Mera Sham Slona Shah Piya Novel By Bella Subhan – Episode 2

0
میرا شام سلونا شاہ پیا از بیلا سبحان – قسط نمبر 2

–**–**–

کیا تم لوگ مسلسل فضول باتیں کر رھی ھو۔۔۔۔بس کرو اب
سر درد کرواٶگی کیا میرا؟؟
اوھو پتا نہیں کس دور کی ھو تم۔۔۔اتنا مزے کا ڈرامہ ھے اور پتا ھے تمھیں سب سے زیادہ سرچ کیا جانے والا ڈرامہ ھے یہ جو تم دیکھنا تو دور۔۔۔ بات کرنا بھی پسند نہیں کرتی اس کے بارے میں
سونیا نے اسے تاسف سے دیکھتے ھوۓ کہا تھا جیسے کوٸی بہت بڑا نقصان تھا اسکا ڈرامے نا دیکھنا
اوہ معاف رکھو مجھے ان خرافات سے۔۔۔نری فضولیات۔۔۔اچھا سنو حسن بھاٸی نیکسٹ منتھ آ رھے ھیں اور انکا برتھ ڈے بھی نیکسٹ منتھ ھی ھے
میں انکو کیا دوں؟
اچھا مشورہ دینا اب ورنہ منہ بند ھی رکھنا
عروج اور سونیا کو دیکھتے ھوۓ اس نے کہا تو عروج اسے گھورنے لگی۔۔۔۔
کوٸی بک گفٹ کردو۔۔۔۔سونیا نے مشورہ دیا تو مشعل نےمنہ بناتے اسکو دیکھا تھا
انکو کوٸی شغف نہیں ھے کتابوں سے بہن۔۔۔۔
نیکسٹ؟؟
سوٹ دے دو تحفے میں
عروج نے کہا تھا
لوجی۔۔۔امی تھوڑی ھوں میں انکی۔۔۔۔نہیں کچھ اور بتاٶ
نخوت سے اس کے کہنے پر دونوں نے اسے گھوری سے نوازا
اپنے زاویار بھاٸی سے پوچھ لینا تم۔۔۔۔۔کچھ پسند بھی آتا ھے تمھیں؟؟
سونیا نے اسے لتاڑا تھا تو وہ شرمندہ سی ھوگٸی
ارے ھاں۔۔۔۔سر امیتیاز کے ٹیسٹ کی تیاری کرونگی آج۔۔۔
زاویار بھاٸی سے کل کہا تھا میں نے۔۔۔اب دیکھنا کوٸی انسلٹ کر کے تو دکھاۓ میری ۔۔۔پچھلی بار تو ساری کسر نکال دی تھی سر نے میری بےعزتی سب کے سامنے کر کے ھونہہ۔۔۔۔
ناک چڑھا کر بولتے ھوۓ اس نے جیسے اپنی شرمندگی کو زاٸل کیا تھا بلکہ ٹاپک ھی چینج کر گٸی تھی
تم ان سے ایک ھی بار نوٹس کیوں نہیں بنوا لیتی مشی؟؟
سونیا نے کہا تھا
نو وے۔۔۔۔کبھی بھی نا کریں وہ یہ کام۔۔۔مجھے کہتے ھیں کہ جب وہ ھیں مجھے سمجھانے کو تو نوٹس کا کیا کرنا میں نے
ھاں ٹیوٹر رکھوانے کا کہتے ھیں مگر اس پر میں نہیں مانتی۔۔مجھے ان کے علاوہ کسی کی سمجھ نہیں آتی بھٸ
ھمیشہ تو نہیں رھیں گے تمھارے ساتھ وہ۔۔۔اتنا بھی عادی نا بنو انکی کہ پھر بعد میں مشکل ھو
عروج نے سنجیدگی سے اسے ایک اور رخ دکھانے کی کوشش کی تھی
بعد میں مطلب۔۔۔؟
وہ کہاں جا رھے ھیں بھلا اور نا میں نے جانا ھے کہیں۔۔۔۔
بات کرتے کرتے اس نے رسٹ واچ میں وقت دیکھا جو نیکسٹ پیریڈ کے شروع ھوجانے کا وقت بتا رھی تھی
اوہ چلو چلو ٹاٸم ھوگیا کلاس کا۔۔۔گراٶنڈ سے اٹھ کر یونیفارم جھاڑتے اس نے کہا تو وہ دونوں بھی اٹھ کھڑی ھوٸیں
یوں جو سنجیدہ بات عروج نے اسے بناتے کی کوشش کی تھی وہ پھر آٸی گٸی ھوگٸی تھی
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
شیراز صاحب میری غیر موجودگی میں کیا کیسے ہینڈل کرنا ھے یہ آپ کو بخوبی آنا چاھیے مینیجر کی پوسٹ کے لیے اگر آپ کو رکھا گیا تھا تو کچھ گٹس تھے ایسے جس کی بنإ پر آپ کو یہ عہدہ دیا ھے
سو خود کو انڈر ایسٹیمیٹ مت کیا کریں
دوستانہ مسکراہٹ کے ساتھ وہ آفس میں بیٹھے منیجر کی ہمت بندھا رھے تھے
بہت شکریہ سر۔۔۔۔مگر کیا آپ ڈیلی جلدی چلے جایا کریں گے۔۔۔۔؟؟
ارے نہیں بھٸی۔۔۔آج گھر میں کام ھے کچھ جسکی وجہ سے جانا پڑ رھا ھے
چلیں میں اب نکلتا ھوں آپ دیکھ لیجیۓ گا باقی سب
اوکے۔۔۔۔اللہ حافظ
خدا حافظ سر
شیراز صاحب نے عقیدت سے انھیں جاتے دیکھا۔۔۔کہنے کو وہ ان کے باس تھے مگر اس قدرڈاٶن ٹو ارتھ تھے کہ کبھی کبھی انھیں لگتا کہ انکا کولیگ ان سے مخاطب ھے کمپنی کا باس نہیں
ان کے اسی رویے کی وجہ سے پورا سٹاف انکو بے حد عزت اور عقیدت کی نگاہ سے دیکھتا تھا
آفس سے نکلنے کے بعد راستے میں ھی انھیں یاد آیا کہ کچن کے کچھ سامان کی لسٹ صبح ثانیہ نے پکڑاٸی تھی
گاڑی کو ایک فیملی مارٹ کے قریب پارک کر کے انھوں نے والٹ سے وہ لسٹ نکالی اور سامان لینا شروع کیا
اوہ ہیلو۔۔۔۔۔مسٹر ملک یہ تم ھی ھو ناں زاویار؟؟؟
دفعتاً بے حدنرم سی آواز پر انھوں نے پلٹ کر دیکھا
او۔۔۔۔اَلسَّلامُ عَلَيْكُم ۔۔۔۔۔!
کیسی ھو زنیرہ۔۔۔؟؟عرصے بعددیکھ کر اچھا لگ رھا ھے
دھیمی سی مسکان لیے آنکھوں میں تھوری حیرت کیساتھ وہ بولے تو زنیرہ نے ان کے کندھے پرایک چپت رسید کی
کتنے بدتمیز ھو۔۔۔۔۔کہا بھی تھا کہ رابطہ رکھنا مگر تم بھی اپنے نام کیطرح وکھرے ھی ھو
گھر سب کیسے ھیں؟
سب ٹھیک ٹھاک الحمداللہ
تم سناٶ ثقلین کہاں ھوتا ھے آجکل؟اورشادی ھو گٸی تم دونوں کی یا ابھی تک گھر والوں کو منانے کا پہاڑ سر کرنا باقی ھے؟
انھوں نےشرارت سے اسے کہا تو وہ جلے دل کے پھپھولے پھوڑنے لگی
انگلینڈ میں مزید کوٸی کورس شروع کردیاھے اس نے
ایک سال تک مکمل ھو جاۓ گا
”ھممم صحیح“
اچھا تمھاری تو شادی ھو گٸی لگتا ھے
زنیرہ نے انھیں کچن کا سامان لیتے دیکھ کر شرارت سے کہا تو وہ محض اسے دیکھ کر مسکرا دٸیے
اوہ نہیں لڑکی۔۔۔۔یہ تو ثانیہ نے لسٹ تھما دی تو سوچا لیتا ھوا جاٶں
اور وہ کیسی ھے تھاری کزن؟؟کیا نام تھا بھلا اسکا۔۔۔۔ہاں مشعل۔۔۔مشعل کیسی ھے؟ابھی بھی اتنی ھی پاگل ھے تمھارے لیے؟
توبہ کیسے تمھیں روز ویڈیو کال کرتی ھوتی تھی اور اگر کبھی تم بات نہیں کر پاتے تھے تو کٸی دن ناراض رہ کر بدلہ لیتی تھی تم سے
زنیرہ نے انھیں پرانی یادیں تازہ کرواتے ھوۓ کہا جسے سن کر وہ ہنس دیٸے
ابھی بھی ویسی ھی ھے وہ۔۔۔جھلی سی کچھ سیانی سی
آنکھوں میں بے انتہا محبت لیے جب انھوں نے کہا تو زنیرہ نے حیرت سے انھیں دیکھا تھا
اسی سے شادی کر لینا تم زاویار تم دونوں خوش رھو گے
زنیرہ نے محض ان کے تاثرات دیکھنے کے لیے ایسا سوال کیا تھا اور توقع کے عین مطابق وہ کچھ پل کو ساکت رھ گٸے تھے
کیسی باتیں کرتی ھو؟؟؟
سیکنڈز میں اپنے چہرے کے تاثرات کو نارمل کرتے ھوۓ انھوں نے اسکی نفی کی تھی مگر زنیرہ کی زیرک نگاھوں نے وہ راز پا لیا تھا جس کو وہ دنیا سے چھپاۓ بیٹھے تھے
ھمممم محبت۔۔۔۔۔۔اسے بتایا ھے؟؟
زنیرہ نے ایک بار پھر جب پوچھا تو وہ زچ ھو گٸے خود پر غصہ بھی آیا کہ اب ان کو خود کے فیشل ایکسپریشنز پر بھی کنٹرول نا رھا تھا
وہ نہیں جانتی بہت ھی لاپرواہ ھے وہ
تھکے سے لہجے میں انھوں نے کہا تھا
چلو اب میں چلتا ھوں پھر ملیں گے
ایک دوسرے کے نمبرز ایکسچینج کرنے ک بعد وہ ٹرالی گھسیٹتے ھوۓ کاٶنٹر کی طرف بڑھ گٸے
ذہن پر وہ اور اس کی محبت ساتھ ھی اس کا انجان ھونا سوار تھا
کوئی ایسا جادو ٹونہ کر۔
مرے عشق میں وہ دیوانی ہو۔
یوں الٹ پلٹ کر گردش کی۔
میرے عشق سے نا انجانی ھو۔
زرا دیکھ کے چال ستاروں کی۔
کوئی زائچہ کھینچ قلندر سا
کوئی ایسا جنتر منتر پڑھ۔
جو کر دے بخت سکندر سا
کوئی چلہ ایسا کاٹ کہ پھر۔
کوئی اسکی کاٹ نہ کر پائے ۔
کوئی ایسا دے تعویز مجھے۔
وہ مجھ پر عاشق ہو جائے۔۔
کوئی فال نکال کرشمہ گر ۔
مری راہ میں پھول گلاب آئیں۔
کوئی پانی پھوک کے دے ایسا۔
وہ پئے تو میرے خواب آئیں۔
کوئی ایسا کالا جادو کر
جو جگمگ کر دے میرے دن۔
وہ کہے مبارک جلدی آ ۔
اب جیا نہ جائے تیرے بن۔
کوئی ایسی رہ پہ ڈال مجھے ۔
جس رہ سے وہ دلدار ملے۔
کوئی تسبیح دم درود بتا ۔
جسے پڑھوں تو میرا یار ملے
کوئی قابو کر بے قابو جن۔
کوئی سانپ نکال پٹاری سے
کوئی دھاگہ کھینچ پراندے کا
کوئی منکا اکشا دھاری سے ۔
کوئی ایسا بول سکھا دے نا۔
وہ سمجھے خوش گفتار ہوں میں۔
کوئی ایسا عمل کرا مجھ سے ۔
وہ جانے ، جان نثار ہوں میں۔
کوئی ڈھونڈھ کے وہ کستوری لا۔
اسے لگے میں چاند کے جیسا ہوں ۔
جو مرضی میرے یار کی ہے۔
اسے لگے میں بالکل ویسا ہوں۔
………………..
مونگ پھلی کا شاپر گود میں رکھے ہینڈز فری لگاۓ کوٸی گانا سنتی وہ انھیں ٹی وی لاٶنج میں رکھے صوفے پر بیٹھی نظر آٸی
ٹاٸی کی ناٹ ڈھیلی کرتے ھوۓ انھوں نے اپنا موباٸل اور والٹ ٹیبل پر رکھا تھا اور اسے دیکھا جو بڑے انہماک سے گانا سننے میں منہمک تھی
انھیں اسکی مصروفیت دیکھ کر ہنسی آنے لگی جیسے بہت ھی سرور مل رھا ھو اسکو
اسکے کان سے ایک ہینڈ فری نکال کر انھوں نے اپنے کان سے لگاٸی اور اسکی پسند کے گانے کو سننا چاہا تو وہ حیرت زدہ رھ گٸے
جہاں سجاد علی کا سونگ” تصویر“ چل رھا تھا
ایسی میلوڈیس اور گہری پسند ھوگی اسی۔۔۔انھیں بلکل بھی اندازہ نہیں تھا
اوہ زاویار بھاٸی۔۔۔میں کب سے آپ کا ھی ویٹ کر رھی تھی پتا ھے۔۔۔پھر سوچا چلو کچھ اچھا سا سنا جاۓ
آپ کیلیے کچھ لاٶں چاۓ کافی یا کچھ بھی جو آپ چاھیں؟؟
تیز تیز بولتی موباٸل کو ایک طرف رکھ کر کھڑے ھوتے اس نے پوچھا تھا
نہیں۔۔۔۔۔کچھ بھی نہیں چاھیے بس تم اپنی بکس لیکر آٶ میں دس منٹ تک آتا ھوں فریش ھو کر
بھرپور نگاھوں سے دیکھتےاسکے بکھرے بالوں کو ہاتھ سے سنوارنے کی خواہش کو دل میں دباتے انھوں نے کہا اور اپنے کچن میں جا کر ثانیہ کو اسکا سامان پکڑایا
اوہ شکریہ بھاٸی” یو آر دی بیسٹ“
تشکر سے انھیں دیکھ کر ثانیہ نے کہا تھا
امی کہاں ھیں؟
ان کے سرمیں درد تھا کچھ دیر پہلے ھی سوٸی ھیں چاۓ کیساتھ میڈیسن دی تھی میں نے
آپ کیلیۓ لاٶں کچھ کھانے کیلیۓ؟
میری گڑیا سب کا کتنا خیال کرتی ھے۔۔۔۔انھوں نے پیار سے اس کاسر تھپتھپایا تھا
نہیں مجھے مشعل کو تیاری کروانی ھے اس کے ٹیسٹ کی۔۔۔بعد میں کچھ چاھیۓ ھوگا تو مشعل سے ھی کہہ دونگا تم ریسٹ کر لینا۔۔۔کچن میں ھی پاٸی جاتی ھو ھر وقت
مصنوعی ناراضگی سے انھوں نے کہا تووہ مسکرا دی
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
فریش ھو کر جیسے ھی وہ روم سے نکلنے لگے تب ھی انکا فون بجا تھا
سکریں پر زنیرہ کا نمبر دیکھ کر وہ تاسف سے سر ہلا کر رھ گٸۓ
اس قدر باتونی لڑکی تھی پہلے فیملی مارٹ میں بھی گپیں لگاٸیں اور اب یقیناً گھر جاتے ھی کال کرنے کا سوچا ھوگا
تمھیں سکون نہیں ذرا۔۔۔۔متبسم لہجے میں انھوں نے کال اٹینڈ کرتے ھی اسے شرم دلاٸی تھی مگر مقابل بھی اعلی پاۓ کی ڈھیٹ تھی قہقہہ لگاتے ھوۓ انھیں بھی ہنسنے پر مجبور کر گٸی
میں نے سوچا تمہیں یاد کروا دوں کہ کسی کا فون نمبر لینے کے بعد اسے کال بھی کی جاتی ھے۔۔جتنا میں تم کو جانتی ھوں تم نے کوٸی ایک ڈیڑھ ہفتے بعد مجھ سے رابطہ کرنا تھا مگر یو نو۔۔۔میں ذرا رحمدل ھوں چلو کوٸی نیٸں تم پر احسان رھا میرا یہ
اس نے انھیں چڑایا تھا
ھاہ۔۔۔۔کچھ بھی
مسکراہٹ دباتے انھوں نے کہا تھا
اچھا ابھی ذرا بزی ھوں میں فری ھو کر تم سے با۔۔۔۔۔۔
گھر جا کر کونسے ہل جوتتے ھو تم؟
درمیان میں ھی انکی بات کاٹ کر اس نے پوچھا تھا
اور کام کونسا ھے باۓ دی وے؟؟
مشعل کو اس کے ٹیسٹ کی تیاری کروانی ھے
اوووو۔۔۔۔۔۔۔سنو ناں تم اسکو بتاٶ ناں کے شی از ویری سپیشل فور یو
تم اپنی جان ہلکان نا کرو۔۔۔ویسے بھی اگر اس کو بھنک بھی پڑ گٸی ناں میری محبت کی تو جو میں اسکو دیکھ پاتا ھوں ناں۔۔۔اس سے بھی جاٶں گا
میں جانتا ھوں اسکا ذہن کبھی بھی اس بات کو قبول نہیں کرے گا
اور اگر قبول کر لیا تو۔۔۔۔؟؟؟
کیا مطلب؟
زنیرا کے عجیب سوال پر وہ چونکے تھے
دیکھو زاویار کبھی کبھی ایسا بھی ھوتا ھے کہ ھم خود ھی اپنی محبت سے انجان ھوتے ھیں مگر جب یہ لگنے لگے ناں۔۔کہ محبوب چِھن رھا ھے ھم سے دور جا رھا ھے تب یہ احساس لاشعور سے شعور تک کا سفر طے کرتا ھے
میں مان ھی نہیں سکتی کہ وہ لڑکی تم سے محبت نا کرتی ھوگی وہ بھی اس صورت میں جب اس نے تمھیں سب سے قریب رکھا ھے اپنے
مجھ سے اور ثقلین سے وہ کبھی نہیں ملی مگر یاد ھے ناں کہ ھم سے بھی چڑتی تھی وہ کہ تم ھمارے ساتھ کیوں ہینگ آٶٹ کرتے ھو
سن رھے ھو میری بات؟؟
انکی خاموشی پر اس نے انھیں پوچھا تھا
ھمم۔۔۔ہاں سن رھا ھوں
اچھا اس سنڈے تمھاری طرف آٶنگی اور یہ تو میں اکیلی ھی پتا لگا سکتی ھوں کہ اسکا دل کیا کہتا ھے؟
اور تم کروگی کیا؟
یہ تم مجھ پر چھوڑ دو
مسکراہٹ دباتے اس نے کہا تھا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اسے دس منٹ کا کہہ کر گٸۓ وہ ابھی تک نا لوٹے تھےتو وہ بک کو ٹیبل پر رکھ کر انکے کمرے میں انھیں بلانے چل دی
کھلےدروازے کو ناک کرنے کے لیے ہاتھ اٹھایا ھی تھا کہ انھیں انکی آوازسناٸی تھی
اچھااچھا ٹھیک ھے تمھارا بے حد شکریہ کہ تم میرے گھر اپنے مبارک قدم رکھو گی۔۔۔۔بسسس اتنی ایکساٸٹمنٹ کافی ھے؟؟؟
ہنستے ھوۓے وہ فون پر کسی کو کہہ رھے تھے جب وہ ان کی بات اور بے تکلفی پر ٹھٹکی تھی
چلو اللہ حافظ
اسے اپنے روم میں جھانکتے دیکھ کر زاویار نے زنیرہ کو کہا تھا
میں آنے ھی والا تھا۔۔۔چلو
سنیں۔۔۔؟؟
اسے کہتے وہ روم سے نکلنے لگے جب اس کی مدھم سی آواز سنی
ہاں۔۔۔؟؟
مڑتے ھوٸے انھوں نے پوچھا تھا
کون تھی؟؟؟؟
کہاں؟؟؟
فون پر؟؟؟
اوہ وہ۔۔۔زنیرہ تھی
کون زنیرہ؟؟؟
اس کی خالص بیویوں والی تفتیش پر وہ مکمل اسکی طرف متوجہ ھوۓ تھے جو کمر پر دونوں ہاتھ رکھے انھیں گھور رھی تھی
انھیں اس پر بے تحاشا پیار آیا۔۔۔
زنیرہ میری وہ فرینڈ جو انگلینڈ میں بھی تھی میرے ساتھ۔۔۔شی واز ماۓ کلاس میٹ اینڈ ویری کلوز فرینڈ۔۔۔
جان بوجھ کر اپنے لہجے میں زنیرہ کیلیۓ چاشنی بھرتے ھوۓ انھوں نے کہا تھا
وہ پل میں تپی تھی۔۔۔۔نتھنے پھلاتے ھوۓ انھیں مزید گھورا تو وہ اپنی ہنسی ضبط کرتے ھوۓ اسے روم سے ٹی وی لاٶنج آنے کا کہنے لگے
اس کی دوستی اب یہاں بھی چلے گی کیا؟؟
وہ جاتے جاتے پھر سے پلٹے تھے
کیا مطلب؟؟؟
نگاھوں میں الجھن لیے انھوں نے اسےدیکھتے ھوۓ پوچھا تھا جو شعلہ جوالا بنی واقعی ایک مشعل ھی لگ رھی تھی
کچھ بھی نہیں
نظریں جھکاتی ھوٸی وہ جیسے خود کو سرزنش کرنے لگی کہ ایسا ری ایکٹ کیوں کیا بھلا۔۔۔مرضی ان کی جس سے چاھیں بات کریں دوستی کریں
اب یہ وہ وقت تو رہا نہیں تھا کہ وہ ان کے بازو سے جھولتی ھوٸی لاڈ کرتی۔۔۔
چلیں۔۔۔۔
انکو کہتی وہ تیزی سے دروازہ پار کر گٸی اور وہ سر جھٹکتے اس کے پیچھے چل دٸیے
مگر ایک نیا باب شروع ھوچکا تھا جہاں وہ کونپل جو عرصہ دراز سے مشعل کے دل میں پھوٹ چکی تھی جسکا خود اسکو علم نا تھا
اب تناور درخت بننے کے مرحلے میں داخل ھوا چاھتی تھی
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
چاۓ کا کپ بنا کر اس نے نگہت کے روم کا رخ کیا تھا عادت ھی نا تھی اکیلے بیٹھنے کی
زاویار بھاٸی کو ٹی وی لاٶنج میں مشعل کیساتھ مغز ماری کرتے دیکھا تو بے اختیار مسکراہٹ نے اس کے لبوں کو چھوا تھا
وہ کوٸی کندذہن نہیں تھی بس کبھی کبھی بہت زچ کر دیا کرتی تھی
لاٶنج سے گزرتے وہ روم میں داخل ھوٸی۔۔نگہت ابھی تک سوٸی ھوٸی تھیں
انکی پیشانی چھو کر اس نے یہ یقین کیا کہ بخار تو نہیں ھے صد شکر کہ وہ ٹھیک تھیں
اسے مندی مندی آنکھوں سے دیکھنے کے بعد وہ پھر سے سو چکی تھیں
ان کی میڈیسنز کی وجہ سے اکثر ھی وہ ایسے غنودگی میں چلی جایا کرتی تھیں اور آج تو سر میں درد بھی تھا
ثانیہ نے محبت بھری نگاہ سےماں کو دیکھا اور ان کے قریب ھی چیٸر پر بیٹھ گٸی
ٹیبل پر رکھے نگہت کے موباٸل کی لاٸٹ آن ھوٸی تو اس نے موباٸل اٹھایا تھا جس پر حسن کالنگ لکھا شو ھو رھا تھا
اس نے کال پک کی تھی۔۔۔۔
ااَلسَّلامُ عَلَيْكُم ممانی۔۔کیسی ھیں آپ؟؟
اوھو بھٸی۔۔۔۔ترقیاں۔۔۔۔اتنی چاشنی تو کبھی نا تھی تمھارے لہجے میں۔۔۔
لگتا ھے انگلینڈ نےمحبت سے بولناسکھا دیا ھے جناب کو
طنز کا پہلا تیر اسکی جانب سے گیا تھا
چلو دیر سے ھی سہی مگر چاشنی آٸی تو۔۔۔تمہیں دیکھ کر بندے کو بس نیم یا کریلا ھی ذہن میں آتا ھے۔۔اوہ ہاں زہر کا تصور بھی آ جاتا ھے کبھی کبھار۔۔۔۔
حسن نے اسے جلتے توے پر بٹھانے کی سعی کی تھی اور حسبِ توقع وہ جل بھن گٸی تھی
اچھا اب زیادہ سڑو ناں۔۔۔پہلے ھی تمھاری رنگت تیز پتی والی چاۓ جیسی ھے اس میں اگراضافہ ھوگیا تو لیک لگ جانی ھےخاندان کی خوبصورتی پر
ہنسی روکتے اس نے جیسے حد ھی کر دی تھی
تم نے خود کو دیکھا ھے کبھی۔۔۔۔پھیکے شلجم جیسی تمھاری خود کی رنگت ھے کشش نام کو نہیں ھے ہونہہ۔۔۔۔۔اور تمھاری اطلاع کےلیۓ عرض ھے دیو جیسی جسامت والے آدمی۔۔۔مجھ جیسا کمپلیکشن پرکشش بناتا ھے اچھا۔۔۔
آواز کو دباتے دباتے وہ سلگ سلگ گٸی تھی وہ اس کے سامنے ہوتا تو گرم چاۓ کا کپ اس کے چہرے کی تواضع کر چکا ھوتا
تم آٶ ذرا دیکھنا تو سہی کرتی کیا ھوں تمھارے ساتھ میں۔۔۔وہ اسکی باتیں سنتے ہنسے گیا
قسم سے یار۔۔۔یہ تمھارا غصے سے تپنا بہت مس کرتا ھوں میں
دھیمے سے اس نے کہا تووہ ٹھٹکی تھی
اور تمھاری فضول بکواس کا تو کوٸی ثانی ھی نہیں ثانیہ سچی۔۔۔
آنکھیں میچتے اس نے اور تیلی لگاٸی تھی
جو ثانیہ کے پیروں سے جلتی ھوٸی سر پہ جا کے بجھی تھی۔۔۔۔اسے اپنے ہاتھ پر خارش محسوس ھوٸی جو حسن کے چہرے پر تھپڑ کی صورت پڑنے کو بے چین ھو رھا تھا
دفع ھو۔۔۔۔ تم سے بات کرنا بھی فضول ھے تمھاری طرح ھونہہ۔۔۔
کہتے ھوۓ اس نے کال کاٹی تھی دوسری طرف وہ ”ارے ارے رکو “ ھی کہتا رہ گیا۔۔۔
وہ غصے میں گرم گرم چاۓ اپنے حلق میں انڈیلنے لگی
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
مشعل یہ کوٸسچن میں تمھیں تیسری بار سمجھا رھا ھوں پھر بھی سمجھ نہیں آ رھا تمھیں۔۔۔تھارا دھیان ھے کہاں آخر؟؟؟
زاویار کو اس نے زچ کر کے رکھ دیا تھا
جواباً وہ انھیں گھورنے لگی
کیا ھوگیا ھے بھلا اب نہیں آرھا دماغ میں تو کیا کروں؟؟
منہ بسورتے اس نے کہا تھا
اچھا دیکھو ادھر اب رونے کا پروگرام نا بنا لینا تم۔۔۔۔بے بسی سے اس کو کہتے انھوں نے پھر سے بال پواٸنٹ کو پکڑا تھا مگر وہ ہنوز نظریں جھکاۓ بیٹھی تھی
ذہن مسلسل انکی اپنی دوست سے بات اور فرینکنس میں الجھا ھوا تھا
ھے۔۔۔۔لٌک ایٹ می۔۔۔۔
جیسے ھی اس نے نگاھیں اٹھاٸیں وہ جیسے مبہوت ھوگٸے تھے
رونے کی تیاری کرتی آنکھوں کے نچلے حصے ہلکے گلابی ھو چکے تھے جس سے ان کا حسن دوبالا سہہ بالا ھو گیا تھا
تیری آنکھیں بھی کیا مصیبت ھیں
میں کوٸی بات کرنے والا تھا
بمشکل خود کو اس کے سحر سے آزاد کرواتے وہ بڑبڑاۓ تھے
اس نے بے ساختہ اپنا سر ان کے کاندھے پر ٹکایا تو وہ حیرت زدہ رہ گٸے۔۔۔۔وقت جیسے ٹھہر سا گیاتھا…

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: