Mera Sham Slona Shah Piya Novel By Bella Subhan – Episode 7

0
میرا شام سلونا شاہ پیا از بیلا سبحان – قسط نمبر 7

–**–**–

دروازے پر آہٹ سن کروہ سیدھے ھو بیٹھے اس وقت وہ اسی کے آنے کا انتظار کر رھے تھے مگر جب ثانیہ کو اندر آتے دیکھا تو جیسے ارمانوں پر اوس گر گٸی
تم؟؟
جی بھاٸی یہ مشی نے بھیجی ھے
بناٸی بھی تم نے ھے؟
نہیں نہیں اسی نے بناٸی تھی مگر وہ پڑھ رھی ھے ناں۔۔۔۔اس نے کہا مجھے کہ آپ کو دے جاٶں
ھمممم۔۔۔۔۔شکریہ
دھیمے سے مسکراتے انھوں نے ثانیہ سے کہا تو وہ واپس اپنے روم میں چلی آٸی
دے دی؟؟
ھاں
کچھ کہہ رھے تھے؟میرا۔۔۔۔میرا پوچھا انھوں نے؟
ججھکتے ھوۓ اس کے پوچھنے پر کمبل خود پر درست کرتی ثانیہ کے ہاتھ ٹھٹکے
کچھ کہنا تھا کیا انھوں نے؟
اس نے حیرت سے جب پوچھا تو مشعل بے طرح گڑبڑا گٸی
نہیں وہ۔۔۔۔بس۔۔۔۔ایسے ھی پوچھا میں نے
ادھر دیکھنا۔۔۔۔؟
پڑھنے دو یار مجھے
اس کی مشکوک نگاھوں سے گھبراتی وہ خود کو بکس میں غرق ظاہر کرنے لگی
ثانیہ کچھ پل اسے دیکھے گٸی تب ھی اس کے ذہن میں جھماکہ ھوا
اوووووو۔۔۔۔ناٶ آٸی گاٹ یو۔۔۔یقیناً تم نے کچھ ایسا کیا ھے کہ وہ ناراض ھیں
اسی لیے کافی بنا کر میرے ہاتھ بھیجی تا کہ وہ خود ھی خود مان جاٸیں
ھے ناں؟؟؟
خشمگیں نظروں سے اسکو دیکھتے ثانیہ نے کہا تو وہ اپنے ہونٹ چبا کر رھ گٸی
وہ اصل میں ٹیسٹ بہت گندا ھوا تھا ناں تو اسکی سزا کے طور پر مجھے روز انھیں کافی بنا کر دینی ھے
ایسا انھوں نے کہا؟ثانیہ نے اپنی مسکراہٹ دباٸی تھی
”ھممممم“ انھوں نے ھی کہا
تو مسٸلہ کیا ھے؟بنا دیا کرو
مجھ سے نہیں ھوتا یہ یار۔۔۔ ویسے بھی آج کل اتنا بزی ھوتی ھوں تمھیں پتا ھے سرپر امتحان کھڑے ھیں میرے
وہ کسی بھی طرح دل پر ھوٸی واردات کی بھنک اسے نہیں لگنے دینا چاھتی تھی ورنہ ثانیہ ھر اس موقعے پر اسکی جان کو آجاتی جب جب اسکا سامنا زاویار سے ھوتا
اچھا اس طرح تو وہ اور ناراض ھو جاٸیں گے تم سے۔۔تب کیا کروگی؟
منا لونگی ان کو۔۔۔۔چٹکیوں میں مان جاتے ھیں وہ۔۔۔۔
دیکھ لو بی بی۔۔۔بعد میں روتی ھوٸی میرے پاس نہ آنا۔۔۔۔
ثانیہ یہ کہتے ھوۓ سونے کیلیے کروٹ لے گٸی تو اس نے نوٹس پرے دھکیلے
دل کے ہاتھوں مجبور ھو کر موباٸل اٹھایا تھا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ثانیہ کے جاتے ھی انھوں نے بدمزہ ھو کر مگ ساٸیڈ ٹیبل پر رکھا اور ہاتھ کی مٹھی بنا کر لبوں پر ٹکاٸی تھی
کیوں کرتی ھو ایسے تم مِشو۔۔۔۔تمھیں دیکھنے پر بھی جیسے پابندی لگا دی ھے تم نے۔۔۔اب سچ میں ناراض ھو جاٶنگا میں اور بلکل نہیں مانوں گا پھر
خیالات ذہن میں گردش کر رھے تھے
موباٸل اٹھا کر ”متاعِ جاں“فولڈر کھولا تھا اور اسے شاکی نظروں سے دیکھنے لگے
تب ھی میسج کا نوٹیفیکیشن سکرین پر شو ھوا
اسکی طرف سے”آٸم سوری“ کے الفاظ پڑھتے ھی ساری بےچینی اوراضطراب کو راحت ملی تھی
پڑھ رھی تھی ناں تو تب ھی خود نہیں آٸی ثانیہ کے ہاتھ بھجوادی ویسے بھی جوسزا آپ نے تجویز کی تھی وہ تو میں نے مان لی ھے ناں۔۔۔خود دینے آٶنگی یہ سزا میں شامل نہیں تھا
اس کا دوسرا میسیج پڑھتے ھی ان کے لبوں پر جاندار مسکراٹ نے چھب دکھاٸی تھی
انکےذہن میں اسکی آواز کیساتھ یہ الفاظ اٹک اٹک کر گونجے تھے
کیونکہ اگر سامنے ھوتی تو ایسے بغیر اٹکے کہہ نہ پاتی
تحقیق کے مطابق جو شخص ھمارے دل کے بہت قریب ھوتا ھے اس کے میسیجیز پڑھتے ھوۓ اس کی آواز آپکے ذہن میں گونجتی ھے
اورایسا ھی تو ھوا تھا۔۔۔وہ ھی تو قریب تھی ان کے دل کے بے حد نزدیک
”مجھے آپ سے بات نہیں کرنی مشعل جہانگیر“
انھوں نے اسے تنگ کرنے کو یونہی میسیج کا رپلاۓ کیا تھا
اور ان کا یہ میسیج پڑھ کراسکی جان ھی تو نکلی تھی
ایک انکا اسے ”آپ“ کہہ کر مخاطب کرنا اور دوسرا پورا نام لینا غضب ھی تو کر گیا تھا
اس نے وقت دیکھا گیارہ بج کر پچیس منٹ ھوۓ تھے
ایک نظر ثانیہ پر ڈالی جو محوِخواب تھی
جدی سے وہ کچن میں گٸی اور کافی بنا کر ان کےروم کے باھر کچھ پل کو آنکھیں بند کیے گہرے سانس لیے
وہ جوپھر اسی کی تصویریں دیکھ رھے تھے ہلکی سی دستک پر چونکے
حیرانی سے اٹھ کر دروازہ کھولا اسے دروازے کے پار کھڑا دیکھ کر بھونچکے ھی تو رھ گٸے تھے وہ
وہ چپ چاپ اندر چلی آٸی۔۔۔۔وہ تیزی سے اسکی جانب آۓ اور اسکے ہاتھ میں پکڑے کافی کے مگ کو دیکھا
وہ۔۔۔۔۔ناراض ھوگٸے تھے ناں تو بس۔۔۔۔منانے آٸی ھوں
ایک ہاتھ سے بالوں کی لٹ کو کان کے پیچھے اڑستے ھوۓ وہ بے حد نروس ھوتی ھوٸی بولی تھی
انھیں اس پر بے تحاشا پیار آنے لگا۔۔۔اس قدر جھلی تھی وہ کہ اس وقت ان کے روم میں منہ اٹھا کے چلی آٸی تھی وہ بھی محض ان کے ایک جملے پر
تمھارا چہرہ دیکھتے ھی مان گیا ھوں۔۔۔۔ناراضگی قاٸم رہنے ھی کہاں دیتی ھے یہ صورت؟؟؟
اس کے ہاتھ سے مگ لیکر ساٸیڈ ٹیبل پر رکھا اور پہلے سے ٹھنڈی کافی والا مگ اسے پکڑایا تھا
تو میں جاٶں؟؟؟
گلابی پڑتے چہرے کیساتھ وہ بولی۔۔۔چہرے پر دھنک کے رنگ بکھیرے وہ اس قدر دلکش لگی کہ زاویار نے ایک قدم اسکی جانب بڑھایا تھا
روکوں گا تو کیا رک جاٶ گی؟انکی بات پراس کی آنکھیں حیرت سے پھیلی تھیں اور پھر لرزتی پلکیں جھکاۓ وہ جانے کے لیے مڑی
سنو۔۔۔۔۔؟؟؟
قدموں کیساتھ اسکا دل بھی تھما
آٸندہ اس وقت میرے روم میں مت آنا۔۔۔۔۔کافی مجھے ٹی وی لاٶنج میں ھی دے دیا کرنا
ایگزیمز تمھارے ھونےوالی ھیں تو مجھے امتحان میں مت ڈالا کرو
اسے ان کے لہجے میں تبسم چھلکتا محسوس ھوا مگر وہ بغیر ان کی طرف مڑے اپنے روم کی طرف بھاگی۔۔ اسکی تیزی پر بے اختیار انھوں نے ہنستے ھوۓ آنکھیں میچی تھیں
تومیری وفا کاعروج ھے
میراعشق تم پر تمام شد
……………………………………
دھڑکتے دل اور لرزتے ھوۓ ہاتھ پیر۔۔۔۔۔وہ بڑی مشکلوں سے ٹھنڈی کافی سے بھرا مگ کچن میں رکھ کے اپنے روم میں آ کر دھپ سے بیڈ پر بیٹھی
کتابوں اور نوٹس کو ایک ساٸیڈ پر کیا اور خود کو کمبل میں جیسے چھپا لیا تھا
”واٹ واز دیٹ؟“
مسلسل یہی سوال اسکے ذہن میں گردش کر رھا تھا
پھر یکے بعد دیگرےان کے مختلف ری ایکشنز۔۔۔اور جملے دماغ پر دستک دینے لگے
جیسے جیسے دل و دماغ کو وجہ سمجھ آ رھی تھی ویسے ویسے دھڑکن میں دریاٶں سی طغیانی آنے لگی
اس نے منہ پر ہاتھ رکھ کر اپنی حیرت کو دبایا ساتھ ھی ڈھیروں شرم نے آگھیرا
سن سانسوں کےسلطان پیا
تیرے ہاتھ میں میری جان پیا
میں تیرے بن ویران پیا
تومیرا کل جہان پیا
میرا شام سلونا شاہ پیا
مجھے مار گٸی تیری چاہ پیا
افففف۔۔۔۔۔اب ان سے سامنا کیسے کرنا ھے۔۔۔یا اللہ زاویار بھی۔۔۔۔۔
پہلی بار اکیلے میں بغیر آواز نکالے اس نےانکا نام آنکھیں بند کر کے ھولے سے لیا۔۔۔ یوں محسوس ھوا وہ سامنے ھی ہیں اور اپنی مخصوص اندر تک اترتی نگاھیں اس پر گاڑے ھوۓ ھیں
میں پہلے کیوں نہ سمجھی انکا التفات اور میری طرف جھکاٶ
”مجھے امتحان میں مت ڈالا کرو“
انکے الفاظ یاد آتے ھی وہ اپنا نچلا لب دانتوں تلے دباگٸی
یہ طے تھا کہ اسےآج رات نیند نہیں آنا تھی اتنا بڑا انکشاف ھوا تھا اس پر۔۔۔۔ یہ تووہ موقع تھاکہ وہ خوشی کو سیلیبریٹ کرتی مگر وقت زیادہ ھوجانے کی وجہ سے اس نے سونیا اورعروج کو بتانے کا ارادہ کل پر موقوف کیا اور اپنی پلکیں سختی سے موند گٸی
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
صبح آٹھ بجے سب کے ساتھ ناشتہ کرتی ھوٸی ثانیہ مسلسل نگہت کی نصیحتوں سے عاجز آ چکی تھی
اف ماں اف۔۔۔۔بس کر دیں
یہ جا تو رھا ھے باڈی گارڈ میرے ساتھ تو سب ٹھیک ھی رھے گا اگر یہ اپنی آٸی پر نہ آیا تو۔۔۔۔
کیا؟؟؟؟باڈی گارڈ؟
کہاں سے باڈی گارڈ لگتا ھوں تمھیں میں؟اور محترمہ شاٸد بھول گٸی ھیں کہ کیسے روتے ھوۓ مجھے اپنا مسٸلہ بتایا تھا کہ کوٸی مجھے لے کر نہیں جا رھا ھونہہ۔۔۔۔
اسے بری طرح گھورتے حسن نے اسکی نقل اتاری تھی تو وہ کھلکھلا اٹھی
تم نے پھر مجھے تسلی دی کہ لیکر جاٶ گے۔۔۔یہ بھی بتاٶ ناں۔۔۔۔یامیں بتاٶں کہ تم کتنے نرم دل ھو حسن؟
اس کے چھیڑنے پر حسن نے اپنے ھونٹ بھینچ کر اپنے اشتعال کو کنٹرول کرنے کی سعی کی
أسکا غصے سے سرخ پڑتا چہرہ دیکھ کر نگہت نے ثانیہ کو نظروں سے ھی منہ بند رکھنے کا کہا تو وہ ہنستے ھوۓ سر جھکا گٸی
بیٹا گھر سے باھر جا رھے ھو اس کے ساتھ تو میں جانتا ھوں یہ تمھیں بہت تنگ کرے گی۔۔۔نادان سمجھ کے درگزر کر دینا اوکے اور ثانیہ مجھے تمھاری کوٸی شکایت نہ ملے۔۔۔
ابراھیم نے حسن سے بات کرتے کرتے ثانیہ کو دیکھا تو جہاں حسن کے کلیجے پر سنوفالنگ ھوٸی تھی وہیں وہ جل کر کباب ھو گٸی
بھویں اچکا کر اسے دیکھتے ھوۓ حسن نے افسوس کرتے اسے پچکارا تو وہ دل میں یہ تہیہ کر چکی تھی کہ اب چاھے جو ھو یہ سفر اور یہ تین دن حسن کو ناکوں چنے چبوا کر رھے گی
تبھی زاویار نے چیٸر گھسیٹ کر بیٹھتے ھوۓ سب پر سلامتی بھیجی۔۔انکی متلاشی نظریں اسے تلاش کر رھی تھیں ثانیہ نے دیکھتے ھی اپنی مسکراہٹ چھپاٸی
مشعل کہتی کہ مجھے ١١ بجے سے پہلے کوٸی نہ اٹھاۓ۔۔۔۔پڑھتی رھی رات بھر تو شاٸد نیند پوری کرنے کا موڈ ھے اسکا
زاویار کو کن اکھیوں سے دیکھتے وہ بولی تو زاویار نے بے اختیار اسکی جانب دیکھا تھا
وہ بظاہر ناشتہ کرنے میں مصروف تھی
مگر اسکی تمام حسیات زاویار پر ھی مرکوز تھیں
کب تک نکلنا ھے تم لوگوں نے؟
بس آدھے گھنٹے تک۔۔۔جواب کے لیے اس نے منہ کھولا ھی تھا جب حسن نے انھیں بتایا تھا تو وہ اسے نخوت سے دیکھ کر رھ گٸی
جلدی جلدی ناشتہ کرنے کے بعد وہ اپنے روم سے گاڑی کی چابیاں لینے گٸے تو راستے میں اس کے روم کے باھر ان کے قدم رکے تھے
تو یہ حال ھو گیا محترمہ کا میری ایک دو باتوں پر ھی۔۔۔سرجھکاۓ وہ مسکاۓ تھے بے اختیار قدم دروازے کے قریب آن رکے
دل کی دہاٸیوں کے باوجود وہ خود کو سرزنش کرتے ھوۓ وہاں سےگاڑی تک آۓ اور سر ہاتھوں پر گرا لیا
ناگزیر ھوگیا ھے اب ساتھ ھونا۔۔۔جلد ھی کچھ کرناپڑے گا اب
تھکے تھکے سے انھوں گاڑی کو گیٹ سے باھر نکال کرسڑک پر ڈالا تھا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اچھا ممانی چلتے ھیں ھم اب۔حسن نے نگہت کے آگے سرجھکا کر پیار لیا تھا تواسی وقت ثانیہ نے ان کے گلے میں بانہیں ڈالیں
سخت بدمزہ ھوتا وہ اس پر قہر آلود نظر ڈال کر رھ گیا
”تٌو آ جا میری خیر آ“
اسکو سناتے وہ بیگز لیے پورچ تک آیا اور گاڑی میں بیگز رکھ کر اس کے آنے کا ویٹ کرنے لگا جو یقیناًابھی تک نگہت سے لپٹی لاڈیاں کر رھی تھی
ایک انوکھے سفر کا آغاز ھو چکا تھا اس نے ترچھی نگاہ سے حسن کی اور دیکھا جو روبوٹ بنا بغیر کسی تاثر کے گاڑی چلا رھا تھا
زبان میں کھجلی محسوس کرتے ھی وہ مصنوعی کھانسی تھی توحسن نے اچٹتی سی نظر اس پر ڈالتے دوبارہ ونڈ سکرین پر نگاھیں جماٸیں
مجھے پیاس لگی ھے؟
تو؟؟
تو مطلب؟پانی پینا مجھے
تمہارے لیے اب کیا گاڑی میں ھی کنواں کھدواٶں؟؟پچھلی سیٹ پر دیکھو پانی رکھا ھے اٹھاٶ اسے اور ڈیزرٹ صحارا کے اونٹ جیسی پیاس بجھاٶ اپنی
وہ پچھتاٸی کہ اسکو چھیڑا ھی کیوں۔۔۔۔کیسی کڑوی زبان تھی اسکی۔۔۔ مجال ھے جو ڈھنگ سے بات کی ھو کبھی
ارے نہیں کی تو تھی ایک بار پیار سے بات۔۔۔۔
خود سے باتیں کرتی اسکی آنکھیں شرارت سے چمکی تھیں
حسن۔۔۔۔۔۔؟
”ھممم“
میں تمھیں اچھی لگتی ھوں ناں؟؟؟مسکراہٹ روکنے کے چکر میں سرخ چہرہ کرتے اس نے کہا تو حسن بے بسی سے اسے دیکھ کر رھ گیا
سندس کو انفارم کیاھے؟اس سے رابطہ رکھو تاکہ وہ ھمیں ریسیو کر لے آکر
بدمزہ ھوتے اسی کے کندھے پر مکا رسید کرتے ثانیہ نے منہ بسورا
میری بات کا جواب تو دو۔۔۔۔۔لگتی ھوں ناں اچھی؟؟
بلکل بھی نہیں اچھی لگتی۔۔۔۔۔گز بھی چھوٹا ھوگا تمھاری زبان کے آگے اب اگر تم نے کوٸی فضول سوال کیا تو دیکھنا بیچ سڑک پہ اتار دونگا
تمھیں
اصل میں تم جیلس ھو میری خوبصورتی سے جانتی ھوں میں۔۔۔۔چٹی چمڑی کہاں اچھی لگتی ھےکسی کو۔۔۔۔۔ لیکن زاویار بھاٸی کو دیکھو کتنے ہینڈسم ھیں ناں وہ۔۔۔۔ڈیسینٹ
انکی تو کیا ھی بات ھے یار۔۔۔۔زاویار کے ذکر پر حسن کے چہرے پہ مسکراہٹ آٸی تھی۔۔۔ھی از سچ آ گریٹ مین۔۔۔۔ ویری امپریسیو پرسنیلٹی
ھے ناں؟؟؟خوش ھوتے ھوۓ وہ بولی۔۔دونوں بھول ھی گٸے تھے کچھ دیر پہلے منہ ماری ھو رھی تھیایک دوسرے سے
اچانک ایک خیال ثانیہ کے ذہن میں آیا تھا
حسن۔۔۔؟؟
اب کیاھے؟؟بولو۔۔۔۔پھاڑ کھانے واکے انداز میں وہ بولا
مجھے ناں مشی بہت اچھی لگتی ھے بہت پیار کرتی ھوں اس سے میں۔۔۔۔اپنے چہرے ہر مشی کے لیے ڈھیر ساری محبت یے وہ ایک بہت ھی معصوم سی بچی لگ رھی تھی
حسن نے اسکی مسکراہٹ کو دیکھا
میرا جی چاھتا ھے کہ زاویار اور مشی۔۔۔۔مطلب ان دونوں کی اگر۔۔۔شادی۔۔۔۔
حسن نے حیرت سے اسے دیکھا تھا
دیکھو ناں۔۔۔۔۔زاویار بھاٸی کو تم جانتےھی ھو اور مشی کی وہسے بھی بہت انڈرسٹینڈک ھے زاویار بھاٸی سے تو کیوں نہ۔۔۔۔
تم سے کچھ کہا تھا مشی یا زاویار بھاٸی نے؟؟
نہیں نہیں یہ تو بس میری ھی خواہش ھے
حسن مشی کا بھاٸی تھا اور زاویار اسکا۔۔۔۔۔اسے زاویار کی محبت کو راز رکھتے ھوۓ ھی بات آگے بڑھانی تھی اور وہ اس میں کامیاب بھی ھوٸی تھی کیونکہ حسن کے چہرہ پو سوچ ھو چلا تھا
وہ دل ھی دل میں خوش ھوٸی کہ چلو اب زاویار بھاٸی کے لیے ایک راہ ہموار کر لی ھے
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
بجتے موباٸل پرنظر ڈالتے ھوۓ انھوں نے لیپ ٹاپ شٹ ڈاٶن کیا تب تک کال آنا بند ھو چکی تھی
کال بیک کر کے ریوالونگ چیٸر پر ریلیکس ھوتے پشت ٹکاٸی تب تک کال اٹینڈ کرتے ھی زنیرہ تابڑ توڑ ان پر برسنے لگی
اسک جلی کٹی سنتے ھوۓ وہ قہقہہ لگا گٸے
اچھا بابا سوری۔مصروف تھا ذرا۔۔آج ھی آفس سے واس گھر جا کر تمھیں کال کرنی تھی میں نے۔۔۔اصل میں کچھ بہت خاص بتانا بھی تھا
کیا کیا؟؟ جلدی بتاٶ
یو ور راٸٹ خاتون۔۔تھاری ساری آبزرویشن صحیح تھی اباٶٹ ماۓ لیڈی
اوہ گاڈ سیریسلی؟؟؟
چیختی ھوٸی اپنی خوشی کا اظہار کرتی وہ انھیں بھی ہنسنے پر مجبور کر گٸی
پتا کیسے چلا موصوف کو باۓ دی وے؟؟متبسم لہجے میں اس نے پوچھا تو انھوں نے ساری روداد کہہ ڈالی
ھاۓ۔۔۔۔۔۔۔۔۔لکی ھو پتا ھے تمھیں؟؟اس نے رشک سے کہا تو وہ جواباً الحمداللہ کہہ گٸے
اب کیا پلان ھے؟نیا پار لگاٶ اپنی اب
زنیرہ نے انھیں اکسایا تو وہ نفی میں سر ہلا گٸے
امممم ھمممم۔۔۔۔۔۔پہلے اس سے اظہار سننا ھے مجھے۔۔۔۔اتنا جو وہ شرماتی ھے جسٹ وانٹ ٹو سی ھر ایکسپریشنز واٸل کنفیس ھر فیلنگز
اوہ نہ کر اللہ کے بندے۔۔۔۔لڑکیاں شرماتی ھی اچھی لگتی ھیں اس معاملے میں۔۔۔تم نے ضرور اسے مشکل میں ڈالنا ھے
زنیرہ نے دہاٸی دی
لیٹس سی کہ کتنا وقت لگتا ھےوہ وقت آنے میں۔۔۔۔مسکراتے ھوۓ وہ کسی اور ھی جہاں میں پہنچے تھے تو زنیرہ نے دعاٸیں دیتے فون رکھا تھا جبکہ انکی” مِشو“ تصورات کہ دنیا میں ان کے سنگ تھی
______________
وہسے تو مجھے چاۓ اتنی زیادہ نہیں پسند مگر تمھارے گھر کی کسشمیری چاۓ کی فین اور اےسی ھو گٸی ھوں میں
آہاں۔۔۔۔۔۔چلو اچھی بات ھے ابھی مہندی پر بھی بہت مزہ آنے والا ھے دیکھنا تم
سندس نے اس کے تعریف کرنے پر مزید آتشِ شوق کو بڑھایا
وہ دو گھنٹے پہلے ھی سندس کے ہاں پہنچے تھے اور ان کا بہت پر تپاک استقبال کیا گیاتھا یوں لگتا تھا کہ ھر شخص غاٸبانہ طور پر ثانیہ سے واقف ھے
اسے عجیب طرح کی شرم محسوس ھو رھی تھی کچھ وہ باۓ نیچر بھی ذرا ریزرو تھی خاص کر آٶٹ آف فیملی میں جا کر وہ ان ایزی فیل کرتی ۔۔۔
ثانیہ آپی آپ تو کسی کو بھی نہیں لاٸیں ساتھ۔۔آپ کو پتا ھے سندس باجی نے پورے گھر والوں کو الرٹ کیا ھوا تھا کہ ان کی دوست آرھی ھے وڈ فیملی مگر آپ تو بس اپنے بھاٸی کیساتھ ھی آٸی ھیں
سندس کی چھوٹی بہن عنبر نے ثانیہ سے شکوہ کیا
بھاٸی نہیں ھے وہ میرا۔۔۔۔پھوپھی زاد ھے۔۔۔ مشی کے ایگزیمز تھے بابا اور زاویار بھاٸی آفس میں بزی۔۔۔تو بس میں اور حسن ھی بچتے تھے آنے کو۔۔۔۔ماں کو وہاں رکنا پڑا کونکہ مشی کوکنگ میں ابھی ذرا کچی ھی ھے
اس نے وضاحت کی
او اچھا۔۔۔۔۔
حسن کو کس روم میں ٹھہرایا ھے مجھے بتا دو تاکہ میں شام کے کپڑے پریس کر دوں اس کے
ارے میں نے کپڑے پریس کرنے ھیں اپنے بھاٸی جان کے تو ساتھ ھی حسن کے بھی کردونگی
ثانیہ نے سندس سے کہا تو اسکی چچازاد مونا بے تکلفی سے بولی تھی
اسے یہ شوخا پن بلکل نہ بھایا۔۔۔۔ مطلب وہ کیوں اس کو حسن کہہ رھی تھی یوں؟ساتھ بھاٸی بھی کہا جا سکتا تھا
نہیں اصل میں مجھے کچھ کام بھی ھے اس سے تو بتا دو کدھر ھے وہ
اس نے چباتے ھوۓ کہا
اچھا اچھا۔۔۔۔۔آٸیں آپ کو لے چلتی ھوں
لمبی راہداری سے گزر کر ایک طرف بنے خوبصورت وڈ ورک سے مزین جھولےکو دیکھتے اسکا جی مچلا کہ اس پر بیٹھ کر جھولے لے مگر چپ چاپ وہ مونا کے پیچھے چلتی رھی
ایک روم کے دروازے کے باھر ھی اس نے رک کر دستک دی تو کچھ پل بعد ھی” یس“ کی آوز آٸی تو مونا بے دھڑک اندر گھسی
ایک شخص کبرڈ میں سر گھساۓ کھڑا تھا دوسرا آٸینے کے آگے کھڑا اس میں اپنے جلوے دیکھتا اسے توڑنے کے در پے تھا
تیسرے کے آگے جوتوں کا ڈھیر رکھا تھا جسے بڑی ھی دلجمعی سے چمکایا جا رھا تھا ساتھ ساتھ واہیات آواز میں ”چھلا میرا جی ڈھولا“ٹاٸپ سونگ کی ہڈی پسلی ایک کی جا رھی تھی
وہ جو مونا کو دیکھ کر بھی اپنا کام جاری رکھے ھوۓ تھے اس پر نظر پڑتے ھی ہڑبونگ کا شکار ھوۓ
کبرڈ والا فوراً کبرڈ بند کر کے اسی کیساتھ ٹیک لگاۓ مہزب بننے کی سر توڑ کوشش کرنے لگا تو جوتے پالش کرنے والے نے جوتے یوں پیچھے کٸے تھے جیسے ان میں کرنٹ دوڑ رھا ھو
جبکہ اپنے حٌسن سے متاثر شخص نے اپنے جلوٶں کی تاب نہ لاتے ھوۓ ہیٸربرش اٹھا کر سلیقے سے جمے بالوں پر ہل چلانا شروع کر دیا
نہ چاھتے ھوۓ بھی اس کے چہرے پر مسکراہٹ در آٸی تو ان تینوں نے ھی مونا کو نظروں ھی نظروں میں لعنت رسید کی
ڈھیٹ بن کر ہنستے وہ حسن ک بابت پوچھنے لگی تب ھی وہ فقط بلیک ٹراٶزر میں واش روم سے برآمد ھوا
جہاں ثانیہ پر گھڑوں پانی پڑا تھا وہیں مونا شرم سے بیر بہوٹی بننے لگی
حسن بھی اس افتاد پر بوکھلاتا صوفے پر پڑی شرٹ اٹھا کر پہننے لگا
ثانیہ نے بارود نگاھوں سے مونا کو چھوا موا بنے دیکھا تو دانت پیس کے رھ گٸی
خیریت ھے کیا ھوا؟
ھاں حسن انھیں کچھ کام تھا آپ سے۔۔۔اورآپ اپنے کپڑےمجھے دےدیں میں پریس کردونگی
حسن نے پوچھا ثانیہ سے تھا مگر جواب مونا نے دیا اور اسکی اس آفر پر جہاں اس نے ابرو اچکاۓ تھے وہیں ثانیہ کی جان جلی تھی
جی چاھا اسکی پشت پر ایک لات رسید کرے
حسن نے جو اس کے خونخوار تیور دیکھےتو مونا کو سہولت سےمنع کر دیا
تو وہ ڈھیٹ بنی ان تین نمونوں سے ثانیہ کا تعارف کروانے لگی
یہ تینوں ھی میرے تایا زاد ھیں
حمدان۔۔۔۔کاشان اور عاشر
حمدان سندس کا بھاٸی ھے اور کاشان اور عاشر آپس میں بھاٸی بھاٸی ھیں
اپنے بھونڈے سے انداز پر وہ خود ھی ہنسی۔۔۔۔جبکہ وہ تینوں شاٸستگی سے اس پر سلامتی بھیجتے ایک ایک کر کے روم سے نکلے تھے
حسن کچھ بھی چاھیے ھو تو پلیز مجھے بتانا ھے آپ نے اسے اپنا ھی گھر سمجھیں
”اور تمھیں کیا گھر والی سمجھ لے؟“نتھنے پھلاتے ھوۓ وہ بے آواز بولی تھی اسے سندس کی یہ چچا زاد نہایت زہر لگی جو خوامخواہ ھی حسن پر کمبل ھوٸی جا رھی تھی
حسن نے محض مسکرانے پر اکتفا کیا تو ثانیہ نے مونا کو سوالیہ نگاھوں سے دیکھا کہ ”بہن تھوڑا اور مصالحہ لگانا ھے اس بندے کو یا ھو گیا تمھارا“
تو وہ جھینپنے کی فلاپ ایکٹنگ کرتی ھوٸی روم سے باھر نکلی تھی
دونوں ہاتھ کمر پر رکھے اسے تیکھے چتونوں سے گھورتے وہ حسن کو ہنسنے پر مجبور کر گٸی
کیا؟؟؟اتنا کیوں تپی ھوٸی ھو؟
شرارت سے اس نے پوچھا تھا
سچ بتانا۔۔۔۔پہلے سے جانتے ھو کیا اس کو تم؟اتنا کیوں لگاوٹ کا مظاہرہ کررھی تھی وہ ہاں؟
یار آج ھی ملا پہلی بار
ملا مطلب؟؟؟
بولو آج پہلی بار دیکھا اسکو تم نے۔۔۔ملا تو یوں کہا ھے جیسے۔۔۔۔۔۔وہ بات ادھوری چھوڑ کر اسے افسوس سے دیکھنے لگی
توبہ ھے ثانیہ۔۔۔کتنا شک کرتی ھو قسم سے۔۔۔میری مجال جو اب اسکی طرف دیکھوں بھی۔۔۔اب موڈ ٹھیک کرو اپنا۔۔۔۔دوست ک شادی میں آٸی ھو تو انجواۓ کرو
تم کیا اتنی پوزیسیسو ھو میرے لیے؟؟؟
جان کر اچھا لگا
اس نے شرارت سے اس کے کندھے سےکندھا ٹکرا کرکہا تو اسکو جیسے ہزاو وولٹ کا جھٹکا ھی تو لگا تھا
واٹ؟؟؟؟
منہ دھو رکھو اپنا تم اچھا
لیھ۔۔۔۔۔نہا کہ آیا ھوں ابھی
اففف۔۔۔۔یہ سب اس لیے تاکہ تم خبردار رھو۔۔۔ یہاں تم اپنی روح ٹھنڈی کرنے مت بیٹھ جانا بڑی عزت کرتے ھیں سب میری
وہھی عزت ناں جسکا تم فرسٹ ٹاٸم ایکسپیرینس کر رھی ھو۔۔۔۔کبھی ملی جو نہیں اتنی عزت تب ھی اپنے امیج کی اتنی پرواہ ھے ناں تم کو
حسن نےناک پر سے مکھی اڑاٸی اور اسکی بات کو کسی خاطر میں نہ لیا تھا
اپنے کپڑے دو پریس کر دونگی میں۔۔
آہاں۔۔اتنا پرٹوکول دوگی کیا اب مجھے تم۔۔۔کپڑے نکال کر اسے تھماتے وہ مسکرایا تھا
گال کے گڑھےنمایاں ھوۓ تو ثانیہ کی نگاہ ان پر جم کر رھ گٸی
پکڑو بھی۔۔۔۔۔۔اسکی آواز پر وہ سرجھٹکتے روم سے باھر نکلی تو وہ آٸینے کے آگے کھڑا اپنے بال سنوارنے لگا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: