Mohabbat Ka Safar Novel By Isha – Episode 1

0
محبت کا سفر از عشا – قسط نمبر 1

–**–**-
وہ پھر گہری سانسیں لے کر کھنس رہا تھا۔۔
اُس کی آنکھوں کے نیچے ہلکے بتا رہے تھے کے نجانے کتنی راتوں سے وہ سہی سے سویا نہیں تھا۔۔
‘تم آج بھی نہیں گۓ ڈاکٹر کے پاس؟’ اُس نے بہت ناراضگی سے پوچھا تھا۔۔
بغیر کچھ بولے وہ کھڑی ہوئ۔۔اپنا بستا کندھے پہ لٹکا کر چادر سیدھی کر کے بولی۔۔
‘ہم ابھی یونیورسٹی سے ہی ہسپتال چلینگے۔۔ اُٹھو اور بِنا کچھ بھی کہے چلو میرے ساتھ بلال’۔۔
وہ خاموشی سے سَر جُھکاۓ بیٹھا رہا۔۔
بغیر کچھ کہے وہ ایک سخت انسان کی طرح۔۔اُس کی خاموشی۔۔ اُس کا ایسے سَر جُھکا کے بیٹھنا ِایمان کو کاٹ رہا تھا۔۔
‘آؤ میرے ساتھ۔۔کچھ نہیں ہوگا ڈاکٹر میڈیسن دینگے اور تم ٹھیک ہو جاؤگے۔۔
دل میں ہزار وسواسے اور ڈر لیۓ وہ بہت بہادُری کا ُمظاہرہ کر رہی تھی۔۔
‘میں تم سی دُور جانے سے ڈرتا ہوں اِیمان۔۔ میں تم سے دُور نہیں جانا چاہتا۔۔’ اُس کی آواز سُن کر اِیمان لرز گئ تھی۔۔۔
اُس کو یقین نہیں آرہا تھا کہ یہ وہی شخص ہے جو اُس کا محافظ تھا۔۔
‘او ہیلو؟؟ تم اتنی جلدی میری جان کہاں چھوڑنے والے ہو؟ اُٹھو اور چلو میرے ساتھ’ اِیمان نے آنکھوں میں ڈر کو چُھپا کر اُس کو آمادہ کر لیا تھا ہسپتال جانے کیلۓ۔۔
راستہ طویل لگ رہا تھا۔۔ گہری خاموشی اور طویل سفر کے بعد جب ہسپتال کے گیٹ پر پہنچے تو وہ رُوک گیا تھا۔۔
‘کیا ہوا بلال؟ روک کیوں گۓ؟ تم کیوں مایوس ہورہے ہو؟۔۔
ایسا لگ رہا تھا وہ جان چُکا تھا۔۔ وہ جان گیا تھا کہ جُدائ اُن کے نصیب میں پروردگار نے لکھ دی ہے۔۔۔
وہ ساخت خاموش کھڑا رہا۔۔اُس کی خاموشی اب اِیمان کے برداشت سے باہر ہورہی تھی۔۔
سَر اُٹھا کر جب اُس نے دیکھا تو اِیمان اُس سے کچھ فاصلے پر لگے بینچ پر خفا بیٹھ گئ تھی۔۔۔
‘کیا تم میرے بغیر رہ لوگی؟ بلال اُس کے قدموں میں بیٹھ کر آہستگی سے بولا۔۔
‘اِیمان میں خود بھی نہیں جانتا تھا کے تم میرے لیۓ اتنی ضروری بن جاؤگی۔۔ تم میرا وجود بن گئ ہو۔۔میں اب بھی کہتا ہوں واپس چلو۔۔میں۔۔ میں ٹھیک ہوجاؤں گا آؤ چلو۔۔’
‘مجھے خُدا پر یقین ہے۔۔ اُٹھو نیچے آؤ اور چلو اندر۔۔ تم میرے قدموں میں نہیں بیٹھو۔۔ تمہاری جگہ یہاں ہے۔۔’ اِیمان نے بہت مان سے اُس کا ہاتھ پکڑ کر دل کی جانب اِشارہ کیا تھا۔۔۔
‘آٹھویں کلاس میں آگئ ہو اور اب بھی دو چوٹھیاں باندھ کر آتی ہو شرم نہیں آتی؟’ بلال روز کی طرح آج بھی اِیمان کو ستانے میں مشغول تھا جو کہ اُس کو بِنا کچھ کہے منہ چیڑا کر ریسس میں جا چُکی تھی۔۔۔
ایک بجتے ہی اِیمان نے بستا اُٹھایا اور بس کی جانب جانے لگی۔۔ وہ جانتی تھی کے بلال پیچھے آرہا ہے۔۔
‘کبھی تو مجھے سُکون سے جانے دیا کرو۔۔ جب دیکھو آجاتے ہو’ اِیمان سخت چیڑ کر بولی۔۔۔
بس آتے ہی اِیمان چلی گئ اور بلال مُسکراتا ہوا پیدل اپنے گھر کی گلی میں داخل ہوگیا۔۔
اُس کا روز کا معمول تھا۔۔ اُس کو بس میں رخصت کر کے وہ اپنے گھر جاتا تھا۔۔۔
عید مِلن پارٹی میں جب وہ آئ تو بلال حیران رہ گیا۔۔۔
دونوں ایک دوسرے کو دیکھ کر گھبرا گۓ تھے۔۔۔وہ بےحد حسین لگ رہا تھا کالا جوڑا زیِب تن کیۓ۔۔ ہلکی سی شیف اُس کی خوبصورتی میں چار چاند لگا رہی تھی۔۔۔
لیکن۔۔۔ اُس کو اپنا آپ اِیمان کے سامنے نظر کہاں آرہا تھا۔۔۔
لمبے بال کھُولے جب وہ چوڑیاں سمیٹتی ہوئ داخل ہوئ تو بلال چمک اُٹھا۔۔ جیسے کتنی دیر سے وہ انتظار میں تھا۔۔۔
‘ارے آج تو تم کارساز کے چڑیل لگ رہی ہو بال کھولے’ بلال قہقہہ لگا کر بولا۔۔۔
‘ہاں تو تم کیا ٹوم کروز لگ رہے ہو؟ تمھیں چیڑیلوں کا زیادہ پتا ہے تم خود جو ایک بھوت ہو’ اِیمان پیر پٹخ کر دوستوں کے ہمراہ کلاس سے نکل گئ تھی۔۔۔
حسبِ معمول وہ بس اِسٹینڈ تک اُس کا پِیچھا کرتا ہوا آیا۔۔۔
تپتی دھوپ میں سفید یونیفارم پہنے وہ اُس کیلۓ قیامت کا روپ ڈھا رہی تھی۔۔۔
‘سُنو اِیمان؟ وہ پاس جا کر انتہائ سنجیدہ انداز میں بولا۔۔۔
‘یقیناٍن اب تم کہوگے کہ میں کارساز جارہی ہوں ڈرانے۔۔ ہےنہ؟؟ ہاں بول دو تن۔۔!! میں تو چڑیل ہوں نہ۔۔ میں بھوتنی ہوں۔۔ میں ڈراتی ہوں نہ؟؟ بغیر سانس لیۓ وہ ایک ساتھ وہ خفا ہوکے بولے جارہی تھی۔۔
‘تم بہت حسین ہو۔۔ اور حسین کچھ بھی ہو۔۔ پردے میں اچھا لگتا ہے۔۔ مجھے نہیں پسند تم پر غلط نِگاہ پڑے۔۔۔
اِس کو میری طرف سے گفٹ سمجھ کر رکھ لو اور پہن کر آنا اب’ بلال نے نیلے رنگ کا تہلا اُس کی جانِب بڑھایا۔۔۔
بس آتے ہی اِیمان جاکر خاموشی سے بیٹھ گئ۔۔ اپنے ہاتھ میں لیۓ تہلے کو وہ تکتی رہی تھی۔۔۔
اُس کے چہرے پر بےحد شرم تھی۔۔ شرم کے مارے وہ گُلاب کی طرح نِکھر رہی تھی۔۔ تہلے کو مضبوطی سے پکڑ کر اپنی منزل کا انتظار کرنے لگی۔۔
کلاس میں بےحد شُور ہورہا تھا۔۔
ہر طرف فِیرویل کی باتیں ہورہی تھیں کہ اتنے میں بلال بھگتا ہوا آیا اور اِیمان کی سیٹھ کے پیچھے والی سیٹھ پر بیٹھ گیا۔۔
‘اِیمان؟۔۔ یار اِیمان؟’ وہ بےچینی سے بولا۔۔
‘کیا ہے؟’ اِیمان کاپی میں لکھتے ہوۓ چِڑ کر بولی۔۔
‘میں آج ٹھیک ۱۱:۵۵ پر رات میں تمھارے گھر کے نیچھے کھڑا ہونگا۔۔تم بالکونی میں آجانا’ بلال بات کر کے روکا ہی تھا کہ اِیمان کھڑی ہوکے مُڑی۔۔
‘تم پاگل ہوگۓ ہو! جاؤ اپنا علاج کراؤ۔۔ میرے گھر آوگے؟؟ خود مرنا ہے یا مجھے مروانا ہے؟ وہ انتہائ اُلجھے انداز میں بولی۔۔۔
‘دیکھو کچھ نہیں ہوگا بس تم آنا میں ایک چیز دونگا تم وہ لینا اور چلی جانا۔۔’ وہ بہت مزاٸیے انداز میں بول کر چلا گیا۔۔۔
‘عجیب کھِسکا ہوا ہے پاگل’ وہ بڑبڑاتے ہوۓ کاپی میں کام کرنے لگی۔۔۔
بس اِسٹینڈ پر نجانے وہ کتنی دیر تک بلال کا انتظار کرتی رہی مگر وہ نہ آیا۔۔۔
بِل آخر وہ اُس کو دوستوں کے ساتھ دُور دیکھائ دِیا۔۔ بلال نے دُور سے اِیمان کی جانب اپنی گھڑی دیکھا کے اِشارہ دیا تھا۔۔۔
‘آج رات میری سالگرہ نہیں، میری موت کی ہوگی’ اِیمان غصّے میں یہ کہہ کر بس میں داخل ہوگئ تھی۔۔۔
گھر پہچتے ہی اُس نے اپنے کمرے کا رُوخ کیا۔۔
دروازہ بند کر کے وہ تہلا بستر پر رکھ کر اُس کو تکنے لگی۔۔۔
‘اِس میں شیٹل کوک بُرکا ہوا تو؟؟’ وہ زور سے مُسکرا کے اُٹھی اور تہلا کھولکر دیکھ کر شرما گئ۔۔۔
کالا سیاہ اَبایا پہن کر جب وہ شیشے کے سامنے کھڑی ہوئ تو پہلی بار اُس کو اپنا آپ بےحد حسین محسوس ہوا۔۔
صبح سویرے اسمبلی کی لائن میں کھڑے ہوکے مُسلسل اُس کی نظر اسکول کے گیٹ پر تھی۔۔
بلال ایک ہی سِیمٹ تَک رہا تھا جیسے اُس کو آج اِیمان کے آنے کا شِدت سے انتظار تھا۔۔
‘کب آۓ گی۔۔ آج دیر کردی۔۔ جلدی آؤ نہ اِیمان’ دل بار بار ایک ہی صدا لگا رہا تھا۔۔۔
اُس کی نظر ایک لمہے کے لیۓ ہٹی ہی تھی کہ اِیمان اَبایا پہنے، سَر ڈھنپے داخل ہوئ تھی۔۔
‘ماشاءاللّلا’ پاس سے گزرتی ہوئ اِیمان کو اُس نے آہستہ سے بولا تھا۔۔۔
‘یہ لو ٹافی کھاؤ’ بلال نے بس اِسٹینڈ پر اُس کی جانب ہاتھ بڑھایا۔۔
‘آج تو میں واقعی تمھیں چڑیل لگ رہی ہونگی نہ۔۔ کالے برُکے میں چڑیل’۔۔ وہ منُہ بنا کر بولی۔۔
‘جاؤ تمھاری بس آگئ۔۔’ بلال مُسکرا کے بولا۔۔
وہ جا ہی رہی تھی کہ بلال اُس کی سِمت بڑھ کے بولا۔۔
‘سنو؟
تم چڑیل ہی سہی۔۔ پر میری ہو۔۔
میں چاہتا ہوں میری چڑیل بس مجھے ڈراۓ۔۔
میں رہوں یا نہ رہوں۔۔اِس کو ہمیشہ قائم رکھنا۔۔’ وہ کہہ کر جا چکا تھا۔۔
مگر اِیمان اُس کی زات میں گرفتار ہوچکی تھی۔۔ اُس پوری رات وہ سو نہیں سکی تھی۔۔
اُس کو اپنا آپ مکمل محسوس ہو رہا تھا۔۔۔
اِیمان نے مضبوطی سے اُس کا ہاتھ پکڑ کر بینچ سے اُٹھ کر ہسپتال کے اندر کا رُخ کیا۔۔
ایسا لگ رہا تھے جیسے بلال ایک چھوٹا بچہ تھا۔۔اور وہ اُس کی ماں جو اُس کو زبردستی اسکول لے کے جارہی ہو اور بچہ نہ جانا چاہ رہا ہو۔۔
‘اچھا آؤ جوس پیتے ہیں’ بلال نے بات گھومانا چاہی۔۔
‘جوس کیا میٹھائ کھئنگے، گول گپے اور مصالے والہ بٹھہ بھی کھاؤنگی مگر ابھی سیدھا اندر چلو’ اِیمان بغیر کچھ سُنے اُس کا ہاتھ تھامے اُس کو اندر کی سِمت لے کے جارہی تھی۔۔۔
‘ہمارا نمبر ۱۲ ہے اور ابھی تو دوسرا نمبر چل رہا ہے’ اِیمان اُس کو بیٹھا کر اپنی باری کا معلوم کرکے اُس کے پاس آکے بیٹھ گئ تھی۔۔
‘ایسے کیا دیکھ رہے ہو؟ چڑیل آج ماں کا روپ لے کر بیٹھی ہے تمھارے سامنے’ وہ دھیمے سے مُسکرائ۔۔
‘سنُو؟ ابھی تو تھوڑا وقت ہہنا۔۔ مجھ سے باتیں کر لو؟ بلال دبے لہجے میں بولا تھا۔۔
وہ اُس کے پاس سے جانے لگا تھا کہ اِیمان نے اُس کا ہاتھ تھما تھا۔۔
‘یقین رکھو خُدا پر اور پھر مجھ پر۔۔ میں کل بھی تمھارے ساتھ تھی۔۔ میں آج بھی ہوں اور۔۔ ہمیشہ رہوں گی۔۔ اپنی اِیمان پر اور خُدا پر پورا اِیمان رکھو۔۔’ وہ مزید بولنا چاہتی تھی مگر بلال کا آنسو اُس کی ہتیلی پر گر چکا تھا۔۔۔
‘تم۔۔ تم رو رہے ہو؟؟ بلال تم کیسے؟؟ الفاظ ہلک میں جیسے پھنس گۓ تھے۔۔ اُس کو اپنی آنکھوں پر یقین نہیں آرہا تھا۔۔
‘میں نے تم سے تب سے محبت کی ہے جب سے میں نے اِس احساس کو جانا ہے۔۔ اِیمان میں نے بہت خواب دیکھے ہیں جن کی تعبیر میں تمھارے ساتھ پورا کرنا چاہتا ہوں۔۔میں نہیں جانتا آج کیا ہوگا لیکن میں ایک بات کہنا چاہتا ہوں۔۔’ وہ ہار چکا تھا۔۔ وہ وہیں گُھٹنے ٹیکھے بیٹھ گیا تھا۔۔
‘بلال تم سے بےانتہا محبت کرتا ہے اِیمان۔۔’ وہ تھک کر وہیں سجدہ ریز ہوگیا تھا۔۔ اُس کو پرواہ نہیں تھی دنیا کی۔۔اُس کو پرواہ نہیں تھی کہ وہ ہسپتال کر گارڈن میں لوگوں کے بیچ ہے۔۔ وہ بس جُھوک کر۔۔ تھک کر۔۔ ہار کر رو رہا تھا خُدا کے آگے۔۔
وہیں جہاں اِیمان نجانے کتنی دیر سے برف جیسے چٹان بن کر بیٹھی ہوئ تھی۔۔۔
رات کھانے کے دسترخوان پر وہ بےچین اور گھبرائ گھڑی تکتی رہی۔۔۔
‘طبیت ٹھیک ہے؟ جب اے آئ ہو پریشان ہو؟ امّی نے فکرمند ہوکے اِیمان سے پوچھا۔۔
‘نہیں بس سَر دکھ رہا ہے، نیند پوری نہیں۔۔میں جارہی ہوں سونے’ وہ کھانا چھوڑ کر ایسے بھاگی جیسے چوری کر کے بھاگی ہو۔۔
جیسے جیسے وقت قریب آرہا تھا۔۔ اُس کا رنگ زرد اور جسم سرد پر رہا تھا۔۔۔
‘آج تو میں ختم ہو جاؤں گی’ وہ خود سے ڈر کر بولی۔۔۔
۱۱:۴۵ بجتے ہی وہ بلکونی میں کھڑی ہوگئ۔۔
کمرے میں مکمل اندھیرا کر کے وہ فکر سے نڈھال ہورہی تھی۔۔
۹ منٹ گزرے ہی تھے کہ وہ ۱۱:۵۵ پر کالی بڑی سی گاڑی میں آیا۔۔ باہر نکل کر خاموشی سے آکے۔۔ نیچے کھڑے ہوکے وہ مُنہ چڑانے لگا۔۔
..
اِیمان بُوکھلائ ہوئ ہاتھ جوڑ کر اِشارہ کرتی رہی کہ جاؤ مگر وہ۔۔۔
ٹھیک بارہ بجے اُس نے چھوٹا سا تھیلا اُس کی جانب پھینکا اور چلا گیا۔۔
کاپتی ہوئ اِیمان بستر پر چڑھ کے بیٹھی ہی تھی کہ تھیلے میں وائبریشن ہونے لگی۔۔
‘یہ تو کِھسکا ہوا ہے ہی۔۔مجھے بھی پاگل کر کے چھوڑے گا۔۔’ وہ غصّے میں کال ریسیف کر کے بیٹھی۔۔۔
‘بلال تم۔۔۔۔۔۔’ وہ بولنا چاہتی تھے مگر بلال نے اُس کو روک دیا تھا۔۔۔
‘اِیمان چُپ بس۔۔ کچھ نہیں بولنا۔۔آج تم سنوگی اور میں بولوں گا۔۔ ہیپی بڑت ڈے ٹو یو۔۔ آج اُس لڑکی کی سالگرہ ہے جس سے مجھے بہت محبت ہے۔ ہاں اِیمان تم میری کُل کائنات ہو۔۔’ وہ دھیمے لہجے میں بولا۔۔
‘سُنو؟ اِیمان۔۔ سُن رہی ہونا؟ وہ بےچینی سے بولا۔۔
‘جی۔۔’ وہ بس اتنا ہی بول پائ تھی۔۔
‘اِیمان دیکھو چاند گواہ ہے۔۔ وہ ہمارے بیچ ہے۔۔ میں آج رَب کے سامنے تمھیں کہتا ہوں۔۔ اپنی ماں کے بعد اگر میں نے کسی عورت کو سچے دل سے چاہا ہے۔۔ تو اُس کا نام اِیمان طارق ہے۔۔جو میں ایک دن اِیمان خان کر کے دیکھاؤنگا تمھیں’ وہ بہت فخر سے بول رہا تھا۔۔
اُس کو لگا تھا اُس کی زات اُس کی نہیں رہی۔۔وہ خود کو بےبس اور بہت مکمل محسوس کررہی تھی۔۔
وہ بس آنکھوں پہ ہاتھ رکھے مسُکرا رہی تھی۔۔ اُس کا دل چمک رہا تھا۔۔ اُس کا دل مکمل ہوگیا تھا۔۔وہاں کوئ ہمیشہ کے لیۓ رہنے آگیا تھا۔۔
‘آج میں تم سے پوچھتا ہوں۔۔ کیا مجھے میری کُل کائنات دوگی؟ میں تم سے بڑے وعدے نہیں کروں گا اِیمان۔۔ میری کوئ حیثیت نہیں مگر۔۔۔ میں یہ وعدہ کرتا ہوں دنیا سے تمھاری عزت کروانگا تمھیں اپنی عزت بنا کر۔۔’ آج وہ کھِسکا ہوا نہیں۔۔ ایک مکمل مرد کی عکاسی کر رہا تھا جو عورت کو مقام دینا چاہتا تھا۔۔
اِیمان کا فارم لیٹ ہوگیا تھا۔۔
صبح سویرے وہ بس میں یونیورسٹی پہچی تو گیٹ پر بلال پانی کی بوتل لیۓ اُس کا مُنتظر تھا۔۔۔
‘تم کیوں آۓ ہو؟ تمھارا تو فارم سبَمٹ ہوگیا تھا۔۔ کیوں تم نہیں سُدھرتے ہو۔۔ وہ تیزی سے آگے چلتے ہوۓ بول رہی تھی۔۔
‘تم اکیلے آتیں لائن میں لگتیں اور میں گھر میں سورہا ہوتا؟ ایسی نیند تو قبر میں ہی آۓ گی۔۔’ وہ مُسکرایا ہی تھا کہ آگے سے اُس کے سَر پر اِیمان نے فائل ماری تھی۔۔
‘کھسکے ہوۓ پاگل’ وہ بڑبڑائ۔۔
اِیمان گلز کی رو میں کھڑی شدید گرمی سے نڈھال ہورہی تھی۔۔ جب کہ۔۔
بلال اُسی کے سامنے جینٹز کی رو میں کھڑا اُس کو سمجھا رہا تھا۔۔
‘یہ لو پانی پی لو’ اور سنو یہ فائل پکڑو اِس سے خود سے یہ مچھر بھگاؤ۔۔’ وہ بہت اپنائیت سے بول رہا تھا جب کہ لائن میں کھڑے سب اُن کو رشک سے دیکھ رہے تھے۔۔
طویل انتظار کے بعد۔۔
‘تم بلا وجہ رو میں کھڑے رہے۔۔ لوگ کیا سوچ رہے ہوں گے؟ وہ غصّے سے برہم ہوئ۔۔
‘مجھے کیا پتا لوگ کیا سوچ رہے ہونگے۔۔مجھے بس یہ پتا ہے کہ تم اکیلی نہیں تھیں۔۔پیار کا اظہار ضروری نہیں ہے اِیمان۔۔پیار کو نِبھانا بہت ضروری ہے۔۔۔چلو آؤ چاٹ کھتے ہیں’ وہ اُس کا ہاتھ پکڑ کر ساۓ کی جانب لے گیا۔۔۔
‘کاش میں بھی تمھاری طرح تمھارے گھر کے باہر کھڑی ہوکے تمھیں وِش کر پاتی مگر۔۔’ وہ بلال کو اُس کی سالگرہ کی رات وِش کر رہی تھی فون پر۔۔۔
‘تم گھر کے باہر کیوں آؤگی؟؟ تم تو گھر کے اندر آؤگی پگلی’۔۔وہ آہستگی سے بولا۔۔
‘اچھا بتاؤ کیا چاہیۓ تمھیں؟ وہ اُلجھ کر پوچھنے لگی۔۔۔
‘تمھارا ایک دن چاہیۓ بس۔۔ بولو دوگی؟ وہ بہت اطمینان سے بولا تھا۔۔۔
صبح ہوتے ہی اُس نے گھر سمیٹھا۔۔ نماز ء ظُہر ادا کر کے اُس نے گُلابی رنگ کا جوڑا پہنا اور چلی گئ۔۔ اُس دن بلال کو اِیمان پر بہت پیار آیا تھا۔۔
‘ہم کہاں جارہے ہیں؟ وہ سہمی ہوئ بولی۔۔
‘ہم کارساز جارہے ہیں نا بھیئ۔۔وہاں میں گاڑیاں روکوں گا اور تم ڈرانا۔۔اپنا بِسنس خوب چلے گا’ اُس نے زور کا قہقہہ لگایا تھا۔۔۔
‘تم نہ بس’ وہ سخت چڑ کر بولی۔۔
‘میں تمھیں وہاں لے کے جارہا ہوں جہاں تمھیں میرے ساتھ زندگی گزارنی ہے۔۔ ھمارے گھر۔۔’ وہ بول ہی رہا تھا کہ اِیمان زور سے چیخی تھی۔۔
‘کہ کہ کیا؟؟ تم ہوش میں ہو؟ تم پاگل ہو؟ مجھے ابھی گاڑی روک کے اُتارو۔۔ میں تمھارے گھر جاؤنگی؟؟ بلال تم عجیب ہی بس۔۔’ وہ بےانتہا ڈر گئ تھی۔۔
‘اِدھر دیکھو مجھے۔۔ چُپ بس!!! بھروسا کیا ہےنا مجھ پر الّللہ کو گواہ بنا کر۔۔ تو قائم رکھوں گا اُس کو اور تم میری دوست ہو سب سے پہلے پھر میری زندگی ۔۔ اب اُترو ہم پہچ چکے ہیں’ اُس نے گاڑی پُورچ میں کھڑی کر کے دروازہ کھولا۔۔۔
ہارن بجتے ہی اُس کی چھوٹی بہن بھگتی مُسکراتی آٸ اور اِیمان کے گلے لیپٹ گئ۔۔
‘آپی آپ آگئیں۔۔ آئیں اندر نہ۔۔’ اِیمان مُسلسل بلال کو گھور رہی تھی۔۔
‘جاؤ اندر جاؤ۔۔ یہ تمھارا ہی گھر ہے۔۔’ وہ مُسکرا کے آگے نکل کر گھر میں داخل ہوچکا تھا۔۔۔
اندر جاتے ہی اُس کو لگا جیسے سب کو اُسی کا انتظار تھا۔۔۔
اُس کا گھر واقعی بہت خوبصورت تھا۔۔
‘اِدھر آؤ اِیمان’ ایک بہت میٹھی سی آواز آٸ۔۔
وہ مُڑی تو دیکھا بلال اپنی اّمی کے گلے میں ہاتھ ڈالے کھڑا تھا۔۔۔
وہ دبے پاؤں قریب گئ۔۔
‘اطمینان رکھو بیٹا۔۔ مجھے پتا ہے اس شیطان نے تمھیں نہیں بتایا ہوگا۔۔ مگر میں جانتی ہوں۔۔ یہ تمھیں ہم سب سے ملوانا چہتا تھا۔۔ آؤ ڈرائنگ رُوم چلو سب تمھاری راہ دیکھ رہے ہیں بیٹا۔۔اُس کی اّمی بہت شفقت بھرے لہجے میں بولی تھیں۔۔۔
اُس کا دل کر رہا تھا زمین پھٹ جاۓ اور وہ اُس میں خود کو دفن کردے۔۔ وہ شرم کے مارے کسی سے نظریں نہیں مِلا سکھ رہی تھی۔۔
ڈرائنگ رُوم کا دروازہ کھولا ہی تھا کہ بلال تیزی سے اُس کے سامنے آگیا تھا۔۔
‘اِیمان آنکھیں بند کرو’ وہ دلچسپی سے بولا۔۔
‘اِس وقت میرا دل بند ہورہا ہے۔۔ خُدا کے لیۓ مجھے گھر لے جاؤ بلال’ وہ دبے لہجے میں بولتے ہوۓ اپنی نَم آنکھیں پوچھنے لگی تھی۔۔
‘اب تم مجھے شدید غصّہ دلا رہی ہو۔۔ میں وہ نہیں جو تم سے کہے کے ریسٹورنٹ چلو یا باہر ملو اِیمان۔۔ ھمارے ہاں عزت دینا جانتے ہیں۔۔ یہاں جو بھی ہیں میرے اپنے ہیں اور اِن سب کو تم سے ملنا تھا۔۔’ وہ سنجیدہ انداز میں اِیمان کو سمجھا رہا تھا سائڈ میں کھڑا کر کے۔۔۔
اِس سے پہلے کے اِیمان اپنے آنسو چُھپا پاتی۔
‘ہٹو تم یہاں سے شِریر کہیں کے’ اُس کی اّمی مُسکرا کر بولیں۔۔۔
اب وہ اِیمان کو اپنے ساتھ کمرے میں لے گیئں تھیں جہاں سب گھر والوں کے علاوہ اُس کی خالہ اور ماموں بھی تھے۔۔۔
‘آئیں آئیں بیھٹیں یہاں آپی۔۔ آپ کو پتا ہے ہم کتنا انتظار کر رہے تھے صبح سے آپ کا’ مریم نے پُر جوش انداز میں اِیمان کو گُلدستا دیتے ہوۓ کہا ۔۔۔
سب نے اُس کے ساتھ ایسا برتاؤ کیا جیسے وہ بلال کی پسند پر بےحد خوش اور مطمئن تھے۔۔ چند ہی لمحوں میں اُس کو اپنا اپ سب سے مانُوس لگ رہا تھا۔۔۔
‘مریم عصر کا وقت ہوگیا ہے مجھے نماز پڑھنی ہے جاۓ نماز کہاں؟؟ وہ آہستہ سے اُس کے کان میں سرگوشی کرتے ہوۓ بولی تھی۔۔۔
مریم اُس کو اپنے کزنز کے ہمرہ بلال کے کمرے میں لے آٸ تھی۔۔
‘آپی جاۓ نماز بچھا دیا ہے۔۔ آپ نماز پڑھ کر نیچے آجانا’ مریم بےسختہ مُسکرا کر جا چکی تھی۔۔۔
نماز مکمل پڑھ کر وہ جاۓ نماز کو گھور رہی تھی۔۔ اپنے رَب سے کچھ بولنا چاہتی تھی مگر لفظوں کا انتخاب کرنے میں ناکام تھی۔۔
‘میں تیرا کِن لفظوں میں شکریہ ادا کروں پروردگار؟ میں نے کیا کرا تھا کہ تو نے مجھے اتنا عطا کردیا؟ وہ سجدہ ریز ہوکہ دھیمی آواز میں رو رہی تھی۔۔
ہاتھ اُٹھاۓ۔۔ سفید بوکُل باندھے آنکھیں بند کیۓ۔۔اُس نے دل سے صدا لگاٸ۔۔
‘یاخُدا مجھے اِس گھر میں جائز رشتے میں باندھ کر ہمیشہ کے لیۓ اُس کا بنا دیں’ آنسو اُس کی آنکھوں سے بہہ رہے تھے۔۔ وہ بےسود بیٹھی اپنے رَب سے باتوں میں مصروف تھی۔۔
‘آمین سوّما آمین’ وہ ایک دم اُس کی آواز سے چونکی تھی۔۔
‘تم کب آۓ؟ وہ جاۓ نماز تہہ کرتے ہوۓ بولی۔۔ ‘جب تم میری خوشیاں مانگ رہی تھیں’ وہ شیطانی انداز میں بولا تھا۔۔
‘تمھیں احساس بھی ہے کہ آج تم نے کیا کردیا ہے؟ میں کتنا شرمندہ ہوں!! کیا سوچ رہے ہونگے سب۔۔ ایسی لڑکی ہوں کہ گھر تک آگئ؟ وہ کرسی میں بیٹھ کر گلا کرنے لگی تھی۔۔۔
‘تم کیسی ہو یہ میں جانتا ہوں کیا یہ کافی نہیں ہے؟ میری ماں میرے گھر والے جانتے ہیں کیا یہ کافی نہیں؟ دنیا کیا سوچتی ہے مجھے اِس سے کوئ فرق نہیں پڑھتا۔۔ تم کیا سوچتی ہو اُس سے فرق پڑھتا ہے۔۔’ وہ آہستگی سے بولتے ہوۓ اُس کی جانب بڑھا۔۔
‘یہی ہے ھماری دنیا اِیمان۔۔ یہ ھماری چھوٹی دنیا ہوگی جس میں ہم ہونگے اور ھمارے خواب ہونگے’ وہ یہ سُن کر پھر چونکی تھی۔۔
‘یہ تمھارا کمرہ ہے؟ وہ بےحد حیرانی سے بولی۔۔
‘ابھی تو میرا ہے۔۔ جلد ھمارا ہوجاۓ گا’ وہ آنکھ مارتے دروازے کی جانب بڑھا۔۔
‘ٹو بی مسسز اِیمان خان سون، نیچے سب آپ کی راہ دیکھ رہے ہیں’ وہ یہ کہہ کر کمرے سے جاچکا تھا۔۔۔
دسترخون لگ چکا تھا۔۔ ڈائنگ ٹیبل پر سب بیٹھے اُس کے مُنتظر تھے۔۔
‘آو اِیمان سب کے ساتھ مِل کر کھانا کھاؤ’ امّی اپنئیت سے بولیں۔۔
‘کھانا بہت لزیز تھا انٹی۔۔ خاص کر میٹھا۔۔آپ نے بہت محنت کی’ وہ جاتے ہوۓ گلے لگ کر بولی۔۔
‘تمھیں پسند آیا ہے اب میں روز بلال کے ساتھ ساتھ تمھارے لیۓ بھی بِھجا کرونگی’ وہ جاتے ہوۓ اِیمان کو گرم جوشی سے بولیں۔۔
‘اِیمان تم نے ابّو کو خُدا حافظ نہیں کہا، چلو جلدی آو اُن سے مِل کو پھر چلینگے’ بلال گاڑی سے اُتر کر اندر کی جانب جاتے ہوۓ بولا۔۔
وہ خاموشی سے اُس کا پیچھا کرتے کمرے میں داخل ہوچکی تھی جہاں اُس کے اّبو بیٹھے تسبیح پڑھ رہے تھے۔۔
‘میری اپنی بھی بیٹی ہے اِس گھر میں۔۔ میں سمجھ سکتا ہوں تمھارے احساس بیٹا۔۔تم اور مریم میں کوٸ فرق نہیں۔۔ خُدا تمھیں خوش رکھیں’ وہ اُس کے سر پر ہاتھ رکھ کر اُس کو دُعا دے رہے تھے۔۔۔
‘آپ سب بہت اچھے ہیں’ وہ خُود پر قابو نہ رکھ پاٸ تھی۔۔ وہ بے سختہ رو رہی تھی۔۔
‘خُدا حافظ آپی، دوبارہ بھی آئیگا’ مریم گھر کے سامنے گیٹ پر اُداس کھڑی اِیمان کو ہاتھ ہلا کر روخصت کر رہی تھی۔۔
‘آج تمھارا دِن تھا۔۔میں کچھ نہیں دے سکی تمھیں اور تم مے مجھے۔۔’ وہ کہتے کہتے رُک گئ تھی۔۔
‘عام سا انسان ہوں یار۔۔ بہت مطلبی ہوں قسم سے۔۔ اب کیا کروں سارا مطلب ہی میرا تم سے جوڑا ہے۔۔ کُل کائنات جو ہے یہ چڑیل میری’ وہ اُس کو ہنسانا چاہتا تھا۔۔۔
‘مجھے آج اتنے سارے رشتے دینے کے لیۓ شکریہ بلال۔۔ آج میں رشتوں کے ترازو میں خود کو بہت عٰلی مقام پر محسوس کر رہی ہوں۔۔’ وہ گاڑی سے اُتر چکی تھی۔۔
–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: