Mohabbat Ka Safar Novel By Isha – Last Episode 4

0
محبت کا سفر از عشا – آخری قسط نمبر 4

–**–**–

‘جی بابا بس اب خیر سے ایمان کی شادی کریں اور یہں رہیں’ ایشعال چاۓ کپ میں نکالتے ہوۓ بولی۔۔
‘ہاں اب ہماری گڑیا کے ہاتھ پیلے ہونگے’ ماما مسُکرا کر بولیں۔۔۔
‘کیا شادی شادی۔۔ ابھی تو بابا آۓ ہیں اور آپ سب۔۔’ ایمان چڑ کر کمرے میں داخل ہوئ تھی
عصر کی نماز پڑھ کر وہ وہیں موبائل ہاتھ میں لیۓ جاۓ نماز کو گھور رہی تھی۔۔۔
جہاں ایمان کے دل میں باسل کے لیۓ خوف تھا۔۔
اب وہ خوف عزت میں تبدیل ہوگیا تھا۔۔
‘یہ جانتے ہوۓ کہ میرے دل میں کوئ اور ہے وہ پھر بھی مجھے اپنانا چاہتے ہیں۔۔ نہ صرف اپنانا مجھے میری کھوئ ہوئ خوشیاں دینا چاہتے ہیں۔۔’ وہ دل میں اطمینان محسوس کر رہی تھی۔۔۔
‘میں اِس رشتے کے لیۓ دل سے راضی ہوں’ ایمان میسج کر کی رب کی بارگاہ میں سجدہ ریز ہوئ تھی۔۔
‘یا الّللا مدد کرنا میری کہ میں ایک اچھی بیوی بن سکوں۔۔ میری زات سے باسل کو تکلیف نہ ہو۔۔ میں بلال سے کیے وعدے کا پاس رکھ سکوں۔۔ اس نئ منزل میں میرا ہاتھ مظبوطی سے تھام لیں پروردگار۔۔’ جاۓ نماز تہہ کر کے وہ صحن میں اپنے بابا کے پاس جا کر بیٹھ گئ تھی جو تلاوت کر رہے تھے۔۔۔
قرآن پرھ کر آنھوں نے میز پر رکھ کر ایمان کو پیار بھری نگاہوں سے دیکھا تھا۔۔
‘بابا آج بھی آپ کی یہ عادت گئ نہیں’ ایمان نے اپنے بابا کو گلے لگا کر بولا جو ایمان پر کلام پھونک رہے تھے۔۔
‘کیوں جاۓگی۔۔ والدین تو دُنیا سے جاکر بھی اپنی اولاد کو دُعا دیتے ہے بیٹا’ وہ ایمان کو بوسہ دے کر بولے۔۔۔
‘تمھاری ماما نے مجھے احمد کے دوست کے بارے میں بتایا تھا فون پر۔۔ میری بیٹی کیا چاہتی ہے’ وہ ایمان کو دل سے لگا کر بولے۔۔
‘بابا اپ کو بھی فیصلہ کریں گے مجھے قبول ہوگا’ ایمان نظریں جھکا کر ادب سے بولی۔۔
‘ائیرپورٹ سے واپسی پر میری احمد سے بات ہوئ تھی۔۔ احمد نے مجھے بہت مطمئن کر دیا ہے۔۔ وہ لڑکا اُس کے بچپن کا دوست ہے۔۔میں نے احمد سے کہا ہے کہ اُن کی فیملی کو دعوت دے’ وہ اپنئیت سے بولے۔۔
‘بابا مجھے آپ سے دور نہیں جانا۔۔ اب جب آپ ہمیشہ لے لیۓ آگۓ ہیں تو مجھے روخصت کرنے کی باتیں کر رہے ہیں’ ایمان نم آنکھوں سے بولی
‘بیٹا تم اسی شہر میں رہو گی اور تمھارا گھر بس جاۓ گا تو میں پُرسکوں ہوجاؤں گا نہ’ وہ ایمان کو دلاسہ دیتے ہوۓ بولے۔۔
‘اور آپ کے سکون سے بڑھ کر کچھ نہیں میرے لیۓ ماۓ سویٹ بابا’ ایمان گرم جوشی سے گلے لگی تھی۔۔
دفتر میں میٹینگ کے دوران اُس کے نظر موبائل پر پڑی۔۔
‘اکسکیوز می’ وہ کہہ کر باہر نکل آیا تھا۔۔
بار بار وہی میسج پڑھ کر خُود کو یقین دلا رہا تھا۔۔
‘امّی احمد کا فون آیا تھا۔۔ ہم کل چلیں اُن کے ہاں’ باسل کی آواز میں خوشی کی لہر تھی۔۔
‘ہاں میرا بچہ میں ایمان کی ماما کو فون کر کے بتا دیتی ہوں کہ ہم کل آرہے ہیں اور ایمان کو اپنا کر ہی واپس لوٹینگے’وہ مسّکرائیں۔۔
‘ایمان تمھارے اس فیصلے سے سب بہت خوش ہیں۔۔’ایشعال کوفی کا مگ دیتے ہوۓ بولی
‘اور سب کی خوشی میں میری خوشی ہے’ ایمان مسُکرائ۔۔
‘اپنے لیۓ بھی خوش ہوجاؤ۔۔ جو چلا گیا اُس کے لیۓ دُعا کرو اور جو سامنے ہے اُس کو اپنا لو دل سے۔۔ میرا دل کہتا ہے باسل تمھیں بہت خوش رکھےگا۔۔’ ایشعال اطمینان سے بولی
‘مجھے اپنے رب پر پورا بھروسا ہے۔۔وہ ساتھ ہیں میرے تو سب ٹھیک ہوگا’ ایمان یقین سے بولی
‘ایمان صبا کا فون آیا تھا وہ لوگ کل سب رات کھانے پر آرہے ہیں’ ماما کمرے میں داخل ہوتے بولیں۔۔
‘صبا بتا رہی تھی کہ امّی نے کہا ہے بات کر کے شادی کی تاریخ لے کر ہی آئنگے اُن کے ہاں تو عید کا سماء ہے۔۔ آج اُن کے ہاں بڑا دسترخوان لگے گا غریبوں کو کھانا کھلانے کا انتظام کروایا ہے ابّو نے۔۔’ ماما کے آواز میں سکون تھا۔۔ خوشی تھی۔۔۔
ہر طرف خوشیاں تھیں۔۔
رونکیں تھیں۔۔
سن تیاریوں میں مصروف تھے۔۔جیسے سب فائنل ہوچکا ہو۔۔
مریم اور صبا گاڑی میں بیٹھ چکی تھیں
‘بھائ امّی اور باسل بھئیا کیسے آئنگے؟ مریم گاڑی میں ابّو سے بولی۔۔
‘وہ تینوں دوسری گاڑی میں آرہے ہیں بیٹا’ ابّو گاڑی چلاتے ہوۓ بولے۔۔۔
نیلی شرٹ اور کالی پینٹ میں وہ بہت خوش اور سمارٹ لگ رہا تھا۔۔
اُس کی آنکھوں میں چمک تھی۔۔
‘امّی یہ میں نے ایمان کےلیۓ کل خریدی ہے’ باسل نے انگوٹھی دیکھاتے ہوۓ امّی کو بتایا
‘بہت خوب صورت ہے مگر بیٹا ڈائمنڈ کی انگوٹھی تم بعد میں پہنا دینا آج تم یہ پہنانا یہ خاندانی ہے ہماری’ امّی انگوٹھی کا ڈبّا دیتے ہوۓ بولیں۔۔
‘جی امّی جیسا آپ کہیں’ باسل کوٹ پہنتے ہوۓ باہر کی جانب گیا تھا۔۔
‘ہمیشہ خوش رہو باسل۔۔’ریّان کے بابا نے باسل کو گلے لگایا تھا۔۔
‘چلو سب انتظار کر رہے ہونگے’ امّی گاڑی میں بیٹھتے ہوۓ بولیں۔۔
‘مجھے اتنا تیار ہونا نہیں پسند اور پھر آج تو بڑوں میں بات ہوگی بھابھی’ ایمان صبا کو بولی جو کافی دیر سے اُس کو تیار کرنے میں مشغل تھی۔۔
‘جی نہیں آج آپ کو باسل بھائ کا بنا کر ہی جائینگے’ بھابھی نے ایمان کو چُپ کرایا تھا
‘جلدی سے بس یہ سوٹ پہنو اور پھر تم تیار ہو’ بھابھی سوٹ دیتے ہوۓ بولیں۔۔
ایمان خاموشی سے واش روم کا رُخ کر چکی تھی۔۔۔
‘آپ سب سے مل کر خوشی ہوئ۔۔ میں نے دونوں بیٹیوں کی پرورش بہت دیکھ کر کری ہے۔۔ مگر ایمان بہت لاڈلی ہے۔۔ اُس نے ہمیشہ میرا بیٹا بن کر ساتھ دیا ہے۔۔ میں چاہتا ہوں جو اِس کی زندگی میں آۓ وہ اس کو بہت پیار اور عزت دے’بابا ابّو سے مُخاتب ہوۓ تھے۔۔۔
‘ایمان ہے ہی بہت اچھی اور نیک۔۔ اسی لیۓ ہم اس کو ہمیشہ کے لیۓ اپنے پاس رکھنا چاہتے ہیں۔۔ امّی یقین سے بولیں۔۔
‘روپیہ پیسہ کچھ اہم نہیں۔۔ جو ہوگا ایمان کا اپنا نصیب ہوگا۔۔ میری گارنٹی ہے کہ میری بیٹی اپ کے گھر کو عزت اور پیار دے گی کیونکہ میں اپنی بیٹی کو جانتا ہوں۔۔ مگر بدلے میں ایمان کو بھی یہی سب ملے یہ میری خواہش ہے’ بابا التجائیہ لہجے میں بولے۔۔۔
‘میری بیٹی می بہت سہا ہے اور بہت کم عُمر میں سہا ہے۔۔ میں چاہتی ہوں اُس کو بہت خوشیاں ملیں’ ایمان کی ماما نم انکھوں سے بولیں۔۔
‘انکل میں آپ کو یقین دلاتا ہوں کہ میری زات سے اپ کی بیٹی کو کوئ شکایت نہیں ملےگی۔۔ اور انٹی ایمان کی انکھ نم نہیں ہوگی’ باسل ماما کے آنسو صاف کرتے ہوۓ بولا۔۔
‘جیتے تہو بیٹا۔۔ ایشعال جاؤ میٹھائ لاؤ۔۔’ ماما مسُکرا کے بولیں۔۔
‘ویل کم ٹو دس فیملی’ احمد گرم جوشی سے باسل سے ملا۔۔
‘اپنی سالی کو بلوا لو یار اب انتظار نہیں ہورہا’ باسل گلے ملتے ہوۓ احمد کو کان میں بولا۔۔
‘ارے ایمان کو لے کر آؤ۔۔ بلکہ میں لے کر آتا ہوں’ احمد کمرے کی جانب جاتے ہوۓ بولا۔۔
‘آؤ ایمان میرے پاس’ امّی باسل کے پاس سے اُٹھتے ہوۓ بولیں’
رائل بلو رنگ کے جوڑے میں۔۔ لال چوڑیاں پہنیں۔۔ گھبرائ ہوئ۔۔ بال کھولے ہوۓ وہ نظریں جھکاۓ باسل کے پاس آکر کھڑی ہوئ تھی۔۔
کمرے میں ہر طرف مبارک باد کی آوازیں گونج رہی تھیں۔۔
دونوں نے ایک دوسرے کو انگوٹھی پہنائ تھیں۔۔
‘کبھی کبھی سوچا جو نہیں ہوتا وہی ہوتا ہے۔۔ میں کبھی آپ کو نااُمید نہیں کرونگی’ ایمان ہاتھ میں چمکتی انگوٹھی کو دیکھ کر بولی۔۔
‘ ہم شادی جلد کرنا چاہتے ہیں۔۔ ہمیں کچھ نہیں بس اپنی بیٹی چاہیۓ’ ابّو ایمان کے سر پر ہاتھ پھیرتے ہوۓ بولے۔۔۔
‘جی آپ کی امانت ہے جیسا آپ کہیں’ بابا مسُکرا کے بولے۔۔۔
‘تو ٹھیک ہے اگلےمہینے کی ۲۵ تاریخ تہہ پائ’ابّو میٹھائ بابا کی جانب بڑھاتے ہوۓ بولے۔۔۔
ایمان پاس بیٹھے بابا سے گلے لگ کر روئ تھی۔۔
کمرے میں موجود ہر شخص کی انکھ اشکبار تھی۔۔۔
‘میں خوش اور مطمئن ہوں پورودگار۔۔ کیونکہ میں جانتی ہوں آپ کا میرے لیۓ اتخاب غلط ہو ہی نہیں سکتا۔۔ میرا وعدہ ہے آپ سے۔۔ میں آپ کو مایوس نہیں کرونگی۔۔ آپ نے میاں بیوی کے رشتے کو بہت پاک اور مظبوط بنایا ہے اور میں اس رشتے کو دل سے نبھاؤنگی۔۔’ وہ اطمینان سی اپنے رب سے بولی۔۔۔
وہ جاۓ نماز تہہ کر کے بستر پر لیٹی تھی۔۔
‘کچھ نہیں ہونے والا مجھے۔۔ ابھی تو تمھارے ساتھ اپنے خوابوں کو تعبیر دینی ہے۔۔ وہ اپنے ہاتھ میں انگوٹھی کو گھور رہی تھی جب کہ بلال کے الفاظ اُس کے وجود میں شور مچا رہے تھی
‘میری چڑیل ہو تم۔۔’ وہ روئ تھی۔۔
‘سب بدل گیا۔۔ میں بھی۔۔ میرا نصیب بھی۔۔ اور ہاتھ میں انگوٹھی پہنانے والا بھی۔۔’وہ خُود سے ہمکلام ہوئ تھی۔۔۔
وہ سوچوں میں گم تھی جب رات کے دو بجے فون بجا تھا۔۔
وہ جانتی تھی کہ اس وقت کس کا فون آسکتا ہے۔۔۔
وہی جس کے نام کے ساتھ ایمان کا نام جڑ گیا تھا۔۔
‘تھینک یو’۔ فون کان سے لگاتے ہے اُس نے پہلا جملا سُنا تھا۔۔
‘کس لیۓ’ ایمان آہستگی سے بولی۔۔
‘مجھ پو یقین کرنے کے لیۓ’باسل کے آواز میں سکون تھا۔۔
‘مجھے وقت چاہیۓ’ ایمان دبے لہجے میں بولی۔۔
‘میں تمھارے ساتھ ہوں۔۔ جتنا وقت چاہیۓ تم کو مگر میں تمھیں اکیلے نہیں چھوڑ سکتا۔۔ تمھاری سانسوں سے بھی زیادہ قریب رہوں گا۔۔ پر لمحہ تمھیں احساس دلاؤنگا کہ باسل تمھارے پاس ہے۔۔ بہت پاس۔۔ اور ایمان طارق اب مجھے روک نہیں سکتی۔۔ کیونکہ وہ اب باسل کی ہوگئ ہے۔۔ اور باسل اُس کو بے حد پسند کرتا ہے۔۔
وہ کچھ نہ بول پائ تھی۔۔
بس مسُکرائ تھی۔۔
اس کا چہرا گلاب کے پھول جیسا ہوہا تھا۔۔
گلابی اور حسین!
‘ایمان کم دن رہ گۓ ہیں میں اور تمھارے بابا زرا جارہے ہیں احمد کے ساتھ۔۔ صبا کا فون آیا تھا وہ لوگ جوڑے خریدنے جا رہے ہیں تمھیں بھی ساتھ لے کر جائینگے تم تیار ہوجاؤ’ماما جاتے ہوۓ ایمان کو بولیں۔۔
‘کیا ہے اپنی مرضی سے لے آتے نہ’ ایمان منُہ بنا کر ایشعال کو بولی۔۔
سادہ سا کالا جوڑا پہن کر وہ بال بنا رہی تھی جب گھر کی گھنٹی بجی۔۔
بال سمیٹتے ہوۓ وہ دروازے کی جانب بڑھی تھی
‘آپ’ وہ سر پر ڈوپٹہ لیتے ہوۓ بولی۔۔
‘گاڑی میں پانی ڈالنا ہے اس بوتل میں پانی دے دو زرا’ باسل دو منٹ ایمان کو گھورنے کے بعد بولا۔۔۔
‘آپ اندر آجائیں’ ایمان بوتل لیتے ہوۓ بولی۔۔
‘بھابھی اور ریّان نیچے گاڑی میں ہیں تم جلدی کرو’ باسل بیٹھتے ہوۓ بولا۔۔
‘چلیں؟’ باسل ایمان کو دیکھ کو حیران ہوا تھا۔۔
‘تم ابھی اپنی شادی کا جوڑا لینے جارہی ہو۔۔ دادی کی برسی پر نہیں۔۔’ باسل ایمان کے کمرے کی جانب گیا تھا۔۔
‘اپنی وارڈروپ دیکھاؤ’ باسل ہاتھ باندھتے ہوۓ بولا۔۔۔
ایمان نے خاموشی سے وارڈروپ کھولی تھی۔۔
‘کھلے ہوۓ رنگ پہنا کرو۔۔ مجھے میری ہونے والی بیوی کھلی ہوئ چاہیۓ بوڑھی نہیں اچھی لگتیں تم’ باسل نے جوڑا نکال کر ایمان کو دیتے ہوۓ بولا۔۔۔
‘وہ ایشعال اندر سو رہی ہے۔۔’ ایمان نے باسل کے بڑھتے ہوۓ قدم دیکھ کر بولا۔۔۔
‘کچھ دنوں بعد نکاح ہے۔۔ صبر کا پھل میٹھا ہوتا ہے’ باسل مسُکرا کر بولا۔۔
‘جب شرمانہ پورا ہوجاۓ تو نیچے آجانا سب نیچے تمھارے منُتظر ہیں’ وہ کہہ کر جا چکا تھا۔۔
ایمان تیار ہوکہ نیچے اتری تھی۔۔۔
ایمان کو گیٹ سے نکلتے دیکھ کر باسل نے دورازہ کھولا تھا۔۔۔
‘واہ بھئ۔۔ امّی کے بعد تم وہ پہلی لڑکی ہو جس کے لیۓ باسل بھائ نے دروازہ کھولا’ بھابھی دھیمے سے ایمان کو بولیں۔۔۔
‘کتنا کیوٹ ہوگیا ہے یہ’ ایمان ریّان کو گود میں لیتے ہوۓ بولی۔۔۔
‘آپ دونوں پیچھے بیٹھ گئیں۔۔ کوئ آگے تو آۓ میں کوئ ڈرائیور تو نہیں ہوں’ باسل اُکتا کر بولا
‘میں ہی آجاتی ہوں۔۔ بھابھی نے ایمان کا چہرہ دیکھ کر کہا۔۔۔
وہ بار بار شیشے میں ایمان کو دیکھ رہا تھا۔۔
جو ریّان کے ساتھ کھیل رہی تھی۔۔
مال پہچتے وہ لوگ دوکان میں اندر بیٹھے تھے۔۔
‘بھابھی آپ دونوں سیلکٹ کرلیں میں باہر جارہا ہوں’ باسل ریّان کو گود میں لے کر بولا۔۔
‘آپ بیٹھ جائیں’ ایمان نظریں جھکا کر بولی۔۔
باسل اور بھابھی مسُکراۓ تھے۔۔۔
وہ ایمان کے پاس جا کر بیٹھ گیا تھا۔۔
دونوں نے پسند سے جوڑے خریدے تھے۔۔
‘ایمان میں ریّان کو فیڈر پلا لونگی تم آگے بیٹھ جاؤ’ بھابھی پیچھے بیٹھتے ہوۓ بولیں۔۔
‘شاپنگ کے بعد کچھ کھانا بھی چاہیۓ’باسل گاڑی میں بیٹھ کر پیچھے ریّان کو پیار کرتے ہوۓ بولا۔۔۔
دورانِ سفر ایمان کی نگاہ گاڑی چلانے والے شخص پر پڑی۔۔۔
دھوپ کا کالا چسما لگاۓ۔۔ وائٹ شرٹ اور بسکٹی رنگ کی پینٹ میں وہ ایک بہت ویل اور سمارٹ لڑکا لگ رہا تھا۔۔
‘تمھیں تو کوئ بھی مل سکتی تھی۔۔
پھر کیوں میں۔۔؟ تم مجھ سے بہتر۔۔ بہت بہتر کے قابل ہو پھر بھی سب جانتے ہوۓ مجھ سے ہی۔۔؟ ایمان خُود سے گفتگو کر رہی تھی۔۔
‘چلو جی۔۔ یہاں کا فوڈ بہت زبردست ہے’ باسل گاڑی روک کر بولا۔۔
ایک بار پھر حسبِ معمول باسل نے ایمان کے لیۓ دروازہ کھولا تھا۔۔۔
بھابھی نے جان کر ایمان کو باسل کے پاس بیٹھایا تھا۔۔
اُس کا دل بُری طرح کانپ رہا تھا۔۔۔
وہ بار بار چادر سمیٹ رہی تھی۔۔۔
‘ریلاکس۔۔ میں باہر گاڑی میں جاکر کھالوں؟ باسل نے ایمان کو آہستگی سے بولا۔۔
‘نہیں آپ ایسے نہیں سوچیں’ ایمان نے جواباٍ کہا تھا۔۔۔
باسل نے میز کے نیچے ایمان کا ہاتھ پکڑ کر اُس کی جانب دیکھا تھا۔۔
ایمان نے باسل کے ہاتھ کو مظبوطی سے تھاما تھا۔۔
وہ ایک مکمل عورت بننا چاہتی تھی۔۔ جو اپنے ہونے والے شوہر کو مان دیا کرتی ہیں۔۔
باسل دل سے خوش ہوا تھا۔۔
جیسے جیسے دن قریب آرہے تھے۔۔
ایمان پر بے حد روپ چڑ رہا تھا۔۔
‘یہ آگیا تمھارا کل کا جوڑا سُسرال سے۔۔’ ایشعال ایمان کو دیکھانے لگی۔۔
‘کل میری بہن بیوی بن جاۓ گی۔۔’ایشعال ایمان سے گلے لگ کر روئ تھی۔۔
جمعے کے دن ایمان نے تہجّد کے نفل پڑھے تھے۔۔۔
‘آج میں ایک نئے اور جائز رشتے میں بند جاؤنگی۔۔ تمھاری یادوں کا اور تمھارا ساتھ بس یہیں تک تھا بلال۔۔۔ میں الّللا کی گناہ گار نہیں بننا چاہتی۔۔ اور پھر تم بھی تو یہی چاہتے تھے نہ بلال۔۔’ وہ ہاتھ اُٹھاۓ رب سے ہمکلام تھی۔۔
سب مُشکل لگ رہا ہے۔۔ مگر میں دل سے باسل کو قبول کر چکی ہوں۔۔
بلال کی ایمان آج مر جائے گی۔۔
آج ایمان ایک بیوی۔۔ ایک بہو بن جائےگی۔۔
آج میں سب یادوں کو دل کے ایک کونے میں بند کردونگی۔۔
بند کردونگی الّللا۔۔’ وہ سجدہ ریز ہوئ تھی۔۔
ہر طرف تیاریاں تھیں۔۔
عصر کا وقت قریب تھا۔۔
‘آپ کیوں رو رہی ہیں۔۔ آج تو آپ کو سب سے زیادہ خوش ہونا چاہیۓ’ باسل گاڑی میں امّی کو روتا دیکھ کر بولا۔۔
‘یہ خوشی کے آنسو ہیں بیٹا۔۔’ امّی باسل کو بوسہ دیتے ہوئے بولیں۔۔۔
مولوی صاحب کے آتے ہی ہر طرف خاموش آنسو تھے۔۔۔
ایمان کے بابا اور مولوی صاحب اُس کے پاس نکاح نامہ لے کر بیٹھے تھے۔۔
وہ مسُسل رو رہی تھی۔۔۔
دل پر ہاتھ رکھ کر اُس نے دستخط کیئے تھے۔۔
اُس کا دل پھٹ رہا تھا۔۔
ماما سے گلے لگ کر وہ بآوازِ بلند رو رہی تھی۔۔
سب نے ایمان کو مبارک باد دی تھی۔۔
وہ شرما رہی تھی۔۔
‘چلو تمھارا شوہر بےچین ہورہا ہے بہت’ بھابھی ایمان کو لے جاتے ہوئے بولیں۔۔
آج باسل خان خُود کو خوش قسمت ترین انسان محسوس کر رہا تھا۔۔
‘اُس کے نصیب میں وہ لڑکی آئ تھی جس کا ہر مرد خواب دیکھتا ہے۔۔
وہ خوب صورت بھی تھی۔۔
وہ خوب سیرت بھی تھی۔۔
‘آج سے میری بیٹی تمھاری ہوئ۔۔ ہمیں کچھ نہیں ایمان کی خوشی چائیے’ بابا ایمان کا ہاتھ باسل کے ہاتھ میں دیتے ہوئے بولے۔۔
سُفید رنگ کے جوڑے میں لال ڈوپٹہ اُڑھے۔۔ شرماتے ہوۓ اُس کا وجود ایک مکمل عورت کی عکاسی کر رہا تھا۔۔
‘ارے مریم کہاں لے کر جارہی ہو مجھے سب کو خُدا حافظ کہنے تو دو’ ایمان مریم کو بولی جو اُس کا ہاتھ پکڑ کر چھت کی جانب تیزی سے جارہی تھی۔۔
‘بھئیا جلدی آنا ورنہ امّی کو پتہ چل جائےگا’ مریم نے ایمان کو باسل کے پاس چھوڑ کر جاتے ہوئے
کہا۔۔
وہ نظریں جھکائے۔۔ کانپ رہی تھی۔۔
باسل اُس کی سمنت آگے بڑھا تھا۔۔
ایمان کا ہاتھ مظبوطی سے پکڑ کر اُس کو اپنی جانب قریب کیا تھا۔۔
‘یہ دس دن کیسے گزرینگے۔۔ اتنی حسین کیوں ہو تم’ وہ ایمان کی زلف کان کے پیچھے کرتے ہوئے بولا۔۔۔
‘نیچے سب ہیں۔۔ کسی کو پتہ چلے گا تو بُری بات ہے۔۔’ ایمان تیز دھڑکنوں سے آہستگی سے بولی
‘آب بات کو سنبھالنا تو تمھارا کام ہے۔۔ میں تو ایمان کو ایسے ہی اپنے حصار میں لونگا’ وہ مزید قریب ہوا تھا۔۔
‘یہ احساس کہ تم میری ہو۔۔ میری بیوی ہو۔۔ کتنا حسین ہے ایمان۔۔ بس دس دن مجھ پر یہ احسان کر دو۔۔ یہ دس دن اپنا خیال رکھ لو۔۔ اُس کے بعد میں تمھیں اتنی محبت دونگا۔۔ کہ تم سب بھول جاؤ گی۔۔
آج آنسو پی سکتا ہوں۔۔ آج سے خُدا نے مجھے حق دیا ہے۔۔’ باسل نے ایمان کے
رُخسار سے آنسو پیا تھا۔۔
ایمان نے بےسود باسل کو گلے لگایا تھا۔۔
وہ بے حد شرما رہی تھی۔۔
‘اپنا خیال رکھنا۔۔ تم صرف تم نہیں ہو۔۔ تم میری زندگی کا مقصد۔۔ میرا سب کچھ ہو۔۔’ وہ جا چکا تھا۔۔
ایمان نے نورمل ہوتے ہوئے نیچے اُتر کر سب کو روخصت کیا تھا۔۔۔
چینج کر کے نماز پڑھ کر اُس نے ہاتھ اُٹھائے تھے
‘سچ کہتا ہے تو۔۔ اگر تو لیتا ہے تو عطا بھی کرتا ہے۔۔
میں مطمئن ہوں پروردگار۔۔
وہ بلال کے بھائ ہیں۔۔
عزت دینا اور مقام دینا۔۔ وہی انداز اُن کا۔۔
مجھے تجھ پر کل بھی یقین تھا۔۔ آج بھی ہے اور ہمیشہ رہے گا۔۔ میرا کامل یقین ہے پروردگار کہ تو مجھے سب سے بڑھ کر محبت کرتا ہے۔۔ میں کبھی تیری نیت پر شک نہیں کر سکتی۔۔ چاہے کانٹوں پر کیوں نہ چلنا پڑے۔۔ تیری ایمان کو تیری زات پر مکمل ایمان ہے۔۔’ وہ سجدہ ریز ہوکہ رب کی ساتھ گفتگو میں مشغل تھی۔۔
‘بلال نہ جاتا تو مجھ میں اتنا صبر نہ آتا۔۔
میرا تجھ سے رشتہ اتنا مظبوط نہ ہوتا۔۔
اُس کی جُدائ نے مجھے تیرے قریب کیا ہے۔۔
بس مجھے اپنے قریب سے قریب تر کردے۔۔
میں باسل کی بیوی ہوں اور بلال میری آخری سانس تک میرے وجود میں میٹھی یاد بن کر رہے گا۔۔۔ آج میرے پاس اگر یہ رشتے ہیں تو وہ بلال ہی کی بدولت ہیں۔۔’ ایمان کے آنسو رُک نہ پائے تھے۔۔
‘میرا دل ہمیشہ دُعا دےگا تمھیں بلال’ اُس نے دل سے صدا لگائُ تھی۔۔
رات بھر وہ اپنے رب کی بارگاہ میں آنسوؤں کی پیشی دیتی رہی تھی۔۔
اور سہونا رب اُس کے آنسوؤں سے اس کے دل کے ہر زخم کو دھو رہے تھے۔۔
ہر طرف رونکیں تھیں۔۔
روز احمد ڈھول لے کر ماحول بناتا تھا۔۔
‘میں کیسے چھوڑ کر جاؤنگی آپ سب کو۔۔’ایمان نے احمد کے کاندھے پر سر رکھتے ہوئے بولا
‘تم بہت یاد آؤگی یار۔۔ لیکن میں خوش ہوں باسل میرا جگری یار ہے اور یہی بات مجھے بہت پُرسکون کر دیتی ہے۔۔’احمد ایمان کے سر پر ہاتھ پھیرتے ہوئے بولا۔۔
‘سو فائنلی کل میں اکیلا نہیں ہونگا’ باسل ایمان کو فون کرتے بولا۔۔۔
‘گھر میں سب کیسے ہیں؟ ایمان بات بدلنا چاہ رہی تھی۔۔
‘رات کو میاں بیوی اپنی باتیں کرتے ہےذز اپنی دُنیا میں۔۔’ باسل آہستگی سے بولا۔۔
‘آپ کیسے ہیں’ ایمان مسُکرا کے بولی۔۔
‘ٹھیک ہوں اور تمھارا انتظار شدّد سے کر رہا ہوں۔۔’ وہ جواباٍ بولا۔۔
‘تم خوش ہو؟’ باسل اقرار سننُا چاہتا تھا۔۔
‘جی میں خوش ہوں۔۔’ ایمان مطمئن ہوکہ بولی
‘دیر ہوگئ ہے کل کافی مصروف دن رہےگا۔۔ چلو کل آؤنگا میں۔۔ سب کے سامنے تمھیں لے کر جاؤنگا اور کوئ روک نہیں سکےگا’ باسل شرارت سے بولا۔۔
‘جب حق آپ کا ہے صرف تو کسی اور کا بولنا مجھے پسند نہیں’ ایمان حق جتاتے ہوئے بولی
‘سُنو’ باسل نے ایمان کو پکارا۔۔
‘جی۔۔’ وہ جواباٍ بولی۔۔
‘کچھ نہیں کل اپنی پاس بیٹھا کر بولوں گا’ وہ کہہ کر فون رکھ چکا تھا۔۔
‘جاؤ میری بیٹی۔۔ خُدا تمھیں ہر خوشی سے نوازیں’ ماما ایمان سے گلے لگ ر بولیں۔۔
وہ بچے کی طرح رو رہی تھی۔۔
‘چلو ایمان پارلر پہچنا ہے ورنہ دیر ہوگی’ ایشعال اُس کا ہاتھ پکڑ کر گاڑی کی جانب جاتے ہوئے بولی۔۔۔
کالی شیروانی پہنے وہ شہزادہ لگ رہا تھا۔۔
‘امّی بس بھی کریں اتنے بھی نظر نہیں لگے گی جتنا آپ پڑھ کر پھُونک رہی ہیں۔۔’ باسل گاڑی سے اُترتے ہوئے بولا۔۔
اسٹیج پر بیٹھے وہ بےچین تھا ایمان کے لیئے۔۔
وہ دیکھنا چاہتا تھا کہ ایمان جو سادہ اتنی حسین لگتی ہے۔۔ وہ دُلہن کے روپ میں کسی حور سے کم نہیں لگ رہی ہوگی۔۔
ہال میں اندھیرا ہوتے ہی روشنی ایمان پر پڑی۔۔
‘مائے گاڈ’ باسل نے ساختہ بولا تھا۔۔
وہ اپنی بابا کے ہمراہ چلتے ہوئے اسٹیج کی جانب آرہی تھی۔۔
سُرخ جوڑے میں۔۔ زیورات پہنے۔۔
وہ واقعی حور لگ رہی تھی۔۔
اُس پر بےحد روپ چڑھا تھا۔۔
اُس کا شرماتے ہوئے مسُکرانہ اُس کے حُسن پر چار چاند لگا رہا تھا۔۔
ایمان خان نے مسُکرا کر باسل کے ہاتھ کو تھاما تھا۔۔
ہر طرف شور تھا۔۔
دونوں ساتھ کھڑے مکمل لگ رہے تھے۔۔۔
‘اس فوٹوگرافر نے میری گردن توڑ دی ہے’ باسل کی اس بات پر ایمان بےساختہ ہنسی تھی۔۔
وہ جو رب کی زات سے آزمائ گی تھی۔۔
جس نے صبر کا دامن نہیں چھوڑا تھا۔۔
جس نے ہر رات رب سے ہمکلام ہوکر ہر درد ہر آنسو بانٹا تھا۔۔
آج ایک مظبوط مقام کو حاصل کر چکی تھی۔۔
خُدا نے اُس کے صبر کے انعام میں اُس کو ایک بہت عزت اور پیار کرنے والا ساتھی عطا کیا تھا
باسل نے ایمان کا ہاتھ پکڑا تھا۔۔
‘سب دیکھ رہے ہیں’ ایمان دھیمے سے بولی۔۔
‘دیکھنے دو۔۔ سب کے سامنے ابھی لے کو جاؤں گا۔۔’ باسل نے شرارتی انداز میں ایمان کو دیکھا تھا۔۔
‘کھانا لادوں تھوڑا؟ صبا بھابھی نے پوچھا
‘نہیں بھابھی۔۔ طبعیت عجیب ہورہی ہے۔۔’ ایمان منُہ بنا کر بولی۔۔
روخصتی کا وقت جیسے جیسے قریب آرہا تھا۔۔
ایمان کا دل دہل رہا تھا۔۔
احمد قرآن تھامے ایمان کے پاس آیا تھا۔۔
‘بیٹا آجاؤ چلو’ بابا ایمان کو اُٹھاتے ہوئے بولے۔۔
ایمان کی آنکھوں سے آنسو بہہ رہے تھے۔۔
وہ گاڑی تک مسُسل چادر میں لپٹی اپنے ماما اور بابا سے گلے لگ کر رو رہی تھی۔۔
‘آپ کو کبھی ناراضگی کا موقع نہیں ملےگا’ باسل بابا سے گلے ملا تھا۔۔
‘خیال رکھنا ایمان کا۔۔ بہت رو رہی ہے میری بچی’ ماما باسل کے کاندھے پر سر رکھ کر روئیں
نم انکھوں اور دُعاؤں کے ہمراہ ایمان روخصت ہوئ تھی۔۔۔
‘پلیز بس کرو۔۔’ باسل نے ایمان کو ٹیشو پیپر دیا تھا۔۔
‘ایمان گھر آگیا ہے۔۔ اب چُپ ہوجاؤ’ بھابھی ایمان کی چادر سمیٹتے ہوئے بولیں۔۔
‘بھابھی ایمان کو اپ کمرے میں لے جا کر دیکھ لیجیئے گا۔۔ اتنا روئ ہے مجھے تو ڈر لگ رہا ہے میں دیکھ کر ڈر نہ جاؤں’ باسل اور بھابھی نے قہقہہ لگایا تھا۔۔
گھر میں قدم رکھتے ہی سب نے ایمان کا گرم جوشی سے استقبال کیا تھا۔۔
‘میرا مان برقارار رکھنے کے لیئے میں ہمیشہ تمھاری احسان مند رہونگی’ امّی نے ایمان کو گلے لگایا تھا۔۔
‘صبا ایمان کو کمرے میں لے جاؤ آرام کرنے دو تھل گئ ہوگی’ امّی کہہ کر مہمانوں میں جا چکی تھیں۔۔
گھڑی رات کے دو بجا ہر تھے۔۔
باسل کے آتے ہی ایمان سیدھی ہوئ تھی۔۔
کمرے میں پھولوں کی مہک۔۔
اور ایمان کی موجودگی۔۔
باسل خاموشی سے اُس کے پاس بیٹھا تھا۔۔
وہ ایک ہی سمنت ایمان کو دیکھ رہا تھا۔۔
‘ایسے مت دیکھیں مجھے’ ایمان نظریں چوڑا کر بولی۔۔
وہ ایمان کی جانب بڑھ کر قریب ہوا تھا۔۔
ایمان کے ہاتھوں کو تھام کر اُس نے چوما تھا۔۔
‘میں تمھیں کیا دوں آج۔۔ بس اتما ہی کہوں گا۔۔ مجھے تمھارا ساتھ چاہیے۔۔ مجھے تم پر پورا بھروسا ہے ایمان۔۔ اور میں تمھیں ہر خوشی دونگا یہ میرا تم سے وعدہ ہے۔۔’ باسل نے ایمان کی جانب دیکھا تھا جو گھبرائ ہوئ تھی۔۔
‘گھبراؤ نہیں تمھارا سُکون سب سے پہلے ہے ایمان۔۔’ وہ تکیہ کے کر اُٹھا ہی تھا جب ایمان نے باسل کا ہاتھ پکڑا تھا۔۔
‘کچھ مانگوں تو ملےگا’ ایمان مسُکرا کر بولی۔۔
‘تم مانگ کر تو دیکھو’ باسل ایمان کے جانب بڑھ کو۔۔ اُس کے آنکھوں میں دیکھتے ہوئے بولا۔۔
‘چلیں الّللا کی بارگاہ میں حاضری لگانے۔۔
تاکہ ہم اس رشتے کی شوروعات اُن کی رضا سے کریں’ ایمان بیڈ سے اٹھی تھی۔۔
‘بیٹھو یہاں’ باسل نے ایمان کو کُرسی پر بیٹھایا
‘بہت ہیوی ڈوپٹہ ہے۔۔ بھابھی کو بلا دیتا ہوں’ باسل دورازے کی جانب بڑھا۔۔
‘نہیں میں کر لونگی’ ایمان دبے لہجے میں بولی۔۔
‘اچھا میں وضو کرنے جارہا ہوں تم کرلو۔۔’ باسل واش روم جا چکا تھا۔۔
دونوں نے ایک ہی جائے نماز پر نفل پڑھے تھے
وہ بےسود دُعاؤں میں مصروف تھی۔۔
مہندی والے ہاتھ اُٹھائے۔۔ بند آنکھوں سے بہتے آنسوؤں میں وہ غضب ڈھ رہی تھی۔۔۔
‘یہ شخص میرا مجازی خُدا ہے میری مدد کرنا کہ میں اپنا فرض دل سے نبھا سکوں’ وہ انکھوں کو صاف کرتے ہوئے بولی۔۔
‘میں کوشش کرونگی کہ اس رشتے کو دل سے نبھا سکوں’ وہ باسل کی جانب دیکھ کر بولی
‘اور میں اس کوشش میں تمھاری مدد کرونگا’ باسل لفافہ ایمان کی جانب بڑھاتے ہوئے بولا۔۔
‘یہ کیا ہے؟’ ایمان کھوتے ہوئے بولی۔۔
‘یہ ہمارا ہنی مون کے ٹکٹ ہیں۔۔ ہم کل عمرے پر جارہے ہیں’ باسل ایمان کو اپنے حصار میں لیتے ہوئے بولا۔۔
ایمان خوشی سے روئ تھی۔۔
‘بس۔۔ آج کی رات رونےکی نہیں ہے۔۔ میں جانتا تھا آج کی رات اس سے بہتر گفٹ اور نہیں ہوسکتا’ باسل ایمان کا ہاتھ پکڑ کر بیڈ کی جانب آیا تھا۔۔
‘بہت خوب صورت ہے’ ایمان نے انگوٹھی کو دیکھتے ہوئے بولا تھا۔۔
‘ائے لو یو’ باسل ایمان کی چوڑیوں سی کھیلتے ہوئے بولا۔۔۔
صبح کا سورج ایمان کی زندگی میں سکون اور اطمینان لایا تھا۔۔
نماز پڑھ کر وہ باسل کے پاس بیٹھی اُس پر کلام پھونک رہی تھی۔۔
‘تمھیں کیا جلدی تھی اتنی جلدی اُٹھ گئ تم’ باسل ایمان کی گود میں سر رکھ کر بولا۔۔
‘جس زات نے مجھے آپ سے نوازا ہے اُن کی پکار اَن سونی نہیں کر سکتی۔۔’ ایمان نظریں چورا کر بولی۔۔
‘اچھا نہیں لگتا دیر تک سونا۔۔ ہٹیں باہر سب راہ دیکھ رہے ہونگے۔۔’ ایمان باسل کا ہاتھ چھوڑا کر اُٹھنا چاہ رہی تھی جب باسل نے اُسے اپنے قریب کیا تھا۔۔
‘ایسے تو نہیں جانے دونگا۔۔’باسل نے مظبوطی سے ایمان کو اپنے حصار میں لیا تھا۔۔
‘کیا چاہیے۔۔؟ ایمان شرماتے ہوئے بولی۔۔
‘تم جیسی پیاری سی ایمان چاہیے’ باسل اُس کے گیلے بال چھوتے ہوئے بولا۔۔
ایمان خان گلاب کی طرح مہک رہی تھی۔۔
وہ گلاب کی مانند کھل رہی تھی۔۔
‘اور اُس کا نام میں قسوہ رکھونگی’ ایمان نے مسُکرا کر باسل کی جانب دیکھا تھا۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
حلات اگر بُرے ہوں تو یقین رکھنا چاہیے۔۔
خُدا جب کچھ لیتا ہے۔۔
تو اُس سے بڑھ کر نوازتا ہے۔۔
کبھی کبھی اپنا کچھ قربان کرنا مشکل لگتا ہے
مگر قربانی رائگاہ نہیں جاتیں۔۔
خُدا سے بڑھ کر کوئ نا محبت کرتا ہے نا وفا۔۔❤

–**–**–
ختم شد
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: