Mere Zakhmo Ki Dua Novel by Hashmi Hashmi – Episode 3

0
میرے زخموں کی دعا از ہاشمی ہاشمی – قسط نمبر 3

–**–**–

ایمان اب گڑیا کے روم میں آئ گڑیا. جو کہ سوی تھی گڑیا اب ایمان نے گڑیا کو پکارا ایمان تم کیا ھوا
گڑیا یار سوری تم اتنے دن سے بات کرنے کی کوشسش کررہی ہو اور میں تم سے بات تک نہیں کرتی بس پریشان تھی
کوئی بات نہیں چندا
کیا چندا ایمان کو پھر سے غضہ ایا
گڑیا نے ایمان کو دیکھا جو غضہ میں تھی کیا ھوا
ایمان نے اب اپنی اور شاہ کی بات اس کو باتئی گڑیا نے اس کی بات سن کر قہقہا لگایا ایمان بھائ نے تمھارے نام اچھا رکہا ھے چندا میرا نام ایمان ھے اب ایمان نے کہا اچھا سوری ایمان گڑیا نے کہا گڑیا کیا میں تمھارے ساتھ سو جائے ہاں اجاو
ایمان تیار ہو کر نیچے آئ سب کو اسلام کیا نانو طبیت کسی ھے ایمان نے پیار سے کہا ٹھیک میری جان تم سنو نانو نے. جواب دیا
میں اب ٹھیک ہو آج آپ کے روم میں آوگئ ایمان نے پیار سے نانو کو کہا اہمم
چلو اب دیر ہو رہئ ھے شاہ نے کہا اور باہر ایا ایمان اور گڑیا بھی باہر آئ مسٹر شاہ مجھے. آپ سے بات. کرنی ھے ایمان نے کہا
ھاں بولو چندا
پہلی بات میرا نام ایمان ھے دوسری بات ہم خود جاے گئے وعدہ کرتی ہو کار آھستہ چلاو گی
شاہ اس کی. بات سن کر مسکرایا اور اس کے پاس ایا ٹھیک ھے لیکن دیھان سے اور چندا والی بات کا جواب اکر دوگا ایمان کہ گل پر پیار کیا اور اپنے آفس کے لیے نکالا ایمان کو اس کی حرکت پر غضہ ایا ایمان نے گڑیا کو دیکھ جو مسکراتے ہو ایمان کو دیکھی رہی تھی تمھارا بھائ ایک نمبر کا بے شرم انسان ہے ایمان نے گڑیا کو کہا اس کہ پھلے گڑیا کچھ کہتی اس باراے میں ہم بات نہیں کر گئے اوکے ایمان نے اس کی بات کاٹی اوکے ایمان گڑیا نے کہا
وہ یونی سے ابھی گھر آئ تھی وہ اور گڑیا لان میں تھی کہ شاہ کی کار اندر اتی دیکھی دی اسلام و لیکم شاہ نے کہا دونوں نے ایک ساتھ جواب دیا کیسی ہو چندا شاہ نے ایمان کو مخاطب کیا میرا نام ایمان ھے چندا نہیں اوکے ایمان نے کہا اور اندر چلی گئ سنو چندا سنو چندا. شاہ نے کہا شاہ کی آواز پر ایمان نے غضہ سے شاہ کو گھورا میں تو گانا گارہا تھا میں آپ کی شکایت نانو کو کرتی ھو ایمان نے شاہ کو کہا ایمان کہ جانے کے بعد
بھائ کیوں تنگ کر رہےہے ایمان کو. گڑیا نے کہا
یارررررر غضہ میں بہت پیاری لگتی ہے
اچھا گڑیا نے نے اچھا کو کیھچ
ایمان جو غضہ میں نانو کہ پاس آئ نانو مجھ آپ سے بات کرنی ھے بولو چندا نانو آپ بھی یہ سب مسٹر شاہ کی وجہ سے ھوا ھے نانو میں بیاتئں رہی ہو میں شاہ کو چھورو گئ نہیں
شاہ جو اس کی بات سن چکا تھا. میں نے کب کہا مجھ چھورو شاہ نے کہا
ایمان کو اس کی بات پر غضہ ایا شاہ چپ نانو نے شاہ کو کہا تم بولو چندا
نانو میرا نام ایمان ھے چندا نہیں اور اب آپ سے بات نہیں کرتی ایمان نے کہا اور کمرے میں آئ
شاہ یہ سب کیا تھا نانو نے اب شاہ سے پوچھا شاہ نے ان کو ساری بات بتائ دادو میں تو چندا ھی کہوں گا
دادو اس کی بات پر مسکری اچھا اب جاو اس کو مناو
جی دادو شاہ نے کہا اور ایمان کہ روم میں ایا
ایمان جو روم میں آئ تھی فریش ہونے گئ باہر آئ تو شاہ کو روم میں دیکھا آپ
جی میں کیا ہم روستی نہیں کر سکتے شاہ نے کہا
ایمان کو اس بات کی امید نہیں تھی جی لیکن ایک شرط پر آپ مجھ کو. چندا نہیں کہوں گئے
اوکے. فریٹز شاہ نے. ہاتھ آگے کیا
اوکے لیکن میں لڑکوں سے ہاتھ نہیں ملاتی
لیکن میں تو شوہر ہوں تمھارے
لیکن اس سے پہلے ایمان کچھ اور کہتی شاہ نے اس کا ہاتھ تھام لیا
لیکن کیا شرم اتی ہے شاہ نے شرایت سے کہا
شاہ
ایمان کو اب غضہ ایا تھا
جی چندا دیکھ ایمان میں تم کو چندا ھی کہوں گا تم سب کی ایمان ہو اور میری چندا ہو شاہ نے کہا کمرے سے باہر ایا
ایمان شاہ کو کچھ کہنا چاہتی تھی لیکن کچھ کہ نہ سکی
ایک ماہ بعد
اس ایک ماہ میں شاہ نے پوری کوشسش کی کہ ایمان کو خوش رکھے
ایمان جو کہ اپنی زندگی میں اب خوش تھی اس نے اس رشتہ کو اب قبول کر لیا تھا لیکن اب بھی ماضی کے زخموں کی دوا اس کے پاس نہیں تھی وہ زخم جو اپنوں کہ دئے تھے
آج صبح سے ایمان کہ سر میں درد تھا ایمان یار آج یونی سے آف لیلو گڑیا نے کہا نہیں یار کچھ نہیں ھوتا چلو اب یونی چلو دیر ھورہی ہے
وہ اور گڑیا آج یونی سے جلدی واپس ائ ایمان سر درد کیسا ھے مامی نے پوچھا
مامی اب بھی ہورہا ہیں اچھا چلو آرام کر لو کچھ دیر جی
ایمان اپنے کمرے میں آئ اس وقت اس کے فون میں عمر کی کال آئ فون دیکھ کر ماضی میں کھو گئ
ایمان کھانا کھالو گڑیا کی آواز پر حال میں واپس ائ گڑیا جو کھانے کا کہنے کا اس کے پاس آئ
گڑیا مجھ کو بھوک نہیں ہے ایمان نے کہا گڑیا مجھے پارک جانا ہے
چلو چلتے ہیں لیکن اس وقت
ہاں یار میں اکیلی جانا چاہتی ہوں کچھ وقت اکیلی رہنا چاہتی ہوں شاہد سر کا درد صیح ہوجائے
ایمان گھر پر عمر کی کال attend نہیں کرنا چاہتی تھی اس لیے بہانا بنیا اوکے
ایمان پارک میں اکر عمر کو کال کی پارک جو گھر سے کچھ فاصلے پر تھا وہ اور گڑیا اکثر یہاں آتے رہے تھے
اسلام و علیکم ایمان عمر نے کہا
جی آپ نے کیوں فون کیا تھا
ایمان تم سے مل کر معافی ماگنا چاہتا ھوں بس ایک بار مل لو پلیز ایمان
نہیں یہ مکمن نہیں ہے اب
ایمان میں تمھارا دوست عمر ہو آج بھی
لیکن میں اب وہ ایمان نہیں ہوں مار دیا آپ نے اس ایمان کو عمر بھائ مار دیا
ایمان نے کہ کر فون بند کیا اور رونے لگئ
تم بس میری ایمان ہوں نہ ھی علی کی اور نہ ھی اپنے باپ کی عمر کی ایمان اب عمر مسکرایا
گڑیا جو اب پریشان تھی ایمان اب تک گھر نہیں آئ شام سے رات ھونے والی تھی
شاہ جو ابھی گھر ایا تھا گڑیا کو پریشان دیکھا گڑیا بیٹا کیا ھوا سب ٹھیک ھے
نہیں بھائ ایمان پارک کا کہ کر گئ تھی ابھی تک گھر نہیں آئ
شاہ کو اب ایمان کی حرکت پر غصہ ایا تھا اچھا پریشان نہیں ہو میں دیکھاتا ہو
گڑیا نے شاہ کو غصہ میں دیکھ کر کہا بھائ ایمان کی طعیبت ٹھیک نہیں ہے اچھا
ایمان کو ہوش نہیں رہا وہ کہاں ہیں لیکن اب پارک خالی دیکھ کر ڈدر لگ رہا تھا اتنی ہمیت نہیں تھی کہ گھر جائے اب اپنے آپ پر غصہ ارہا تھا کہ کیا ضرورت تھی یہاں انے کی
شاہ نے پارک میں دیکھا تو ایمان بیٹھی ہوی تھی شاہ اس کے پاس ایا
ایمان تم کو پتا ہے کہ سب پریشان ہے اور تم یہاں ہو
شاہ اس سے پہلے کچھ اور کہتا ایمان بھاگ کر شاہ کے پاس آئ
شاہ جم۔ مجھ کو ڈدر لگ رہا ہے مجھے گھر جانا ھے اور اب خوف سے کاپبا رہی تھی شاہ اس کی حالت کو دیکھ کر پریشان ہوا اور ٹھورا نرمی سے کہا
چندا کیا ھوا
مجھ ڈدر لگ رہا ہے گھر جانا ھے
شاہ نے ایمان کو اپنے حسارا میں لیا چلو
شاہ اور ایمان گھر ائے ایمان کیا ھوا گڑیا نے پوچھا کچھ نہیں بس طعبیت ٹھیک نہیں ہے شاہ نے جواب دیا
شاہ ایمان کو کمرے میں لایا ایمان آرام کرو شاہ نے کہا اور کمرے سے جانے لگا شاہ ایم سوری آج کہ بعد اکیلی نہیں جاوں گئ سوری
شاہ نے اس کی بات کو سن کر نہیں سنی اور اپنے کمرے میں ایا
شاہ کو ایمان کی حرکت پر غصہ ایا تھا اگر وہ دیر کر دیتا تو اگے وہ سوچنا بھی نہیں چاہتا تھا
گڑیا اب ایمان کمرے کہ میں آئ ایمان کیا ھوا تھا
گڑیا شاہ مجھ سے ناراض ہو گئے ہے
تم کو کس نے کہا تھا کہ اکیلی جاو
اچھا یار ھوگئ غلطی اب معاف کر دو
اچھا یار فکر نہیں کرو بھائ اپنی چندا سے ذردیا دیر ناراض نہیں ھوسکتے
لیکن آج شاہ نے مجھے ایمان کہا نہ کہ چندا
اھممم یعنی تم اس رشتہ کو قبول کر لیا ہے
ہاں نہیں میرا مطلب مجھے نہیں پتا
سوچ لو گڑیا نے کہا اور روم سے باہر آئ ایمان سوچنے لگئ
رات کے وقت گڑیا ایمان کے کمرے میں آئ ایمان جو سونے کی کوشسش کر رہی تھی
ایمان. اٹھا کر کچن میں چلو
کیوں چلو بتاتی ہو اچھا وہ اور ایمان کچن میں ائ ایمان بھائ. کے لیے چاے بنو بھائ ابھی میرے روم میں ائے تھے اور چاے کا کہا
شاہ نے تم کو کہا میں کیوں بنانو
یا خدا اس لڑکی کو عقل دے تم کو شاہ بھائ سے معافی ماگنی ہے کہ نہیں
ایمان. نے ہاں میں سر کو ہلایا
چلو پھر چاے بنوں اور اچھا سے سوری کہنا
لیکن اس وقت شاہ کہ کمرے میں جانا ٹھیک نہیں ہے
یار بھائ شوہر ھے تمھارا کوئی غیر نہیں ہے
چلو اب سوچو نہیں جلدی کرو گڑیا مجھے ڈدر لگ رہا ہے ایمان نے کہا
کچھ نہیں ہو گا گڑیا نے اس کو تسلی دی ایمان اب شاہ کہ روم کے باہر تھی اندر جاو کہ نہیں ایمان نے سوچا ایمان شوہر ھے تمھارا یار کچھ نہیں ھوتا ایمان نے خود کو تسلی دی
درواذ پر نوک کیا
شاہ جو کہ لیب ٹاپ پر کام کر رہا تھا اجاو شاہ نے کہا
ایمان اب اندر آئ چاے ایمان نے کہا
شاہ ایمان کو دیکھ کر حیرن ھوا رکھ دو اور اپنے کام میں مصاروف ھوگئے
شاہ مجھ آپ سے. بات کرنی ہے سوری ائید نہیں جاو گئ اکیلی ایمان چپ ھو کر شاہ کو دیکھنے لگئ شاہ جو کہ اس سے ناراض تھا اس کی بات سن کر انجان بن جیسا کہ سنی نہیں ہو
ایمان پھر بولی شاہ اچھا نہ سوری شاہ اب بھی کام میں مصاروف تھا
ایمان کو اب غضہ ارہا تھا وہ شاہ کہ پاس آئ. وہ لیب ٹاپ کو بند کیا میں آپ سے بات کر رہی ہوں اور نظر اندر کر رہے ہو میں آپ کے لیے چاے بن کر لیئ ہوں اور سوری نا اب ناراضی ختم کرو نہ
شاہ کو ایمان کی حرکت پر غصہ ایا تھا لیکن اس انتے پیار سے بات کر نے پر اس پر پیار ایا
ایمان کو شاہ نے خود پر گرایا ایمان اس حملہ کہ لیے تیار نہیں تھی شاہ آپ کیا کر رہے ہو
چندا علظی کی ھے تو سزا ملے گئ ایک جو صبح کی اور دوسرئ اس وقت میرے روم میں اکر شاہ نے کہا اور اس کہ لبو کو قید کیا اور اپنا حق اسعتمال کیا
کمرے میں کچھ وقت کی خاموشی ھوئ شاہ نے اس کو آزدا کیا ایمان اپنی سانس کو درست کرتی شاہ کو غصہ سے دیکھتی شاہ اس کو غصہ میں دیکھ کر مسکرایا چندا میری. کوئی علظی نہیں ہے تم خود آئ میرے روم میں اور اتنی پیاری لگ رہی ہوں
ایمان کو اس کی بات پر اور غصہ ایا آپ ایک نمبر کہ بےشرم بدتیمز انسان ہے ایمان نے کہا اور کمرے سے باہر آئ اس کی بات سن کر شاہ نے قہقہا لگایا
❤❤❤❤❤❤❤❤❤❤❤❤❤❤❤❤❤❤❤❤❤❤❤❤❤❤❤❤
ایمان اپنے کمرے میں آئ جہاں گڑیا اس کا انتظارا کر رہی تھی ایمان بھائ نے معاف کر دی یا تمہارا بھائ ایک نمبر کا بےشرم انسان ہے ایمان نے غضہ سے کہا
کیوں کیا ھوا ھے ایمان نے گڑیا کو ساری بات بتائ گڑیا نے سن کر اوووو کہا ایمان نے اب غضہ سے گڑیا کو دیکھا گڑیا یہ سب تمہاری وجہ سے ہوا یار مجھے. کیا پتا کہ بھائ تم سے اتنی محبت کرتے ہیں گڑیا جو ہونا تھا ھو گئے اب ہم اس بارے میں بات نہیں کر گئے اوکے گڑیا اب چپ ہو کر اپنے کمرے میں جانے لگئ ایمان یار میری زندگی میں اتنا پیار کرنے والے انسان کب ائے گا گڑیا نے شرارت سے کہا اور بھاگ گئ دونوں بہن بھائ بےشرم ہے ایمان نے کہا اور ایک نظر آنیئہ میں خود ہی کو دیکھا اور ایک نظر علی کی فوٹو کو دیکھا گہرا سانس لیا
آج بھی خیال تیرا سونے نہیں دیتا
آج بھی مجھے کسی کا ھونے نہیں دیتا
آنکھیں میں سمندر بھکر دیکھ تیری فوٹو کو
تیرا ہستا چہرا مجھے رونے نہیں دیتا
ایمان صبح تیار ہو کر نیچے آئ تو سب کو اسلام کیا شاہ جو اس کو دیکھا رہا تھا ایمان نے اس کو نظر اندرذ کیا گڑیا چلو. بیٹا ناشتہ تو کر جاو نانو سوری بھوک نہیں ہے یونی میں کچھ کھالو گئ ایمان چلو اچھا بچوں کی طرح ناشتہ کرو شاہ نے کہا شاہ کی بات پر ایمان نے اس کو گھورا مجھے نہیں کرنا اور آپ زبردستی نہیں کر سکتے ایمان گھر سے باہر نہیں جاوں گئ جب تک ناشتہ نہیں کرتی اچھا نانو دیکھا آپ نے ہمیشہ اس طرح کرتے ہیں ایمان نے شاہ کو دیکھا اور نانو کو کہا سب لوگ ان دونوں کو دیکھ رہے تھے ایمان شاہ صیح کہتا ھے چلو ناشتہ کرو اب نانو بولی ایمان نے برا منہ بنایا جی نانو
شاہ کے ہونٹوں پر مسکراہٹ آئ ایمان کے پاس اکر سرگوشی کی چندا میری بات مان لیا کرو ایک بار میں ھی اس کی بات گڑیا نے بھی سن لی اور قہقہا لگایا سب لوگ نے اب گڑیا کی طرف دیکھا اور ایمان نے گڑیا کو پاوں مارا تو گڑیا چپ ہوئ وہ ماما مجھے جوک یاد اگئے تھا گڑیا نے کہا شاہ اس کی بات پر مسکرایا دونوں پاگل ہے شاہ نے سوچا اوکے میں چلاتا ھوں دادو شاہ نے کہا اور باہر ایا شاہ کے پیچھے ایمان. بھی باہر آئ مسٹر شاہ آپ نے اچھا نہیں کیا ایمان نے کہا شاہ ایمان کی بات پر مسکرایا اور اس کو نظراندرذ کرتا چلا گئے شاہ کو جاتا دیکھ کر ایمان نے منہ بنایا ایمان کیا ھوا گڑیا جو ابھی باہر آئ تھی گڑیا میری جان تمہارے اندر دانت کیوں نیکل رہے تھے وہ میں سوچ رہی تھی تم کتنی اچھی بیوی ہو جو بھائ کی ہر بات مانتی ھے گڑیا تمہارے بھائ کو اب بتاو گئ کہ ایمان کون ھے
اوووو اب مزہ آے گا ایمان میں تمہارے ساتھ ھو گڑیا نے کہا لیکن تم کیا کرنے والی ھو
ایمان نے اس کو اپنا پلین بتایا اس کی بات سن کر گڑیا مسکرائ لیکن ایمان بھائ غضہ کرے گئے تم جانتی نہیں ہو تم شیر ہو تو بھائ سوا شیر
میں شیر نہیں ہو شیرنی ہوں ایمان نے اس کا جملہ ٹھیک کیا اور شاہ جانتا نہیں ھے ایمان سے زبردستی کا نتجہ ایمان نے مغررور اندز میں کہا
ایمان اپنے کمرے میں تھی کہ گڑیا اس کہ کمرے میں آئ ایمان بھائ اگئے ھے گڑیا نے کہا اچھا ایمان کہ ہونٹوں پر شیطانی مسکراہٹ آئ ایمان اب شاہ کہ روم میں آئ شاہ جو فریش ھونے گئے تھا ایمان نے جلدی سے شاہ کی کار کی چابی اور فون لیا اور روم سے باہر آئ گڑیا کو کام ھونے کا اشارہ کیا دونوں اب پورچ میں تھی ایمان یار ایک بار پھر سوچ لو گڑیا نے دڈرتے ھوے کہا یار کچھ نہیں ھوتا دونوں اب کار میں تھی ایمان نے کار چلای اتنی تیز کہ کار میں سے دھوا نکالگئے اب گاڑھی گھر لاکر اپنے کمرے میں آئ
شاہ جو فریش ہو کر. باہر ایا تیار ہوا اور ٹیبل پر اپنا فون اور کار کی چابی کو غائب دیکھ کر پریشان. ہوا.
ماما ماما شاہ نے آسیہ بیگم کو آواز دی
کیا ہوا شاہ آسیہ بیگم نے کہا ماما میرے روم میں کوئی ایا تھا کیا نہیں کوئی نہیں ایا ھوا کیا ہے شاہ وہ شاہ کو پریشان دیکھا کر بولی ماما میرا فون اور کار کی چابی روم میں نہیں ہے یہ کیسے ہو سکتا ھے شاہ کی ماما نے کہا میں دیکھتی ہو ماما میں نے دیکھا ہے کہی نہیں ہے شاہ اب اور بھی پریشان ھوا شاہ کو شروع سے ھی اپنی چیزیں سے بہت محبت تھی باہر شور کی آواز سن کر گڑیا اور ایمان باھر آئ کیا ھوا ماما گڑیا نے انجان بنتے ھوے کہا آسیہ بیگم نے ان کو ساری بات بتائ شاہ کو پریشان دیکھ کر ایمان مسکرائ شاہ نے اب ایمان کو دیکھا جو مسکرا رہی تھی شاہ کو ایک منٹ میں بات سمجھے میں اگئ تھی اللہ خیر شاہ نے سوچا
ایمان چپ ہو کر اپنے کمرے میں آئ
ماما آپ جاو میں جانتا ھو اب کیا کرنا ھے کیا مطلب شاہ آسیہ بیگم نے پوچھا کچھ نہیں آپ جاو شاہ نے کہا اور ایمان کے روم میں ایا
چندا میری چیزیں. کہاں ھے شاہ نے پیار سے پوچھا
ایمان کو اس کی بات پر ہسی آئ مجھے کیا پتا ایمان نے جواب دیا
چندا میری پیاری سی بیوی مجھے بتاو نہ میرا فون کہاں ھے
شاہ پہلی بات میں آپ کی بیوی نہیں ہو مکوحہ ہو اور دوسرئ بات مجھے کیا پتا
شاہ کو اس کی بات پر اس پر پیار ایا اور اب وہ شرارت کے موڈ میں تھا لیکن اگر وہ کچھ کرتا تو ایمان اس کی چیزیں کبھی واپس نہیں کرتی اس لیے وہ خود پر کنٹرول کرتا
ایمان میری چیزیں. واپس کرو شاہ نے مصنوئ غضہ سے کہا
ایمان نے شاہ کو غضہ میں دیکھا اچھا ٹھیک ھے لیکن وعدہ کرو کہ مجھے پر زبردستی نہیں کرو گئے مثلا شاہ نے پوچھا
آپ نے صبح جو کیا اور اس دن زبردستی جوس پیلایا اور اس دن زبردستی رورلایا اور کل رات بھی اس کے بعد ایمان چپ ہو گئ اس کی ہمت نہیں تھی اور کچھ کہتی رات والا واقعی یاد اگئے
شاہ جو غور سے اس کی بات کو سن رہا تھا اس کی اخری بات پر مسکرایا
اوووو ٹھیک ھے لیکن کل رات جو بھی ھوا اس میرا قیصور نہیں تھا تم بس ایمان نے اس کی بات کاٹی ہم اس بارے میں بات نہیں کرے گئے اوکے
اوکے وعدہ اب بتاو میری چیزیں کہاں ھے
آپ. کے روم میں ھے. جاوں ایمان نے کہا.

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: