Mere Zakhmo Ki Dua Novel by Hashmi Hashmi – Episode 9

0
میرے زخموں کی دعا از ہاشمی ہاشمی – قسط نمبر 9

–**–**–

بھائ ایمان نیند میں ایک نام جو اس کے ہونٹوں پر آیا اور اٹھا گئی یااللہ یہ کیسا خواب تھا اس وقت دور کہی فجر کی آزان ہو رہی تھی ایمان اٹھی اور نماز ادا کی اور لان میں آگئی شاہ جو مسجد سے واپس ارہا تھا لان میں ایمان تو دیکھ کر حیران ہوا اور اس کے پاس. ایا کچھ دیر ایمان کو دیکھتا رہا اس کو ایمان پریشان نظر آرہی تھی چندا شاہ نے آواز دی ایمان جو خواب کو سوچ رہی تھی شاہ کی آواز پر چونکی اور جلدی سے پردا کیا کیوں کہ ان کی شادی دو دن بعد تھی شاہ اس کی حرکت پر مسکرایا چندا کیا ہوا پریشان لگ رہی ہو شاہ نے پوچھا کچھ نہیں ہوا ایمان نے سر جھکا کر جواب دیا چندا شاہ نے پر سے کہا ایمان نے گہرا سانس لیا شاہ پھر سے وہ ہی خواب اب پتا نہیں زندگی میں کیا ہونا رہے گیا ہے ایمان نے کہا کچھ نہیں ہوتا چندا میں تمہارے ساتھ ہو شاہ نے کہا اور قریب ہوا ایمان اس کی بات سن رہی شاہ کو اپنے قریب دیکھ کر پریشان ہوئی شاہ پلیز کوئی دیکھ لے گا ایمان نے کہا تو میں اپنی بیوی کے پاس ہی ہو شاہ نے کہا اور بھی پاس ایا ایمان اس کی بات پر سرخ ہو گئی شاہ نانو ایمان نے کہا شاہ نے پیچھے دیکھا تو کوئی نہیں تھا اتنی دیر میں ایمان اندر بھاگ گئ شاہ اس کی حرکت پر بس مسکرایا کوئی بات نہیں آنا تو میرے پاس ہے
ایمان اپنے روم میں ائی منہدی کی فنشن کی بعد ایمان بہت زیادہ ٹھک گئی تھی ان اس ہمت نہیں تھی کہ کچھ اور کرے وہ لیٹ گئی سر میں بھی درد ہو رہا تھا اس کی نظر اپنے مہندی والے ھاتھ پر گئی اور مسکرائ اس ہی وقت گڑیا روم میں آئ ایمان کو مسکراتے دیکھ کر بولی اہم اہم اہم کیوں مسکرایا جارہا ہے گڑیا نے پوچھا کیوں. میں مسکرو نہیں سکتی ایمان نے کہا ایمان میں تمہارے لیے بہت خوش ہو ایمان تمہیں بھائ سے محبت ہو گئی ہے کیا گڑیا نے کہا اس کی بات پر ایمان اداس ہو گئی گڑیا یہ محبت میرے بس کی بات نہیں ہے شاہ اچھا ہے بلکہ بہت اچھا ہے لیکن محبت یہ مجھے سے نہیں ہوگی
گڑیا ماما بلا رہی ہے شاہ نے کہا اور باہر چلا گیا اووووو ایمان لگتا ہے کہ بھائ نے سب سن لیا ہے گڑیا نے پریشان ہو کر کہا ایمان نے اس کو کوئی جواب نہیں دیا اور چپ رہی گڑیا نے گہرا سانس لیا اور چلی گئی سوری شاہ لیکن میں نا چاہے بھی آپ سے محبت کرنے لگئی ہو لیکن کبھی اظہار نہیں کرو گئی ایمان نے سوچ اور لیٹ گئی
شاہ اپنے روم میں ایا ایمان کی بات سوچنے لگا چندا تمہیں کیا لگتا ہے کہ تم کہوں گئی کہ مجھے سے محبت نہیں ہے تو میں مانلوں گیا تمہاری آنکھیں مجھے بتا دیتی ہے کہ تمہارے دل میں کیا ہے اور شاہ مسکرایا
آج بارات تھی ایمان کو گھر میں ہی پالر والی تیار کرنے ائی تھی وہ ایمان کو تیار کر رہی کہ ایمان کی آنکھیں میں سے مسلسلہ انسو ارہے تھے پالر والی لڑکی تنگ اکر بولی مس ایمان پلیز رورے نہیں آپ کا مک اپ خراب ہو ارہا ہے ایمان نے اس کی بات پر اس کو گھورا میں رور نہیں رہی میری آنکھیں میں کچھ چلا گیا ہے ایمان نے جواب دیا لیکن پالر والی کچھ کہنے لگئ کہ گڑیا نے اس کی بات کاٹی آپ کچھ دیر کے لیے باہر چلے جائے پلیز اوکے لڑکی نے کہا اور باہر چلی گئی
ایمان کیا ہوا ہے گڑیا نے پوچھا کچھ نہیں یار ایمان نے مصنوئ مسکراہٹ سے کہا اوکے کچھ دیر آرام کر لو پھر وہ تیار کر دے گئی گڑیا نے کہا اور باہر چلی گئی ایمان نے جلدی سے درواذ بند کیا اور رونے لگئ کیوں مجھے سب کی یاد آرہی ہے کیوں کچھ دیر رونے کہ بعد ایمان شسشہ کے پاس آئ ایک نظر خود کو دیکھا اور گہرا سانس لیا شروم میں گئی اور خود ہی تیار ہونے گئی کچھ وقت بعد گڑیا اور پالر والی اندر ائی دونوں ہی حیران ہو گئی ایمان تیار تھی اور بلکل پری لگ رہی تھی ایمان ان کو حیران دیکھ کر مسکرائ اور کہا چلو سب انتظارا کر رہے ہو گئے ایمان تم بہت پیاری لگ رہی ہو آج تو شاہ بھائ گئے گڑیا نے کہا ایمان اس کی بات پر بلش کرے لگئی اہم اہم کوئی شرما رہا ہے گڑیا نے کہا اس کی بات پر ایمان نے گڑیا کو گھورا گڑیا کچھ شرم کرو بھابھی ہو میں تمہاری ایمان نے کہا
آخری کار فنشن ختم ہوا اور ایمان کو شاہ کے روم میں لایا گئے ایمان میری جان ٹھک گئی ہو کیا گڑیا نے کہا ہاں یار میری کمر سیدھی نہیں ہو رہی ایمان نے جواب دیا اچھا ٹھیک ھے تم آرام کرو میں بھائ کو بیجتی ہو گڑیا نے کہا شاہ کا نام سن کر ایمان کو کرنٹ لگا گڑیا نہیں جاو میں اکیلی کیسا ایمان نے دڈرتے ھوے کہا گڑیا نے اس کی بات پر قہقہا لگایا ایمان ریلکس بھائ تمہیں کھا نہیں جاے گیا گڑیا نے ہنستے ہوے کہا گڑیا نہیں کرو مجھے ڈدر لگ رہا ہے ایمان نے کہا یار وہ شوہر ہے تمہارے ویسے بھی آج آپ لوگوں کی شادی کی رات ہے گڑیا نے معنی خیز بات کی ایمان کو اس کی بات پر غصہ ایا گڑیا قتل ہو جاو گئی میرے ھاتھ سے تم اور تم آیک نمبر کی بے شرم ہو ایمان نے. کہا اس کو غصہ میں دیکھ کر گڑیا مسکرائ یار یہ ہے میری ایمان دڈرنے نہیں ہے اب میں چلتی ہوں گڑیا نے کہا ایمان اس کی بات پر مسکرائ گڑیا کہ جانے کے بعد ایمان اپنے ماضی کو یاد کر کے رونے لگئی کتنا ضبظ کیا تھا اس نے آج کے دن ایمان نے سوچا اور غصہ سے ھاتھ سائیڈ ٹیبل پر مارا ٹیبل پر پرا گلاس توڑ گیا اور ایمان کے رونے میں اور شدت آگئی
شاہ جو باہر کچھ کام کر رہا تھا گڑیا اس کے پاس آئ بھائ بس کر دے نہ ایمان انتظارا کر رہی ہے گڑیا نے کہا اچھا میں بس جارہا ہوں شاہ نے کہا بھائ مجھے آپ سے بات کرنی ہے بولو بھائ ایمان اپنے گھر والوں کو مس کر رہی ہے لیکن وہ کبھی نہیں مانے گئی اس بات کو گڑیا نے کہا جانتا ہو شاہ نے گہرا سانس لیتے ہوے کہا شاہ اور گڑیا سے ایمان کی حالت چھپی نہیں تھی چاہے وہ کنتا ہی لوگوں کو بے وقوف بنا لے لیکن شاہ اور گڑیا جانتے تھے کہ ایمان نے کنتا ضبظ کیا ہے
شاہ اپنے روم میں جانے والا ہی تھا کہ آسیہ بیگم نے شاہ کو آواز دی جی ماما شاہ نے کہا شاہ میں پاس او آسیہ بیگم نے اپنے روم میں بلایا
ماما آپ رور رہی ہے شاہ نے پریشان ہو کر کہا ہاں آج میں علی کو یاد کر رہی ہوں آسیہ بیگم نے اپنے آنسو صاف کرتے ہوے کہا ماما تو اس میں رونے والی کیا بات ہے بس علی کے لیے دعا کرے شاہ نے ان کو اپنے ساتھ لگتے ہوے کہا شاہ میں کرتی ہو یہ لو آسیہ بیگم نے ایک خط شاہ کو دیے یہ کیا ہے ماما شاہ نے پوچھا یہ گفٹ ہے تمہارے لیے علی کی طرف سے اس نے اپنی شادی کی رات میرے پاس ایا تھا اور مجھے سے کہا جب شاہ کی شادی ہو جاے گئی شاہ کو دینے آسیہ بیگم نے اداس ہوتے کہا جبکہ شاہ ان کی بات پر پریشان ہوا چلو اب جاو ایمان انتظارا کر رہی ہو گئی آسیہ بیگم نے شاہ کے ماتھے پر پیار کرتے ہوے کہا
شاہ پریشان سا علی کے روم میں ایا جہاں ایمان رہتی تھی اور زمیں پر بیٹھ گیا
اسلام شاہ
میں بہت خوش ہو تم نے میری بات مان لی میں آج جہاں ہو خوش ہو اور جانتا ہو کہ تم اب میری ایمان سے محبت کرنے لگ ہو شاہ جو وعدہ کیا ہے مرتے دم تک نبانا میری ایمان کو بہت خوش رہنا ایمان نے تمہیں اپنے ماضی کے بارے میں بتایا ہو گا لیکن ایک بات میں بھی کہوں گا کہ غلطی عمر کی اتنی تھی کہ وہ ایمان سے محبت کرتا تھا ہوسکہ تو ایمان سے کہنا عمر کو معاف کر دے
علی
شاہ خط پڑھتے ہی رونے لگا کچھ وقت رونے کہ بعد اٹھا اور منہ دھو کر اپنے روم کی طرف ایا
ایمان کچھ دیر روتی رہی کہ اچانک شاہ کا خیال آیا زمیں پر پرے گلاس کو دیکھا اووو یہ کیا کیا میں نے ایمان نے کہا جلدی سے گلاس اٹھاریا لیکن اس کا اپنے ھاتھ زخمی ہوگیا ایمان رشروم گئی اور اپنا ھاتھ دھویا اور باہر ائی لیکن خون اب بھی نکل رہا تھا ایمان شسشہ کے پاس ائی جلدی سے اپنا مک اپ ٹھیک کیا اور صوفہ پر بیٹھ گئی
شاہ روم میں ایا اسلام و علیکم شاہ نے کہا و علیکم اسلام ایمان نے جواب دیا اس آواز میں لزر تھی جو شاہ نے محصوص کی اور مسکرایا
چندا دیکھوں میں کیا لایا ہے شاہ نے کہا ایمان نے دیکھا تو پیزا تھا اووو شاہ مجھے بہت بھوک لگئ تھی ایمان نے کہا جانتا ہو تم نے کچھ نہیں کھایا صبح سے شاہ نے کہا اور اس کو نکلو میں فریش ہو کہ آتا ہے
دونوں نے خاموشی سے پیزا کھایا اور شاہ برتن رکھنے باہر چلا گیا تو ایمان شسشہ کے پاس اکر اپنا دوپٹہ اتارنے کی کوشش کرنے لگئی پھر جیولری اتاری شاہ اس ہی وقت روم میں ایا شاہ کی نظر اس کے گردن کے زخم پر گئی چلتا ہوا وہ ایمان کے پاس ایا ایمان جو کچھ سوچ رہی تھی اس کو پتا ہی نہیں چلا کہ شاہ اس کے اتنا قریب ہے شاہ نے ایمان نے بال ایک سائیڈ پر کیا اور اس کے زخم پر اپنے لب رکھے ایمان کو کرنٹ لگ اور دو قدم پیچھے ہوئی اس کو دڈرتے ھوے دیکھ کر شاہ شرمندہ ہو سوری شاہ نے کہا اور صوفہ پر بیٹھ گیا
اس کو شرمندہ دیکھ کر ایمان کو اپنی غلطی کا احساس ہوا اور وہ فریش ہونے چلی گئی
ایمان واپس ائ تو شاہ موبائل میں مصروف تھا ایمان اس کے پاس آئ مجھے آپ نے بات کرنی ہے ایمان اور شاہ نے ایک ساتھ کہا دونوں ہی مسکراے کرو ایمان شاہ نے کہا نہیں پہلے آپ ایمان نے کہا چندا کرو بات شاہ نے پھر کہا سوری شاہ مجھے ڈدرنا نہیں چاہے تھا ایمان نے سر جھکا کر کہا شاہ مسکرایا اور ایمان کو کیھچ کر اپنے پاس بیٹھیا یہ سر اٹھا کر بات کیا کر چندا سوری کی کوئی بات نہیں غلطی میری تھی ایمان اس کی بات پر حیران ہو اس کا منہ کھولا دیکھ کر شاہ مسکرایا یہ تمہارے لیے لیا ہے گفٹ شاہ نے ایک شاپر اس کو دیے ایمان نے دیکھا تو اس میں ایک بہت پیار ڈریس تھا ساتھ جیولری بھی تھی شاہ بہت پیارا ہے ایمان نے کہا اور یہ لو ایک اور گفٹ شاہ نے پیاری سی چین اس کو دی
بہت پیاری ہے شاہ ایمان نے کہا ایمان مجھے تم سے بات کرنی ہے شاہ نے کہا کرے ایمان نے جواب دیا شاہ نے علی کے بارے میں سب بتایا شاہ کی بات سن کر ایمان رونے لگئ شاہ اس کو روتے دیکھ کر خود کہ ساتھ لگیا ایمان یہ سچ ہے کہ میں نے علی کہ کہنے پر تم سے نکاح کیا تھا لیکن یہ بھی سچ ہے کہ میں تم سے بہت محبت کرتا ہوں شاہ نے کہا
جانتی ہو شاہ کہ آپ مجھے سے بہت محبت کرتے ہو لیکن علی انہوں نے میرے لیے اتنا سب کچھ کیا ہے بس اللہ سے دعا ہے وہ ان کو جنت میں جگہ دے آمین ایمان نے انسو صاف کرتے ہوے کہا آمین شاہ نے بھی کہا
شاہ بیڈ پر لیٹ گیا اور ایمان کو بھی سونے کا کہا اب ایمان بھی لیٹ گئی دونوں ہی پریشان تھے ایمان اپنے ماضی کو لے کر جبکہ شاہ علی کو لے کر
کچھ ٹائم بعد شاہ نے دیکھا تو ایمان سو نہیں رہی تھی شاہ نے گہرا سانس لیا اور اس کو کیھچ کر اپنے قریب کیا اور اپنے سینے پر ایمان کا سر رکھا اس کی حرکت سے ایمان ڈدر گئی اور کانپ لگئی اور اس کے اپنی آنکھیں سختی سے بند کر دی
شاہ اس کے بالوں میں انگلیاں چلنے لگا کچھ دیر بعد ایمان سو گئی شاہ نے اس کا سر تکیہ پر رکھا اور ماتھے پر پیار کیا چندا تمہیں یہ ڈدر میں ختم کردو گا پرومس ایمان نے کہا اور خود بھی سونے کی کوشش کرنے لگا.
شاہ کی آنکھ کھولی تو اس نے ایمان کو سوتے ہوے دیکھا اس کے ہونٹوں پر مسکراہٹ آئ اور بے سختا اس کے ماتھے پر لب رکھے اور فریش ہونے گیا واپس ایا چندا اٹھو میں مسجد جارہا ہوں شاہ نے ایمان سے کہا جی ایمان نے نیند میں جواب دیا
ایمان کی آنکھ کھولی. اس کی نظر اپنے ھاتھ پر گئی جس پر پٹی کی ہوئی تھی اس نے گہرا سانس لیا اور پریشان ہو گئی اللہ شاہ کو پتا چل گیا ہے کہ میرے ھاتھ پر چوٹ لگئی تھی ایمان نے سوچا اور پٹی اتارا دی اور فریش ہوئی اور نماز ادا کی اب ایمان صوفہ پر بیٹھ گئی اور شاہ کا انتظارا کرنے لگئی
شاہ مسجد سے واپس ایا آج گڑیا کا نکاح تھا اس بہت سے کام تھے
(گڑیا کا نکاح آج تھا اور رخصتی دو سال بعد )
شاہ گھر اکر کام میں کچھ مصروف ہو گیا کچھ ٹائم بعد وہ اپنا موبائل لینے روم میں ایا جیسے ہی وہ روم ایا تو ایمان کو صوفہ پر سوتے ہوے دیکھا کر مسکرایا اس کے پاس ایا
لگتا ہے چندا کچھ زیادہ ہی تھک گئی ہے شاہ نے کہا کچھ دیر ایمان کو دیکھتا رہا پھر فون لے کر روم سے باہر آیا
ایمان کی آنکھ کھولی ٹائم دیکھا تو 9 بجے تھے اففف میں سو کیسے گئی وہ بھی اتنی دیر ایمان کہتے ہوے اٹھی اور جلدی سے تیار ہونا شروع ہوئی
شاہ ایمان اٹھی نہیں جاو روم میں اور اس کو نیچے لے او ناشتہ تیار ہے آسیہ بیگم نے کہا جی ماما شاہ جو باہر سے ابھی گھر آیا تھا بولا اور اپنے روم کی طرف ایا
شاہ روم میں ایا تو کچھ دیر کھو سا گیا اور اس کے لالیے ھوئے ڈریس میں بہت پیاری لگ رہی تھی
ایمان جو بس تیار تھی شاہ کو اس طرح دیکھا کر کنفثور ہو گئی جلدی سے بیڈ پر پرا ہوا دوپٹہ اٹھار اور کندھ پر لیا
شاہ مسکراتے ہوے اس کے پاس ایا چندا مجھے نہیں پتا تھا کہ یہ ڈریس تم پر انتا پیار لگے گا اس کے سر پر دوپٹہ دیتے ہوے شاہ بولا
ایمان اپنے سانس رکے شاہ کو دیکھا رہی تھی لیکن یار یہاں سے لپسٹ خراب ہے شاہ نے اس کا چہرہ گہوا سے دیکھتے ہوے کہا
کہاں سے ایمان جلدی سے شسشہ کے سامنے ہوئی اور بولی
شاہ فورا اس پر جھکا اور شرارت کی اس کی حرکت پر ایمان سرخ ہوئی اب ٹھیک ہے اور تعریف میں رات میں کرو گا شاہ نے کہا اور ایمان کا ہاتھ پکرا کر روم سے باہر آیا
ایمان بلش کرتی اس کے ساتھ نیچے آئ سب کو دونوں نے اسلام کیا نانو نے بلالیں لی اور آسیہ بیگم نے دعا دی اب سب ناشتہ میں مصروف تھے
ایمان تم ٹھیک ہو میں پریشان ہو گئی تھی گڑیا نے ایمان کے کان میں سرگوشی کی ہاں میں ٹھیک ہو ایمان نے کہا ایمان تم بلش کرتی بہت پیاری لگتی ہو گڑیا نے شرارت سے کہا
ایمان اس کی بات سن کر اور شرمندہ ہوئی
ایمان بھائ گفٹ کیا دیا گڑیا نے اس کو پھر سے تنگ کیا
شاہ نے چین یہ ڈریس اور کچھ اور چیزیں ہے ایمان نے جواب دیا
ایمان اب میں ایک خواہش ہے وہ جلدی سے پوری کر دو گڑیا آھستہ آواز میں بات کر رہی تھی اس کی آواز بس ایمان تک ہی تھی بکی سب ناشتہ میں مصروف تھے لیکن شاہ کے کان ان کی طرف تھے
کیا ہے خواہش ایمان نے پانی پیتے ہوے پوچھا
جلد سے مجھے پھوپھو بنا دو گڑیا نے مزہ سے کہا
ایمان اس کی بات سن کر سکتی. بری طرح سے کھانسی لگئ سب اس کی طرف متوجہ ہوے
ایمان تم ٹھیک ہو شاہ اپنی مسکراہٹ دابتے ہوے بولا ھاں میں ٹھیک ہو ایمان اٹک اٹک کے بولی اور گڑیا کو غصہ سے گھورا
گڑیا ایمان چپ کر کے ناشتہ کرو شاہ نے ڈائیت ہوے کہا
ٹھیک کہا رہے ہے شاہ چپ کر کے ناشتہ کرو گڑیا ایمان نے غصہ سے کہا
ہوے بھائ ایک ہی دن میں آپ نے میری دوست پر جادو کر دیا ہے کہ آپ کی ھاں میں ھاں ملاتی ہے گڑیا نے ادکاری کرتے ہوے کہا
اس کی بات پر سب مسکرایے گڑیا اس پر ایمان نے اور غصہ کے ساتھ اس کا نام لیا
اس ہی طرح سب نے ناشتہ کیا
ایمان اب گڑیا کے روم میں تھی گڑیا میرے ھاتھ سے تم اپنے نکاح والے دن قتل ہو جاو گئی ایمان نے غصہ سے کہا
میں نے اب کیا کیا ہے گڑیا نے انجان بنتے ھوے پوچھا
یہ باہر جو بکوس کر رہی تھی یہ کیا تھا ایمان نے پوچھا
یار میں نے بس ایک خواہش کی تھی گڑیا نے مصعوم بنتے ہوے کہا
کیا یہ بکوس سب کے سامنے لازمی کرنے تھی
یار میں نے تو آھستہ آواز میں کہا تھا اچھا سوری گڑیا نے کہا
کیا تم نہیں جابتی شاہ کہ کان بہت تیز ہے ایمان نے افسواس سے کہا اور اس دن پارک جاتے ہوے جو بات ان کے درمیان ہوئی تھی وہ بھی شاہ نے سن لی تھی
کیا بھائ نے وہ بات سن لی تھی گڑیا شاک سی کفیت میں بولی ایمان نے ھاں میں سر ہلایا
❤❤❤❤❤❤❤❤❤❤
ایمان نے گڑیا کو نکاح کے لیے تیار کیا گڑیا کی آنکھیں میں انسو ارہے تھے لیکن ایمان اس کا موڈ ٹھیک کرنے میں لگئ تھی اور کافی حد تک اس میں کامیاب بھی ہوئی
شاہ گڑیا کے روم میں ایا گڑیا کو تیار دیکھا کر مسکراتا ہوا اس کے پاس ایا
گڑیا میری جان تمہیں پتا ہے جب تم اس دنیا میں ائی میں تم سے ملنے ہپستال گیا اور ماما نے تمہیں مجھے دیا اور کہا یہ تمہاری ڈول ہے میں بہت خوش تھا لیکن کچھ ماہ بعد ہی علی اس گھر میں ایا وہ اپنے ماما پاپا کے جانے کہ بعد اداس ہو گیا وہ کیسی سے بات نہیں کرتا تھا اور میں یہ چاھتا تھا کہ وہ مجھے سے بات کرے مجھے سے کھیل میں نے بہت کوشش کی لیکن میں کامیاب نہیں ہوا
پھر میں نے اپنے ڈول علی کو دیے اور کہا علی آج سے یہ تمہاری ڈول ہے وہ بہت خوش ہوا لیکن میں اداس ہو گیا پھر میں علی کو خوش دیکھا کر خوش ہو جاتا
میں جانتا ہو کہ تم علی کو مجھے سے زیادہ محبت کرتی ہو اور آج کہ دن تم اس کو بہت مس کروے گئی لیکن میں پوری کوشسش کروے گیا کہ علی کا فرض بھی پورا کرو شاہ نے کہا اور گڑیا کو اپنے ساتھ لگیا
بھائ آئ لو یو گڑیا نے روتے ہوے کہا. اوووو پاگل یار روتے نہیں ہے یہ خوشی کا مواقع ہے شاہ نے اس کی ناک دانتے ہوے کہا
بھائ آپ بہت اچھے ہو گڑیا نے کہا
گڑیا میری جان چپ ورونہ میری چندا کی محنت خراب ہو جاے گئی شاہ نے کہا
بھائ آپ بھی نہ گڑیا نے کہا
ویسا میری چندا نے تیار اچھا کیا ہے بہت پیاری لگ رہی ہو شاہ نے کہا
شکریہ بھائ گڑیا نے کہا
چندا ھے کہاں شاہ نے گڑیا سے پوچھا بھائ وہ تو اپنے روم میں گئی ہے تیار ہونے جاے روم میں اور اس کو یہاں بیھجے گڑیا نے کہا
شاہ روم میں ایا تو ایمان ڈریس ھاتھ میں لے رو رہی تھی شاہ اس حالت پر پریشان ہوا اور اس کے پاس ایا چندا کیا ہوا کیوں رو رہی ہو شاہ نے کہا
ایمان شاہ کو دیکھا کر اس کے سینے میں منہ چھاپے کر اور رونے لگئ
شاہ پریشان سا ہوا چندا میری جان کیا ہوا ہے کیوں پریشان کر رہی ہو
شاہ آج گڑیا کا نکاح ہے میں کیسے اس کے بغیر رہوں گئی میں دل نہیں لگتا گڑیا کے بغیر ایمان نے رو ہوئے کہا
شاہ کو اس کی بے واقوف سی بات پر غصہ ایا لیکن پھر مسکرایا خود سے الگ کیا اور اس کو پانی دیتا
چندا گڑیا کا اب نکاح ہے رخصتی نہیں ابھی وہ دو سال یہاں ہے اور ایک دن تو اس نے اپنے گھر جانا ہے تم بس اس کے لیے دعا کیا کرو اللہ اس کے نیصب اچھے کرے
جی شاہ آپ نے ٹھیک کہا لیکن کیا ہم گڑیا کے لیے گھر داماد نہیں دیکھا سکتے تھے ایمان نے اپنے آنسو صاف کرتے ہوے کہا
ایمان بری بات ایسے نہیں کہتے اب جلدی سے تیار ہو اب رونا نہیں ہے اچھا شاہ نے کہا۔

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: