Mera Sham Slona Shah Piya Novel By Bella Subhan – Episode 3

0
میرا شام سلونا شاہ پیا از بیلا سبحان – قسط نمبر 3

–**–**–

کیا ھوگیا ھے تمھیں۔۔۔۔اتنی بری طرح تونہیں ڈانٹا تھا میں نے جو یوں رونے لگی ھو
انھوں نے نا محسوس طریقے سے اس کا سر کاندھے سے ہٹایا تھا اور پریشانی سےاس کے چہرے سے ہاتھ پرے کرنے چاھے جو وہ جھٹک گٸی تھی
اٌوں ھٌوں۔۔۔۔ادھردیکھو ورنہ اب ایک تھپڑ کھا لو گی مجھ سے تم۔۔۔۔ان کے یوں مان بھرے لہجے میں کہی بات پر وہ مزید دکھی ھوٸی
میرانہیں دل چاہ رھا پڑھنے کو بس
بھاری آوازمیں سوں سوں کرتی وہ بولی تھی
زاویار اس کے چہرے پر رونے کےبعد کی سرخی بغور دیکھنے لگے
پلکوں پر اٹکے آخری آنسو کو اپنے انگوٹھے پر چنتے ھوۓ انھوں نے اسے دھیمے لہجے میں سوری بولا تھا
جواباًوہ شرمندہ ھو کررہ گٸی یعنی وہ کوٸی غلطی نا ھونے پر بھی سوری کہہ گٸے تھے
میں آپ کو بہت تنگ کرتی ھوں ناں؟؟؟آپ مجھ سے چڑ جاتے ھونگے
ھے ناں؟؟؟
انھوں نے ناگواری سے اس سوال پر اسے گھوری سے نوازا تو وہ مسکرانے لگی
اگراس بار انسلٹ ھوٸی تو ذمہ دار تم خود ھوگی میں نہیں۔۔۔۔پچھلی بار کی ڈانٹ تو چلو میرے یہاں نا ھونے پر پڑی تھی م گر اب تمھارےدل کا کیا کروں جو پڑھنا نہیں چاھتا؟؟؟
اوکے ون مور ٹاٸم پلیز
نچلا ھونٹ نکال کر کہتے ھوۓ وہ انھیں بہت معصوم سی بچی لگی تو وہ مسکراتے ھوۓ دوبارہ اسےسمجھانے لگے
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ھاۓ۔۔۔۔۔۔میرے خوابوں کے شہزادے جیسا بندہ۔۔۔۔۔عروج کی سرد آہ اور خوشی سے کہی بات پر دونوں نے چونک کر اس کی طرف دیکھا تھا
کدھر کدھر۔۔۔۔؟؟؟
سونیا نے بے تابی سے کہا تو مشعل نے اسے ایک دھپ لگاٸی
ڈوب مرو کسی پر بھی لٹو ھو کر گھومنے لگتی ھو دونوں
بالوں میں لگا کیچر نکال کراس نے دوبارہ سے بالوں کو جکڑا تھا
اچھا چلو یار کچھ کھاتے ھیں بھوک لگ گٸی ھے مجھے تو۔۔۔۔
ھاں چلو
سونیا کے منہ بنا کر کہنے پر اسے شاپنگ بیگ تھماتی ھوٸی بولی تھی
کالج سے واپسی پر وہ تینوں مارکیٹ آگٸی تھیں مشعل کو حسن کے لیے گفٹ لینا تھا جبکہ وہ دونوں اس کیساتھ ہیلپ کے لیے آٸی تھیں
نہایت ھی ڈیسینٹ رسٹ واچ حسن کے لیے لینے کے بعد انھوں نے کافی دیر ونڈو شاپنگ کی تھی
اب ہوٹل مں بیٹھ کر کھانے پر ہاتھ صاف کرتی ھوٸی وہ سب یہ فراموش کر بیٹھی تھیں کہ گھڑی شام کے پانچ بجا رھی ھے
عروج اور سونیا نے گھر انفارم کر دیا تھا مشعل نے گھر کال کی تو کسی نےفون اٹینڈ ھی نہیں کیا تھا
مجبوراًاس نے ثانیہ کو میسج کیا کہ وہ لیٹ ھو جاۓ گی
یونہی باتوں باتوں کے دوران اس نے اپنا فون نکالا تھا
اوہ۔۔۔۔۔۔۔امی ثانیہ ماموں اور زاویار بھاٸی سب کا ھی فون آرھا تھا
ساٸلینٹ پر تھا سیل
میں تو گٸی اب
اوففف۔۔۔۔۔اب خیر نہیں میری
پریشانی سے چیٸر سے ایکدم اٹھتے ھوۓ وہ بولی تھی
موباٸل اٹھا کر اس نے نگہت کو کال کرنے کا سوچا مگر پھر خیال آیا کہ وہ فون پر اس کے لتے لینے شروع ھو جاٸیں گی
اس نے زاویار کا نمبر ملایا تھا
پہلی بیل کے بھی پورا ھونے سے پہلے کال اٹینڈ کی گٸی تھی
مشعل۔۔۔۔؟؟؟؟کہاں ھو تم؟ٹھیک ھو ؟
جج ۔۔۔جی زاویار بھاٸی میں شاپنگ کے لیے مارکیٹ آ گٸی تھی
ان کی اتنی فکر مند سی آواز پر وہ ہکلا سی گٸی تھی
سکون کی لہر ان کے رگ و پے میں سراٸیت کر گٸی دوسرے ھی پل وہ غصے سے کھول کر رہ گٸے تھے
کہاں پر ھو اسوقت؟؟جگہ بتاٶ؟
میں بس ابھی آنے والی تھی زاویار بھا۔۔۔۔۔۔۔۔
ٹیل می دا پلیس وٸیر یو آر مشعل؟؟
اس کی بات کاٹتے سرد آواز میں انھوں نے کہا تھا ان کے لہجے کے سرد تاثر پر اسکی جان ھوا ھونے لگی اور وہ اٹکتے ھوۓ اپنی لوکیشن بتانے لگی تھی
عروج اور سونیا کو ان کا غصہ بتاتے وہ رو دینے والی ھوگٸی
وہ دونوں بھی فکرمند تھیں
اگلےپچیس منٹ میں وہ اس کےسامنے تھے
گاڑی میں انھیں بیٹھنے کا کہہ کر وہ بغیر اس کی طرف دیکھے گاڑی سٹارٹ کیے انکا ویٹ کرنے لگے
سونیا اورعروج کو ان کے گھر ڈراپ کرنے تک وہ بھی خاموش رھی تھی
زاویار بھاٸی۔۔۔۔؟؟؟
بات تو سن لیں پلیز
ان کی بغیر کسی ڈانٹ ڈپٹ کے وہ مزید ھول رھی تھی
اسے حیرت بھی تھی کہ جب ثانیہ کو میسیج کر دیا تھا تو سب پریشان کیوں ھوگۓ تھے اس کے گھر واپس نا جانے پر
گاڑی جیسے ھی گھر کا گیٹ کراس کرتی ہوٸی پورچ تک آٸی اس نے بے اختیار ان کے سٹیٸرنگ پہ دھرے ہاتھوں پر اپنا ہاتھ رکھا تھا
یہیں انہوں نے ضبط کھویا تھا
لب بھینچتے گاڑی روک کر انھوں نے اسکے دونوں ہاتھوں کو جھٹکتے ھوۓایک جھٹکے سے اسے اپنے بے حد قریب کیا تھا
مشعل کی جان پل میں ھوا ھوٸی تھی
کیوں ھو تم اتنی لاپرواہ ہاں؟؟؟؟
پتا ھے کتنا پریشان ھوگیا تھا میں جانے کیا کیا سوچ بیٹھا تھا جانتی بھی ھو ناں کیسے حالات ھیں گھر سے باھر
غصے کی شدت سے اسکے بازوٶں پر گرفت سخت کیے وہ بولے تھے اسی تیزی سےمشعل کی آنکھیں بھر آٸی تھیں
میں۔۔۔۔میں نے۔۔۔ک۔۔۔کیا تھا می۔۔۔سیج ثانیہ کو
ان کے دھاڑنے پر وہ خوفزدہ ھوتی ھوٸی بولی تھی
اسکی آنکھوں سے مسلسل بہتے آنسوٶں پر وہ ذرا ٹھٹکے تھے
کیچر کے ڈھیلا ھونے پر بال جو بکھر کر عجیب ھی بہار دکھا رھے تھے اس پر متصاد اسکی روتی گلابی آنکھیں بھیگی پلکیں۔۔۔۔وہ بے خود ھوتے اسکے بالوں کو ہاتھوں میں نرمی سے لیتے ھوۓ اسکی پیشانی پر اپنی پیشانی رکھ گٸےتھے
جبکہ وہ اپنی جگہ سٌن ھوگٸی تھی
میں ڈر گیا تھا مِشو۔۔۔۔بہت ڈر گیا تھا کہ جانے کہاں ھو تم۔۔۔کس حال میں ھو۔۔۔
اپنے کان کی لو پر ان کے انگوٹھے کا لمس محسوس کرتی وہ کانپی تھی کسمساٸی تھی تو ایکدم انھیں اپنی اس سے قربت کا ادراک ھوا تھا
نرمی سے اسے خود سے الگ کرتے وہ گاڑی کا ڈور کھولتے ھوۓ اندر کی طرف بڑھ گٸے
وہ حیرت سے بت بنی انھیں دیکھے گٸی
………………….
یہ کیا ھوا تھا؟؟کس قسم کا ری ایکشن تھا زاویار کا۔۔۔حیرت سی حیرت تھی ایک الگ سا احساس جو ان کے لمس نے اسے بخشا تھاوہ پہلے کبھی بھی محسوس نا ھوا تھا
اور انکےانداز میں جو بیک وقت شدت اورنرمی تھی اسکا دل گداز ھو چلا تھا
گاڑی سے نکل کر مرے مرےقدموں سےچلتی وہ اندر کی طرف بڑھی تو ثانیہ اور نگہت اسکی طرف تیزی سے آتی دکھاٸی دیں
بیٹا ڈرا دیا تھا تم نے۔۔۔۔اتنی غیرذمےداری کی امید نہیں تھی تم سے
ناراضگی سے نگہت نے اسے اپنے ساتھ لپٹاتے ھوۓ شکوہ کیا تو اسے ڈھیروں شرمندگی نے آ گھیرا
آٸم سوری ممانی۔۔۔آپ نے میری کال پک نہیں کی تھی تو اس کو میسج کیا تھا میں نے مگر اس نے یقیناً بتایا نہیں ھوگا
خونخوار نظروں سے ثانیہ کو دیکھتے ھوۓ اس نے نگہت سے کہا تھا
مجھے تمھارا کوٸی میسیج نہیں ملا مشعل
جھوٹی ابھی دکھاٶ ذرا اپنا موباٸل۔۔۔۔۔میں چیک کرتی ھوں خود۔۔۔۔ اور بلکہ یہ دیکھیں ممانی میں نے اس کو میسیج کیا تھا ٹھیک دو بج کر سترہ منٹ پر میسیج گیا ھوا ھے
موباٸل نکال کراس نےثبوت پیش کیا تھا
جو کہ میں نےرسیو بھی نہیں کیا ھوا۔۔۔یہ بھی تو دیکھو
فٹے ای منہ مشی۔۔۔۔۔۔واٹس ایپ میسیج کیا مجھے تم نے جانتی بھی ھو کہ میں ڈیٹا ھی آف رکھتی ھوں۔۔۔بندہ ایک کال کر لیتا ھے
چلو امی نے کال پک نہیں کی تو میں تو گھر ھی تھی نا
لینڈ لاٸن پر بھی کر سکتی تھی تم فون مگر تمھارا دماغ بھی ناں
یہ جوعقل اللہ نے دی ھے تحفے میں۔۔اسکی پیکنگ کھول کہ استعمال بھی کر لیا کرو یا یونہی فنگس لگوا لینی ھے اسے
ثانیہ نے صحیح اسکی کلاس لی تھی
اسے مسلسل خاموش دیکھ کر نگہت نے اسےاشارے سے زبان بند رکھنے کا کہا تھا
چلو آ جاٶ اب۔۔۔اورتم اپنے ابو کو انفارم کردو
نگہت نے ثانیہ کو کہا تھا اور اسے لیے اندر چلی آٸیں تھیں
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ٹھنڈے پانی کے چھینٹے چہرے پر مارتے ھوۓ وہ مسلسل اس کےساتھ کی گٸی اپنی بے اختیاری کو کوس رھے تھے۔۔۔۔انھیں توغصہ تھااس پر مگر جانے وہ غصہ کہاں چلا گیا تھا اور اسکی جگہ وہ اسے یقیناً عجیب احساسات میں گھرا چھوڑ کر آۓ تھے
انھیں یادآیا کہ کیسے اس کی نظریں انھیں حیرت سے تک رھی تھیں
وہ اپنے اس بی ہیوٸیر کی کیا توجیہہ پیش کریں گے
اور اگر وہ بات کی تہہ تک خود ھی پہنچ گٸی تو اس کامتوقع ردِعمل سوچ کر انھیں خود پر غصہ آنے لگا
اب میں اسکا سامنا ھی بہت کم کرونگا نا سامنے جاٶنگا نا مجھ سے کوٸی بے اختیاری سرزد ھوگی
ٹاول سے چہرہ پونچھتے انھوں نے خود کلامی کی تھی
ان کہی کی الگ اذیت ھے
اور کہی کا عذاب مت پوچھ
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
بھاٸی کہہ رھے ھیں کہ انھیں بھوک نہیں ھے
ثانیہ نے ڈاٸننگ ٹیبل پر چیٸر گھسیٹ کر بیٹھتے ھوۓ کہا تھا
اسکی بات کوسن کر مشعل اپنی جگی چور سی ھو گٸی جانتی تھی کہ وہ اسکی غیرذمہ داری پراس سےناراض ھیں
اس کے باوجود اس نے ان کے نا آنے پر شکر ادا کیا
شام والے واقعے کے بعد وہ فی الحال انکاسامناکرنے کی ہمت نا رکھتی تھی
زاویار بہت پریشان ھوگیا تھا جب تم سے کوٸی رابطہ نہیں ھو پا رھا تھا
وہ ابھی بھی تم سے ناراض ھی ھوگا مشی بیٹا
ابراھیم نےمسکراتے ھوۓاسے اطلاع دی تھی
جسطرح وہ حواس باختہ ھو کر طوفان کیطرح آفس سے بھاگا تھا تمھاری ماں کی فون کال پر۔۔۔۔میری بھی جان نکال کےرکھ دی اس نے
ماموں سب سے سوری بول چکی ھوں میں۔۔۔۔وہ شرمندہ سی منمناٸی تھی
چلو یہ تو اچھی بات ھے۔۔۔۔بیٹا اپنی فرینڈز کےگھر کا نمبر بھی نوٹ کروا دینا اپنی ممانی کو تاکہ آٸندہ کوٸی بھی ایسی بات ھو تو ھم ان سے رابطہ کر سکیں
جی ماموں۔۔۔۔سر جھکاۓ ہوۓ ھی وہ بولی تھی براۓ نام کھانا کھانے کے بعد وہ اپنے اور ثانیہ کے مشترکہ روم میں چلی آٸی
ذہن مسلسل یہ سوچےجا رھا تھا کہ اگر زاویار نارض ھیں تو ان کو کیسے منایا جاۓ
وہ اس سے ناراض ھوتے ھی نہیں تھے کبھی۔۔۔مگر اب سمجھ نہیں آ رھا تھا کہ کیسے مناۓ ان کو
پھر کچھ سوچتے ھوۓ کچن میں چلی آٸی۔۔۔۔سونے سے پہلے وہ اکثر کافی پیا کرتے تھے
کافی کا مگ تیار کر کے وہ اسے بطور رشوت ان کے پاس لیکر چل دی تھی
اس نے سوچ لیا تھا کہ وہ بلکل نارمل رھے گی شام والا واقعہ وقوع پزیر ھی نہیں ھوا جیسے
ڈور کو ناک کیا تو یس کی آواز پر اسے دھکیلتے ھوۓ روم کے اندر چلی آٸی
کمفرٹر لیے کسی فاٸل کا جاٸزہ لیتے ھوۓ انھوں نے سرسری سی نظر اٹھا کر اسے دیکھا تھا اور دوسرے ھی پل فاٸل کیطرف متوجہ ھوتےھوۓ لب بھینچ گٸے تھے
مگ کو ساٸیڈ ٹیبل پر رکھ کر وہ انگلیاں چٹخاتےھوۓ انھیں دیکھنے لگی جو اسے نظر انداز کرنے کی شاندار ایکٹنگ کر رھے تھےجب کہ انکا رواں رواں اسی کیجانب متوجہ تھا
زاویار بھاٸی۔۔۔۔۔؟؟؟
”ھممم“۔۔۔
”آٸم سوری“
فار واٹ؟؟
میری وجہ سے سب کو تکلیف اٹھانا پڑی۔۔آپ بھی پریشان ھو گٸے تھے۔۔۔ پرامس آٸندہ ایسا نہیں ھوگا
لجاجت سے کہتے ھوۓ وہ بیڈ کے کونے پر ٹکی تھی
زاویار نے محض پل بھرکو اسےگہری نظر سے دیکھا تھا جو چہرے پر شرمندگی لیےانھیں آس بھری نظروں سے دیکھ رھی تھی
انھوں نے دل ھی دل میں شکر ادا کیا کہ اس نے شام والی ان کی بے خودی کو سنجیدہ ھی نا لیا تھا اسے بس فکرتھی تو یہ کہ شاٸد وہ اس سے نارض ھیں
انھیں کچھ سوچتے دیکھ کر اس کی ذہنی رو بھٹکتے ھوۓ شام والے واقعے کی طرف مڑ گٸی
اففف۔۔۔۔دل میں جیسےایک میٹھا سا انوکھا احساس جاگا تھا جس کو محسوس کرتے ھوۓ گھبرا کر وہ بے اختیار کھڑی ھو گٸی
میں ناراض نہیں ھوں مشعل بس نیکسٹ بی کیٸرفل اوکے؟؟؟
جی۔۔۔۔اوکے گڈ ناٸٹ
بظاہر انھیں گڈ ناٸٹ کہہ کر وہ روم سے نکل آٸی تھی مگر اچانک انکا اسے مِشو پکارنا یاد آیا تو وہ مزید الجھتی اپنے روم کی طرف بڑھ گٸ…………………….
تیری شکل بصارت آنکھوں کی
تیرا لمس ریاضت ہاتھوں کی
تیرا نام لبوں کی عادت ھے
میری اک اک سانس گواہ پیا
میرا شام سلونا شاہ پیا
مجھے مار گٸی تیری چاہ پیا
ساکت کھڑی ان کے چہرے کو دیکھتے ھوۓ اسکی نظروں نے ان کے ہاتھوں تک کاسفر کیا جو اس کے ہاتھ کو سہلا رھے تھے
بہت پہلے کہیں پڑھی نظم اس کے ذہن میں گونجی تھی تو وہ اپنے دل کی اس شوریدہ سری پر بے جان ھونے لگی
وہ اس کے گم سم ھونے پر مزید پریشان ھوتے اسے لیے صوفے پر بٹھا گٸے
یو اوکے مشعل؟؟
ھٌوں۔۔۔؟؟؟
اس نےخالی خالی نظروں سے انھیں دیکھا تھا
آر یواوکے؟؟؟
انھوں نے تشویش سے پھر پوچھا تھا تووہ نفی میں سر ہلا گٸی
میں ٹھیک نہیں ھوں۔۔۔۔یہ بلکل ٹھیک نہیں ھوا۔۔۔یہ عجیب ھے بہت عجیب
کھوٸی کھوٸی اس کی آواز اور لہجے پر انھیں لگا شاٸد اس کے سر پہ چوٹ آٸی ھے
کیا عجیب ھے؟کیا بول کیا رھی ھوتم؟
اچانک اس کے دماغ نے دل کی طنابیں کَسی تھیں تو وہ جیسے کسی ٹرانس سے باھر نکلی
اففف۔۔۔۔۔۔ہاتھ توڑ دیا ھے میرا آپ نے۔۔۔۔۔اپنی پہلے والی کیفیت کو زاٸل کرنے کوشش کرتے اس نے کہا تھا تو اس کے مشکوک سے رویے کو سوچتے اٹھ کھڑے ھوۓ
سامنے سے ثانیہ اور نگہت کو آتے دیکھا تو ان کو باھر آنے کا اشارہ کرتے وہ لاٶنج کا دروازہ پار کر گٸے
اٹھو۔۔۔۔تمھیں کیا سکتہ ھو گیا ھے۔۔۔۔چلو اب
ثانیہ نے اسے کہا تو وہ ان دونوں کیساتھ باھر کیطرف چل دی
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
میلاد پر بھی وہ چپ چپ سی رھی جس کو عروج اور سونیا نے نوٹ کیا تھا
دیکھ تو ثانیہ بھی رھی تھی مگر وہ سارا وقت نگہت کے پلو سے لگی رھی کیونکہ مشعل کو سونیا اور عروج لے گٸیں تھیں ان تینوں کے لاکھ کہنے پر بھی ثانیہ نگہت سے الگ نا ھوٸی تھی
آٶٹ آف فیملی جا کر وہ ایسی ھی دبو اور نروس ھو جایا کرتی تھی
واپسی پر انکو پک کرنے بھی زاویار ھی آۓ تھے
ثانیہ کی کسی بات کا جواب دیتے یونہی بلا ارادہ اس کی نگاہ مرر پر گٸی تھی
اس پل زاویار نے بھی اسے دیکھا تھا دوسرے ھی لمحے وہ سامنے دیکھنے لگے مگر وہ ان کی نظروں سے اپنی نگاھیں نا ہٹا پاٸی
کچھ دیر بعد زاویار نے بیک ویو مرر سے اسکی جانب دیکھا تو پھر مشعل کو خود کیطرف دیکھتے پایا
دونوں ابرو اچکاتے اسے” کیا ھوا“ کہا تھا تو وہ گڑبڑاتے ھوۓ نظریں پھیر گٸی
مگر زاویار گاھے بگاھے اسکی جانب دیکھ رھے تھے
زاویار کی نظروں کی یہ چوری ثانیہ نے پکڑی تھی تو بے ساختہ مسکراہٹ نے اس کے لبوں کو چھوا تھا
شک تو اسے پہلے بھی ھوا تھا مگر اب اسے یقین ھو چلا تھا خاص کر مشعل کے کالج سے غاٸب ھونے پر بھاٸی کی پاگلوں جیسے حواس باختگی پر وہ مشعل کی پریشانی بھول کر ان کی حالت سے فکرمند ھوٸی تھی
اس نے ذرا کی ذرا گردن موڑ کر ساتھ بیٹھی مشعل کو دیکھا جونظریں چراتی ھوٸی کنفیوز ھوتی بہت کیوٹ لگ رھی تھی
اسے اس پر پیار آیا۔۔۔۔۔بھاٸی کو اسے اب ثبوت کیساتھ پکڑناتھا جبکہ مشعل سے بھی ابھی وہ مکمل رازداری برتنے والی تھی کہ ان کے دلوں میں یہ نٸی نٸی پنپتی محبت سے وہ واقف ھو چکی ھے
وہ یہ نہیں جانتی تھی کہ زاویار اس راہ کا بہت پرانا مسافر ھے
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
واپس آ کر بغیر چینج کیے ھی وہ اپنے بستر پر نیم دراز ھوگٸی اور وھیں پر سو گٸی تھی۔۔۔۔ثانیہ نے کچن کی راہ لی ھی اور نگہت بھی آرام کرنے کی غرض سے اپنے روم میں چلی گٸیں تھیں
ایک ھی غیر آرام دہ پوزیشن میں لیٹے لیٹےوہ کسمساٸی اور اسکی آنکھ کھل گٸی تھی گردن میں اکڑاٶ سا محسوس کرتے ھوۓ وہ اسکو سہلاتی ھوٸی اٹھ بیٹھی
گھڑی کی طرف دیکھا جو شام کے پونے چھ بجا رھی تھی
اففف۔۔۔۔مجھےاٹھایا ھی نہیں کسی نے
دوپٹے کی پنزکھولنے کے بعد اس نے اپنے بالوں میں بنی فرنٹ فرنچ کو کھولا تھا اور بال برش کرنے کیلے ڈریسنگ کیطرف بڑھی تھی
اسے پیاس محسوس ھوٸی مگر روم میں پانی کی بوتل نا تھی۔۔۔
ھیٸر برش کوڈریسنگ ٹیبل پر پھینکے ھوۓ بالوں کا ڈھیلا سا جوڑا بنایا تھا اور روم سے باھر چلی آٸی
فلٹرسے پانی کا گلاس بھر کے وہ وہیں پانی کے گھونٹ بھرنے لگی جب اسےباھر کسی کے بولنے کی آوازیں آٸیں
گلاس ھاتھ میں پکڑے ھی وہ باھر آٸی تو زاویار نگہت اورثانیہ کیساتھ ایک لڑکی کو آتے دیکھا
اوہ۔۔۔۔ان کی فرینڈ نےآنا تھا۔۔۔۔۔آنکھیں میچتے اسے اپنے حلیے کا اندازہ ھوا
ملگجے سے کپڑے ڈھیلا جوڑا جو بس کھلنے ھی والا تھا
دونوں اطراف سے لٹیں نکل کر چہرے پر پھیلی ھوٸی تھیں ہاتھ میں گلاس پکڑے وہ کچن میں بھاگنےکا سوچ ھی رھی تھی جب ان سب کی نظر اس پر پڑی تھی
آٶ مشی بیٹا۔۔نگہت نے پیارسے اسے بلایا تھا
مشعل یہ میری فرینڈ ھےزنیرہ اور زنیرہ یہ مشعل ھے۔۔۔۔۔
مشعل نے اسے اَلسَّلامُ عَلَيْكُم کہا تھامگر زنیرہ اس سےوالہانہ انداز میں لپٹی تھی
جس سے نا صرف مشعل نگہت اورثانیہ حیران ھوٸیں تھیں بلکہ زاویار کا بھی دل چاھا اپنا سر پیٹ لیں
پاگل لڑکی۔۔۔۔دانت پیستے انھوں نے اسے گھورناچاھا مگر وہ انکی جانب متوجہ نا تھی
ماشاءاللہ بہت کیوٹ ھوتم۔۔۔۔۔۔اس سے الگ ھوتے زنیرہ نے کہا اورساتھ ھی اسکا جوڑا کھل گیا تھا
گھنے خوبصورت بال کھل کر اس کے کمر پر بکھرے تھے
ہڑبڑا کر انھیں سمیٹتیے ھوۓ اسکا انداز اس قدر دل موہ لینے والا تھا کہ زاویار کو لگا ان سےخود پر اختیار ناممکن ھو جاۓ گا تو وہ بے اختیار اسی کے ہاتھ سےاسکا جوٹھا پانی لیکر رخ موڑتے ھوۓ پینے لگے
نگہت ٹی وی لاٶنج کی جانب اور ثانیہ کچن کی طرف بڑھ گٸ تھی انھوں نے یہ سب نا دیکھا تھا مگر زنیرہ نےانکی اس حرکت پر انھیں حیرت سے گھورا
گلاس جس میں سےدو تین گھونٹ ھی لیے گٸے تھے اب ان میں تین چار گھونٹ باقی تھے جب انھوں نے گلاس اسکی طرف بڑھایا اور بغیر اسکی طرف دیکھے آگے بڑھ گٸے تھے
زنیرہ بھی انکے پیچھے چل دی تو مشعل جیسے ھوش میں آٸی تھی
کچھ لوگ ستاروں کی طرح ھوتے ھیں
بہت ھی مدھم
مگر ٹھنڈک اورسکون بخشنے والے
جوآپ کواحساس بھی نہیں ھونے دیتے۔۔۔۔
نا آپ کی توجہ چاھتے ھیں نا ھی کسی بات پر مجبور کرتے ھیں
یہ لوگ آپ کیساتھ بہت خاموشی سے سفر کرتے ھیں
اس نے ہاتھ میں پکڑے گلاس کو دیکھا تھا
ایکدم اسے ماتھے پر ٹکایا تھا لب مسکرا اٹھے تھےان کےبچاۓ آخری تین گھونٹ بھرتے ھوۓ اسے بلکل اندازہ نا تھا کہ ان سے اسکی یہ محبت اسے بے طرح رلانے والی ھے
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
زنیرہ بغور اسے دیکھ رھی تھی جس کا دھیان ھی کسی اور جانب تھا وہ زاویار سے نظریں چرا رھی تھی اسے دیکھتےھوۓ ہچکچا رھی تھی
کیا اب بھی مشعل ویسے ھی پوزیسیو ھےتھارے لیے زاویار جیسے پہلے ھوا کرتی تھی؟
شرارت سے زنیرہ نے پوچھا توزاویار اور نگہت ہنس دٸیے ثانیہ نے مسکراہٹ دباتے مشعل کویکھا جو بوکھلا گٸی تھی
ارے نہیں۔۔۔۔وہ تو بس بچپنا تھا میرا۔۔۔۔۔زاویار نےغور سے اسے دیکھا
جینز کیساتھ ریڈ لانگ شرٹ کے اوپر بلیک شرگ پہنے سکارف گلے میں لاپرواھی سے ڈالے بالوں کا اونچاجوڑا بناۓ وہ بہت سٹاٸلش مگر نروس لگ رھی تھی
صبح سےاس کے انداز انھیں الگ ھی لگ رھے تھے
باتوں باتوں میں وقت گزرنے کا پتا ھی نہیں چلا
زنیرہ ڈنر کر کے گٸی تھی جاتے ھوۓ اس نے مشعل کے چہرے پر آٸی ناگواری و بےچینی صاف دیکھی جو زاویار کے اسےڈراپ کرنے پر آٸی تھی
واپسی پر بھی انکا سارا رستہ زنیرہ نے سر کھایا تھا انھیں یقین دلانے کی بے حد کوشش کی تھی کہ مشعل ان سے محبت کرتی ھے مگر وہ مان کے ھی نہیں دیٸے تھے
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
یونہی دن گزرتے گٸے وہ زاویار کا کم سے کم سامنا کرنے لگی ڈرتی تھی کہ دل کا چور چہرے سے عیاں نا ھو جاۓ کچھ وہ خود آفس میں بہت مصروف تھے صبح جاتے تو رات گٸےگھر لوٹتے تھے
اس نے عروج اور سونیا کو بھی دل کی اس واردات کی ھوا تک نا لگنے دی تھی
انھی عام دنوں میں ایک خاص دن حسن آگیا تھا
ثانیہ نے اسے جب دیکھا تو لاسٹ ٹاٸم فون پر ھوٸی جھڑپ کے یاد آتے ھی وہ اسے گھورنے لگی۔۔۔۔۔۔
ہینڈسم ھو گیا ھوں ناں مزید؟؟
جانتا ھوں مگرتم فکر نا کرو تھارے لیے بڑٕی ھی سپیشل چیز لایا ھوں میں۔۔
شرارت سےاس نے ثانیہ کو چھیڑا تھا
کیا لاۓ ھو؟
اس کی شرارت کو نا سمجھتے ھوۓ ثانیہ نےاشتیاق سے پوچھا تھا تو وہ ہنس دیا
یہ تو سرپراٸز ھے سندری۔۔۔۔ نگہت اور ابراھیم کےدرمیان بیٹھ کر دونوں بازو انکے گرد پھیلاتے ھوۓ اس نے کہا تھا
مشعل زاویار اورثانیہ نے لاڈ کے اس مظاہرے کو مسکراتے ھوۓ دیکھا تھا…

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: