Mirwah ki Raatain by Rafaqat Hayat – Episode 5

0

میر واہ کی راتیں از رفاقت حیات قسط نمبر 5

ناشتہ کرتے ہوئے نذیر کو اپنی کوتاہی کا احساس ہو گیا۔ اسے دکان کی طرف سے تغافل نہیں کرنا چاہیے تھا۔ میرپور ماتھیلو سے شہربدر ہوتے ہوئے اس کے والد نے اسے نصیحت کی تھی کہ ٹھری میرواہ جا کر درزی کے کام میں دل لگانا۔ آدمی کے پاس کوئی ہنر ہو تو اس کی زندگی آسان ہو جاتی ہے۔ وہ اپنے چاچا کے پاس کام کرنے آیا تھا۔ پچھلے کئی دنوں سے دکان سے اپنی غیرحاضری کے حوالے سے وہ اس کی تشفی نہیں کر سکا تھا۔ اس کے چھوٹے موٹے بہانے زیادہ عرصے تک کارآمد نہیں ہو سکتے تھے۔ اسی لیے سنار کی بات سن کر وہ غصے سے لال بھبھوکا ہو کر اس پر برس پڑا تھا۔ چاچا کے غصے میں بھرے ہوئے سرخ چہرے میں نذیر کو اپنے والد کی جھلک دکھائی دی تھی۔
چاچا غفور سے تعلقات میں کشیدگی ختم کرنے کے لیے اس نے دکان پر وقت گزارنے کا فیصلہ کیا تاکہ اگر آج رات کسی نے اس کا خالی بستر دیکھ لیا تو وہ اس پر مچنے والے ممکنہ فساد کو دبانے میں کامیاب ہو سکے گا۔ نجانے کیوں اس کے دل کو دھڑکا لگا ہوا تھا کہ آج کی شب اس کے ساتھ کوئی ناخوشگوار واقعہ پیش آنے والا ہے۔
چاچی خیرالنسا ناشتے کے برتن اٹھانے کے لیے جھکی تو وہ خود کو اس کے سینے کی لکیر دیکھنے سے باز نہیں رکھ سکا۔ “کیا یہ اس نے مجھ پر ایک اور مہربانی کی ہے؟” وہ یہ سوچتا ہوا دکان جانے کے لیے اٹھا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
وہ دکان پر پہنچا تو وہاں چاچا کو نہ پا کر سخت حیران ہوا۔ اس کے سوال پوچھنے پر یعقوب کاریگر نے اسے بتایا کہ وہ کسی کام سے رانی پور گیا ہوا ہے۔ اس نے اپنی تشویش ظاہر کی کہ اس کا دوست پچھلے کچھ دنوں سے کسی ادھیڑبن میں مبتلا ہے۔ اب اس کی ہنسی پہلے کی طرح بے ساختہ نہیں رہی تھی اور باتیں کرتے کرتے وہ اچانک کہیں کھو سا جاتا تھا۔ بہت پوچھنے اور کریدنے کے باوجود اس نے اپنی الجھن کے بارے میں اسے نہیں بتایا۔ بتاتے بتاتے اس نے اپنی سلائی مشین روک دی اور کرسی پر آلتی پالتی مار کر بیٹھتے ہوئے اس نے بیڑی سلگائی اور بات کا سلسلہ وہیں سے دوبارہ شروع کیا۔ “میں یہ سمجھا کہ وہ کام کی وجہ سے پریشان ہے مگر وہ گھبرانے والا آدمی بھی نہیں۔ پھر مجھے خیال آیا کہ ہو سکتا ہے وہ دکان سے تمہاری غیرحاضری پر کڑھتا ہو، لیکن یہ بات مجھ سے چھپانے والی تو نہیں۔ کچھ اور ہی معاملہ لگتا ہے۔” اس نے چٹکی بجا کر اپنی بیڑی کی راکھ فرش پر جھٹکی۔
نذیر اب تک محویت سے اس کی باتیں سنتا رہا تھا۔ وہ اس کیفیت سے نکل کر، اس کے قریب جا کر رازداری سے کہنے لگا، “چاچا غفور پہلے ایسا نہیں تھا۔ آج تو اس نے رحیم سنار والی بات پر صبح صبح میری دھنائی کر دی۔”
یہ سن کر کاریگر داڑھی کھجا کر زور سے ہنسنے لگا۔ “مجھے کل ہی لگ رہا تھا کہ وہ گھر جا کر تمہیں نہیں چھوڑے گا۔ میں نے کل اسے بہت سمجھایا تھا کہ جوانی میں ہر آدمی دل لگی کرتا ہے۔ بلکہ اس نے خود کیا کچھ نہیں کیا، اور ابھی تک کرتا پھر رہا ہے۔”
“یعقوب، مذاق مت کرو۔ چاچا ایسا آدمی نہیں،” وہ ہچکچاتے ہوئے بولا۔
“ارے تمہیں کیا معلوم! وہ تو شادی بھی نہیں کرنا چاہتا تھا۔ اس لیے کہ اسے ایسا کرنے کی ضرورت نہیں تھی۔ اس نے لڑکپن میں ہی لیڈیز کپڑوں کا کام سیکھ لیا تھا اور اس زمانے میں تو عورتیں بھی گھروں سے کم ہی نکلتی تھیں۔ غفور کا باتیں کرنے کا انداز اتنا میٹھا ہوتا تھا کہ جو عورت اس کے ساتھ ایک یا دو مرتبہ بات کر لیتی، وہ اسی وقت اس کے شیشے میں اتر جاتی۔ جب کبھی وہ کسی کے کپڑے پہنچانے اس کے گھر جاتا تو دروازے پر ہی دو تین جملوں میں اس نازنین کا دل جیت لیتا۔ اس کی بے شمار راتیں گلیوں میں بھاگتے، دیواریں پھلانگتے اور معشوقاؤں کے گھروں کی چھتیں ٹاپتے گزرتی تھی۔ کبھی اس کی کسی محبوبہ کا بھائی تو کبھی کسی کا شوہر یا باپ نیند سے اٹھ جاتا۔ ہر بار وہ اندھیرے کا فائدہ اٹھا کر اپنی جان بچا کر بھاگ نکلا۔ صرف ایک مرتبہ وہ بہت برْے طریقے سے پھنس گیا تھا اور اسے پورا ہفتہ حوالات میں گزارنا پڑا تھا۔ ہوا یہ کہ میروں کے محلے میں ایک درزی تھا سائیں بخش۔ تین سال پہلے وہ مر گیا۔ غفور اس کی دکان پر کام کرتا تھا۔ دکان کی چابیاں ہمیشہ اسی کے پاس ہوتی تھیں۔ دکان والی گلی میں ایک بیوہ رہتی تھی۔ وہ غفور پر جان دیتی تھی۔ ایک شام اس نے بیوہ کو دکان پر بلوا لیا اور دکان کا شٹر گرا کر اس سے ملنے لگا۔ کسی نے بیوہ کو اندر گھستے ہوئے دیکھ لیا تھا، جس کی وجہ سے باہر شور مچ گیا۔ شٹر اٹھا تو لوگوں نے بیوہ کو تو جانے دیا مگر تمہارے چاچے کو تھانے میں بند کروا دیا۔ “ یعقوب کاریگر یہ باتیں سنانے کے بعد ہنسی میں لوٹنے لگا۔ تھوڑی دیر بعد اسے محسوس ہوا کہ اس نے اس کے بھتیجے کو کچھ زیادہ ہی بتا دیا۔ یہ سوچ کراس نے فوراً سنجیدگی اختیار کر لی۔
نذیر اس کی باتیں سن کر بہت محظوظ ہوا۔
“وہ میرا استاد ہے، مگر اب اسے خداجانے کیا ہوا ہے، وہ مرجھاتا جا رہا ہے، “ وہ افسردہ ہو کر بولا۔
کاریگر کے خاموش ہوتے ہی نذیر اپنی نشست پر جا بیٹھا اور پھر سے سلائی کے کام میں مصروف ہو گیا۔ اس کے بعد سارا دن انھوں نے کوئی خاص بات نہیں کی۔
شام سے ذرا پہلے غفور چاچا بکھرے ہوئے بالوں اور گرد میں اٹے ہوئے چہرے کے ساتھ دکان میں داخل ہوا۔ اپنی تھکاوٹ اور اضطراب چھپانے کے لیے اس نے ہنس کر ان سے دو چار باتیں کیں۔ یعقوب کاریگر نے اس سے رانی پور جانے کا سبب پوچھا تو اسے ٹالنے کے لیے اس نے گول مول جواب دے دیا۔ نذیر کو پتا چل گیا کہ وہ اس سے جھوٹ بول رہا تھا۔ کچھ دیر بعد وہ چاچا غفور سے اجازت لے کر دکان سے چلا گیا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
نذیر شام ڈھلنے سے کچھ دیر پہلے نہر کنارے واقع چائے خانے پر پہنچا تو وہاں پکوڑافروش کو اپنا منتظر پایا۔ وہ چائے پینے کا خواہشمند تھا مگر نورل نے اس کا ہاتھ تھام کر اسے اپنے ساتھ ایک نئی جگہ چلنے کے لیے کہا۔
وہ تاریک گلیوں میں چلتے ہوئے قصبے کے شمال میں واقع ایک مے خانے میں پہنچے۔ نذیر اچھی طرح جانتا تھا کہ اندرونِ سندھ کے بیشتر گوٹھوں اور قصبوں میں ایسے مے خانے عموماً مزاروں اور درگاہوں کا حصہ ہوتے ہیں، مگر اس کے علاوہ بھی کئی جگہوں پر قابلِ تعظیم سادات گھرانے کے معتقدین کی بڑی تعداد نے پنجتن پاک سے منسوب مخصوص نشان سے آراستہ بڑے بڑے سیاہ علم لگا کر ایسے مے خانے قائم کر رکھے ہیں۔ یہاں چرس اور بھنگ کے موالیوں کا ڈیرہ رہتا ہے۔ اسے معلوم تھا کہ یہاں آنے والے ہر خاص وعام کی تواضع بھنگ اور چرس سے کی جاتی ہے۔ یہاں سادات گھرانے سے تعلق رکھنے والوں کے علاوہ لاہوتیوں کو خاص احترام کی نظر سے دیکھا جاتا ہے۔ یہ مے خانے عموماً کسی قسم کی شان و شوکت اور آرائش سے بے نیاز ہوتے ہیں۔ موالی نشے کی جھونجھ میں سادات گھرانے کی قربانی، ان کے ساتھ ہونے والے مظالم، ان سے منسوب کرامات اور معجزات کا ذکر بڑھ چڑھ کر کرتے ہیں۔
وہ دونوں داخلی دروازے سے بے نیاز ایک مختصر سے احاطے میں داخل ہوئے جس کے اطراف دیواروں کے بجائے سوکھی شاخوں اور جھاڑیوں کی باڑھ تھی۔ یہاں کی زمین کچی مگر ہموار تھی۔ احاطے کے بیچوں بیچ مٹی کے چبوترے پر نصب ایک موٹے سے بانس پر سیاہ علم لگا تھا، جس پر پنجتن پاک کی نسبت سے مخصوص پنجے کی شکل کا نشان بنا ہوا تھا۔ اس کے اوپر ایک بلب روشن تھا، جس کی پھیکی سی روشنی میں ہوا سے لہراتا ہوا علم دکھائی دے رہا تھا۔ نیچے چبوترے پر دو چراغ جل رہے تھے جن کی لویں ہوا کے جھونکوں سے لرز رہی تھیں۔
احاطے کے ایک کونے میں گھاس پھوس کی ایک جھونپڑی سے باربار موالیوں کے نعرے بلند ہوتے سنائی دے رہے تھے۔ جھونپڑی میں داخل ہوتے ہی نورل نے بھی نعرہ حیدری بلند کر کے اپنی آمد کا اعلان کیا۔ کشادہ سی جھونپڑی کے عین وسط میں چھوٹے سے گول دائرے میں آگ کا مختصر سا الاؤ روشن تھا جس کے گرد پندرہ بیس موالی حلقہ بنائے بیٹھے تھے۔ ان کے قریب ہی ان دونوں کو زمین پر بچھی پیال پر بیٹھنے کی جگہ مل گئی۔ اس وقت وہاں چرس کی سلفی کا دور چل رہا تھا اور پوری جھونپڑی چرس کے دھویں اور بو سے بھری ہوئی تھی۔
موالیوں نے آس پاس ہٹ کر انہیں الاؤ کے قریب ہو کر بیٹھنے کے لیے جگہ دی۔ نذیر نے جیب سے پچاس روپے نکال کر ایک موالی کو دیے اور اسے بھنگ اور چرس لانے کے لیے کہا۔ وہاں بیٹھے موالی اس کی سخاوت سے متاثر ہوئے اور نورل سے پوچھ پوچھ کر اس کاتعارف حاصل کرنے لگے۔ نذیر عام طور پر زیادہ گفتگو نہیں کرتا تھا مگر ان بے کار لوگوں کے بیچ بے دھڑک بولنے لگا۔
الاؤ کے گرد بیٹھے لوگوں کے چہرے نشے کی کثرت سے سوجے ہوئے تھے اور ان کی آنکھیں گہری سرخ ہو رہی تھیں۔ نذیر کے تعارف کے بعد وہ سب ایک دوسرے پر تصوف کی جھوٹی سچی باتیں جھاڑنے لگے۔ ہر آدمی زیارتوں اور مزاروں کے قصّے سنا رہا تھا، جن سے نذیر کو کوئی دلچسپی نہیں تھی۔ وقفے وقفے سے کسی درگاہ کا کوئی بھولا بھٹکا درویش ادھر آ نکلتا تو مے خانے کی رونق اور بڑھ جاتی۔
نذیر نے اپنے نشے کی حد سے تجاوز کرتے ہوئے بھنگ کے دو گلاس چڑھائے اور گاہے بگاہے چرس کی سلفی کے کش بھی کھینچتا رہا۔ اسے خود پر اعتماد تھا کہ نشے کی زیادتی کے باوجود وہ نہیں بہکے گا۔ جب اس نے بہت زیادہ نشہ کر لیا تو اس کے دل میں کسی سے بھی بات کرنے کی خواہش یکسر ختم ہو گئی۔ الاؤ کے گرد بیٹھے ملنگوں کی بے سروپا لن ترانیوں پر وہ باربار اپنا سر دھنتا رہا۔ دھیرے دھیرے اس کی سماعت کے در بند ہونے لگے اور وہ ان کی آوازوں سے دور ہوتا چلا گیا۔ وہ یوں ہی خالی خالی نظروں سے موالیوں کے چہروں کو دیکھنے لگا۔ الاؤ کی مچلتی اور تلملاتی لپٹوں کی روشنی میں وہ سب کے سب اسے اس وقت بدروحوں جیسے معلوم ہونے لگے تھے۔ ان کے چہروں کی تمام سرخی ان کی آنکھوں میں سمٹ آئی تھی۔
جھونپڑی سے باہر گہری رات پھیلی ہوئی تھی۔ اس کی نظر جھونپڑی میں داخل ہونے کے لیے بنے ہوئے چوکھٹے پر ٹھیر گئی۔ آسمان پر ٹمٹماتے ہوئے تارے اسے صاف دکھائی دیے۔ اس نے ایک حواس باختہ شخص کو زور سے زمین پر پاؤں پٹختے ہوئے دیکھا اور ایک جھرجھری سی لی۔ ذرا فاصلے پر نورل جوگی بیٹھا تھا۔ نذیر نے اس کی طرف دیکھا تو اس نے اسے چلنے کا اشارہ کیا۔ وہ اپنے کپڑے جھاڑتا ہوا پیال سے اٹھا۔ اس نے اپنے دونوں ہاتھ جوڑ کر مے خانے کے موالیوں سے اللہ وائی کہا اور ڈگمگاتے ہوئے قدموں سے جھونپڑی سے باہر چلا گیا۔
وہ دونوں لہراتے ہوئے آہستگی سے قدم اٹھاتے ہوئے گلیوں میں چلنے لگے۔ رات کا پہلا پہر ابھی ختم نہ ہوا تھا مگر قصبے کی گلیوں اور سڑکوں سے زندگی رخصت ہو گئی تھی۔ لیکن نذیر کو شب کے تیسرے پہرکا شدت سے انتظار تھا۔ وہ مضطرب تھا مگر اس نے رستے بھر نورل سے کوئی بات نہ کی۔ وہ باربار اپنے تخیل میں ایک دیہاتی حویلی کی خواب گاہ میں حجاب سے بے نیاز شمیم کے بدن کے مہین خدوخال دیکھ رہا تھا، جو بے قراری سے وہاں اس کی منتظر تھی۔ وہ اس کے ساتھ اپنی گزشتہ بے ڈھب ملاقاتوں کو یاد کرتا رہا۔ اس کی انگلیوں کی پوریں اس کے اعضائے بدن کے لمس، اور اس کے ہونٹ اس کے لبوں کے نرم گرم بوسوں کے لیے مچل رہے تھے۔ اس کے گزشتہ لمس اور پرانے بوسوں میں لذت و سرور سے زیادہ افسوس اور تشنگی شامل تھی۔
گلیوں سے گزرتے ہوئے نورل اسے مختلف نصیحتیں کرتا رہا۔ “اس کے گھر پہنچنے کے لیے گاؤں کے اندرونی راستوں سے جانا تمہارے لیے ٹھیک نہیں ہو گا۔ اس نے جو بندوبست کیا ہے اس سے لگتا ہے وہ ذہین عورت ہے۔ اس لیے اس نے تمہاری آمد کے لیے پچھلے راستے کو چنا۔ اور دیکھو! اگر کوئی گڑبڑ ہو جائے تو تم اسی راستے سے باہر نکلنا۔ مولا مشکل کشا تمھاری مدد کرے گا۔ “
“نورل! اب مجھے وہاں جانے سے کوئی خوف نہیں،” نذیر نے اعتماد سے کہا۔
پکوڑافروش نے چلتے چلتے جماہی لی۔ “مگر یاد رکھنا! کسی کے گھر میں گھس کر اس کی عورت سے ملنا اتنا آسان نہیں۔”
اپنے گھر والی گلی کے کونے پر پہنچ کر ہاتھ ملاتے ہوئے اس نے نورل سے کہا، “تم اسی پرانی جگہ پر میرا انتظار کرنا۔ میں بالکل ٹھیک وقت پر پہنچ جاؤں گا۔”
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دروازے میں ہاتھ ڈال کر کنڈی کھول کر وہ گھر میں داخل ہوا اور ہولے ہولے چلتا ہوا برآمدے میں اپنی چارپائی تک پہنچا۔
چاچی خیرالنسا نے شاید اس کی آہٹ سن لی تھی، وہ کمرے سے باہر نکل آئی۔ چاچا غفورکے خرّاٹے برآمدے میں نذیر کو بھی سنائی دے رہے تھے۔
اسے دیکھ کر نذیر حیران ہوا مگر اپنی حیرت چھپاتے ہوئے کہنے لگا، “میں نے دروازے پر کنڈی لگا دی ہے۔ معاف کرنا میری وجہ سے تیری نیند ٹوٹ گئی۔ تو دوبارہ جا کر سو جا۔ میں خود ہی روٹی نکال کر کھا لوں گا۔”
خیرالنسا نے اپنے چہرے سے بال ہٹاتے اور سر پر چادر اوڑھتے ہوئے کہا، “میں نے تیرے لیے آج روٹی نہیں پکائی، اور سالن بھی تو گرم کرنا ہو گا۔”
یہ بات نذیر کے لئے یکسر خلافِ معمول تھی اس لیے اسے شدید حیرت ہوئی، لیکن وہ چپ سادھے رہا۔ وہ جماہی لیتی ہوئی باورچی خانے کی طرف چلی گئی۔
نذیر نے برآمدے کا بلب روشن کر دیا اور دوبارہ آ کر چارپائی پر بیٹھ گیا اور وہاں سے بیٹھے بیٹھے کمرے میں جھانک کر چاچے کی طرف سے ایک بار پھر اطمینان کرنے لگا۔ پھر وہ اٹھ کر غسل خانے میں جا کر ہاتھ منہ دھونے لگا۔ وہ نہیں چاہتا تھا کہ چاچی کو اس کے نشے کے بارے میں کچھ معلوم ہو۔
وہ دھیرے دھیرے چلتا باورچی خانے میں داخل ہوا اور چولہے کے پاس رکھی پیڑھی پر جا بیٹھا۔ چند لمحے خاموش رہنے کے بعد اس نے دھیمے لہجے میں کہنا شروع کیا: “ایک بات کہنا چاہتا ہوں۔ میں جب سے یہاں آیا ہوں، تْو میرا بہت خیال رکھتی ہے۔ یہ حقیقت ہے کہ تْو میری دور کی رشتے دار بھی نہیں لگتی۔ جو میرے رشتے دار ہیں، وہ سب کے سب مجھے گالیاں دیتے ہیں۔ میرپور ماتھیلو میں تھا تو وہاں ابا اور بھائی مجھے گالیاں دیتے تھے۔ اور یہاں پر میرا چاچا دیتا ہے۔ میں نے اچھی طرح سوچ لیا ہے کہ تھوڑے ہی دن میں ٹھری میرواہ بھی چھوڑ کر چلا جاؤں گا، اور کسی ایسی جگہ جاؤں گا جہاں سے کسی کو میری کوئی خبر نہیں مل سکے گی۔ آخر مجھے تو ہی بتا، کیا میں بہت خراب ہوں؟ کیا میں واقعی بہت برا شخص ہوں؟” کہتے کہتے وہ اچانک خاموش ہو گیا۔
اس کے کہے ہوئے جملوں نے چاچی کے دل پر بہت اثر کیا۔ وہ اس کے لیے پہلے سے جو ہمدردی محسوس کر رہی تھی اس کی یہ باتیں سن کر اس میں اضافہ ہو گیا۔ آج کا تمام دن اس نے نذیر کے بارے میں سوچتے ہوئے گزارا تھا۔ اس نے پہلی بار اپنے ذہن میں اس کے لیے ابھرنے والے جذبات کی رو کو دبایا نہیں تھا۔ اپنے شوہر کے نامناسب طرزِعمل پر وہ اسے جی ہی جی میں ملامت کرتی رہی تھی اور اسے مسترد کرتی رہی تھی۔ وہ بھی چاہتی تھی کہ نذیر سے صرف ایک بار ہی سہی مگر کھل کر بات کرے۔
اس نے اندازہ لگا رکھا تھا کہ شاید وہ اس سے کبھی کوئی بات نہ کرے، کیونکہ وہ اس کے گھر میں مہمان کی حیثیت سے رہتا تھا اور ان کے رشتے کی نوعیت بھی بے حد حساس تھی۔ اس نے سوچ کر خود سے ہی طے کر لیا تھا کہ بات کرنے میں وہ پہل کرے گی۔ نذیر کی اس کے لیے دلچسپی کے متعلق اسے اب پورا یقین ہو چکا تھا۔ وہ اس بات کا بخوبی اندازہ لگا چکی تھی کہ وہ ہار اب بھی اسی کے پاس تھا اور وہ موقع محل دیکھ کر اسے دینا چاہتا تھا مگر صبح کو پیش آنے والے واقعے کی وجہ سے اس نے جھوٹ بول دیا تھا۔ اس کی خواہش تھی کہ وہ اپنے لیے بنوایا جانے والا ہاردیکھے اور اسے اپنے گلے میں سجائے۔
مگر اس وقت وہ اس کے ہونٹوں سے ٹھری میرواہ چھوڑ کر جانے کی بات سن کر دھک سے رہ گئی تھی۔ اس کی افسردگی دیکھ کر وہ بھی آزردہ خاطر ہو گئی تھی۔ کاش وہ اسے بانہوں میں بھر سکتی اور اس کے لبوں کو چوم چوم کر اس کا غم اپنے اندر جذب کر سکتی۔
وہ کسمساتے ہوئے بولی، “دیکھ! تیرے چاچے کی بدگمانی اور غلط فہمی اب ختم ہو گئی ہے اور تْو نے اس کا شک دور کر کے اسے مطمئن کر دیا ہے۔ میں نے بھی اس سے بہت کچھ کہا سنا۔ اس کے بارے میں ایک بات میں اچھی طرح جانتی ہوں کہ وہ دل کا بْرا نہیں ہے۔ تم اسے چھوڑ کر نہیں جاؤ گے، ورنہ وہ ٹھری میرواہ میں اکیلا رہ جائے گا۔ “
نذیر غور سے اس کی طرف دیکھتا اس کی باتیں سنتا رہا۔
چاچی خیرالنسا نے مزید کہا، “میں اپنی شادی سے پہلے تمہاری رشتے دار نہیں تھی مگر اب تیری چاچی لگتی ہوں۔ اگر تم میری عزت کرتے ہو تو میرواہ چھوڑ کر نہیں جاؤ گے۔ نہیں جاؤ گے نا؟”
وہ جواب میں کچھ نہیں بولا۔ اپنا سرجھکائے چپ چاپ روٹی کا نوالہ چباتا رہا۔
وہ نذیر سے مثبت جواب سننا چاہتی تھی مگر اس کی خاموشی سے تلملا کر رہ گئی۔
“میں اسے اچھی طرح سمجھاؤں گی۔ آج کے بعد وہ تجھے کچھ نہیں کہے گا،” وہ پیڑھی پر بیٹھی بیٹھی پہلو بدل کر بولی۔
“بس چاچی، میں نے فیصلہ کر لیا ہے!” نذیر نے حتمی بات کہہ دی۔
اس کی خموشی کو اس کا اٹل فیصلہ سمجھ کر چاچی خیرالنسا چپ ہو گئی اور اذیت بھرے سانس لینے لگی۔
نذیر نے اس کی آنکھوں میں جھانک کر دیکھا تو وہاں اسے کرب کی خفیف سی لہر دکھائی دی۔
وہ رہ رہ کر سوچ رہی تھی کہ اس کے جانے کے بعد کیا ہو گا۔ اس کے بغیر اپنے بنجر ماہ و سال کا خیال اسے بہت ہول ناک محسوس ہو رہا تھا۔ زندگی پھر ویسی ویران اور بے مزہ ہو جائے گی جیسی کہ پہلے تھی۔
نذیر دل ہی دل میں سوچ رہا تھا: “یہ آخر رات کے اس پہر یہاں کیوں بیٹھی ہے؟ اپنے کمرے میں جا کر سو کیوں نہیں جاتی؟”
خیرالنسا نے دونوں بازو پھیلا کر انگڑائی لی تو وہ خود کو اس کی طرف دیکھنے سے نہیں روک سکا۔ وہ ہٹ دھرمی سے اس کے بدن کا جائزہ لیتا رہا۔ اسے محسوس ہوارہا تھاکہ وہ اگر چاہے تو ابھی اسی وقت اس سے ہمکنار ہو سکتا تھا۔ شاید اسی وجہ سے وہ اب تک یہاں بیٹھی تھی۔
کچھ دیر بعد وہ جھرجھری سی لیتی ہوئی اس سے پوچھنے لگی، “کیا تْو واقعی ہمیشہ کے لیے میرواہ سے چلا جائے گا؟”
نذیر اس کی تشویش پر مسکراتے ہوئے اٹھا اور نفی میں سر ہلاتے ہوئے باورچی خانے کے دروازے تک گیا۔ وہ اس کی مسکراہٹ اور اس کے اٹھ کر جانے کو نہیں سمجھ سکی۔ وہ دو لمحوں تک باہر جھانکنے کے بعد پلٹ آیا اور اس کے نزدیک آ کھڑا ہوا۔ “نہیں جاؤں گا۔ میں یہاں سے کبھی نہیں جاؤں گا۔ اور وہ بھی صرف تیری خاطر۔ “
اس کا جواب سن کر وہ ضبط کی کوشش کے باوجود ہنسنے لگی۔ “تو مجھے تنگ کرنے کے لیے یہ بات کر رہا تھا۔ جانتی ہوں تجھے!”
نذیر اس کے قدموں کے قریب بیٹھ گیا۔ اس کی آنکھوں میں جھانکتے ہوئے اس نے اس کے ہاتھ تھام لیے اور انہیں بے طرح چومنے لگا۔ اپنے ہاتھوں پر اس کے بوسوں کو محسوس کر کے وہ لرز کر رہ گئی۔ اس کے وجود پر چڑھا ہوا کوئی پرانا میل اتر نے لگا اور اس کے بدلے اس کے وجود پر ایک انوکھا اور منفرد رنگ چڑھنے لگا۔ اس نے کچھ دیر کے لیے کبوتر کی طرح آنکھیں میچ لیں۔ مگر اگلے ہی لمحے وہ اسے ہلکا سا دھکا دے کر اپنے ہاتھ چھڑا کر اْٹھ کھڑی ہوئی۔
دھکا لگنے سے وہ لڑکھڑا گیا۔ مگر اگلے ہی لمحے سنبھل کر تیزی سے آگے بڑھا اور اس نے خیرالنسا کو اپنے بازوؤں میں سمیٹ لیا۔ دونوں کے بدن کچھ دیر کے لیے ایک وجود معلوم ہونے لگے۔ وہ اس کے شانے کو چومتا ہوا اس کے چہرے تک پہنچا اور والہانہ انداز سے اس کے ہونٹوں پر بوسہ باری کرنے لگا۔ وہ اسے خود سے الگ کرنے کی کوشش کرتی رہی۔
نذیر نے اس کی سماعت میں شیریں سی سرگوشی کرتے ہوئے کہا، “میں یہاں سے نہیں جاؤں گا۔ میں تم سے پیار کرتا ہوں۔ تم بہت اچھی ہو۔”
وہ اس کے بوسوں کا جواب دینے کے بجائے کسمسا رہی تھی اور دھیرے دھیرے کہہ رہی تھی: “وہ جاگ جائے گا۔ وہ جاگ گیا تو بہت برا ہو گا۔ میں جاتی ہوں۔” یہ کہتے ہوئے اس نے نذیر کو اپنے آپ سے الگ کیا اور تیزی سے وہاں سے چلی گئی۔ اس کے جانے کے بعد وہ باورچی خانے میں کھڑا کچھ دیر تک اپنی بپھری ہوئی سانسیں درست کرتا رہا۔ پھر وہ جا کر برآمدے میں کھاٹ پر لیٹ گیا۔
لیٹے لیٹے وہ حیرت سے مسکرایا، پھر آہستگی سے ہنسنے لگا۔ وہ حیران تھا کہ اتنی بڑی انہونی آخر کیسے ہو گئی؟ مگر جو کچھ بھی ہوا وہ اچانک اور اس کے کسی ارادے کے بغیر ہوا تھا۔ اس نے اس کی دست درازی کا برْا نہیں مانا۔ اس نے کسی خفگی کا اظہار بھی نہیں کیا۔ اپنی اس غیرمتوقع کامیابی پر خوش ہوتے ہوئے اس نے اندھیرے میں اپنے ہاتھوں کو دیکھا اور انہیں اپنے ہونٹوں کے پاس لے جا کر چومتے ہوئے ان میں چھپے لمس کو محسوس کرنے کی کوشش کرنے لگا۔ اس نے اطمینان کا سانس لیتے ہوئے سوچا کہ اس کی زندگی میں چند اور خوشگوار لمحوں کا اضافہ ہو گیا۔ وہ مدت سے ایسی عورت کی تلاش میں سرگرداں تھا جو چند لمحوں کے لیے سہی، اس کے لیے اپنے جسم کی آغوش وا کر دے۔ وہ مستقبل سے وابستہ اپنی توقعات کے بارے میں سوچ سوچ کر لذت کشید کرنے لگا۔
آج کی رات اس کی زندگی کی سب سے خوش نصیب رات تھی۔ دو طرف سے اس پر لطف و کرم کی پھوار گرنے لگی تھی۔ یہ پھواراس کے بے قرار اعضائے بدن کو قرار دے رہی تھی۔ وہ چارپائی سے اتر کر صحن میں آ گیا۔ اس کی نگاہ اٹھ کر آسمان پر گئی اور وہاں چمکتے ہوئے ستاروں پر بھٹکتی رہی۔ ہر ستارہ اسے آج خوشی کا چراغ معلوم ہو رہا تھا۔ اس کا رنگ، اس کی چمک گویا کسی شادمانی کا اظہار کر رہی تھی۔ اس نے اس گھر کے درودیوار سے ملحقہ مکانوں کے ابھرے ہوئے نو ک دا ر سایوں کو دیکھا۔ رات کے اس پہر ہر مکان خاموشی اور تاریکی میں ڈوبا ہوا تھا اور تمام کھڑکیاں اور روشندان بند تھے۔
ٹہلتے ٹہلتے اسے چاچے غفور کا خیال آیا۔ وہ اس کی لاعلمی پر دھیرے دھیرے ہنسنے لگا، مگر اگلے ہی لمحے خود کو ملامت کرتے ہوئے اس عجیب وغریب انتقام پر حیران ہو گیا۔ اس نے اپنے دل میں چاچے کے لیے ہمدردی محسوس کی۔ اس نے گناہ کے شدید احساس کو ذہن سے نکالنے کی کوشش کی۔ خود کو سمجھایا کہ یہ سارا معاملہ اس کی مرضی کے بغیر خودبخود طے ہوا ہے۔ اس نے اس راز کے کھلنے کی صورت میں اپنے لیے منتظر بدنامی اور ذلت کے بارے میں سوچا تو اس کے جی میں آیا کہ اسی وقت دروازہ کھول کر کمرے کے اندر گھس جائے اور بوڑھے درزی کو ہلاک کر دے۔
جوگیوں کے گوٹھ جانے کا خیال جوکچھ دیرکے لیے اس کے ذہن سے محو ہو گیا تھا۔اب اچانک اسے شمیم یاد آئی تووہ چونک پڑا۔ اس نے گھڑی پر وقت دیکھا۔ ابھی اس کے گھر سے نکلنے میں پون گھنٹہ باقی تھا۔ پچھلی مرتبہ کی طرح اس بار بھی یہ سفر اسے دشوارگذار معلوم ہو رہا تھا لیکن وہ اچھی طرح جانتا تھا کہ اس کے لیے یہ سفر ناگزیر ہو چکا ہے۔
کچھ دیر آرام کرنے کے بعد وہ چارپائی سے اٹھا اور پہلے کی طرح اپنے تکیے کو رضائی کے نیچے رکھ کر اسے اس کے اوپر بچھا دیا۔ چپل پہن کر وہ دھیرے دھیرے دروازے کی طرف بڑھا۔ دہلیز پار کرنے کے بعد اس نے باہر سے دروازے پر کنڈی لگائی اور چل پڑا۔ وہ محتاط انداز میں دبے پاؤں چلتا ہوا مختلف گلیوں سے گزرا۔ اس نے مختلف جگہوں پر تعینات چوکیداروں کی سیٹیوں کو سنا تو اس کے حوصلے خطا ہونے لگے۔ ایک گلی میں داخل ہوتے ہی آپس میں گتھم گتھا دو آوارہ کتے اچانک اس کے سامنے آ گئے۔ اس کی سانسیں لمحہ بھر کے لیے ساکت ہو گئیں۔ ان کی چیخوں میں وحشت کے ساتھ ساتھ دہشت بھی تھی۔
ابھی بمشکل آدھا راستہ طے ہوا تھا۔ وہ چلتے ہوئے چاروں سمتوں میں باربار دیکھتا رہا۔ جوں جوں راستہ کٹ رہا تھا، اس کے قدموں میں ایک عجیب سی ڈگمگاہٹ آتی جا رہی تھی۔ اسے اپنے پورے وجود میں ڈر پھیلتا محسوس ہو رہا تھا۔ ایک بجلی کے کھمبے کے سائے سے خوف کھا کر اس نے لوٹ جانے کے بارے میں سوچا۔ چلتے چلتے وہ ٹھٹک کر رکا، مگر پھر دھیمی رفتار سے آگے بڑھنے لگا۔
اسے باربار یہ خیال ستا رہا تھا کہ کسی لمحے کوئی شخص اچانک اسے پکڑ لے گا اور چور یا ڈاکو سمجھ کر پولیس اسٹیشن لے جائے گا۔ وہ ہر مکان کے دروازے کو غور سے دیکھتا ہوا گزر رہا تھا۔ اسے لگ رہا تھا کہ اچانک سب کے سب مکانوں کے دروازے بھک سے کھل جائیں گے اور وہاں سے اچانک بہت سے لوگ باہر نکلیں گے اور اسے ہلاک کر ڈالیں گے۔ وہ خود کو ملامت کرنے لگا کہ آج کی شب اس نے بھنگ اور چرس کا استعمال ضرورت سے کچھ زیادہ ہی کر لیا تھا۔ اسی وجہ سے اس کا ذہن واہموں اور وسوسوں سے بھر گیا تھا۔ ان سے پیچھا چھڑانے کے لیے وہ تیزرفتاری سے چلنے لگا۔ اس نے آسمان کی طرف دیکھا تو اسے حیرت ہوئی۔ اسے اپنے گھر سے خوش باش نظر آنے والے ستارے یکسر تبدیل ہو گئے تھے اور اب آنکھیں مچمچاتے ہوئے اسے کینہ توز نظروں سے دیکھ رہے تھے۔ اسے لگ رہا تھا، زمیں و آسمان کے تمام مظاہر اور مناظر آج کی رات اس کے خلاف سازشوں میں مصروف تھے۔
وہ نہر کے کنارے پہنچا تو سردی کا احساس شدت اختیار کر گیا، مگر آج وہ سویٹرکے اوپر جرسی پہن کر آیا تھا۔ اس کے گلے میں مفلر بھی تھا۔ اس کے باوجود درختوں کے قریب سے گزرتے ہوئے وہ ٹھنڈ سے کپکپانے لگا۔ وہ آہستہ آہستہ چلتے ہوئے نہر کے پل تک پہنچا۔ یہاں ہر چیز دھند میں اٹی ہوئی تھی اور کہرا پڑ رہا تھا۔ پل کے نیچے سے گزرتا پانی مدھم سی سرگوشیاں کرتا بہہ رہا تھا۔ اس نے پل کی دیوار پر اپنا ہاتھ رکھا تو اس کا ہاتھ گیلا ہو گیا۔ پل سے نیچے اترنے سے پہلے اس نے رک کر گردوپیش کے منظر پر نظر دوڑائی۔ گہری تاریکی کے باوجود ایک مدھم سی روشنی سارے میں پھیلی ہوئی تھی۔ پل سے نیچے اتر کر وہ کچھ دیر کچی سڑک پر چلتا رہا۔ اس کے بعد وہ داہنے ہاتھ پر واقع کھیتوں کے اندرگھس گیا اور گیلی گھاس پر پاؤں جما کر چلنے لگا۔ کچھ آگے جا کر وہ ٹھہر گیا اور پکوڑافروش کو آوازدینے لگا۔ اس نے آس پاس بہت غور سے دیکھا۔ اسے نہ کہیں سے اٹھتا ہوا دھواں نظر آیا اور نہ ہی فضا میں چرس کی خوشبو محسوس ہوئی۔ وہ ہاتھ سے جھاڑیوں کو ٹٹولتا رہا مگر نورل اسے کہیں بھی نہیں ملا۔
اس نے انتظار کرنے کا فیصلہ کیا۔ وہ ایسی جگہ کھڑا ہو گیا جہاں سے اسے پْل آسانی سے دکھائی دے رہا تھا۔ بہت وقت گزرنے کے بعد بھی اس طرف سے کوئی نہیں آیا۔ وہ مخمصے میں تھا۔ اسے اپنے دوست سے اس بات کی توقع نہیں تھی۔ وہ اس پر ہمیشہ اندھا اعتماد کرتا رہا تھا۔
ملاقات کے لیے مقررہ وقت میں تھوڑی دیر باقی تھی۔ وہ سوچنے لگا کہ ہو سکتا ہے شمیم نے اس کے لیے دروازہ کھول دیا ہو، مگر رہ رہ کر اسے پکوڑافروش کی دغابازی تنگ کر رہی تھی۔ اس کے بغیر وہ خود کو بے آسرا اور بے بس محسوس کر رہا تھا۔ وہ گومگو کے عالم میں کچھ دیر وہیں کھڑا رہا۔ پچھلی بار بھی وہ اسی کے سہارے وہاں تک چلا گیا تھا، مگر آج وہاں تک جانا اسے پْرخطرمحسوس ہو رہا تھا۔ اس کا ذہن اسے باربار وہاں سے چلے جانے کے لیے کہہ رہا تھا مگر اس کا دل اس کے قدم روکے ہوئے تھا۔ رہ رہ کر اسے شمیم کا مخملیں بدن یاد آ رہا تھا۔ اس کی یاد کی کشش خودبخود اس کے قدموں کو اپنی طرف کھینچنے لگی۔
وہ چاروں طرف سے کماد کی فصل میں گھرا ہوا تھا۔ اِدھراْدھر نظر ڈالنے پر اسے ایک پگڈنڈی دکھائی دینے لگی اور وہ اس پگڈنڈی پر چلنے لگا۔ کچھ آگے جا کر وہ فصل سے باہر نکلا۔ احتیاط سے آس پاس دیکھتے ہوئے اس نے گوٹھ کی جانب جانے والا راستہ عبور کیا اور اس طرف کھڑی فصل کے اندر چلا گیا۔ فصل کے درمیان چلتے چلتے اسے پانی کی قلقاریاں سنائی دینے لگیں۔ پانی کا نالا قریب ہی واقع تھا۔ کچھ دور جا کر وہ ایک بار پھر کماد کی فصل سے باہر نکلا اور سیمنٹ سے بنے پختہ نالے کے ساتھ ساتھ چلنے لگا۔ شرینہہ کے درخت کے پاس پہنچ کر وہ نالے کے کنارے پر بیٹھ گیا۔ آج اس کی سطح اْس دن سے بھی زیادہ ٹھنڈی محسوس ہو رہی تھی۔ وہ ٹھنڈ سے کانپنے لگا تھا۔ نورل کی غیرحاضری پر اسے جی ہی جی میں غصہ آ رہا تھا۔ اس کا ذہن اب بھی اسے واپس جانے پر اکسا رہا تھا۔ وہ باربار اس خیال کو رد کر رہا تھا۔ اس کے دل میں کہیں یہ خواہش بھی چٹکی لے رہی تھی کہ وہ جا کر حویلی کے اس دروازے کو نزدیک سے دیکھ لے جہاں سے اس دن شمیم آئی اور گئی تھی۔
اس نے آس پاس نگاہ دوڑائی۔ کماد کی فصل میں یخ ہوا کے جھونکے سرسرا رہے تھے۔ ان کی سرسراہٹ پر اسے باربار کسی چڑیل کی ہنسی کا گمان گزرتا تھا۔ وہ گرد ن موڑموڑ کر اس جانب دیکھنے لگتا تھا۔ اس طرف پانی کے نالے کی لکیر دور تک چلی گئی تھی جبکہ دوسری طرف ایک کھیت خالی پڑا ہوا تھا۔ وہاں اگلے مہینے کپاس کا بیج ڈالا جانا تھا۔
وہ ٹھٹھرتا کانپتا ہوا نالے پر بیٹھا، شمیم سے اب تک ہونے والی ملاقاتوں کو یاد کرتا رہا۔ یاد کی شدت نے اسے اٹھنے پر مجبور کیا۔ وہ اٹھ کر خالی کھیت کی جانب بڑھا۔ کھیت میں چلتے ہوئے اس کے پاؤں کے نیچے سوکھی لکڑیاں چرچرانے لگیں۔
“وہ شاید آخری مکان میں رہتی ہو گی، نورل جسے باربار حویلی کہہ رہا تھا،” اس نے سوچا۔ وہ دھیرے دھیرے چلتا ہوا اس کے قریب پہنچا اور اردگرد دیکھنے لگا۔
اسے معاً کسی دروازے کی کنڈی اترنے کی آواز اور پھر دروازہ کھلنے کی چرچراہٹ سنائی دی۔ چند لمحوں کے بعد ایک دھیمی سی ہشکار اس کے کانوں میں پڑی۔ اس نے شمیم کے سائے کو دروازے سے باہر جھانکتے ہوئے دیکھا تو اطمینان کی لمبی سانس لینے لگا۔ اس کے ذہن سے تمام اندیشے اور وسوسے آناً فاناً مٹ گئے۔ ناہموار زمین پر دھیرے دھیرے چلتا ہوا وہ اس کے قریب پہنچ گیا۔ رات کے تیسرے پہر جب دنیا گھٹاٹوپ اندھیروں کے فسوں میں لپٹی، نیند کے خمار میں ڈوبی ہوئی تھی، دو پیار کرنے والوں کے سائے ایک دوسرے کے نزدیک آ کر، ٹھٹک کر رک گئے۔ ان کے ہونٹوں پر مسکراہٹوں کے جگنو دو لمحوں کے لیے جگمگائے اور انہیں لاحق تشویش کی دھند میں چھپ گئے۔
“میں بہت دیر سے تمھاری منتظر ہوں۔ تین بار دروازے سے باہر جھانک کر دیکھا مگر تم نظر نہیں آئے۔ میں پریشان اور مایوس ہو رہی تھی۔ مجھے لگ رہا تھا کہ تم نہیں آؤ گے۔ شاید تم مجھ سے روٹھ گئے… یا۔۔۔” وہ دھیمے لہجے میں بات کرتی کرتی رک گئی۔ اس کے لہجے کے اتارچڑھاؤ سے ظاہر ہو رہا تھا کہ وہ اپنی موجودہ صورتِ حال سے گھبرائی ہوئی ہے اور اسے اپنی باتوں میں ظاہر نہیں کرنا چاہتی۔
نذیر نے آہستگی سے کہنا شروع کیا: “میں یہاں بہت پہلے پہنچ جاتا مگر میرا رازدار عین وقت پر آج مجھے دھوکا دے گیا۔ پھر تم جانتی ہی ہو کہ آدھی رات کو قصبے سے نکل کر اس طرف آنا کتنا بڑا جوکھم ہے۔ ہے کہ نہیں؟” وہ اپنے استفسار کے بعد شمیم کی طرف دیکھنے لگا۔
وہ جواب دینے سے پہلے دھیرے سے ہنسی۔ اس کی ہنسی کی مدھم سی کھنک نے سناٹے کا سینہ چاک کر دیا۔ “جوکھم تو ہے، مگر تم سے زیادہ بڑا جوکھم تو میں نے مول لیا ہے۔ سنو!میرے سب گھروالے اس وقت گہری نیند سو رہے ہیں۔ تم چیزوں کو دیکھ بھال کر آہستہ آہستہ میرے پیچھے آؤ۔ دیکھو، کسی چیز سے ٹکرا کر گر مت جانا!” اس کے لہجے سے جھلکتی شوخی یہ عندیہ دے رہی تھی کہ وہ اپنی تشویش اور گھبراہٹ پر قابو پاتی جا رہی ہے۔
وہ آگے بڑھی تو نذیر بولایا ہوا سا دروازے کو بھیڑتا ہوا اندر داخل ہوا۔
شمیم نے پلٹ کر اسے دیکھتے ہوئے پوچھا، “سمجھ گئے نا؟ آؤ۔”
نذیر نے چند قدم آگے بڑھا کر اس کے کندھے پر ہاتھ رکھ دیا۔ “کوئی خطرہ تو نہیں ہے؟”
یہ بات سن کر اس نے بمشکل اپنے آپ کو ہنسنے سے روکا۔ “ڈرتے ہو تویہاں تک آئے کیوں ہو؟” یہ کہہ کر وہ آگے چل پڑی جبکہ وہ ہولے ہولے اس کے پیچھے آنے لگا۔
دروازے سے کچھ دور جا کر ایک طویل برآمدہ شروع ہوتا تھا جہاں کئی ستون قطاروار کھڑے تھے۔ برآمدے میں ایک طرف تین کمرے واقع تھے جن کے دروازے بند تھے۔ برآمدے سے گزر کر وہ ایک کشادہ صحن میں آ گئے۔ صحن میں سو کینڈل پاور کے ایک بلب کی پھیکی سی روشنی پھیلی تھی۔ نذیر دبے پاؤں چلنے کی کوشش کر رہا تھا مگر اس کے بے ترتیبی سے پڑتے ہوئے قدم آواز پیدا کررہے تھے، جبکہ شمیم اس طرح بے آواز قدم اٹھا رہی تھی جیسے پانی کی سطح پر چل رہی ہو۔
کشادہ صحن میں چلتے چلتے داہنی طرف واقع ایک بڑے سے چھپر کے نیچے پہنچ کر وہ دونوں ٹھہر گئے۔
“میں نے تمھارے لیے بہت پہلے سے ہی چائے تیار کر لی تھی۔ تم یہاں کھاٹ پر بیٹھو۔ میں چائے لے آتی ہوں۔” یہ کہہ کر وہ کشادہ صحن کے کونے پر واقع باورچی خانے کی سمت چلی گئی۔
نذیر اسے بلب کی پھیکی روشنی میں جاتے ہوئے دیکھتا رہا۔ وہ اپنے دل و دماغ میں شدید بے قراری محسوس کر رہا تھا۔ اس وجہ سے اس کے لیے بیٹھ جانا ممکن نہیں ہو رہا تھا۔ وہ چھپر کے نیچے دھیرے دھیرے ٹہل کر گھر کا جائزہ لینے لگا۔ یہاں سے اس کی نگاہ پورے گھر کا احاطہ کر رہی تھی۔ اس نے باورچی خانے سے ملحقہ لکڑی کے اونچے سے دروازے کو دیکھا جو شاید گھر میں داخل ہونے کا مرکزی راستہ تھا۔
شمیم کو واپس آتا ہوا دیکھ کر وہ بیٹھ گیا۔ اس نے ایک ہاتھ میں کیتلی اور دوسرے میں دو پیالیاں اٹھا رکھی تھیں۔ چھپر کے نیچے پہنچ کر اس نے پیالیاں کھاٹ پر رکھ دیں اور کیتلی سے ان میں چائے انڈیلنے لگی۔
نذیر خوش دلی سے گویا ہوا، “تم نے بہت اچھا کیا کہ اس وقت چائے بنا لی۔”
شمیم چائے کی پیالی اس کی طرف بڑھاتے دھیرے سے ہوئے بولی، “رات میں سردی بہت زیادہ ہوتی ہے اور پالا بھی گرتا ہے۔ اس لیے اس وقت چائے بہت ضروری تھی۔”
“میں پہلی بار تمھارے ہاتھ سے بنی چائے پیوں گا،” نذیر نے چائے کی چسکی لیتے ہوئے کہا۔ اس نے شمیم کی طرف دیکھا تو وہ اپنے سر پر ڈوپٹہ اوڑھے ہوئے بیٹھی تھی۔
“تم جانتے ہو، مہمان نوازی تو ہماری رگ رگ میں شامل ہے۔”
“بالکل ٹھیک کہتی ہو،” وہ چائے کا گھونٹ لے کر کہنے لگا۔ “درازہ شریف میں ہونے والی ملاقات کے بعد میں سمجھا کہ تم ڈر گئیں اور اب مجھ سے ملنا نہیں چاہتی۔ “
وہ ہنسی۔ “میں تم سے نہیں ملنا چاہتی؟ اچھا! تو تم میرے بارے میں یہ سوچتے رہے؟ مجھے تاپ چڑھ گیا تھا۔ پورا ایک ہفتہ میں کھاٹ پر بیمار پڑی رہی۔ نوراں نے تمھارے پیغام مجھ تک پہنچائے تو تھے مگر میں نے ملنے سے منع کر دیا تھا۔”
“مگر میں تمھاری بیماری کے متعلق کچھ نہیں جانتا۔”
“میں نے اسے کہا تو تھا کہ وہ اس بارے میں تمھیں بتا دے۔” وہ باربار گردن گھما کر برآمدے کی طرف دیکھ رہی تھی۔
“اس روز تمھارے شوہر کو مجھ پر شک تو نہیں ہوا؟”
وہ کسمسا کر بولی، “اسے شک نہیں ہوا۔ ویسے قبرستان بہت خوفناک جگہ ہے۔ قبروں کے درمیان پیار کی باتیں کرنا مجھے عجیب لگ رہا تھا۔ مگر تم مجھے اچھے لگتے ہو اس لیے تم سے ملنے کی خاطر میں وہاں چلی آئی۔” وہ مسکرائی۔
“مجھے تم سے وہاں ملنے کے لیے جب کوئی اور جگہ نہیں مل سکی تو قبرستان کا انتخاب کرنا پڑا۔” وہ پہلی بار ہنسا۔ “تمھارے ہاتھوں کی چائے بہت مزیدار ہے۔”
اپنی تعریف سن کر وہ مسکرائی، پھر اسے اپنے شوہر اور اپنے سسرال والوں کے بارے میں بتانے لگی۔ اس کی یہ باتیں سنتے ہوئے نذیر جماہیاں لینے لگا۔ وقفے وقفے سے گوٹھ کے آوارہ کتوں کے بھونکنے کی آوازیں سنائی دے رہی تھیں۔ چھپر کے کسی کونے میں چھپا ہوا جھینگر بھی مسلسل شور مچا رہا تھا۔
اس کی باتوں کے دوران نذیر نے اپنی جیب سے اس کے لیے بنوایا ہوا ہارنکالا اور اسے ہاتھ میں لہرا کر اسے دکھاتے ہوئے کہنے لگا، “میں نے سنارسے تمھارے لیے یہ ہار بنوایا ہے۔”
ہار کو دیکھ کرشمیم اپنی خوشی کو دبا نہ سکی۔ وہ بے ساختہ ہنسنے لگی۔ “میرے لیے؟”
“ہاں، تمھارے لیے۔ اگر تم اجازت دو تو میں یہ ہارتمھاری گردن میں پہنا دوں۔”
اسے جواب دینے کے بجاے وہ شرمانے لگی۔ نذیر اٹھ کر اس کے نزدیک آ کھڑا ہوا۔ اس نے اپنے دونوں ہاتھوں میں ہار تھام لیا اور ذراسا جھک کر اپنے یخ بستہ ہاتھ اس کی نرم گردن تک لے گیا۔ اس کی انگلیاں اس کی مخملیں گردن کو چھونے لگیں۔
اس نے چہرہ جھکا لیا تھا۔ اس کی انگلیوں کو گردن پر محسوس کرتے ہوئے اسے گدگدی سی محسوس ہو رہی تھی۔ وہ اپنے آپ کو ہنسنے سے مشکل سے روکے ہوئے تھی۔ اس کی بنجر اور بیزار زندگی کے لیے یہ لمحات مسرت و شادمانی سے بھرپور تھے، مگر ساتھ ہی اس کے دل کو گھر کے کسی فرد کے جاگ اٹھنے کا دھڑکا بھی لگا ہوا تھا۔ اسی لیے وہ اپنی خوشی کا دبا دبا اور گھٹا گھٹا سا اظہار کر رہی تھی۔
کم روشنی کی وجہ سے نذیر ہار کی زنجیر بند نہیں کر سکا۔ عاجز آ کراس نے ہار شمیم کی ہتھیلی پر رکھ دیا۔ “یہ تم خود ہی پہن لینا۔ اور اب اپنے پیارے پیارے ہاتھ مجھے دکھاؤ۔” وہ اس کے مقابل آ کر زمین پر بیٹھ گیا اور اس کے سمٹے ہوئے نرم ہاتھوں کو اپنے کھردرے ہاتھوں میں لے کر انہیں دبانے لگا۔ پھر انہیں اپنے چہرے پر لے جا کر محسوس کرتا رہا۔ اس کے بعد وہ اس کی ہتھیلیوں کو اپنے ہونٹوں سے چومنے لگا۔
“ہار نیچے گر گیا،” شمیم نے سرگوشی سے اسے بتایا۔
نذیر فوراً اس کے ہاتھوں کو چھوڑ کر، زمین پر جھک کر مٹی میں ہاتھ مارتے ہوئے ہار ڈھونڈنے لگا۔ کچھ ہی دیر میں وہ اسے مل گیا۔ اس نے اپنی قمیض سے ہار صاف کر کے اسے تھما دیا۔ “تم پہن لو ابھی۔”
شمیم نے اس کا کہا مان لیا اور ہار پہن لیا۔ اس کے بعد اس نے کیتلی اٹھائی اوراس میں سے چائے انڈیل کر اسے پینے کے لیے دوسری پیالی پیش کی۔ چائے پیتے ہوئے وہ مسلسل اس کی تعریف کرنے لگا۔ شمیم نے جب اس سے ہار کی قیمت دریافت کی تواس نے ہار کی جھوٹی قیمت بتائی۔ زیادہ قیمت کا سن کر وہ مرعوب ہوئی اور اسے اپنے پاس پہلے سے موجود زیورات کے متعلق بتانے لگی۔
اس کی بات کاٹتے ہوئے نذیر نے کہا، “آج میں صبح تک تمھارا مہمان ہوں۔”
“ہاں میرے پیارے۔”
اس مرتبہ نذیر اس کے نزدیک ہی بیٹھ گیا اور بیٹھتے ہی اس نے اپنا ہاتھ اس کی کمر کے گرد حمائل کر دیا۔ اگلے ہی لمحے کسی مزاحمت کے بغیرشمیم اس سے لپٹ گئی۔ نذیرکے پیاسے اور خشک ہونٹ شمیم کے نازک اور شیریں لبوں سے زندگی کا رس کشید کرنے لگے۔ وہ اس کے بوسوں کی شدت کے سامنے عاجز اور بے بس ہوتی چلی گئی۔ اس نے آنکھیں زور سے میچ لیں اور خود کو اس کے پیار کی ٹھاٹھیں مارتی ہوئی ندی کے دھارے پر چھوڑ دیا، جو اس کے لبوں سے ہوتا ہوا دھیرے دھیرے اس کے پورے وجود تک پھیلتا چلا گیا۔ نذیر کا جوش جتنا بڑھتا جا رہا تھا وہ اس کے بازوؤں میں اتنی ہی سمٹتی جا رہی تھی، پگھلتی جارہی تھی۔ کچھ ہی دیر میں دونوں اپنی قباؤں سے بھی یکسر بے نیاز ہو گئے۔
پہلی بار کسی عورت کا جسم نذیر کے سامنے پوری طرح کھلا تھا۔ خود کو سنبھالنے کی کوشش کے باوجود اس کی وحشت بے قابو ہوتی جا رہی تھی۔
شمیم آنکھیں میچے لمبے سانس بھر رہی تھی۔ اس کا ہر سانس، اس کی ہر سسکی، اس کی ہر لذت بھری آہ نذیر کی احسان مند تھی۔ اس کی رگوں میں عرصے سے جما ہوا لہو کسی آتش فشاں کی طرح پھٹ پڑا تھا۔ اس کی نرم و گداز اندام نہانی گلاب کے پھول کی طرح کھلی ہوئی تھی اور عضوِ خاص کے لیے مچل رہی تھی۔
چھپر کی چھت سے اچانک ایک غراتی اور چیختی ہوئی بلی نذیر کی پشت پر آ گری۔ اسے محسوس ہوا کہ کوئی چڑیل آ کر اس کی پیٹھ سے چمٹ گئی ہے۔ نذیر کا منھ زوردار چیخ کے لیے کھلنے ہی والا تھا کہ شمیم نے اس پر ہاتھ رکھ دیا، مگر اس بیچارے کی روح فنا ہو چکی تھی۔ بلی کے پنجوں نے نذیر کی پشت کو زور سے رگیدا۔ اس کے بعد وہ اس کی پشت سے اتر کر چھپر کے کونے میں کہیں غائب ہو گئی۔
بلی کے پنجوں کی رگڑ، اس کے جسم کے وزن اور اس کی لجلجاہٹ نے اسے لذت بھرے طلسمی دریا سے نکال کر باہر اچھال دیا۔ وہ چند لمحے نسوانی جسم پر بے سُدھ لیٹا رہا۔ اس بدن کے بوجھ سے شمیم کی سانسیں گھٹنے لگیں۔ وہ ا س کے نیچے تڑپ رہی تھی اور آہیں بھر رہی تھی۔ دفعتاً نذیر نے اپنا سر اٹھایا اور صحن سے ملحقہ برآمدے کی طرف دیکھا اور گھر کی دیگر اشیا پر بھی نگاہ ڈالی۔ اسے محسوس ہونے لگا کہ نیند اور سکوت میں ڈوبا ہوا گھر اور اس کی تمام چیزیں یک بہ یک بیدار ہو گئی ہیں اور اس بلی کی طرح غراتی ہوئی اس کی جانب لپک رہی ہیں۔ خوف اور دہشت کے سبب اس کے جسم کے ایک ایک عضو میں تشنج کی لہر سی دوڑ گئی۔
شمیم کا ہاتھ اٹھا اور اس کے سر کے بالوں سے اٹکھیلیاں کرنے لگا۔ وہ اس کی حوصلہ افزائی کرتے ہوئے دھیرے سے گویا ہوئی، “کیا ہوا؟ تم ایک بلی سے ڈرگئے؟”
نذیر نے سنجیدگی سے اس کی طرف دیکھا۔ “اس نے تو میری جان ہی نکال دی،” اس نے تیز اور طویل سانس کھینچتے ہوئے کہا۔ “مجھے لگا کہ وہ کوئی بلی نہیں، بلکہ کوئی غیر مخلوق ہے۔” اس کی یہ بات سن کر شمیم افسوس سے سر ہلانے لگی۔
اسے سر ہلاتے دیکھ کر نذیر کو اپنی شکست کا احساس ہونے لگا۔ وہ اپنی خفت مٹانے کے لیے اس پر دوبارہ دراز ہو گیا اور اس کے کانوں کی لووں کے آس پاس کے نرم و گداز علاقے پر اپنے بوسوں کی بارش کرنے لگا۔ مگر اس مرتبہ اس کے بوسوں میں نہ پہلے والی حدت رہی تھی اور نہ ہی وہ شدت۔ پہلے بوسوں کے دوران اس کے انگ انگ پر عجیب سی مستی چھا گئی تھی۔ وہ ایک طائرِ آزاد کے مانند فضاے جسم کے تمام گوشے دریافت کرتا رہا تھا اور نت نئی دریافتوں کے لیے کوشاں تھا، لیکن اب اس کے ہر بوسے سے بیزاری کا احساس نمایاں ہو رہا تھا۔ اس کے لیے وہ کارِ لذت سے زیادہ عذابِ جاں بن کر رہ گیا تھا۔ وہ اس کی گردن کی مہین و نازک جلد کو اپنے لبوں سے چومتا اور نوکِ زبان سے چاٹتا رہا مگر اس کے اندر کی تحریک مردہ ہو چکی تھی اور اس کے لہو میں سنسناتے، کلبلاتے، تڑپتے، تلملاتے سارے جذبے سرد پڑ چکے تھے۔ اچانک وہ شمیم کے اوپر سے ہٹا اور اس کے برابر میں لیٹ گیا۔
شمیم کروٹ لیتی ہوئی اٹھی اور کھاٹ سے اتر کر جلدی جلدی کپڑے پہننے لگی۔ نذیر نے کھاٹ پر لیٹے لیٹے اپنا ہاتھ بڑھا کر اس کا ہاتھ تھام کر اسے اپنی طرف کھینچا، مگر اس نے ایک ہی جھٹکے سے اپنا ہاتھ چھڑا لیا۔ اس کی گرفت مضبوط نہیں تھی۔ اس نے دھیمے لہجے میں آواز دے کر اسے بلانا چاہا، مگر وہ اس کے قریب نہیں آئی۔ وہ ذرا پرے ہو کر آہیں بھرتی اپنے لباس کی شکنیں درست کرتی رہی۔ پھر وہ آنگن میں رکھی گھڑونچی کی طرف گئی، اس نے مٹکے کو لٹا کر کٹورے میں پانی انڈیلا اور اس کے بعد زمین پر بیٹھ کر گھونٹ گھونٹ پانی پینے لگی۔
نذیر شدید اذیت میں تھا۔ وہ کچھ دیر تک بے تکے انداز میں چارپائی پر ٹانگیں لٹکائے بیٹھا رہا، پھر نیچے اتر کر کپڑے اٹھائے کونے میں چلا گیا۔ شمیم پیتل کے کٹورے میں اس کے لیے پانی لے آئی۔ وہ اس کے ہاتھ سے پانی کا کٹورا لے کر کئی دنوں کے پیاسے شخص کی طرح یک ہی گھونٹ میں سارا پانی پی گیا۔
“میری ساس تھوڑی دیر میں اٹھنے والی ہے، اگراس نے دیکھ لیا تو یہ ہم دونوں کے لیے اچھا نہیں ہو گا،” وہ دھیمے لہجے میں بولی اور اس کے ہاتھ سے کٹورا لے کر دور ہٹ کر کھڑی ہو گئی۔
وہ اس سے کچھ دیر باتیں کرنا چاہتا تھا، اسے اپنی حالتِ زار کے بارے میں بتانا چاہتا تھا، لیکن اس کی بات سننے کے بعد اس میں کچھ بھی کہنے کا حوصلہ نہ رہا۔ وہ ہونق نظروں سے اسے دیکھتا رہا۔ اسے احساس ہو چکا تھا کہ اب اس کی تمام گرم جوشی پر اوس پڑ چکی ہے۔ نذیر اٹھا۔ اس نے اثبات میں سر ہلایا اور دھیرے دھیرے صحن کی طرف بڑھنے لگا۔
صحن سے برآمدے میں آتے ہوئے وہ ایک ستون سے ٹکرایا۔ وہ خود کو سنبھالنا چاہتا تھا مگر اس کے اعصاب پر ایک حواس باختگی طاری ہو چکی تھی۔ کھیتوں کی طرف کھلنے والے دروازے سے نکلتے ہوئے اس کا پیر چوکھٹ سے بھی ٹکرا یا۔ اس مرتبہ وہ لڑکھڑایا اور باہر کی طرف منھ کے بل گرتے گرتے بچا۔ وہ سنبھل تو گیا مگر اس کے پاؤں کی ڈگمگاہٹ ختم نہیں ہو سکی۔ وہ گھر سے باہر نکلا تو اس کی آنکھوں کے سامنے اندھیرا سا چھایا ہوا تھا۔ اسے کچھ نظر نہیں آ رہا تھا، نہ راستہ، نہ مکان، نہ کھیت۔ وہ ڈگمگاتا اور لڑکھڑاتا ناہموار زمین پر چلتا رہا۔ وہ پلٹ کر دیکھنا چاہتا تھا مگر دیکھ نہیں سکا۔ وہ جانتا تھا کہ پیچھے دو آنکھیں اسے رخصت کرنے کے لیے موجود ہیں۔ اپنی ندامت اور خفت کے سبب اس کے لیے ان آنکھوں کی طرف دیکھنا ممکن نہ تھا۔ وہ جلدازجلد یہاں سے دور جانا چاہتا تھا تاکہ ان آنکھوں کی پہنچ سے نکل جائے۔
شمیم گھر کے دروازے سے لگ کر نڈھال کھڑی آہیں بھرتی رہی اور اسے جاتے ہوئے تکتی رہی۔ کچھ دیر بعد اس نے دروازہ بند کر دیا اور کنڈی چڑھا دی۔
نذیر کا وجود درد کا گولہ بنا ہوا تھا۔ اس کی ٹانگیں دکھ رہی تھیں۔ بازوؤں میں اتنا شدید درد تھا کہ اسے لگتا تھا کہ وہ کٹ کر اس کے کاندھے سے جھول رہے ہیں۔ زمستاں کی رات میں گرتے کہرے اور پالے میں اسے اپنا خون اور اپنی سانسیں منجمد ہوتی محسوس ہو رہی تھیں۔ وہ اوبڑکھابڑ زمین پر دقت کے ساتھ قدم رکھتا رہا۔
وہ شرینہہ کے دیوقد پیڑ کے پاس پانی کے نالے پر بیٹھ گیا۔ آنے کے بعد وہ اسی جگہ بیٹھ کر شمیم کا انتظار کرتا رہا تھا۔ نالے کی سیمنٹ کی سطح اسے پہلے سے بہت زیادہ یخ محسوس ہو رہی تھی۔ وہ بیٹھ کر اپنے ہاتھوں کو مسلنے لگا تاکہ وہ گرم ہو سکیں، مگر بہت دیر تک ہاتھ مسلتے رہنے کے باوجود ان میں حرارت پیدا نہ ہو سکی۔ اس کی ٹانگیں بھی وقفے وقفے سے کانپ رہی تھیں۔
وہ اچانک اْٹھا اور ایک پگڈنڈی پر دوڑ کر رگوں میں جامد خون کو گرم کرنے کی کوشش کرنے لگا۔ کچھ دور جا کر رات کے پالے سے بھیگی ہوئی پگڈنڈی پر اس کا پاؤں پھسلا اور وہ کماد کی فصل میں جا گرا۔ اس کے کپڑے اور پاؤں گیلی مٹی میں آلودہ ہو گئے۔ گرنے سے اس کا بدن اور زیادہ دکھنے لگا۔ کماد کے کھیت میں دشواری سے چلتے ہوئے وہ دھیرے دھیرے گوٹھ ہاشم جوگی سے دور ہوتا چلا گیا۔
بہت آگے جا کر وہ جھاڑیوں سے باہر نکلا اور آہستہ آہستہ چلتا ہوا نہر کے پْل پر پہنچ گیا اور اندھیرے کے سبب سیاہ نظر آتے پانی کو دیکھنے لگا۔ نہر کا پانی اپنے کناروں سے نیچے نیچے بہہ رہا تھا۔ اس کی سطح پر ٹمٹماتے ستاروں کا عکس جھلملا رہا تھا۔
ہولے ہولے اس کا خوف زائل ہو رہا تھا۔اسے درختوں کا عکس پانی میں دھندلے دھبوں کی طرح نظر آ رہا تھا۔
اس نے قصبے کے مکانوں کی جانب نگاہ کی تو وہ سب اسے ایک ڈھیر کی صورت ایک دوسرے کے اوپر تلے پڑے ہوئے دکھائی دیے۔ وہ مکانات کے اس ڈھیر میں چھپی ہوئی گلیوں سے اس طرف آیا تھا۔ پل پر کھڑے کھڑے اس نے اپنی چشمِ تصور سے شمیم کو بستر پر درازدیکھا اور اس کی تلخ آہوں کو سنا۔ اس نے بے بسی اور لاچاری سے دانت کچکچائے۔ اپنی دونوں مٹھیاں بھینچ لیں۔ اس کے وجود میں ایک ساتھ اذیت کی کئی لہروں نے سر اٹھایا۔ اس کے دل نے چاہا کہ وہ اونچی آواز میں چیخے چلائے اور سینہ کوبی کرتے ہوئے اپنی چھاتی کو زخمی کر ڈالے۔ اسے اپنے وجود کے وہ سب حصے جن سے اس نے شمیم کو چھوا تھا، قابلِ نفریں محسوس ہونے لگے۔ اس نے اپنی انگلیوں کی طرف دیکھا اور اپنے ہاتھ سے اپنے ہونٹوں کو ٹٹولنے لگا۔ وہ چاہتا تھا کہ وہاں سے خون رسنے لگے۔ اس نے نہر کنارے کسی درخت پر رسی باندھ کر خودکشی کے بارے میں سوچا۔
وہ بڑبڑایا: “آج کے دن کی شروعات منحوس طریقے سے ہوئی تھی۔”
اس کے بدن میں اب بھی درد تھا اور اس کے اعضا کی دکھن بڑھتی ہی جا رہی تھی۔ وہ پل سے اتر کر نہر کے کنارے پیڑوں کی قطار کے نیچے چلنے لگا۔ کچھ دور جا کر وہ ایک ایسی جگہ پر کنارے سے نیچے اترنے لگا جہاں پر نہر کا پانی اسے زیادہ گہرا دکھائی دے رہا تھا۔ وہ بے سوچے سمجھے نہر کنارے کی ٹھنڈی ٹھنڈی گھاس پربیٹھ گیا۔ کچھ آگے کھسک کر اس نے اپنی چپلوں سمیت اپنے پاؤں نہر میں ڈال دیے۔ نہر کا پانی اسے بہت ٹھنڈا محسوس ہو رہا تھا۔ اس کی یخ لہریں اس کے ٹخنوں اور پنڈلیوں میں گھسنے لگیں۔ مگر نذیر کے سر میں عجیب سودا سمایا ہوا تھا۔
وہ نہر کے پانی میں لرزتا ہوا اپنا دھندلا دھندلا عکس دیکھتا رہا۔ وہ اپنی رگوں میں اپنے جامد خون کو گرمانا چاہتا تھا۔ شمیم سے ملاقات کے دوران اسے جس ہزیمت اور اذیت کا بوجھ اٹھانا پڑا تھا، وہ اس کا کفارہ ادا کرنا چاہتا تھا۔ اپنے عضوِلذیذ کو بہت دیر تک رگڑنے اور مسلنے کے بعد اس کے جسم میں حرارت پیدا ہونے لگی۔ اسے اور زیادہ حرارت کی ضرورت تھی۔ اس کے ہاتھوں کی حرکت دھیرے دھیرے مجنونانہ اور وحشیانہ انداز اختیار کرتی چلی گئی۔ اگر اس وقت اسے کوئی شخص اس حال میں دیکھ لیتا تو یقیناً فاترالعقل یا سودائی خیال کرتا۔
اس کے رگ و ریشے میں یکلخت کئی الاؤ جلنے لگے۔ اس کی پیشانی پر پسینے کی بوندیں نمایاں ہونے لگیں۔ اس کی سانسیں کسی دھونکنی کی طرح چلنے لگیں۔ وہ اپنے ہاتھوں کی حرکت میں مزید تیزی پیدا کرتا گھاس پر لیٹ گیا اور سیاہ آسمان کو تکنے لگا۔
ایک شدید ہیجان خیز لمحے میں وہ سرعت سے اٹھ کھڑا ہوا اور نہر کے پانی میں انزال کی بوندیں گرانے لگا۔ اگلے ہی وہ گھاس پر نڈھال ہوکر گر پڑا اور زور زور سے سسکیاں لینے لگا۔ اس کو معلوم نہیں تھا کہ صبحِ صادق اب صرف چند لمحوں کی منتظر تھی۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
جاری ہے

Read More:  Muhabbat Phool Jesi Hai Novel by Muhammad Shoaib Read Online – Episode 4

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

%d bloggers like this: