Mera Sham Slona Shah Piya Novel By Bella Subhan – Episode 8

0
میرا شام سلونا شاہ پیا از بیلا سبحان – قسط نمبر 8

–**–**–

عروج اور سونیا سےکانفرنس کال پر وہ انھیں سرپراٸز دےچکی تھی توقع کے برعکس ان دونوں کو حیرانی نہیں ھوٸی ان کے مطابق انکو اندازہ تھا اس بات کا
وہ خود کو ہواٶں میں اڑتا محسوس کررھی تھی باقی سارا دن اس نےپیپر کی تیاری کرتے گزارا مگر ساتھ ساتھ زاویار کا خیال بھی اس کے ہمراہ تھا
رات آٹھ بجے کے قریب گاڑی کا ہارن بجا تو اس نے بےاختیار آنکھیں میچی تھیں
اسے اب انکا سامنا کرنا ھی تھا کیونکہ ثانیہ گھر نہیں تھی نگہت کی ہیلپ کے لیےاسکا جانا ضروری تھا
ایک نظر اپنے کپڑوں پر ڈالی جو معقول ھی تھے تاھم جلدی سے بال بنا کر اسکا اونچا جوڑا کیا تھا اور خود پر طاٸرانہ نظر ڈاتے اپنے آپ کو مضبوط کرتی ٹی وی لاٶنج میں چلی آٸی
اَلسَّلامُ عَلَيْكُم
باآواز بلند اس نے سلام کیا تو وَعَلَيْكُمُ اَلسَّلامُ کہتے ھوۓ ابراھیم نے اسے اپنے ساتھ بیٹھنے کو کہا
کیسا ھے میرا بچہ؟؟؟
ٹھیک ھوں ماموں
اسےلگا وہ ٹی وی دیکھ رھے ھیں
أس نے کن اکھیوں سے انکی جانب نگاہ کی تو انھیں اپنی طرف دیکھتے پایا
اسکا دل اچھل کر حلق میں آ گیا تھا جیسے
وہ۔۔۔۔۔۔میں۔۔۔میں کھانا لگاتی ھوں
اسےسر پٹ وہاں سے بھاگتے دیکھ کر ابراھیم حیران ھوۓ تھے جبکہ زاویار نے سر جھکاتے مسکراہٹ ضبط کی
کھانا کھانے کےدوران بھی گاھےبگاھے وہ اس پر نگاہ ڈال کر اس کی دھڑکنیں بڑھاتے رھے
برتن اٹھا کر اس نے کچن کے سنک میں رکھے اور ڈاٸننگ ٹیبل کو صاف کیا
بیٹا بس اب تم جاٶ۔۔۔پڑھ لو جا کر باقی میں کر لونگی۔۔۔۔نگہت نے اسے پیار سے کہا تھا
نہیں ممانی آپ اب بیٹھیں میں ماموں اور آپکی چاۓ ٹی وی لاٶنج میں ھی دے جاتی ھوں
زاویار کے لیےکافی بھی بنانی۔۔۔بات کرتے کرتے اس نے زبان دانتوں تلے دباٸی اور آنکھیں زور سےبند کیں
افففف۔۔۔۔۔۔بھاٸی نہیں کہا۔۔۔۔ ممانی نے نوٹ کر کیا ھوگا۔۔۔ڈرتے ڈرتے اس نے انکی طرف دیکھا تو وہ کچن میں تھیں ھی نہیں
اس نے سکون سے سانس خارج کیا چاۓ اور کافی بناٸی اور جا کر ٹیبل پر رکھ دی اب کی بار اس نےانکی طرف دیکھنے کی غلطی نہیں کی تھی
واپس کچن میں آ کر برتن دھوۓ۔۔۔ہاٹ پاٹ سے رومال نکال کر کھونٹی پر ٹانگے اور ہاٹ پاٹ خشک کر کے رکھا ھی تھا جب وہ کچن میں داخل ھوۓ
ٹھیک اپنے پیچھے وہ انھیں کھڑا محسوس کر سکتی تھی۔اس کے ہاتھوں کےساتھ ساتھ دل بھی ساکت ھو کر دھڑکا تھا
اپنی پشت پر انکی نظروں کی تپش محسوس کرتے اس کی پلکیں لرزنے لگیں
آنکھیں بند کر کے اس نے نچلا لب دانتوں تے دبایا تھا
______________
اونچا جوڑا کیے جانے کی وجہ سے اسکی صراحی دار گردن نمایاں تھی۔۔۔زاویار کی نگاھیں اس پر بھٹک بھٹک گٸیں
گہری سانس بھرتے انھوں نے اسکا رخ اپنی جانب موڑا تو اسکی نگاھیں بارِحیا کی بدولت اٹھنے سے انکاری ھوٸی تھیں
ادھر دیکھو۔۔۔۔
انکی گھمبیر سرگوشی پر وہ جی جان سے لرزی تھی تو زاویار کو بھی اپنے درمیان موجود یہ دوری بے حد کھَلی
اس نے نگاھیں اٹھا کر جو انھیں دیکھا تو جیسے انکی آنکھوں نے ایک طلسم سا اس پر پھونکا تھا
ماحول جادوٸی سا ھونے لگا
پھر یوں ھوا ھم تکتے رھے ایک دوجے کو دیر تک
وہ اندازِبیاں سے قاصر میں حرفِ ابتدا سے عاجز
ٹھیک ھو؟؟
”جی“
اور پیپر کی تیاری؟؟
وہ بھی۔۔۔۔ٹھیک
میری کوٸی ہیلپ چاھیے؟؟
نن۔۔۔نہیں میں کرلونگی
کیا؟؟
”تیاری“
کس چیز کی؟؟
اففف۔۔۔پیپر کی اور کس کی۔۔
وہ جو مسلسل نظریں جھکاۓ ان کے سوالوں کے جواب دے رھی تھی۔۔۔چڑ کر جیسے ھی کہا تو نظر ان کے شرارتی چہرے پر پڑی
شکر ھے میری طرف دیکھا تو۔۔۔۔کیا ھوا ھے تمھیں ہاں؟؟دیکھ تک نہیں رھی ھو۔۔۔
کچھ الگ سا ھوا ھے کیا جو انوکھا سا بی ہیو کر رھی ھو؟
گہری نظروں سے دیکھتے انھوں نے اسے کہا ۔۔تو وہ آنکھیں جھکا گٸی
بمشکل اس پر سے نظریں ہٹا کر انھوں نے اسکا گال ھولے سے تھپتھپایا
جسٹ ریلیکس۔۔۔۔۔۔
مسکرا کر کہتےھوۓ وہ کچن سے نکلنے لگے تو اس نے اپنا دل تھاما
اففف۔۔۔۔۔۔
آنکھیں بند کر کے جو وہ مسکراتے ھوۓ دھڑکن معمول پر لانے کی سعی کر رھی تھی تب ھی وہ جاتے جاتے پلٹے تھے
وہیں دروازے کے ساتھ ٹیک لگاتے انھوں نے ایک ٹانگ دروازے کی طرف موڑی اور سینے پر بازو لپیٹے اسے دیکھنے لگے
مسکراہٹ گہری ھونے لگی ساتھ ھی خواہشات کا طوفان دل میں سر اٹھانے لگا
مشعل کو خود پر کسی کی نظروں کی تپش کا احساس ھوا تو اس نے پٹ سے آنکھیں کھولی تھیں
ہڑبڑا کر دل سے ہاتھ ہٹاتے وہ حد سے زیادہ بوکھلا گٸی۔۔۔نادیدہ لٹوں کو کان کے پیچھے اڑستے وہ بہت ھی دل نشیں لگی
جب کافی دیر تک انھوں نے اس پر سے نظریں نہ ہٹاٸیں تو اس نے آنکھوں کو تھوڑا سا بند کر کے بے آواز ”پلیز“ کہا تھا
وہ سر جھکاتے ہنس دیٸےاور اسکی طرف قدم بڑھاۓ تب ھی نگہت کچن میں چلی آٸیں
ماں دیکھیں ناں کب سے اسکو کہہ رھا ھوں کہ کل پیپر ھے۔۔۔ میں تیاری کروا دیتا ھوں تا کہ کوٸی پرابلم نہ ھو مگر مان ھی نہیں رھی۔۔۔۔مجھے اچھا رزلٹ چاھیے بتا رھا ھوں تمھیں
وہ حیرت سے منہ کھولے ان کے پلٹا کھانے پر ہونق ھوٸی تو وہ اپنی ہنسی دبا گٸے
ٹھیک کہہ رھا ھے بیٹا ہیلپ لے لیا کرو بھاٸی سے۔۔۔۔
چاۓ کے خالی کپ سنک میں رکھتے ھوۓ وہ بولیں تو جہاں وہ لفظ بھاٸی پر سخت بدمزہ ھوتے منہ بنا گٸے تھے وہیں مشعل نے ان کے ایکسپریشن دیکھ کر انھیں زبان نکال کر چڑایا
ابرواچکا کر اسکی یہ حرکت دیکھتے وہ اسےنظروں میں ھی خیرمنانے کا کہنے لگےتو وہ تیزی سے سنک کی طرف بڑھی اور نگہت کو ایک طرف کر کے کپ دھونا شروع کیے
ممانی بس چھوڑیں میں کر دیتی ھوں پھر اس کے بعد جا کر پڑھونگی
شکریہ بیٹا۔۔۔۔اچھا زاویار مجھے کچھ بات کرنی ھے تم سے تو روم میں آنا میرے
جی ماں۔۔ آتا ھوں۔۔۔۔
نگہت کہتے ھی کچن سے نکلیں تو وہ انھیں کہتے مشعل تک آۓ تھے
یہ کیا کیا تھا ابھی کچھ دیر پہلے تم نے مجھے چڑانے کے لیے؟
کیا؟؟میں نے تو کچھ بھی نہیں کیا
آہاں۔۔۔۔سیریسلی؟؟؟
گڈ ناٸٹ۔۔۔
انکی نظروں سے گھبراتی اور اس استفسار پر کہتی وہ کچن سے بھاگی تو انھوں نے اسکی کلاٸی کو تھاما
پپ۔۔۔۔ پلیز مجھے جانیں دیں” زر“۔۔۔۔
شرم سے چٌور ھوتےاس نے انھیں ایک اچھوتا سا نام دیا تو خوشگوار حیرت نے ان کو آگھیرا
ھولے سے کلاٸی کو اپنی طرف کھینچ کر اسے خود کے سامنے کیا تھا
کیا کہا ھے؟
مجھے۔۔۔جانے دیں پلیز
امم ھممم۔۔۔۔۔مجھے کیا پکارا ھے؟؟
کچھ بھی نہیں پکارا
کلاٸی پر گرفت سخت ھوٸی تو اس نے بے بسی سے انھیں دیکھا
زاویار کی نظریں اس کے ملاحت زدہ نقوش میں الجھ کر رھ گٸیں
”بہت اچھا لگا ھے“
جھک کر اس کے کان میں کہتے ھوۓ وہ اپنی قربت سے اسکی جان نکال گٸے
گڈناٸٹ” مِشو“
زاویار یہ کہتے کچن سے جا چکے تھے مگر وہ ہنوز اس لمحے کے سحر میں مقید تھی
____________
ھاۓ یہ تو بہت ھی خوبصورت ھے سندس۔۔۔۔اسے میں پہن لونگی تو تمھیں کون دیکھےگا؟؟
سندس نے جو اس کے لیے مہندی کا ڈریس بنوایا تھا اسے دیکھتے ھوۓ ثانیہ نے شرارت سے کہا تو اس نے ایک دھموکا اسکی کمر پر جڑا
کچھ بھی پہن لے آج کوٸی۔۔۔۔جو پروٹوکول مجھے ملنا ھے اسکو کوٸی بیٹ نہیں کر سکتا۔۔دلہن ھوں میں۔۔۔کوٸی مذاق تھوڑی ھے
اتراہٹ سے سندس کے کہنے پر وہ ہنس دی۔۔۔۔
اچھا سنو۔۔۔۔سب تیار ھونے کیلیے پارلر جا رھی ھیں کزنز وغیرہ۔۔تم نے بھی جانا ھے تو بتاٶ۔۔۔ان کے ساتھ ھی بھجوا دیتی ھوں
ارے نہیں یار۔۔۔۔میک اپ میں کرتی ھی بہت کم ھوں۔۔۔اور پھر یوں مجھے اچھا بھی نہیں لگتا۔۔۔حسن کو بھی اچھا نہیں لگے گا میرا اسطرح جانا
تم کچھ زیادہ ھی نہیں حسن کی پرواہ کرنے لگی؟سندس نے اچھنبے سے اسے دیکھتے پوچھا تو وہ اسے محض گھور کر رھ گٸی
اس کے ساتھ آٸی ھوں تو اس کی ذمہ داری ھوں۔۔ھر کام میں اسکی پسند نہ پسند ملحوظِ خاطر رکھنی پڑے گی مجھے
اور محترمہ سندس صاحبہ آپ کے دماغ کو ناں تیزاب سے دھلنے کی ضرورت ھے۔۔۔۔۔
اس نے اینڈ پر اسے لتاڑا تو وہ ڈھیٹ بنتی قہقہہ لگا گٸی
چلو پھر تیار ھونا شروع ھو جاٶ تم۔۔۔۔باقی سب جانے ھی والی ھونگی پارلر۔۔۔ھمارے ھاں دلہن مہندی پر بلکل سادہ ھوتی ھے
ثانیہ نے سوالیہ نظروں سے اسکی تیاری کا پوچھا تو سندس بتانے لگی
روپ نہیں آتا بارات والے دن پھر۔۔اگر مہندی پر بھی اتنی لیپا پوتی کر لی جاۓ یو نو۔۔۔۔
ھممم اچھا سہی بات ھے ویسے۔۔۔۔۔ثانیہ نے تاٸید میں سر ہلایا اور واش روم میں اپنا جوڑا اٹھاۓ چینج کرنے چل دی
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اففف حسن آپ تو بہت ہینڈسم لگ رھے ھیں۔۔۔
وہ جو آٸینے کے آگے کھڑا اپنی تیاری کودیکھتے ھوۓ بال سنوار رہا تھا
مونا کی اس لگاوٹ پر منہ بنا کر رھ گیا
آپ بھی اچھی لگ رھی ھیں۔۔۔۔جواباً کڑوا گھونٹ بھرتے ھوۓ وہ اسکی تعریف کر گیا تو مونا نے اسے اہنے ھی رنگ میں لیا تھا
تیزترین بھڑکیلے پیلے رنگ کی تنگ کٌرتی کیساتھ شاکنگ پنک لہنگے میں وہ واقعی پیاری تو لگ رھی تھی مگر اس کے چہرے کی مصنوعی معصومیت اسکی خوبصورتی گہنا رھی تھی
ابھی مہندی کے فنکشن میں سب ھی بھنگڑا ڈالیں گے۔۔۔۔آپ میرا ساتھ دیجیۓ گا پلیز
اسکی آفر پر وہ بدکا
جی نہیں۔۔۔۔۔مجھے آتا نہیں یہ سب۔۔۔
ارے میں ھوں ناں۔۔۔۔سب سکھا دونگی آپ کو
مونا نے حسن کےانکار کرنے کے باوجود کہا
آ۔۔۔۔باھر ھی چلتے ھیں۔۔۔۔۔اسکی بات پر اسکو کوٸی جواب نہ سوجھا تو مونا سے کہتے وہ باھر کی جانب لپکا کہ یہ تو بہت ھی کوٸی لسوڑا برینڈ لگ رھی تھی اسکو۔۔۔۔
سندس کا گھر حویلی نما تھا۔۔۔۔ جسکی وجہ سے فنکشن گھر میں ھی ھونا تھے۔۔۔۔وہ لان میں چلا آیا جہاں سندس کے بھاٸی اور کزنز نے اسے ہاتھوں ہاتھ لیا تھا
کچھ تیاریوں کو فاٸنل ٹچ دے رھے تھے اچھی خاصی بھری پری فیملی تھی
گھر کے باقی مرد حضرات کام میں مصروف تھے تو خواتین ادھر ادھر مہمانوں کا استقبال کر رھی تھیں
سٹیج پر اس وقت کوٸی بھی نہیں تھا۔۔۔۔مطلب فنکشن شروع ھونے میں ابھی کافی وقت تھا ۔۔۔اس نے گھڑی دیکھتے ھوۓ سوچا جو رات کے آٹھ بجا رھی تھی
مہمانوں کی آمد میں تیزی آنے لگی تو لان میں رکھی کرسیاں پٌر ھونے لگیں
یہ ثانیہ کہاں ھے؟؟؟
حمدان کی کسی بات پر سر ہلاتے ھوۓ اسکی ذہنی رو بھٹکی
متلاشی نگاھوں سے اس نے ادھر ادھر دیکھا مگر وہ اسکو کہیں بھی دکھاٸی نہ دی۔۔۔۔شدید بے چینی محسوس کرتے ھوۓ وہ موباٸل نکال کر اسکو ٹیکسٹ کر بیٹھا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ایسا ھی ھوتا ھے ھمیشہ میرے ساتھ۔۔۔۔دنیا کہاں سے کہاں پہنچ گٸی مگر مجھے آٸی لاٸنر لگانا ایسے ھی مشکل لگتا ھے جیسے چھری سے لگانا ھو۔۔۔اتنا ہاتھ کانپتا ھے لگاتے ھوۓ
واش روم سے دوبارہ منہ دھو کر آتے ھوۓ وہ جلے دل کے پھپھولے پھوڑ رھی تھی
سندس نے اس بات پر ہنسی ضبط کی کہ اگر وہ ہنستی تو اس نے اب کی بار رو پڑنا تھا
آٸی لاٸنر کو برابر کرنے کے چکر میں اس نے اپنی شکل ھی مضحکہ خیز بنا لی تھی تو چہرہ دھو کر آنا پڑا
فقط بی بی کریم لگا کر مسکارا لگاتےھوۓ وہ مسلسل بڑبڑا رھی تھی
ارے مونا کو کہتی ھوں وہ لگا دیتی ھے لاٸنر۔۔۔۔میک اپ اچھا کر لیتی ھے وہ۔۔۔خود ھی تیار ھوٸی ھے پارلر نہیں گٸی ۔۔۔۔کافی اچھی بھی لگ رھی ھے
سندس نے اسے بتایا تووہ سر جھٹک گٸی
رھنے ھی دو تم۔۔۔ایک آنکھ نہیں بھاٸی مجھکو تمھاری وہ کزن۔۔۔ڈورے ڈالتی ھے حسن پر
غصے سے اس نے کہا تو وہ بھویں اچکا گٸی
تمھیں اتنی مرچی کیوں لگی اگر وہ ڈورے ڈال بھی رھی تھی تو۔۔۔۔؟
ھم ایک دوسرے کے ساتھ آٸیں ھیں تو ذمہ داری ھیں ایک دوسرے کی اچھا۔۔تم نہ اپنے دماغ پر اتنا زور ڈالو دھماکہ ھو جانا ھے اسکا
شرارت سے وہ بولی
تب ھی موباٸل پر میسیج ٹون بجی موباٸل کو اٹھا کر شیشے کے آگے اپنا آپ دیکھتےھوۓ اس نے حسن کی طرف سے آنے والا میسیج پڑھا اور اپنی آنکھیں سکوڑی تھیں
کیا ھوا؟؟
ایسے کیوں شکلیں بنا رھی ھو؟
اس نے جواب دینے کی بجاۓ موباٸل سکرین اس کے سامنے کی۔۔۔جس کو پڑھتے ھوۓ وہ بے ساختہ قہقہہ لگا گٸی
”کچھ بھی کر لو۔۔۔۔لگنا تم نے بل بتوڑی ھی ھے۔۔۔۔تیار تو یوں ھو رھی ھو جیسے تمھاری ھی تو مہندی ھے“
اس بندے کو نہ تمیز آۓ گی بات کرنے کی کبھی۔۔۔۔وہ چڑ کر بولی تو سندس نے اسکو پچکارا کہ چلو اب موڈ نہ خراب کرو
”ھو سکتا ھے میری مہندی ھونے کا سامان ھو جاۓ۔۔۔۔مجھے اسی فنکشن میں میرا دولہا مل جاۓ“
اسے جواب سینڈ کر کے وہ دورازے کی طرف متوجہ ھوٸی
تب ھی سندس کی امی روم میں چلی آٸیں ساتھ اسکی تاٸی اور پھوپھی بھی تھیں
سندس کچے پیلے رنگ میں لہنگا چولی جس پر سلور آٶٹ لاٸن تھی اور بالوں کی چٹیا کر کے اسکو آگے ایک طرف ڈالا ھوا تھا
میک اپ سے عاری چہرہ ھونے کے باوجود وہ بے حد پیاری لگ رھی تھی
سعدیہ نے اسے اپنے ساتھ لپٹایا تاٸی امی اور پھپھو بھی اسکو باری باری گلے لگا کر پیار کرنے لگیں تو ماحول کچھ ایموشنل سا بن گیا تھا
اممم ھمممم۔۔۔۔۔آنٹی رونا نہیں ھے۔۔۔دیکھیں وہ بھی اسی تیاری میں ھے اب
سعدیہ کے گرد بازو پھیلاتی وہ انھیں تسلی دینے لگی تو تاٸی نے سندس کو اپنے پاس بٹھایا تھا
اللہ صدا خوش رکھے۔۔۔۔اسکا ماتھا چومتے ھوۓ پھوپھی بولیں تو س کے دل سے آمین نکلا
تب ھی لڑکیوں کا جمِ غفیر امڈ آیا
بھانت بھانت کی بولیاں اور ایک دوسرے پر ٹونٹ کہ تم ایسی لگ رھی تم ویسی ۔۔۔
ثانیہ کو اپنا آپ بے حد چغد محسوس ھوا جو ڈھنگ سے تیار تو کیا ھوتی۔۔۔ اس کے تو بال بھی کھلے ھوۓ اسکی توجہ کے طلبگار تھے
سندس نے اسے دیکھتے ھوۓ اپنی ایک کزن کو بلایا اور ثانیہ کا ہیٸر سٹاٸل بنانے کو کہا
نہیں میں نے کوٸی ہیٸر سٹاٸل نہیں بنانا بس ایسے ھی ٹھیک ھیں بال میرے
اسکی بات پر سب کی ستاٸشی نظریں اس کے بالوں کو تکتے لگیں
آپ ایسے ھی بے حد حسین لگ رھی ھیں ثانیہ آپی۔۔۔عنبر نے اسکا گال چوم کر کہا تو وہ شرم سے سرخ پڑ گٸی
چلو اب سندس کو باھر لے کر آ جاٶ۔۔۔۔ساڑھے نو ھو چکے ھیں تمھارے تایا ابو غصہ ھونگے پھر
تاٸی نے عنبر سے کہا تو وہ ہاں کہتی ھوٸی الماری سے سرخ گوٹا کناری والا دوپٹا لے آٸی
تب تک سندس کی تایا زاد نے اسکے چہرے پر نیٹ کے یلو دوپٹے کا گھونگھٹ ڈال کر پنز سے سیٹ کر دیا تھا
اففف۔۔۔۔صاف چھپتے بھی نہیں سامنے آتے بھی
نہیں۔۔۔۔۔
مونا نے اسکو لپٹا کر کہا تو بے اختیار وہ سندس کی سادگی میں خوبصورتی کی قاٸل ھوٸی تھی
سرخ دوپٹہ جو کہ سندس پر تان دیا گیا تھا اسکا ایک کونہ فرنٹ سے پکڑے وہ سب کے ساتھ دھیمے دھیمے چلتی ھوٸی باھر کی طرف جانے لگی
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
سٹیج کے ایکطرف رکھے ھوۓ ساٶنڈ سسٹم کے پاس تین چار لڑکوں کیساتھ کھڑا وہ اسکامیسیج پڑھ کر کھول اٹھا تھا
بھویں غصے سے تنی تھیں تو نتھنے بھی پھول گٸے تھے
کیا ھوا حسن بھاٸی؟؟
ہاں۔۔۔۔نہیں۔۔۔کچھ بھی نہیں
کاشان کے پوچھنے پر وہ زبردستی مسکراتا ھوا بولا
تب ھی دلہن آگٸی کے شور پر وہ بھی اس طرف متوجہ ھوا جہاں سے دلہن کی سواری بادِبہاری تشریف لا رھی تھی
دلہن کی طرف تو وہ کیا دیکھتا۔۔۔اسکی نگاھیں ثانیہ کے سراپے پر اٹک گٸ تھیں
فیروزی اور یلو کنٹراسٹ میں لہنگا کٌرتی پہنے جس پر گوٹے اور شیشے کا کام کیا ھوا تھا بڑے بڑے شیشوں والے جھمکوں کے ساتھ بلکل سٹریٹ کھلے بال جو ہلکی ھوا کی وجہ سے اس کے چہرے پر آ رھے تھے
بار بار اسے ایک ہاتھ سے ہٹاتی ھوٸی خاصے نروس سے تاثرات لیے وہ اسے دل کے بے حد قریب لگی
اسے خود پر کسی کی نظروں کی تپش کا احساس ھوا تو مزید بدحواس ھوتی وہ یہاں وہاں دیکھنے لگی تب تک سٹیج پر پہنچ کر دلہن کو بٹھایا جا چکا تھا
اسکے دل میں شدید خواہش ابھری کے اسکا یہ انوکھا سا روپ قریب سے دیکھے خود پر بند نہ باندھتے ھوۓ وہ اسکی طرف بڑھا
تیزی سے سٹیج سے اتر کر وہ لان میں لکھی کرسیوں ک جانب بڑھی جب وہ اسکی راہ میں حاٸل ھوا
اففف۔۔۔۔۔۔دھیان سے نہیں آ سکتے۔۔۔ابھی زوردار ٹکر ھوجاتی ھماری
ثانیہ نے گھور کر کہا مگر وہ آنکھوں کے راستے اسکا یہ حسن دل میں اتارنے میں محو تھا
او ہیلو۔۔۔۔۔۔۔سویا محل۔۔۔۔۔
اسکے چہرے کے آگے ہاتھ لہراتے وہ بولی تو حسن جیسے کسی خواب سے جاگا تھا
ھممم کیا ھے؟؟؟غاٸب دماغی سے وہ بولا تو اس نے حیرت سے اسے دیکھا تھا
اچھا بتاٶ میں اوور تو نہیں لگ رھی ناں؟؟مطلب ٹھیک لگ رھی ھوں ان سب کے آگے بری تو نہیں لگ رھی یہ بتاٶ
سر جھٹک کر اس کے پوچھنے پر وہ محض اسے گھور کر رھ گیا
اوھو۔۔۔اب مشی تو ھے نہیں جو اس سے پوچھونگی میں۔۔۔ تو تم ھی بتا دوناں
لجاجت سے اس نے کہا تو وہ ایک نظر وہاں ایک ایک پاٶ میک اپ تھوپے چہروں پر ڈال کرمسکرا دیا
اب ظاہر سے انھوں نے اتن محنت کی ھے تو اچھی خاصی حوریں لگ رھی ھیں سب ھی
تمھیں تو ویسے ھی تمیز نہیں ھے کہ اس طرح کے فنکشنز میں کیسے تیار ھوتے ھیں تو بس گزارے لاٸق ھی لگ رھی ھو افسوس تمھیں یہاں کوٸی نظر بھر کے دیکھنے والا نہیں ملے گا کسی دولہا کے ملنے کی امید پر تو فاتحہ ھی پڑھ لو تو بہتر ھے
بات کرتے کرتے وہ اپنے جلے دل کی بھڑاس بھی اس پر نکال گیا تھا جو ثانیہ نے میسیج کر کے اسے تپ چڑھاٸی تھی
اس کے یہ فرمودات اورکمینی سی پیشین گوٸی پر وہ آگ بگولہ ھوتی اسے پھاڑ کھانے والے انداز میں دیکھنے لگی
یوں کرتے اسکی آنکھوں کی پتلیاں ساٸز میں پھیلی تھیں حسن کو لگا لڑکی سب سے زیاد حسین غصے میں ھی لگتی ھے
اچھا اب یوں شکل بنا کے ڈراٶ مت۔۔۔۔۔ٹھیک لگ رھی ھو
مسکراہٹ چھپاتے ھوۓ وہ بولا تو ثانیہ نے” ہونہہ“ کہہ کر سر جھٹکا تھا
تب ھی سب نے ھی بھنگڑا ڈالنے کا شور مچا دیا۔۔۔سٹیج پر سندس کیساتھ کچھ بزرگ خواتین بیٹھ چکی تھیں
چونکہ ابھی لڑکے واکے مہندی لیکر نہیں پہنچے تھے سو ٹاٸم گزارنے کو تمام لڑکے لڑکیاں داٸرہ بناۓ بھنگڑا ڈالنے کو تیار کھڑے تھے
وہ اور حسن ایک ٹیبل کے گرد رکھی چیٸرز پر بیٹھ گٸے
کسی انڈین سانگ کے بجتے ھی سب کے پیروں کو گویا پہیے لگے تھے بھنگڑا کیا تھا ایک طوفانِ بدتمیزی تھا سب کی الگ ھی کِل تھی کہ کوٸی گول گھوم رہا تھا کوٸی ٹھمکے لگا کر کمر پر ظلم ڈھا رھی تھی
قہقہے کی آواز پر حسن نے اسکی طرف دیکھا تو مبہوت ھوا
تب ھی ان کے کرتب پر بے تحاشا ہنستے ھوۓ اس نے حسن کے بازو پر ہاتھ رکھ کر سندس کے ایک کزن کی طرف متوجہ کرنا چاھا جو ڈانس کرتے ھوۓ بے حد مضحکہ خیز لگ رھا تھا
کھلے ھوۓ بے حد سلکی بالوں کیساتھ براۓ نام میک اپ میں وہ لِٹریلی کوٸی اپسرا لگی
سینے پر ہاتھ رکھے ھوۓ ہنسی روکتے روکتے بھی قہقہہ لگاتے ھوۓ وہاں اس کو ذرا بھی اندازہ نہ تھا کہ وہ حسن کے علاوہ کسی اور کی نگاہ میں بھی آچکی ھے
تب ھی اس نے مونا کو ان کے ٹیبل کی طرف آتے دیکھا ہنسی کے ساتھ ساتھ مسکراٹ بھی چہرے سے جدا ھوٸی تھی
پلیز آٸیے ناں حسن ھمارا ساتھ دیجیۓ۔۔۔۔حسن کیطرف جھک کر ایک ادا سے کہتے ھوۓ وہ ثانیہ کو آگ ھی تو لگا گٸی تھی
نہیں نہیں۔۔حسن کو کہاں شوق ھے ایسے بھنگڑے ونگڑے کا۔۔۔یو کیری آن
بمشکل ھونٹوں کو پھیلاتےاس نے مسکراہٹ بناٸی اور مونا سے کہا تو جہاں مونا کے چہرے پر ناگواری کے تاثرات آۓ تھے وہیں حسن نے اپنا ایک ابرو اچکایا اوراس سے اشارے میں پوچھا
آہاں ۔۔۔۔سیریسلی؟؟؟
تو جواباً اس نے دانت پیسے
نہیں۔۔۔۔۔شوق نہیں ھے توکیا ھوا۔۔۔۔میرےساتھ بھنگڑا ڈالیں گے ناں تو شوق بھی ھونے لگے گا
مونا اپنی سپیشیلٹی” ڈھیٹ پن“ کے جوھر دکھاتے نہ صرف بولی تھی بلکہ حسن کا ہاتھ پکڑ کر اسےاٹھاتے ھوۓ لے جانے پر بضد ھوٸی
حیرت سے منہ کھولے وہ حسن کا ہاتھ مونا کےہاتھ میں دیکھنے لگی
وہ بھی اس افتاد کے لیے تیار نہ تھا مونا کے ہاتھ سے اہناہاتھ نکالنے ھی والا تھا جب ثانیہ کا لال بھبھوکا ھوتا چہرہ دیکھ کر اس نے اپنی ہنسی ضبط کی اور مونا کیساتھ چل دیا
یہ منظر دیکھ کر ثانیہ کی آنکھوں میں مرچیں بھر گٸیں تھیں۔۔۔۔مونا اس کے گرد گول گول گھومتے ھوۓ جانے کونسا چلہ کاٹنے لگی جبکہ حسن کے دھیان کے سبھی دھاگے ثانیہ کی طرف متوجہ تھے
وہ جو کب سے اس لڑکی کے آس پاس منڈلا رھا تھا جیسے ھی اس کا باڈی گارڈ (حسن)وہاں سے ہٹا۔۔۔۔تو جھٹ سے اس کے برابر والی کرسی پر براجمان ھوا تھا
ثانیہ نے چونک کر اسکی جانب دیکھا تو وہ جذبہ خیر سگالی کے تحت مسکرا دیا
جی آپ کون؟؟
خاکسار کو ولید کہتے ھیں
خاکسار کون؟؟؟مں نے آپکا پوچھا ھے کہ آپ کون ھیں موصوف۔۔۔۔
منہ بناتے ھوۓ وہ اس پر حسن کا غصہ انڈیلتی بولی تو ولید کا قہقہہ گونجا تھا
خاکسار اور ولید دونوں میں ھی ھوں موصوفہ
اسکی طرف جھک کر وہ بولا تو بے ساختہ ثانیہ پیچھے ھوٸی تب ھی دندناتے ھوۓ حسن وہاں پہنچا تھا…

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: