مگ لے کر اپنے روم میں آنے تک وہ سو بار خود پر افسوس کر چکا تھا
اوراس صورتحال میںاس سے جا کر اس بارے میں بات کرنا مطلب شیر کی کچھاڑ میں جانا
چاۓ پیتے ھوۓ وہ اسکو منانے کا طریقہ سوچنے لگا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
کیا ھے یار تم نے تو صبح سے منہ لٹکایا ھوا ھے۔۔۔ ارے بھٸی نہیں کرتے تمھاری شادی اس ولید سے۔۔۔۔تمھاری پسند دیکھ کر ھی کریں گے ۔۔۔کیا تمھیں لگتاھے کہ ھماری فیملی اتنی کنزروٹیو ھے جو لڑکی کی رضامندی کے بغیر ھی کوٸی رشتہ اس کے سر پہ تھوپ دے گی ؟؟ثانیہ کا خراب موڈ اور پھولا ھوا منہ دیکھ کر اس نے اسے تسلی دی۔۔۔۔
نیند آٸی ھے۔۔۔سونےلگی ھوں بس۔۔۔ گڈ ناٸٹ اور پلیز تم نے زاویار بھاٸی سے پڑھنا بھی ھے ناں تو کھانا بھی دے دینا۔۔۔ بس سرو کرنا ھے انھیں۔۔۔ بنا ھوا ھے سب کچھ
اوکے؟؟
ھمم اچھا چلو شب بخیر
بیزاری سے اس نے گھڑی کی طرف دیکھا جو نو بجا رھی تھی زاویار ابھی تک آفس سے نہیں لوٹے تھےکتابوں اور نوٹس کو ساٸیڈ میں کر کے ایک بھرپور انگڑاٸی لیتی ھوٸی وہ نیم دراز ھوٸی آنکھوں کو انگلیوں سے مسل کر انکی تھکاوٹ دور کرنا چاھی تب ھی گاڑی کا ہارن سناٸی دیا
شکر۔۔۔۔۔۔آگٸے
اچھل کر بیڈ سے اترتے اس نے تیزی سے پیروں میں چپل پہنی اور روم سے نکلتے پورٹیکو تک پہنچی جہاں حسن گیٹ بند کر رھا تھا اور زاویار نے گاڑی بند کر کےباھر نکلتے ھی حیرت سے اسے دیکھا
وہ میں گیٹ کھولنے آٸی تھی۔۔۔مجھے لگا حسن بھاٸی کو شاٸد آواز نہ گٸی ھو
جھینپتے ھوۓ اس نے بتایا۔۔۔۔
اچھا چلو اندر۔۔۔۔اسےکہتے انھوں نےاندر جانے کو قدم اٹھایا تو نظر بلاارادہ ھی اس کے پیروں تک گٸی تب تک حسن بھی آ چکا تھا
تمھاری یہ بدحواسیاں۔۔۔۔۔اور تیزیاں۔۔۔اس کے پہنے جوتوں کیطرف اشارہ کرتے ھوۓ وہ ہنستے ھوۓ کہنے لگے تو حسن اور مشعل دونوں نے ایک ساتھ ان کی نظروں کا تعاقب کیا
جہاں وہ شرمندہ ھوٸی وہیں حسن نے قہقہہ لگایا تھا
او میری معصوم سی بہن۔۔۔۔جوتے کا ایک پیر شاٸد ثانیہ کا پہن آٸی ھو اور ایک اپنا۔۔۔کوٸی حال نٸیں۔۔۔۔۔چلو اب اندر
اسے اپنے بازو کے گھیرے میں لیے حسن مسلسل اس کو مزید شرمندہ کیے جا رھا تھا
کچن میں ھی آ جاٸیں کھانا وہیں کھا لیجیۓ گا۔
ہاں بس میں امی سے مل آٶں۔۔ دس پندرہ منٹ تک آتا ھوں اور یہ ثانیہ کہاں ھے؟
زاویار نے حیرت سے پوچھا
وہ تو سو گٸی کہہ رھی تھی کہ نیند آٸی ھے
اسکی اطلاع پر حسن کے کان کھڑے ھوۓ
چلو میں آتا ھوں۔۔۔۔وہ نگہت کے روم میں جانے کے لیے بڑھے تو حسن انھیں روکتے ھوۓ گلے ملا تھا
اتنے اچھے گفٹ کے کیے تھینک یو یار بھاٸی۔۔۔۔
بھاٸی ھو یار۔۔۔۔ شکریہ نہ بولو اب
اساکندھا تھپک کر کہتے وہ مسکراۓ تو حسن نے بھی اثبات میں سر ہلایا
کیا گفٹ دیا ھے؟؟مجھے تو بتایا نہیں آپ نے بھاٸی؟؟مشعل نے شکوہ کیا
لیٹسٹ لیپ ٹاپ۔۔۔۔واٶ
اوہ اچھا چلیں صبح دکھایٸے گا ابھی کھانا گرم کر دوں
اچھا میں بھی سونے جا رھا ھوں
انھیں کہتے وہ ان دونوں کے مشترکہ روم میں گیا تھا تاکہ اس سے بات کر سکے۔۔۔میدان صاف تھا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
میں خوش ھوں بہت اور آپ سے تو پہلے بھی یہی کہا تھا میں نے کہ ثانیہ اور حسن دونوں کے لیے پرفیکٹ رھیں گے
سب سے زیادہ خوشی آپ کو ھونی چاھیے ماں۔۔۔۔۔ناں ھی چالاک بہو کا ڈر۔۔۔اور نہ یہ پریشانی کہ بیٹی کے سسرال والے اسکا خیال نہیں کرتے
ساس بھی آپ ھیں اور ماں بھی آپ
زاویار نے نگہت کو چھیڑا تو وہ بھی خوشی سے مسکراٸیں
اللہ کرم کرنے والا ھے بہت مہربانی کی ھے اس نے ھم پر
زاویار جیسے ھی نگہت سے ملے تو انھوں نے حسن کے بارے میں انھیں بتایا تھا اور ساتھ یہ بھی کہا کہ ولید کے لیے چھان بین کا ارادہ ترک کر دے وہ کل ھی انھیں فون ہر سہولت سے انکار کر دیں گی
جس گاٶں جانا ھی نہیں تو اسکا راستہ پوچھ کر کیا کرنا
دودن تک ابو آجاٸیں گے تو مجھے جانا پڑے گا وہاں۔۔۔اور پھر شاٸد واپسی میں کچھ ماہ لگ جاٸیں۔۔۔اس سے زیادہ ٹاٸم بھی ھو سکتا ھے
چاھتا تو میں یہ تھا کہ نکاح کر دیا جاتا مگر اب وقت بلکل نہیں ھے۔۔۔۔حسن دوسال کے لیے واپس چلا جاۓ گا تو اس کے آنے پر ھی ممکن ھو سکتا ھے یہ
تمھارے بابا گٸے تو ھیں وہاں۔۔۔۔تو کیا پرابلم سولو نہیں ھوٸی بیٹا؟
حالات بگڑتے ھی جا رھے ھیں۔۔۔کوٸی بڑا نقصان نہ ھو۔۔مجھے جانا ھی پڑے گا
آپ نے میری امانت۔۔۔میری مشعل کا خیال رکھنا ھے ماں۔۔۔۔۔اور میرے آنے تک اسکو بھنک بھی نہیں لگنے دینی ھمارے آنے والے رشتے کی
میں اسے سرپراٸز دینا چاھتا ھوں۔۔۔۔بس اس کے ایگزیمز ھو جانے کا ویٹ کر رھا ھوں
نگہت نے محبت سے ان کے سر پہ ہاتھ پھیرا
اچھا آپ سوٸیں۔۔۔۔زبردستی میری وجہ سے آنکھیں کھول کر بیٹھی ھیں
شب بخیر۔۔۔۔۔ان کے سر پہ بوسہ دے کر وہ روم سے نکلے۔۔۔نگہت کا رواں رواں اپنے بیٹے کی سلامتی کے لیے دعاگو تھا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
کھانا گرم کر کے ٹیبل پر لگانے کے بعد اس نے کافی بنانے کا ارادہ کیا۔۔۔۔۔زاویار دس پندرہ منٹ کا کہہ کر گۓ ابھی تک نہ لوٹے تھے
چٸیر گھسیٹ کر بیٹھتے وہ انکا انتظار کرنے لگی۔۔۔۔۔کہنیاں ٹیبل پر ٹکاٸی تھیں پھر آہستہ آہستہ سر کو ٹیبل پر رکھا ار آنکھیں بند کر لیں۔۔۔۔۔ہونہی لیٹے لیٹے کب سوٸی پتا ھی نہ چلا تھا
نیند میں ھی اسے اپنے چہرے پر ٹھنڈے ہاتھ کی انگیوں کا لمس محسوس ھوا تو وہ کسمساٸی تھی
کپڑے چینج کرنے کے بعد جب تک وہ کچن میں آۓ بہت ھی خوبصورت منظر انکا منتظر تھا
سوٸی ھوٸی عورت اپنے اندر بہت سے بھید لیے ایک دلکشی کا منظر پش کیا کرتی ھے
صبیح چہرے پرسایہ فگن گھنی پلیکیں اور بلا کی معصومیت لیے اسکی صورت۔۔۔۔۔۔اسکے برابر میں بیٹھ کر وہ کچھ پل اسے دیکھتے رھے
دل نے خواہش کی کہ اس کے چہرے کی نرمی کو محسوس کیا جاۓ۔۔۔۔اور اس خواہش پر لبیک کہتے ھوۓ انھیں نے ہاتھ کی انگلیاں اس کے گال پر پھیریں تو نیند میں اسکا ذہن بیدار ھونے لگا
نگاہ بھٹک کر پلکوں پر اٹکی۔۔۔۔۔اس وقت انھیں سب سے زیادہ اپنے بیچ محرم رشتے کا نہ ھونا بے حد کھَلا
محبت خوب ھے جاناں
اگر یہ تیری صورت ھے
کچی نیند سے جگانے کے بعد اسکی آنکھوں کا حسن دیکھنے کی خواہش اتنی جلدی پوری ھوگی یہ معلوم نہ تھا
اسکی پلکوں پر انگوٹھا پھیرتے ھوۓانھوں نے سوچااور اپنی دو انگلیوں سے اسکا چہرہ تھپتھپاتے وہ سیدھے ھوۓ
مندی مندی آنکھیں کھول کر انھیں دیکھتی وہ جھٹکا کھا کر سدھا ھوٸی
آگٸے آپ۔۔۔۔اتنی دیر کر دی ۔۔۔۔۔میں کب سے ویٹ کر رھی تھی پتا ھے۔۔۔ نیند کا خمار لیے گلابی پن چھلکاتے اس کے نین زاویار کے حواس چھیننے لگے تو وہ بے ساختہ اس سے نگاھیں چراگٸے
آپ کھانا کھاٸیں میں تب تک کافی بناتی ھوں پھرآپ کو مجھے پڑھانا بھی ھے بس دس پندرہ منٹ کا کام ھے۔۔۔۔۔نیند تو نہیں آٸی ناں آپ کو؟
بولتے بولتے وہ اٹھنے لگی تو انھوں نے اسکا ہاتھ پکڑ کر روکا
تم ابھی بیٹھو میرے سامنے۔۔۔۔۔۔۔کچھ بات کرنی ھے
سنجیدگی سے کہہ کر وہ اسے تفصیل سے اپنے جانے کی بابت بتانے لگے
اسکے چہرے پر اداسی دیکھ کر انھوں لب بھینچے
تھے
اتنا لمبا عرصہ زر۔۔۔۔۔۔میں کیسے رھونگی آپ کے بغیر۔۔۔۔؟کوٸی اور وقت ھوتا تو وہ یقیناً اس بات کو لیکر اسکو خوب تنگ کرتےمگر اس پل وہ خود اپنی حالت نہیں سمجھ پا رھے تھے
سامنے بیٹھی لڑکی۔۔۔۔انکی ھونے والی ملکیت۔۔۔۔جی میں کیسی کیسی خواہشیں نہ جاگی تھیں اسکی گلابی آنکھوں کو دیکھ کر
مگردل پر جبر کرتے ھوۓ وہ اسے سمجھانے لگے
واپس آٶنگا ناں تو ایک سرپراٸز بھی دونگا تمھیں۔۔۔۔
وہ انھیں چھوڑ کر کافی بنانے کے بہانے اٹھی تو جیسےوہ اسکا رونا ضبط کرتے سمجھتے اس تک گٸے تھے اور اسکا رخ اپنی طرف موڑتے ھوۓ کہنے لگے
ہلکی ہلکی نمی لیے اسک آنکھیں اور کپکپاتے ھوۓ ھونٹ۔۔۔۔انھوں نے اس دل موہ لنے والے منظر کو جی بھر کے دیکھا
جلد آٶنگا۔۔۔۔میری مِشو کا خیال رکھنا اوکے۔۔۔۔اسکے دونوں ہاتھوں کو اپنے ہاتھوں میں لیکر اسکے ماتھے سے اپنی پیشانی ٹکراٸی تو وہ روتے میں ھی مسکراٸی تھی
چلواب کافی بناٶ تم۔۔۔۔ٹیبل سے برتن سمیٹتے ھوۓ وہ بولے تو مشعل نے حیرت سے انھیں دیکھا
رھنے دیں میں اٹھا دونگی برتن۔۔۔کیا کر رھے ھیں؟؟
تھوڑی سی ہیلپ کروا دینے سے میری شان میں کمی تھوڑی آۓ گے۔۔۔کف فولڈ کرتے ھوۓ جب انھوں نے سنک کا نل کھولا تو وہ بے اختیار ان کی طرف بڑھی اور ہاتھ پر ہاتھ رکھ کر انھیں روکا
میں کر دونگی یہ سب۔۔آپ کوسوٹ نہیں کرتا یہ۔۔
انھیں یہ بات کہتے کہتے وہ ان کے بے حد قریب ھوگٸی ھے اسکی طرف مشعل کا دھیان ھی نہیں تھا۔۔۔۔جبکہ مقابل کے جذبات کو وہ ہوا دے گٸی تھی۔۔۔

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: