Mery Khawab by Mubarra Ahmed – Episode 2

0

میرے خواب از مبارہ احمد قسط نمبر2

“چلیں رافع بهائی”
رافع جو کہیں جانے کے لئے تیار تها ایکدم حریم کی بات پہ چونکا
“ہیں؟؟ کدهر؟؟”
حیران تها
“آئس کریم کهانے…..اپنا پرامس یاد کریں کل کیا کہا تها آپ نے مجھ سے چهت پہ”
اور کل کا سین رافع کی آنکهوں کے آگے گهوم گیا
“هاں یاد هے مجهے….. مگر ایسا هے کہ ابهی تو میں ذرا ایک دوست سے ملنے جارها هوں کل لے چلو گا اوکے”
“بالکل بهی نہیں اج ابهی اور اسی وقت بس ورنہ میں نے بات هی نہیں کرنی اپ سے”
وارنگ دیتے هوۓ بولی
“افففف ایک تو تمهاری یہ بلیک میلنگ…… بالکل چڑیل کیطرح چپک جاتی هو”
اسکی ناراضگی اسے کسی صورت گوارا نہ تهی
“آپ جو بهی بولیں لے جانا تو پڑے گا”
مزے سے بولی
“چڑیل کہیں کی جاؤ دادو والوں کو بتا کر آؤ”
“اوکے ابهی آئی”
اور وہ بهاگتی هوئی اندر کی جانب بڑھ گئی
“رافع بهائی….. کہیں جا رهے هو آپ”
احسن نے اسے مخاطب کرکے کہا
“هاں یار حریم کو آئس کریم بار تک لے کر جارہا هوں.. کیوں خیر هے”
موبائل پاکٹ میں ڈال کر بولا
“مجهے آپ حسیب کے گهر تک ڈراپ کر دیں گے پلیز”
احسن بولا
“هاں جی ضرور آجاؤ تم بهی ڈرائیور هی بنا دیا هے مجهے تو”
وہ مظلومیت”سوری بهائی میری کار احمد لے کر گیا هے اسی لئے کہا آپکو”
خجل سا ہوکر بولا
“نہیں یار اٹس اوکے….. واسع کہاں هے”
رافع نے پوچها
“واسع بهائی بابا اور تایا ابو کیساتهه بیٹهے هیں”
“اچها چلو تم گاڑی میں بیٹهو میں ذرا حریم کی بچی کو بلا کر لاتا هے اندر جا کر جم ہی گئی هے”
اور دانت پیستا اندر کی جانب هولیا
.
.
.
“هاں جی میڈم آڈر کریں”
رافع نے مینو کارڈ اسکے آگے کیا
“دو چاکلیٹ اور ایک اسٹابری فلیور”
ویٹر آرڈ لے کر جا چکا تها
“اوۓ لڑکی پاگل هو گئی هو”
رافع نے گهور کراسے دیکها
“کیا؟؟ میں نے کیا کردیا”
وہ حیرانگی سے بولی
“تین تین آئس کریم؟؟؟
“او اچها… دیکهیں رافع بهائی دو چاکلیٹ والی تو میرے نام اور ایک آپکے لئے….. اب میں اکیلے کهاتی اچهی تو نہیں لگوں گی نا”
مصومیت سے بولا
“واہ واہ کیا بات هے میں حیرت سے بے هوش نا هو جاؤں”
“نہیں نہیں پلیز ادهر بے هوش نا هوجانا رافع بهائی…. میں کیسے اٹهاؤ گی آپکو اتنے موٹے تازے هو”
“او هیلو اسے موٹا نہیں سمارٹ بولتے هیں اور میں کو پیدائشی سمارٹ هوں”
رافع نے اپنا کالر جهاڑا
اس سے پہلے کہ حریم کچھ کہتی کسی نے رافع کو پکارا
“اوۓ جگر کیسا هے”
رافع اٹھ کر کچھ فاصلے پہ کهڑے ادمی سے بغل گیر هوگیا
“میں ٹهیک هوں تو سنا ادهر کیسے؟؟ مجهے تو بولا کہ ضروری کام هے اج مل نہیں سکتا”
شاہ میر آنکهیں دکها کر بولا
“یار بس یہ سسٹر کو آئس کریم کهلانے لایا تها”
“اچها چل پهر تو انجواۓ کر میں چلتا هوں”
“کندهے پہ ہاتھ مار کر بولا
“انجواۓ کے بچے چل آ جا تو بهی همارے ساتھ بیٹھ اور کوئی بہانہ مت لگانہ”
رافع اسے پکڑ کر اپنے ٹیبل تک لایا جہاں حریم بیٹهی آئس کریم سے انصاف کرنے لگی تهی
جبکہ حریم نے نظر اٹها کر شاہ میر کو دیکها اور پهر سوالیہ نظروں سے رافع کی جانب دیکها
“یہ شاہ میر هے میرا بیسٹ فرینڈ کل هی آیا هے واپس امریکہ سے وکالت کی ڈگری لے کر اور یہ میری سسٹر هے حریم”
رافع نے دونوں کا تعارف کروایا
“اسلام وعلیکم”
حریم نے خوش دلی سے سلام کیا
“وعلیکم سلام”
جواب بهی مسکرا کر دیا تها
تبهی حریم نے ایک کپ شاہ میر کیطرف بڑهایا اور رافع کو صدمہ هی لگ گیا
“ارے نہیں تهنکس آپ کهائیں پلیز”
شاہ میر بولا
” کها لے بهائی میرے پہلی بار کسی کو آفر کر رهی هے یہ”
رافع بولا اور حریم نے گهور کر اسے دیکها
“رئیلی؟؟؟”
شاہ میر حیرت سے بولا
“جی نہیں ایسی کوئی بات نہیں هے رافع بهائی توبس ایسے هی بولتے رهتے هیں”
حریم جلدی سے بولی جبکہ رافع نے اسے مسکرا کر دیکها
“کوئی نہیں… یہ تو ایسی هے کہ اپنا بخار تک نہ دے کسی کو”
آئس کریم کهاتے هوۓ بولا
“جاؤ رافع بهائی میں نہیں بولتی آپ سے”
منہ پهلا کر اپنے آئس کریم کپ پہ جهک گئی رافع کے ساتھ شاہ میر بهی اسکے اس انداز پہ مسکرا دیا
سفید دوپٹہ کے هالے میں اسکی دودهیا رنگ اسے کچھ عام لڑکیوں سے الگ کر رها تها اور پهر اس پہ اسکا روٹها روٹها سا انداز…… شاہ میر کو کچھ هوا….
اور پهر تهوڑی دیر بعد هی وہ منہ پهلاۓ گهر میں داخل هوئی سلمہ اور حنا بیگم رات کے کهانے کی تیاری کے سلسلے میں کچن میں تهیں تبهی وہ سیدها واسع کے کمرے کی طرف بڑهی اور پهر جاکر ایک دم اسکے گلے لگ کر پهوٹ پهوٹ کے رودی….
“ارے حریم کیا هوا… رو کیوں رهی هو”
واسع جو لیپ ٹاپ پہ بزی تها اچانک افتادہ پہ بوکهلا سا گیا اور پهر اسکے رونے پہ پریشان هوگیا تها
“دونوں نے میرا مذاق اڑایا”
اور پهر هچکیوں کے ساتھ روتے هوۓ ساری بات بتائی جبکہ واسع کے چہرے پہ بهی مسکراهٹ آگئی اور اسکی اس معصومیت پہ واسع نے اسے گلے لگا کر تسلی دی
“آنے دو رافع کو اسکو تو آج میں دیکھ لو گا”
“بهائی میرےاتنے سالوں سے دیکھ رها هے مجهے ابهی بهی تیری آنکهوں کو ٹهنڈک نہیں ملی کیا”
اندر آتے رافع نے واسع کی بات سن لی تهی
“اوۓ…. اسے کیا هوا بن موسم برسات کیوں بنی هوئی هے…. اوۓ حلیم”
دفعتا اسکی نگاہ حریم پہ پڑی جو سوں سوں کر رهی تهی
“واسع بهائی سمجها لیں انہیں”
نام بگاڑے جانے پہ وہ چیخی
“رافع”
واسع نے آنکهیں دکهائی
“اچها سوری…. بتاؤ یہ آنسو کس خوشی میں هیں جہاں تک مجهے یاد پڑتا هے تیری رخصتی کے دور دور تک کوئی آثار نہیں”
اور یہ سن کر حریم نے اپنے سامنے پڑا کشن پوری قوت سے رافع کی جانب اچهالا جیسے اس نے نہایت اچهے طریقے سے کیچ کر لیا
حریم سب کی لاڈلی تهی مگر اپنے چاروں بهائیوں سے کچھ زیادہ هی اٹیچ تهی وہ چاروں بهی اس پر اپنے بڑے پن کا رعب نہیں جهاڑتے تهے اس گهر میں اگر حریم کسی سے ڈرتی تهی تو وہ تهے فاروق صاحب حریم کے والد گرامی….
“اؤۓ کس کی رخصتی کی بات هورهی هے وہ بهی ہمیں بتاۓ بنا.”
احسن اور احمد بهی ٹپک پڑے تهے جبکہ حریم رونا دهونا بهول کر احسن اور احمد کی شکل دیکهنے لگی
“بہت اچهے ٹائم پہ نازل هوۓ هو هم اسکی شادی ڈیسائیڈ کررهے هیں”
رافع بولا تو دونوں نے حریم کیطرف دیکها جو مدد طلب نگاهوںسے واسع کی سمت دیکھ رهی تهی کیونکہ ان سب کا کنٹرول روم واسع هی تها اخر کو بڑا جو تها
“شٹ اپ رافع….. ایسا کچھ نہیں هے بکواس کررها هے بالکل…”
واسع کو حریم پہ ترس آ هی گیا
“اور رافع سوری بولو ابهی تم اس سے جلدی”
واسع کی توپوں کا رخ رافع کی طرف هوگیا
“کس بات کی سوری یار میں نے کیا کردیا”
وہ حیران تها ساتھ هی ساتھ احسن اور احمد بهی
“کیوں تو نے مذاق اڑایا اسکا شرم کر تهوڑی ایک هی بہن هے اسکو بهی رلاتا رهتا هے ایڈیٹ”
ساری بات بتا کر واسع بولا
“یار میں کہتا هوں کہ یہ ایک بهی کیوں هے”
رافع آنکھ دبا کر بولا اور احسن اور احمد دونوں نے اسے گهورا
“شرم کر لے… چل بول سوری”
واسع سیریس تها
“ارے یہ تو میری شہزادی هے اچها ایم سوری میری ڈول…. یہ لو”
رافع اسکے برابر جا کر بیٹها اور اسے گلے لگا کر چاکلیٹ کا پیکٹ اسکے ہاتھ میں تهمایا
“پتہ تها مجهے سیلاب ضرور آۓ گا اس لئے میں نے بند باندهنے کا انتظام کرلیا تها ”
رافع کا اشارہ اسکے رونے دهونے کیطرف تها
“اب سمائل کر بهی دو”
احسن بولا تو وہ مسکرا دی
“اچها اب جلدی سے کافی بنا کر لاؤ هم سب کے لئے”
واسع بولا تو وہ بهی مسکراتی هوئی ابهی لائی کہہ کر اٹھ گئی”شاہ میر کب آیا؟”
حریم کے جانے کے بعد واسع نے پوچها
“کل هی آیا هے”
رافع نے کہا
“اچها….”
“آپ گهر لے آتے شاہ میر بهائی کو”
احمد بولا
“یار میں نے تو کہا تها اسے مگر کوئی ڈاکومنٹ لینے جانا تها اسے تو اسی لئے نہیں آ پایا”
“بابا اور تایا ابو کو بتایا آپ نے”
احسن نے پوچها
“نہیں یار ابهی تو میں آیا هوں رات کو بتا دوں گا”
رافع بولا تو تینوں نے سر ہلا دیا
¤ ¤ ¤ ¤ ¤ ¤

جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: