Mery Khawab by Mubarra Ahmed – Episode 1

0

میرے خواب از مبارہ احمد قسط نمبر 1

چہرے پہ گهونگٹ ڈالے وہ اپنی قسمت کو کوسے جارهی تهی آج اس کی شادی ہو چکی تهی اور اس وقت وہ سجے ہوۓ کمرے میں بیٹهی اپنے ٹوٹے خوابوں کی کرچیاں سمیٹ رهی تهی
بالاشبہ وہ حسین تهی حسین ترین تهی دولہن بن کر اس پر اس قدر روپ آیا تها کہ اسکی ماں نے اپنی نظریں هٹا لی تهی مبادا کہیں نظر هی نا لگ جاۓ جبکہ دادی ماں بلائیں لیتی نہ تهک رہی تهیں
“میری بچی کو کسی کی نظر نہ لگ جاۓ”
پاس آکر اسکے سر پر پیار کرکے دعا دی
“نظر تو لگ گئی ہے دادو… میرے خواب میرا مان سب کچھ تو ختم کردیا”
یہ بات وہ بس بول نہ پائی صرف سوچ کر رہ گئی
“دیکهو بیٹا اب وہ جیسا هے تمہارا شوهر هے اسکی عزت کرنا عزت کروگی تو هی عزت پاؤ گی اب اس گهر سے تمهارا جنازہ هی نکلنا چاهیے”
دور کہیں اسے اپنی ماں کی آواز سنائی دی
تب ہی دروازہ کهلنے اور بند ہونے کی آواز پہ وہ چونکی
“اسلام وعلیکم”
آواز میں خوشی هی خوشی تهی
“وعلیکم سلام”
سر مزید جهکا گئی
تبهی گهونگٹ اٹها دیا اسے ایسا لگا جیسے کمرے میں چاند نکل آیا هو
“بہت خوبصورت لگ رہی ہو اینجل”
جبکہ اسکا سر مزید جهک گیا
اور اس نے ایک بے حد خوبصورت انگوٹهی اسکی مخروطیدی
“شکریہ”
دهیمے لہجے میں بولی
“تم میری زندگی کا سب سے خوبصورت حصہ ہو آج سے میں وعدہ کرتا هوں کبهی تمهاری آنکهوں میں آنسو نہیں آنے دوں گا”
اور آگے بڑھ کر اسے اپنے مضبوط بازوؤں کے حصار میں لے لیا جبکہ اسکے ذهن میں بس ایک ہی بات گونج رهی تهی
“اب اس گهر سے تمهار جنازہ هی نکلنا چاهیۓ”
_ _ _ _ _ _ _ _ _
“دادو.. دادو…. میں بہت خوش هوں… یاهو..”
حریم نے سامنے کهڑی نزهت بیگم کو کندهوں سے پکڑ کر گهماتے هوۓ کہا
“اے لڑکی. سن.. اے…. اف اللہ….”
نزهت بیگم اپنے گهومتے سر کو تهام کر بیٹهتے هوۓ بولیں
“اندهی طوفان کیطرح آتی هے اور سب کچهه بہا لے جاتی هے…اف میرا سر”
نزهت بیگم بولیں جبکہ حریم کے کان پہ جوں تک نہ رینگی
“اچها دادو بتاؤ میں کیوں خوش هوں”
ان کے برابر دهپ سے بیٹهتے هوۓ بولی
“اے لو…. اب مجهے کیا پتہ تو کیوں خوش هے میں نے تهوڑی نا تیرے پہ وہ سی …پی… ایچ کیمرہ لگا کر رکها هے”
اپنی عینک کے بڑے بڑے شیشوں کے پیچهے سے اسے گهورتی هوئیں بولیں
“اففف دادو… ایک تو یہ آپکی گلابی انگریزی…..سی پی ایچ نہیں بلکہ سی سی ٹی وی کیمرہ هوتا هے”
الفاظ دبا دبا کر بولی
“موأ جو بهی هوتا هے مجهے کیا لینادینا… اب تو بتا کیا بات هے جو اندهی طوفان بنی گهوم رهی هے”
“دادو میرا رزلٹ آگیا اور میں نے پوری کلاس میں ٹاپ کیا هے”
خوشی سے جهومتے هوۓ بولی
“ماشاءاللہ ماشاءاللہ….. اللہ کا لاکهه لاکهه شکر هے”
نزهت بیگم کے ساتهه سلمہ بیگم نے بهی ماشاءاللہ کہا.
انہوں نے حریم کی خوشی کی وجہ سن لی تهی
“او مما…. مجهے یقین هی نہیں هورها…ایم سو هیپی”
سلمہ بیگم کے گلے لگ کر بولی
“اللہ پاک میری چندا کو لاکهوں کامیابیاں دے”
دل سے دعا دی
“آج اتنا سناٹا کیوں هے سب کہاں هے مما؟؟”
یکایک اسے خاموشی کا احساس هوا
“رافع اور واسع تو گئے هیں تمهارے تایا اور ابا کے ساتھ آفس باقی وقار اور احسن اور احمد کا آج کرکٹ میچ تها تو وہ دونوں صبح سے هی شاٹ هیں اور حنا بهابی ذرا مارکیٹ تک گئی هیں”
سلمہ بیگم کمرے میں بکهرے کپڑے سمیٹنے کے ساتهه اسے تفصیل بتانے لگی
“جبهی تو میں کہو بڑی شانتی هے گهر میں”
یہ بول کر وہ پچهتائی
“شرم کر کچھ حیا کر مواۓ هندؤں کی زبان بولے گی تو انہی میں جاکر مرے گی تو”
دادی نے ایک دهمکا اسے جڑتے هوۓ کہا
“هاۓ اللہ دادو….. اتنی زور کا مارا آپکا هاتھ هے کہ ہتهوڑا…. افف..”
کمر سہلاتے هوۓ بولی
“هاں تو هم نےدیسی خوارکیں کهائی هوئی هیں تم لوگوں کیطرح تهوڑی کہ نوڈلیں اور برگریں اور پتہ نہیں کیا الا بلا کهاتے هو کہاں سے بنے گی صحت”
“اوہو… آپ کے زمانے میں یہ ساری چیزیں تهی نہیں نا اسی لئے تو آپ نے کهائی نہیں”
انکی گود میں سر رکھ کر مزے سے بولی
سلمہ بیگم سر جهٹک کر مسکراتی هوئی باهر کی جانب چل دیں
“سب هوتا تها همارے زمانے میں بهی بس هم چسکے مار نہیں هوتے تهے کہ بس هر وقت بکری کیطرح منہ چلتا رهے”
نزهت بیگم اسکے سر پر هاتھ پهیرتے هوۓ بولیں
“اچها میری دیسی دادو… تو پهر آپ مجهے کیا تحفہ دیں گی”
ایکدم سے اٹھ کر بیٹھ گئی
“کس کو کس خوشی میں تحفہ دینے کی بات هو رهی هے بهئی”
حنا بیگم آکر بولی
“ارے تائی ماں آپکو پتہ هے میں نے پوری کلاس میں ٹاپ کیا هے”
“ارے واہ ماشاءاللہ…. ماں جی اب تو گفٹ بنتا هے”
نزهت بیگم کو مخاطب کرتے هوۓ بولیں
“هاں هاں بهئی دے دیں گے گفٹ بهی…. ”
اور حریم نے خوشی سے دونوں کو گلے لگا لیا
¤ ¤ ¤ ¤ ¤ ¤
گهر بهر میں خوشی کا ماحول تها حریم کی کامیابی پہ سب بے حد خوش تهے
“بهئی هماری بیٹی نے تو همارا سر فخر سے بلند اور غرور سے چوڑا کر دیا هے”
فاروق صاحب بولے تو سب نے فخر سے حریم کیطرف دیکها
“جیتی رهو خوش رهو”
مجید صاحب نے بهی پیار سے اسکے سر پر شفقت بهرا ہاتھ پهیرا
“چل اوۓ حلیم میرے لئۓ کافی بنا کر لا”
رافع نے اسکا نام بگاڑ کر بارعب لہجے میں بولا تو وہ تڑپ اٹهی
“دادو رافع بهائی کو دیکهیں تنگ کر رهے هیں”
حریم نے وهیں سے نزهت بیگم کو آواز دی
“رافع بہن کو تنگ مت کرو”
نزهت بیگم کی کڑک دار آواز آئی
“چغل خور کہیں کی”
گهور کر منہ هی منہ میں بڑبڑایا
“مس حریم فاروق کیا آپ اپنی ٹانگوں کو زحمت دے کر هم دونوں کے لئے کافی بنا کر لائیں گی”
واسع نے بے حد احترام سے کہا اور رافع کی مسکراهٹ گہری هوئی
“اور میرے لئے چاۓ اور پکوڑے”
احسن بولا
“میرے لئے ایک گلاس ٹهنڈا پانی اور پکوڑوں کی بڑی پلیٹ پلیز”
احمد بهلا کہاں پیچهے رهنے والا تها
پانچوں اس وقت گهر کی چهت پہ کهڑے موسم انجواۓ کر رهے تهے کالے سیاہ بادل پورے آسمان پہ چهانے لگے تهے ٹهنڈی هوا نے ماحول کو اور بهی حسین بنا دیا تها جبکہ سب بڑے نیچے اتر گئے تهے
“ایکسوزمی بوائیز…. آپکو کس نے کہہ دیا کہ میں یہاں شیف کے فرائض انجام دے رهی هوں اور یہاں آپ لوگوں کے آرڈر لینے آئی ہوں.. هاں”
کمر پہ هاتهه رکهه کر جارهانہ انداز میں بولی
“موسم کتنا حسیناور سوئیٹ هو رها هے اور اس موسم میں اگر میری سوئیٹ کیوٹ اور بیوٹی فل سسٹر کے هاتهوں کے پکوڑے چاۓ کافی کے ساتھ مل جائیں تو بس مزہ هی آ جاۓ گا”
واسع نے کہا
“واسع بهائی اتنے میٹهے بول نہ بولیں کہیں مجهے شوگر هی نہ هوجاۓ”
سامنے پڑی کرسی پہ بیٹهتے هوۓ بولی
“ڈونٹ وری سسٹر…. کریلے کو کبهی شوگر نہیں هوتی”
رافع نے حساب برابر کیا اور اس بات پہ سب زور سے هنسے جبکہ حریم کا غصے سے برا حال هوگیا
“اب آپکی کافی کنسل… باقی سب کے لئے ابهی بنا کر لاتی هوں”
رافع کو انگلی دکها کر زینے کیطرف بڑهی تبهی رافع ایکدم سے اسکے سامنے آگیا
“سوری سوری سسٹر… پلیز میرے لئے بهی بنا کر لانا”
منت بهرے لہجے میں بولا جبکہ وہ منہ پهیر کر کهڑی هوگئی
“یار بولو نا تم لوگ بهی منہ میں دهی جما کر بیٹهے هوکیا سب کے سب”
رافع نے باقی تینوں کو کہا جو همیشہ دونوں کی لڑائی خوب انجواۓ کرتے تهے
“بهئی هم کیا بولیں…. پنگا تو آپ نے لیا هے خود هی بهگتیں”
احمد نے کہا تو باقی دونوں نے بهی انکی تائید کرتے اپنا دامن جهاڑا
“دهوکے بازوں… تم سب کو دیکهه لو گا…..
حریم پلیز نا میرے لئے بهی بنا کر لانا”
رافع کو گهر میں صرف حریم کے ہاتهوں کی کافیپسند تهی اور اس کے لئے وہ کچھ بهی کرسکتا تها
“ایک شرط پہ”
اسکی طرف مڑ کر بولی
“عرض کریں”
سر جهکا کر بولا
“مجهے آپ آئس کریم کهلانے لے کر چلیں گے پورے ایک هفتے تک روزانہ”
مزے سے بولی
“اوکے لے چلو گا پرامس بس خوش”
بادل نخواستہ هامی بهری اور سب نے یاهو کا نعرہ لگایا
“اوکے بنا کر لاتی هوں ابهی”
کہہ کر نیچے اترنے لگی جبکہ رافع بازو چڑها کر تینوں کی جانب بڑها
“تم لوگ آج حلال هوجاؤ گے میرے ہاتهوں”
اور پهر چهت پہ وہ طوفان آیا کہ اللہ امان
¤ ¤ ¤ ¤ ¤ ¤
صدیقی هاوس اور انکے مکینوں پہ اللہ کا خاص کرم تها
نزهت بیگم کے دو بیٹے تهے مجید صدیقی اور فاروق صدیقی جبکہ بیٹی کی نعمت سے وہ محروم هی رهیں نزهت بیگم کے شوهر سلطان صدیقی کا بہت بڑا بزنس تها کچهه سال پہلے دونوں بیٹوں کو اپنا بزنس سونپ کر خود ملک راهی عدم سدهار گئے
ان کے جانے کے بعد دونوں بچوں نے ان کے بزنس کو ساتوایں آسمان پہ پہنچا دیا تها
.
مجید صاحب کو اللہ نے دو خوبصورت بیٹوں رافع اور واسع سے نوازا تها مگر قدرت نے انہیں بهی بیٹی سے محروم رکها
جبکہ فاروق صاحب کے بهی دو پیارے بیٹے احسن اور احمد تهے اور پهر بہت منتوں مرادوں کے بعد انکے آنگن میں ایک ننهی پرینے آنکهه کهولی اور پهر حریم پورے گهر کی آنکهوں کا تارا بن گئی
خاص طور پہ رافع اس گڑیا پہ جان چهڑکتا تها مگر تنگ بهی اتنا هی کرتا تها
¤ ¤ ¤ ¤ ¤ ¤

جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: