Mirwah ki Raatain by Rafaqat Hayat – Last Episode 6

0

میر واہ کی راتیں از رفاقت حیات آخری قسط نمبر 6

صبح دیر سے جاگنے کے باوجود نذیر کے جسم میں کل شب کی ہزیمت اور اذیت کے آثار باقی تھے۔ اس نے کمرے میں جا کر صندوق سے استری شدہ لباس نکالا۔ وہ جلدازجلد غسل کرنا چاہتا تھا۔ وہ نہیں چاہتا تھا کہ چاچی اس کے کپڑوں پر مٹی اور گھاس کے نشان دیکھ لے اور کسی شک میں مبتلا ہو جائے، مگر وہ جیسے ہی برآمدے میں آیا، چاچی خیرالنسا اسے برآمدے میں ٹہلتی دکھائی دی۔ وہ اسے دیکھ کر تولیے سے اپنے بال سکھانے لگی۔
چاچی اس کے پاس آ گئی اور اسے ٹوہ لینے والی نظروں سے دیکھنے لگی۔
اس نے سنجیدگی سے کہا، “تیرا چاچا آج سویرے سویرے ہی دکان پر چلا گیا۔ “
نذیر نے اسے دیکھا مگر کوشش کے باوجود اس سے آنکھیں نہیں ملا سکا۔ وہ کتھئی رنگ کے ریشمی لباس میں تھی جو اِس کی سفید رنگت سے مل کر پرکشش تاثر پیدا کر رہا تھا۔ اس کی گردن اور کلائی کا رنگ نکھرا نکھرا لگ رہا تھا۔ اس کے سر سے ڈوپٹہ اْترا تو اس کی خوبصورتی دوچند ہو گئی۔
“آج تو دیر تک گہری نیند سوتا رہا۔ دکان جانے سے پہلے تیرے چاچے نے تجھے ایک دو بار جگانے کی کوشش کی، مگر تو ہلاجلا ہی نہیں، “اس نے بے تکلفی سے کہا۔
وہ اس کے ہونٹوں پرپہلی بار لگی ہوئی لپ اسٹک کی تہہ دیکھ کر بولا، “رات جب تو کمرے میں چلی گئی تو اس کے بعد میں سو نہیں سکا۔ “ پہلی بار اسے چاچی کے بھرپور خدوخال روکھے پھیکے سے محسوس ہو رہے تھے۔
“مجھے بھی نیند مشکل سے آئی۔” وہ چاہتی تھی، نذیر آج بھی اس کی تعریفیں کرے اور اس سے اپنی چاہت کا اظہار کرے۔ مگر وہ اس سے کھنچا کھنچا سا تھا۔ اس کی آنکھوں میں پژمردگی تھی اور لہجے میں گرم جوشی کے بجائے سوگواری تھی۔ وہ اسے نظرانداز کرتا، نیلے آسمان کی طرف دیکھ رہا تھا جہاں پرندے اْڑتے پھر رہے تھے۔ “تیرے لیے ناشتہ تیارکردیا ہے،” وہ ٹھنڈا سانس بھرتے ہوئے بولی۔
“غسل کر کے کھا لوں گا،” یہ کہتے ہوئے وہ کپڑے اٹھائے غسل خانے کی طرف چل دیا۔
ناشتے کے بعد اس نے ایک اور چائے پینے کی فرمائش کر دی۔ وہ باورچی خانے جا کر اس کے لیے ایک اور چائے کی پیالی لے آئی۔ وہ اس سے گریزاں سا تھا۔ اس کا جسم اور چہرہ دیکھ کر اسے تکلیف ہو رہی تھی۔ اسے بالکل یاد نہیں تھا کہ اس نے کل رات اس سے کیا کیا باتیں کی تھیں۔ اس کے اعصاب اور حواس پر شمیم سے ملنے کے دوران ہونے والی شکست سوار تھی۔ وہ اپنی ناکامی کے عذاب میں مبتلا تھا۔
“آج تو نے پیٹ بھر کے ناشتہ نہیں کیا۔”
“بھوک ہی کم تھی۔”
وہ سوچ رہی تھی کہ آج اچانک اسے کیا ہو گیا۔ وہ پہلے تو اکیلا ہی چار پانچ روٹیاں کھا جاتا تھا۔ “آج تجھے دکان پر جانے کی ضرورت نہیں۔ مجھے تیری طبیعت خراب لگ رہی ہے۔ تو آرام کر لے،” اس نے اپنائیت سے کہا۔
“دکان پر تو نہیں مگر ذرا دیر کو باہرگھومنے جاؤں گا۔”
اس کی بات سن کر وہ افسردہ ہو گئی۔
نذیر نے اچانک اس کے بارے میں سوچا کہ کیا وہ اس عورت سے وصل کر کے اپنی جذباتی شکست کا مداوا کر سکتا تھا۔ اسے اچانک باورچی خانے میں پیش آنے والے واقعے کی جزئیات یاد آئیں تو وہ حیران رہ گیا۔ اس نے کس طرح اسے چومتے ہوئے اپنے بازوؤں میں بھر لیا تھا؟
ان خیالات کا سلسلہ بھی اس کے مزاج کی سردمہری کو ختم نہیں کر سکا۔ وہ پیالی سے چائے کی آخری چسکی لے کر باہر جانے کے لیے اْٹھ کھڑا ہوا۔
“سن! تیرا چاچا ہاروالی بات بھول گیا ہے۔”
وہ روکھی مسکراہٹ سے بولا، “اچھا؟”اس کے بعد ٹھنڈا سانس لیتے ہوئے وہ دروازے کی طرف چل پڑا۔
گلی سے گزرتے ہوئے تنہائی میں وہ سوچتا رہا کہ کل رات کے تیسرے پہر جو کچھ پیش آیا وہ محض ایک اتفاق تھا۔ اگر بلی چھپر کی چھت سے اس کی پیٹھ پر چھلانگ نہ لگاتی تو اس کا شادکام ہونا یقینی تھا۔ وہ اپنے آپ کو تسلی دینے لگا کہ اسے احساسِ کمتری میں مبتلا ہونے کی ضرورت نہیں۔ وہ بالکل ٹھیک تھا۔ اس کی مردانگی پوری طرح بحال تھی اور نہر کنارے بیٹھ کر وہ اپنے انزال کے آب دار موتی بھی نہر کے پانی میں گرا چکا تھا۔ یہ سب باتیں سوچنے کے باوجود وہ خود پر اپنے یقین اور اعتماد کو بحال نہیں کر سکا۔
اس نے پان کی مانڈلی سے کچھ سگریٹ خریدے اور دھیرے دھیرے قدم اٹھاتا کھیتوں کی طرف چل دیا۔ وہ سگریٹ سلگا کر اس کے لمبے کش لیتا آگے ہی آگے بڑھتا رہا۔
مکمل تنہائی میں مکمل خودسپردگی کے لیے آمادہ عورت سے مباشرت میں ناکامی غیرمعمولی اور شرم ناک بات تھی۔ شمیم خود کو ملامت کرتی رہی ہو گی اور اسے ایک نامرد تصور کر کے دل ہی دل میں وہ اس کا مضحکہ اڑاتی رہی ہو گی۔ نذیر نے فیصلہ کیا کہ وہ اب ہمیشہ کے لیے اس سے قطع تعلق کر لے گا اور آئندہ کبھی نورل کی شکل بھی نہیں دیکھے گا۔ اپنے آپ سے یہ عہد کرتے ہوئے وہ جانتا تھا کہ اس کی خاطر اس کا دل بری طرح مچلے گا اور کیا پتا وہ نیند میں اْٹھ کر نہر کی طرف دوڑتا چلا جائے۔
وہ قصبے کی مشرقی سمت میں واقع آخری مکانوں تک پہنچا اور انہیں عبور کرتا ہوا کھیتوں میں داخل ہو گیا۔ تاحدِنظر زمین پر سبزیوں اور گندم کے پودے لہلہا رہے تھے۔ سورج آسمان کے وسط میں چمک رہا تھا اور سارے میں پیلی سی دھوپ پھیلی ہوئی تھی۔ گردوپیش اچٹتی سی نگاہ ڈال کر وہ سر جھکائے ایک پگڈنڈی پر چلنے لگا۔
وہ اپنے آپ کو باربار سمجھاتا رہا کہ اس کے ساتھ جو واقعہ پیش آ چکا تھا وہ اس کے اناڑی پن کی وجہ سے پیش آیا تھا۔ اس نے پہلی اور بنیادی غلطی پکوڑافروش کے ہمراہ مے خانے جا کر کی تھی۔ وہاں اس نے چرس اور بھنگ کا بے محابا استعمال کیا تھا، جس کی وجہ سے اس کے حواسِ خمسہ کند پڑ گئے تھے۔ پھر شدید سردی کے موسم میں آدھی رات کو چوری چھپے گھر سے نکلنا، ویران اور تاریک گلیوں میں خوفزدہ چلنا، آہٹوں پر چونکنا اور کھیتوں کے پاس کانپتے ہوئے اس کاانتظار کرنا یہ تمام چیزیں بھی تو اس افسو س ناک عمل کی رونمائی میں شامل تھیں۔
سوچتے سوچتے اس کا دماغ شل ہو گیا اوروہ تھک کر ایک بلندقامت شیشم کے پیڑ کے نیچے پگڈنڈی پر ہی بیٹھ گیا۔
چاچی خیرالنسا کے بارے میں سوچتے ہوئے اس نے عجیب شرمندگی محسوس کی لیکن اسے معلوم تھا کہ یہی وہ عورت ہے جو اس کے اعتماد کو بحال کر سکتی ہے۔
وہ بیٹھے بیٹھے تین سگریٹ پھونکنے کے بعد اپنی الجھنوں کو سلجھائے بغیر اْٹھا اور قصبے کی طرف واپس چل دیا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اگلے دن وہ سویرے اٹھا اور چابیاں لے کر دکان چلا گیا۔
جانے سے پہلے باورچی خانے میں ناشتہ کرتے ہوئے اس نے محسوس کیا کہ چاچی اسے ملامت بھری نظروں سے دیکھ رہی تھی۔ اس کی نگاہوں کی تاب نہ لا کراس کے ہاتھ سے چائے سے بھرا پیالہ نیچے گر گیا اور گرم چائے نے اس کے اپنے پاؤں کو جلا دیا۔ اپنی تکلیف کو چھپاتے ہوئے وہ اس سے آنکھیں ملائے بغیر اٹھا اور باورچی خانے کی کوٹھڑی سے باہر نکل گیا۔
دکان پر پہنچ کر اس نے اپنی جیب سے چابیاں نکالیں اور شٹر پر لگے ہوئے تالے کھولے۔ شٹر اٹھا کر دکان کھول کر وہ صفائی کرنے کے بجائے دیواروں پر چسپاں فلمی اداکاراؤں کی تصویروں کو غور سے دیکھنے لگا۔ اس نے محسوس کیا کہ کچھ نئی تصویروں کا اضافہ ہو گیا تھا۔ وہ تصویروں کے نزدیک ہو کر انہیں اپنی نظروں سے ٹٹول ٹٹول کر دیکھ رہا تھا کہ اچانک ایک بھاری سی مردانہ آوازنے اسے چونکا دیا۔ اس نے پلٹ کر دیکھا تو یعقوب کاریگر اس کے قریب ہی کھڑا مسکرا رہا تھا۔ وہ نذیر کو ڈرانے کی کوشش میں کامیاب نہیں ہو سکا تھا۔
“دیوار پر لگے نئے نئے فوٹو کیسے ہیں؟ میرے ایک دوست نے مجھے باہرکے ملک کا ایک رنگین رسالہ تحفے میں دیا تھا۔ میں نے اس میں سے بہترین تصویریں نکال کر یہاں لگا دیں۔ ذرا دیکھو! اس فوٹو کا تو جواب نہیں۔”
“ویسے تمھاری پسند کا بھی کوئی جواب نہیں۔”
کاریگر اپنی تعریف سن کر اس تصویر کی خصوصیات پر روشنی ڈالنے لگا۔ “اسے غور سے دیکھو! اس کے بالوں کا رنگ بالکل سونے جیسا ہے۔ اس کے چہرے پر دلکش مسکراہٹ دیکھ کر ہم جیسا خوامخواہ خوش ہونے لگتا ہے۔ ذرا اس کی چمڑی کو دیدے پھاڑ کر دیکھو، کتنی چمکیلی اور نرم ہے۔ اور اس کے وہ تو۔۔” وہ بے قابو ہو رہا تھا۔
وہ آگے بڑھ کر چمکیلے رنگین کاغذ کی سطح پر ہاتھ پھیرنے لگا۔ پھر تصویر کو چومتے ہوئے کہنے لگا، “پتا نہیں کہاں اور کون سے دیس میں رہتی ہیں یہ پریاں۔ ہماری قسمت میں تو باگڑی اور بھیل بھکارنیں لکھی ہیں۔” وہ افسردگی سے سر ہلاتابیڑی سلگا تے ہوئے اپنی سلائی مشین کے پاس لگی نشست پر بیٹھ گیا۔
نذیر نے اسے چھیڑا۔ “تمہارے پاس کپڑے سلوانے خوبصورت عورتیں بھی آتی ہیں۔ پھر ان سے دوستی کیوں نہیں کرتے؟”
“وہ بہت چالاک اور ہوشیار ہوتی ہیں۔ آسانی سے ہاتھ بھی نہیں آتیں۔ پھر انہیں قابو کرنے کے لیے پیسوں کی بہت ضرورت پڑتی ہے۔ میں ٹھہرا ایک غریب درزی۔ تمھارے چاچے کی قسمت بہت اچھی ہے کہ اسے زندگی بھر کے لیے ایک حسین اور جوان عورت مل گئی۔”
نذیر نے اس سے یونہی ایک بات پوچھی۔ “اب اس کی پریشانی کا کیا حال ہے؟”
یعقوب کاریگر یہ سننے کے بعد اپنی آنکھیں پھیلا کر اسے دیکھنے لگا۔ وہ اپنی بیڑی کی راکھ جھٹکتے ہوئے اْٹھا اور گلی میں جھانکنے کے بعد نذیر کے پاس آ بیٹھا۔ وہ رازداری سے کہنے لگا، “میں جانتا ہوں تم شریف آدمی ہو، اسی لیے میں تمہیں پسند کرتا ہوں مگر یہ حقیقت ہے کہ وہ تمہاری وجہ سے پریشان ہے۔ اس نے کل یہ بات مجھ سے رازداری رکھنے کی قسم لینے کے بعد بتائی۔”
“میری وجہ سے؟”
“اسے شک ہے کہ تم اس کی بیوی کے ساتھ خراب ہو۔” اس نے بیڑی کو فرش پر پھینکا اوراسے پاؤں کے نیچے مسلتے ہوئے کہنے لگا، “وہ تھوڑی دیر میں آنے والا ہو گا۔ دکان بند ہونے کے بعد تم مجھ سے جوگی کے چائے خانے پر ملو۔”
واقعی تھوڑی دیر بعد چاچا غفور دکان پہنچ گیا۔ یعقوب کاریگر سلائی میں مصروف تھا جبکہ نذیر قمیص کے بٹن لگاتا رہا۔ اس دوران غفور نے ایک بار بھی نذیر سے کوئی بات تک نہ کی۔ وہ آتے ہی سر جھکائے اپنے کام میں مصروف ہو گیا۔
شام ڈھلنے سے کچھ پہلے ہی نذیر چائے خانے پر جا بیٹھا۔ وہ گردوپیش کی چیزوں کو دیکھنے کے بجائے باربار فکرمندی سے کاریگر کی بتائی ہوئی باتوں کے متعلق سوچتا رہا۔
غفور چاچا کی پریشانی کا راز جاننے کے بعد وہ شدید احساسِ گناہ میں مبتلا ہوگیاتھا۔ وہ خود کو ملامت کرتا رہا کہ اس نے جانے یا انجانے میں چاچی کو اپنی طرف مائل کرنے کی کوشش کی تھی۔ وہ حیران تھا کہ چاچے کو اس معاملے کی خبر آخر کیسے مل گئی۔ اب وہ فرار چاہتا تھا تاکہ اس کی وجہ سے یہ محترم رشتہ کہیں پامال نہ ہو جائے۔ مگر اس کے دل کی گہرائی میں کوئی شدید جذبہ موجود تھا جس کے آگے وہ خود کو پوری طرح بے بس محسوس کر رہا تھا۔ اس کے لیے اب وسوسوں اور اذیت کے مہیب جنگل میں چاچی خیرالنسا ہی واحد پناہ گاہ رہ گئی تھی۔
وہ ان ہی سوچوں میں گم تھا کہ اس نے یعقوب کاریگر کو آتے ہوئے دیکھا۔ وہ آتے ہی چپ چاپ کرسی پر بیٹھ گیا اور جلدی جلدی بیڑی پھونکتا رہا۔ اس کی پیشانی پر دو گہری لکیریں تھیں۔
اس نے چٹکی بجا کر بیڑی کی راکھ کو جھٹکا اور استغراق سے نکل کر نذیر کو گہری نظر سے دیکھتے ہوئے وہ کھنکار کر اپنا گلا صاف کرنے لگا۔ پھراس نے اس کی طرف تھوڑا جھک کر دھیمے لہجے میں کہا، “غفور سے میری دوستی بہت پرانی ہے۔ تمھاری عمر سے بھی زیادہ پرانی۔ اس نے بڑی بدفعلیاں کیں۔ تم اندازہ نہیں لگا سکتے۔ تین ضلعوں میں کوئی چکلا نہیں بچا ہو گا جہاں جا کر اس نے زنا نہ کیا ہو۔ اس کے بیسیوں معاشقے اس کے علاوہ ہیں۔ اسی وجہ سے جب اس نے شادی کی تو کچھ عرصے کے بعد اسے پہلی مرتبہ اپنی کمزوری کا احساس ہوا۔ وہ مجھ سے چھپ چھپ کر اپنا علاج کرواتا رہا۔ مگر اسے کوئی فائدہ نہیں پہنچ سکا۔ ایک دن پریشان ہوتے ہوئے اس نے شرمندگی سے مجھے بتا ہی دیا۔ میں اسے رانی پور میں ایک واقف حکیم کے پاس لے گیا۔ اس کی دوا سے غفور کی قوت بحال ہونے لگی اور وہ شادی کے مزے سے ہمکنار ہوا۔” کہتے کہتے وہ خاموش ہوا اور اِدھراْدھر دیکھنے لگا۔
نذیر اس کے ہونٹوں سے نکلنے والا ایک ایک لفظ بغور سن رہا تھا۔
کاریگر نے چائے کا گھونٹ بھرا اور سرگوشی میں پھر سے کہنے لگا، “کل پہلی بار اس نے مجھ سے تمھارے قتل کے بارے میں بات کی۔ دکان کے کام میں تمھاری عدم دلچسپی کی وجہ سے اسے شک ہونا شروع ہوا۔ وہ اندر ہی اندر کڑھنے لگا۔ کئی مرتبہ اس نے تمھاری جاسوسی کی۔ دیوار پھاند کر اپنے گھر میں گھسا۔ رحیم سنار والے مسئلے پر اس نے تم پر ہاتھ اٹھانے کے بارے میں مجھے بتایا تو میں نے اس پر لعن طعن کی کہ اسے تم پر شک نہیں کرنا چاہیے۔” اس نے چائے کی پیالی ختم کی اور نئی بیڑی سلگائی۔
تھوڑی دیر کے بعد وہ پھر گویا ہوا۔ “اس کی باتوں نے مجھے پریشان کر دیا۔ میں رات بھر سوچتا رہا۔ میں نے فیصلہ کیا کہ تم سے ضرور بات کروں گا۔ شاید غفور اپنی بیوی کو وہ آسودگی نہیں دے سکا جو اس کا حق تھا۔ اسے ہر وقت کھٹکا لگا رہتا ہے کہ وہ اسے چھوڑ کر کسی اور سے اپنا تعلق جوڑ لے گی۔ یہ معاملہ تمھارے حق میں خطرناک ہو سکتا ہے۔ تم اس کے گھر میں رہتے ہو اور تمھاری اس کی بیوی کے ساتھ بے تکلفی بھی ہے۔” وہ جواب طلب نظروں سے اسے دیکھنے لگا۔
نذیر ٹھنڈا سانس بھر کر بولا، “تمھارا اندازہ ٹھیک ہے۔”
“میرا مخلصانہ مشورہ ہے کہ تم اپنی عزت اور زندگی بچاؤ اور میرپور ماتھیلو واپس چلے جاؤ۔ تمھیں یہاں سے جانے کے لیے وہ کبھی نہیں کہے گا لیکن اگرکسی دن اس کا مغز گھوم گیا تو پتا نہیں وہ کیا کر بیٹھے گا۔” اس کے لہجے میں تشویش تھی۔
“تم یہ بات کیسے کہہ سکتے ہو؟”
کاریگر ہنسا۔ “مت بھولو میں اس کا پرانا دوست ہوں۔ وہ اپنی دو محبوباؤں کے شوہروں کو زخمی کر چکا ہے۔ یہاں غیرت کا مسئلہ بھی ہے اور کل بے ساختگی میں اس کے منہ سے نکل گیا کہ اسے ثبوت ملنے کی صورت میں اس نے تمھیں قتل کرنے کا منصوبہ بھی تیار کر رکھا ہے۔ وہ تمھیں کارا کر کے مار ڈالے گا، کیا سمجھے؟”
نذیر یہ سن کر ہکابکا رہ گیا۔ ناقابلِ یقین بات کی حقیقت کو اسے اپنے دل سے تسلیم کرنا پڑا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
شام ڈھلے کچھ ہی دیر ہوئی تھی۔ آسمان پرستارے نکل آئے تھے۔ چائے پینے والے سب گاہک بھی جا چکے تھے۔ ہوٹل کا مالک برتن سمیٹ رہا تھا۔ وہ اٹھے اور نہر کے پل تک ساتھ چلتے ہوئے گئے۔ وہاں سے نیچے اترنے والے راستے پر وہ ایک دوسرے سے الگ ہو گئے۔
کچھ دور تک اس کے ذہن میں کاریگر کی باتیں گھومتی رہیں۔ یہ سب تو اس کے سان گمان میں بھی نہیں تھا مگر اب اسے اندازہ ہونے لگا تھا کہ یہاں رہتے ہوئے اس کے ساتھ کوئی بھی واقعہ پیش آ سکتا ہے۔ اسے غفور چاچا پیشہ ور قاتل معلوم ہونے لگا۔ اس کی سماعت میں اس کی پاٹ دار آواز گونجنے لگی۔ اس کی بڑی بڑی آنکھیں اسے یاد آئیں جن میں ہر وقت اسے اپنے لیے عناد بھرا محسوس ہوتا تھا۔ اسے گزشتہ روز کی مارپیٹ یاد آئی۔ وہ کتنے نفرت انگیز لہجے میں اسے مخاطب کرتا ہوا چیخ رہا تھا۔
نذیر نے خود کو اپنے گھر والوں سے دور، اجنبی لوگوں کے درمیان مکمل طور پر غیرمحفوظ محسوس کیا۔
وہ نیم تاریک سڑک پر روشنی کے دائروں میں چلتا رہا۔ اس نے سوچا کہ کیا خبر اس کا چاچا یعقوب کاریگر کے ساتھ مل کر اسے قصبے سے بھگانا چاہتا ہو تاکہ اس کے تمام خدشات ہمیشہ کے لیے ختم ہو جائیں۔
وہ گھر جانے کے بجاے پہلوان دستی کے چائے خانے پر جا بیٹھا۔
اسے کاریگر پر اعتماد تو تھا مگر وہ فرار ہونے کے خیال سے ہچکچا رہا تھا۔ چاچی خیرالنسا کے بارے میں سوچتے ہوئے اس کے دل میں باربار ہوک سی اٹھ رہی تھی۔ اسے اس کا طویل قامت جسم یاد آیا، اس کے فسوں کاربدن کے انگ یاد آئے۔ اس نے چاچی کو دیکھنے، اس کے پاس بیٹھنے اور اس سے لپٹنے کی ناقابلِ مزاحمت خواہش محسوس کی۔
وہ چائے خانے پر بیٹھا رہا اور ٹھری میرواہ میں اپنے گزرے ہوئے وقت کے بارے میں سوچتا رہا۔ اس کے دل میں گناہ کا احساس دھیرے دھیرے ختم ہو رہا تھا۔ کل اسے سوچتے ہوئے جو ندامت محسوس ہو رہی تھی اب وہ مٹتی جا رہی تھی۔ اب وہ عورت واقعی اس کی محبوبہ بن گئی تھی۔ وہ خود سے کہتا رہا کہ پہلی بار اسے محبت ہوئی ہے اور اسے یہ حق حاصل ہے کہ وہ اس کے متعلق جو چاہے سوچتا رہے۔ اس نے چاچے کو رقیب جان کر اس کے خلاف اپنے دل میں شدید نفرت محسوس کی۔ نفرت سے ا س کے اعصاب تن گئے اور وہ مٹھیاں بھینچ کے رہ گیا۔ اسے معلوم تھا کہ اپنی محبت کی خودغرضی کے باوجود وہ اسے ہمیشہ کے لیے حاصل نہیں کر سکتا تھا۔ وہ اسے اپنے ساتھ لے کر فرار نہیں ہو سکتا تھا۔ بہت دیر تک وہ ذہنی کشمکش سے دوچار رہا۔
ڈبو کھیلنے والے لڑکے شور مچا رہے تھے۔ پہلوان دستی اپنے دکھل کے پاس اونگھ رہا تھا۔ رات کے دس بجنے والے تھے۔ قصبے سے باہر جانے والی گاڑیاں شام سے پہلے ہی بند ہو جاتی تھیں۔
وہ چائے خانے سے اٹھا اور جھجکتے ہوئے قدموں سے اس مکان کی طرف چل دیا جو اب اس کا گھر نہیں رہا تھا۔ گلی میں پہنچ کر وہ کچھ دیر کے لیے ٹھیر گیا۔ سارے مکان تاریکی میں ڈوبے ہوئے تھے۔ ایک خیال کی دہشت سے جھرجھری لیتے ہوئے اس نے پاؤں آگے بڑھایا۔
دروازے کی کنڈی کھول کر وہ اندر آیا تو اس نے باورچی خانے والی کوٹھڑی کو بند پایا۔ وہ دھیرے دھیرے چلتا ہوا برآمدے میں بچھی اپنی چارپائی تک پہنچا اور بیٹھ گیا۔ اسے بھوک نہیں تھی۔ وہ اپنا سر ہاتھوں میں لیے بیٹھا رہا۔
کچھ دیر بعد کمرے کا دروازہ کھلنے کی آواز سن کر وہ چونکا۔ اس نے سر اٹھا کر دیکھا تو چاچی خیرالنسا دروازے سے باہر نکلتی دکھائی دی۔ وہ اسے دیکھ کر عجیب انداز میں مسکرائی۔ اس نے فوراً آگے بڑھ کر برآمدے کی بتّی جلا دی۔
نذیر پریشانی سے اٹھ کھڑا ہوا۔ “چاچا جاگ جائے گا۔”
“آج وہ صبح سے پہلے نہیں جاگے گا۔” وہ ایک بار پھر مسکرائی۔
“کیوں ؟” نذیرنے حیرت سے پوچھا۔
“نیند کی ایک گولی اس نے خود کھائی اور دو میں نے دودھ میں گھول کر اسے پلا دیں۔”
“آخر ایسا کیوں کیا؟”
چاچی خیرالنسا نے لجاتے ہوئے کہا، “تم سے ملنے کے لیے۔”
نذیر نے خود کو اس عورت کے زیرِاثر محسوس کیا۔ وہ دونوں باورچی خانے کی کوٹھڑی میں جا بیٹھے۔
“میرے لیے کھانا مت گرم کرنا۔ میں نے باہر کھا لیا ہے۔”
وہ چولھے کے پاس بیٹھی تھی جبکہ نذیر اس کے قریب پیڑھی پر بیٹھا تھا۔ اس نے لمبا سانس لیتے ہوئے خود کو پْراعتماد پایا۔ وہ اس کی طرف دیکھتے ہوئے مسکرایا۔
“مجھے تم سے کچھ ضروری باتیں کرنی ہیں،” وہ بولا۔
“کہو۔”
“توْ میرے چاچے کی بیوی ہے مگر میں تجھ سے محبت کرتا ہوں،” اس نے بے جھجک اپنے دل میں سمائی بات کہہ دی۔
“میں جانتی ہوں یہ گناہ اور بے حیائی ہے، مگر تو بھی جان لے کہ تو مجھے اچھا لگتا ہے۔ اسی لیے آج رات میں نے بڈھے کو نیند کی گولیاں کھلا دیں۔ میں جانتی ہوں تو اس کا احترام کرتا ہے۔” وہ بہت آہستہ بول رہی تھی۔ “میں بھی تیری طرح ڈرتی ہوں اس سے۔ لیکن توخود سوچ! اس کے اور میرے درمیان کتنا فرق ہے۔”
اسے اداس دیکھ کر وہ پریشان ہو گیا۔ “آدھی عمر کا فرق ہے! اور میں جب سے یہاں آیا ہوں، یہی سوچ رہا ہوں۔ تو اس سے بہت چھوٹی ہے اور خوبصورت بھی بہت ہے۔” وہ مسکرانے لگا۔ “پرسوں رات میرے اور تیرے بیچ جو کچھ ہوا میں اس کے بارے میں سوچتا رہا۔ میں سمجھا کہ تو مجھ سے بہت ناراض ہو گی اور مجھے تجھ کو منانا پڑے گا۔”
یہ سن کر چاچی خیرالنسا اپنی مسکراہٹ کو چھپانے کی ناکام کوشش کرتی رہی مگر مسکراہٹ خودبخود اس کے ہونٹوں پر نمایاں ہو گئی تھی۔
نذیر نے فیصلہ کر لیا تھا کہ وہ یعقوب کاریگر سے ہونے والی ملاقات کے بارے میں اسے کچھ نہیں بتائے گا۔ اس نے تشویش سے اس سے ایک سوال پوچھا، “صبح چاچے کو گولیوں کے بارے میں پتا نہیں چل جائے گا؟”
“نہیں چلے گا۔ وہ یہی سمجھتا رہے گا کہ جو گولی اس نے کھائی یہ اسی کا نشہ ہے۔” وہ پھر مسکرانے لگی۔
“میں پہلے تیرے بارے میں جب بھی سوچتا تھا تو خود کو بڑا گناہ گار سمجھتا تھا،” اس نے سنجیدگی سے کہا۔
“اور اب؟” چاچی نے شرارت سے پوچھا۔
“اب تیری محبت کو میں اپنا حق سمجھتا ہوں۔”
“میں تو اندر سے کانپ رہی ہوں۔ وہ گہری نیند کر رہا ہے، میں پھر بھی یہاں سہمی ہوئی ہوں، اور یہ گناہ ہے، بڑا گناہ!” اس نے جھرجھری لی اور آنکھیں میچ لیں۔
“یہ گناہ نہیں ہے، محبت کبھی گناہ نہیں ہوتی،” وہ بلند لہجے میں بولا۔
“آخر تم رشتے میں میرے بھتیجے لگتے ہو۔”
“تْو اپنی مرضی سے میری چاچی نہیں بنی اور میں۔۔۔” وہ جذبے کی شدت سے خاموش ہو گیا۔
“کچھ بھی ہو، میں اس بوجھ سے نہیں بچ سکتی۔۔۔ مگر خود کو روکنا بھی مشکل ہے،” وہ آہ بھر کر بولی۔
نذیر اس کے سوگوار چہرے کو دیکھتا رہا۔ وہ حیران تھا کہ اسے کیا ہو گیا۔ وہ اسے خوش دیکھنا چاہتا تھا مگر اس کے پاس تمام الفاظ ختم ہو گئے تھے۔ اسے خوشی سے ہمکنار کرنے کے لیے اور اپنی باقی ماندہ زندگی کے لیے ایک خوشگوار یاد کو اپنے سینے میں محفوظ رکھنے کے لیے وہ اپنے ہاتھوں کی انگلیوں سے اس کے بدن کا لمس کشید کرنے لگا۔ وہ ایک نئی لذت سے آشنا ہوتا جا رہا تھا۔
انھوں نے ایک دوسرے کی آنکھوں میں جھانکا اور ہنسنے لگے۔ کچھ دیر بعد وہ برآمدے میں بچھی ہوئی چارپائی پر جا کر ایک دوسرے کے پہلو میں لیٹ گئے اور ان کے ترسے ہوئے جسم نہ جانے کب تک ایک دوسرے میں مدغم ہانپتے کانپتے رہے۔
بہت دیر کے بعد چاچی خیرالنسا اپنے کپڑے اٹھا کر غسل خانے کی طرف چلی گئی مگر وہ وہیں چارپائی پر لیٹا رہا۔
غسل خانے سے باہر نکل کر چاچی نے نذیر کے ہونٹوں پر آخری بوسہ دیا اور اسے نگاہ بھر دیکھنے کے بعد کمرے میں اپنے سوئے ہوئے شوہر کے پاس چلی گئی۔
اس کے جانے کے بعد نذیر آہ بھرتے ہوئے مسکرایا۔ اس نے چاچی خیرالنسا کو پا کر کھو دیا تھا، ہمیشہ کے لیے۔ مگر اپنے لیے ایک یاد کو محفوظ کر لیا تھا۔
وہ بہت دیر تک جاگتا رہا۔ پھر اس نے دیکھا کہ صبح کی روشنی پھیلنے والی ہے۔ اس نے اٹھ کر کپڑے پہنے۔ غسل خانے میں گیا لیکن غسل نہیں کیا۔ ہینڈپمپ چلا کر وہ اپنے ہاتھ اور منھ دھو کر باہر نکل آیا۔ وہ صحن میں چند لمحے ٹہل کر کچھ اور وقت گزرنے کا انتظار کرتا رہا۔ اس نے کمرے کے دروازے سے کان لگا کر ان دونوں کی سانسوں کی آو از سنی اور دھیرے دھیرے چلتا باہر کی طرف چل پڑا۔
وہ جانتا تھا کہ اس وقت قصبے سے باہر جانے کے لیے سواری نہیں ملے گی۔ اس نے چلتے ہوئے گلی عبور کی، سڑک پر پہنچا۔ پہلوان دستی کے چائے خانے کے قریب سے گزرااور ٹھنڈے سانس بھرتا ہواآہستہ آہستہ قدم اٹھاتا ہوا وہ قصبے
نہیں ملے گی۔اس نے چلتے ہوے گلی عبورکی،سڑک پر پہنچا۔ پہلوان دستی کے چائے خانے کے قریب سے گزرا۔
آہستہ آہستہ قدم اٹھاتا ہوا وہ قصبے کی حدود سے باہر نکل گیا۔
ختم شدہ
ناول نگار: رفاقت حیات

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: