Mery Khawab by Mubarra Ahmed – Episode 4

0

میرے خواب از مبارہ احمد قسط نمبر 4

گهر کے بچوں تک اس رشتے کی بازگشت پہنچ چکی تهی سب بے انتہا خوش تهے شاہ میر ہر لحاظ سے پرفیکٹ تها بڑوں نے پہلے شاہ میر کی بہن سے بات کرلی تهی اور پهر شاہ میر سے…
اسے بهلا کیا اعتراض هوسکتا تها حریم اسے پہلی نظر میں هی اچهی لگی تهی فرشتوں سی معصومیت لئے……
.
ایک فرد تها جیسے اس رشتے پہ شدید اعتراض تها
اور وہ حریم فاروق تهی.
“مما مجهے ان سے کوئی شادی وادی نہیں کرنی هے تائی ماں سمجهاؤ نا مما کو”
حریم نے سلمہ بیگم کو کہا جو ابهی ابهی حنا بیگم کے ساتھ اسکی شادی کی شاپنگ کرکے لوٹیں تھیں
“حریم آخر اعتراض کیا ہے تمہیں؟؟ کونسی برائی نظر آرہی هے تمہیں شاہ میر میں؟”
سلمہ بیگم غصے سے بولیں جب سے رشتہ طے هوا تها حریم مسلسل انکاری تهی
“بس مما مجهے نہیں کرنی شادی”
“دیکهو حریم تمهیں اگر زیادہ اعتراض هے تو جاکر اپنے باپ سے بات کرو میرا دماغ مت کهاؤ چلی جاؤ یہاں سے”
اچهی خاصی ڈانٹ پلائی
اور وہ روتی ہوئی اس کمرے سے نکل آئی
“سلمہ اتنا غصہ مت کرو بچی هے پیار سے سمجهاؤ”
حنا بولیں
“بهابی کیا کروں اس لڑکی کا آپ کے سامنے جب سے بات طے هوئی هے اس لڑکی نے میرا جینا حرام کیاهوا ہے پتہ نہیں کیا چاهتی هے یہ لڑکی”
سلمہ بیگم بے بسی سے بولیں
“چلو فکر مت کرو میں سمجها دونگی سب ٹهیک هوجاۓ گا”
اسے تسلی دیتے هوۓ بولیں
.
.
.
.
دوسری طرف حریم روتی هوئی دادی کے کمرے میں آئی
“ارے ارے کیا هوگیا تجهے”
اسے روتا دیکهکر وہ پریشان هوگئی تهیں
“دادو مجهے شاہ میر سے شادی نہیں کرنی هے آپ بابا کو بتا دیں بس”
روتے هوۓ بولی اور کسی کام سے اندر آتا رافع ٹهٹهک گیا
“هیں؟؟؟ کیوں نہیں کرنی”
دادی حیران تهیں
“بس نہیں کرنی تو نہیں کرنی”
“ادهر آ بیٹهه ادهر آکر میرے پاس”
اور وہ آنسو بہاتی انکے برابر آ بیٹهی
“دیکهه بیٹا ساری بات طے هوگئی هے دعوت نامے سب کو بانٹ دیئے هیں اگر اب انکار کیا تو تیرے کو اندازہ هے اس گهر کی تیرے تایا باپ بهائیوں کی کتنی بےعزتی هوگی کسی کو منہ دکهانے کے قابل نہیں رهیں گے اور کیا برائی هے شاہ میر میں”
اسے سمجهاتی هوئی بولیں
“دادو آپ نے دیکها نہیں کیا اسے اسکا رنگ…. بس مجهے نہیں کرنی اس سے شادی”
اور اسکی بات سن کر رافع جو پریشان سا کهڑا تها مسکرادیا
“حریم دیکھ پتر… یہ رنگ روپ خوبصورتی سب وقت کے ساتھ ختم هوجانی هیں تو ان فضول چیزوں کے پیچهے نہ بهاگ میرا بچہ”اور دادی کی بات سن کر وہ اور زور و شور سے رونے لگی
“اور شاہ میر هر لحاظ سے اچها هے وہ تیرے کو بہت خوش رکهے گا”
یہاں بهی اسکی شنوائی نہ هوئی کوئی اسکی بات سننے کو تیار نہ تها سب کو شاہ میر اچها نظر آ رها تها مگر حریم کی خوشی کی کسی کو پروا نہ تهی
.
.
.
“او تو مستقبل کی دلہنیا یہاں کهڑی هیں”
رافع اسے ڈهونڈتا چهت پہ آیا تها جہاں وہ اسے ایک کونے میں کهڑی نظر آ گئی تهی
“حریم”
“همهم…”
“تمهیں شاہ میر سے شادی پہ اعتراض هے نا”
رافع نے کہا اور وہ حیرت سے اسکا منہ تکنے لگی
“پگلی وہ بہت اچها هے”
“رافع بهائی پلیز….”
وہ جانے کیلئے پلٹی تبهی رافع نے اسکا ہاتھ پکڑا
“ادهر آؤ”
اور وہ اسے سامنے پڑی چیئر کیطرف لے گیا
“میں نے تمہاری اور دادو کی باتیں سن لی تهیں تمہیں شاہ میر کے کلر کمپلیشن سے پرابلم هے”
اور اس نے هاں میں سر هلا دیا
“حریم دادو بالکل صحیح کہہ رهی تهیں یہ سب ٹمپریری هے اور چاچو کو جانتی هو نا تم وہ اپنی زبان سے پهرنے والوں میں سے نہیں هیں”
“تو صاف بولیں نا آپ سب چاهتے هیں میں آپ کی عزت آپکی پہ قربان هو جاؤں”
تلخی سے بولی
“ایسی بات نہیں هے پگلی…. ”
“بس مجهے پتہ هے”
آنکهوں میں مرچیں بهرنے لگیں”اچها رونا مت پلیز… ایک سولوشن هے میرے پاس تمهارے پرابلم کا”
“کیا”
امید بهری نظروں سے اسکی طرف دیکها
“تم نا شاہ میر کو فائزہ بیوٹی کریم لگانا صرف پانچ دن میں هی نکهار آ جاۓ گا”
آنکهوں میں شرارت بهر کر بولا
اور پهر سمجھ آنے پہ وہ اسکے پیچهے دوڑی
¤ ¤ ¤ ¤ ¤ ¤
شادی کی تاریخ ایک ماہ بعد کی طے هوئی تهی
گهر میں شادی کی تیاریاں عروج پہ تهیں.. هر روز بازار کے چکر لگ رهے تهے واسع فاروق اور مجید صاحب کے ساتھ بزنس میٹنگز میں مصروف تها جبکہ رافع احسن اور احمد عورتوں کے بیچ میں گهن چکر بنے هوۓ تهے ایک پاؤں تینوں کا اپنے گهر میں تو دوسرا شاہ میر کے گهر هوتا تها چونکہ شاہ میر کی بہن ویزا نہ ملنے کی وجہ سے نہ آ سکی تهی تو وہ تینوں اس وقت اسکے ماں باپ اور بہن بنے هوۓ تهے
.
دوسری طرف حریم نے واویلا کرنا چهوڑ دیا تها جب کسی کو اسکی پروا نہیں تو اس نے بے وجہ بولنا چهوڑ دیا تها بس چپ چاپ ساری تیاری دیکهتی رهتی کوئی بلاتا بهی تو بس هوں هاں میں ہی جواب دیتی
“صدیوں سے ہم بہنیں بیٹیاں هی باپ بهائیوں کی عزت پہ اپنے خواب قربان کرتی چلی آ رهی هیں ایک میں بهی سہی”
حریم نے دکھ سے سوچا اور آنکهیں موند لیں
.
.
.
.
.اور پهر بالاخر وہ دن بهی آ هی گیا جسکا ہر لڑکی کو بےصبری سے انتظار هوتا هے. مگر حریم کے لئے وہ دن بهی ایک عام دن کی طرح هی تها
سب مہمان آ چکے تهے بیوٹیشن کو گهر پہ هی بلایا گیا تها اور پهر کچھ هی دیر میں بیوٹیشن کے ماہر ہاتهوں اسکے خوبصورت چہرے کو خوبصورت ترین بنا دیا تها وہ خود اپنا آپ دیکهکر حیران هوئی تهی
روایتی سرخ عروسی لباس میں وہ اس وقت حد سے زیادہ حسین لگ رهی تهی
“ماشاءاللہ میری گڑیا بہت پیاری لگ رهی هو”
حنا بیگم نے اسکو پیار کرتے هوۓ کہا
دادی نے بهی بلائیں لیں
“تائی ماں مما کہاں هیں”
کچھ هی دیر میں یہ گهر اسکے لئے پرایا هونے والا تها سو کچھ دیر اپنی ماں کےساتھ گزارنا چاهتی تهی
“وہ ذرا مہمانوں کو دیکهه رهی هے ”
“مما دادو آپ دونوں کو چاچی بلا رهی هیں”
واسع نے کمرے میں جهانک کر کہا
“ابهی آتے هیں هم”
دادو جاتے جاتے بهی اسکی بلائیں لینا نہ بهولیں
انکے جانے کے بعد واسع اندر آیا

“واسع بهائی کیسی لگ رهی هوں”
بچپن سے لے کر اب تک جب بهی تیار هوتی واسع سے یہ سوال کرنا کبهی نہ بهولتی
“بہت پیاری لگ رهی هے میری بہن نظر نہ لگے”
“پهر ایک پکچر هوجاۓ”
ان لمحوں کو وہ اپنوں کےساتھ کهل کر جیناچاهتی تهی کہ پهر یہ وقت لوٹ کر تو نہ آۓ گا
“ایک منٹ میں ذرا رافع احسن احمد کو بهی بلاتا هوں پهر ساتهه میں پکچر لیں گے”
“اوکے”
اور پهر اگلے دو منٹ میں تینوں اسکے کمرے میں حاضر تهے
“اوۓ هوۓ کیا بات هے”
احمد حریم کو دیکهتے هوۓ بولا
“ماشاءاللہ نہ پهوٹ دینا منہ سے”
احسن نے احمد کی کمر میں دهمکا جڑتے هوۓ کہا
جبکہ رافع کی اسے اسطرح دیکهکر آنکهیں بهر آئیں تهیں
“رافع بهائی”
“ها.. هاں کیا هوا”
جلدی سے آنکهیں رگڑتا هوا بولا
“آپ رو رهے هو”
اور سب نے اسکی طرف دیکها
اور وہ حریم کو اپنے ساتهه لگا کر سچ مچ پهوٹ پهوٹ کے رو دیا
اس منظر نے باقی سب کی آنکهیں بهی نم کر دیں تهیں..
“بس اوۓ تهوڑے آنسو اسکی رخصتی کے لئے بهی سنبهال کر رکهه لے”
واسع نے کہا
“هاں یار اور دیکھ نا میک اپ بهی خراب هو جاۓ گا اسکا”
احسن نے لقمہ دیا
“فضول میں همیں بهی رلا دیا”
احمد کہاں پیچهے رهنے والا تها
“یار چلو پکچر کے لئے بلایا تها تم لوگوں کو اب چلو یہاں دیکهو سب”
واسع فرنٹ کیمرہ آن کرتا هوا بولا اور حریم سمیت سب نم انکهوں سے مسکرا دئیے
جبکہ دروازے پہ کهڑے فاروق اور سلمہ بیگم بهی اپنے آنسو صاف کرنے لگے
.
.
.”اب جو کچھ هے وہ شاہ میر هے. اپنے اس گهر کو بالکل بهول کر وهاں دل لگانے کی کوشش کرنا میرا بچہ”
سلمہ بیگم بولیں تو اس نے سر هلا دیا
“اب باپ بهائیوں کی عزت صرف تمهاری ہاتھ میں هے اس گهر سے اب صرف تیرا جنازہ هی نکلنا چاهئے تجهے ایک اچهی بیوی اور ایک فرمانبرار بیٹی بننا هے سمجهی”
“ماما آپ فکر مت کریں آپ لوگوں کا سر میری وجہ سے کبهی نہیں جهکے گا”
حریم مضبوط لہجے میں بولی
“خوش رهو آباد رهو”
پیار سے اسے اپنے ساتھ لگا لیا
.
.
بے شمار دعاؤں بہت سے پیار اور ڈهیروں نصیحتوں کے ساتھ وہ نہ چاهتے هوۓ بهی شاہ میر کی زندگی میں داخل هوئی….
**************

جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: