Mera Sham Slona Shah Piya Novel By Bella Subhan – Episode 6

0
میرا شام سلونا شاہ پیا از بیلا سبحان – قسط نمبر 6

–**–**–

وہ ٹیل پونی جھلاتے ھوۓ بڑے ریلیکس انداز میں ڈاٸننگ ٹیبل تک آٸی۔۔چیٸر گھسیٹ کر بیٹھتے ھی اس نے ابراھیم ماموں کو اپنی جانب آتےدیکھا
اَلسَّلامُ عَلَيْكُم ماموں۔۔۔۔۔!
کیسےھیں؟
بلکل فٹ ھوں بیٹا۔۔۔۔ناشتہ کرو جلدی پھر نکلتےھیں
وہ۔۔۔۔۔نہیں ماموں میں زاویار بھاٸی کیساتھ چلی جاٶنگی۔۔۔آج ذرا لیٹ جاٶنگی کالج
چلوٹھیک ھے۔۔۔۔نگہت مشعل ثانیہ اور ابرھیم ناشتہ کر رھے تھےجب زاویار نے انٹری دی تھی
عین اس کے سامنے والی چیٸر پر بیٹھ کر بغور اسکے جھکے سر کو دیکھا وہ سر جھٹکتے مسکراۓ تھے
ایسا بھی کیا انوکھا ھو گیا تھا جو وہ یوں ان سے گریزاں تھی
پر سکون ماحول میں ہلکی پھلکی گفتگو کیساتھ ناشتہ کیا گیا۔۔ثانیہ آج چپ چپ تھی کیونکہ اس کو یہ فکر کھاۓ جا رھی تھی کہ ایسی شاندار ایکٹنک کرے گی کیسے۔۔۔ جو حسن کو رام کر سکے اسکی زبان بندی بھی ھو جاۓ اور اسکا مطلب بھی آسانی سے نکل آۓ
ابراھیم آفس کیلیۓ جا چکے تھے وہ انگلیاں چٹخاتی بیگ کندھے سے لٹکاۓ گاڑی تک آٸی
گاڑی کا ڈور کھول کر فرنٹ سیٹ پر بیٹھتے ھی دو تین لمبے سانس لیے خود کو ریلیکس کیا زاویار کے آتے ھی سنبھل کر بیٹھ گی۔۔۔
گاڑی گیٹ سے باہر نکال کر سڑک پر ڈالتے ھوۓ زاویار نے اس کی لا تعلقی دیکھی جو انھیں ایک آنکھ نہ بھاٸی تھی
کیا سوچ رھی ھو؟؟؟
وہ جو اپنے ھی خیالوں میں گم تھی ان کی آواز پر بری طرح اچھلی
توبہ ھے۔۔۔۔۔ڈرا دیا مجھے
دل پر ہاتھ رکھ کر دھڑکنیں نارمل کرتے ھوۓ اس نے کہا تو وہ ہنس دٸیے
لو بھلا اب مجھے کیا معلوم تھا کہ خیالوں میں کھوٸی بیٹھی ھو۔۔۔۔اچھا میں نے سزا کا کہا تھا۔۔۔۔۔بھول گٸی کیا؟
یاد ھے مجھے۔۔۔بولیں
ھمممم تو سزا یہ ھے مادام۔۔۔۔۔ کہ اب سے نیکسٹ تب تک جب تک میں خود نہ منع کر دوں تم روز مجھے کافی بنا کر دیا کروگی
مگر ۔۔۔۔۔مطلب رات کو ؟؟؟
کافی تو رات کو ھی پیتا ھوں میں سونے سے پہلے تم جانتی تو ھو یہ بات
زاویار نے اپنی مسکراہٹ دباٸی۔۔۔وہ جانتے تھے یہ کام خاصا مشکل ھے اس کے لیے کیونکہ اب وہ اس کے سامنے آنے اسے بھی کتراتی تھی مگر زاویار نے یہی حل سوچا تھا کہ کسی بہانے ھی سہی وہ اسطرح اسکو اپنے سامنے دیکھ پاٸیں گے
اچھا ٹھیک ھے۔۔۔۔گھبراتے ھوۓ اس نے کہا اور پھر کھڑکی سے باھر دیکھنے لگی
مشعل۔۔۔۔؟؟؟
جی؟
”ھمیں ڈھانپ کر وھی رکھتا ھے جس کے لیے ھم بے حد قیمتی ھوتے ھیں
پھر چاھے وہ انسان ھو یا رب“
تمھیں پریشان ھونے کی ضرورت ھی نہیں تھی کیونکہ میں کبھی بھی تم کو نہ ڈانٹتا۔۔۔۔کسی کے سامنے تو دور کی بات ھے۔۔۔اکیلےمیں بھی نہیں ۔۔۔کیونکہ تم قیمتی ھومیرے لیے
وہ اسے بہت سنجیدگی سے کہہ رھے تھے
اففف۔۔۔۔مجھے ثانیہ کہہ بھی رھی تھی کہ آپ مجھے ڈانٹ ھی نہیں سکتے۔۔۔۔مگر میں ھی نہیں مانی
اس نے سر پر ہاتھ مارتے ھوۓ کہا جبکہ وہ ثانیہ کے اس قدر درست اندازے پر سوچ میں پڑ گٸے جواب میں صرف ھممم کہا تھا
اچھا مجھے وہ ۔۔۔۔۔میرا ٹیسٹ دے دیجیۓ گا آج۔۔۔مجھے بھی دیکھنا ھے کہ کس طرح سولو کیے ھیں کوٸسچنز میں نے
نہ نہ وہ تو پھاڑ دیا میں نے
انھوں نے بے حدسنجیدہ ھوتے کہا کہ انکی شکل سے ٹپکتے لو دیتے جذبات کا سراغ نہ پا جاۓ یہ لڑکی
پھاڑ دیا؟؟؟؟؟
اتنا غصہ آیا تھا آپکو؟
بہت شدید کہ اگر سامنےھوتی تو خیر نہیں تھی تمھاری۔۔۔۔اپنی بات کے پس منظر سے وہ واقف تھے جبکہ مشعل اسے غصہ ھی سمجھی۔۔۔
ابھی آپ نے کہا کہ آپ مجھے نہ ڈانٹتے کبھی بھی۔۔۔دو منٹ بھی نہیں ھوۓ اور مکر گٸے ھیں آپ
اس نے پر شکوہ نگاھوں سے دیکھتے ھوۓ کہا
میں اپنی بات پر قاٸم ھوں محترمہ۔۔۔۔
ھیں۔۔۔۔؟؟؟؟
آپکی اکثر باتیں میری سمجھ سے باھر ھوتی ھیں۔۔۔اتنا گھما گھما کر بات مت کیا کریں پلیز
اس نے گزارش کی تو وہ اسے گہری نگاہ سے دیکھ کر رہ گٸے
سیدھی بات تمہارا ذہن ابھی قبول نہیں کرے گا۔۔۔۔مسکراہٹ روکتے انھوں نے کہاتھا
خیال رکھنا اپنا۔۔۔۔۔خدا حافظ
کالج گیٹ پر اسے اتار کر وہ اسکا سہج سہج کر چلنا دیکھنے لگے
تیرا زمین پر چلنا مجھے منظور نہیں
ٹھہر میں” دل و جان“ کی صف بچھاتا ھوں
وہ تب تک نہ گٸے جب تک وہ کالج کے اندر داخل نا ھوگٸی۔۔۔۔مشعل کو بھی اپنی پشت پر انکی نظروں کی تپش کا احساس ھوا تو اس کے اعصاب جھنجھنا اٹھے تھے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
آپ مجھ سے راضی ھیں ناں ماں۔۔۔۔محبت سے انھیں دیکھتے ثانیہ نے ایکدم پوچھا تو نگہت مسکرا دیں
یہ کیسا سوال ھوا بھلا؟
بس یونہی دل میں آیا کہ پوچھوں آپ سے۔۔۔آپ راضی ھیں ناں مجھ سے۔۔۔کوٸی پریشانی ؟؟؟جسکی وجہ میں ھوں یا میری کوٸی بات آپ کو ہرٹ کرتی ھو تو بتاٸیں
انھوں نے اپنی حساس بیٹی کے بال پیار سے سہلاۓ جس پر وہ تیل سے مالش کر رھی تھیں
الحمداللہ میں راضی ھوں میرا بچہ۔۔۔۔۔مگر تمھیں اچانک ھوا کیا ھے؟
نگہت نے اسکے بال سہلاتے ھوۓ محبت سے پوچھا
بس ماں۔۔۔۔یونہی دل چاھا کہ پوچھ لوں۔۔۔۔رب کے بندے راضی ھوں تو رب بھی راضی ھو جاتا ھے ناں
اوھو۔۔۔۔۔۔یہ بات ھے۔۔۔۔تو مجھ سے تو اینٹ کتے کا ویر رہتا تمھارا۔۔۔۔تب یاد نہیں آتا رب کے بندے راضی کرنے کا؟؟
دوپہر کے بارہ بجے اسکی صبح ھوٸی تو اٹھتے ھی وہ اپنے من پسند کام( ثانیہ کو چڑانا) میں لگا تھا
بیزاری سے اس نے حسن کو دیکھا
جو مثال تم نے دی ھے اس میں سے تم کون ھو؟؟؟اینٹ یا پھر۔۔۔۔۔۔۔
جملہ ادھورا چھوڑتے اس نے حساب بے باک کیا۔۔۔۔حسن نے اسے کھا جانے والی نظروں سے دیکھا
دیکھ لیں ممانی اب آپ اسے۔۔۔۔۔نگہت کو شکایت لگاٸی تو وہ ہنستے ھوۓ ثانیہ کو تنبیہہ کرنے لگیں
پہل اس نے کی تھی ماں ۔۔۔۔آپ کے سامنے ھی تو ھوا سب
ثانیہ نے نگہت کی تنبیہہ پر منہ بسورا۔۔۔ساتھ ھی اسے مشعل کے مشورے یاد آۓ تو دل پر پتھر رکھے مشن ”اپنا اٌلوسیدھا کرنا“ کا آغاز کیا
ناشتے میں کیا کھاٶ گے حسن؟؟؟اپنی پسند بتاٶ تمھارا فیورٹ ناشتہ بناتی ھوں آج
جہاں حسن اس کایا پلٹ اور اس کے لہجے کی مٹھاس پر بے ھوش ھوتے بچا تھا وہیں نگہت نے حیرانی سے اسے دیکھا
کیا ھوا؟ایسے کیوں دیکھ رھے ھیں آپ دونوں۔۔۔؟؟اوہ اچھا میرا بی ہیوٸیر۔۔۔
ماں ٹھیک کہتی ھیں۔۔کیا رکھا ھے بھلا ھر وقت کی لڑاٸی میں
سلوک اور اتفاق سے رہنا چاھیے
ھے ناں ماں؟
بلکل۔۔۔۔نگہت نے اسکی پیشانی چومی تو اس کو شرمندگی نے آگھیرا۔۔۔یوں پکے منہ سے جھوٹ بولا تھا خود ھی پشیمانی ھو رھی تھی
جبکہ حسن ابھی سکتے کی کیفیت میں گھرا اس پر نظریں گاڑے بیٹھا تھا جب اس نے چٹکی بجاتے اس کے حواس واپس لانے کی کوشش کی
بتاٶ بھی۔۔۔۔
ھمممم۔۔۔۔۔ اصل بات بتاٶ۔۔۔اب میرے ساتھ ڈرامے کروگی اور سمجھوگی کہ مجھے نہیں پتا چلا تو بھول ھے تمھاری یہ۔۔اڑتی چڑیا کےپر گن لوں میں تو۔۔۔ تم کیا چیز ھو آنسہ ثانیہ ابراھیم
نگہت کے ویاں سے جاتے ھی ابرو اچکاتے ہاتھ نچا کر وہ بولا تو ثانیہ کا جی چاھا اس کا سر کھول دے جس میں اتنا شیطانی مواد موجود تھا کہ منٹوں میں ھی دوسرے کی شیطانی جان جاتا تھا
کیسی باتیں کر رھے ھو حسن۔۔۔ھم کزنز ھیں۔۔۔ ساتھ رھتے ھیں تو کھانا بنا ھی سکتی ھوں تمھاری پسند کا
دانت پیستے ھوۓ وہ بولی توحسن اسکا ہاتھ پکڑتے کچن میں لے آیا
آج تمھاری پسند کا ناشتہ کرونگا۔۔۔۔بناٶ تم۔۔۔ تب تک میں بھی یہیں ھوں
کچن میں موجود چیٸر گھسیٹ کر ٹیبل لر کہنیاں ٹکاۓ وہ اسکی حرکات و سکنات ملاحظہ کرنے لگا
تمھیں اللہ پوچھے مشی کس عذاب میں ڈال گٸ ھو
مشعل کو کوستے ھوۓ اس نے چولہے کے ایک طرف چاۓ کا پانی رکھا دوسری جانب پراٹھوں کے لیے توا رکھے وہ پیڑے بنانے لگی
جنگلی تین تین روٹیاں ڈکار جاتا ھے۔۔۔اتنا کھانے کے بعد پانچ بجے پھر ہڑک جاگ جاتی ھے بھوک کی۔۔۔۔
اس کے ذہن میں خیالات دوڑ رھے تھے اور حسن مسلسل اسکو دیکھتے سمجھنے کی کوشش کر رھا تھا کہ اسکا پلان کیا ھے
پراٹھے بنا کر ہاٹ پاٹ میں رکھےاور آملیٹ ک لیے پیاز کاٹتے ھوۓ اس کو نظروں کی تپش کا احساس ھوا۔۔۔۔پلٹ کر جو دیکھا توحسن کو اپنی طرف متوجہ پایا
جذبہ خیر سگالی کے تحت وہ مسکرایا تو ثانیہ کا جی چاھا چھری اسی کی گردن پر چلا دے
حسن دل ھی دل میں ہنس رھا تھا کہ شاٸد وہ سمجھ رھی ھے کہ میں انجان ھوں اسکی میٹھی چھری کے وار سے
”یقیناً کوٸی کام آن پڑا ھے“ ۔۔۔۔وہ منہ ھی منہ میں بڑبڑایا
کیا؟مجھے کچھ کہا ھے؟
مڑتے ھوۓ اس نے پوچھا تو بے دھیانی میں چھری اسکی ہاتھ پر گہرا کٹ لگا گٸی
وہ تکلیف سے سسکی تھی اسی بے اختیاری سے حسن اسکی جانب لپکا اور اسکا رخ مکمل اپنی طرف کرتے ھوۓ اس کے ہاتھ کا معاٸنہ کرنے لگا
دھیان کدھر ھوتا ھے تمھارا؟؟
بھل بھل پہتے خون کو اپنے ہاتھ سے دبا کر روکتے ھوۓ وہ بہت فکر سے بولا تھا
آنکھوں میں اس کے آنسو ٹھٹھر ھی تو گٸے تھے اس قدر فکر۔۔۔اتنی پرواہ
یا اللہ۔۔۔۔۔یہ حسن ھی ھے ناں
اسکے ہاتھ کو پکڑے ھی وہ سنک تک لایا اور ٹھنڈے پانی کے نیچے اس کے ہاتھ کو رکھ کر خون روکنے کے کوشش کی
وہ یک ٹک اسے دیکھے گٸی
پین ھو رھا ھے؟گردوپیش سے انجان و بے خبر اسکی قوتِ سماعت بھی جیسے مفلوج ھو گٸی تھی
اوہ باٶلی رٸیسہ۔۔۔۔۔کھلی آنکھوں سے سو گٸی ھو۔۔۔کٹ ہاتھ پہ لگا ھے یا دماغ پر؟
گیلے ہاتھ کا چھپاکہ اس کے منہ پر مارتے وہ بولا تو وہ ہوش میں آٸی
خون رک گیا تھا۔۔۔۔اپنے روم سے بھاگ کر وہ سنی پلاسٹ لے کر آیا اس کے ہاتھ پر لگا کر سنک میں ھی ہاتھ دھوۓ اور اسکی طرف پلٹا
کیا پریشانی ھے؟
بے حد سنجیدگی سے اسکی طرف دیکھتے حسن نے پوچھا تھا
کچھ نہیں۔۔۔۔کہتی تیزی سے وہ دوبارہ کٹے پیاز کی طرف جانے لگی جب وہ اسکی راہ میں حاٸل ھوا
ادھر دیکھو۔۔۔۔۔
اسکی ٹھوڑی پر انگلی رکھ کر حسن نے اسکا چہرہ اوپر کیا
ثانیہ کو اس سچوٸیشن پر رونا آنے لگا۔۔۔مطلب اب حسن کے یہ تیور بھی دیکھنے تھے
دل ھی دل میں اسے الو بنانے کا عزم کرتی اس نے پلکیں اٹھاٸیں تو اسکو بغور اپنی جانب دیکھتے پایا
وہ گڑبڑاتے ھوۓ رخ موڑ گٸی
پھر ہمت کرتے ھوۓ اسکی طرف دیکھا جو آنکھوں میں الجھن لیے اسے دیکھ رھا تھا
مجھے سندس کی شادی میں جانا ھے وہ مجھ سے ناراض ھو جاۓ گی مگر کسی کے پاس ٹاٸم نہیں کہ وہ لے کر جاۓ مجھے۔۔۔کسی کو پرواہ ھی نہیں ھے
کوٸی مجھ سے پیار نہیں کرتا
دفعتاً ایکٹنگ کرتے کرتے اسے احساس ھوا کہ وہ زیادہ اوور ھونے لگی ھے
تب ھی ھونٹ باھر نکالتے ھوۓ ایکٹنگ میں مزید جان ڈالی
حسن کا دل جسے ڈانواڈول ھی تو ھوا تھا۔۔۔۔انگارہ کو آج شبنم بنے دیکھنا دل کو بے حد بھایا تھا اور سونے پر سہاگہ اسکا منہ بناتے ھوۓ اس سے شکوے کرنا کہ کوٸی اس سے پیار نہیں کرتا
اس کے قریب ھو کر بے اختیار وہ دونوں ہاتھوں میں اسکا چہرہ تھام گیا
کون احمق ھے جوتم سے پیار نہیں کرے گا ھاں۔۔۔۔؟؟
وہ ہونق ھوتی آنکھیں پھاڑے اسے دیکھنے لگی
یہ کیا کہہ رھا ھے گدھے۔۔۔۔وہ دل ھی دل میں اس سے مخاطب ھوٸی
شادی میں میں لیکر جاٶنگا تمھیں۔۔۔۔اب پریشان نہیں ھونا اوکے
اپنے چہرے سے اسکے ہاتھ ہٹاتے اس نے” ہوں“کہا تو وہ ھوش میں آیا
”در فٹے منہ“ یہ سب میں نے اس سے کہا ھے وہ بھی اس طرح۔۔۔۔وہ حیرت کا بت بنا اسکی پشت تکنے لگا۔۔۔۔جو آملیٹ کے لیے انڈے پھینٹ رھی تھی
”میں آتا ھوں“کہتا ھوا وہ کچن سے باھر نکلا تو ثانیہ نے سب کام چھوڑ چھاڑ ہاتھوں سے اپنا چہرہ رگڑا تھا جیسے اسکے ہاتھوں کا لمس مٹا رھی ھو
ٹھرک جھاڑ گیا مجھ پر خبیث۔۔۔۔۔فراٸی پین کو سٹینڈ سے کڑھتے ھوۓ اتارا جو اس کے پکڑتے پکڑتے بھی نیچے گرا تھا
تمھیں کیا تکلیف ھو گٸی ھے؟
پین پر چلاتے ھوۓ اس نے باقی کا ناشتہ بنایا اور ٹیبل پر لگا کر اپنے روم میں چلی آٸی
جبکہ حسن لان میں کھڑا خود سے جنگ میں مصروف تھا
اسے کیوں کہہ دیا کہ شادی میں لیکر جاٶں گاوہ بھی یوں اتنا کلوز ھو کر۔۔۔۔
”گدھی مجھے ڈسٹریکٹ کرتی ھے“
دانتے پیستے ھوۓ وہ بولا تھا
……………………………………………
بلکل نہیں۔۔۔۔۔ابو نے منع کر دیا ھے کہ جیسے ھی رزلٹ آۓ گا تو میری شادی کر دیں گے۔۔تو ناممکن ھی سمجھو کہ آگے پڑھونگی میں
سونیا نے ان دونوں کو بتایا
مجھے تو بہت سارا پڑھنا ھے کیونکہ ثانیہ نے اپنی پڑھاٸی جاری نہیں رکھی ناں تو زاویار آج تک ڈانٹتے ھیں اسے
اوھو۔۔۔۔۔۔۔بھاٸی کا صیغہ ہٹا گٸی ھو لڑکی آج تو۔۔۔۔۔۔ھیں۔۔۔۔۔یعنی ایک قدم اور بڑھ گٸی انکی طرف
عروج نے شرارت سے اسے دیکھتے ہوٹنگ کی تو وہ پل میں گلابی ھوٸی تھی
مشی یار تم کتنی جلدی رنگت بدل لیتی ھو۔۔۔۔مطلب ان کے نام سے تمھیں ذرا سا بھی چھیڑا جاۓ ناں۔۔۔۔تو رنگ فوراًگلابی ھو جاتاھے تمھارا
مجھے اتنی دلکش لگتی ھو تو زاویار بھاٸی کا کیا حال ھوتا ھوگا۔۔۔ھاۓ
دونوں کی ھاۓ واۓ پر وہ انھیں آنکھوں سے ھی منع کرنے لگی ساتھ ساتھ لبوں سے مسکان بھی جدا نہ ھوٸی تھی
سونیا اور عروج نے اسکی مسکان کے داٸمی ھونے کی ایک ساتھ ھی دعا کی تھی
ویسے مجھے وہ ایسی نظروں سے نہیں دیکھتے۔۔۔۔بتایا تھا ناں کہ ثانیہ ھی سمجھتے ھیں مجھے
اے چل۔۔۔۔۔۔کبھی بہن بولا ھے تمھیں انھوں نے۔۔۔نہیں ناں؟؟
چلو تم کسی بھی طرح پتا لگواٶ کہ تمھیں بہن کے جیسے ھی سمجھتے ھیں یا کزن
عروج کے خرافاتی دماغ نے” نوا کٹا“ کھولا تھا
رھنے دو تم۔۔۔۔مجھے نہیں جاننا کچھ۔۔۔میں انھیں کھونا نہیں چاھتی
اس قسم کی حرکت کر کے مجھے خود کو چیپ ظاہر نہیں کرنا
محبتیں اپنی جگہ مگر عزت نفس بھی کوٸی شے ھوتی ھے جو میرا ھے وہ مجھے مل ھی جاۓ گا چاھے وہ کیسے بھی ملے
سونیا نےداد دیتے ھوۓ اسکی پیٹھ ٹھونکی توعروج نے بھی اسکی سوچ کو سراہا تھا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ابراھیم نے اسے یہ کہہ دیا تھا کہ اگر حسن شادی پر لیجانے کو تیار ھے تو انکی طرف سے اجازت ھے
تو وہ اپنے جانے کی تیاری کرنے لگی
کل انھوں نے حیدر آباد جانا تھا
حالانکہ سندس کے بقول ڈھولک بھی ان کے ہاں کسی بڑے فنکشن کیطرح رکھی جاتی تھی مگر ثانیہ نے یہی ڈیساٸیڈ کیا کہ مہندی بارات اور ولیمہ ھی اٹینڈ کرے گی جو کہ اھم بھی تھے
مہندی کا ڈریس چونکہ سندس بنوا چکی تھی تو وہ سارے سوٹ بیڈ پر پھیلاۓ بارات اور ولیمہ کے لیے پہنے جانے والا سوٹ چوز کر رھی تھی
کافی دیر کپڑے دیکھنے کے بعد بھی کچھ سمجھ نہ آیا تو نگہت کوروم کے دروازے سے باھرنکل کر آواز دی اور دوبارہ کپڑوں پر نگاہ ڈالی
تبھی نگہت روم میں آٸی تھیں
ہاں بلایا تم نے؟کیا ھوا؟
اندر آتے ھی وہ چیخی تھیں کیونکہ بیڈ صوفہ اور ٹیبل پر بھی کپڑے رکھے ھوۓ تھے
کیا پہنوں میں وہاں؟
کہاں وہاں؟
اوھو ماں۔۔۔۔ سندس کی شادی پر اور کہاں بھلا
راضی ھو گیا حسن؟
نگہت نے حیرانی سے پوچھا تو ایک مسکراہٹ اس کے چرے پر آٸی
آپ کو اپنی بیٹی کی صلا حیتوں پر شک ھے کیا؟منا لیا اسکو میں نے۔۔۔۔
ذہن کے پردے پر اسکا چھچھورپن لہرایا تو وہ آنکھیں میچ گٸی
تم لوگ تو لڑتےھی رھو گے کوٸی بچہ میرا گنجا واپس آیا تو۔۔۔۔۔؟؟
انھوں نے اسے چھیڑا تھا تو وہ ہنس دی
اگر گنجا ھوا بھی تو وہ ھی ھوگا یو نو اگر اس کی زبان کے آگے خندق ھے تو میری زبان کے جوھر سے بھی واقف ھیں آپ
گردن اکڑا کر وہ بولی تو نگہت نے تاسف سے اسےدیکھا
بہت ھی کوٸی فخر کی بات ھے ناں جیسے۔۔۔انھوں نے اسے شرم دلاٸی مگر وہ بھی تو ”سٹین لیس ڈھیٹ“ کی عملی تفسیر تھی ذرا جو شرمندہ ھوٸی ھو
آپ رھنے دیں میں مشی سے پوچھونگی
دو گھنٹے کی بحث کے بعد جب اس نے کہا تو نگہت نے اسے دو ہتھڑ رسید کیے
وہ ہنستے ھوۓ ان کے گلے لگ گٸی۔۔۔۔ماں پلیز اپنی طرف سے حسن کو کہیۓ گا کہ مجھ تنگ نہ کرے پلیز
اچھا۔۔۔۔۔نگہت نے اہنی ہنسی دباٸی۔۔۔۔وہ جانتی تھیں کہ وہ چاھے جتنا بھی زبان کے جوھر دکھا لے حسن کی باتوں کے بارود کا مقابلہ نہیں کر سکتی۔۔۔۔اللہ خیر ھی کرے۔۔۔۔۔بڑبڑاتی ھوٸی وہ کمرے سے نکلیں توحسن تیار شیار کہیں جانے کو پر تول رھا تھا
کدھر کی تیاری ھے؟
بس کچھ کام ھے گھنٹے تک آتا ھوں۔۔ممانی ناشتہ ٹھیک سے نہیں کیا تھا میں نے ۔۔جب تک آٶں کچھ اچھا سا بنوا دیجیۓ گا
اچھا ٹھیک ھے خیر سے جاٶ۔۔۔۔۔۔ان کے آگے سر جھکاۓ حسن کو انھوں نے سر پر ہاتھ پھیرتے ھوۓ کہا تھا تووہ باھر کیطرف چل دیا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
مشعل کے کالج سے آتے ھی وہ اس کا دو گھنٹےدماغ چاٹتی رھی اپنی تیاری مکمل کی ان دونوں کو کل صبح نکلنا تھا تاکہ مہندی سے کافی دیر پہلے پہنچ سکیں سندس نے بطور خاص اس سے کہا تھا کہ ابٹن پہ اگر نہیں آٶگی تو چلو مہندی کی صبح پہنچ جانا
سنو۔۔۔۔بھاٸی تمھیں لیکر جا رھے ھیں تو کم از کم انکی کوٸی ہیلپ ھی کروا دو پیکنگ میں یا انھیں کچھ چاھیے تو پوچھو ان سے
اخلاقیات کا تقاضا یہ ھے کہ تم انکا احسان مانو اور خیال رکھو اس بات کا
مشعل کے کہنے پر اس نے نتھنے پھلاۓ۔۔۔۔
لوجی اب اسکو شہزادہ ولیم کے جیسا پروٹوکول دوں میں
نخوت سے وہ ناک چڑھا کر بولی مگر مشعل کی شاکی نظریں دیکھ کر اٹھتے ھوۓ وہ اس پر احسان جتانا نہ بھولی تھی کہ تھارے لیے جا رھی ھوں میں بس
مشعل نے پیار سے اسے جاتے دیکھا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
وہ جو کل کے لیے پکینگ کرنے کا سوچ ھی رھا تھا
دھاڑ سے دروازہ کھول کر اندر داخل ھونے پر اسے گھور کر رھ گیا
تمھیں تمیز نہ آۓ گی کبھی۔۔۔حسرت ھی رھی کہ انسانوں جیسی حرکت کرتا دیکھوں تمھیں
یہ جو صبح ناشتہ ڈکار گٸے تھے میں نے ھی بنایا تھا وہ بھی تمھارے سامنے۔۔۔۔ ایلین نہیں آۓ تھے تمھیں” پروسنے“ کو
ًانسانوں جیسی حرکتیں ہونہہ“ منہ ٹیڑھا کر کے اس کی نقل اتارتی وہ اسے جلتے توے پر ھی تو بٹھا گٸی تھی
تم کتنی۔۔۔۔۔۔
اسے الفاظ ھی نہ مل رھے تھے کہ اسکے شایانِ شان مدح سراٸی کر پاتا
پیاری ھوں ناں۔۔۔۔ پتا ھے مجھے آج ھی کسی نے کہا کہ مجھ سے کون پیار نہیں کرے گا؟؟
ثانیہ نے اس کی دکھتی رگ پہ پاٶں رکھا۔۔۔
حسن اس وقت کو کوسنے گا جب ایک کمزور لمحہ اس پر وارد ھو گیا تھا اور وہ تب سے خود ر سو بار لعنت ڈال چکا تھا
مگروہ یہ بھول گیا تھا کہ مقابل ثانیہ ھے جو اس کے ایسے الفاظ اور تاثرات پراسے قبر تک رگیدے گی
بتاٶ ناں حسن۔۔۔۔۔پیاری لگتی ھوں ناں میں
آنکھیں پٹپٹا کر کہتی وہ اسے زہر سے بھی بری لگی
کبرڈ میں دوبارہ سر گھساۓ وہ دانت پیس کر رھ گیا
یعی اب یہ دور بھی آنا تھا حسن جہانگیر پر کہ وہ ایک پِدی سی بندی کے آگے اپنے ھی الفاظ کی وجہ سے بے بس ہوتا
ثانیہ۔۔۔۔کچھ ہیلپ کروا سکتی ھو تو بتاٶ ورنہ جاٶ یہاں سے
سرد آواز پر وہ بولا تو اس نے اہنے ابلتے ھوۓ قہقہے کا گلا گھونٹا
ایسا نہیں تھا کہ وہ اسے اپنی محبت میں پاگل سمجھ بیٹھی تھی
وہ جانتی تھی کہ حسن کو اگر کوٸی چیز پگھلا سکتی ھے تو وہ صرف صنف نازک کے آنسو ھیں دوپہر میں کی گٸی اسکی حرکت کی وجہ بھی اسکی نرم دلی تھی مگر اس نے اپنی باتوں سے اسے اتناگلٹی فیل کروا دیا تھا کہ اب جیسے اسکی کمزوری ثانیہ کے ہاتھ تھی
یہ سب بیگ میں پیک کر دو۔۔مجھےشاور لینا ھے
سامان کیطرف اشارہ کرتا وہ واش روم کیطرف بڑھا تو ثانیہ چلا اٹھی
اوۓ اوۓ اوۓ۔۔۔۔۔۔بیوی نہیں ھوں تمھاری جو یوں حق سے اپنا کام سونپ کر اشنان کرنے جارھے ھو
غلط بات ھمیشہ ک طرح ایسے بغیر اٹکے کہی تھی کہ حسن کا دماغ ماٶف ھوتے ھوتے رھ گیا
وہ اسکا ہاتھ پکڑتے دروازے سے باھر دھکیل کر دروازہ بند کر گیا اور گہرا سانس بھرتے بیڈ پر بیٹھا
کپڑوں کی طرف نگاہ ڈالی۔۔۔۔۔سر کو پکڑے وہ کتنی دیر بیٹھا رھ گیا کیسے برداشت کرنا ھے اس بلا کو ساڑے تین دن
بڑبڑاتے ھوۓ وہ سخت بےچین تھا
وہ نہیں جانتا تھا کہ اب ایک انوکھا موڑ انکی زندگی میں آنے والا ھے
جبکہ وہ غصےمیں بکتی جھکتی اپنے روم میں آ کر مشعل سے حسن کی شکایتیں کرنے لگی
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
پڑھاٸی کا بہانہ بہت سولڈ تھا وہ رات کا کھانا جلدی کھا کر اپنے روم سے باھر نہ نکلی اور جب اسے پتا چلا کہ زاویار آ چکے ھیں
جلے پیر کی بلی کی طرح روم میں چکراتی رھی جب اسے یقین ھو گیا کہ سب اپنے روم میں جا چکے ھونگے جلدی سے کچن میں جا کر کافی بناٸی ثانیہ جو سونے کے لیے لیٹنے ھی والی تھی اس کو کافی کا مگ پکڑایا
یہ کیا؟میں نے کب کہا کہ مجھے چاھیے
گھونچو۔۔۔۔۔تمھارے لیے ھے بھی نہیں۔زاویار بھاٸی نے منگواٸی ھے دے کر آنا پلیز۔۔مجھے بہت امپورٹنٹ سوالات حل کرنے ھیں
اچھا۔۔۔۔۔مگ پکڑ کر وہ روم سے نکلی تومشعل بیڈ پر بے دم ھو کر بیٹھی
ناراض ھونگے آٸی نو۔مگر مجھ سے نہیں ھوگا یہ سب
ناخن چباتے وہ سوچوں میں گم تھی…

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: