Mera Sham Slona Shah Piya Novel By Bella Subhan – Episode 16

0
میرا شام سلونا شاہ پیا از بیلا سبحان – قسط نمبر 16

–**–**–

جب سے نگہت نے حقیقت سے پردہ اٹھانے کے ساتھ ساتھ اسکی طبیعت صاف کی تھی اسے سمجھ نہیں آرھا تھا کہ کونسا احساس زیادہ حاوی ھے۔۔۔۔شرمندگی کا۔۔۔۔ پچھتاوے کا۔۔۔ یا پھر خود پر آۓ غصے کا
ابھی خوشی کو محسوس کرنا دور کی بات تھی فی الحال اسے یہ فکر کھاۓ جا رھی تھی کہ حسن کےسوجے ھوٸے منہ کو کن الفاظ سے سیٹ کر سکے گی
اگلا دن چڑھ آیا تھا اور کچھ ھی دیر میں وہ ناشتے کے لیے نیچے چلا آتا وہ اسے منانے کی غرض سے نپے تلے قدم اٹھاتی اس کے روم کیطرف بڑھی ھی تھی جب وہ اسے سیڑھیاں اترتا دکھاٸی دیا
بےحد سخت تاثرات لیےاسکو مکمل نظر انداز کرتے ھوۓ وہ کچن میں جا کر پانی پینے لگا کچن کے ھی دورازے میں کھڑی ثانیہ کی ہمت ھی نہ ھوٸی اس کے تیور دیکھ کر حسن کو مخاطب بھی کرنےکی
ناشتہ بنا دیتی ھوں۔۔۔کیا۔۔۔۔۔۔کیا کھاٶ گے؟
ہمت کر کے سوال کیا
پلٹ کر روح میں اترتی سرد نگاھوں سے اسے کچھ پل دیکھنے کے بعد وہ واپس سیڑھیوں کی طرف بڑھا
ہونق ھوتی اسکو دیکھتے ھوۓ وہ کچن کے اندر داخل ھو کرچٸیر پر گر سی گٸی
اپنی زبان درازی سے کیا کر بیٹھی ھوں۔۔۔۔آخر مجھے کنٹرول کیوں نہیں ھے اس پر؟؟
خود کو کوستے ھوۓ ذہن اسی کو سوچے جا رھا تھا
کیا کروں۔۔۔۔؟؟تا کہ یہ نیا تو پار لگے
بس اب بہت ھوا یہ سب۔۔۔ پہلے یہ ٹینشن تھی کہ وہ سیریس نہیں ھوتا۔۔۔اب یہ مسٸلہ کہ بہت زیادہ سیریس ھوگیا ھے
کسی کِل چین نہیں ھے اسے۔۔۔بے چین روح
نیند میں ھو کیا؟
کچن سے نکلتے ھی وہ نگہت سے ٹکراٸی تو انھوں نے اسکی تیزی پر ڈانٹ پلاٸی
حسن اٹھا نہیں ابھی تک؟
پانی پی کر تشریف کا ٹوکرا اپنے حجرے میں ھی لے گٸے ھیں محترم۔۔۔اتنے دن مجھے ستاۓ رکھا وہ کچھ نہیں۔۔۔میں نے ذرا سی بات کیا کہہ دی وہ تو مجھے ایسے تیور دکھا رھا ھے جیسے اسکی جاٸیداد ہڑپ کر لی ھو میں نے اور یہ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
بس کر دو اب۔۔۔۔تم نے ذرا سی بات جو کی تھی اسکا مفہوم بہت ھی گھٹیا بنتا ھے ثانیہ۔۔۔جانے کس پر چلی گٸی ھو تم
زاویار میرا اتنا سلجھا ھوا ھے اور مشعل اور حسن بھی کسی کو اپنی زبان سے کم از کم تکلیف نہیں دیتے مگر تمھاری زبان کے آگے خندق ھے
ہڈی نہیں ھوتی زبان میں مگر تمھارا سر ضرور تڑوا دے گی یہ کسی دن میرے ہاتھوں
نگہت کی زبردست ڈانٹ پر وہ منہ کھول کر رہ گٸی۔۔۔۔مطلب ایسی تاریخی بےعزتی
ایکسکیوز کیا ھے اس سے یا نہیں؟
وہ تو مجھ سے بات ھی نہیں کر رھا ماں۔۔روہانسی ھو کر وہ بولی تو غصے میں ھی نگہت کے چہرے پر مسکراہٹ آٸی
معافی مانگو گی تو معاف کر دے گا تمھیں۔۔۔یہ اپنی انا کو ساٸیڈ پر رکھو گی تو ھی کچھ بولو گی ناں اس کے آگے
بیٹا۔۔۔۔۔۔زبان چلانے والی بغیر سوچے سمجھے بول جانے والی عورت بہت جلد دل سے اتر جاتی ھے۔۔۔۔دل میں اترنا سیکھو۔۔۔دل سے نہیں
کچھ دن ھی رہ گٸے ھیں اس کے یہاں۔۔۔۔اپنے رویے سے اسکو اپنا پابند کرو۔۔۔عورت کبھی بھی مرد کو اپنے آنچل سے باندھ کر نہیں رکھ سکتی یہ اسکی عادات ھی ھوتی ھیں جسکا گرویدہ ھو کر وہ کسی اور کی جانب ماٸل نہیں ھوتا
شرمندگی سے سر جھکاۓ وہ انکی نصیحت اب صحیح معنوں میں حفظ کر رھی تھی
ناشتہ بنا دیتی ھوں تم اسے لے آ ٶ اور معافی مانگ لینا مجھے تم دونوں کی شکل پر بجے بارہ نہیں دیکھنے اب
اچھا جاتی ھوں
مرے مرے قدم اٹھاتی وہ سڑھیوں کی طرف بڑھی جب وہ نیچے آ کر بغیر کسی کو بتاۓ باٸیک سٹارٹ کر کے یہ جاوہ جا۔۔۔۔۔
وہ ہکا بکا اسے دیکھتی رہ گٸی۔۔۔کچھ دیر کے بعد ھی نگہت کے فون پر کال کر کے و انفارم کرچکا تھا کہ ضروری کام سے باھر گیا ھے رات تک لوٹے گا
سارا دن جلے پاٶں کی بلی کی طرح اس کے آنے کا ویٹ کرتے ھوۓ شام ھوٸی
أور پھر شام ڈھلتے رات میں بدلی تب ھی وہ گھر واپس آیا
ثانیہ نےسکھ کاسانس لیا کچن میں آ کر کچھ کام نمٹاۓ اور ایک عزم لیے اسکے روم کیطرف جانے کو بڑھی
دروازے کے قریب پہنچ کر گہری سانس بھرتے ھوۓ خود کو کمپوز کیا اور بغیر دستک کے اندر داخل ھوٸی
لیپ ٹاپ گود میں رکھے تیزی سے ٹاٸپ کرتی انگلیاں جبکہ منہ میں سگریٹ دباۓ وہ دھواں چھوڑتے انجن کا منظر پیش کر رھا تھا
حسن سموکنگ بھی کرتا ھوگا یہ تو اس کے وھم و گمان میں بھی نہیں تھا اور اب اس بات پر وہ ماں سے اسکی زبردست بےعزتی پروگرام کا تہیہ کیے آگے بڑھی
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ابھی کچھ سوال باقی تھے مگر زاویار کے بارے میں اور زنیرہ کے لگاۓ گٸے واٹس ایپ سٹیٹس کو سوچتے سردرد سے پھٹنے کے قریب تھا
سوالات گنے تو ابھی بھی تین سوال حل کرنا باقی تھے
آنکھیں سختی سے بند کر کھولتے ھوۓ وہ اپنی کنپٹی دبانے لگی
آر یو اوکے بیٹا؟
ایگزمینر نے شفقت سے پوچھا تو وہ جو پہلے ھی دکھتا ھوا پھوڑا بنی بیٹھی تھی سسک اٹھی
جانے دل کا درد تھا یا دل میں موجود زاویار پر ھونے والا شک۔۔۔۔جو آنکھوں سے آنسوٶں کی صورت بہا
سر۔۔۔سرمیں درد ھے
اسے پانی منگوا کر پلایا گیاتب تک اپنے حواس درست کرتی وہ پیپر پر جھک گٸی اور جسے تیسے پیپر دے کر ٹیکسی کروا کر گھر پہنچی
عروج اور سونیا سے ملنا تودور اسے انکا خیال تک نہ آیا تھا بس وہ چاھتی تھی جلدی ے گھر پہنچ جاۓ اور آنکھیں بند کر لے جو رونے سے اور سر درد سے دکھ رھی تھیں
جانے یہ محبت اتنی بےیقین سی کیوں ھوتی ھے۔۔۔نہ چاھتے ھوۓ بھی لگنے لگتا ھے جیسے محبوب دسترس میں ھوتے ھوۓ بھی میلوں دور ھے
زاویار کو قریب پا کر بھی اسکی بدحواسیاں عروج پر رھتی تھیں اور اگر جو کبھی شک کا ایک پتھر بھی اسکے یقین کے تالاب میں گرتا تو فقط بھنور نہیں بنتا تھا بلکہ ہلچل مچ جاتی تھی
اور دوبارہ اسے ساکت ھونے میں وقت لگتا تھا
نگہت کو سلام کر تے ھی آرام کرنے کی غرض سے وہ اپنے روم میں آ کر بیڈ پر گر گٸی
افففف۔۔۔۔۔۔۔۔۔
چپکے چپکے دے جاتے ھیں
گہرے روگ۔۔۔سنہرے لوگ
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
شیرازصاحب کل ھی باباپہنچ جاٸیں گے پاکستان تو تب تک سنبھال لیجیۓ گا
کمپنی کے مینیجر کو بریفنگ دیتے ھوۓ وہ آفس سے نکلتے آٸسکریم پارلر گٸے سب کی فیورٹ آٸسکریم پیک کروانے کی بعد سیدھا گھر آۓ تھے اوراپنی پیکنگ کرنے کا سوچا تب تک آٹھ بج چکے تھے
گاڑی کی آواز پر وہ اپنی بندآنکھیں کھولتے ھوۓ چونکی چاۓ کا مگ ساٸیڈ پر پڑا دیکھا جو نگہت اسے ٹیبلٹ کیساتھ دے کر گٸی تھیں مگر دوپہر کا پڑا وہ اب تک ٹھنڈا ھو چکا تھا
کمفرٹر پاٶں سے ہٹاتے ھوۓ وہ اٹھی اور ان کے روم کے دروازے تک پہنچی
رخ دوسری طرف کیے وہ بیگ میں اپنے کپڑے رکھ رھے تھے
آہستہ سے چلتی ھوٸی وہ ان کے قریب جا کھڑی ھوٸی تب ھی زاویار کے مصروف ہاتھ ساکت ھوۓ
پلٹ کر اسکا اداس اور سنجیدہ چہرہ دیکھا تو ہلکی سی مسکراہٹ ان کے چہرے پر آٸی جسے وہ کمال مہارت سے چھپا گٸے
اس کے عین پیچھے کھڑکی سے جھانکتا چانداور سامنے ھی چاند کی چاندنی کے جیسے نکھری مگر بکھری سی مشعل۔۔۔۔۔۔۔
ھولے سے ہاتھ بڑھا کر اس کے بالوں کو سہلایا جو الجھے بکھرے اس کے صبیح چہرے کے اطراف میں پھیلے اپنی قسمت پر نازاں تھے
اس نے اپنی آنکھیں بند کیں۔۔۔۔۔
پھر یوں ھوا کہ چاند جو نکلا تو آٸی وہ
پھر چاند کونسا ھے یہی سوچتے رھے
انکی سرگوشی پر اسکی پلکیں لرزیں۔۔۔۔وہ سب کچھ بھولی تھی۔۔۔یہ بھی کہ کل رات سے کچھ دیر پہلے تک وہ کس کرب میں مبتلا تھی یاد رھا تو بس اتنا کہ وہ شخص اور اسکی محبت۔۔۔وقت اور لمس اسے میسر ھے
میری ”مِشو“ اپنے ”زر“ کے بغیر بلکل اداس نہیں ھوگی
ھے ناں؟
اسکا چہرہ دونوں ہاتھوں کے پیالے میں بھرے وہ اسے اک ٹرانس میں لے جا رھے تھے
”جی“
روۓ گی بھی نہیں۔۔۔
”جی“
اچھے سے ایگزیمز دے گی۔۔۔
”جی“
اپنا خیال رکھے گی۔۔۔۔
”جی“
مجھے یاد کرے گی؟؟؟
انکی آواز سرگوشی میں ڈھلی کہ اگر وہ ان کے قریب نہ کھڑی ھوتی تو اسے سناٸی تک نہ دیتا۔۔گھمبیر سرگوشی پر اسکی جان کانپی اور اس نے آنکھیں کھولتے فاصلہ بنایا
بھنویں سیکڑتے دوبارہ اسی پوزیشن اسے میں لاتے زاویار نے مشعل کو خود سے قریب کیا
اسکے چہرے کے نقوش میں الجھتی نظریں جیسے ریشم آپس میں الجھ جاۓ مگر کوٸی سِرا ہاتھ نہ آۓ
ہاتھ کے انگوٹھے سے اسکی لرزتی پلکیں چھوتے ھوۓ وہ اس سے چھوٹے چھوٹے وعدے لے رھے تھےگھڑی پر نگاہ پڑی تو ایک گہری نظر اسےدیکھا
بیگ کی زپ بند کر کے اسے ساٸیڈ پر رکھا تو اسکی نم سی آوازکانوں سے ٹکراٸی
مجھے یاد کریں گے؟بھول تو نہیں جاٸیں گے ناں؟
کبھی یقین نہیں آۓ گا اس لڑکی کو۔۔۔۔۔خودسے کہتے وہ تاسف میں سر داٸیں باٸیں ہلانے لگے
کوٸی خود کو بھول سکتا ھے؟؟ھم الگ الگ تھوڑی ھیں مِشو
وہ انکی بات پر ھولے سے مسکراٸی۔۔۔۔تب ھی نگہت روم میں آٸیں اور زبردستی انھیں ڈاٸننگ ٹیبل تک لے گٸیں کہ کھانا کھا کر ھی ایٸر پورٹ کے لیے نکلیں
وہ روم سے نکلتے نکلتے اسکا ہاتھ پکڑ کر اپنے برابر کر گٸے جو نگہت کے پچھے چل رھی تھی جبکہ وہ سامنے دیکھتے مسکرا رھے تھے تو ایک شرمیلی سی مسکان اس کے لبوں پر بھی آٸی تھی
میری خواہش ھے کہ میں تمھارے سنگ
سمندر کی ریت پر چلوں ڈھلتا ھواسورج دیکھوں
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
یہ فضول کام کب سے شروع کیا ھے تم نے؟؟
اس کے سر پر کھڑی تھانیدار بنی وہ پوچھ رھی تھی اور یہ بھی بھول بیٹھی تھی کہ اس سے ایکسکیوز کرنے آٸی ھے
ایک نظر اٹھا کر اسے دیکھنے کی بجاۓ حسن نے لیپ ٹاپ بند کیا اور ڈریسنگ ٹیبل کے آگے کھڑا ھو کر بال بنانے لگا
سگریٹ ہنوز اس کے لبوں میں دبی ھوٸی تھی جس سے تھوڑے تھوڑے وقفے کے بعد دھواں نکل کر ماحول کو آلودہ کررھا تھا
تم سے بات کر رھی ھوں میں۔۔۔۔۔دیکھنا ماں کو بتاٶنگی اوربابا۔۔۔۔۔بابا کو آ لینے دو اچھی کلاس لگواٶں گی تمھاری
بالوں کو سیٹ کرنے کے بعد خود پر پرفیوم چھڑکتاوہ مکمل خاموشی اختیار کیے ھوۓ تھا
اسکی خاموشی سے ثانیہ کا جی گھبرایا تو بے ساختہ اسکا بازو پکڑ کر اسکا رخ اپنی طرف موڑا
دور رھو۔۔۔۔۔میں مزید کوٸی الزام برداشت نہیں کر سکتا
جھٹکے سے اپنا بازو چھڑاتے ھوٸے وہ ٹھنڈے لہجے میں بول کر اسے بھی اپنی جگہ سرد کر گیا
حسن۔۔۔۔۔۔۔۔اسکی آنکھیں یکلخت آنسوٶں سے بھری تھیں تو وہ ایک نظر اسے دیکھ کر لب بھینچ گیا
یہ رونے دھونے کا شوق باھر جا کر پورا کریں میرے سامنے یہ ہتھیار چلانے کی کوٸی ضرورت نہیں سمجھیں آپ
وہ ٹکر ٹکر اسکے انداز تخاطب پہ غور کرنے لگی پہلی بار اسے ادراک ھوا کہ معاملہ اتنا بھی ہلکا نہیں جتنا وہ لے بیٹھی تھی
باٸیک کی چابیاں اٹھا کر وہ جیسے ھی اس کے پاس سے گزرا تو وہ اسکا ہاتھ پکڑ گٸی
پلیز۔۔۔۔۔۔۔۔ساتھ ھی ایک سسکاری اس کے لبوں سے ادا ھوٸی کیونکہ اسکا وہی ہاتھ حسن نے پکڑ کر شدت سےدبایا تھا گویا اپنا غصہ نکالا تھا اس پر
رویا رویا چہرہ اور آس بھری نظروں سے اسے تکتی ھوٸی اسکی تیز طرار سی محبت۔۔۔۔بلکہ زبان دراز محبت۔۔۔۔۔۔ذہن میں سوچتے ھی اسے ہنسی آٸی مگر پھر بھی وہ اسے فی الحال معاف کرنے کا ارادہ نہ رکھتا تھا تب ھی اس کے اگلے عمل نے حسن کو ساکت کر دیا
دونں ہاتھ اس کے آگے جوڑے اس سے معافی طلب کرتی وہ اسکا دل گداز کر گٸی
سگریٹ لبوں سے نکال کر جوتے تلے مسلتے وہ اسکے ہاتھوں کو کھول کر اپنے حصارمیں لے گیا
بےوقوف۔۔۔۔۔۔یہ کیا کر رھی ھو بھلا۔۔۔۔تھیں جھکانا کبھی بھی نہیں چاھا میں نے جھلی لڑکی۔۔۔۔ جن سے محت ھو ان کو جھکا کر کونسی تسکین ملا کرتی ھے بھلا۔۔۔۔۔اس کے آنسوصاف کرتے ھوۓ وہ اپنی محبت کا مان بخش رھا تھا
وہ روۓ گٸی تو وہ بے بسی سے اسے دیکھ کر رھ گیا
اپنے اصول یوں بھی کبھی توڑنے پڑے
اسکی خطا تھی ہاتھ مجھے جوڑنے پڑے
یہ لو بس۔۔۔ اب رونابند کرو۔۔۔دونوں ہاتھ اس کے سامنے جوڑتے وہ چڑتے ھوۓ بولا تو ثانیہ روتے میں ھی ہنس دی
دھوپ میں بارش کا منظر دیکھ کر نگاھوں میں محبت کی تپش بڑھ گٸی تو بے اختیاری میں اسے دیکھے گیا
گلابی پڑتی ثانیہ نے اسے زبردستی روم سے نکالا کیونکہ سب انکا کھانے پر ویٹ کر رھے تھے
خوشگوار ماحول میں کھانا کھانے کے بعد حسن اور زاویار ایٸر پورٹ کے لیے نکلے۔۔۔۔مشعل پہلے ھی روم میں جا چکی تھی کیونکہ وہ سب کے سامنے رونا نہیں چاھتی تھی
ذرا ٹھہرو
مجھے محسوس کرنے دو
تمھارے بعدکا منظر
دلِ برباد کا منظر
اسے زاویار سے کیے وعدے یادآۓ تو خود کو مضبوط کرتی تکیے پر سر رکھ گٸی
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
کیوں پریشان ھو رھے ھیں بابا۔۔۔۔۔سب ٹھیک ھے۔۔۔اور نہیں بھی ٹھیک تو إن شاءالله ھو جاۓ گا اتنا سٹریس لے لیا ھے آپ نے آفس کی پرابلمز کا کتنے ویک ھو گٸے ھیں
دبٸی میں لیے گٸے اپاٹمنٹ میں صوفے پر بیٹھے وہ ابراھیم کو بہت تشویش سے دیکھ رھے تھے
اب تم آ گٸے ھو ناں۔۔میں جانتا ھوں سب ٹھیک ھو جاۓ گا یہ بتاٶ گھر میں سب کیسے ھیں؟مشعل کے ایگزیمز ٹھیک ھو رھے ھیں یا نہیں؟مجھے تو فرصت نہ ملی کہ بچی کو فون کر کے ھی پوچھ سکوں
سب فٹ ھیں ماشاءاللہ۔۔۔۔
اور ہاں۔۔۔۔۔
جہاں شادی پر ثانیہ گٸی تھی حسن کیساتھ۔۔۔ ادھر سے رشتہ آیا ثانیہ کا مگر ھم سب کا یہ خیال تھا کہ حسن اور ثانیہ ھی بیسٹ ھیں ایک دوجے کے لیے
بلکہ امی نے مجھے بتایا تھا کہ آپ بھی یہی چاھتےتھے تو چلیں مبارک ھو۔۔۔اس آنے والے رشتے کو حسن کے کہنے پر ھی انکار کر دیا گیا ھے
میرے پاکستان واپس جانے تک وہ انگلینڈ واپس جا چکا ھوگا۔۔۔دو سال بعد لوٹے گا تو ھی شادی ھو پاۓ گی اور میں بیچارا مفت میں رگڑا جاٶں گا
یار بابا یہ غلط بات نہیں ھے۔۔۔۔۔۔۔کچھ جھینپتے اور مصنوعی پریشانی سے وہ بولے تو ابراھیم کا قہقہہ گونجا تھا
بہت ھی اچھے لگ رھے ھو یوں اپنی خواہشات کا اظہار کرتے۔۔۔۔ ہاں میری خواہش تھی یہ مگر تمھاری ماں نے ھی منع کر دیا کہ نہیں بچے راضی نہیں ھونگے۔۔۔۔یہ بہت اچھا کیا ھے
اللہ میرے چاروں بچوں کو خوش رکھے آمین
اور اب شادی تو حسن کی واپسی پر ھی ممکن ھے۔۔آخر کو تمھاری دلہن کا بھاٸی ھے وہ
ان کے شوق کو مزید ھوا دیتے وہ اسے تنگ کرنے لگے تو زاویار نے انھیں گھور کر دیکھا
کچھ کھلاٸیں بہت بھوک لگی ھوٸی ھے مجھے۔۔۔۔
ہاں کھانا بس تیار ھی سمجھو۔۔۔ میں کٌک سے کہہ کر لگواتا ھوں ٹیبل پر تم فریش ھو جاٶ
سرہلاتے وہ اپنا بیگ گھسیٹتے ھوۓ روم میں چل دیٸے
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
وہ پیپر میں تین دن کا گیپ ھونے کی وجہ سے لیٹ اٹھی تھی اور اٹھتے ھی موباٸل دیکھا جہاں تین مسڈ کال کی نوٹیفیکیشن دیکھتے وہ تیزی سے اٹھ کر بیٹھی موباٸل ان لاک کر کے کالر چیک کرنے لگی
سر پہ ہاتھ مارتے اسے افسوس ھوا کہ کیوں ساٸیلنٹ پر لگا بیٹھی موباٸل
زاویار کو کال بیک کی مگر یقیناً وہ بزی تھے تب ھی کال اٹینڈ نہ کر پاۓ تھے
وقت دیکھا تو دن کے گیارہ بج رھے تھے جماٸی روکتے ھوۓ وہ اٹھ کر بال سمیٹتی ھوٸی فریش ھونے چل دی
جب تک کچن میں آٸی ساڑھے گیارہ ھو چکے تھے خلافِ معمول حسن جلدی جاگ گیا تھا
اور اسکہ چہکاریں کچن سے باھر تک سناٸی دے رھی تھیں
اٹھ گٸیں۔۔۔۔۔۔آجاٶ
نگہت نے پیار سے اسے اپنے ساتھ والی کرسی پر بٹھایا۔۔۔۔حسن ناشتہ کر رھا تھا اور ثانیہ مشعل کے لیے پراٹھا بنانے کو فریج سے آٹا نکالنے لگی
اپنی بیٹی سے کہیں چاۓ میں چینی ذرا کم ڈالا کرے۔۔۔۔میں تو پہلے ھی بہت سویٹ ھوں
شرارت سے حسن نے نگہت کو کہا ساتھ ھی گہری نظروں سےاسکی پشت کو دیکھا
کیا بھاٸی صبح ھی صبح نہیں کریں۔۔۔۔۔ابھی میرا لڑاٸی دیکھنے کا کوٸی موڈ نہیں ھے
مسکراتے ھوۓ وہ بولی تو حسن ہنسنے لگا
تم نے غور نہیں کیا کہ محترمہ ذرا میوٹ سی ھوگٸی ھیں اور اب عزت سے بات کیا کریں گی مجھ سے۔۔۔۔
ھیں جی؟؟؟
بھر شرارت سے وہ ثانیہ کو دیکھتے پوچھنے گا تواس نے محض ایک پل کو اسے دیکھ کر رخ دوبارہ چولہے کی طرف کیا
یہ آج سورج کیا مغرب سے نکلا ھے؟میری آنکھیں کیا دیکھ رھی ھیں کوٸی جوابی کارواٸی کوٸی جواب تڑتڑاتا ھوا نہیں دیا ثانیہ نے
ماجرا کیا ھے ممانی؟؟
مسکراتے ھوۓ نگہت کی طرف جھکتے اس نے حیرت سے ہوچھا تو وہ ہنس دیں
تمھیں پتا ھے سندس جو رشتہ لاٸی تھی انھیں انکار کر دیا ھے ھم نے
کیا؟؟کیوں ممانی؟
حسن نے ناشتہ کرنے کے بعد سنک میں ہاتھ دھوۓ اور ثانیہ کے دوپٹے سے ہاتھ پونچھنے لگا مشعل اچھنبے سے اسکی یہ حرکت دیکھنے لگی زیادہ حیرت اسے تب ھوٸی جب ثانیہ نے چِلا کر اس سے اپنا پلو نہیں چھڑوایا
پھر ہنستے ھوۓ مشعل کے سر پہ ہاتھ پھیر کر اس کے بال بکھیرتا وہ کچن سے نکل گیا کیونکہ وہ یہ بات اچھے سے جانتا تھا کہ کچھ دیر تک وہ خود اس تک پہنچ جاۓ گی
بتاٸیں ناں۔۔۔۔یہ عجیب سا بی ہیو کیوں کر رھےھیں دونوں؟
زچ ھو کر اس نے نگہت سے پوچھا تو ثانیہ جو پراٹھا اس کے آگے رکھ رھی تھی اپنی مسکراہٹ کو روکنے کی ناکام کوشش کرتی اسے دیکھ کر رہ گٸی
حسن نے اس رشتے سے انکار کروایا ھے کیونکہ وہ خود ثانیہ سے شادی کرنا چاھتا ھے۔۔۔۔ تو کیا تمھیں ثانی بھابی کی حیثیت سے قبول ھے؟
نگہت نے بے حد مسرت سے اسے سرپراٸزڈ کر دیا کہ چندثانیے تک وہ انھیں دیکھتی رھی پھر چیخ مارتی ھوٸی کرسی دھکیلتے ثانیہ تک گٸی اور اسے محبت سے گلے لگایا
مجھے نہیں بتاا ناں تم نے بھی۔۔۔مصنوعی ناراضی دکھاتے وہ بوکی مگر ثانیہ صرف مسکراۓ گٸی
ھاۓ۔۔۔۔۔۔۔کتنا مزہ آۓ گا ناں تم میری بھابی بنو گی۔۔۔میری اچھی دوست کزن اور اب بھابی۔۔۔۔۔تھینک یو یار تھینک یو سو مچ۔۔۔۔آٸم سو ہیپی الحمداللہ
اسے گلے لگاۓ وہ بولتی گٸی تو خوشی سے نگہت کی پلکیں بھیگیں انکا جی چاھا کہ ان دونوں کو زاویار اور مشعل کے رشتے سے بھی آگاہ کریں مگر پھر زاویار کا سختی سے منع کرنا یاد آتے ھی چپ ھو رھیں
میں ذرا بھاٸی کی خبر لے آٶں۔۔۔مجے ھوا تک نہ لگنے دی بھاٸی صاحب نے۔۔۔ تھوڑی دیر میں آ کر ناشتہ کرتی ھوں
ثانیہ کے گال پر بوسہ دیتے ھوۓ وہ حسن کی خبر لینے نکلی تو نگہت نے ثانیہ کے چہرے پر خوشی دیکھتے ھوۓ آسودگی سے شکر ادا کیا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
تم خوش ھو ناں۔۔۔۔۔؟اپنے برابر اسے بٹھاتے حسن کے پوچھنے پر وہ اس کے کندھے سے لگی
بہت خوش ھوں بھاٸی مگر آپ سے شکایت ھے مجھے بہن سے ھی چھپاتے ھیں آپ اتنی اتنی اھم باتیں۔۔۔۔۔منہ بسورتے اس کے کہنےپر وہ ہنسا
مجھے خود اندازہ نہیں تھا لڑتے لڑتے کب اچھی لگنے لگی تمھاری وہ بےوقوف سی کزن۔۔۔۔اسے پچکارتے ھوۓ وہ ایکدم ثانیہ کی شان میں گستاخی کر بیٹھا
خبردار بھاٸی۔۔۔۔۔۔اب تو تین تین رشتے ھیں میرے اس کے ساتھ۔۔دوست کزن اور اب بھابی۔۔۔۔
میں اس کے خلاف کوٸی بات نہیں سنوں گی
اچھا بھٸی تمھارے سامنے نہیں کرتا ایسی کوٸی بات۔۔۔مگر اسے تنگ کرنا نہیں چھوڑ سکتا۔۔یہی چیز تو ھمارے بیچ رشتے کا حٌسن ھے
چند چھوٹی چھوٹی باتیں کرتے اسے یاد آیا کہ ناشتہ ٹھنڈا ھو رھا ھوگا۔۔۔سر پر ہاتھ مارتی وہ اٹھی تھی
ناشتہ کر لوں۔۔۔۔۔۔تھوڑی دیر کا کہہ کر آٸی تھی میں۔۔۔ ٹھنڈا ھوگیا ھوگا سب
حسن کو کہتی وہ کچن سے نکلی۔۔۔ساتھ ھی زاویار سے ناراضگی دل میں جاگی تھی کہ انھوں نے بھی اسے کچھ نہ بتایا تھا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
نہا کر بالوں کو جھٹکتے ھوۓ ھوۓ اس نے انھیں کھلا چھوڑا جو اسکی کمرکو ڈھانپ گٸے اور کچن میں آ کر دو کپ چاۓ بنانے کے بعد نگہت کے روم میں گٸی تاکہ انھیں دوپہر کی میڈیسن دے سکے
وہیں ان کے پاس بیٹھے ھی چاۓ پیتے ھوۓ ادھر ادھر کی گفتگو کرتے کچھ دیر ھی گزری تھی جب حسن روم میں داخل ھوا
یہاں محفل جما کر بیٹھی ھیں دونوں ھی اور میں بور ھو رھا ھوں۔۔۔۔بندہ کسی اور سے بھی پوچھ لیا کرتا ھے کہ چاۓ پینی ھے یا نہیں
نگہت کے پاس بیٹھتے وہ ناراضی سے بولا تو اس نے اہنے کپ کو دیکھا جو آلموسٹ وہ خالی کر چکی تھی
جاٶ چاۓ بنا لاٶ اس کے لیے بھی۔۔۔۔نگہت نے اسے کہا تو وہ حسن کو گھور کر رہ گٸی جو چاۓ کے ساتھ کچھ اور بھی کھانے کی فرماٸش کر رھا تھا
توبہ۔۔۔۔۔پیٹ ھے یا کنواں؟ابھی ١١ بجے ناشتہ کیا ھے اور تین بجے بھوک بھی لگ گٸی ۔۔۔۔نخوت سے وہ بولی تو حسن نے نگہت کو شکایتی نظروں سے دیکھا
دیکھ لیں۔۔۔۔۔میرے کھانے پینے پر بھی نظر رکھتی ھے یہ۔۔۔
ثانیہ۔۔۔۔۔۔۔نگہت کی تنبیہہ پر وہ پیر پٹختی وہاں سے نکلی تو حسن نے شیطانی مسکراہٹ سے اسکا جانا دیکھا
کچھ دیر باتیں کرنے کے بعد اسے لگا کہ نگہت بمشکل آنکھیں کھولے اسی کی وجہ سے نیند کو بھگا رھی ھیں تو بے ساختہ انکی پیشانی چومتے انھیں سونے کا کہتا وہ کچن کی طرف بڑھا جہاں وہ اس کے لیے لوازمات تیار تھا۔۔

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Read More:  Filhal By Muhammad Shariq – Episode 8

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

%d bloggers like this: